All Activity

This stream auto-updates   

  1. Yesterday
  2. Last week
  3. Laws of salah book link: https://www.dawateislami.net/bookslibrary/en/laws-of-salah
  4. Ahmed Raza Khan Barelvi has such gigantic energy for serving Islam that he has composed numerous Urdu books of various religious subjects to serve the Muslim Ummah. where you can download online islamic books in pdf with more than 35 languages, read authentic books about Islam. Imam Ahmad raza Khan Books
  5. The books library of Dawat-e-Islami contains many booklets of different writers including Ahmed Raza khan Barelvi. He has written several books on various topics in Arabic, Persian and Urdu. Ahmed Raza Khan Barelvi Books
  6. Aik haqiqat ka zikr keeya heh tareef ki kia baat heh is mein. Sunni Deen Islam ki khidmat mein dawani nahin deh sakta ... randi tawaif naach rahi ho ... kuttoon ki larahi ho ... behal/bull ki race ho ... Urs, Giyarweenh, Milad, Teeja, Chaliswan, Barsi, qabroon ki jaliyoon say lock/tala lagana ho, qabroon par chadren, mazaraat par lakhoon kharch, joh kuch bi ho, Sunni hazaroon laga sakta heh magr joh cheezen asal hen aur jin ki khaas zeroorat heh ... Dars banana, Aalim Masjidoon mein rakhna, kutub deenia ko publish karna, Sunni ko mawt aahay magr dawani kharch nahin kar sakta aisay kam wasteh. Peeroon kay kuttoon ka adab magar Aalim e Deen ko maanh behan ki gaali sirf doh logh detay nazr ahen gay aik secular bey-deen dosra Sunni. Shia, Wahhabi, Deobandi, Qadiyani, apnay Maulviyoon ko asman par batha kar rakhtay hen magr Sunniyoon ki aksiriat aisi heh joh ghaali deti nazr ahay gi. Is'see waja say Allah ki taraf say zaleel o ruswa ho rahay hen aur ainda zamanay mein Wahhabi aur Deobandi mil kar Sunniyoon ko gajr mooli ki tara katten gay jistera Syria aur Iraq mein huwa he ... abhi baqwas Sufiat kay chakroon mein ... ham bhai bhai hen ... ham toh kissi ka dil bi nahin dukhatay ... Islam firka wariat ki ijazat nahin deta ... magr jab Wahhabi Deobandiyoon ko taqat milli toh tum dekhna ... jistera Wahhabiyoon nay Somalia mein Sunniyoon kay saath keeya, Ismail Dehalvi nay Sunniyoon kay saath keeya, Ibnul Wahhab nay keeya, aur joh Syria Iraq mein huwa ... wohi kuch qatal aam ... Sunni auratoon ko utha kar ghulam banahen gay.
  7. Earlier
  8. Jazakallah Hazrat Khalil Rana Sahab
  9. Bhai koi ahle ilm hazrat aap ko jarur bata denge
  10. رُوح محمد ﷺ کا اعجاز عیسائیت ،یہودیت اوران کے سرپرست یورپ، ان کے مبلغین کایہ پرانا طریقہ رہاہے کہ روح کائنات حضور سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافکری اورعملی طورپر مقابلہ کرنے کے بجائے دوسرے کے پائوں کاٹ کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں جوبجائے خود چھوٹی بات ہے ۔مغل راج کے اختتام اورمتحدہ ہندوستان پر مکمل قبضہ پانے کے لئے برطانوی سامراج کے فکری ہراول دستوں نے بھی یہی منطق اختیار کرنے کی کوشش کی ۔ حضور سرور کائنات ﷺ اوراسلام کے حوالہ سے ایسی باتیں کی جانے لگیں جن کاپورے فسانہ میں ذکر تک موجود نہیں تھا ۔ ان کی ترؔغیب اوراتباع میں سوامی دیانند سرسوتی اوران کے چیلوں نے بھی انگریز پادریوں اوربرطانوی حکمرانوںکی بنائی ہوئی اسی شاہراہ کواختیار کرکے حضور ﷺ کی ذات کے بارے میں بے سروپاباتیں کرکے مسلمانوں کی دل آزاری اوراپنے مذاہب کی تبلیغ کیلئے منفی اندازِ فکر کواپنا کراپنے لئے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی حالانکہ عظمت کااعتراف کیا جائے اورپھر اپنی بہترین شے کو انسانی مارکیٹ میں پیش کیا جائے ۔ اصل میں تخلیق کائنات میں سب سے بڑی تخلیق آپ ﷺہی کی ذات ہے ، آپ کاحسن عمل سراپا خیر ہے ، آپ نے جامعہ معاشروں کوروبہ انقلاب کرکے رکھ دیا ، بیشتر انقلاب اورسماجی تبدیلیاں آپ کے حسن کردار کے نتیجہ کی پیداوار ہیں ، دنیا میں پہلی بار ۳۶۰بتوں سے واقعی نجات نہ دلائی گئی ،توحید کے بارے میں سائنسی نقطہ نظر پہلی بار سامنے آیا ، ذات پات ،نسلی تفاخر کے بتوں کو بھی آپ ہی نے پاش پاش کیا ،غلامی کی کراہت کواجاگر کیا ۔بچیوں کو زمین میں گاڑنے کی قبیح رسم کوختم کرکے عورت کو عظمت بخشی جس کی کہ وہ واقعی حقدار ہے اورمستحق تھی ۔بیویوں کی تعداد میں قدغن عائد کی ۔انہیںبرابری کاحق تفو یض کیا، معاشی مساوات برپا کی ، حریت فکر کاپرچم بلند کیا ، جارحانہ جنگی فلسفہ میں تبدیلیاں کیں،جنگی قیدیوں کی عزت نفس بحال کی ،انسانی خون کی ارزانی کوختم کیا ، نشوں کاخاتمہ کیا ، قوموں میں برابری اوربھائی چارے کوروبہ عمل کیا ، غیر مذاہب کے پیروکاروں کی خدمت کی ،عزت بخشی ، ان کی پھیلائی گندگی سے زمین مقدس کو خودبہ نفس نفیس صاف کیا ،عظیم ترین شخصیت ،آخر ی پیغمبر،اسلامی ریاست کے بانی ،قائد، سربراہ ہونے کے باوجود خود کوکسی پر ترجیح نہ دی ،تقویٰ اورخداخوفی کوترجیح وتفضیل کامنبع قرار دیا ، تاجر ،مبلغ ،قائد ،حاکم ،بھائی ،دوست ،ساتھی ، بیٹا ، باپ ،خاوند ،گویاتمام انسانی رشتوں اورشعبوں میں راہنمایانہ کردار ادا کرکے شاہراہ زندگی پر درمیانی اورمثبت انداز سے زندگی بسر کرنے کا عملا ً مظاہرہ کیا کہ تمام دنیا کو راہنما میسر آسکے یتیموں ، بیوائوں ، بچوں ،بوڑھوں ، کی عزت نفس بحال کی ،بادی النظر میں شاید یہ باتیں عام ہوں لیکن جب بھی دقت نظر سے افرادواقوام کامطالعہ کیا جائے تویہ انتہائی مشکل اُمور ہیں ۔ جوکسی ایک ذات پرمجتمع دکھائی دیئے، یہی عظمت وکردار تھا جس کی وجہ سے آپ عقیدت مندوں کی صحبت کامرکز بن گئے ، اپنے عمل کی وجہ سے توآپ مشرکین مکہ کے بھی محبوب تھے آپ پر پتھر بھی پھینکتے تھے اورامانتیں بھی آپ کے پاس محفوظ خیال کرتے تھے ، حجراسودکواپنے مقام پررکھنے کے ایسے شدید اختلافی مسئلہ کے حل کیلئے بھی آپ ہی کا حکم مانتے تھے ،یہی وہ عمل ہے کہ خدا ئے بلند وبرترنے بھی ایسے ہی احکام صادر کئے کہ آپ کی آواز سے اونچی بات کرنا اسلام سے انحراف ہے، آپ کے حکم کوٹالنا شرک ہے کفر ہے ،کیونکہ آپ کی مرضی توکسی بھی بات میں کبھی بھی شامل نہیں رہی ہے ۔ اللہ تعالی کا اس قدر برگزیدہ اوراتنا بڑا فرمانبردار چشم فلک نے نہ پہلے دیکھا نہ بعد میں ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر تم نے حضورﷺ کی پیروی کی توتم میرے محبوب بن جائو گے گویا ہروہ فرد محبوب خدابن گیا جس نے آپ ﷺکے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی ۔ اس سے بڑھ کر اعزاز ،عظمت ،اور بزرگی اورکسے کہتے ہیں لیکن نظام زر ،جاگیرداری ،سرمایہ داری ، طاغوتی قوتیں ،لرزہ براندام ہوگئیں ۔ کوئی بہتر نظام پیش کرنے کے بجائے بے سروپا باتوں کاسہارا لینے کی کوششیں کی گئیں ،انگریزی سامراج کے مشہور گماشتے پادری سی جی فینڈر نے تجویز پیش کی کہ ہندوستانی مسلمانوں سے روح محمد نکالنے کے لئے حضور ﷺ کی کوئی ایسی سوانح عمری طبع کی جائے جس میں ایسی باتیں آپ سے منسوب کی جائیں جس سے آپ کا کردار مسخ ہوسکے تاکہ مسلمانوں کوگمراہ کیا جاسکے ۔یور پ کے ایک انگریز عالم سرولیم میور نے انگریزی پڑ ھے لکھے مسلمانوں کوگمراہ کرنے کیلئے خود بھی یہی ’’کارنامہ‘‘ سرانجام دیا ۔ مسلمان زیر ہوچکے تھے ،انگریز ایک بدمست ہاتھی کی طرح چنگھاڑ رہا تھا ، غلامی کی زنجیریں پختہ سے پختہ کی جاچکی تھی ، مسلمانوں کی تذلیل کی نئی راہیں وضع کی جارہی تھیں انگریزاہل قلم میں بھی کچھ منصف مزاج لوگ تھے ۔چنانچہ ایڈورڈ گبن، فیفری ہگنز،تھامس کارلائل اورجاہن ڈیون پورٹ نے اس سلسلہ میں پوری دیانتداری سے اپنے دنیا ئے وطن سے مختلف راہ اختیار کرکے حضور ﷺ کے بارے میںمتوازن ترین راہ اپنا کرآپ سے پورا پورا انصاف کرنے کی کوشش کی جس کیلئے مسلم ورلڈ کوبجاطورپرا ن کاشکر گزار ہوناچاہیے کہ مسلمانوں کے ادبار کے زمانہ میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے انصاف کوترک کرنے کوشش نہ کی ۔ علامہ اقبال مرحوم اسلام کے جدید ترین شارح تھے ۔ روح عصر سے کماحقہ واقف تھے ۔انہیں اسلام عہد جدیدمیں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور صاف دکھائی دے رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوںنے ہندی مسلمانوں کیلئے وطن کی ضرورت کاشدت سے اظہار کیا۔ چنانچہ انہوں نے ارمغان حجازمیں ابلیس کی پریشانی کوبھانپنے کے بعدنشاندہی کی کہ ابلیسیت کو اشتراکیت سے خطرہ نہیں ہے مسلمانوں سے خطرہ ہے چنانچہ آپ نے اپنی فکری قوتوں کوحکم دیا کہ اگر نظام زر ،سرمایہ داری، جاگیرداری کے طاغوت کوزندہ رکھنا ہے توپھر مسلمانوں کے دلوں سے روح محمد ﷺکونکال دیں تمام راستے کھل جائیں گے ،رشدی سے یورپ اوراس کے سرپرست اورشیطان کبیر (امریکہ ) نے اسی مقصد کیلئے شیطانی کتاب لکھواکرجائزہ لینے کی کوشش کی کہ روح محمد ﷺ سے سرشاری مسلمانوں میں کس مقدار میں موجود ہے۔ اور اس کے بعد وقفے وقفے سے کبھی گستاخانہ خاکوں ،کبھی تو ہین آمیز فلموں اور آزادیٔ اظہار رائے کی آڑمیںمختلف میڈیا استعمال کر کے روح محمد ﷺ سے مسلمانوں کو بیزار کیا جائے ۔ ابھی میں اپنا یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ برادرم ڈاکٹر محمد اظہر وحید کا کالم روزنامہ نئی بات لاہور میں شائع ہوا جس میں انہوں نے میرے دل کی بات کہہ دی اور روح محمد ﷺ کا اعجاز واضح کر دیا ۔اب میں اپنا مضمون انہی کے کالم سے آگے بڑھاتا ہوں ۔۔لکھتے ہیں۔ برسوں نہیں عشروں کی بات ہےٗ ایک معروف قومی روزنامے میں فضل حق مرحوم "گاہے گاہے بازخواں" کے عنوان سے شگفتہ شگفتہ کالم لکھا کرتے تھے۔ وہ اپنی مخصوص شگفتگی اور برجستگی میں باتوں ہی باتوں میں بہت کام کی بات بتا دیا کرتے۔ اللہ غریقِ رحمت کرے، ان کا ایک کالم ابھی تک حافظے کی لوح پر مکمل جزئیات کے ساتھ محفوظ ہے۔ کالم نگار موصوف اپنے عالمِ شباب میں یورپ کی سیر کو نکلے ، اس زمانے میں پاکستانیوں کو یورپ میں داخلے کیلئے ائیرپورٹ ہی پر ویزا مل جایا کرتا تھا۔ اسپین کے سفر نامے کا ایک واقعہ یوں رقم کرتے ہیں کہ وہاں قیام کیلیے سستی جگہوں میں ایک جگہ وائی ایم سی اے ہال ہے۔ آمدم برسرِ موضوعٗ فضل حق مرحوم بتاتے ہیں کہ اسپین میں وائی ایم سی اے ہال باہر سے آنے والے طالبعلم سیاحوں کو مفت رہائش مہیا کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیںٗ وہاں میری دوستی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے ہوگئی، وہ تاریخ کا پروفیسر تھا، اس نے ساری عمر تاریخ پڑھائی تھی، اور ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ دنیا کا جغرافیہ کھنگالنے کیلئے دیس بدیس گھوم رہا تھا۔ بقول فضل حق مرحوم ٗ ہم سارا دن اسپین کے تاریخی مقامات کی سیر کرتے، پروفیسر مجھے ان کی تاریخی اہمیت بڑی فراخدلی سے بتاتا، شام کو تھکے ماندے واپس لوٹتے، مختلف موضوعات پر اس کی دانشورانہ گفتگو سے میں خوب مستفید ہوتا۔ ایک بار میں نے پروفیسر سے پوچھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتیٗ یہاں مسلمانوں نے سات سو سال حکومت کی ہے لیکن ان کے آثار ماسوائے چند ایک محلات اور ایک مسجد کے کہیں نظر ہی نہیں آتے، یوں لگتا ہے جیسے مسلمانوں کو اچانک زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا، گویا مسلمان اس خطے میں کبھی آباد ہی نہیں تھے۔ پروفیسر بولاٗ یہ سوال صرف تمہارے ذہن میں نہیں آیا بلکہ یہ سوال اس دور میں عیسائی فاتحین کے ذہن میں بھی پیدا ہوا تھا کہ مسلمان یہاں ہرچہ باداباد کہتے ہوئے آباد ہوتے ہیں اور پھر اس قدر آسانی سے پسپا بھی ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔ آخر اس کی کیا وجوہات تھیں۔ چنانچہ اس دور میں فرڈیننڈ نے دانشوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی کہ وجہ کا پتہ لگایا جائے۔ گئے وقتوں میں بادشاہ قسم کے لوگ دانشوروں کی مشاورت کو اُمورِ جہاں بانی کیلئے ضروری تصور کرتے تھے۔ فرڈیننڈ کی بنائی ہوئی اس کمیٹی نے کئی برس کی تحقیق کے بعد ایک رپورٹ پیش کر دی، اسے پڑھنے کے بعد بادشاہ نے وہ دستاویز جلانے کا حکم دیا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس تحقیق کی خبر مسلمانوں تک پہنچے۔ فضل حق کہتے ہیںٗ میں نے پوچھا کہ وہ کیا راز تھا، جو جلا دیا گیا؟ عشروں قبل پڑھے گئے کالم کا وہ ایک جملہ مجھے ابھی تک لفظ بہ لفظ یاد ہے۔ پروفیسر نے کہاٗ میرے بچے ! تاریخ بڑی ظالم چیز ہے، تاریخ کی نظروں سے بچانے کیلئے جس تحریر کو جلایا جاتا ہےٗ تاریخ اس کا بھی ریکارڈ رکھتی ہے کہ کیا جلایا گیا تھا ۔ اس رپورٹ میں درج تھا کہ مسلمانوں کی قوت کا سبب وہ محبت ہے جو وہ اپنے رسولﷺ سے رکھتے ہیں۔ جب تک ان کے دلوں میں یہ محبت موجود رہتی ہےٗ وہ دنیا کی ناقابلِ شکست قوت ہوتے ہیں، جب ان کے ہاں اس محبت میں کمی واقع ہوجاتی ہےٗ وہ بھیڑ بکریوں کی طرح منتشر ہو جاتے اور اپنے حریفوں کیلئے تر نوالہ ثابت ہوتے ہیں۔ دراصل ہماری طاقت اور کمزوری دونوں کے درست ناقد اور معترف ہمارے حریف ہوتے ہیں۔ ہم خود کو اپنے دشمن کی نظر سے دیکھیں تو ہم پر اپنی خامیاں اور خوبیاں دونوں آشکار ہو جاتی ہیں۔ آج بھی ایسا ہوتا ہے، گاہے گاہےٗ اہلِ یورپ مسلمانوں میں زندگی کی رمق دیکھنے کیلئے ایک لٹمس ٹیسٹ کرتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ اہلِ اسلام میں کس خطے کے مسلمانوں میں مزاحمت پیدا ہوئی ہے، جہاں وہ مزاحمت دیکھتے ہیں’ وہاں حملے کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ جہاں احتجاج کی کوئی لہر نہیں دیکھتےٗ سمجھ لیتے ہیں کہ مسلم جغرافیے کی اس پلیٹ پر آسانی سے ہاتھ صاف کیا جا سکتا ہے۔ اہل اندلس اس ٹیسٹ میں فیل ہو گئے تھے، تاریخ بتاتی ہے کہ عیسائی مبلغین اس زمانے میں توہین رسالتؐ کے کلمات مشتہر کیا کرتے تھے، ابتدا میں مسلم قاضی انہیں سزا دیا کرتے تھے، وہ ردّعمل میں مزید "خود کش مبلغ" تیار کر لیتے تھے، کچھ عرصے بعد سلطان اور قاضی نے فیصلہ کیا کہ انہیں سزا نہ دی جائے، بس انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس کے بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ اہل اندلس کو قدرتِ کاملہ نے بھی اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ راز یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ہا لہء رحمت سے نکل جائےٗ وہ اپنے اعمال اوراعمال کی عاقبت کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ بقول حضرت واصف علی واصفؒ رحمتِ حق کی تعریف ہی یہ ہے کہ رحمت ہمیں ہمارے اعمال کے نتیجے سے بچاتی ہے"۔ رحمتِ حق تعالیٰ کی مجسّم صورت رحمت اللعالمینﷺ ہیں.... جب تک انؐ کے دامانِ رحمت سے وابستگی رہے گیٗ ہم اپنے اعمال کی عاقبت اور عقوبت سے محفوظ رہیں گے، جس دم دامانِ شفاعت سے بے تعلقی کا اظہار شروع ہوگا، پکڑ لیے جائیں گے۔ وابستگی کا اظہار سب سے پہلے جذبات کی صورت میں ہوتا ہے، پھر اعمال کی صورت میں۔ وابستگی کا اصل امتحان جذبات کا میدان ہے، اس میدان میں اگر مصلحت آڑے آجاتی ہے تو سمجھ لیجیےٗ ہم عمل سے نکل کر فلسفے کے چیستاں میں داخل ہو گئے ہیں۔ جذبہ.... قوّتِ عمل ہے۔ قوّت نکال دی جائے تو عمل چہ معنی دارد!
  11. Ala Haazrat Imam Ahle Sunnat ek basalayt or hayat zindagi k musannif thy.Inho nay bhot se Zaban may books likhe hain jis may Farsi,Arbi,Hindi,Urdu ect read k lian link pr click karain or Ala Hazrat ke zindagi k bary may b read kr sakty hain...Click this link https://www.dawateislami.net/bookslibrary/en/a-brief-biography-of-imam-ahmad-raza
  12. Pyare bhai unko kahain ke pura hawala dain maslan [Book Name, Volume No, Page No, Hadith No, Raqam No] etc. Phir agy bt hogi
  13. Ravion ke namoo ko Jarah Wa Tadeel ya Asma Ur Rijal ki kutab se kese dekhain?
  14. Assalam O Alaikum wa rahmatullah Baht hi kimti scan diya h bhai aapne Is kitaab ka cover page bhi send krdijiye bhai maherbani hogi Is scan me musannif or kitab ka naam nhi samjh ayega
  15. The biography of Ala Hazrat taught us a lesson of love, unified love for the beloved Prophet (Peace Be Upon Him). We should be acquainted with the life of Ala Hazrat and for this we can visit the website of Dawat-e-Islami where we can find many videos about the Biography of Ala Hazrat.
  16. Ek wahabi ne post ki h iska muh tod jawab chahiye ahle ilm jawab inayat farmaye poster attach karra hu
  17. Updated version of this article is here:
  18. Sayyidi Ala Hadrat rahimullah alayhi ta'ala nah sirf Wali thay woh apnay zamana mein Ghawth bi thay, sirf Aalim nahin thay, woh Mujtahid aur Mujadid, Mufassir aur Muhaddith bi thay. Idhar hammen nay lecture deh jah sheeshay mein apna moonh dekh aur Allah ki lannat jis par bars rahi heh dekh kar pechan leh. Rafzi khabeesa ko Taqqiyah mein Qadri honay ka makr bi aa gaya.
  19. Assalamualaikum Bhayan, Samajtha Hun Sab Khairiyath Se Honge, Bath Pe Atha Hun logo Koyi Pehele A Bathaawo Asal Mey Aala Hazrath AwLiya Allah Hai Ya Aalim Ya Khatiban(kithaab likne Wale) Hai, Agar AwLiya Allah ho Tho Ahale Bait Se Awr Abu Talib A S Sarkaar k Gharaane Se Bugz Nahi Rakhenge Kisi Haal Mey, Magar Ala Hazrath ne kaha Hai Abu Talib A S Sarkaar Emaan Na lake Dunya Se Ruksath Huwe Teh, Ala Hazrath ki A bath Se A Zahir Hotha Hai ki o Sarkaar Abu talib A S k Shaan Mey Ghustaki ki Hai, Awr Rahe Aalim Tho Aalim Sirf Awr Sirf Dunya Ki Sunkar kisi Haal Mey Haqq Jane Bina Kisi Tarha ki Kithaab Lik Nahi Saktha, q ki Dushmane Ali Awr Dushmane Ahale Baith Kuch Wultha seeda Awr Najayaz Hi Bolega , Awr Dushman ki Bath Sunkar Koyi Kaise Kithaab Lik Saktha Hai , Awr Ek Main Bath Koyi Aalim Awr Khathiban Raha Tho O Sabse Awwal Haqq Ko Jaan Na Hai Awr Haqq Likna Hai, Wo Jo Haqq Ko Samje Bina Likha Tho Wohi Asal Mey Jhuut Hai..
  20. The post Tajusharya Ki Khidmat | Mufti Ali Asghar | Explained Biography Of Tajusharya appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  21. The post 100 Saala Urs e Alaa Hazrat Hai | New Manqabat 2018 | Dawateislami | By Ashfaq Attari appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  22. Hazrat shujat jung bahadur k upar ka hissa khaa hai...kuch malum hai....ek post k mutabiq ye shijra sahabi se mil rha hai....kya ye thiq h
  23. The books library of Dawat-e-Islami contains numerous booklets of various authors including Imam Ahmed Raza Barelvi. He has composed a few books on different subjects in Arabic, Persian and Urdu. His composing motivates numerous Muslims.
  24. Ala Haazrat Imam Ahle Sunnat ek basalayt or hayat zindagi k musannif thy.Inho nay bhot se Zaban may books likhe hain jesa k Farsi,Arbi,Hindi,Urdu ect.... https://www.dawateislami.net/bookslibrary/en/a-brief-biography-of-imam-ahmad-raza
  25. Islamic scholars are the priests of Quran and Sunnah and they themselves lead their lives on the teachings of Islam. They share their knowledge with others through speeches so people can accomplish Islamic learning and act accordingly.
  1. Load more activity