Jump to content
اسلامی محفل

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Today
  2. Yesterday
  3. مطیع الحق کے فتوی سے عنایت اللہ کافر دیوبندی وہابی مولوی مطیع الحق امام اہل سنت احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ کی منقبت میں لکھے گئے اشعار پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے "جناب احمدرضا خاں کو ساقی کوثر کہا یہ خاص خطاب ہے اور اسم صفاتی ہے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرے کے لئے یہ لفظ استعمال کرنا حرام و کفر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے یہ لفظ استعمال کرنا سخت بے ادبی ہے ۔ تحفہ بریلویت صفحہ 100 مولوی مطیع الحق دیوبندی کے نذدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کوساقی کوثر کہنا، حرام، کفر، اور سخت بے ادبی ہے مولوی مطیع الحق کے اس فتوی سے کون گستاخ رسول کافر حرام فعل کا مرتکب ہورہا ہے ملاحظہ کریں ۔ مولوی عنایت علی شاہ خلیفہ مولوی اشرفعلی تھانوی لکھتا ہے "تین دن سے ساقی کوثر ہے پیاسا بیقرار جو کہ ہے میرے پیغمبر کا نواسا ذی وقار" باغ جنت صفحہ 409 مولوی عنایت علی شاہ دیوبندی خلیفہ اشرفعلی تھانوی حضرت امام حسین کو ساقی کوثر کہہ رہا جبکہ مطیع الحق دیوبندی کہتا ہے کہ ساقی کوثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص صفت ہے اور حضور علیہ السلام کے علاوہ کسی کو ساقی کوثر کہنے والا کافر ہوجاتا ہے مولوی مطیع الحق دیوبندی کے فتوی سے اشرفعلی تھانوی کا خلیفہ عنایت علی شاہ کافر ثابت ہوگیا اور تھانوی عنایت علی شاہ کو اپنا خلیفہ بنا کر کافر ہوا
  4. Last week
  5. Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri اس وقت پوری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں ہیں ہے خاص کر مسلمان زبوں حالی کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے خالق کائنات رازق ارض وسما وات عزوجل کے پسندیدہ دین سے اپنا تعلق منقطع کرلیا ہے اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ اصول و قواعد سے منہ موڑ کر دشمنان اسلام کے بنائے ہوئے قانون کو گلے لگا لیا ہے تو جب ایسے کرتوت ہونگے تو نتیجہ یہی آنا ہے حالانکہ اسلام ایک مکمل دین ہے اسلام نے زندگی گزارنے کے ہر شعبہ کو بیان فرمایا ہے کسی بھی گوشہ کو خالی نہیں چھوڑا جہاں عبادات کے طریقے بتلائے وہاں معاملات پر بھی روشنی ڈالی تاکہ اسلام کے ماننے والوں کے لئے کسی شعبہ میں تشنہ باقی نہ رہے مگر ہم نے تجارت و معاشیات میں یہود و نصاری کے بیان کردہ اصولوں کو اپنا زیور بنا لیا ہے آج مسلمان خرید و فروخت کے معاملہ میں سود ر،شوت ،دھوکہ دہی اور نہ جانے کتنے ہی خرافات میں مبتلاء ہے آج نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایماندار اور شریف انسان کو اپنا حق حاصل کرنے کے لئے بھی رشوت دینا لازمی ہوگیا ہے اور یہ سب بدعنوانیا ں ، جرائم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے روگردانی کا نتیجہ ہے آج مسلاان کاروبار میں برکت کے وظائف کرتا نظرآتا ہے مگر وہی مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تعلیمات کو نظر انداز کرتا دیکھائی دیتا ہے تو پھر صرف ان وظائف سے برکت کس طرح ممکن ہے آج کئی مسلمانB.B.A M.B.A M.P.A کی ڈگریاں لیے موجود ہیں مگر انہیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کے کیا آداب بیان فرمائے ہیں بیع باطل و فاسد کس بلاء کا نام ہے پھر بھی یہ لوگ اسلامی معاشرے میں پڑھے لکھے اور معزز سمجھے جاتے ہیں سرمایہ دار لوگ ان کے مشوروں سے مستفید ہوتے ہیں تو پھر برکت کہاں سے آئے گی محترم دوستو شریعت نے جس طرح عبادات کے آداب جائز وناجائز صورتیں بیان فرمائی ہیں اسی طرح تحصیل مال (تجارت)کے آداب اور جائز وناجائز صورتوں کو بھی بیان فرمایا ہے لہذا ہر پیشہ ور کو اپنے پیشے کے متعلق شرعی احکام کا علم ہونا چاہیے تاکہ اس کی کمائی میں حرام کی آمیزش نہ ہو اور یہ اسی وقت ممکن جب بندے کو جائز وناجائز کا علم ہو۔ کیونکہ مال حرام یہ برکت ختم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے اور مال حرام سے دیا گیا نہ کوئی صدقہ قبول اور نہ کوئی حج مبرور بلکہ سارا کا سارا ہی مردود ہے کسب حرام پر وعیدیں وکسب حلال کے فضائل عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺأَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللَّہَ طَیِّبٌ لاَ یَقْبَلُ إِلاَّ طَیِّبًا وَإِنَّ اللَّہ أَمَرَ الْمُؤْمِنِینَبِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِینَ فَقَالَ(یَا أَیُّہَاالرُّسُلُ کُلُوامِنَِالطَّیِّبَات وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ)َوَقَالَ (یَا أَیُّہَا الَّذِین آمَنُواکُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ)ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَا رَبِّ یَا رَب وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایااے لوگوں بیشک اﷲ پاک ہے اور پاک ہی کو دوست رکھتا ہے اور اﷲ تعالی نے مومنین کو بھی اسی کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا ۔ اس نے رسولو ں سے فرمایااے رسولوں !پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو بیشک میں جاننے والا ہوں جو تم کرتے ہو۔اور مومنین سے فرمایا اے ایمان والوں! کھاؤہماری دی ہوئی ستھری چیزیں۔پھر بیان فرمایا کہ ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جو دعا کرے قبول ہو)وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر’’یارب یارب ‘‘کہتا ہے (دعا کرتا ہے)حالت یہ ہے کہ اس کھا ناحرام پینا حرام ،لباس حرام اور غذا حرام پھر اسکی دعا کیونکر قبول ہوگی(یعنی اگر دعا کے قبولیت چاہتے ہو تو حلال کھاؤ) (الصحیح المسلم حدیث نمبر۲۳۹۳ دار الفکر بیروت) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لاَ یُبَالِی الْمَرْءُ بِمَاأَخَذَ الْمَالَ ، أَمِنْ حَلاَلٍ أَمْ مِنْ حَرَام حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئیگا کہ آدمی پرواہ بھی نہ کرئیگا کہ اس نے مال کہاں سے حاصل کیا ہے حلال سے یا حرام سے (الصحیح البخاری حدیث نمبر۲۰۸۳) قَالَ رَسُولُ اللَّہﷺ أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّہَ وَأَجْمِلُوا فِی الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّی تَسْتَوْفِیَ رِزْقَہَا وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْہَا فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَجْمِلُوا فِی الطَّلَبِ خُذُوامَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ اے لوگوں اﷲ سے ڈرو اور رزق تلاش کرنے میں اعتدال اختیار کروبیشک کسی جان کواس وقت تک موت نہیں آئیگی جب تک کہ ااس کا رزق اس کو پورا نہ مل جائے اگرچہ کہ تاخیر سے ملے پس تم اﷲ سے ڈرو اوررزق تلاش کرنے میں اعتدال سے کام لو اور جو حلال ہو اسے لے لو اور حرام کو چھوڑ دو (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۲۲۷) طَلَبُ کَسْبِ الْحَلاَلِ فَرِیضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیضَۃِ حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر۱۲۰۳۰ دار الفکر بیروت) مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَی نَفْسِہِ وَأَہْلِہِ وَوَلَدِہِ وَخَادِمِہِ فَہُوَ صَدَقَۃٌ آدمی کا سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جسے وہ اپنے ہاتھوں سے کماکر حاصل کرئے اور آدمی کا اپنی جان پر ،اپنے گھروالوں پراپنی اولاد پر اوراپنے خادم پر مال خرچ کرنا صدقہ ہے (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۱۳۸دار الفکر بیروت) وروی عن أنس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ التاجر الصدوق تحت ظل العرش یوم القیامۃ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن امانت دار،صداقت شعارتاجر عرش کے سائے تلے ہونگے۔ [الترغیب والترہیب جلد ۲ صفحہ۳۶۵ مکتبہ محمودیہ] قال رسول اللہ ﷺالتاجر الأمین الصدوق المسلم مع الشہداء یوم القیامۃ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ امانت دارسچامسلمان تاجر کل بروز قیامت شہداء کے ساتھ ہونگے ۔ [الترغیب والترہیب جلد ۲ صفحہ۳۶۵ مکتبہ محمودیہ] سبحان اللہ رب العالمین جلالہ نے ہمارے لئے کتنی آسانی فرمادی کہ اپنے اہل و عیال کے لئے مال خرچ کریں تو وہ بھی صدقہ یعنی نیکی ہے اور امانت داری کے ساتھ تجارت کریں تو کل بروز قیامت جس مقام پر شہداء ہونگے سچے امین تاجر بھی وہیں ہونگے ۔ قارئین کرام آج کے اس کالم میں ایسا وظیفہ بتا جائے گا جو کہ مستند ہو گا اور احادیث کی رو سے ہوگا تا کہ بے جا اعتراض کی نوبت ہی نہ آئے اور یہ بات یا د رہے کہ یہ عام وظائف نہيں ہیں کہ یہ کسی عامل نے یا کسی بابا نے دیے ہوں اور ان میں کسی کمی کا کوتاہی کا پہلو باقی رہے بلکہ یہ وہ وظائف ہیں کہ جو رب تعالی نے اپنے حبیب علیہ الصلوۃ و السلام کی زبان مبارک سے ہمیں عطا فرمائے ہیں اور ہمیں کاروبار و تجارت میں برکت پیدا کرنے کا طریقہ سکھلادیا ہے اب ہر کسی کی اپنی مرضی ہے کہ وہ چاہے تو ایک عام انسان یا عامل کی بات پر عمل کرے اور برکت کا خواہاں ہو یا رب تعالی کے بتائے طریق پر چل کر برکت حاصل کرے کاروبار میں برکت کا طریقہ اورآداب تجارت (۱) خریدو فروخت میں سچائی سے کام لے (۲)اگر چیز میں کوئی عیب (خرابی) ہو تو وہ بھی بیان کردے (۳) حسن اخلاق کو اپنائے خاص کرنرمی کو لازم جانے (۴)قسم کھانے سے پرہیز کرئے اگرچہ سچا ہو (۵)منافع کی شرح کا حد سے زیادہ نہ ہونا (۶) صدقات کی کثرت کرئے (۷) دوران خریدوفروخت بھی حقوق اﷲ کاخاص خیال رکھے (۸)قرض دے یا لے تو اس کو لکھ لے اور اس پر گواہ بھی بنالے (۱) خریدو فروخت میں سچائی سے کام لے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک تجار قیامت کے دن فجار(بدکار) اٹھائے جائیں گے مگر وہ تاجر جو اﷲ سے ڈرے اور( لوگوں پر )احسان کرئے اور سچ بولے (یہ نیک لوگوں میں شامل ہونگے) (سنن الترمذی حدیث نمبر۱۲۱۰دار الفکر بیروت) نبی کریم ﷺ نے خریدو فروخت میں جھوٹ بولنے سے سختی سے منع فرمایا ہے چنانچہ حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیںکہ رسول اکرم ﷺ ہم تجار حضرات کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے گروہ تجار تم خاص کر جھوٹ سے بچو ۔ [الترغیب والترہیب جلد ۲ صفحہ۳۶۹ مکتبہ محمودیہ] عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ کوفرماتے سناکہ بے شک تاجر فجار(بدکار) ہیں لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ کیا اﷲ نے خرید و فروخت کو جائز نہیں فرمایا ؟ فرمایا ہاں کیوں نہیں لیکن تاجر قسمیں کھاتے ہیں پس گناہگار ہوجاتے ہیں اور بات بڑھا چڑھا ک ر بیان کرتے ہیں تو جھوٹ بول جاتے ہیں۔ [الترغیب والترہیب جلد ۲ صفحہ۳۶۶ مکتبہ محمودیہ] حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمام کمائیوں میں سب سے پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جب وہ بات کریں توجھوٹ نہ بولے جب ان کے پاس مانت رکھوئی جائے تو وہ خیانت نہ کریں اور جب وعدہ کریں تو اس کے خلاف نہ کریں اور جب کوئی چیز خریدیں تو اس کی مذمت نہ کریں (عیب نہ نکالیں)اور جب کوئی چیزفروخت کریں توانکی تعریف میں مبالغہ آرائی نہ کریں اور ان پر کسی کا آتا ہو تو دیر نہ کریں اور جب ان کا کسی پر آتا ہو تو سختی نہ کریں (الآداب للبیہقی حدیث نمبر۷۸۷ا) اب ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم کاروبار میں چیز بیچتے وقت اور خریدتے وقت سچ بولتے ہیں یا اپنی چیزوں کی بے جا مبالغہ آرائیوں کے ساتھ تعریفات کے پل باندھتے ہیں اور دوسرے دوکاندار کی چیزوں کے بلا وجہ عیب بیان کرتے ہیں تو ہما را مشاہدہ ہے کہ اکثر دوکاندار ان برائیوں میں مبتلاء ہیں اب رزق میں برکت کے اس پہلے اصول کو یاد رکھیں کہ جب اپنی کسی چیز کو فروخت کریں توسچ کو لازم جانیں اور اس چیزکی صحیح تعریف کریں بے جا تعریفات اور مبالغہ آرائیوں سے اجتناب کریں اور جب کسی چیز کو خرید نے کا ارادہ ہو تو بلا وجہ عیب نہ نکالیں اور نہ جھوٹ بولیں کہ فلا ں دوکاندار تو یہ مجھے اتنی کی دے رہا تھا یہ توہلکا مال ہے وغیرہ جملے بول کر دوکاندار کا دل نہ توڑیں بلکہ جو آُ کی گنجائش ہے اور چیز سمجھ میں آتی ہے تو لے لیں خوامخواہ عیب نہ نکا لیں (۲)اگر چیز میں کوئی عیب (خرابی) ہو تو وہ بھی بیان کردے نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ سب سے پاکیزہ کمائی کونسی ہے فرمایا کہ بندے کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور دھوکے سے پاک خرید وفروخت کرنا السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر۱۰۷۰۱) وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَع رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ نے کو فرماتے سناکہ جس نے عیب والی چیز کو فروخت کیا اور عیب کو ظاہر نہ کیا وہ ہمیشہ اﷲ تعالی کی ِ ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۳۳۲) عقبہ بن عامررضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سناکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جب مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی چیز بیچے جس میں عیب ہو تو جب تک بیان نہ کرئے اسے بیچنا حلال نہیں ۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۳۳۱ا) حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک غلہ کی ڈھیری کے پاس سے گزرے اس میں ہاتھ ڈال دیا حضور ﷺ کوانگلیوں میں تری محسوس ہوئی ارشاد ِ فرمایا اے غلہ والے یہ کیا ہے اس نے عرض کی یا رسول اﷲ ﷺ اس پر بارش کا پانی پڑ گیا تھا ارشاد فرمایا کہ تو نے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہیں کردیا کہ لوگ دیکھتے جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں (الصحیح المسلم حدیث نمبر۲۹۵) ملاوٹ کرنے والوں اور خراب مال بیچنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جس سے رب العالمین ناراض ہو فرشتے اس پر لعنت کرنے والے ہوں نبی علیہ السلام اس سے دوری اختیار فرما رہے ہوں تو کس طرح اس کے کاروبار میں برکت ہوگی اور کس طرح وہ مصائب و آلام سے بچا ہوا ہوگا اللہ تعالی عقل سلیم عطا فرمائے لہذا اول تو کسی بھی طرح کی ملاوٹ نہ کریں اور اگر بالفرض مال خراب ہے یا کسی اور نے ملاوٹ والا مال آپ کو دیا ہے تو آپ حدیث پر عمل کرتے ہوئے خریدار کو وہ بتا دیں ویسے بھی عموما لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ کس مال میں کیا ملاوٹ ہے اور کیا خرابی ہے کہ لوگوں سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے مثلا دودھ میں پانی ،لال مرچ میں کلر ،چینی میں چاول کے ٹکڑے،گوشت میں پانی کاپریشر،دال میں کنکر وغیرہ لہذا جب لوگوں کے علم میں یہ بات ہے کہ دوکاندارزیادہ تر جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں تاکہ ان کا مال بکے تو حدیث پر عمل کریں اور بتا دیں اس سے انشاء اﷲ آپ کے کاروبار میں برکت ہوگی نیزوہ آپ کی سچائی کو دیکھ کر ہمیشہ آپ سے ہی چیز خریدے گا (۳) حسن اخلاق کو اپنائے خاص کرنرمی کو لازم جانے دوکاندار اور خریدار دونوں کو ہی بوقت خریداری حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے بلکہ اسلام نے تو ہمہ وقت ہی ہر ایک سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنے کا درس دیا ہے اگر گاہک کی کوئی بات برئی بھی لگے تو بجائے غصہ کرنے کے اس سے درگزر فرمائیں انشاء اﷲ اس عمل سے کاروبار میں برکت پیدا ہوگی کہ اﷲ تعالی غصہ پینے والے اور درگزر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں سورہ العمران آیت۱۳۴ (۴)قسم کھانے پرہیز کرئے اگرچہ سچا ہو کسی شئے کو فروخت کرنے کے لئے یا خرید نے کے لئے سچی قسم بھی کھانے سے منع فرمایا ہے کہ اس سے کاروبار میں سے برکت اٹھ جاتی ہے بلکہ بوقت خرید و فروخت آواز کے ساتھ ذکر واذکار کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتےسناکہ قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت ختم ہوجاتی ہے سنن ابی داؤدحدیث نمبر۳۳۳۷) (۵)منافع کی شرح کا حد سے زیادہ نہ ہونا بیچنے والے کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی چیز کو کتنی ہی قیمت پر فروخت کرئے لیکن اگر وہ کم منافع پر کسی چیز کو فروخت کرئے توایسے شخص کے لئے شریعت مطھرہ نے جنت کی خوشخبری دی ہے جوخریدار پر کسی شئے کی خرید پر آسانی کرئے کہ نیز جو آج دنیا میں مسلمانوں پر کسی بھی طرح آسانی کرئے گا تو اﷲ تبارک وتعالی اس کے لئے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آسانیاں پیدا فرمائے گا حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالی اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا جو خریدو فروخت میں آسانی پیدا کرئے گا (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۲۰۲) حضرت جابر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالی نرمی کرنے والے بندے پر رحم فرماتا ہے کہ جب وہ کوئی چیز بیچے تو نرمی کرئے اور جب خریدےتو نرمی کرئے اور جب فیصلہ کرئے تو نرمی کرئے۔ (الصحیح البخاری حدیث نمبر۲۰۷۶) سبحان اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنت میں جانے کا طریقہ بیان فرمادیا ساتھ ہی ساتھ ئی بھی بتا دیا کہ اگر یہ چاہتے ہو کہ تمہارے لئے دنیا و آخرت میں آسانیاں ہو یعنی مشکلات نہ ہو تنگی رزق یا کسی بھی قسم کی کوئی مصبیت تم کو نہ پہنچے تو تم بھی اللہ کی مخلوق پر آسانیاں کرو تمہارے ساتھ بھی آسانی کی جائے گی (۶) صدقات کی کثرت کرئے تجارحضرات کو چاہیے کہ کاروبار میں خیر وبرکت پانے کے لئے وہ بیوہ ،یتیم بچوں،مسجد ومدرسہ وغیرہ کی صدقہ و خیرات کی صورت میں مدد کرتے رہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے تجارت کرنے والوں کو صدقہ کثرت سے ادا کرنے کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے اے گروہ تجار بیشک خریدوفروخت میں لغو بات (جھوٹی اور فضول بات) اور قسم ہوجاتی ہے پس تم اس کے ساتھ صدقہ ملا لیا کرو (سنن ابی داؤد حدیث نمبر۳۳۲۸) حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسکینوں اور بیواؤں پر خرچ کرنے والا اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثل ہے اورپوری رات قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی مثل ہے َ(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۱۴۰) حضرت انس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ رب عزوجل کے غضب کو بجھاتاہے اور بری موت کو دفعہ کرتاہے رواہ ترمذی [۱۸۱۴،مرآۃ المناجیح ، ج: ۳، ص: ۱۱۴] (۷) دوران خریدوفروخت بھی حقوق اﷲ کاخاص خیال رکھے جب نماز کا وقت ہوجائے تو سب کام چھوڑ کر اپنے پروردگار عزوجل کی عبادت کرنے مسجد جائے اور آرام واطمینان سے نماز ادا کرئے یہ توکل(یقین) رکھتے ہوئے کہ میں جس کی عبادت کررہا ہوں وہی رزاق ہے(سب کو رزق دینے والا ہے) وہ مجھے بہتر اور کشادہ ور برکت والا رزق عطا فرمائے گا۔ نیز جب صاحب زکوۃ (جو حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم کا مالک ہو) پر ایک پورا سال ہوجائے تو وہ فورا سے اپنی زکوۃ کو خود مستحقین تک پہنچائے۔ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّہْوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ۱ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ کا رزق سب سے اچھا [سورہ جمعہ آیت۹] (۸)قرض دے یا لے تو اس کو لکھ لے اور اس پر گواہ بھی بنالے یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہ اے ایمان والوں جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو (سورہ بقرہ آیت۲۸۲) اور قرض لیتے یا دیتے وقت گواہ بھی بنا لینے چاہیے اور اس کو لکھ بھی لینا چاہیے تاکہ کوئی بھول نہ جائے نیز اگر طویل عرصہ کے لئے ادھار دیا جارہا ہو جیسے کہ دوکان کرائے پر لی جاتی ہے تو ایڈوانس کے نام پر ادھار دیا جاتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ کسی مستحکم کرنسی (مثلا پاؤنڈ ،ڈالر وغیرہ) میں دیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بیس سال بعد بھی آپ اپنی رقم واپس لیں گے تو اس سے ویلیو (قوت خرید) زیادہ کم نہیں ہوگی اور اگر روپے میں آپ ادھار دیں گے تو آج آپ پچاس ہزار دیں گے تو اس کی مارکیٹ ویلیو(قوت خرید) کچھ اور ہوگی اور بیس سال بعد اس پچاس ہزار کی مارکیٹ ویلیو(قوت خرید) کچھ اور ہوگی یعنی بہت زیادہ تفاوت ہوگا جبکہ اگر ڈالر میں یہ رقم دی گئی ہو تو زیادہ فرق نہیں آئے گا۔اورقرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سبب اجرِ عظیم ہے وَ اِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بہترہے اگر جانو (سورہ بقرہ آیت۲۸۰) حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جو تنگدست پر آسانی کرئے گا اﷲ تعالی اس کے لئے دنیا وآخرت دونوں میں آسانی کرئے گا (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر۲۴۱۷) حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جو یہ ٍ چاہتاہے کہ اس کی دعائیں مقبول ہوں اور اس کی تکالیف دور ہوں پس اسے چاہیے کہ وہ تنگدست کے لئے آسانی کرئے (مسند احمد حدیث نمبر۴۸۵۲) (۱)۱ا مختصر سوالات وجوابات (۲)خیر وبرکت کے وظائف سوال نمبر ۱ :کسی چیز کونقد کم قیمت پر اور ادھار زیادہ قیمت پر بیچنا کیسا ہے الجواب :نقد اور ادھار قیمتوں میں میں فرق کو فقہاء کرام نے درست بیان فرمایا ہے یعنی بیچنے والے کو اختیا ر ہے کہ وہ نقد چیز کم پیسوں میں ادھار زیادہ ہ پیسوں میں فروخت کرئے لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ خریدار کے جدا ہونے سے پہلے بیچنے والا ایک رقم مقرر کردے اور یہ شرط نہ لگائے کہ اگر تم نے پیسوں میں تاخیر کی تو تم پر کچھ جرمانہ لگایا جائے گا نیز ادھار بیچنے میں سود کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص دو ماہ کے ادھار پر کوئی چیز ۲۰۰ کی خریدے اور پھر دو ماہ گزر جانے کے بعد وہ یہ کہے کہ تم مجھ سے ۲۰۰ کے بجائے ۴۰۰ لے لینا مگر اب میں تمہیں اب مزید دو ماہ بعد قیمت ادا کروں گا سوال نمبر ۲: ڈاکٹر حضرات کو جو دوائیں اس طور پر دی جاتیں ہیں کہ وہ بغیر معاوضہ لئے مریضوں کو لگائے یا دے انہیں بیچنا کیسا ہے الجواب ناجائز ہے کہ مذکورہ کپنی نے ڈاکٹر کو بغیر معاضہ کے دوا دینے کا وکیل بنایا ہے لہذا ڈاکٹراسے بیچ کر اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتا سوال نمبر ۳:سنار کو دو تولہ کی ۶چوڑیا ں دیں اوراس کے بدلے میں دو تولے کے ہی دوکڑے لئے اور کچھ پیسے بھی دیئے تو کیا یہ جائز ہے الجواب یہ ناجائز و سود ہے سونے کو سونے سے یا چاندی کی چاندی سے خرید وفروخت ہو توبرابر برا بر اور نقد ہونی چاہیے کہ کمی بیشی اور ادھار دونوں ناجائز ہے . یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبآوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً۱ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اُس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے اور اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (سورۃ العمران آیت ۱۳۰) قاعدہ: جب دونوں اشیاء ایک جنس ہو(سونے کی سونے ، چاندی کی چاندی اورگندم کی گندم سے خریدو فروخت ہو یعنی دونوں ایک ہی طرح کی چیز ہو) اور قدر بھی ایک ہو(یعنی وہ دونوں اشیاء یا توماپ سے یا وزن سے بکنے والی ہو) تو ادھار بیچنا اور کمی بیشی کے ساتھ بیچنا دونوں ہی ناجائز ہے اور اگر جنس ایک ہو مگر قدر ایک نہ ہو مثلا عدد کے سا تھ بکنے والی اشیاء جیسے انڈے کو انڈے سے فروخت کرنا تو کمی بیشی جائز ہے مگر ادھار ناجائز ہے یعنی دس انڈوں کو پندرہ انڈوں سے ہاتھوں ہاتھ خریدنا جائز اور ادھار ناجائز ہے اور اگر جنس اور قدر دونوں مختلف ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں جیسے کہ گندم کو سونے سے خریدنا یا ڈالر کو روپیہ سے خریدنا تو جنس بھی مختلف ہیں اور قدر(ماپ یا وزن) بھی مختلف یا سرے سے قدر ہے ہی نہیں(یعنی نہ ماپ سے اور نہ ہی وزن سے بکنے والی ہو) لہذا اس اصول کو یاد رکھا جائے سوال نمبر ۴ :نوٹ کی نوٹ کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدو فروخت جائز ہے الجواب جائز ہے مگر ادھار ناجائز ہے کہ جنس ایک ہے اور اگر جنس مختلف ہو ں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں مثلا ڈالر کو روپوں سے ادھار خریدنا جائز ہے سوال نمبر ۵: جانور مر گیا اس کی چمڑی بیچنا جائز ہے یا نہیں الجواب اگر اس کی چمڑی کی دباغت کردی پھر بیچا تو جائز ہے ا ور اگر کھال بھی نہیں اتاری یا کھال اتار تو لی ہے مگر اس کی دباغت نہیں کی تو یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں دباغت یہ ہے کہ چمڑے کو سکھا لیا جائے خواہ دھوپ میںیا نمک لگا کر سکھا لیا جائے یا کسی بھی طریقے سے چمڑے کو سکھا لیا جائے اور اس کی تمام رطوبت ختم ہو جائے اور بدبو بھی جاتی رہے سوال نمبر ۶: بیع (خرید وفروخت)نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ ضبط کرنا کیسا ہے الجواب بیعانہ ضبط کر لینا حرام وناجائز کام ہے یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ 29. اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو(سورہ النساء آیت ۲۹) سوال نمبر ۷: کھڑی فصل اس شرط پر خریدنا کہ جب تک فصل تیار نہ ہوجائے کاٹی نہیں جائے گی الجواب بیع فاسدہے کہ بیع (خریدوفروخت) میں ہر وہ شرط کہ عقد جس کا تقاضہ نہ کرئے( ایسی شرط کہ بیچنے والے یا خریدنے والے میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو) وہ شرط فاسد ہے نبی کریم ﷺ نے بیع اور شرط کو جمع کرنے سے منع فرما یا ہے لہذا اس کے جواز کاطریقہ یہ ہے کہ پہلے فصل کو خرید لیا جائے پھر یا تو مالک زمین خود اپنی رضا سے فصل کو زمین پر رہنے دے یا پھر زمین کو کرایے پر لے لے سوال نمبر ۸: سرسوں کے بیج اس طرح خریدے کہ ان کی قیمت پہلے ادا کردی اور مال دو ماہ بعد ملے گا کیا یہ جائز ہے الجواب یہ بیع سلم کی صورت ہے کہ جس میں ثمن(یعنی قیمت) پہلے ادا کردی جاتی ہے اور مبیع(جو چیز خریدی جارہی ہے یعنی سامان)کچھ مدت بعد دی جاتی ہے تو اگر بیع سلم کی تمام شرائط پائی گئیں تو یہ جائز ہے ورنہ ناجائز ہے ۔ بیع سلم کی شرائط (۱)جنس کو بیان کرنا یعنی کیا خریدنا ہے گندم ، جو،باجرا ،سرسوں کے بیج وغیرہ(۲)نوع کو بیان کرنا مثلا سرخ گیہوں یا سفید گیہوں(۳)بیان صفت مثلا اچھی گیہوں یا خراب گیہوں(۴)قیمت بیان کرئے اور چیز کی مقدار بھی بیان کرئے کہ اتنے من گیہوں اتنے روپے میں لوں گا (۵) مدت بیان کرئے کہ کتنے ماہ میں چاہیے اور مدت ایک ماہ سے کم نہیں ہونی چاہیے (۶)اس جگہ کو بھی بیان کرئے جہاں پر وہ سامان بیچنے والا خریدار کو دیگا اور یہ اس وقت ہے جبکہ سامان ایسا ہو کہ جس کی بار برداری صرف کرنی پڑتی ہو (۷)اسی مجلس میں خریدار اس مال کی تمام قیمت بھی ادا کردے سوال نمبر ۹:کیااس طرح کاروبار کے لئے مال دینا جائز ہے یا نہیں کہ مجھے دس ہزار روپے ہر ماہ دیتے رہنا اور اس کے علاوہ جتنا بھی نفع ہو وہ تمہارا ہے الجواب ایسا کرنا جائز نہیں کہ یہ حرام وسود کی صورت ہے سوال نمبر ۱۰:زید نے ایک لاکھ روپے کی بیسی(کمیٹی)ڈالی جس میں ماہانہ ۴ہزار روپے دینے ہیں زید کی بیسی کا نمبر ۱۸ ہے اور بکر کی بیسی کا نمبر ۲ ہے زید کو ابھی کاروبار کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے لہذ اس نے بکر کو کہا کہ آپ مجھے دوسر ا نمبر دیدو اور میرا نمبر آپ لے لیں اور میں آپ کو ۵ہزار روپے زائد دوں گا کیا یہ جائز ہے الجواب یہ ناجائز و سود ہے کہ یا تو زید نے بکر سے یہ رقم قرض کے طور پرلی ہے اور قرض پر نفع لینا سود ہے یا روپوں کی روپوں سے خریدو فروخت کی ہے اور جب جنس ایک ہو تو ادھار ناجائز ہوتی ہے اور یہاں پر ادھارہے لہذا یہ ناجائز ہے سوال نمبر ۱۱ ایک موٹر سائیکل کی اسکیم ہے کہ ۵۰ لوگ اس کے ممبر ہوتے ہیں اور آپ۲۵ماہ تک ہر مہینے ۲ ہزار روپے جمع کرواتے رہیں اور ہر ماہ کے آکر میں قرعہ اندازی ہوگی جس کی پرچی نکل آئی وہ باقی ماہ لاٹری نہیں بھرے گا اور اسے اسی وقت بائیک دیدی جاتی ہے اوراس طر ح اسے دو ہزار میں بائیک مل گئی پھر دوسرے ماہ بھی اسی طرح پرچی ڈالی جاتی ہے جس کا نام نکلتا جائے گا س کو بائیک ملتی جائے گی اور وہ لاٹری بھرنا چھوڑ دے گا اس طرح ۲۵ ماہ تک ہوتا ہے پھر جب ۲۵ ماہ مکمل ہوجاتے ہیں تو سب کو بائیک دیدی جاتیں ہیں اور انہیں یہ بائیک ۵۰ہزار کی پڑتی ہے کیا یہ طریقہ درست ہے الجواب مذکورہ طریقہ ناجائز ہے کہ اس میں مبیع (بائیک) کی قیمت مجہول (معلوم نہیں )ہے کہ کسی کو ۵۰ ہزار کی پڑتی ہے اورکسی کو ۲ ہزار کی اور اگریہ مان بھی لیا جائے کہ بیچنے والے نے سب کو اس کی قیمت بتا دی ہے کہ میں تم کو یہ چیز ۵۰ ہزار میں فروخت کروں گا اور پھر جس کا پرچی میں نام نکل آتاہے اسے باقی رقم معاف کردیتا ہوں تو بھی یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ ادھار بیع ہے اور ادھار بیع کا حکم یہ ہے کہ مبیع(سامان،بائیک) کو خریدار کے فورا حوالے کرنا لازم ہے اور یہاں پر اکثر کو۲۵ ماہ سے پہلے بائیک نہیں ملتی ہے لہذا یہ طریقہ جائز نہیں ہے ۔ کاروبار اور اپنی روزی میں برکت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم رزاق وقہار عزوجل کے بتائے ہوئے تجارتی اصولوں کو اپنائے اور یہ ہی کاروبار اور روزی میں برکت کا وظیفہ ہے اور ناصرف کاروبا ر و روزی میں برکت کا وظیفہ ہے بلکہ زندگی کے ہر گوشہ میں کامیابی کا وظیفہ ہے ان اصولوں پر عمل کرنے کے بعد کسی اضافی وظیفے کی حاجت نہیں رہے گی ان شا ء اللہ عزوجل لیکن پھر بھی کوئی شخص خیر میں اضافہ چاہتا ہے تو ان اصولوں کو اپنانے کے بعد وہ یہ وظیفہ پڑھے گا تو انشا ء اللہ کاروبار میں مزید برکت ہوگی یا رزاق فجر کی نماز اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ۱۰۰ مرتبہ اول آخر درود پاک کے ساتھ پڑھیں اور سورہ اخلاص و سورۃ الفلق اور سورۃ الناس درست قواعد کے ساتھ گھر میں داخل ہونے کے فورا بعد ایک ایک مرتبہ پڑھیں والسلام مع الاکرام ابو السعد مفتی محمد بلال رضا قادری AddThis Sharing Buttons Share to Email Share to TwitterShare to MessengerShare to WhatsAppShare to Facebook
  6. surah al fatiha also calles surah shifa
  7. Free online Istikhara can be done from the official website of Dawat-e-Islami. You just have to go in the Rohani ilaj section on the official webpage and click on Istikhara. After clicking on Istikhara a short form will appear you just have to fill out that form and your request will be processed soon https://www.dawateislami.net/rohaniilaj/istikhara
  8. ڈاکٹر عبدالقدیر خان سحر ہونے تک برصغیر ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ باہر سے آئے ہوئے علماء اور مذہبی مبلغین نے کی اور اسلام کو پھیلایا۔ اجمیر، ملتان، کراچی، اوچ اوردہلی میں ان اولیاء اللہ کے مزار ہیں۔ انکے علاوہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، بہار، بھوپال میں کئی علماء اور مُبلّغین کے مزار ہیں۔ دور جدید میں یعنی پچھلے دور میںجن علماء نے اسلام کی اعلیٰ خدمت کی ان میں اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کو خاص اور اہم مقام حاصل ہے۔ آپ 14 جون 1856 میں بریلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام محمد خان رکھا گیا تھا اور خود کو پہلے عبدالمصطفیٰ یعنی مصطفیٰ(ﷺ) کا غلام کہتے تھے بعد میں آپ نے احمد رضا خان نام اختیار کرلیا۔ آپ کو امام احمد رضا خان قادری کے اسم شریف سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ ایک صوفی اور اصلاح کرنے والے عالم تھے۔ آپ کے والد محترم کا نام نقی علی خان اور دادا محترم کا نام رضا علی خان تھا۔ آپ نے بریلوی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ مولانا احمد رضا خان قادری بریلوی کی تحریک اسلامی قوانین کو صوفی ازم اور دوسری رسومات پر افضلیت دیتی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد مولانا نے اہم سیاسی اُمور پر مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ دراصل یہ تحریک پہلے مضافاتی علاقوں میں کامیاب ہوئی مگر جلد ہی شہری علاقوں میں پھیل گئی اور بہت ہردلعزیز ہے خاص طور پر ہندوستان و پاکستان کے تعلیم یافتہ طبقے میں مشرق بعید کے مسلمانوں میں بہت ہردلعزیز ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی، قادری نے کئی کتابیں، مختلف موضوعات پر عربی، فارسی اور اردو میں تحریر کی ہیں۔ خاص طور پر آپ کی دو کتابیں (1) کنزالایمان۔ تفسیر القرآن، اور (2) فتاویٰ رضویہ بے حد مشہور ہیں۔ کنزالایمان میں حنفی عقیدہ اور سنی مسلمانوں کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔برصغیر ہند و پاکستان میں یہ بکثرت پڑھی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ انگریزی، ہندی، بنگالی، ڈچ، ترکش، سندھی، گجراتی اور پشتو زبانوں میں کیا گیا ہے اور کروڑوں لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ بائیس ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس میں مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے معاملات پر جامع حل بتائے گئے ہیں۔ آپ کی ایک اور کتاب حسام الحرمین (یا حسام الحرمین علیٰ منحر الکفروالمین) ہے اور اس کا لفظی ترجمہ ہے حرمین کی تلوار کافروں اور جھوٹوں کے حلق پر۔ اپنی اس کتاب میں آپ نے فرمایا ہے کہ ہمارے پیارے رسول ﷺ کی عزّت و احترام کیلئے یہ ضروری تحریر ہے۔ اپنی اس کتاب و تحریر کی تائید میں آپ نے اس علاقے کے 268 علماء کرام سے فتوے حاصل کئے اور کئی مکہ، مدینہ کے علماء سے بھی تائیدی فتاویٰ حاصل کئے۔ اس طرح اس کتاب کی تحریر کی صداقت مستند ہوگئی۔ مولانا احمد رضا خان قادری نے نعتوں پر مشتمل ایک اعلیٰ کتاب حدائق بخشش لکھی ہے۔ اس میں تحریر کردہ نعتیں مسلمان تمام مذہبی مجلسوں میں پڑھتے ہیں۔ اس میں رسول ﷺکی تعریف، آپؐ کی شخصیت، آپؐ کا چہرہ مُبارک، آپؐ کی جسمی بناوٹ، آپ ؐکے اہل بیت کی تعریفیں بیان کی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی 15 دوسری کتب بھی شہرت یافتہ اور ہردلعزیز ہیں۔آپ کے سیاسی نظریات بھی بہت اہم تھے۔ آپ نے گاندھی کی سربراہی میں ہندوستان کی آزادی کی جدّوجہد میں حصّہ لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ انگریزوں کے زیر سایہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے میں قطعی کسی قسم کی پابندی نہیں ہے اور انھوں نے مسلمانوں کی جنگی حالت ا ور ہجرت سے منع کیاجبکہ دیوبند علماء کی رائے اس کے برعکس تھی۔ 21 جون 2010 ءکو شام کے مفتی محمد الیعقوبی نے ایک ٹی وی پروگرام میں بیان دیا کہ ہندوستان کا مجدّد احمد رضا خان بریلوی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے مولانا احمد رضا خان کے بارے میں بہت تعریفی کلمات کہے اور کہا کہ ایسا دانشور اور عقل و فہم کا مالک انسان اور قانونی ماہر پھر پیدا نہیں ہوا۔ لبنان کے مفتی اعظم یوسف النبہانی نے مولانا احمد رضا خان کے فتوے پڑھ کر کہا وہ ایک دیوہیکل انسان تھے اور سائنس کے بھی ماہر تھے۔ مکہ شریف کے مفتی علی بن حسن ملک نے کہا کہ احمد رضا خان کو تما م مذہبوں کی سائنس پر مکمل عبور ہے اور افغانستان کے پروفیسر عبدالشکور شاد (کابل یونیورسٹی) نے کہا کہ مولانا احمد رضا خان کی تمام تحریریوں اور تصانیف کو جمع کرنے اور کیٹیلاگ کی شکل میں جمع کرنے اور ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کی لائبریریوں میں رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔ ہندوستان نے ایک ٹرین اعلیٰ حضرت کے نام سے بریلی اور بھوج کے درمیان چلائی ہے اور 31 دسمبر 1995 کو ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی شائع کیاہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی کا انتقال 28 اکتوبر 1921 کو بریلی میں ہوا۔ یہ جمعہ کا مُبارک دن تھا۔ آپ نے ہندو پاکستان میں لاتعداد اپنے خلفاء چھوڑے ہیں جو ان کی تعلیم کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لاتعداد سائنسی موضوعات پر مضامین و مقالے لکھے ہیں۔ آپ نے تخلیق انسانی، بائیوٹیکنالوجی و جنیٹکس، الٹراسائونڈ مشین کے اصول کی تشریح، پی زو الیکٹرک کی وضاحت، ٹیلی کمیونیکیشن کی وضاحت، فلوڈ ڈائنامکس کی تشریح، ٹوپولوجی (ریاضی کا مضمون)، زمین، چاند و سورج کی گردش، میٹرالوجی (چٹانوں کی ابتدائی ساخت)، دھاتوں کی تعریف، کورال (مرجان کی ساخت کی تفصیل)، زلزلوں کی وجوہات، مدّوجزر کی وجوہات، وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی اپنے دور کے فقیہ، مفتی، محدّث، مُفسر، معلم، اعلیٰ مصنف تھے۔ جب آپ ان کی تحریروں اور مقالہ جات کا مطالعہ کریں تو احساس ہوگا کہ آپ اپنے وقت سے بہت پہلے دنیا میں تشریف لے آئے تھے اور جن علوم پر تفصیلی مقالے لکھے ہیں وہ بہت عرصےکے بعد عوام کی سمجھ میں آئے ہیں۔ اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین (نوٹ) خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا یعنی وزیر اعظم نے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کردی، نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں اور چیئرمین جنرل زبیر حیات ملک ہیں۔ دونوں افسران تجربہ کار اور اچھی ریپوٹیشن کے مالک ہیں۔ اللہ پاک ان کی فرائض منصبی کی ادائیگی میں رہنمائی عطا فرمائے اور تندرست و خوش و خرم رکھے۔ آمین
  9. دیوبندیہ و ہابیہ مذہب سے تعلق رکھنے والے مولوی شعیب اللہ خان مفتاحی غیر اللہ کی قسم کھانے کے تعلق سے لکھتا ہے ‘’ان احادیث میں جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں غیراللہ کی قسم کھانے کو شرک سے تعبیر کیا گیا ہے معلوم ہوا کہ غیر اللہ خواہ نبی ہو ولی یا باپو یا پیر شیخ ہوکسی کی بھی قسم نہیں کھائی جا سکتی ۔ التوحید الخالص صفحہ 160 دیوخوانی مفتی کی اس عبارت کے بعد شورش کشمیری دیوبندی کی بھی پڑھ لیجئے وہ کہتا ہے ‘’میں رب ذوالجلال اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ سلم کی قسم کھاکر کہتا ہوں’’ خطبات شورش جلد 01 صفحہ 281 دیوخوانی مولوی کے فتوی سے خود اس کے گھر کا مولوی شورش کشمیری مشرک ثابت ہوگیا
  10. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته... Wahabi log kehte he k tafseer ibne Abbas k rawiyon pe jarah he aur maohddiaseen se tafseer ko ibne Abbas رضى الله عنه se sabit hi nahi kehte he... Iski wazahat kerke rehnumayi fermayi جزاك الله خيرا
  11. Zaeef-Hadees-aur-Ghair-Muqalideen.pdf Download link : http://www.ja-alhaq.com/wp-content/uploads/2015/02/Zaeef-Hadees-aur-Ghair-Muqalideen.pdf Article: https://zafarulqadribakharvi.blogspot.com/2018/03/blog-post_75.html
  12. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.. G ye pdf download nahi ho rahi he... Kya kare isko download kerne k liye
  13. احادیثُ الموضوعہ فی فضائلِ معاویہ – قاری ظہور احمد فیضی ka jawab 1.Alswarim Ul Heyderia Ala Taain E Ameer Muawia / الصوارم الحیدریۃ علی منحر طاعن معاویۃ https://archive.org/details/alswarimulheyderiaalataaineameermuawia/page/n13/mode/2up 2. Alhadees il Rawiyya Li Madhi Ameer e Muavia Fazail E Sayyiduna Ameer E Muavia / الاحادیث الراویۃ لمدح الامیر معاویۃ by علامہ ظفر القادری بکھروی https://archive.org/details/2019_20190922_201909 PDF download: https://ia601005.us.archive.org/10/items/fazailesayyidunaameeremuavia/Fazail e Sayyiduna Ameer e Muavia.pdf قاری ظہور فیضی کے نزدیک معیار صرف بغض معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے
  14. Alhadees il Rawiyya Li Madhi Ameer e Muavia Fazail E Sayyiduna Ameer E Muavia / الاحادیث الراویۃ لمدح الامیر معاویۃ by علامہ ظفر القادری بکھروی https://archive.org/details/2019_20190922_201909 PDF download: https://ia601005.us.archive.org/10/items/fazailesayyidunaameeremuavia/Fazail e Sayyiduna Ameer e Muavia.pdf Qari Zahoor Ahmad Faizi Kay Jawab Main Likhi Gayi Books
  15. قاری ظہور احمدفیضی کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اور ان کا علمی محاسبہ تحریر:علامہ مولانا ظفر القادری بکھروی (1)اسلام میں مسلم خواتین کو لونڈی بنانا اور انہیں بازار برائے فروخت کھڑا کرنا جواب:ان روایات میں موسیٰ بن عبیدۃ ضعیف ،متروک اور منکر الحدیث راوی ہےاور یہ روایت منقطع بھی ہےتفصیل کے لیے پہلے الزام کا جواب کتاب الاحادیث الراویۃ لمدح الامیر معاویۃ:ص293سے 299تک ملاحظہ کریں ۔ (2)مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور یمن وغیرہ مقامات پر افعال قبیحہ کا ارتکاب جواب:اس میں محمد بن عمر الواقدی متروک وضعیف راوی ہے اس کے علاوہ دائود بن جبیرہ مجہول راوی اور اس کا سماع عطاء بن أبی مروان سے ثابت نہیں ہےاس کا تفصیلی جواب،ص300سے307پر ملاحظہ کریں (3)سیدنا ابن عباس کے نابالغ بھتیجوں کو ناحق قتل کرانا جواب:اس میں عوانہ بن الحکم بنی امیہ کے خلاف خبریں گھڑنے والاہےایوب بن جابر ضعیف راوی بھی ہےقاسم بن موسیٰ بن حسن مجہول راوی ہے تفصیل ص308 سے ص317میں ملاحظہ کریں (4)سیدنا امام حسن علیہ السلام کی شہادت فاجعہ کو مصیبت نہ سمجھنا جواب:مذکورہ روایت بقیہ بن الولید کی تدلیس التسویہ کی وجہ سے ضعیف ہےتفصیل ص318سے 327 میں ملاحظہ کریں (5)ان کی وصال کی خبر پر خوش ہونا جواب:اس روایت میں علی بن مجاہد کذاب اورمحمد بن حمید الرازی ضعیف اور ایک شیعہ راوی ہےتفصیل کے لیے ص328سے331 میں ملاحظہ کریں ۔ (6)انہیں انگارہ کہنے والے کو ڈانٹنے کی بجائے پیسے دینا جواب:یہاں قاری صاحب نے غیر مقلد عالم شمس الحق عظیم آبادی کا جو حوالہ پیش کیا ہے اس کا الزامی جواب قاضی مظہرحسین چکوالی دیوبندی ملاحظہ کریں ،کہ مولانا عظیم آبادی موصوف کی اس نکتہ آفرینی سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ کے متعلق ان کے اندر بھی کوئی بیماری تھی واللہ اعلم،تفصیل ص 332سے 335میں ملاحظہ کریں۔ (7)ممانعت نبوی ﷺ کے باوجود سونا ،ریشم اور درندوں کی کھالوں کا استعمال کرنا جواب:یہ روایت بھی ضعیف ہےاسکے لیے مزید تفصیل الزام نمبر 5کے تحت جواب میںدیکھ سکتے ہیں۔ (8)انصارjکے بارے میں نصیحت نبوی ﷺ کے باوجود ان پر دوسروں کو ترجیح دینا جواب:یہ روایت الاعمش کی تدلیس یا عن کی وجہ سے ضعیف ہےتفصیل کےلیے ص338سے341میں ملاحظہ کریں (9)میزبان مصطفیٰ ﷺ سیدنا ابوایوب انصاری پرجفا کرنا اور بے اعتنائی کرکے ان کی توہین کرنا جواب:روایت میں مجہول راوی ہیں اور سند مرسل منقطع ہےدوسری روایت میں فضیل بن مرزوق شیعہ، عطیہ العوفی،عبداللہ بن محمد ضعیف راوی ہیں تفصیل ص342سے 355 میں ملاحظہ کریں (10)حضور اکرم ﷺ کی طرف دھوکہ کی نسبت کرنے پر خاموش رہنا جواب:ایک راوی عبایہ بن رفاعہ کا حضرت معاویہhسے سماع معروف نہیں،اس کے علاوہ اور علتیں بھی ہیں تفصیل ص356 سے413میں ملاحظہ کریں (11)صحابہ کرام jکو دھمکیاں دینا جواب:اس روایت کے متن کو موڑ تور کر پیش کیا گیا تفصیل ص414سے428میں ملاحظہ کریں۔ (12)اپنے سے سابق بعض صحابہ کرام کو غصے کے ساتھ پاگل کہنا جواب:اس معاملہ میں اہل سنت کا راجح قول نہیں پیش کیا تفصیل کے لیے ص425سے430میں ملاحظہ کریں۔ (13)حدیث نبوی ﷺ ،ھنۃ،فساد کی بات کہنا جواب:عبداللہ بن دائود الواسطی ضعیف اور متن میں نکارت ہے تفصیل کے لیے ص431 سے 433ملاحظہ کریں (14) رشوت لینا دینا (مغیرہ بن شعبہ  سے تبادلہ رشوت کرنا ) جواب:اس روایت میں محمد بن عبدالعزیزبن عمر الزہری ضعیف ومتروک ہےتفصیل کے لیے ص434سے 447میں ملاحظہ فرمائیں (15)باطل طریقے سے مال کھانا جواب:روایت میں ہشام بن حسان القردوسی خشبی تھااور خشبی فرقہ رافضیوں کا ایک گروہ ہےأوس بن عبد الله بن بریدہ اورہیثم بن عدی ضعیف اور متروک راوی ہیں تفصیل کے ص448سے 472میں ملاحظہ کریں (16)ناحق قتل کرنا جواب:بعض پیش کردہ روایات میں لوط بن یحییٰ کٹر شیعہ اور رافضی ہے واقعہ کی تفصیل کے لیے ص473سے498میں ملاحظہ کریں۔ (17)بیعت یزید کے معاملہ میں کھلے بندوں جھوٹ بولنا جواب:نعمان بن راشد ضعیف،اور روایت منقطع ہے تفصیل ص499سے ص505میں ملاحظہ کریں۔ (18)شراب پینا جواب:اس روایت میں زید بن حباب کثیر الخطاء،حسین بن واقدضعیف راوی ہے اور یہ روایت منقطع ہے تفصیل ص506سے523میں ملاحظہ کریں۔ (19)عیدین سے پہلے اذان کی بدعت کا مرتکب ہونا جواب:قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہےتفصیل کے لیے ص524سے 525میں ملاحظہ کریں۔ (20)تکبیرات عیدین کی کمی کرنا جواب:یہ ایک فروعی اور فقہی مسئلہ ہے جس پر دیگ صحاب وتابعین بھی عامل ہیںتفصیل کے لیے ص526سے ص531میں ملاحظہ کریں ۔ (21)خطبہ عید کو نماز عیدین پر مقدم کرنا جواب::روایت میں ایک ابراہیم بن ابی یحییٰ الاسلمی متروک الحدیث ہےاور مسئلہ اختلافی ہے اس پر دیگر صحابہ کا بھی عمل ہے تفصیل کے لیے ص532سے ص543ملاحظہ کریں ۔ (22)مساجد کے منبروں پر سب وشتم اور لعنت کرنا کرانا جواب:ان روایات میں ہشام بن محمد الکلبی رافضی وکذاب ،اور لوط بن یحییٰ ابو مخنف الغامدی، شیعہ و کذاب ہےدیگر راوی بھی ضعیف ہیں تفصیل کے لیے ص544سے ص591میں ملاحظہ فرمائیں۔ (23)یزید کی ولی عہدی میں قرآن وسنت اور خلفاء راشدین کی خلاف ورزی کرنا جواب:روایت میں عوف بن ابی جمیلہ شیعہ،رافضی اور قدری راوی ہےتفصیل کے لیے ص592سے ص625 میں ملاحظہ کریں۔ (24)نکاح کے بعد وطی سے قبل بیوی کے پورے جسم کا معائنہ کروانا جواب:یہ منقطع روایت ہے تفصیل کے لیے ص626سے ص628 ملاحظہ کریں۔ (25)بیوی کی شرم گاہ کے نیچے تل کی وجہ سے اسے طلاق دینا جواب:یہ روایت بھی منقطع ہے تفصیل دیکھیے ص629تا630میں (26)جسم پر تل کی وجہ یزید کی ماں میسون کا غیبی خبر دینا اور موصوف کا اس پر یقین کرنا جواب:یہ روایت منقطع اور ضعیف ہے تفصیل دیکھیے ص631تاص632میں۔ (27)فقط میسون کی خبر پر اپنی تازہ منکوحہ کو طلاق دے ڈالنا جواب:یہ روایت بھی منقطع اور ضعیف ہے دیکھیےص633تا634میں۔ (28)آدمیوں کو خصی کرانا جواب:یہ ایک بے سند قول ہے دیکھیے ص635تا636میں۔ (29)قرآن مجید کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہل کتاب کو اپنا راز دار بنانا جواب:یہ ایک فضول سا اعتراض ہے ہر دور میں حکومتیں غیر مسلم کو عہدے دیتی رہی ہیں تفصیل دیکھیے ص637تا 647میں۔ (30)نصرانی طبیب سے مسلمانوں کے سربرآورہ لوگوں کو زہر دلاکر راہ سے ہٹانا جواب:اس روایت میں واقدی کذاب ہے اور یہ منقطع روایت بھی ہے تفصیل کے لیے ص648تا657میں۔ ان تما م اعتراضات کے جوابات تفصیلًا کتاب(الاحادیث الراویۃ لمدح الامیر معاویۃ)میں مذکورہ صفحات میں دے دیے گئے ہیں وہیں ملاحظہ کیے جائیں۔ ابواسامہ ظفر القادری بکھروی
  16. الیاس گھمن کے فتوی سے عاشق الہی دیوبندی گستاخ رسولﷺ ہے فرقہ وہابیہ دیوبندیہ میں بے حیائیوں کے شہنشاہ مولوی الیاس گھمن نے امام اہل سنت کے ایک اشعار جو سرکار غوث پاک کی منقبت میں لکھا ہے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے ‘’ولی کا کیا مقام ہے یہاں تو پیغمبر بھی حاضر ی دیتے ہیں بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ کی نصیحت سننے کے لئے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں حضرت غوث پاک کی تعریف بیان کرنے کا ایسا انداز جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی اور توہین ہوجائے ہر گز قبول نہیں، ولی بڑے سے بڑا ہو کسی نبی کے درجہ تک نہیں پہنچتا ۔۔ فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جازہ صفحہ 402 مولوی الیاس گھمن وہابی نے امام اہل سنت احمدرضا قادری رحمۃ اللہ کے شعر کی من مانی تشریح کرکے گستاخی ثابت کرنے کے لئے تھانوی کے ماموں اور گنگوہی کے گہوں کی طرح ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے مگر امام اہل سنت کی کرامت دیکھیں کہ الیاس گھمن اپنے ہی مولوی عاشق الہی میرٹھی کو گستاخ رسول بنا دیا امام اہل سنت نے جو بات اپنے شعر میں کہی ہے وہی سب عاشق الہی میرٹھی دیوبندی بھی لکھ رہا ہے کہتا ہے ‘’آپ {غوث پاک} کی مجلس شریفہ موردانوار ربانی و مطرح رحمت و الظاف یزادانی تھی جسمیں صلحاء جنات و ملائکہ کے علاوہ انبیاء علیہم السلام کی ارواح طیبات کی روحانی شرکت ہوتی اور کبھی روح پر فتوح سید ولد آدم علیہ افضل الصلاۃ و السلام کا نزول اجلال بھی تربیت و تائید کی غرض سے ہوا کرتا تھا ۔۔ فیوض یزدانی مترجم عاشق الہی میرٹھی صفحہ 13 الیاس گھمن کیا اب بھی وہی کچھ لکھے گا جو اس امام اہل سنت اعلی حضرت قادری رحمۃ اللہ علیہ کے لئے لکھا ہے؟ دوسرے یہ کہ الیاس گھمن کے فتوی سے مولوی عاشْق الہی میرٹھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ، رسول تھا
  17. Earlier
  18. ان سے ملئے ۔۔۔۔۔۔۔ In say mileay آغا شورش کاشمیری
  19. Molvi Islami dehlvi saahib syed ahmad sahib kay hi mureed thay. aor bad nam e zamana kitab 'Sirat e mustaqeem' hay wo wahabion kay mutabiq syed Ahmad kay hi aqwal hain. halankeh iski daleel koi naheen, phir bhi wahabi hazrat kay nazdeek yeh unhi ki kitab hay iskay ilawa Syed Ahmad Barailwi K Fsana-E-Jihad Ki Haqeeqat. yeh book bhi dekhain, link end par diya hay Sirat e mustaqeem ki kufria ibarat:
  1. Load more activity
×
×
  • Create New...