Jump to content

اعلیٰ حضرت کے ایک شعر کے مصرعِ اولیٰ پر نعت


Musaffa

تجویز کردہ جواب

اعلیٰ حضرت کے ایک شعر کے مصرعِ اولیٰ پر نعت

 

"قبر میں لہرائیں گے تاحشر چشمے نور کے"

از: ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔ رضوی، مالیگاؤںانڈیا

 

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتے ہیں صدقے نور کے

صدقے لینے نور کے آے ہیں تارے نور کے

ہیں مرے آقا بنے سارے کے سارے نور کے

ذکر اُن کا جب بھی ہوگا ہوں گے چرچے نور کے

دل میں نظروں میں بسیں طیبہ کی گلیاں نور کی

روح میں بس جائیں طیبہ کے نظارے نور کے

داغِ فرقت نور والے شہر کا اب دیں مٹا

گنگناوں آکے طیبہ میں ترانے نور کے

طلعتِ آقا لحد میں میری جلوہ گر تو ہو

’’قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے ‘‘

نوری سُرمہ خاکِ طیبہ کا لگاوں آنکھ میں

اپنی نظروں میں بسالوں میں ستارے نور کے

آپ کے زیرِ قدم ہیں سارے نیچر کے اُصول

پاے اطہر کے بنے پتھر میں نقشے نور کے

چشمۂ تسنیم و کوثر اور بہارِ خُلد بھی

زُلفِ احمد کیلئے ہیں استعارے نور کے

نورِ احمد ہے عیاں سارے جہاں میں بے گماں

جتنے جلوے بھی ہیں دنیا میں ہیں ان کے نور کے

نور والوں کا گھرانا اپنا مارہرہ شریف

جِھلملاتے جیسے پر تَو مصطفیٰ کے نور کے

خاندانِ پاکِ برَکاتِیہَّ کے فیضان سے

پھل رہے ہیں چار جانب ’’ نوری شجرے ‘‘ نور کے

اعلیٰ حضرت کے ’’ قصیدئہ نوریہ ‘‘ کے فیض سے

اے مُشاہدؔ لکّھے میں نے کچھ ترانے نور کے

Edited by Musaffa
Link to comment
Share on other sites

بحث میں حصہ لیں

آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔

Guest
اس ٹاپک پر جواب دیں

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
×
×
  • Create New...