Jump to content

  • Log in with Facebook Log in with Twitter Log in with Windows Live Log In with Google      Sign In   
  • Create Account

Photo

Ghair Ul Allah Say Madad

Madad Shirk

  • Please log in to reply
75 replies to this topic

#21 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 16 August 2015 - 11:01 PM

محترم جناب 

Qadri Sultani

 

 جہاں تک امام زرقانی کی یہ بات ہے کہ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وفد سے پہلے ان کی خبر و اطلاع دینا ،علامات نبوت میں سے بڑی واضح نشانی ہے۔راجز نے جو کچھ اپنے ذہن میں سوچا اور تصور کیا اسے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان لیا یا انہوں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر کے فرمایا تمہاری مدد کو پہنچا۔اس نے یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا اور اس میں کوئی بعد و پریشانی نہیں کیوں کہ امام ابو نعیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ میں آسمانوں کی چڑچڑاہٹ سنتا ہوں اور ان کے چڑ چڑاھنے پر کوئی ملامت نہیں۔

 

 

تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے جس کی صحت قابل بحث ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 



#22 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 16 August 2015 - 11:04 PM

یہ حدیث مبارکہ صحیح ہے طبرانی کبیر کے محشیٰ ﴿جو کہ غیر مقلد ہے﴾نے مجمع الزوائد کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسکی سند میں یحییٰ بن سلیمان نضلة ہے جو کہ ضعیف ہے۔اسکاجواب یہ ہے کہ یہ جرح مبہم جو کہ طے شدہ اصولوں کے مطابق قبول نہیں۔علامہ ہیثمی علیہ الرحمت کی یہ جرح مبہم ہے اس لیے قابل قبول نہیں۔دوم امام  ا بن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ یحییٰ بن سلیمان رحمة اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

وذکرہ بن حبان فی الثقات﴿لسان المیزان ،جلد ٦ ص،۲٦١﴾ ۔

امام الحافظ عبداللہ بن عدی الجرجانی لکھتے ہیں۔

اس کی عام احادیث مستقیم ہیں﴿الکامل فی ضعفاءالرجال ،ج ۷ ص ۲۵۵﴾۔

ماخوذ از سعید الحق 

 

 

میرے بھائی جرح مفسر تو آپ کو خال خال ہی نظر آئے گی ۔

زیادہ تر انہیں جروحات مبہم سے کام لیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ میں نے دو اور راویوں کا بھی میں ذکر کیا تھا ان پر بھی کچھ ارشاد فرمائیں

ابن حبان کی مکمل جرح لسان المیزان میں یوں ہے 

 

وذَكَره ابن حِبَّان في الثقات فقال: يخطىء ويهم.

میزان الاعتدال میں ہے 

قال أبو حاتم: يكتب حديثه، ليس هو بالقوى.

وقال البخاري: منكر الحديث.

لسان المیزان میں ہے 

 

وقال ابن عقدة: سَمِعتُ ابن خراش يقول: لا يسوى شيئا


Edited by Mustafvi, 16 August 2015 - 11:32 PM.


#23 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 16 August 2015 - 11:10 PM

AqeelAhmedWaqas

 برادر 

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

آپ نے پوچھا کہ اگر اس حدیث کو غیر ضعیف ثابت کر دیا جائے تو ؟

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو 

اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 



#24 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 17 August 2015 - 02:37 AM

AqeelAhmedWaqas

 برادر 

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

آپ نے پوچھا کہ اگر اس حدیث کو غیر ضعیف ثابت کر دیا جائے تو ؟

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو 

اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

 

 

آپ نے ان کا جواب نہیں دیا

۔’’آپ بجائے غیر جانبدارانہ تحقیق کے غیرمقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔

۔’’محترم کشمیر خان صاحب کے اعتراضات آپ پر اب بھی قائم ہیں‘‘۔

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

 

ایک طرف آپ کا یہ کہنا ہے کہ ’’اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا‘‘ اور ساتھ ہی یوں کہہ دیا کہ ’’کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں‘‘۔ ’’کچھ نہیں‘‘ کا مقابل ’’کافی حد تک‘‘ بنتا ہے؟؟

 

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو

فی الحال اتنا بتائیں کہ

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

 

ہو جائے تواسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

سبحان اللہ!۔
یعنی اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو اسے معجزہ مان لیں گے۔
کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر ابھی کیلئے صرف اتنا ہی:۔
۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟
۔۔۔   جناب! اس ٹاپک میں آپ استمداد پر اعتراض (یا نفی) کر رہے تھے یا معجزہ پر؟؟ آپ اتنی سی بات نہیں سمجھ پائے کہ آپکا یہ کلام خلط مبحث ہے۔
۔۔۔   جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟ آپ بیچ راہ میں یہ بھول گئے کہ ہماری دلیل آخر تھی کیا اور ٹاپک کیا تھا!۔ ہم نے کب اپنا مؤقف قدرتِ رسول سے ثابت کیا ہے جو آپ اسے مان کر ہم پر احسان کرنے چلے ہیں!۔
 
لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

 

 
۔۔۔    اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی (جیسے آپ نے ’’اگر‘‘ سے فرض کیا) پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد نہ ہوگا!!۔ عجیب اُلٹی منطق ہے آپکی۔
آپ نے قدرتِ رسول و معجزۂ رسول کے زاویے سے تو مان لیا اگر روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو۔
مگر
اصل بات کو نظر انداز کر دیا کہ صحابئ رسول کے عمل مبارک سے کیا کیا امور ثابت ہوں گے اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے!!!!!۔
ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیں۔ 

Edited by AqeelAhmedWaqas, 17 August 2015 - 02:57 AM.

الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#25 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 17 August 2015 - 01:44 PM

آپ نے ان کا جواب نہیں دیا

۔’’آپ بجائے غیر جانبدارانہ تحقیق کے غیرمقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔

۔’’محترم کشمیر خان صاحب کے اعتراضات آپ پر اب بھی قائم ہیں‘‘۔

 

 

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟ یہ خان صاحب کی میرے بارے ان کی اپنی رائے ہے 

خان صاحب کے اعتراضات اگر قائم ہیں تو وہ خود استفسار کر سکتے ہیں ۔

 

 


میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

 

ایک طرف آپ کا یہ کہنا ہے کہ ’’اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا‘‘ اور ساتھ ہی یوں کہہ دیا کہ’’کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں‘‘۔ ’’کچھ نہیں‘‘ کا مقابل ’’کافی حد تک‘‘ بنتا ہے؟؟

 

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

فی الحال اتنا بتائیں کہ

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

 

   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

 

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

 

اوپر ایک بھائی نے امام زرقانی کی چند توضیحات بیان کی تھیں 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وفد سے پہلے ان کی خبر و اطلاع دینا ،علامات نبوت میں سے بڑی واضح نشانی ہے۔راجز نے جو کچھ اپنے ذہن میں سوچا اور تصور کیا اسے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان لیا یا انہوں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر کے فرمایا تمہاری مدد کو پہنچا۔اس نے یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا اور اس میں کوئی بعد و پریشانی نہیں کیوں کہ امام ابو نعیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ میں آسمانوں کی چڑچڑاہٹ سنتا ہوں اور ان کے چڑ چڑاھنے پر کوئی ملامت نہیں۔

 

 

اب ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

تو میرے بھائی ایسی ضعیف روایات سے محض قیاس کی بنیاد پر عقیدے بنانا چھوڑ دیں 

 

اب تک آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو 

 

تو بھائی اگر مگر کو چھوڑیں اور اس روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت فرما دیں 



#26 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 17 August 2015 - 10:08 PM

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟ یہ خان صاحب کی میرے بارے ان کی اپنی رائے ہے 

خان صاحب کے اعتراضات اگر قائم ہیں تو وہ خود استفسار کر سکتے ہیں ۔

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

 

اوپر ایک بھائی نے امام زرقانی کی چند توضیحات بیان کی تھیں 

اب ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

تو میرے بھائی ایسی ضعیف روایات سے محض قیاس کی بنیاد پر عقیدے بنانا چھوڑ دیں 

 

اب تک آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو 

 

تو بھائی اگر مگر کو چھوڑیں اور اس روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت فرما دیں 

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟

 

آپ کو حق سچ جاننے سمجھنے میں دلچسپی شاید نہیں ہے کیونکہ آپ نے زحمت ہی نہ کی کہ معلوم تو کرلیں کہ کون کیا بات کر رہا ہے!۔ وہ بات میں نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۰ میں آپ کو کہی تھی۔

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

بات وہیں کی وہیں ہے اب بھی۔ میرا کہنے کا مقصد محض اتنا تھا کہ کھل کر سامنے آئیں اور چوری چھپے وار کرنے سے گریز کریں۔

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

ہمیں آرڈر دے دیا کہ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتوں میں نہ جائیں۔ آپ یہ بتائیں کہ ان ’’تکنیکی باتوں‘‘ کی بحث کس نے چھیڑی تھی اس ٹاپک میں؟؟ اگر ’’تکنیکی باتیں‘‘ گوارا نہیں تو اس میدان میں اترے ہی کیوں؟؟۔ پھر کہتے ہیں جناب کہ ’’علما جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں‘‘ اس سے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں آپ؟ اختلاف کی صورت میں کسی مسئلہ کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا کیا؟ اور آپ نے جو ’’تکنیکی باتیں‘‘ کی ہیں سندِ حدیث پر ، ان میں علما کا اختلاف یاد کیوں نہیں رہا جو آپ جزم کے ساتھ حکم چلانے لگے ’’کہ فلاں امام نے اسے فلاں کتاب میں ضعیف کہا ہے‘‘۔ ہم جب کوئی متعلقہ سوال اٹھائیں تو جناب کی نظر اختلافِ علما پر جا ٹکتی ہے اور خود یک طرفہ اقوال کو اپنے دعوی کی سند بناتے وقت اختلافِ علما کو ایکدم بھول جاتے ہیں!!۔

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

تو ہم نے کب کہا کہ یہ آپکا برہانی کلام ہے؟؟؟ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں یہ موقف اپنایا کہ ’’وہ اشعار دور سے نہیں پڑھے گئے‘‘ مگر پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں جناب نے بعد دفعِ ضعفِ روایت یہ مان لینے کا اقرار کیا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ہوں گے (اسی لیے تو یہ لکھا:۔آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی

 

باقی آپکے اعتراضات کا جواب میں صرف اسی صورت دوں گا جب آپ میرے سوالات کے جوابات دے دیں گے۔

کیونکہ آپ ایک بات پر ٹکتے ہی نہیں ہیں اور بحث برائے بحث کے دلدادہ ہیں۔

ہمارا وقت اتنا غیر قیمتی نہیں ہے کہ آپکا بحث برائے بحث کا شوق پورا کرنے میں صرف ہو۔

آپکو متعلقہ گفتگو کرنی ہے تو اسی ترتیب سے چلیں جیسے ٹاپک چل رہا تھا ، ورنہ اس ٹاپک کو یہیں چھوڑ دیں۔


الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#27 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 17 August 2015 - 11:13 PM

میرے بھائی

 

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں  ۔ اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

 

حالانکہ میں نے درخواست کی تھی کہ اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں



#28 Kilk-e-Raza

Kilk-e-Raza

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 411 posts
  • Joined 13-January 07
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 17 August 2015 - 11:37 PM

جناب کو اصل مسئلہ سے غرض نہیں۔ اگر ثابت ہوجائے تو صرف معجزہ۔۔۔ ۔ اسی لئے تو جناب کھل کر اپنی حقیقت ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہ اگر سنیوں نے ان کے اگلے پچھلوں  کے کارنامےیہاں پوسٹ کر دیے  توپھر مسئلہ تکنیکی نوعیت سے نکل جائے گا۔ جناب صرف تکنیکی نوعیت کی باتیں کر کے اور ان میں بھی  راہ فرار اختیارکرکے بحث برائے بحث کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ مسئلہ الجھ جائے اور عوام کو بیوقوف بنایا جاسکے۔ جناب سے پوچھا جائے کہ شیطان دور سے سن سکتا ہے۔ تو اس کی سماعت و علم پر قدرت مانےگا۔ مگر  نبی صی اللہ علیہ وسلم کی اگر قدرت مان لی تو شرک ہوجائے گا۔ جبکہ حقیقتاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بھی نہ صرف دور سے حالات ملاحظہ فرماتے ہیں بلکہ آواز پہنچاتے ہیں،سنتے ہیں اور مدد بھی کرتے ہیں۔ دیکھو مشکوۃ ،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو آواز دی  جو انہوں نے مقام نہاوند میں جنگ کو دوران سن لی اور ان کی نصرت  بھی ہوگئی۔ اور جناب خود ہر نماز میں السلام علیک ایھا النبی کے صیغہ سے بھی ندا  کرتے ہیں ۔اور  خیرمدد کا تو فلسفہ ہی عجیب ہے کہ قریب سے جائز اور دور سے شرک۔ سامنے جائز ، غائبانہ شرک اور مافوق الاسباب و ماتحت الاسباب کی خودساختہ تقسیم وغیرہ۔بحث برائے بحث کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جناب نے پورے ٹاپک میں صرف ایک روایت کو پکڑا ہوا ہے۔جبکہ ہمارا عقیدہ صرف اس روایت پر تھوڑا ہی ہے۔

 

 

تو جناب، اگر مگر کو آپ چھوڑیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ روایت صحیح ہے تو پھر یا تو مانے کہ ہمارا عقیدہ صحیح ہے یا پھر  ان صحابی اور تمام  محدثین  پر کلیئر لفظوں میں اپنا حکم بیان کریں۔ اور بہانے بنا کر راہ فرار اختیا ر نہ کریں۔ 





کلک رضا وہ خنجر خونخوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں



#29 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 18 August 2015 - 12:16 AM

جناب نے پورے ٹاپک میں صرف ایک روایت کو پکڑا ہوا ہے۔جبکہ ہمارا عقیدہ صرف اس روایت پر تھوڑا ہی ہے۔

 

اور آپ سے اس ایک روایت کی صحت ثابت نہیں ہورہی

 

مشکوۃ ،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو آواز دی  جو انہوں نے مقام نہاوند میں جنگ کو دوران سن لی اور ان کی نصرت  بھی ہوگئی

 

حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے



#30 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 18 August 2015 - 09:16 AM



میرے بھائی

 

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں  ۔ اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

 

حالانکہ میں نے درخواست کی تھی کہ اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں

وہ تو نظر آ رہا ہے کہ کون موضوع سے فرار چاہ رہا ہے۔

 

اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

یہ بھی آپکی ذاتی رائے ہے۔ ورنہ ثابت کریں کہ میرے سوال غیر متعلقہ ہیں۔ جرح کی بات کس نے شروع کی؟ اور جب آپ سے اسی جرح پر بات شروع کی گئی تو اب ’’غیر متعلقہ‘‘ کیوں کہنے لگے؟

 

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

تو آپکے دعوی استغراق کا کیا ہوا؟

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

ہم جب دلائل کی بات کریں تو آپ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتوں سے رکنے کا کہہ دیتے ہیں۔

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ خود آپ نے جرح شروع کی تھی  ، ہم نے تو آپ سے صرف اسی جرح کے حوالے سے چند باتوں کی تشریح مانگی مگر جواب اب تک نہیں آیا۔ اور یہ ’’تکنیکی‘‘ و ’’زیادہ تکنیکی‘‘ کی تقسیم کہاں سے لے آئے ہیں؟

 

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

جناب! مان ہی گئے کہ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتیں خود انہوں نے چھیڑی ہیں۔

ہمارے ’’اگر حدیث کا غیر ضعیف ہونا ثابت ہو جائے تو‘‘ پر رہنے کی وجوہات:۔

۔۔۔   آپ ہماری پوچھی گئی باتوں کا جواب نہ دے کر خود موضوع سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

ایک دفعہ پھر میں اپنے سوالات دہرائے دیتا ہوں اور(بہ اضافہ قلیل):۔

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

 

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

 

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو

 

جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت

 

سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے

 

ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا

 

دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے 

 

نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

 

۔۔۔   جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟

۔۔۔    اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی  پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد کیوں نہ ہوگا؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں کہا کہ حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ آپ بار بار بھول جاتے ہیں یا راہ فرار اختیار کرتے ہیں کیونکہ بحث آپ استمداد میں کر رہے ہیں اور بات معجزہ کرامت کی شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کرامت سے ثبوت کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ رہا آپکا یہ دعویٰ کہ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو اسے جزئی واقعہ ثابت کریں ، پھر یہ ثابت کریں کہ اس واقعہ کو کل پر منطبق کرنا شرعا ناجائز ہے ، اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا ہر عجیب بات شرعا درست نہیں ہوتی؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں لکھا اور آپ سے اس ایک روایت کی صحت ثابت نہیں ہورہی تو میں کہتا ہوں کہ پہلے پوچھی گئی باتوں کا جواب دو، ہم بھی حدیث کی صحت ثابت کر دیں گے۔ آپ بار بار حدیث کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں  جبکہ خود ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دے رہے۔ اسے بھی دیکھتے جائیے پھر!۔

 

aqeeel 1.png

 

 

جب تک آپ پوچھی گئی باتوں کا جواب نہیں دیں گے

تب تک ہم بھی رکے رہیں گے اسی پوائنٹ پر۔  


Edited by AqeelAhmedWaqas, 18 August 2015 - 12:51 PM.

الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#31 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 18 August 2015 - 10:03 AM

(bis)

 

Attached Images

  • 11.jpg

توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#32 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 18 August 2015 - 08:10 PM

محترم جناب عقیل احمد
آپ کے تفصیلی کامنٹ کا شکریہ
بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔
لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں
تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں
پہلا
جرح مبہم مقبول نہیں بلکہ جرح مفسر معتبر ہے

دوسرا

جرح بغیر سبب کے قبول کی جائے گی جبکہ تعدیل بغیر ذکر سبب کے معتبر نہیں

تیسرا

جرح و تعدیل دونوں بغیر ذکر سبب کے قبول ہیں

چوتھا
جرح و تعدیل دونوں ہی بغیر ذکر سبب کے قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

جاری ہے

جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی


۔۔۔ اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو


جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت


سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے


ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا


دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے


نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی


۔۔۔ جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں


۔۔۔ اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد کیوں نہ ہوگا؟؟

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں کہا کہ حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ آپ بار بار بھول جاتے ہیں یا راہ فرار اختیار کرتے ہیں کیونکہ بحث آپ استمداد میں کر رہے ہیں اور بات معجزہ کرامت کی شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کرامت سے ثبوت کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ رہا آپکا یہ دعویٰ کہ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو اسے جزئی واقعہ ثابت کریں ، پھر یہ ثابت کریں کہ اس واقعہ کو کل پر منطبق کرنا شرعا ناجائز ہے ، اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا ہر عجیب بات شرعا درست نہیں ہوتی؟؟

رضا صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا میں نے اس پر تبصرہ کر دیا
حضرت ساریہ نے حضرت عمر کو نہیں پکارا اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بطور کشف یہ منظر دکھا دیا تو حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

اگر ایسا کرنا حضرت عمر کا معمول تھا تو کوئی دلیل پیش فرمائیں ۔۔۔۔ اور اگر یہ حضرت عمر کا معمول تھا تو پھر حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام
جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی
بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے


اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

برادر خلیل رانا صاحب
میری بحث شرک یا عدم شرک کے حوالے سے نہیں ہے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس روایت سے رضا صاحب استدلال کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے اور متن بھی غیر واضح ہے ان کے استدلال کے حوالے سے

#33 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 19 August 2015 - 01:05 PM

(bis)

اگر اس حدیث کا راوی مجہول ہے تب بھی یہ موضوع نہیں، ضعیف کہہ سکتے ہیں

اور اگر اس حدیث کا متن مضطرب ہے تب بھی یہ حدیث موضوع نہیں ،ضعیف کہہ سکتے ہیں

ضعیف حدیث فضا ئل میں قابل عمل ہے۔

 

 

Attached Images

  • 1.jpg
  • 2.jpg
  • 3.jpg
  • 4.jpg
  • 5.jpg
  • 6.jpg
  • 7.jpg
  • 8.jpg

توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#34 Saeedi

Saeedi

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 937 posts
  • Joined 06-April 08
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 19 August 2015 - 05:51 PM

Yehya bin Suleman bin Nadla Zaeef sahi MAGAR
US KI RIWAYAT AHL e MADINA se MUSTAQEEM hoti he.
Jaisa k ibne adi ne kaha aor kisi ne radd na kia.

AOR

Ye riwayat wo Madni Khuzai apne madni uncle se
Woh Imam Jafar Sadiq Madni se
Woh Imam Baqir Madni se
Woh Imam Zainul Aabideen se
Woh Hazrat Maimoona Madni se bian kar rahe hain
to Riwayat MUSTAQEEM hoi.

کتاب لاجواب الحق المبین از امام اہل سنت حضور غزالی زماں علامہ سید احمد سعید

 

کاظمی

کا مطالعہ کیجئے اور حق وباطل کا فرق پہچان لیجیے۔

http://www.khatmenab...01-29-09-14-39/


#35 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 19 August 2015 - 09:23 PM

 

محترم جناب عقیل احمد
آپ کے تفصیلی کامنٹ کا شکریہ
بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔
لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں
تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

 

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں
پہلا
جرح مبہم مقبول نہیں بلکہ جرح مفسر معتبر ہے

دوسرا

جرح بغیر سبب کے قبول کی جائے گی جبکہ تعدیل بغیر ذکر سبب کے معتبر نہیں

تیسرا

جرح و تعدیل دونوں بغیر ذکر سبب کے قبول ہیں

چوتھا
جرح و تعدیل دونوں ہی بغیر ذکر سبب کے قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

جاری ہے

 

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

 

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا

 

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی

 

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں

 

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں

 

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے

 

رضا صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا میں نے اس پر تبصرہ کر دیا
حضرت ساریہ نے حضرت عمر کو نہیں پکارا اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بطور کشف یہ منظر دکھا دیا تو حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

اگر ایسا کرنا حضرت عمر کا معمول تھا تو کوئی دلیل پیش فرمائیں ۔۔۔۔ اور اگر یہ حضرت عمر کا معمول تھا تو پھر حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام
جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی
بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے


اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔

مان گئے جناب کہ زیادہ تکنیکی باتیں آپ نے خود شروع کیں۔

یہ بھی مان لیا کہ میرے سوالات واقعی موضوع سے ریلیٹڈ ہیں روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے

 

 

لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں
تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

شاید کے لفظ سے ظاہر کہ آپ اپنی رائے میں متذبذب ہیں۔
پہلے ہی جواب دے دئیے ہوتے ، تو ایک دو پوسٹس کم ہو جاتیں!۔
بہانہ آپ ڈھونڈتے ہیں ، کبھی بحث معجزہ ، کبھی کرامت ، کبھی زیادہ تکنیکی باتوں سے رکنے کا کہہ کر!۔

 

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں 

اب زیادہ تکنیکی باتیں کیوں برداشت کرلیں؟

 

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے 

تو آپکا جرح مبہم پیش کر کے روایت کے ضعیف ہونے کا قول آپ کی اپنی بات سے جواب پا گیا!۔


یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

یہ انکو مضر جن کا دارومدار محض روایات اور انکی سندوں پر ہے۔

آپکا یہ جواب آپکے پہلے استدلال کو باطل کرنے کو کافی ہے۔

 

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

میں خود تو اس پر ابھی کلام نہیں کرتا ، آپ نیچے دئیے گئے امیجز کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ آپ نے اس بات کا جواب نہیں دیا اب تک ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔اس کے بعد بھی ’’بخاری پرستی‘‘ کا کیا کہیں گے؟

 

tazkira 5.gif

 

 

 

tazkira 6.gif

 

 

 

tazkira 6b.gif

 

 

 

tazkira 7.gif

 

 

 

4.gif

 

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا 

یعنی ایک بار پھر ثبوت فراہم کر رہے ہیں کہ ’’پورا چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں‘‘۔

 

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی

آپ کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ مبحث آخر ہے کیا!۔

 

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں

واقعی ہماری دلیل فعل صحابی ہی تھی لیکن مجرد یہ روایت نہیں۔ لیکن اگر معجزۂ رسول یا کرامتِ صحابی کو دلیل بنایا جائے تو بھی ہمیں کچھ نقصان نہیں ہے۔
امام زرقانی علیہ الرحمہ کا آپ بار بار حوالہ دے رہے ہیں تو اُن کے حوالے سے جو بات آپکو درست نہیں لگ رہی ، بادلیل بتائیں۔
 
1.gif
 
 
 
2.gif
 
 
 
3.gif

 

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں

 علت تو ختم ہو چکی ، علامہ سعیدی صاحب کی پوسٹ دیکھ لیں۔ ’’متن‘‘ والی بات خود آپ کا قیاسِ نامقبول ہے، ورنہ دلیل سے بتائیں۔
 
real 1.gif
 
 
 
real 2.gif
 
 
 
1.gif

 

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے 

 سند تو مستقیم ثابت ہو چکی اور امام بزار کی سند تو حسن ہے!۔ دیگر اجلہ محدثین کے نام نظر نہیں آرہے؟ پچھلے پیج پر پوسٹ نمبر ۵ میں سے دیکھو۔ اور اگر ضعیف بھی ہو تو ہمیں اس سے جو نقصان ہوگا ، اسکی وضاحت آپ کے ذمے ہے۔

حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

اس سے بھی ہمارا موقف ثابت ہوتا ہے۔

حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام 
جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی 
بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے 

آپ تقویۃ الایمان میں مذکور اس حدیث کے حوالے سے بتا دیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ڈاک کا نظام کیوں جاری فرمایا جبکہ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ان اسباب سے بالکل قطع تعلق ہو جاتے ، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مبارک افعال والی آپکی بات کا جواب میں دے دوں گا۔

 

jfkl.png

 

 

 

اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

یہ آپ کو کس نے کہا کہ انہوں نے صرف فتح الباری میں اسے پیش کیا ہے؟؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ اس روایت کو ضعیف ہی کہنے پر مصر ہیں تو بھی ہمارا موقف صحیح ثابت ہوگا کیونکہ ضعیف احادیث فضائل اعمال میں بالاتفاق معتبر ہیں۔

اور اگر اس ضعیف روایت سے آپ کے ہاں فعل صحابی ثابت نہیں ہوتا تو معجزہ کا اثبات آپ کو بالاتفاق قبول ہے اور یہ بھی ہمارے موقف کی صحت پر دال ہے۔

اور ضعیف روایت چند طرح سے تقویت بھی تو پا جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو:۔

 

aalim fqeeh 1.gif

 

 

 

ahl-e-ilm ka qaol.gif

 

 

 

matan sanad.gif

 

 

 

mujtahid ka istidlaal.gif

 

 

 

saliheen ka amal 1.gif

 

 

 

kashf-o-tajruba sy.gif

 

 

 

tadud 1.gif

 

 

 

tadud 2.gif

 

اب ہم روایت کا چند طرق سے آنا تو بتا چکے ہیں۔ بزار کی سند دیکھیں ، دیگر ائمہ  کی روایت بھی دیکھ لیں۔ مزید یہ امیجز بھی دیکھیں، کیا ان سب سے ہماری مذکورہ حدیث قوی نہیں ہو سکتی؟؟؟:۔

 

ahl-e-ilm 1.gif

 

 

 

ahl-e-ilm 2.gif

 

 

 

mujtahid 1.gif

 

 

 

mujtahid 2.gif

 

 

 

mujtahid 3.gif

 

 

 

mujtahid 4.gif

 

اورہماری حدیث مبارکہ شریعت مطہرہ سے ہرگز نہیں ٹکراتی تو اس طرح بھی قوی ہونی چاہیے۔ شریعت مطہرہ اسکی حمایت میں ہی ہے ، ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

 

quran 1.png

 

 

 

quran 2.png

 

 

 

hadees 1.gif

 

 

 

hadees 2.png

 

 

 

hadees 3.png

 

 

مخالفین تک استمداد کے قائل ہیں ، چند حوالے دیکھیں:۔

 

Mukhalifeen.png

 

 

 

mukhalifeen 2.png

 

آپکی ایک اور غلط فہمی کہ ایسی روایات سے عقائد کا ثبوت نہیں ہوتا۔ تو عرض یہ ہے کہ آپ کے نزدیک تمام عقائد قطعی ہوتے ہیں ، ظنی کوئی نہیں ہوتے؟؟ اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ نفئ نظریۂ استمداد پر قطعی دلائل قائم فرما دیں۔ میں اپنے امام اہلسنت اور شیخِ محقق کے حوالے سے ثابت کرتا ہوں کہ ہمارا استمداد کا نظریہ یا عقیدہ قطعی تو نہیں ہے تو اس کے اثبات کے لیے قطعی دلائل کا مطالبہ کیوں؟؟

1.gif

 

 

 

2.gif

 غرض آپ جو راہ اختیار کریں پھر بھی ہمارا نظریہ ہرگز غلط ثابت نہیں ہوتا جبکہ اس کے جواز کے لیے تو عدم منع کافی ہے۔


Edited by AqeelAhmedWaqas, 20 August 2015 - 10:42 AM.

الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#36 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 20 August 2015 - 09:19 AM

محترم جناب خلیل رانا صاحب
بحوالہ پوسٹ نمبر 33

میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے

اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی

اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے


محترم جناب سعیدی صاحب

Yehya bin Suleman bin Nadla Zaeef sahi MAGAR
US KI RIWAYAT AHL e MADINA se MUSTAQEEM hoti he.
Jaisa k ibne adi ne kaha aor kisi ne radd na kia.

AOR

Ye riwayat wo Madni Khuzai apne madni uncle se
Woh Imam Jafar Sadiq Madni se
Woh Imam Baqir Madni se
Woh Imam Zainul Aabideen se
Woh Hazrat Maimoona Madni se bian kar rahe hain
to Riwayat MUSTAQEEM hoi.

ابن عدی نے کہا ہے کہ یہ راوی مالک سے اور اہل مدینہ سے روایت کرتا ہے اس کی عام احادیث مستقیم ہوتی ہیں
ابن عدی نے یہ نہیں کہا اس کی اہل مدینہ سے روایات مستقیم ہوتی ہیں

اور اس راوی کے انکل کا بھی کوئی حال معلوم نہیں یعنی یہ مجہول الحال ہے


محترم جناب عقیل صاحب

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں

اب زیادہ تکنیکی باتیں کیوں برداشت کرلیں؟


ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

تو آپکا جرح مبہم پیش کر کے روایت کے ضعیف ہونے کا قول آپ کی اپنی بات سے جواب پا گیا!۔

زیادہ تکنیکی باتیں آپ کے اصرار پر برداشت کیں
بے شک پہلا قول زیادہ مشہور ہے کیونکہ کتب میں یہی لکھا ہے اس لئے میں نے کتب کا قول لکھ دیا ہے

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔ بریلوی ،دیوبندی ، اہل حدیث یہ سب مخالف کی پیشکردہ جرح کو توڑنے کے لئے اس قول کا استعمال کرتے ہیں
لیکن خود مخالف پر جرح کرتے ہوئے اکثر جروحات مبہم سے ہی کام لیتے ہیں ۔


یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

یہ انکو مضر جن کا دارومدار محض روایات اور انکی سندوں پر ہے۔

آپکا یہ جواب آپکے پہلے استدلال کو باطل کرنے کو کافی ہے۔


سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟
دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

میں خود تو اس پر ابھی کلام نہیں کرتا ، آپ نیچے دئیے گئے امیجز کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ آپ نے اس بات کا جواب نہیں دیا اب تک ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔اس کے بعد بھی ’’بخاری پرستی‘‘ کا کیا کہیں گے؟

جب آپ نے ابھی کلام ہی نہیں کیا تو میں کیا عرض کروں
باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟ اس کا جواب کوئی بخاری پرست ہی دے سکتا ہے اور غالبا ان سب کا جواب کسی نے دیا بھی ہوا ہے ۔

واقعی ہماری دلیل فعل صحابی ہی تھی لیکن مجرد یہ روایت نہیں۔ لیکن اگر معجزۂ رسول یا کرامتِ صحابی کو دلیل بنایا جائے تو بھی ہمیں کچھ نقصان نہیں ہے۔

امام زرقانی علیہ الرحمہ کا آپ بار بار حوالہ دے رہے ہیں تو اُن کے حوالے سے جو بات آپکو درست نہیں لگ رہی ، بادلیل بتائیں۔

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے جب کوئی اور پیش کریں گے تو اس پر بات ہو گی
امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟
جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

یا

یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟


اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا
کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا
یا
یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔


سند تو مستقیم ثابت ہو چکی اور امام بزار کی سند تو حسن ہے!۔ دیگر اجلہ محدثین کے نام نظر نہیں آرہے؟ پچھلے پیج پر پوسٹ نمبر ۵ میں سے دیکھو۔ اور اگر ضعیف بھی ہو تو ہمیں اس سے جو نقصان ہوگا ، اسکی وضاحت آپ کے ذمے ہے۔


امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

۔

حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام
جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی
بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے

آپ تقویۃ الایمان میں مذکور اس حدیث کے حوالے سے بتا دیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ڈاک کا نظام کیوں جاری فرمایا جبکہ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ان اسباب سے بالکل قطع تعلق ہو جاتے ، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مبارک افعال والی آپکی بات کا جواب میں دے دوں گا۔

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

یہ آپ کو کس نے کہا کہ انہوں نے صرف فتح الباری میں اسے پیش کیا ہے؟؟

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

اگر آپ اس روایت کو ضعیف ہی کہنے پر مصر ہیں تو بھی ہمارا موقف صحیح ثابت ہوگا کیونکہ ضعیف احادیث فضائل اعمال میں بالاتفاق معتبر ہیں۔

اور اگر اس ضعیف روایت سے آپ کے ہاں فعل صحابی ثابت نہیں ہوتا تو معجزہ کا اثبات آپ کو بالاتفاق قبول ہے اور یہ بھی ہمارے موقف کی صحت پر دال ہے۔

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

باقی آپ نے جو امیجز لگائے ہیں اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کے جا،الحق سے سکین لگائے ہیں ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

#37 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 20 August 2015 - 12:13 PM

محترم جناب عقیل صاحب

زیادہ تکنیکی باتیں آپ کے اصرار پر برداشت کیں

بے شک پہلا قول زیادہ مشہور ہے کیونکہ کتب میں یہی لکھا ہے اس لئے میں نے کتب کا قول لکھ دیا ہے

 

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔ بریلوی ،دیوبندی ، اہل حدیث یہ سب مخالف کی پیشکردہ جرح کو توڑنے کے لئے اس قول کا استعمال کرتے ہیں

لیکن خود مخالف پر جرح کرتے ہوئے اکثر جروحات مبہم سے ہی کام لیتے ہیں ۔

 

 

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

 

جب آپ نے ابھی کلام ہی نہیں کیا تو میں کیا عرض کروں

باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟ اس کا جواب کوئی بخاری پرست ہی دے سکتا ہے اور غالبا ان سب کا جواب کسی نے دیا بھی ہوا ہے ۔

 

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے جب کوئی اور پیش کریں گے تو اس پر بات ہو گی

امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

 

 

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی النجم: ۳۸

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی 

 

 

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

 

قرآن مجید فرقانِ حمید پر نہیں ہے؟؟ اقوالِ امام پر نہیں ہے؟؟ آپ کے اصولِ حدیث پر ہرگز نہیں ہے۔

دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

ایسا نہیں ہوا۔

 

باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟

بالکل آپ سے ہی تعلق ہے۔ جب آپ کے نزدیک جرح مقدم ہے تو میری پیش کردہ روایات کے جواب بھی دیں۔ خود امام بخاری ایک ہی راوی پر جرح بھی فرما رہے ہیں اور پھر اس سے روایت بھی کر رہے ہیں۔ کیا انکو جرح کا تعدیل پر مقدم ہونا پتہ نہیں تھا؟؟؟

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے

آپکی نظر کا علاج بھی موجود ہے۔ پچھلے پیج پر جا کر کلکِ رضا بھائی کی اسی پوسٹ جہاں سے معاملہ شروع ہوا تھا، کو ایک بار پھر دیکھیں۔

امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں

دیکھ چکے ہیں ، اسی لیے تو جواب بصورتِ امیجز اوپر دیا گیا ہے۔ آپ ہمارے پیش کردہ حوالوں کو غور سے پڑھ ہی نہیں رہے ہیں۔ میں دوبارہ کہتا ہوں  کہ امام زرقانی کی توضیحات پر آپکو جو اعتراض ہے، واضح طور پر لکھیں۔

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

جب بات ہو شرک کی تو اس وقت صرف ہمارے فعل سے استدلال کیا جاتا ہے اور ہماری نیت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اب نیت و ارادہ کا دخل کیسے تسلیم کر لیا گیا؟؟ (آپ سے یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ آپ ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ والی بات سے خود کو بری نہیں کہہ رہے)۔

آپ یہ بھی بتائیں کہ آپ کسی کے نیت و ارادے پر کیسے مطلع ہوں گے؟؟

ہم تو کہتے ہیں کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا اور یہی بات  آپ اپنی پوسٹ نمبر ۹ میں ان الفاظ میں تسلیم کر چکے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے تو ثابت ہوا کہ سامنے اشعار کا پڑھا جانا آپکو واضح طور پر تسلیم ہے (اور دور سے ’’پڑھا جانا‘‘ بھی جناب نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ سے پلٹا کھاتے ہوئے تسلیم کیا ہے اپنی پوسٹ نمبر ۲۳ میں اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی  آپکی اس بات سے اس کے علاوہ کیا ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہوجائے (جو ہو چکی) تو آپ مان لیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینۂ منورہ میں رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ کی وہ بات سن لی تو اسکا یہ مطلب ہوا کہ وہ بات مدینہ شریف سے دور رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ نے کہی تھی!!۔

 

 

  آپ  اشعار کا ترجمہ پیش کردیں ، اس سے خود ہی ثابت ہو جائے گا کہ ان کا مقصد آخر تھاکیا!!!۔

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ان کے اضطراب کا اظہار تھا تو پہلے اپنے اس خیال کو ثابت تو کریں اور اگر اسی پر بلا دلیل اصرار ہے تو بھی ہمیں کیا نقصان؟ کیونکہ اس طرح تو پھر بھی ثابت کہ صحابۂ کرام اپنے اضطراب میں رسول اللہ ﷺ سے ہی مدد مانگتے تھے اور ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہمارا طریقہ ہے۔

 

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

اس سے ہمیں کیا نقصان ہے؟؟ آپ اشعارِ مذکورہ کا ترجمہ پیش کریں اور ثابت ہو جائے گا کہ صحابۂ کرام مصیبت کے وقت کس سے مدد طلب کرتے تھے۔ اس میں آپکو کیا خاص بات لگتی ہے کہ اشعار سامنے پڑھے گئے یا دور سے؟؟؟ پڑھے تو گئے ناں۔ دور سے پڑھنا اگر روایت ضعیف سے مروی ہی مانو تو بھی ظنی عقائد میں ہمارا موقف ثابت ہوگا۔

 

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

آپ نے اسکا جواب تو نہیں دیا کہ ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘ تو اس بات کا جواب آپ کو دینا پڑے گا۔ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ آپ پورا چھپتے بھی نہیں اور سامنے آنا بھی جناب کو گوارا نہیں۔

 

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

ایسی روایت جو وہ فتح الباری میں بھی لا رہے ہیں اور الاصابہ میں بھی ، جرح دونوں جگہ نہیں کی۔ دیگر محدثین کے حوالے سے بھی لا رہے ہیں اور ان کی اسناد پر بھی جرح نہیں کی۔ روایت کا مستقیم ہونا بھی ثابت ہے اور تعدیل کا تقدم بھی ۔ ۔ اب آپکا دعویٰ آپ ہی کے ذمے۔ جبکہ جرحِ مبہم کا نامقبول ہونا ہی آپکے ہاں مقبول ہے۔ اور بخاری پرستی بھی آپ کے بقول آپ میں نہیں تو بخاری کا انہیں منکر الحدیث کہنے پر روشنی ڈالتے جائیں۔ تعدیل مقدم ہے جب جرح و تعدیل متعارض ہوں (ورنہ اوپر پیش کیے گئے امیجز کا جواب دیں) اور آپ نے اکثر جگہ جرحِ مبہم کا سہارا لیا۔ اورآپ کو راوی پر جرح نظر آتی ہے ، تعدیل نہیں!!۔
 
آپ نے میرے تمام سوالوں کے جواب نہیں دئیے اور نہ میری آخری پوسٹ کو صحیح طرح پڑھا۔آپ اپنی پہلی روش بدلیں کیونکہ آپ کو ابھی تک اصل نزاعی امر کا علم ہی نہیں ہے۔ خواہ مخواہ وقت کے ضیاع کا باعث نہ بنیں۔ آپ اپنا موقف پیش کریں غیر محتمل انداز میں کہ مقربینِ خدا سے استمداد شرعاََ جائز ہے یا نہیں چاہے وہ قریب  ہوں یا دور؟ پہلے اسی بات کے متعلق اپنا نظریہ بتائیں۔ جب تک اس بات کا اور میرے پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہیں دیں گے ، میری اور آپکی بحث یہیں رکی رہے گی۔
میں ثابت کر چکا ہوں کہ
۱
آپ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان اشعار کا پڑھا جانا مان چکے (آپکی پوسٹ نمبر ۹)۔
۲
آپ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں دور سے ان اشعار کا پڑھا جانا بھی مان چکے بشرطیکہ ضعفِ روایت نہ رہے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳)۔تو ہم نے روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت کر دیا۔
۳
ہمارا مقربینِ خدا تعالی سے استمداد کا نظریہ ظنی ہے اور اس کے اثبات کے لیے تو محض عدمِ ممانعت ہی کافی ہے (میری لاسٹ پوسٹ)۔
۴
آپ کو ابھی تک اصل مبحث کا پتہ ہی نہیں ہے ، اسی لیے تو کبھی بحثِ معجزہ میں پڑ جاتے ہیں (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور  ۲۳)اور کبھی کرامت کی بحث میں (آپکی پوسٹ نمبر ۲۹)۔
۵
 نفئ استمداد میں آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (ورنہ میرے مطالبے (میری لاسٹ پوسٹ) پر پیش کرتے)۔
۶
آپ کے بقول زیادہ تکنیکی بحث بھی نہیں ہونی چاہیے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۵) تو اب آپکا راویوں پر جرح کرنا آپ کی اپنی پالیسی کے خلاف ہے۔
۷
آپ کا مقصد اس سب سے کوئی تحقیق حق نہیں ہے کیونکہ آپ نے اگر اس روایت کو ضعیف ہی سمجھا تھا تو دیگر بہت سے ذرائع سے اسکی تقویت ہم نے بیان کر دی ، آپ نے جرح پیش کی تو ہم نے تعدیل سامنے لا کر رکھ دی ، اگر آپ تحقیق کی راہ پر ہوتے تو ہمارے دلائل کو دلائل سے رد کرتے مگر آپ دلیل کی بجائے ادھر ادھر پھرنے میں مصروف ہیں۔ اور اگر روایت ضعیف ہی مانتے تو بھی ظنی عقائد میں اسے کیوں معتبر نہیں مانا جا سکتا جبکہ ہم نے اسی حوالے سے ادلہ سے استمداد کا اثبات سامنے رکھا ہے۔
۹
آپ خود کو ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ سے ہٹانا نہیں چاہتے ورنہ زبانی کلامی ہی کچھ اس پر کہہ دیا ہوتا۔
۱۰
آپ اس روایت سے معجزہ (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳) اور اپنی ایک اور پوسٹ میں فعلِ صحابی کو کرامت مان چکے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۹) تو اس سے بھی ہمارا نظریہ ہی ثابت ہوتا ہے۔ (کیونکہ آپکو یقیناََ معجزہ و کرامت کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہے)۔
 
ویسے بھی قبلہ علامہ سعیدی صاحب اب آپ کو دیکھیں گے اور خاص میرا آپکو جواب دینا لازم نہیں۔

Edited by AqeelAhmedWaqas, 20 August 2015 - 06:56 PM.

الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#38 AqeelAhmedWaqas

AqeelAhmedWaqas

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 377 posts
  • Joined 03-December 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Allama Ramazan Shah

Posted 20 August 2015 - 01:39 PM

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

 

باقی آپ نے جو امیجز لگائے ہیں اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کے جا،الحق سے سکین لگائے ہیں ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

کونسے عقائد کے باب میں معتبر نہیں ہے؟ اور ہمارا استمداد کا عقیدہ کس باب میں آتا ہے؟؟

 

ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

واقعی آپکو ابھی تک موضوع کا ہی پتہ نہیں ہے۔ یہ ’’ظاہری طور پر‘‘ استمداد کیا ہوتی ہے؟؟

حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ سمجھتے تھے یا مستقل متصرف؟؟


الصلوۃ و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ

صلی اللہ علیہ و اٰلہ و بارک و سلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روى الترمذي عن عَبْدِ الله بنِ عَمْرٍو قَالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: "لَيَأْتِيَنّ عَلَى أُمّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النّعْلِ بِالنّعْلِ حَتّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمّهُ عَلاَنِيَةً لَكَانَ فِي أُمّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَإِنّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلّةً كُلّهُمْ فِي النّارِ إِلاّ مِلّةً وَاحِدَةً، قَالَ ومَنْ هِيَ يَا رَسُولَ الله؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

 


#39 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 20 August 2015 - 07:56 PM

جناب مصطفوی صاحب

میں بھی یہی کہہ رہا تھا کہ اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو فضائل میں معتبر ہے،راوی مجہول ہو یا متن میں اضطراب

ہو تو حدیث موضوع نہیں ،ضعیف ہوتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ موضوع کہہ رہے ہو۔

آپ یہ بتائیں کہ مدینہ منورہ میں فرمانا کہ تیری مدد کی گئی، اس بات سے حضور نبی کریم ﷺ کی سماعت

کی فضیلت ثابت ہوتی ہے یا نہیں  ؟


توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#40 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 20 August 2015 - 10:09 PM

جناب مصطفوی صاحب

میں بھی یہی کہہ رہا تھا کہ اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو فضائل میں معتبر ہے،راوی مجہول ہو یا متن میں اضطراب

ہو تو حدیث موضوع نہیں ،ضعیف ہوتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ موضوع کہہ رہے ہو۔

آپ یہ بتائیں کہ مدینہ منورہ میں فرمانا کہ تیری مدد کی گئی، اس بات سے حضور نبی کریم ﷺ کی سماعت

کی فضیلت ثابت ہوتی ہے یا نہیں  ؟

 

محترم خلیل رانا صاحب

میرا مکمل کامنٹ یہ تھا کہ

میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے

اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی

اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے

 

رہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کا تو یہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اس سے نبی مکرم کا معجزہ ثابت ہو سکتا ہے اگر اس ضعیف  حدیث کو فضائل اعمال کے علاوہ صرف فضائل میں بھی حجت مان لیا جائے







Similar Topics Collapse


Also tagged with one or more of these keywords: Madad, Shirk


 

1 user(s) are reading this topic

0 members, 1 guests, 0 anonymous users