Jump to content

  • Log in with Facebook Log in with Twitter Log in with Windows Live Log In with Google      Sign In   
  • Create Account

Photo

Ghair Ul Allah Say Madad

Madad Shirk

  • Please log in to reply
75 replies to this topic

#41 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 20 August 2015 - 10:38 PM

محترم عقیل صاحب

برائے مہربانی میری پوری پوسٹ کو کوٹ کرنے کی بجائے صرف متعلقہ لائن کو کوٹ کر کے جواب دے دیا کریں جیسا کہ آپ پوری پوسٹ کوٹ کرنے کے بعد کرتے ہیں ۔

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی النجم: ۳۸

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی

 

تو پھر امام بخاری کا بوجھ آپ میرے پر کیوں ڈال رہے ہیں اگر انہوں نے کسی پر جرح کر کے پھر خود ہی اس سے ہی روایت کی ہے تو اس کا جواب دہ میں کیسے ہوا؟

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

 

قرآن مجید فرقانِ حمید پر نہیں ہے؟؟ اقوالِ امام پر نہیں ہے؟؟ آپ کے اصولِ حدیث پر ہرگز نہیں ہے۔

 

بات تو حدیث کے حوالے سے چل رہی تھی ورنہ قرآن پر تو سب ہی دارو مدار رکھتے ہیں صرف آپ نہیں

اور میری معلومات کے مطابق عقائد میں اقوال امام کی تقلید نہیں ہوتی ۔

جب بات ہو شرک کی تو اس وقت صرف ہمارے فعل سے استدلال کیا جاتا ہے اور ہماری نیت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اب نیت و ارادہ کا دخل کیسے تسلیم کر لیا گیا؟؟ (آپ سے یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ آپ ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ والی بات سے خود کو بری نہیں کہہ رہے)۔

آپ یہ بھی بتائیں کہ آپ کسی کے نیت و ارادے پر کیسے مطلع ہوں گے؟؟

 

 

میں نے شرک کی بات ہی نہیں کی

میں کیسے کسی کی نیت پر مطلع ہو سکتا ہوں جب تک وہ خود اپنی نیت کا اظہار نہ کرے

ہم تو کہتے ہیں کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا اور یہی بات  آپ اپنی پوسٹ نمبر ۹ میں ان الفاظ میں تسلیم کر چکے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے تو ثابت ہوا کہ سامنے اشعار کا پڑھا جانا آپکو واضح طور پر تسلیم ہے (اور دور سے ’’پڑھا جانا‘‘ بھی جناب نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ سے پلٹا کھاتے ہوئے تسلیم کیا ہے اپنی پوسٹ نمبر ۲۳ میں اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی  آپکی اس بات سے اس کے علاوہ کیا ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہوجائے (جو ہو چکی) تو آپ مان لیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینۂ منورہ میں رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ کی وہ بات سن لی تو اسکا یہ مطلب ہوا کہ وہ بات مدینہ شریف سے دور رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ نے کہی تھی!!۔

 

آپ کا کہنا کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا تو یہی بات تو ثبوت طلب ہے جس کا آپ ثبوت نہیں دے رہے

 

آپ میری باتوں کو مکس کر جاتے ہیں ہر بات اپنے مقام اور سیاق و سباق کے ساتھ ہوتی ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنا اور مدد طلب کرنا تو محل نزاع ہی نہیں

اصل ثبوت تو اس بات کا دینا ہے کہ راجز نےدوران سفر اشعار پڑھے اور بطور مدد مانگنے کے پڑھے

اور میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں جسے آپ میرا پلٹا کھانا کہتے ہیں کہ اگر یہ سارا واقع ایسا ہی جیسا آپ بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو بھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہو گا

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ان کے اضطراب کا اظہار تھا تو پہلے اپنے اس خیال کو ثابت تو کریں اور اگر اسی پر بلا دلیل اصرار ہے تو بھی ہمیں کیا نقصان؟ کیونکہ اس طرح تو پھر بھی ثابت کہ صحابۂ کرام اپنے اضطراب میں رسول اللہ ﷺ سے ہی مدد مانگتے تھے اور ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہمارا طریقہ ہے۔

 

میں تو سوال کر رہا ہوں کہ کیا یہ ان کے اضطراب کا اظہار تھا ؟

تو میں کیوں ثابت کرتا رہوں ؟

اظہار اضطراب میں کب دوسرے کو سنانا لازم ہوتا ہے ؟

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

اس سے ہمیں کیا نقصان ہے؟؟

 

نقصان یہ ہے کہ آپ حسن موصول کے الفاظ کواس روایت سے منسلک کر رہے تھے جس سے آپ سارا استدلال فرما رہے ہیں لیکن یہ الفاظ اس روایت سے متعلق نہیں



#42 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 20 August 2015 - 10:53 PM

 
آپ نے میرے تمام سوالوں کے جواب نہیں دئیے اور نہ میری آخری پوسٹ کو صحیح طرح پڑھا۔آپ اپنی پہلی روش بدلیں کیونکہ آپ کو ابھی تک اصل نزاعی امر کا علم ہی نہیں ہے۔ خواہ مخواہ وقت کے ضیاع کا باعث نہ بنیں۔ آپ اپنا موقف پیش کریں غیر محتمل انداز میں کہ مقربینِ خدا سے استمداد شرعاََ جائز ہے یا نہیں چاہے وہ قریب  ہوں یا دور؟ پہلے

 

میرے بھائی

میں اپنا موقف پیش کئے دیتا ہوں

میں جائز ناجائز کے چکر میں نہیں پڑھتا لیکن میرے علم کی حد تک

مقربین خدا سے حیات میں یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کی قرآن و حدیث سے کوئی مستند اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے

 

 

 

ایک اور بات کنفرم کرتے جائیں تاکہ آئندہ کبھی بوقت ضرورت کام آ سکے

 

آپ کے نزدیک جرح مبہم قابل قبول نہیں ہے ؟

 

جرح و تعدیل میں سے آپ تعدیل کو مقدم کرتے ہیں ؟



#43 Ahmad Lahore

Ahmad Lahore

    Ajmeri Member

  • Members

  • PipPipPip
  • 105 posts
  • Joined 27-August 12
  • Madhab:Hanafi

Posted 20 August 2015 - 11:11 PM

 

میں جائز ناجائز کے چکر میں نہیں پڑھتا لیکن میرے علم کی حد تک

مقربین خدا سے حیات میں یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کی قرآن و حدیث سے کوئی مستند اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے

 

 

 

 

عجیب گھن چکّر ہیں آپ۔ مقربین خدا سے حیات یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کا جائز یا ناجائز ہونا آپ کے نزدیک اہم نہیں، پھر ان تمام تر لن ترانیوں کا مقصد کیا ہے؟



#44 kashmeerkhan

kashmeerkhan

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 339 posts
  • Joined 05-June 15
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 21 August 2015 - 03:57 AM

Sunni bhaaeiyo sa mari iltijaa ha ka jab tak ye sahab jwaab nah da pocha gaiy swalat ka,
enhe edhaar sa bhaagna nah da.





مصطفوی جی۔

،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔ ،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔

:mellow: :mellow: آنکھیں ترس گئی ہیں تیرے جوابوں کے انتظار میں :mellow: :mellow:

۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے پوچھے گئے سوالوں کو تو ایسا ہضم کیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ یا جیسے دیوبندی نے کوے کو یا جیسے غیر مقلد نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو (لفظ لکھ نہیں سکتا میں کیونکہ آپکو یقینا برا لگے گا اور میرے دوسرے دوست تو سمجھ گئے ہوں گے :P :P :P

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ایک نہایت نہایت اہم بات جو پورا ٹاپک پڑھ کر اظہر من الشمس ہوئی ہے کہ جناب جی کو جو سوال سمجھ نہیں آتا یا جواب اپنے خلاف جاتا ہے یا اپنا بھانڈا پھوٹتا ہے ، اسے قطعا بھلا دیتے ہیں اور مڑ کر اسکا جواب دینا خلاف شان سمجھتے ہیں!!۔۔،،۔۔

۔۔۔۔،،۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپکی کون کون سی پوسٹ کوٹ کروں کیوں کہ تقریبا آپ کی ہر پوسٹ پر ایک مکمل مضمون لکھا جا سکتا ہے ،، یہ الگ بات کہ وہ مضمون آپکو بھائے گا نہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے لگ رہا ہے کہ آپ غیر مقلدین کی کوئی کتاب گھول کر پی بیٹھے ہیں :) اور انہی کے جیسے راگ الاپ رہے ہیں ۔ بالکل ٹھیک کہا قادری سلطانی بھئی نے کہ ایک غیر مقلد نام نہاد عالم نے اس روایت پر جرح پیش کی اور آپ نے وہی کی وہی اٹھا کر ہمارے سر کر دی۔۔۔۔۔۔ شاید اسی لیے تو تفویۃ الایمان کا جواب نہیں دیتے ، کہیں چھپی چھپائی محبتیں تو نہیں ان سے :excl: :excl: ۔۔

۔۔۔۔۔

خیر آپ اب اڑے ہوئے ہیں کہ ماننا نہیں ہے جو مرضی ہو جائے۔۔۔ ہر پوسٹ پر وہی گھسی پٹی بات تھونپ دیتے ہیں۔ خود ہمارے سوالوں کو ڈیپوذٹ کرا لیتے ہیں ، اب ود ڈرا کرا ہی لیں ،۔

۔۔۔۔

آپکی بے بسی آپ کی تحریر سے واضح ہے۔۔کسی ایک بات پر آپ رہتے ہی نہیں ہیں یا رکھتے خود نہیں ہیں یہ تو آپکو پتہ۔۔۔

۔۔۔۔

میرا کہنا یہ ہے کہ آپ یہ تو بغیر رد کیے مانتے ہیں کہ نور من نور اللہ طیب طاہر قاسم عاقب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار عالیشان میں سامنے ہی وہ اشعار پڑھے گئے۔۔۔آپکا اتنا ماننا ہی اس حد تک ہے کہ وہابیت کا مکروہ محل منہدم ہو جائے۔۔ویسے عقیل بھئی کا مطالبہ غلط نہیں ہے لگا دیں ترجمہ ان اشعار کا آپ۔۔

۔۔۔۔۔

میرے سید سعیدی قبلہ کی پوسٹ پر پر آپکا جواب پڑھ کر میری ہنسی روکے نہیں رک رہی۔ :) :P :) ۔آپ اپنی صحبت تبدیل کریں میں اتنا آپ کو ضرور کہوں گا۔۔۔

۔۔۔۔

بر سبیل تنزل علی طریق التسلیم یہ روایت نہایت درجہ ضعیف، اتنا ضعیف کہ بیان سے باہر ، راویوں پر وہ وہ جروحات کہ شمار سے باہر، مقام استدلال میں بالکل بیکار پھر بھی اس سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ کیا ہمارا مستدل صرف یہی روایت ہے۔۔ اور اوپر ایک پوسٹ میں آپکا یہ کہنا کہ اقوال امام میں تقلید نہیں ہوتی مطلق ہے یا مقید؟

۔۔۔۔

جرح و تعدیل کے بارے آپکا عقیدہ کیا ہے۔۔ کوئی امام جرح فرما دے تو اسے ماننا ضروریات دین سے ہے یا نہیں۔۔ اور ساتھ تعدیل کا بھی بیان کر دیں تو نوازش ہوگی۔۔ ویسے آپ جواب دینے کیلئے دماغ کی بچت بہت کرتے ہیں۔۔

۔۔۔۔

آپ کی فاسد تاویلیں دیکھی ہیں اس بارے میں۔ پتہ نہیں صحابی کے فعل کا مقصد اضطراب کا اظہار تھا یا ان کا نظریہ ایسا نہیں تھا۔۔ تو اگر ایسے تاویلاتی گھوڑے دوڑانے تھے پھر ہم سے دلیلوں کا مطالبہ چہ معنی۔۔

ویسے آپکو چند نمونے دکھاتا ہوں کہ آپکی تاویلات جب آپ کے اوپر سیٹ کی جائیں تو کیا کہیں گے انہیں۔۔

!!!

محدثین نے راوی کو ضعیف تو کہا مگر پتہ نہیں جسمانی لحاظ سے ضعیف کہا یا دماغی لحاظ سے یا مدد نہ ملنے کے لحاظ سے!۔

!!!

مصطفوی جی اسلامی محفل پر اسلامی پوسٹیں تو کرتے ہیں مگر پتہ نہیں یہ کوئی انسان ہیں بھی سہی یا نہیں یا کیا پتہ کوئی جن ہوں یا کوئی روبوٹ ہوں !۔

!!!

اپنا نام مصطفوی تو رکھ لیا مگر پتہ نہیں مصطفے کمال پاشا کی نسبت سے رکھا یا کسی نئے فرقے کی محبت میں ایسا کیا یا سیدھے سادھوں کو دھوکہ دینے کیلئے!۔

!!!

اپنے بارے میں مصطفوی جی نے حتی الوسع بتایا تو ہے مگر کیا پتہ یہی مصطفوی میاں مراد ہے یا کوئی اور پھر کیا پتہ سچ بولے یا جھوٹ اور پتہ نہیں انکا مقصد یہ سب بتا کر غیر اللہ سے ہمدردی وصول کرنا تھا یا انکی آنکھوں میں دھول جھونکنا !۔

!!!

باتیں تو غیر مقلدین جیسی کرتے ہیں پتہ نہیں اصل چہرہ دکھانے کی ہمت نہیں ہے ان میں، یا دل میں نفاق ہے!۔۔

!!!

انکار تو استمداد کا کر رہے ہیں مگر پتہ نہیں اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ، کیا پتہ یہ خود دلی طور پر ایسا نہیں کرنا چاہتے یا کرنا چاہتے ہیں پر دماغ اجازت نہیں دیتا ، اور یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہو یا مسلمانوں میں تفریق پھیلانا چاہتے ہوں!۔۔۔

!!!

ہر روز مصطفوی جی کھانا کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں ، آج تک انکا یہی معمول رہا ہے پگر پتہ نہیں ان کے پاس کوئی قطعی الثبوت قطعی الدلالت نص ہے کہ جب پیاس لگے پانی پی لو بھوک لگے کھانا کھا لو ، کیا پتہ پیاس لگنے پر پانی پینے کو فرض سمجھ کر پیتے ہیں یا انہوں نے عقیدہ سیٹ کر لیا ہے کہ جونہی پیٹ میں چوہے دوڑیں جھٹ سے کھانا کھانا ہے ، کیا پتہ کھانا نہ کھانے کو حرام سمجھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ اور ویسے بھی ان کے ان کاموں سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے پانی پیا یا خوراک کھائی ، بالفرض اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے انکو پانی پیتے یا کھانا کھاتے دیکھ لیا تو بھی محض اتنا ثابت ہوگا کہ پانی ان کے معدے میں پہنچا اور خوراک ان کے پیٹ میں گئی ، اس سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ مصطفوی جی نے پانی پیا اور خوراک بھی کھائی!!!!!۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو جناب جی کیسی لگی اوپر والی باتیں۔ اور کچھ نہیں یہ تو صرف آپکی اپنی ایک پوسٹ آپ پر منطبق کر دی میں نے۔۔۔معذرت اگر برا لگا،، مگر اس صورت اگر عقیدے ٹھیک ہوں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

کافی وقت لیا جناب کا میں نے ،، میں اس انتظار میں ہوں کہ کس دن آپکے جوابات میرے سوالوں پر کا درشن ہوگا ،، مگر مجھے امید مبہم ہی ہے۔۔۔۔ اوہ سوری مبہم تو آپکے ہاں سب پربھاری ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج میں نے ایک ٹاپک دیکھا جس میں میرے سید سعیدی صاحب نے دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں نجدیت کی ، اسمیں سے ایک لائن (خالص اپنے لفظوں میں) کوٹ کیے بنا میں نہیں رہ سکتا اور یہ ایسی بات انہوں نے لکھی کہ نجدیت کا سمندر تحریری لائن کے کوزے میں آگیا۔۔

قرآن میں سے متشابہات ، حدیث میں سے منسوخ مسائل اور فقہ میں سے غیر مفتی بہ اقوال جمع کر کے اپنا مذہب سیٹ کرنا ہی نجدیت کا طریق ہے۔۔۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

اگرچہ یہ استمداد کا نظریہ ایسا ہے کہ اگر اسکا انکار بھی کیا جائے تو ایسا شخص کسی سخت حکم کے انڈر نہیں آتا بصورت صحت عقائد و تسلیم دیگر ضروریات دین و اہل سنت۔ مگر میرے خیال میں ایسے شخص کا بہت سی موذی مرضوں (مثلا وہابیت وغیرہ) کے شکار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے ، مگر کسی چیز کا امکان اس کے وقوع کو لازم نہیں ہے۔۔۔

ں ں ں ں ں ں ں ں ں

میں آخری ایسی بات کر رہا ہوں کہ اگر آپ میں کچھ ۔۔۔۔۔ باقی ہے تو کوئی اہم قدم اٹھائیں گے۔۔۔۔

جناب جی! آپ کہتے ہیں کہ استمداد غیر اللہ پر ہمارے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے تو اتنا تو ثابت ہوا کہ جناب جی کا عقیدہ استمداد غیر اللہ کی نفی کا ہے۔ آپ اپنے اسی عقیدے (غیر اللہ سے مدد مانگنا دور سے حرام ہے یا مکروہ ہے) پر صحیح دلیل پیش کر دیں جو ہماری دلیلوں کی طرح غیر صحیح نہ ہو (کیونکہ میرے بھائیوں کی دی گئی دلیلیں تو غیر صحیح ہیں تمہارے نزدیک) ، جس میں ہماری روایت کی طرح احتمال نہ نکلتے ہوں (کیونکہ میرے بھائیوں کی دی گئی دلیلیں تو محتمل ہیں تمہارے مطابق)، جو اپنے ثبوت میں بھی قطعیت کے درجہ پر ہو اور اپنی دلالت میں بھی قطعیت پر ہو۔ صرف ایک اس طرح کی دلیل لا دیں ، اور آپ سے کچھ نہیں کہوں گا میں ۔ ۔ ۔آپکو آپکی پوری زندگی تک کا وقت ہے بلکہ آگے فروع کو یہی ایسی دلیل لانے کی وصیت کر سکیں تو بھی قبول۔۔


یا رسول اللہ انظر حالنا

یا حبیب اللہ اسمع قالنا

صلی علیک و سلم یا نور اللہ 

یا سیدی غوث اعظم امددنی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا سیدی اعلیحضرت ارحمنی

 


#45 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 21 August 2015 - 08:48 AM

(bis)

 

جناب میں نے کب کہا کہ آپ اس حدیث کو موضوع کہہ رہے ہیں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ مجہو ل روایت اور اضطراب متن

سے بھی حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف ہوتی ہے۔

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

 

Attached Images

  • jlaul 1.jpg
  • jlaul 2.jpg
  • jilaul 3.jpg

توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#46 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 21 August 2015 - 11:33 PM

برادر کشمیر خان صاحب

میں نے اپنی پوسٹ نمبر 16 میں آپ کے لئے ایک دعا کی تھی

دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کو شائستہ انداز میں گفتگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے

 

لیکن ابھی شاید اس دعا کی قبولیت میں کچھ وقت لگے گا



#47 kashmeerkhan

kashmeerkhan

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 339 posts
  • Joined 05-June 15
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 22 August 2015 - 12:42 AM

برادر کشمیر خان صاحب

میں نے اپنی پوسٹ نمبر 16 میں آپ کے لئے ایک دعا کی تھی

لیکن ابھی شاید اس دعا کی قبولیت میں کچھ وقت لگے گا

مصطفوی جی

پہلے جواب دیں

پھر دعائیں۔۔۔

سوالوں کا جواب دینے کی بجائے دوسری باتیں بہت اچھی بنا لیتے ہیں آپ۔۔

یہ ٹاپک آپ فضول میں پرولونگ کر رہے ہیں۔

یا حق مان جائیں یا جواب دیں سوالوں کا۔۔،۔


Edited by kashmeerkhan, 22 August 2015 - 12:45 AM.

یا رسول اللہ انظر حالنا

یا حبیب اللہ اسمع قالنا

صلی علیک و سلم یا نور اللہ 

یا سیدی غوث اعظم امددنی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا سیدی اعلیحضرت ارحمنی

 


#48 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 22 August 2015 - 08:02 AM

(bis)

جلاء الافہام کی جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے

یہ حدیث اُردو ترجمہ غیر مقلد مولوی سلیمان منصور پوری والی اس کتاب پر حدیث نمبر ۴۵ہے

ناشر یعنی کتاب چھاپنے والے سے یا کتاب سیٹنگ کرنے والے سےغلطی ہوئی کہ اس نے اس کے

آخر میں نمبر ۱ ڈال کر نیچے حاشیہ میں لکھا کہ

ابن ابی عاصم نے اسے روایت کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں ضعف ہے

دراصل یہ تبصرہ اس سے پہلی حدیث نمبر ۴۴ کے متعلق ہے، اس حدیث سے متعلق نہیں

 

 

 

 

Attached Images

  • 1.jpg
  • 3.jpg

توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#49 shahzad6058811

shahzad6058811

    Makki Member

  • Members

  • PipPipPipPipPip
  • 664 posts
  • Joined 20-October 13
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:mian sb,sharaqpuri,

Posted 22 August 2015 - 03:45 PM

rana khalil you are great

#50 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 22 August 2015 - 09:51 PM

محترم خلیل رانا صاحب

آپ نے درود شریف کے حوالے سے جو بات کہی ہے وہ موضوع بحث سے تعلق نہیں رکھتی

 

اس حوالے سے میری اہل حدیث سے جو گفتگو ہوئی تھی وہ میں اسی فورم پر پیش کر چکا ہوں  وہاں نظر دوڑا لیں

 

http://www.islamimeh...ں-سے-ایک-گفتگو/



#51 kashmeerkhan

kashmeerkhan

    Baghdadi Member

  • Members

  • PipPipPipPip
  • 339 posts
  • Joined 05-June 15
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 23 August 2015 - 04:39 AM

مصطفوی میاں

پہلے اہل علم حضرات کے پوچھے گئے سوالات کا جواب تو دو۔۔

خواہ مخواہ ٹاپک میں پوسٹنگ کیے جا رہے ہو۔

موڈریٹرز اسلامی بھائیوں سے مدنی التجا ہے کہ اسے وارن کریں کہ خلط مبحث نہ کرے اور مسولہ باتوں کا جواب دے۔۔

محض دعائیں دینے سے کام نہیں چلے گا۔

محترم خلیل رانا صاحب اپنا قیمتی وقت نکال کر تمہیں دلائل کے انبار فراہم کیے جا رہے ہیں مگر تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

نہ قبلہ علامہ سعیدی صاحب کی پوسٹ کا کوئی درست جواب دیا اور نہ عقیل احمد وقاص بھائی کے سوالوں کا۔

احمد لاہور بھائی کی پوسٹ بھی آپکے جواب کی منتظر ہے۔

مکرمی جناب خلیل صاحب کے دلائل کا جواب کون دے گا؟؟؟

یا واضح سامنے آئیں یا پورا اوجھل ہو جائین۔۔

اب اگر یہ ٹاپک لاک بھی کر دیا جائے تو مضائقہ نہیں کیونکہ تم کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکے ہو اور نہ سوالوں کا درست جواب دیا ہے یا اسکی کوشش کی ہے۔


یا رسول اللہ انظر حالنا

یا حبیب اللہ اسمع قالنا

صلی علیک و سلم یا نور اللہ 

یا سیدی غوث اعظم امددنی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا سیدی اعلیحضرت ارحمنی

 


#52 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 23 August 2015 - 08:15 AM

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟


توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#53 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 26 August 2015 - 12:21 PM

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

طبرانی کی اس روایت میں ایک راوی ہے

یحی سلیمان بن نضلہ

 

اس راوی کی تعدیل بھی موجود ہے اور اس پر جرح بھی موجود ہے

 

اس کی تعدیل کچھ یوں ہے

 

ذکرہ ابن حبان فی الثقات

قال ابن عدی ۔۔۔ أحاديث عامتها مستقيمة.

 

اس پر جرح یہ ہے

 

قال امام ابن ہیثمی ۔۔۔۔۔ ھو ضعیف

قال ابن حبان ۔۔۔۔۔ یخطی ویھم

 

قال ابو حاتم ۔۔۔۔ ليس هو بالقوى

 

امام بخاری ۔۔۔۔ منکر الحدیث

 

وقال ابن عقدة: سَمِعتُ ابن خراش يقول: لا يسوى شيئا

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

اس کے بعد ایک اور راوی ہے

 

محمد بن نضلہ

ان کے بارے میں صرف یہ معلوم ہے کہ یہ مذکورہ بالا راوی کے چچا ہیں

 

اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کیسا آدمی تھا اب اس مجہول الحال راوی کی روایت کا کیا اعتبار ؟؟

 

اس کے بعد اس روایت کے متن پر آ جائیں

 

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے آپ کو کسی انسان سے باتیں کرتے ہوئے یہ یہ کہتے سنا ہے کیا آپ کے پاس کوئی موجود تھا ؟

فھل کان معک احد ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ راجز ہے ۔۔۔۔ الخ

 

اب اس سوال اور جواب کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی انصاف فرمائیں کہ کیا اس سوال و جواب سے حضرت میمونہ ؓ کے گمان میں بھی یہ بات آئی ہو گی کہ راجز یہاں موجود نہیں تھا بلکہ تین دن کی مسافت پر تھا ؟

اس سوال جواب کے بعد روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے اور سامان جہاد کی تیاری وغیرہ کا کہا

اس کے بعد حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ

فااقمنا ثلاثا

ہم تین دن ٹھہرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو راجز نے اشعار پڑھے 



#54 Qadri Sultani

Qadri Sultani

    Madani Member

  • Moderator

  • PipPipPipPipPipPip
  • 1,309 posts
  • Joined 18-September 08
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi
  • Sheikh:Qazi Mehmood Qadri

Posted 26 August 2015 - 06:27 PM

Janab ap k nazdeek agar yeh ravi aysay e hain to bataiye ap k nazdeek yeh Hadees Da'eef hay ya Mozoo hay ya kis darjay ke hay???


یا شیخ عبدالقادرجیلانی شیاً للہ


#55 Ahmad Lahore

Ahmad Lahore

    Ajmeri Member

  • Members

  • PipPipPip
  • 105 posts
  • Joined 27-August 12
  • Madhab:Hanafi

Posted 26 August 2015 - 07:04 PM

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

 

 

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

 

جناب محترم، (زیادہ) تکنیکی گفتگو آپ کے مزاج پر گراں گزرتی ہے

جائز ناجائز کے چکر میں آپ ویسے ہی نہیں پڑتے، کیونکہ آپ کا چکر غالباً مناسب اور نامناسب تک محدود ہے۔

بہرکیف، اگر نامناسب معلوم نہ ہو تو وضاحت فرما دیجئے کہ

قریب سے مدد مانگنے پر آپ کو اعتراض نہیں

دور سے سننا بطور معجزہ آپ کو قبول ہے

تو جب قریب سے مدد مانگنا درست، دور سے سن لینا بھی بطور معجزہ ممکن، پھر دور سے مدد مانگنے پر کیا آپ کا کوئی اعتراض باقی رہ جاتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی بنیاد اور دلیل کیا ہے؟


Edited by Ahmad Lahore, 26 August 2015 - 07:06 PM.


#56 Muhammad Afan

Muhammad Afan
  • Members

  • 1 posts
  • Joined 15-February 15
  • Madhab:Hanafi

Posted 26 August 2015 - 07:39 PM

Wahabi Mustafvi sahab se ek muhtasar sa sawal :-

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya yeh shirk hai ya nahi ?? kiya Aj kei dour mein Hazrat Jibrael a.s ku waseela bna kar madad talab karna shirk hu ga ya nahi ? aur kiya ap Iss waseely ku manty hain ?? nahi tu kiun nahi ?? Aur Agar han tu phir nabi kareem s.a.w se madad talab karne mein kiya harj hai ??

Phir bhi Aitraaz hai tu kisi Qurani ayat ya saheeh  hadees se sabit karein kei NAbi kareem se madad talab karna shirk hai Aur Allah rab ul izzat nei aur Nabi kareem s.a.w ney iss kam se mana farmaya hei, aur sahaba r.a ney bhi mana farmaya hai.

Shukriya……………….

 

 

 

 

453 - حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ

ش ( أجب عن رسول الله) دافع عنه وأجب الكفار على هجائهم له ولأصحابه. ( بروح القدس) هو جبريل عليه السلام

 

 

 
Narrated By Hassan bin Thabit Al-Ansari : I asked Abu Huraira "By Allah! Tell me the truth whether you heard the Prophet saying, 'O Hassan! Reply on behalf of Allah's Apostle. O Allah! Help him with the Holy Spirit." Abu Huraira said, "Yes. "

 

 

حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر گواہ بنارہے تھے کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا تم نے نبی ﷺکو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اے حسان! رسول اللہﷺکی طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس(جبریل علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی مدد فرمادے، انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (رسول اللہﷺنے ایسا کہا تھا)۔
 

 

 

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 
فتح الباري لابن حجر
 
[453] قَوْلُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ كَذَا رَوَاهُ شُعَيْبٌ وَتَابَعَهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بَدَلَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْرَجَهُ الْمُؤَلِّفُ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ عِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ وَهَذَا مِنَ الِاخْتِلَافِ الَّذِي لَا يَضُرُّ لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَالرَّاجِحُ أَنَّهُ عِنْدَهُ عَنْهُمَا مَعًا فَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ تَارَةً عَنْ هَذَا وَتَارَةً عَنْ هَذَا وَهَذَا مِنْ جِنْسِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي يَتَعَقَّبُهَا الدَّارَقُطْنِيُّ عَلَى الشَّيْخَيْنِ لَكِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ فَلْيُسْتَدْرَكْ عَلَيْهِ وَفِي الْإِسْنَادِ نَظَرٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ وَهُوَ عَلَى شَرْطِ التَّتَبُّعِ أَيْضًا وَذَلِكَ أَنَّ لَفْظَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ الْحَدِيثَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ لِهَذِهِ الْقِصَّةِ عِنْدَهُمْ مُرْسَلَةٌ لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ زمن الْمُرُور وَلكنه يُحْمَلُ عَلَى أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَعْدُ أَوْ مِنْ حَسَّانَ أَوْ وَقْعَ لِحَسَّانَ اسْتِشْهَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَحَضَرَ ذَلِكَ سَعِيدٌ وَيُقَوِّيهِ سِيَاقُ حَدِيثِ الْبَابِ فَإِنَّ فِيهِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ سَمِعَ حَسَّانَ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكْ زَمَنَ مُرُورِ عُمَرَ أَيْضًا فَإِنَّهُ أَصْغَرُ مِنْ سَعِيدٍ فَدَلَّ عَلَى تَعَدُّدِ الِاسْتِشْهَادِ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْتِفَاتُ حَسَّانَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَاسْتِشْهَادُهُ بِهِ إِنَّمَا وَقَعَ مُتَأَخِّرًا لِأَنَّ ثُمَّ لَا تَدُلُّ عَلَى الْفَوْرِيَّةِ وَالْأَصْلُ عَدَمُ التَّعَدُّدِ وَغَايَتُهُ أَنْ يَكُونَ سَعِيدٌ أَرْسَلَ قِصَّةَ الْمُرُورِ ثُمَّ سَمِعَ بَعْدَ ذَلِكَ اسْتِشْهَادَ حَسَّانَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ الْمَقْصُود لِأَنَّهُ الْمَرْفُوع وَهُوَ مَوْصُول بِلَا تَرَدُّدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَوْلُهُ يَسْتَشْهِدُ أَيْ يَطْلُبُ الشَّهَادَةَ وَالْمُرَادُ الْإِخْبَارُ بِالْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ وَأَطْلَقَ عَلَيْهِ الشَّهَادَةَ مُبَالَغَةً فِي تَقْوِيَةِ الْخَبَرِ قَوْلُهُ أَنْشُدُكَ بِفَتْحِ الْهَمْزَةِ وَضَمِّ الشِّينِ الْمُعْجَمَةِ أَيْ سَأَلْتُكَ اللَّهَ وَالنَّشْدُ بِفَتْحِ النُّونِ وَسُكُونِ الْمُعْجَمَةِ التَّذَكُّرُ قَوْلُهُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ سَعِيدٍ أَجِبْ عَنِّي فَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي هُنَا بِالْمَعْنَى قَوْلُهُ أَيِّدْهُ أَيْ قَوِّهِ وَرُوحُ الْقُدُسِ الْمُرَادُ هَنَا جِبْرِيلُ بِدَلِيلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ عِنْدَ الْمُصَنِّفِ أَيْضًا بِلَفْظِ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ وَالْمُرَادُ بِالْإِجَابَةِ الرَّدُّ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ هَجَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو الْكُفَّارَ وَذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي الْأَطْرَافِ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَخْرَجَهُ تَعْلِيقًا نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ لَكِنِّي لَمْ أَرَهُ فِيهِ قَالَ بن بَطَّالٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِ الْبَابِ أَنَّ حَسَّانَ أَنْشَدَ شِعْرًا فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّ رِوَايَةَ الْبُخَارِيِّ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ مِنْ طَرِيقِ سَعِيدٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ أَجِبْ عَنِّي كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَّهُ أَنْشَدَ فِيهِ مَا أَجَابَ بِهِ الْمُشْرِكِينَ.


     وَقَالَ  غَيْرُهُ يَحْتَمِلُ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَرَادَ أَنَّ الشِّعْرَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى الْحَقِّ حَقٌّ بِدَلِيلِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ عَلَى شِعْرِهِ وَإِذَا كَانَ حَقًّا جَازَ فِي الْمَسْجِدِ كَسَائِرِ الْكَلَامِ الْحَقِّ وَلَا يُمْنَعُ مِنْهُ كَمَا يُمْنَعُ مِنْ غَيْرِهِ مِنَ الْكَلَامِ الْخَبِيثِوَاللَّغْوِ السَّاقِطِ.




قُلْتُ وَالْأَوَّلُ أَلْيَقُ بِتَصَرُّفِ الْبُخَارِيِّ وَبِذَلِكَ جَزَمَ الْمَازِرِيُّ.


     وَقَالَ  إِنَّمَا اخْتَصَرَ الْبُخَارِيُّ الْقِصَّةَ لِاشْتِهَارِهَا وَلِكَوْنِهِ ذَكَرَهَا فِي مَوْضِعٍ آخَرَ انْتهى وَأما مَا رَوَاهُ بن خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ وَالتِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَى عَمْرٍو فَمَنْ يُصَحِّحْ نُسْخَتَهُ يُصَحِّحْهُ وَفِي الْمَعْنَى عِدَّةُ أَحَادِيثَ لَكِنَّ فِي أَسَانِيدِهَا مَقَالٌ فَالْجَمْعُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَدِيثِ الْبَابِ أَنْ يُحْمَلَ النَّهْيُ عَلَى تَنَاشُدِ أَشْعَارِ الْجَاهِلِيَّةِ وَالْمُبْطِلِينَ وَالْمَأْذُونُ فِيهِ مَا سَلِمَ مِنْ ذَلِكَ وَقِيلَ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ مَا إِذَا كَانَ التَّنَاشُدُ غَالِبًا عَلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَشَاغَلَ بِهِ مِنْ فِيهِ وَأَبْعَدَ أَبُو عَبْدُ الْمَلِكِ الْبَوْنِيُّ فَأَعْمَلَ أَحَادِيثَ النَّهْيِ وَادَّعَى النَّسْخَ فِي حَدِيثِ الْإِذْنِ وَلَمْ يُوَافق على ذَلِك حَكَاهُ بن التِّينِ عَنْهُ وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّهُ طَرَدَ هَذِهِ الدَّعْوَى فِيمَا سَيَأْتِي مِنْ دُخُولِ أَصْحَابِ الْحِرَابِ الْمَسْجِد وَكَذَا دُخُول الْمُشرك ( قَوْلُهُ بَابُ أَصْحَابِ الْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ) الْحِرَابُ بِكَسْرِ الْمُهْمِلَةِ جَمْعُ حَرْبَةٍ وَالْمُرَادُ جَوَازُ دُخُولِهِمْ فِيهِ وَنِصَالُ حِرَابِهِمْ مَشْهُورَةٌ وَأَظُنُّ الْمُصَنِّفَ أَشَارَ إِلَى تَخْصِيصِ الْحَدِيثِ السَّابِقِ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمُرُورِ فِي الْمَسْجِدِ بِالنَّصْلِ غَيْرِ مَغْمُودٍ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا أَنَّ التَّحَفُّظَ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ وَهِيَ صُورَةُ اللَّعِبِ بِالْحِرَابِ سَهْلٌ بِخِلَافِ مُجَرَّدِ الْمُرُورِ فَإِنَّهُ قَدْ يَقَعُ بَغْتَةً فَلَا يُتَحَفَّظُ مِنْهُ قَوْله فِي الْإِسْنَاد
فتح البارى لابن رجب
 
[453] حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع: ابنا شعيب، عن الزهري: اخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أنه سمع حسان بن ثابت يستشهد أبا هريرة: أنشدك الله، هل سمعت النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( يا حسان، أجب عن رسول الله، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال أبو هريرة: نعم.
ليس في هذه الرواية التي خرجها البخاري هاهنا إنشاد حسان في المسجد، إنما فيه ذكر مدح حسان على أجابته عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - والدعاء له على ذلك، وكفى بذلك على فضل شعره المتضمن للمنافحة عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، والرد على أعدائه والطاعنين عليه، والمساجد لا تنزه عن مثل ذلك.
ولهذا قال النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( إن من الشعر حكمة) ) .
وقد خرجه البخاري في موضع أخر من حديث أبي بن كعب - مرفوعا.
وخرج - أيضا - من حديث البراء، أن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال لحسان: ( اهجهم - او هاجمهم - وجبريل معك) ) .
وإنما خص النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جبريل وهو روح القدس بنصرة من نصره ونافح عنه؛ لان جبريل صاحب وحي الله إلى رسله، وَهُوَ يتولى نصر رسله وإهلاك أعدائهم المكذبين لهم، كما تولى إهلاك قوم لوط وفرعون في البحر.
فمن نصر رسول الله وذب عنه أعداءه ونافح عنه كان جبريل معه ومؤيدا له كما قال لنبيه - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: { مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} [التحريم: 4] .
وقد خرج البخاري في بدء الخلق عن ابن المديني، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، قال: مر عمر في المسجد وحسان ينشد، فقال كنت انشد فيه، وفيه من هو خير منك ثم التفت إلى أبي هريرة، فقال: أنشدك الله، أسمعت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( اجب عني، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال: نعم.
وهذا نوع إرسال من ابن المسيب؛ لأنه لم يشهد هذه القصة لعمر مع حسان عند أكثر العلماء الذين قالوا لم يسمع من عمر ومنهم من اثبت سماعه منه شيئا يسيرا.
وقد خرج هذا الحديث مسلم، عن غير واحد، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة، أن عمر مر بحسان - فجعل الحديث كله عن أبي هريرة متصلا.
ورواية ابن المديني اصح، وكذا رواه جماعة عن الزهري.
وروى ابن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قائما، يفاخر عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أو قالت: ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وتقول: قال رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( أن الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر - او ينافح - عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) ) .
خرجه الترمذي.
وخرجه - أيضا - في طريق ابن أبي الزناد، عن أبيه، عن عروة، عن عائشة، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مثله.
وقال: حسن صحيح غريب، وهو حديث ابن أبي الزناد.
يعني أنه تفرد به.
وخرجه أبو داود من الطريقين - أيضا -.
وكذلك خرجه الإمام أحمد، وعنده: ( ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بالشعر) ) .
وذكره البخاري في موضع اخرمن صحيحه - تعليقا -، فقال: وقال ابن أبي الزناد.
وخرجه الطبراني، وزاد في حديثه: ( فينشد عليه الأشعار) ) .
وروى سماك، عن جابر بن سمرة، قَالَ: شهدت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أكثر من مائة مرة في المسجد، وأصحابه يتذاكرون الشعر وأشياء من أمر الجاهلية، فربما تبسم معهم.
خرجه الإمام أحمد.
وخرجه النسائي، ولفظه: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إذا صلى الفجر جلس في مصلاه حتى تطلع الشمس، فيتحدث أصحابه، ويذكرون حديث الجاهلية، وينشدون الشعر، ويضحكون، ويبتسم رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
وخرجه مسلم، إلا أنه لم يذكر الشعر.
وقد روى ما يخالف هذا وهو النهي عن إنشاد الأشعار في المساجد: فروى عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أنه نهىأن ينشد في المسجد الأشعار - في حديث ذكره.
خرجه الإمام أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه والترمذي، قال: حديث حسن.
وخرج أبو داود نحوه من حديث حكيم بن حزام، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بإسناد فيه نظر وانقطاع.
وروى أبو القاسم البغوي في معجمه من طريق ابن إسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن الحارث بن عبد الرحمن بن هشام، عن أبيه، قال: أتى ابن الحمامة السلمي إلى النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وهو في المسجد؟ فَقَالَ: أني أثنيت عَلَى ربي تعالى ومدحتك.
قَالَ: ( امسك عليك) ) ، ثم قام رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فخرج به من المسجد، فقال: ( ما أثنيت به على ربك فهاته، وأما مدحي فدعه عنك) ) ، فانشد حتى إذا فرغ دعا بلالاً، فأمره أن يعطيه شيئا، ثم اقبل رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - على الناس، فوضع يده على حائط المسجد، فمسح به وجهه وذراعيه، ثم دخل.
وهذا مرسل، وفيه جواز التيمم بتراب جدار المسجد، وهو رد على من كرهه من متأخري الفقهاء، وهو من التنطع والتعمق.
وروى وكيع في كتابه عن مبارك بن فضالة، عن ظبيان بن صبيح الضبي، قال: كان ابن مسعود يكره أن ترفع الأصوات في المساجد، أو تقام فيها الحدود، أو ينشد فيها الأشعار، أو تنشد فيها الضالة.
وروى أسد بن موسى في كتاب الورع: ثنا ضمرة، عن ابن عطاء الخراساني، عن أبيه، قال: كان أهل العلم يكرهون أن ينشد الرجل ثلاثة أبيات من شعر في المسجد حتى يكسر الثالث.
وهذا تفريق بين قليل فيرخص فيه، وهو البيت والبيتان، وبين كثيرة، وهو ثلاثة أبيات فصاعدا.
وقال ابن عبد البر: إنما ينشد الشعر في المسجد غباً من غير مداومة.
قال: وكذلك كان حسان ينشد.
وجمهور العلماء على جواز إنشاد الشعر المباح في المساجد، وحمل بعضهم حديث عمرو بن شعيب على أشعار الجاهلية، وما لا يليق ذكره في المساجد، ولكن الحديث المرسل يرد ذلك.
والصحيح في الجواب: أن أحاديث الرخصة صحيحة كثيرة، فلا تقاوم أحاديث الكراهة في أسانيدها وصحتها.
ونقل حنبل، عن أحمد، قال: مسجد النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خاصة لا ينشد فيه الشعر، ولا يمر فيه بقطع اللحم، يجتنب ذلك كله، كرامة لرسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
69 - باب أصحاب الحراب في المسجد
 

 

 


Edited by Muhammad Afan, 26 August 2015 - 07:44 PM.


#57 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 26 August 2015 - 07:49 PM

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

 


توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#58 Khalil Rana

Khalil Rana

    Madani Member

  • Star Member

  • PipPipPipPipPipPip
  • 921 posts
  • Joined 23-September 06
  • Gender:Male
  • Madhab:Hanafi

Posted 27 August 2015 - 07:39 AM

(bis)

جناب مصطفوی صاحب

ہم نے بحث کو کہیں سے کہیں نہیں پہنچایا، بحث وہیں ہے

آپ کسی بات کا جواب تو دیں ، آپ نے دیوبندیوں والی روش اختیار کی ہے

غالباً آپ کا خیال ہے کہ راجز صحابی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ سماعت فرمالیں گے

بس اُس نے ویسے ہی فریاد کی۔

آپ سے سوال ہے کہ آپ کے پاس کون سی حدیث یا حوالہ ہے جس میں صحابی کا یہ خیال لکھا ہے ؟

امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے اللہ کی قسم کھا کر  فرمایا

واللہ وہ سُن لیں گے،فریاد کو پہنچیں گے

ایسا بھی تو ہو کوئی جو یاد کرے دل سے

آئیے اَب یہی واقعہ ایک اور سند سے پیش ہے، اس کی سند پر کلام کریں، اگر یہ سند ضعیف ہے تو دو روایتیں

مل کر یہ قوی ہوئی یا نہیں ؟اگر ضعیف نہیں تو مان لیں کہ فریاد کی جاسکتی ہے۔

اس روایت میں لبیکم کے الفاظ ہیں یعنی میں حاضر ہوں

Attached Images

  • ftohulbldan 1.jpg
  • ftohulbldan 2.jpg
  • ftohulbldan 3.jpg

توحید اور شرک کے موضوع پر علّامہ سیّد احمدسعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی بہترین کتاب

 

http://www.mediafire...ed o shirak.pdf

 

 

                          

 


#59 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 27 August 2015 - 11:04 AM

احمد لاہوری بھائی

 

چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا  نہیں

 

میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں

 

برادر محمد افان

 

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya

 

آپ نے ماشا،اللہ کافی محنت کی ہے لیکن سعی لا حاصل

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیلؑ سے مدد طلب کرنا نہیں سکھا رہے بلکہ

اللہ سے دعا کر رہے  ہیں کہ

اے اللہ اس کی روح القدس سے مدد فرما



#60 Mustafvi

Mustafvi

    Members

  • Under Observation

  • PipPipPip
  • 204 posts
  • Joined 13-March 12
  • Gender:Male
  • Madhab:Not Telling

Posted 27 August 2015 - 11:52 AM

محترم جناب خلیل رانا صاحب

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

فرشتے والی بات کا موضوع زیر بحث سے کیا تعلق بنتا ہے ؟؟

آپ نے فرشتے کے حوالے سے جو تفصیلات پوچھی ہیں مجھے ان کے بارے معلوم نہیں ہے

 

اور میرا خیال ہے کہ وہ فرشتہ درود شریف سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بمعہ نام پہنچاتا ہے ساری مخلوق کی ساری آوازیں سننے کا علم نہیں

بہرحال وہ روایت پیش کریں گے تو معلوم ہو گا

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آواز پہنج جاتی ہے کب کیسے وغیرہ کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں

 

معاذ اللہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل سے کیوں چڑ ہو گی ؟؟؟؟؟

 

مسئلہ زیر بحث تو دور سے مدد مانگنے کا ہے نہ کہ فضائل کا

آپ اصل موضوع کو چھوڑ کر بحث کو دوسری طرف لے جا رہے ہیں ۔

 

 

 


Edited by Mustafvi, 27 August 2015 - 11:54 AM.






Similar Topics Collapse


Also tagged with one or more of these keywords: Madad, Shirk


 

1 user(s) are reading this topic

0 members, 1 guests, 0 anonymous users