Jump to content
اسلامی محفل
  1. Urdu Forums

    1. 25,180
      posts
    2. 7,152
      posts
    3. 36,751
      posts
    4. 8,039
      posts
    5. 5,485
      posts
    6. 6,116
      posts
    7. 2,211
      posts
  2. English & Arabic Forums

    1. 2,658
      posts
    2. المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ

      منتدى يحتوي على كافة الموضوعات الإسلامية من علوم القرآن والحديث والفقه والسيرة النبوية والتوحيد والعقيدة على منهج أهل السنة والجماعة الحنفيـة البریلویۃ.

      353
      posts
  3. IslamiMehfil Team & Support

    1. 3,766
      posts
  • Who's Online   0 Members, 0 Anonymous, 86 Guests (See full list)

    There are no registered users currently online

  • فورم کے اعداد و شمار

    21,624
    Total Topics
    103,122
    Total Posts
    10,223
    Total Members
    3,511
    Most Online
    usman mughal
    Newest Member
    usman mughal
    Joined 10/12/2020 01:31 AM
  • پوسٹس

    • کیا فتاوی رضویہ میں تاریخ ولادت 8 ربیع الاول لکھی ہے؟
    • آپ صل اللہ علیہ وسلم کی عظمت تمام خلقت سے اعلی ہے (معنوی  اور حسی )اس آیت سے صرف آپ صل اللہ علیہ وسلم کہ اخلاق کی تعریف ہی مقصود نہیں بلکہ آپ صل اللہ علی وسلم کی عظمت تمام تر مخلوقات حسی و معنوی پر اعلی بیان کرنا مقصود ہے  آپ صل اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں احادیث صحیحہ بکثرت سے موجود ہے لیکن ایک طويل حدیث ایسی ہے جس میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی تعریف پر جامع و مدلل اترتی ہے عین اسی آیت کریمہ کے مطابق جس کا ذکر اسی حدیث میں بطورے حجت بیان کیا گیا ہے   ( قُلتُ : يَا أُمَّ المُؤمِنِينَ ! حَدِّثِينِي عَن خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ . قَالَت : يَا بُنَيَّ أَمَا تَقرَأُ القُرآنَ ؟ قَالَ اللَّهُ : ( وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ) خُلُقُ مُحَمَّدٍ القُرآنُ ) أخرجها أبو يعلى (8/275) بإسناد صحيح  ترجمہ میں کہا ائے مؤمنو کی ماں مجھے حضور صل اللہ علیہ وسلم کی اخلاق کے بارے میں بتائے آپ رضی اللہ تعالی عنھا نے کہا ائے میرے بیٹے کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ اللہ تعالی فرماتا ہے اور آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) خلق کی عظمت پر ہے آپ محمد صل اللہ علیہ وسلم سرا پا قرآن پاک ہے۔   آپ صل الله عليه وسلم  لوگوں میں چلتے پہرتے قرآن تھے آپ صل اللہ علیہ وسلم سے نا کوئی خطا نا امکان خطا نا کوئی سہو نا کوئی امکان سہو ممکن ہوا ہو آپ صل اللہ علیہ وسلم سر چشم حق ہیں ،آپ صل اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت اتنی اعلی ہے کہ اس طرح کوئی گمان رکھنا بھی باطل ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو کفر اور یہ کے خارج عن دین کا سبب ہو سکتا پے کہ اپ صل اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ادنی سا شبہ بھی کیا جائے کسی خطا یا امکان خطا کا اور یہ کے گمان کرنا کے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو سہو یا امکان سہو ہوسکتا ہے اگرچہ کفر نا سہی لیکن بے ادبی ضرور سمجھی جائے گی جسے  توبہ و رجوع کرنا لازمی ہے ، قبل اس کے کہ ہم اس بحث اگئے بڑھائے ایک بات کی وضاحت یہاں ہوجانا ضروری سمجھتے ہے وہ یہ کے بعض آیات کی تاویل کرنا ضروری ہے اگر اس کی تاویل نا کی جائے اور اسے اسکی ظاہری معانی میں لیاجائے تو وہ آیت عقیدہ پر کاری ضرب بن جاتی  ہے  مثال طور پر سورة السجدة 14    (فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِیتُمۡ لِقَاۤءَ یَوۡمِكُمۡ هَـٰذَاۤ إِنَّا نَسِینَـٰكُمۡۖ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ) اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں  بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو یہاں لازمی ہے کہ ہم اللہ تعالی کی طرف منسوب لفظ بھلا دینا کی تاویل کرے کیونکہ اگر ایسا نا کیا جائے تو پہر سوال اٹھے گا کہ اللہ اور اس کے مخلوق کے بیچ میں وہ تیسری قوت کیا ہے جو اس بات پر قادرہے کہ وہ اللہ تعالی سے بھی حفظ چھین لے  (استغفر اللہ) اس لئے لازما یہاں بھلادیا کا وہ مفھوم نہیں ہوں گا جس طرح اللہ کی مخلوق کے لئے عامةً لیا جاتا ہے یہاں بھلادیا یا بھلادینا سے مراد جھنمیوں کو دوزخ میں چھوڑ دینا انکی کوئی آہ و بکار یا فریاد نا سنا ہے  اس طر ح  سورة مريم 64 (وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَیۡنَ أَیۡدِینَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَیۡنَ ذَ ٰ⁠لِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیࣰّا) ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے، ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اسی کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار ہرگز بھولنے واﻻ نہیں اس آیت کریمہ میں یہ صراحت ہے کہ اللہ تعالی کی یہ قطعا شان نہیں کہ وہ بھول جائے  بلکہ اللہ تعالی کی قدرت و ملکیت میں ایک شئے  ابدیت و ازلیت میں ہے  لہذا بھول جانے سے  مراد صرف بد بختوں کہ لئے انکو انکے حال پر چھوڑ دینا ہے ،  اس لئے امام بغوی رحمہ اللہ تعالی علیہ نے اپنی تفسیر میں جہاں جہاں" نسئ "کا لفظ آیت کی مفھوم میں آیا ہے اللہ تعالی کی ذات کے لئے وہاں اس لفظ کی تاویل میں لفظ " ترك"استعمال کیا ہے اسی بنا پر ہم سرورکوئنین حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو مد نظر رکھ کر یہ استدلال کرے گے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے لئے سہو و نسیان اس معنوں میں ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم پر کسی شئے کی تکليف کو یعنی ذمہ داری  کو وقتی طور پر اٹھا لینا ہے یا دور کر لینا مراد ہے نا کے ذہن سے محو ہوجانا اس کا مطلب ہے ، اما عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی صحیح بخاری کی حدیث سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بھول گئ تھی کیونکہ اول تو راوی خود کہے رہا ہے  کہ مجھے نہیں خبر کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے زیادتی کی نماز میں یا کمی یعنی راوی خود وھم میں ہے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم نے  قبلہ رخ ہوکر دوسجدے کئے در حقیقت یہ سجدے وھم کے ازالے کہ لئے تھے جس کا مقصد صحابہ کرام کو تعلیم دینا تھا ورنہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے وھم بھی ساقط ہے اما حضور صل اللہ علیہ وسلم کا اس پر یہ فرمانا    إنَّما أنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أنْسَى كما تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وإذَا شَكَّ أحَدُكُمْ في صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عليه، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ. ترجمہ: پر میں تمہاری طرح بشر ہوں بھول سکتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو اگر بھول جاؤں تو مجھے  یاد کرا دیا کرو ور اگر تم میں کسی کو شک ہوں اپنی نماز میں تو درست کرلے یعنی شک دور کر لئے اور اسی پر رہے پہر سلام پہرے پہر دو سجدے کر لئے  اول ذکر اس حدیث میں بات یہ ہے کے یہ حضور صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کی انکساری ہے کے آپ صل اللہ علیہ وسلم اس طرز سے صحابہ کرام سے کلام کیا کرتے تھے  کے " میں تمہاری طرح بشر ہوں "   دوسری طرف غور کرنے کی بات یہ ہے  کہیں پر بھی حدیث میں نماز میں بھول ہوجانے کی بات معلوم نہیں ہوتی دوم اگر نماز میں واقعی کوئی بھول ہوگی تھی تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نقص  یا زیادتی کی صورت میں یقینا یا تو نماز کو دوہراتے یا جو رکعت رہے گی تھی اسکی تکمیل کرتے چونکہ نماز ختم ہوچکی تھی جیسا کے حدیث کی ابتدائی حصے میں ہے  کے آپ صل اللہ علیہ وسلم سے سلام کے پہرنے کے بعد سوال کیا گیا تھا کہ آیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے  ؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے پوچھنے والے سے اپنی حیرت کا اظہار فرمایا کہ وہ کیا ہے نا کے کسی اشکال کا پہر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے انکساری سے بشری تقاضے بیاں کئے آخر میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کا بعد میں سجدہ کرنا صحابہ کرام کو تعلیم دینا مقصود تھا ، حدیث کی ابتدائی کلمات اس طرح سے ہے    صَلَّى النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ - قالَ إبْرَاهِيمُ: لا أدْرِي زَادَ أوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قيلَ له: يا رَسولَ اللَّهِ، أحَدَثَ في الصَّلَاةِ شيءٌ؟ قالَ: وما ذَاكَ، قالوا: صَلَّيْتَ كَذَا وكَذَا، فَثَنَى رِجْلَيْهِ، واسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ، وسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أقْبَلَ عَلَيْنَا بوَجْهِهِ، قالَ: إنَّه لو حَدَثَ في الصَّلَاةِ شيءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ به۔۔۔۔۔۔الخ  ترجمہ :حضور صل اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ابراھیم نے کہا  مجھے نہیں معلوم کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے نمازمیں زیادتی کی یا کمی پہر جب آپ صل اللہ علیہ وسلم نے سلام پہرا ان سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی آپ صل اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اور کیا ہے وہ کہنے لگے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اور اس طرح نماز پڑھی آپ صل اللہ علیہ وسلم دو زانو ہوکے قبلہ رخ ہوگے اور دو سجدے بجا لائے پہر سلام کیا اور جب ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی نئی چیز ہوتی نماز میں تو میں تم لوگوں کو بتا دیتا ۔۔۔الخ ایک اور حدیث  صحیح بخاری اور مسلم کی ہے جسے حضور صل اللہ علیہ وسلم سے نسیان ثانت کرنے کہ لئے پیش کی جاتی ہے    سَمِعَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ في سُورَةٍ باللَّيْلِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لقَدْ أذْكَرَنِي كَذَا وكَذَا، آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِن سُورَةِ كَذَا وكَذَا. ترجمہ: رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص رات کے پہر قرآن شریف کی سورة پڑھتے سنا تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس رحم کرے اس نے مجھے یہ یہ یاد دلائی دی آیت تھی میں بھول ہوا تھا اس سورة میں یہ یہ ۔ جیسا کے پہلے اوپر بیان گزر چکا ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا نسیان در حقیقت آپ صل اللہ علیہ وسلم پر سے وقتی طور پر تکلیف(تکلیف سے مراد آپ صل اللہ علیہ وسلم کا جن جن چیزوں کو بیان کرنے کہ لئے مکلف کیا گیا ہے ) یا ذمہ داری کو دور کرنا مقصود ہوتا  نا کے ذہن سے محو ہوجانا یہاں بھی اسی مقصد کے لئے آپ صل اللہ علیہ وسلم پر وہ تکلیف وقتی طور پر اٹھا لیگی تھی اس حدیث سے یہ قعطا درست استدلال نا ہوں گا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم قرآن میں کسی سورة کی آیت کو بھول گے تھے اللہ تعالی قرآن شریف میں سورة 29 پارے کی سورة  الاعلی آیت 6 میں فرماتے ہے (سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰۤ) ترجمہ: ہم تمہیں (صل اللہ علیہ وسلم ) پڑھائے گے پہر تم کبھی بھی نا بھول پاؤ گے  یہ آیت اتنی صریح ہے کہ اس پر کسی حدیث کو لیکر ایسا استدلال کرنا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پاک میں کسی آیت کو بھول سکتے ہے یہ قطعا جائز نہیں کیونکہ قرآن پاک کی فوقیت مسلمہ ہے اور پہر آیت کی صراحت سے بھولنے کا استدلال مکمل ساقط ہوجاتا پے لہذا یہ دیکھنا ہوں گا کے حدیث میں اس جملے سے اصل مراد کیا ہے  آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِن سُورَةِ كَذَا وكَذَا  اس جملے  کی تشریح کہ لئے ہمیں قرآن شریف میں پائے گے مجمل طور پر موضوعات کا تعین کرنا پڑے گا کہ قرآن پاک کن کن موضوع پر طور منقسم ہے  قرآن پاک میں اول قبل کل شئ اللہ تعالی کی توحید ثم حمد و ثناء کا  بیان ہے  پہر قرآن پاک میں رسالت و نبوت ودیگرالانبیاء و انکی امتوں کا بیان ہے  سوم احکام اللہی وعبادات کے متعلق ارشادات ہے چہارم اہل ایمان کے لئے بشارتیں اور اہل کفر کے لئے عذاب کی نوید ہے  مجمل طور پر قرآن شریف میں یہ چار موضوعات ہے  اور موضوعات کو امکان کی صورت میں لیتے ہوئے ہم یہاں پر بحث کرے گے کہ   کہ وہ کیا امکانی تکلیف تھی جسے وقتی طور پر آپ صل اللہ علیہ وسلم سے دور کرلی گی تھی یا اٹھا لی گی تھی اول ذکر موضوع کے متعلق تو قطعا یہ گمان کرنا بھی جائز نہیں کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے کبھی اللہ تعالی کی شان توحید و حمد و ثناء میں کوئی قصر کی ہو یا ان سے یہ تکلیف یعنی ذمے داری لمحہ بصر کہ لئے بھی دور کی گی ہو یا اٹھالی گی ہو اس لئے اللہ تعالی کی ذات سے متعلق کوئی بھی ارشاد ربانی قرآن پاک میں ہو اسے حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم لمحہ بھر کے لئے بھی نا دور ہو سکتے ہے نا وہ فضیلت اپ صل اللہ علیہ وسلم سے لمحہ بھر کہ لئے بھی اٹھائی جا سکتی ہے ، اس کی دلیل خود قرآن پاک میں اللہ تعالی نے اس طرح پیش کی ہے  سورة الضحى آیت 3 میں ہے  (مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ) ترجمہ:نا کبھی آپ صل اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپکو چھوڑا ہے نا ہی آپ صل اللہ علیہ وسلم سے  کبھی بے اعتناء ہوئے  دوسری بہت اہم دلیل سورة الاحزاب اس آہت مبارکہ 56 میں ہمیں ملتی ہے  (إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰۤىِٕكَتَهُۥ یُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِیِّۚ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَیۡهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسۡلِیمًا) بے شک اللہ تعالی اور اس کے فرشتے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہے آئے آیمان والو حضور صل اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو . قبل اس کے کہ بحث کو آگے بڑھائے ہم درود کی اہمیت کو بھیقی کی اس حدیث سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہے     كم أجعلُ لك من صلاتي ؟ قال : ما شئتَ ، قال : الثُّلُثَ ، قال : ما شئتَ وإن زدتَ فهو أفضلُ ، قال : النِّصفَ ، قال : ما شئتَ وإن زدتَ فهو أفضلُ ، قال : أجعلُ لك صلاتي كلَّها ، قال : إذًا يكفيك اللهُ همَّك ، ويغفرُ لك ذنبَك ترھمہ :آپ صل اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا کے کتنا  آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجوں (دعاء میں )آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا چاہے تو صحابی نے عرض کیا ایک چوتھائی آپ صل اللہ علیہ وسلم نے کہا  جتنا تو چاہے لیکن اگر تو نے زیادہ کیا تو بہتر ہے  صحابی نے کہا آدھا  آپ صل اللہ علیہ وسلم نے کہا جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کیا تو بہتر ہے  صحابی نے کہا میری ساری دعاء ہی آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود ہوگی آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہر اللہ تیرے ھم (یعنی غم ،دکھ، درد، تکلیف،اندیشے ،پریشانی) کہ لئے کافی ہے اور تیرے گناہوں کی بخشش کی جائے گی۔ اس حدیث سے جو بات سامنے آتی کہ ایک امتی کو حضور صل اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے پر اس قدر انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے کہ اس کے تمام دکھ  تکلیف غم و اندیشے و پریشانی اللہ تعالی دور کردیتا ہے اور اس کے تمام گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے اگر یہ حال ایک امتی کا ہے یعنی امتی کو  وہ سیکنہ و مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ بے فکر وبے نیاز ہوجاتا ہے آپنی تمام تر غموں اور پریشانیوں سے  پہر جب اللہ تعالی جو بزرگ و برتر ہے خود درود و سلام حضور پرنور صل اللہ علیہ وسلم پر بھیجتے ہو تو آپ صل اللہ علیہ وسلم کا مقام کیا ہوں گا  اس تصور کا خیال انسان تو کیا جبریل آمین علیہ سلام جو کے فرشتوں کے سردار ہے انکو بھی یہ علم نہیں کہ سدرے منتھاء کے بعد کیا ہے کیونکہ قربت کا جو مقام حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم کو حاصل  ہے وہ دیگر کسی مخلوق کو حاصل نہیں الغرض جب درود شریف کی فضیلت کا یہ عالم ہے کہ امتی پڑھے تو وہ بے فکر و بے نیاز ہوجائے تو جسے اللہ تعالی نے آپنا حبیب بنایا ہوا ہو اس پر اللہ ذوالجلال و الاکرام درود بیھجے تو کیسے ممکن ہو کے اسے لمحہ بصر کے لئے بھی اللہ کی توحید اور اسکی حمد و ثناء  دور کردی گی ہو اس لئے یہ امکان مکمل ساقط ہے کہ اول ذکر آپ صل اللہ علیہ وسلم سے کچھ دیر کہ لئے یہ تکلیف یا ذمہ داری اللہ کی توحید و حمد و ثناء کی  دور کردی گی ہو یا اٹھا لی گی ہو  امکان دوم: آپ صل اللہ علیہ وسلم کمال نبوت پر ہے نبوت کے تمام کمالات آپ صل اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اس لئے آپ خاتم النبیین ہے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کی رسالت آخری رسالت ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کی کتاب آخری کتاب ہے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا کمال نبوت یہ ہے کہ آپ کوئی بھی بات خود سے نہیں کہتے بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہوتی ہے  سورة النجم کی آیت  3 و4 (وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ) (إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ) جس ہستی کا کمال یہ ہو کہ وہ خود سے کچھ نا کہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کچھ بھول جاوئے یا اسے  نبوت و رسالت کے بیان سے کچھ دیر کے لئے دور کیا جاوئے یا اسے بیان کو طور پر اٹھا لیا جائے قطعا نہیں اس پر رتی برابر بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم سے کچھ دیر کہ لئے نبوت و رسالت سے متعلق بیان کو دور یا اٹھا لیا گیا ہو تو یہ امکان بھی ساقط ہے کیونکہ آپ کی تمام باتیں اللہ کی وحی ہوتی ہے  جہاں تک اصحاب الکہف کے سوال پر تاخیر سے جواب دینے کا ہے  در اصل اس میں اللہ تعالی  کی حکمتے  موجزة  یہ تھی کے سائلیں کی جستجو بڑھے کیونکہ سوال کرنے والے یہود کے احبار تھے اور انہوں نے قریشی کے ذریعہ یہ تین سوالات حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ کئے تاکے آپکی نبوت و رسالت کی دلیل ثابت ہو اگر سوال کا جواب فورا دے دیا جاتا تو شاید احبار یہود  جوابات سن کر مطمئن ہوجاتے  لیکن دیگر کفار قریش میں وہ جستجو نا رہتی جو اس سوال کی تاخیر کی وجہ سے ابھر کر سامنے آگئی تھی  اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جس چیز میں انسان کی جستجو بڑھ جائے تو وہ چیز انسان کہ لئے محور بن جاتی ہے احبار یہود نے تین سوالات دے تھے اصحاف الکہف کے متعلق بتایا جائے وہ کون تھے اور وہ کون تھا جس نے مشرق سے  مغرب تک کا سفر کیا  یعنی حضرت ذی القرنین اور روح کیا چیز ہے اللہ تعالی سورة الکہف میں اصحاب الکہف اور ذی القرنین کا قصہ بیان فرما دیا اور سورة بني اسرائيل کی آیت 86 میں روح کے متعلق واضح جواب دے دیا،بعض مفسریں و اہل علم اصحاب الکہف کے تاخیر سے جواب کو اسی  سورة الکہف  کی آیات 23 و 24 سے یہ استدلال پیش کرتے ہے کے ایسا  آپ  صل اللہ علیہ وسلم کا نسیان وسہو سے  ان شاء اللہ نا کہنا کی وجہ سے ہوا اور  آپنی دلیل کی تقویت میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کی حدیث النضر بن الحارث کے حوالے سے پیش کی جاتی ہے جسے خود محدث ابن الحجر العسقلانی رحمة الله عليه اس حدیث پرغریب ہونے کا حکم لگاتے ہے ،قبل اس کے ہم اس توجیہ پر بحث کرے یہاں پر صحیح بخاری کی ایک  حدیث پیش کرے گے جسے  یہ ثابت ہوں گا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے پاس کلمہ " ان شاء اللہ " کی اہمیت کتنی زاد تھی   آلى سُليمانُ بنُ داودَ: لأطوفَنَّ الليلةَ على سبعينَ امرأةً، تَلِدُ كُلُّ امرأةٍ غُلامًا، فطاف عليهنَّ فلم تَلِدْ إلَّا امرأةٌ منهن نِصفَ غُلامٍ. فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: لو قال: إن شاء اللهُ، لكان كما قال ترجمہ:آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلیمان بن داود علیہما سلام نے کہا کہ آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا جسے ہر عورت ایک نر بچہ پیدا کرے گی پہر آپ ان کے پاس گے تو ان میں سے صرف ایک نے آدھے نر بچے کو جنم دیا تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگر وہ(سلیمان بن داود علیہما سلام ) ان شاء اللہ کہے دیتے تو ایسا ہی ہوتا جیسے اس نے کہا تھا ۔اس حدیث سے  یہ معلوم ہوا آپ صل اللہ علیہ وسلم ان شاء اللہ کے کلمہ پرہی عمل کو منحصر رکھتے تھے اور اسکی ترغیب دیتے   اما سورة الكهف کی آیات 23و 24 میں اللہ تعالی نے یوں فرمایا (وَلَا تَقُولَنَّ لِشَا۟یۡءٍ إِنِّی فَاعِلࣱ ذَ ٰ⁠لِكَ غَدًا ۝  إِلَّاۤ أَن یَشَاۤءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِیتَ وَقُلۡ عَسَىٰۤ أَن یَهۡدِیَنِ رَبِّی لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَـٰذَا رَشَدࣰا) ترجمہ: اور آئے حبیب صل اللہ علیہ وسلم آپ ہرگز یہ مت کہے کہ کل میں یہ کروں گا (کیونکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے تمام کام اللہ ہی کے ذمے ہے )- سوا یہ کے جو اللہ چاہے اور آپنے رب کو یاد کیجئے اگر آپ کچھ بھولے ہو (یعنی آپ صل اللہ علیہ وسلم  پر سے وقتی طور پر کوئی چیز پرے کر لی گی ہو)اور کہے مجھے امید پوری ہے آپنے رب  سے کہ وہ مجھے  اس سیدھی راہ پر قریب ہدایت دے گا ۔ اس آیت کی تشریح  ہم یوں کرتے ہے کہ اللہ تعالی فرما رہے کہ آئے حبیب صل اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کو ٹھان لیں تو آپ صل اللہ علیہ وسلم  یوں مت کہے کہ میں کل یہ کروں گا کیونکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے تمام کام اللہ کے ذمے ہے ،سوا اس کے جسے اللہ چاہے کردے یا روک دے اور ہر وقت آپنے رب کا ذکر بجا لائیں اگر کوئی شئے آپ صل اللہ علیہ وسلم سے وقتی طور پر پرے کرلی گئی ہو اور یہ کہتے رہئے مجھے پوری امید ہے آپنے رب سے کہ وہ مجھے اس سیدھی راہ پر قریب ہدایت دے گا، یہاں امکاں دوم  میں سہو و نسیاں  کی بحث ختم ہوتی ہے    اما امکان سوم جس میں احکام اللہی اور عبادات ہے اس پر ہم  اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح بخاری کی حدیث سے پیش کرے گے    أنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ كانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هذا يا رَسولَ اللَّهِ، وقدْ غَفَرَ اللَّهُ لكَ ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وما تَأَخَّرَ؟ قالَ: أفلا أُحِبُّ أنْ أكُونَ عَبْدًا شَكُورًا فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا، فَإِذَا أرَادَ أنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ. ترجمہ:حضور پر نور صل اللہ علیہ وسلم رات کے پہر اٹھ کر عبادت کرتے تھے یہاں کے آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم آپ ایسا کیوں کرتے ہے اللہ تعالی نے آپ صل اللہ علیہ وسلم (کی امت کے ) تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادئے تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تو کیا شکر گزار بندہ نا بنو پہر جب آپ صل اللہ علیہ وسلم کے (پیروں پر ) گوشت زیادہ بڑھ جاتا (سوجن) تو آپ صل اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے پہر جب آپ صل اللہ علیہ وسلم رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے اور پڑھتے پہر رکوع کرتے۔ جہاں معاملہ یہ ہو کہ نوافل پر عبادات اتنی کثرت ہو کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی پنڈلیاں سوچ جائے وہاں یہ گماں بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم فرائض عبادات میں سے کسی سہو و نسیاں امکاں ہوا ہو ،اسی پر ہم اللہ تعالی کی گواہی پیش کرتے ہے جس سورة المزمل آیت 20 میں بیان فرمایا ہے  (۞ إِنَّ رَبَّكَ یَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَیِ ٱلَّیۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَاۤىِٕفَةࣱ مِّنَ ٱلَّذِینَ مَعَكَۚ وَٱللَّهُ یُقَدِّرُ ٱلَّیۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحۡصُوهُ فَتَابَ عَلَیۡكُمۡۖ فَٱقۡرَءُوا۟ مَا تَیَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ عَلِمَ أَن سَیَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ یَضۡرِبُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِ یَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ یُقَـٰتِلُونَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِۖ فَٱقۡرَءُوا۟ مَا تَیَسَّرَ مِنۡهُۚ وَأَقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنࣰاۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَیۡرࣲ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَیۡرࣰا وَأَعۡظَمَ أَجۡرࣰاۚ وَٱسۡتَغۡفِرُوا۟ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمُۢ)   ترجمہ : آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم دو تھائی رات اور ادھی رات  پر آٹھ کر ( عبادت کرتے ہے) اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت  بھی  رات  اور دن کا پورا اندازه اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، وه (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ گن پاؤ گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہٰذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وه جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد بھی کریں گے، سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ﺛواب میں بہت زیاده پاؤ گے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے. اس آیت کی گواہی کے بعد یہ امکان بھی سقاط ہوجاتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم سے کسی عبادات میں کوئی سہو او نسیاں پیش ہوا ہو اور آپ کو صحابی کی قرآن پاک کی  قرآت سے یاد آیا گیا ہو،  آپ صل اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ بشیر و نذیر ہے اس لئے اللہ تعالی نے  اہل ایمان کہ لئے بشارتیں اور اہل کفر کہ لئے نوید  قرآن میں کھل کھل کر بتا دی ہے حضور پاک صل اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے اس لئے ہم اس امکاں کو بھی رد کرتے ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کو  مؤمنين  کو بشارت دینے یا  کافرین  کو نوید سنانے سے وقتی طور پر دور کردیا ہو  اوپر بیاں کی گی اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی صحیح بخاری کی حدیث کو ہم سورة الانعام کی آیت 33  (قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَیَحۡزُنُكَ ٱلَّذِی یَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا یُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ ٱلظَّـٰلِمِینَ بِـَٔایَـٰتِ ٱللَّهِ یَجۡحَدُونَ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کی باتیں رنجیدہ کرتی ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے   اور سورة الشورى کی آیت 24   (أَمۡ یَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبࣰاۖ فَإِن یَشَإِ ٱللَّهُ یَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَیَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَـٰطِلَ وَیُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦۤۚ إِنَّهُۥ عَلِیمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ) کیا یہ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگادے (صبر و اطاعت کی ) اور اللہ تعالیٰ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے اور سچ کو ﺛابت رکھتا ہے۔ وه سینے کی باتوں کو جاننے واﻻ ہے توجیہ؛ہم نے  فَإِن یَشَإِ ٱللَّهُ یَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَ پر امام مجاہد بن جبر کے قول کو زیادہ مستحب سمجھا اس لئے یہاں پر مہر سے مراد صبر و اطاعت لیا   مد نظر رکھ کر یہ استنباط کرے گے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی نے حزن (رنج ) کو اٹھا لیا تھا  اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے قلب پر اللہ نے آپنی مہر لگا دی (صبر و اطاعت کی ) واللہ اعلم 
    • ghulam Muhammad tum   koe 10  bari  bidat   lekh  dou jo dunyan   pak o hind    main hyn.    tumhary    naazdeek
    • Download http://www.mediafire.com/file/6zutrwhp4mzo04z/بدعات+وہابیہ+کا+علمی+محاسبہ.pdf/file 📝وہابیوں کی بدعات📝  ذکر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس و محافل کو بدعت کہنے والے وہابی دیوبندیوں ، وہابی اہلحدیثوں اور وہابی نجدی سعودیوں کو چاہے کہ اپنے اصول و ضوابط  کے مطابق اپنی بدعات کی خبر لیں جو کہ اس کتاب " بدعات وہابیہ کا علمی و تحقیقی محاسبہ" میں تفصیل درج ہیں۔ وہابیوں  دیوبندیوں اہلحدیثوں نجدیوں سعودیوں کی متعدد بدعات جن کا ثبوت انہی کے اپنے اصول کے مطابق نہ ہی قرآن پاک میں موجود ہے ، نہ ہی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، نہ ہی صحابہ کرام علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت ہے ، نہ ہی تابعین و تابع تابعین علہیم الرضوان اجمعین سے ثابت ہے۔۔ وہابی اپنے اصولوں سے خود بدعتی و جہنمی ٹھہرتے ہیں۔۔ یہ کتاب نہ صرف ہر سنی کو لازمی پڑھنی چاہے بلکہ وہابیوں کو بھی چاہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور اگر ہمت ہے ، انصاف کی رتی موجود ہے تو اپنے اکابرین و علماء وہابیہ کو بدعتی و جہنمی قرار دیں۔۔ نیز ذکر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی محافل و مجالس کا ثبوت مانگنے کی بجائے اپنے وہابیوں کی ان بدعات کو ثبوت اپنے اصولوں کے مطابق پیش کریں۔۔ لیکن ان شاء اللہ عزوجل کبھی بھی وہابی اپنی ان بدعات کا ثبوت اپنے اصولوں کے مطابق پیش نہیں کر سکتے۔۔ لہذا وہابی اپنے اصولوں سے خود بدعتی و جہمنی ہیں۔۔
    • Aik aur baat, muj say jitni bi tumari baat huwi aur jis mozoo par bi huwi tum sab par hi la-jawab huway aur aakhir mein aik hi shor sunahi deeya ... Urdu mein likho roman Urdu mein nahin. Mein sirf Urdu mein likhi huwi ka jawab doon ga.  Dosray tum ko ziyada moonh nahin lagatay keun kay un ko masroofiat, rozi roti, mehnat mazdoori, gar bar chalana, kheti-bari karna, Pakistan mein bijli ki problems, pesoon ki problems, is waja say woh chand pattay ki batenh likh kar chup ho jatay hen. Mein England mein betha hoon Allah kay karam say pesoon ko kami nahin. 2 din kaam karta hoon,  5 din khao piyo moj maro aur tumaray jaisay pagloon ki besati aur hidyat wasteh masroof raho. Yeh heh asal waja baqi keun chup kar jatay hen aur mein tumari shalwar ki jandi bana kar lehranay wasteh bi aa jata hoon. Wesay agar mujjay pata lag gaya kay tum kahan rehtay ho mein tumaray muhallay kay larkoon ki gawahi youtube kay channel par laga kar dam loon ga kay tumaray saath bachpan mein larkoon nay foul khela huwa heh. Us din say daro jis din mujjay pata chal gaya. Tumaray abbah, ammi, aur tumaray shanakhti card kay saath youtube par video gawahoon ki video upload karoon ga. Readers is baat ko note keren mein is ko bichlay doh teen saloon say sexual abuse ka victim teh-raha hoon aur is nay aik dafa bi is ka inqaar nahin keeya. Fiqha ki kitaboon mein heh kay Nikkah mein larki ki khamoshi qubuliat ka darja rakhti heh. Aur sexual abuse mein bi is khamoshi ko ilzaam ko qubul karna hee samajyeh.
  • Recent Topics

  • Popular Contributors

    Nobody has received reputation this week.

×
×
  • Create New...