All Activity

This stream auto-updates   

  1. Today
  2. Yesterday
  3. مر تو تمہیں جانا چاہیے جسمیں شرم نام کی چیز ہی کوئی نہیں جسے اسماء الرجال کی الف با کا علم نہیں ایک طرف ایک بندہ صحابئ رسول صلی الله عليه وآلہ وسلم کا دفاع کرنے کے لیے دلائل پر دلائل دے رہا ہے اور تمہاری نام نہاد تحقیق کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور دوسری طرف ایک ٹیڈی محقق جس سے جب بھی سوال کیا گیا جواب دینے کی بجاۓ بھاگتا گیا اور معاذاللہ صحابئ رسول صلی الله عليه وآلہ وسلم کو جہنمی ثابت کرنے پر تلا رہا لعنت تمہارے اس شر پر ۔تم نے اس بار بھی عسقلانی صاحب کی کسی بات کا جواب نہیں دیا بس وہی کاپی پیسٹ کر کے بھاگ گئے سوشل میڈیا پر ہمیں آپ کی اوقات کا علم ہے اور حرکات کا بھی۔اس لیے یہ بڑھکیں وہاں جا کر مارنا
  4. رضا عسقلانی صاحب آپ کلثوم بن جبر سے پہلے پرنٹ کی غلطی ثابت کر دیں ۔ میں نے آغاز میں ہی آپ کو کریم آقاﷺ کا اک فرمان مبارک دیکھایا تھا تاکہ آپ کو لکھتے وقت احساس رہے کہ کل کو ہر بات کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ یہ انا کے بت یہی پڑے رہ جائیں گے ۔ کریم آقاﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ : رضا عسقلانی صاحب آپ وہ بات چھپانے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ ثابت شدہ ہے ۔ آپ باربار صحیح و حسن اسناد کو رد کرنے کے لیے کبھی اقوال پیش فرماتے ہیں اور کبھی امام بخاری جیسوں کی تصدیق کو پرنٹ کی غلطی قرار دیتے ہیں ۔ میری طرف سے پیش کردہ امام بخاری کی تصدیق پر اس کو پرنٹ کی غلطی قرار دیا اور لکھا کہ : رضا عسقلانی صاحب اب جناب میں آپ نے پہلے جو کتاب پیش کی وہ دارالکتب مکتبه العلمیه بیروت کی شائع کردہ تھی جو کہ یہ تھی ۔ اب امام بخاری کی اس کتاب سے نہ صرف عبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ القرشيِّ کی تصدیق دیکھاتا ہوں بلکہ اسی کتاب کی تصریح سے قاتل بھی دیکھاتا ہوں کہ کون ہے ؟ جس کو بار بار آپ جیسے آج کے محققین چھپانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ۔ اور کیا کیا بہانے گھڑے جا رہے ہیں ۔ تو جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے اس دھماکہ خیز بلنڈر کا ڈراپ سین کرتے ہوئے جو کتاب آپ جناب کے سامنے رکھتا ہوں وہ ہے الناشر : دار المعرفة بيروت - لبنان والوں کی شائع کردہ تو جناب رضا عسقلانی صاحب پڑھیے کہ قاتل کون ہے ؟ جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کی ساری من گھڑت تحقیق کا ڈراپ سین کرتے ہوئے دوسری کتاب آپ کے سامنے رکھتا ہوں وہ ہے : الناشر: مكتبة الرشد - الرياض والوں کی شائع کردہ رضا عسقلانی صاحب اب جناب کی ساری من گھڑت تحقیق کی کہانی کا اختتام ہوتا ہے اور آپ جناب کے سامنے تیسری کتاب رکھتا ہوں جو کہ ہے : الناشر:دار الصميعي للنشر والتوزيع - ‏الرياض پڑھیے اور پلیز ایسی جعلی تحقیق پیش کر کے لوگوں کو گمراہ مت کریں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا خوف کریں اور سچ کو چھپانے کی ایسی تحقیق جو کہ صرف صرف اپنی من چاہی باتوں پر مبنی ہوں اس سے گریز کریں ۔ رضا عسقلانی صاحب عسقلانی جیسی اضافت کر لینے سے کوئی عسقلانی نہیں بن جاتا ، پلیز اگر اتنا ہی شوق ہے تو پھر کچھ نہ کچھ سچ ہی بولا ہوتا ، افسوس اب مجھے مذید کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں شوشل میڈیا پر اس موضوع پر آغاز آپ کی اسی پوسٹ سے کرنے جا رہا ہوں کہ التاريخ_الأوسط_للبخاري میں پرنٹ کی غلطی ہوئی ہے اور ساتھ یہی کتابیں لگا کر آپ کو اور باقی محققین کو مینشن کرتا ہوں اور ان شاءاللہ یہ لنک بھی دیتا ہوں ، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ کی تحقیق کو لوگوں کے سامنے بھی لیا جائے ۔ ان شاء اللہ ---------------------------- رضا عسقلانی صاحب آپ جیسے محققین ہی اھلسنت کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں جو آج بڑی دیدہ دلیری سے صحیح احادیث کا انکار کرتے ہوئے اپنی من چاہی تحقیق کے زریعے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ کاش آپ لوگوں کو احساس ہو جائے کہ آپ اھل سنت کو کسقدر نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ اللہ پاک آپ کو راہ ہدایت نصیب فرمائے َ ۔ آمین ----------------------- قادری سلطانی صاحب اب سیدھا سمندر کی طرف منہ کر جاو ویسے تو آپ جیسے لوگوں کے لیے چلو بھر پانی بھی کافی ہے ۔ مگر اللہ سے ضرور ڈرو اور صحیح روایات کا یوں دن کی روشنی میں انکار چھوڑ دو ۔ اب مارو بڑھکیں ۔ --------------------------
  5. اب اگر دوبارہ وہی کاپی ہیسٹ ہوا تو پوسٹ ڈیلیٹ ہو گی ان شاء اللہ عزوجل کیوں کہ غلام رافضی لاجواب ہو چکا ہے
  6. Last week
  7. Salam alayqum, Raza Asqalani bhai bhot umda magr aap ki post mein thora add karta hoon ... Agar aik rawi kissi say rawayat karay aur us ka sama sabat nah ho toh rawi zaeef nahin hota ... balkay thiqa bi ho sakta heh ... aur zaeef bi. Farq sirf yeh heh kay thiqa ho aur sama sabat nah ho toh phir us ki rawayaat qubul nah hoon gi jis mein kissi say us ka sama sabat nahin. Misaal kay tor par ... <sheen> rawayat karta heh <seen> say ... sheen thiqa rawi heh ... magr <sheen> ka <seen> say sama sabat nahin ho saka ... toh phir asoolan woh tamam rawayaat joh<Sheen> rawayat karay <Seen> say us ko qubul nahin keeya jahay ga. Magr keun kay <Sheen> thiqa rawi heh aur us ki baqi rawayat mein rawiyoon ka Sama sabat honay ki waja say qubul hoon gi. Janab Sama sabat kar denh aur woh bi jamhoor say toh aap ka kuch banta heh warna Ghulam Ahmad aur bi guzray hen ... aik Ghulam Ahmad Qadiyani ... Ghulam Ahmad Pervaiz, ... aur aap Ghulam Ahmad pata nahin kia gul khilahen gay. Sahabi maan kar jahannumi sabat karnay par tull gay hen ... lakh lanat.
  8. حضرت عمر ؓ سے مروی ترک رفع الیدین پر امام ابوزرعہؒ، امام حاکمؒ (الشافعی)اورامام بیھقیؒ (الشافعی)کی طرف سے وارد اعتراضات کا رد ہم نے پچھلی پوسٹ میں امام شعبیٰ سے مروی اثر کو بیان کیا تھا کہ وہ کبیر تابعی تھے اور ترک رفع الیدین کے مذہب پر تھے اور اس مسلے میں محدثین کا اختلاف بھی نہیں ہے کہ امام شعبی ترک رفع الیدین کے قائل تھے جیسا کہ امام بغوی السنہ میں فرماتے ہیں : وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلا عِنْدَ الافْتِتَاحِ، يُرْوَى ذَلِكَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَصْحَابُ الرَّأْيِ، وَاحْتَجُّوا بِمَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «أَلا أُصَلِّي بِكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلا أَوَّلَ مَرَّةٍ» (شرح السنہ ، امام بغوی ، جلد ۳، ص ۲۴) امام بغوی ؒ فرماتے ہیں : ایک طرف قوم کا مذہب یہ ہے کہ کہ نماز میں رفع الیدین نہیں کیا جائے گا سوائے شروع کے یہی وارد ہے امام الشعبی ، امام ابراہیم النخعی ، اور یہی قول ہے امام ابن ابی لیلی ، امام سفیان الثوری اور اصحاب الرائے یعنی(امام اعظم و صاحبین) اور انکا احتجاج اس روایت سے ہے جو عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ میں تم کو ایسی نماز پڑھ کر نہ دیکھاوں؟ جو نبی پاک نے ہم کو پڑھائی ، پھر (ابن مسعود) نے رفع الیدین نہیں کیا سوائے شروع کے اور امام شعبی کا یہ عمل متعدد اسناد صحیحیہ سے ثابت ہے جیسا کہ امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں : 2444 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا» (مصنف ابن ابی شیبہ، برقم: ۲۴۴۴) امام ابن مبارک (متفقہ علیہ) بیان کرتے ہیں اشعت(صدوق) سے اور وہ (شعبی) کے بارے کہتے ہیں کہ وہ رفع الیدین صرف شروع کی تکبیر میں کرتے تھے اور پھر نہ کرتے (سند حسن) دوسری سند : امام ابن ابی شیبہؒ امام الشعبیؓ کے اثر کی ایک اور سند بھی بیان کرتے ہیں جو یوں ہے 2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ» قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ» امام ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں : مجھے یحییٰ بن آدم (صحیحین کا راوی) وہ حسن بن عیاش(صحیحین کا راوی) وہ عبدالملک بن ابجر(متفقہ علیہ) سے بیان کرتے ہیں امام عبدالملک کہتے ہیں : میں نے حضرت امام الشعبیؓ ، امام ابراہیم النخعیؓ اور امام ابو اسحاق السبیعیؓ کو دیکھا وہ سوائے شروع میں نماز کے افتتاح کے پھر رفع الیدین نہیں کرتے تھے (وہ سند جید صحیح) امام شعبی سے مروی اثر کو ضعیف آج تک کسی ایک نہ محقق نہ کسی امام نے کہا ہے لیکن ایک شافعی محقق صاحب نے اس بحث سے نقل کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ امام عبدالملک سے مروی جو اثر مروی ہے حضرت عمر بن الخطابؓ کے بارے میں یہ شاز ہے اور عبداملک نے اوثق کی مخالفت کی ہے جیسا کہ یہ دعویٰ امام حاکم اور انکی تقلید میں امام بیھقی کا ہے اور یہی اعتراض امام ابو زرعہ سے بھی وارد ہے اور ہم اسکا انصاف سے جائزہ لیتے ہیں کہ اس اثر کے بارے میں شوافع محدثین سے خطاء ہوئی ہے اور احناف محدثین و فقہا کا موقف اس بارے میں صریح ہے لیکن ہم پہلے اس روایت کے متن پر ان تینوں محدثین کے اعتراض تمام نقل کر کے پھر احناف محدثین و فقہا کا جواب پیش کر کے اپنا تجزیہ انصاف سے پیش کرینگے ۱۔سب سے پہلے امام ابو زرعہ کا موقف پیش کرتے ہیں : 256 - وسألت أبي وأبا زرعة عن حديث رواه يحيى بن آدم (2) ، عن الحسن بن عياش، عن ابن أبجر (3) ، عن الأسود (4) ، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود: هل هو صحيح؟ أو يرفعه (5) حديث الثوري (6) ، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم (7) ، عن الأسود، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في افتتاح الصلاة حتى تبلغا منكبيه، فقط؟ فقالا: سفيان أحفظ وقال أبو زرعة: هذا أصح. يعني: حديث سفيان، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عمر (علل الحدیث لا ابن ابی حاتم) امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے والد اور امام ابو زرعہ سے سوال کیا کہ : جو حدیث ہے جسکو روایت کرتے ہیں یحییٰ بن آدم وہ الحسن بن عیاش وہ عبدالملک بن ابجر وہ (یہاں ابراہیم راوی کو ذکر نہیں کیا گیا) وہ الاسود سے اور وہ حضرت عمر ؓ سے کہ : وہ صرف شروع کی تکبیر میں رفع الیدیین کرتے تھے پھر نہ کرتے کونسی روایت صحیح ہے ؟ اور اس کو وارد کیا ہے سفیان الثوری نے بھی کہ حضرت بطریق متصل سند سے الاسود سے : کہ حضرت عمرؓ نماز میں افتتاح رفع الیدین سے کرتے یہاں تک کہ ہاتھ کندھوں تک پہنچتے اور سفیان زیادہ بڑے حافظ ہیں اور اما م ابو زرعہؒ نے فرمایا کہ یہ (سفیان) کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔ ۲۔امام بیھقی ؒ امام حاکم سے اس اثر پر جرح نقل کرتے ہیں : قال ابو عبداللہ الحافظ ھذہ روایة شاذة تقوم بہا الحجة، ولا یعارض بہا الاخبار الصحیحة الماثورة عن طاوس بن یسان عن ابن عمر ان عمر کان یرفع الیدیه فی الرکوع ، و ند رفع الراس منه وقد روی سفیان الثوری ھذا الحدیث بعینه عن الذبیر بن عدی ولم یذکر فیه ثم لم یعود امام حاکم فرماتے ہیں : یہ روایت شاذ ہے اور حجت بنانے کے لائق نہیں ہے اور اسکے معارض اخبار صحیحیہ میں وارد ہے جس میں الماثور وہ طاوس سے وہ ابن عمر اور حضرت عمر کے بارے بیان کرتے ہیں : کہ وہ رفع الیدین رکوع جاتے اور آتے کرتے تھے اور سفیان نے اس حدیث کو روایت کیا ہے زبیر بن عدی سے اور اس میں دوبارہ ہاتھ نہ اٹھانے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں امام بیھقی کی موافقت ہے اور امام حاکم کی بات کی دلیل وہ روایت دی ہے جسکو امام عبدالرزاق نے اپنی سند سے بیان کیا ہے جو کہ یوں ہے 2532 - عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ: «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِنَكَبَيْنِ» (المصنف عبدالرزاق برقم: ۲۵۳۲) الجواب: اب سب سے پہلے ہم دو روایات کے متن پیش کرتے ہیں جو مصنف عبدالرزاق نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے اسکو متن یوں ہے أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ: «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمَنْكِبَيْنِ حضرت عمر رفع الیدین کندوں تک کرتے تھے اور جو دلیل ہماری ہے جسکو امام ابن ابی شیبہ اور امام طحاوی نے اپنی اسناد صحیحیہ سے نقل کیا ہے اسکا متن یہ ہے جو متن امام ابن ابی شیبہ کا ہے وہ یوں ہے 2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ» اسکا متن یوں ہے کہ : امام الاسود کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ نماز ادا کی ہے وہ کہیں بھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے نماز میں سوائے نماز کے افتتاح کے وقت اور جو امام طحاوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے اسکے الفاظ یوں ہے كَمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ , قَالَ: ثنا الْحِمَّانِيُّ , قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ , ثُمَّ لَا يَعُودُ الاسود کہتے ہیں : میں نے دیکھا عمر بن خطاب کو کہ وہ اول تکبیر کے وقت رفع الیدین کرتے تھے پھر نہ کرتے اب علل کے محدثین روایات کے الفاظ پر بحث کرتے ہیں یا مفہوم پر ؟ اگر یہ کہا جائے کہ علل کے امام حدیث کے متن کے الفاظ پر بحث کرتے ہیں اگر یہی بات ہے پھر تو امام طحاوی کی سند بھی صحیح ہے اور اسکا متن الفاظ کے اعتبار سے مختلف ہے لیکن مفہوما ایک جیسی ہے اگر الفاظ مختلف بیان کرنے پر روایات شاز و منکر بن جائیں پھر تو اس اصول سے امام طحاوی و امام عبدالرزاق کی روایت جو مفہاما ایک جیسی ہے لیکن الفاظ کی تبدیلی کی وجہ سے شاز و منکر بن جائے گی جو کہ کبھی ہو نہیں سکتا اب آتے ہیں کہ علل کے امام رویات کو منکر و شاز مفہوم کے اعتبار سے کہتے ہیں کہ کوئی ثقہ اوثق کے خلاف متن میں ایسی زیادتی و کمی کرے کہ روایت کا آدھا متن ایک جیسا ہو اور اگلے متن میں مخالفت ہو جائے جس سے روایت کا متن میں تبدیلی آجائے یا تعارض پیدا ہو جائے اوثق کی رروایات کے خلاف جبکہ یہاں یہ دونوں حالتیں نہیں ہے جیسا کہ امام حاکم نے امام سفیان الثوری کی جس روایت کو دلیل بنایا ہے یہ روایت متنا ہی اور باب کی ہے اسکا تعلق دوسری روایت سے بالکل ثابت ہی نہیں سوائے اسکے کہ ان دوروایات کی اسناد ایک جیسی ہے جو کہ حتمی دلیل نہیں کہ یہ روایت ایک ہے کیونکہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ایک تو یہ تصریح ہے کہ الاسود کہتے ہیں میں نے خود حضرت عمر کے ساتھ نماز پڑھی ہے یا انکو دیکھا ہے اور اس روایت میں رفع الیدین کس مقام پر کرنے کی تصریح ہے اور کس مقام نہ کرنے کی دلیل ہے اور جو روایت مصنف عبدالرزاق کے طریق سے ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ رفع الیدین کرنا کہاں تک ہے ؟ آیا کندھوں تک یا کانوں کی لو تک ؟ کیونکہ محدثین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ رفع الیدین کرنے کے لیے ہاتھوں کو بلند کتنا کیا جائے ؟ (یہ علیحدہ باب ہے اور رفع الیدین نماز میں کن کن مقامات پر کرنا چاہیے ؟(یہ علیحدہ باب ہے ) تو فقط سند ایک ہو جانے سے امام ابو زرعہ نے سفیان کی روایت کو اصح کہا (لیکن عبد الملک کی روایت کو ضعیف نہ کہا ) جبکہ امام حاکم نے اس روایت کو پہلے معارض بنایا ایک اور روایت سے پھر دوسری علت سفیان الثوری کی روایت کی وجہ سے پیش کی ہے لیکن دونوں روایات کا نہ ہی شروع کا متن ایک جیسا ہے نہ ہی الفاظ اور نہ ہی مفہوم ایک جیسا ہے اسی طرح امام طحاوی نے جو بات ذکر کی ہے وہ بھی ہمارے استدلال کی تائید کرتی ہے چناچہ محدث الوقت و فقیہ العصر امام الطحاوی فرماتے ہیں: 1364 - كَمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ , قَالَ: ثنا الْحِمَّانِيُّ , قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ , ثُمَّ لَا يَعُودُ , قَالَ: وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ , وَالشَّعْبِيَّ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَهَذَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ أَيْضًا إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لِأَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَيَّاشٍ , وَإِنْ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا دَارَ عَلَيْهِ , فَإِنَّهُ ثِقَةٌ حُجَّةٌ , قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ أَفَتَرَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَفِيَ عَلَيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ , وَعَلِمَ بِذَلِكَ مَنْ دُونَهُ , وَمَنْ هُوَ مَعَهُ يَرَاهُ يَفْعَلُ غَيْرَ مَا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ , ثُمَّ لَا يُنْكِرُ ذَلِكَ عَلَيْهِ , هَذَا عِنْدَنَا مُحَالٌ. وَفَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا وَتَرَكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ عَلَى ذَلِكَ , دَلِيلٌ صَحِيحٌ أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الْحَقُّ الَّذِي لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ خِلَافُهُ امام طحاوی اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ حضرت عمررضی اﷲعنہ جو اس روایت کے مطابق صرف پہلی تکبیرمیں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور یہ روایت صحیح ہے۔ کیونکہ ***اس کا دارمدار حسن بن عیاش راوی پر ہے۔ ** اور وہ قابل اعتماد وپختہ راوی ہے۔ جیساکہ یحییٰ بن معینؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ یہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ جناب رسول اﷲﷺرکوع اور سجدے میں ہاتھ اٹھاتے ہوں اور عمربن خطاب رضی اﷲعنہ کو معلوم نہ ہواوردوسروں کو معلوم ہوجائےجو ان سے کم صحبت والے ہوں۔ اور آپ کے ساتھی آپ کو ایسا فعل کرتے دیکھیں جو جناب رسول اﷲﷺ نے نہ کیا ہوپھروہ اس کا انکار نہ کریں۔ ہمارے نزدیک تو یہ بات ناممکنات میں سےہے۔ حضرت عمررضی اﷲعنہ کا یہ عمل اور اصحابِ رسول اﷲﷺکا رفع یدین کو چھوڑنا اس بات کی پکی دلیل ہے کہ یہ ایسا حق ہے کہ کسی عاقل کو اس کے خلاف کرنا مناسب نہیں۔ (شرح معانی الاثار للطحاوی) پہلا نقطہ یہ ہے کہ امام طحاوی نے اس روایت کا دارومدار جس راوی پر بنایا ہے وہ الحسن بن عیاش ہے اور صحیحین کا متفقہ راوی ہے اس سے معلوم ہوا امام طحاوی نے سفیان والی روایت جو کہ کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کے بارے ہے اس روایت کا عدم ذکر کیا ہے کیونکہ انکے نزدیک بھی سفیان والی روایت اس باب کی ہے ہی نہیں جبکہ امام حاکم و شوافع سفیان والی رویت کی سند ایک ہونے کی وجہ سے یہ دو مختلف اوقات و متن کی روایات کو ایک بنا دیا جو کہ انکا استدلال بالکل غلط ہے اب ہم اپنی تائید امام الزيلعي جنکے بارےشوافع کہتے ہیں کہ یہ انصاف پسند محدث تھے اور تعصب سے پاک تھے وَاعْتَرَضَهُ الْحَاكِمُ: بِأَنَّ هَذِهِ رِوَايَةٌ شَاذَّةٌ لَا يَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ، وَلَا تُعَارَضُ بِهَا الْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ عَنْ طَاوُسٍ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ2 أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ بِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: لَمْ يَعُدْ، ثُمَّ رَوَاهُ الْحَاكِمُ، وَعَنْهُ الْبَيْهَقِيُّ بِسَنَدِهِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ إبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عُمَرَ3 كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي التَّكْبِيرِ، انْتَهَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَمَا ذَكَرَهُ الْحَاكِمُ فَهُوَ مِنْ بَابِ تَرْجِيحِ رِوَايَةٍ لَا مِنْ بَابِ التَّضْعِيفِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إنَّ سُفْيَانَ لَمْ يَذْكُرْ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ فِيهِ: لَمْ يَعُدْ، فَضَعِيفٌ جِدًّا، لِأَنَّ الَّذِي رَوَاهُ سُفْيَانُ فِي مِقْدَارِ الرَّفْعِ، وَاَلَّذِي رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ فِي مَحَلِّ الرَّفْعِ، وَلَا تَعَارُضَ بَيْنَهُمَا، وَلَوْ كَانَا فِي مَحَلٍّ وَاحِدٍ لَمْ تُعَارَضْ رِوَايَةُ مَنْ زَادَ بِرِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ: ثِقَةٌ، هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ عَنْهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ بن سعيد الدرامي: الْحَسَنُ. وَأَخُوهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كِلَاهُمَا عِنْدِي ثِقَةٌ. (نصب الراية لأحاديث الهداية مع حاشيته بغية الألمعي في تخريج الزيلعي، جلد ۱ ، ص ۴۰۱) امام زیلعی فرماتے ہیں : اعتراض کیا ہے حاکم نے کہ یہ روایت شاذ ہے اور اس کو حجت نہیں بنایا جا سکتا ہے جیسا کے اسکے مخالف خبر میں حضرت عمر سے رفع الیدین کرنا آیا ہے اور جو سفیان کی حدیث ہے زبیر بن عدی سے اس میں لم یعد یعنی دوبارہ ہاتھ نہ اٹھانے کا ذکر نہیں ہے اور پھر امام زیلعی نے امام بیھقی کی سند سے سفیان والی روایت نقل کی ہے اسکے بعد فرماتے ہیں : حاکم نے جو ذکر کیا ہے یہ ترجیح کے معاملے سے ہے نہ کہ روایت کو ضعیف بنانے کے جیسا کہ انکا قول ہے : سفیان نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اس میں ثم لایعود کے الفاظ نہیں ہے یہ بات ضعیف جدا ہے کیونکہ امام سفیان الثوری کی روایت میں رفع الیدین کی مقدار کا ذکر ہے اور جبکہ عبدالملک کی روایت جو ہے یہ رفع الیدین کے محل یعنی اسکے مقام کے تعلق سے ہے یہ دونوں علیحدہ باب کے تعلق سے ہیں اگر اسکو ایک ہی واقعہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی متن میں تعارض نہیں ہوتا ہے (جیسا کہ دعویٰ ہے شوافع کا ) کیونکہ ایک ثقہ راوی نے ایک ہی وقعے میں ایک نے رفع الیدین کی مقدار کا ذکر کیا اور دوسرے ثقہ راوی نے رفع الیدین کا محل یعنی مقام ذکر کیا ہے پھر بھی متن میں تعارض نہیں ہے اسکے بعد امام زیلعی نے بھی الحسن بن عیاش (جو متفقہ علیہ صحیحیں کا راوی ہے اسکی توثیق پیش کی ہے) اہم بات آپ کے شافعی امام دقیق العید الشافعی کا بھی موقف بھی یہی ہے کہ یہ روایت اور باب کی ہے اب تو آپکے گھر سے بھی گواہی آگئی ہے اور امام زیلعی نے بھی تائید کی ہے امام دقیق العید کی خلاصہ: امام حاکم نے روایت کی سند پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ رفع الیدین حضرت عمر سے ثابت ہونے کی وجہ سے اسکو شاز بنایا اور جو امام ابورعہ و امام حاکم و بیھقی نے سفیان کی روایت کو اسکے مخالف بیان کیا ہے اور شاذ کہا ہے یہ انکی خطا ہے کیونکہ شاذ روایت تب ہوتی ہے جب روایت کے متن میں تطبیق نہ دی جا سکے اور روایت اوثق کے خلاف مفہوما ہو جبکہ یہاں ایسی بات نہیں ہے اور امام طحاوی کا کہنا کہ الحسن بن عیاش کا مدار پر یہ حدیث ہے اور وہ ثقہ و حجت ہے انکی بات بالکل صحیح ہے کیونکہ حضرت عمر سے رفع الیدین کا ترک بیان کرنے میں یہی منفرد ہیں واللہ اعلم دعاگواسد الطحاوی الجواب : یہاں ایک بات جو عرض ہے ایک تو امام ابو زرعہ نے ترک رفع الیدین کے اثر کو ضعیف نہیں کہا بلکہ سفیان سے مروی طریق کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے لیکن بنیادی بات جو نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ ہے جتنے بھی محدثین بشمول امام ابو زرعہ وغیرہ نے اس روایت میں جو کلام کیا ہے انہوں نے فقط سند کا ایک جیسے ہونے کی وجہ سے یہ استدال کیا ہے کہ سفیان الثوری (جنکی سند بالکل ایک جیسی ہے امام عبدالملک کی سند کے) تو یہ روایت ایک ہی ہے لیکن امام عبدالملک (متفقہ علیہ) سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ امام سفیان نے جو متن بیان کیا ہے اس میں ثم لایعود کے الفاظ نہیں ہیں امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں : إِلَى أَيْنَ يَبْلُغُ بِيَدَيْهِ کہ ہاتھ کہان تک اٹھانے ہیں اور امام وکیع کے حوالے سے سفیان سے یہ روایت لاتے ہیں 2413 - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، «أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ» اس متن میں امام عبدالرزاق حضرت عمر کا ایک فعل بیان کر رہے ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ) اسکے بعد پھر ایک اور باب قام کرتے ہیں : مَنْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَا يَعُودُ کہ نماز مین تکبیر اول کے بعد رفع الیدین نہ کرنا پھر پھر عبدالملک والی روایت لے کر آتے ہیں 2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ» جبکہ اس متن میں حجرت الاسود تصریح کر رہے ہیں کہ میں نے خود نماز پڑھی حضرت عمر کے ساتھ اور انکو دیکھا یہ یاد رہے جو ترک رفع الیدین والی روایت ہے اس میں الحسن بن عیاش لازمی ہے اور جو منکبین والی روایت ہے اسکو روایت کرنے والا صرف امام سفیان الثوری ہے (مصنف ابن ابی شیبہ) جیسا کہ امام عبدالرزاق نے بھی سفیان الثوری سے منکبین یعنی مقدار کی روایت ہی بیان کی ہے 2532 - عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ: «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِنَكَبَيْنِ» (مصنف عبدالرزاق) اب ہم امام ابو زرعہ کا کلام پیش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو زرعہ کو جو روایت ملی ہے اسکی سند میں مسلہ ہے باقی ان تک جن راویان سے متن پہچنا وہ بالکل غیر ثابت ہے 256 - وسألت أبي وأبا زرعة عن حديث رواه يحيى بن آدم (2) ، عن الحسن بن عياش، عن ابن أبجر (3) ، عن الأسود (4) ، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود: هل هو صحيح؟ أو يرفعه (5) حديث الثوري (6) ، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم (7) ، عن الأسود، عن عمر: أنه كان يرفع يديه في افتتاح الصلاة حتى تبلغا منكبيه، فقط؟ فقالا: سفيان أحفظ. ایک تو سند جو بیان کی گئی ہے اس میں نہ ہی زبیر بن عدی ہے نہ ہی ابراہیم النخعی ہے اور متن میں یوں ہے کہ ان کان یرفع الیدین فی اول تکبیر ثم لایعود جبکہ یہ متن بالکل کہیں نہیں کہ متن ان کان سے شروع ہو رہا ہو یہ روایت ہمیشہ رائت یا صلف مع سے شروع ہوتی ہے یعنی امام الاسود حضرت عمر کو دیکھنے یا انکے ساتھ ہونے کی تصریح کرتے ہیں دوسری بات جو روایت انکو سفیان کے طریق سے پہنچی ہے اسکا متن یون ہے عن عمر ان کان یرفع یدیہ فی افتتاح الصلاتہ حتی تبلغنا منکبینہ امام ابو زرعہ نے سند سفیان سے شروع کی ہے اور سفیان سے یہی روایت بیان کرنے والے ایک امام عبدالرزاق ہیں دوسرے امام ابن ابی شیبہ ہیں تیسرے اما م وکیع ہیں جو سارے کے سارے اوثق ہیں ابو زرعہ سے ان میں کسی نے بھی سفیان والے طریق میں افتتاح والا متن ذکر نہیں کیا جس سے مغالطہ ہوا ہوگا ابو زرعہ کو کیونکہ ابو زرعہ نے اپنے شیخ کا نام نہیں لیا کہ کن طریق سے ان تک روایت پہنچی بیشک وہ ثقہ ہونگے ا سے ہم کو اختلاف نہیں جبکہ ہمارے سامنے وہ راویان ہیں جو ابو زعہ سے اوثق ہیں تو انکے شیخ کا درجہ تو جو ہوگا ہوگا یعنی حضرت عمر افتتاح نماز مین رفع الیدین کرتے یہان تک کہ ہاتھ کندھوں تک پہنچ جاتے
  9. جناب بے سند اور بے دلیل اقوال کو بڑا پیش کرتے ہیں اب ہم جناب کو الزامی طور پر ایسے بے سند اور بے دلیل اقوال پیش کرتے ہیں اب جناب یہاں مانتے ہیں یا نہیں ؟؟ پہلا قول امام ابوحاتم کا سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) (جناب اس قول کو اپنے اصول کے مطابق مانیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی معاذاللہ صحابیت کا انکار کریں۔) دوسری بات: عبد المغیث بن زہیر علوی حربی نے یزید ملعون کے فضائل میں پوری کتاب لکھی جس کے بارے میں امام ذہبی تذکرہ کرتے ہیں: صنف جزءا فی فضائل یزید ، اتی فیہ بالموضوعات اس (عبدالغیث) نے یزید کے فضائل پر ایک جز لکھا جس میں موضوع روایات درج کیں۔ (العبر فی خبر من غبر ج 4 ص 249) اور اس خود یزیدی کے بارے میں امام ذہبی کہتے ہیں: وکان ثقۃ سنیا مفتیا صاحب طریقۃ حمیدۃ اور (عبدالمغیث) ثقہ ، سنی اور بہترین راستے پر چلنے والا تھا۔ (العبر فی خبر من غبر ج4 ص 249) (اب یہاں جناب امام ذہبی کی بے دلیل مانیں کہ یزید کے فضائل لکھنے ولا سنی اور بہترین راستے پر چلنے والا ہوتا ہے؟؟) تیسری بات: امام ذہبی امام ابن عساکر سے لکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے ساتھ مل کر جہاد کیا و قال ابن عساکر: و قد الحسین علی معاویۃ، و غزا لقسطنطینیۃ مع یزید اور امام ابن عساکر نے کہا: حیسن رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یزید کے ساتھ قسطنطنیہ میں جہاد کیا۔ (تاریخ الاسلام ج 2 ص 636) (اب جناب اپنے اصول سے امام ابن عساکر کی بے سند بات مانیں کہ معاذاللہ سیدناحسین رضی اللہ عنہ یزید کے ساتھی تھے فوج میں) چوتھی بات: امام لیث بن سعد نے کہا: توفی امیر المومنین یزید فی سنۃ اربع و ستین امیر المومنین یزید کی وفات س 64 ہجری میں ہوئی۔ (تاریخ خلیفۃ بن خیاط ص 253) (اب جناب اپنے اصول کے مطابق امام لیث بن سعد کی بے دلیل اور بے سند بات کو مانیں اور یزید کو معاذاللہ امیرالمومنین تسلیم کریں؟؟) پانچویں بات: امام عبدالغنی مقدسی نے یزید کے بارے میں کہا: خلافیہ صحیحۃ، و قال بعض العلماء: بایعہ ستون من اصحاب النبی ﷺ منھم ابن عمر۔ یزید کی خلافت صحیح ہے اور بعض علماء نے کہا ساٹھ صحابہ نے اس کی بیعت کی تھی جس میں ابن عمر بھی ہے۔ (ذیل طبقات الحنابلۃ ج 2 ص 34) (اب جناب اپنے اصول کے مطابق امام مقدسی کی بے دلیل اور بے سند بات کو تسلیم کریں؟؟) چھٹی بات حافظ ابن کثیر نے یزید کو امیر المومنین لکھا: ھو یزید بن معاویۃ بن ابی سفیان بن صخر بن حرب بن امیۃ بن عبد شمس ، امیر المومنین ابوالخالد الاموی (البدایۃ والنھایۃ ج 8 ص 226) آگے ور جگہ لکھا: و قد کان عبداللہ بن عمر بن الخطاب و جماعات اھل بیت النبوۃ ممن لم ینقض العھد و لا بایع احدا بعد بیعہ لیزید۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ کے اہل بیت کی جماعتوں نے یزید کی بیعت نہیں توڑی اور نہ یزید کی بیعت کے بعد کسی اور سے بیعت کی۔ (البدایۃ والنہایۃ ج8 ص 238) (اب جناب حافظ ابن کثیر کی بے دلیل اور بے سند باتوں کو تسلیم کریں اپنے اصولوں سے کیونکہ جناب ہی ہیں جو بے سند اور بے دلیل قول کو ایسے ہی مانے جارہے ہیں اس لئے ہم بھی جناب کو کچھ اقوال پیش کر دیے اب دیکھتے ہیں یہاں جناب کا کیا رنگ نکلتا ہے۔) نوٹ: میرے نزدیک یہ سارے اقوال بے دلیل اور بے سند ہیں باقی جن علماء نے یہ بات لکھی ہے یہ ان کا تسامح ہے ۔ باقی جمہور ائمہ اہل سنت کا یہ موقف نہیں ہے واللہ اعلم
  10. ارے جناب ہم نے جو اقوال لگائے تھے ان کا جواب نے جناب دیا نہیں اور جناب خوش ہو رہے ہیں یہ جناب کے فائدہ کے لیے ہیں جب کے یہ جناب کے رد کے لئے ہیں۔ حضرت امیر معاویہ کی صلح اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا بیعت کرنا ہی کافی ہے اگر حضرت امیر معاویہ صلح کے بعد معاذاللہ شرعی باغی بنتے ہیں تو سیدنا امام حسن بھی معاذاللہ باغی کی رعایہ بنتے ہے اس لئے سوچ سمجھ کر بات کرو۔ رافضی و ناصبیوں کو جہنم کا کتا کہنا یہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کا ذاتی قول ہے اور انہوں نے یہاں اپنے سے پہلے سو یا دو سو سال گزرے لوگوں کے بارے میں اپنی بات نہیں کی جس کی سند کی تحقیق کی جائے۔ اور قاضی عیاض علیہ الرحمہ کے قول کی بہت سی صحیح احادیث گواہ ہیں اس لئے ہماری چھوڑیے اپنی فکر کیجیے۔
  11. ارے جناب امام عسقلانی کہاں کلثوم بن جبر والی قاتل والی روایت کی تصدیق کی ہے؟؟ ذرا تصدیق دیکھنا تصحیح و تحسین کی صورت میں؟؟ باقی امام عسقلانی نے احادیث کے اطراف جمع کیے مسانید کے اگر اطراف جمع کرنا تصدیق ہے تو اس میں تو کئی ضعیف اور موضوع روایات ہیں تو کسی امام نے اس بات کی تصریح نہیں کہ یہ تمام اطراف امام عسقلانی کے نزدیک صحیح الاسناد ہیں؟؟ اطراف جمع کرنا اور ہوتا ہے تصحیح و تحسین کرنا اور ہوتا ہے میاں ذرا اصول حدیث پڑھو۔
  12. ارے میاں پوسٹ چپکانے سے پہلے غور سے پڑھ لیا کرو۔ اس کتاب میں امام عسقلانی نے کوئی قاتل نہیں لکھا بلکہ یہ حاشیہ بھی کسی اور کا ہے امام عسقلانی کا نہیں ہے اور اس کے علاوہ اس میں تو امام عسقلانی نے احادیث اطراف جمع کیے ہیں۔ اس لئے قاتل والی بات کو امام عسقلانی کی کتاب إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کی طرف منسوب کرنا باطل ہے۔ اس لئے تحقیق سے کام لیا کرو اندھا دھند پوسٹ نہ چپکایا کرو۔ ہاہاہاہا ارے میاں میں کلثوم بن جبر کو ضعیف پہلے کہاں کہا ہے پہلے یہ تو ثابت کرو پھر ایسی بات کرنا میں نے جو بات کی تھی جو یہ کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کلثوم بن جبر کا سماع ثابت نہیں ہے ۔ لیکن جناب نے اس بات کو ثابت نہیں کیا اور مجھ پر ایسے الزام لگا دیا کہ میں کلثوم بن جبر کو ضعیف سمجھتا ہوں حیرت کا مقام ہے یار آپ پر تو؟؟
  13. اس روایت کی امام ابن حجر نے تصحیح نہیں کی ہے امام ابن حجر نے بس روایت نقل کر دی ہے۔ باقی یہ حاشیہ امام ابن حجر کا نہیں ہے لہذا امام ابن حجر سے اسے منسوب کرنا باطل ہے۔ باقی یہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ایک مجہول راوی ہے جس کی نشان دہی ہم کئی بار کر چکے ہیں لیکن جناب اسے کتب بدل بدل کر پوسٹ کرتے رہتے ہیں جب کہ روایت ایک ہی ہے۔ اس کی پہلی سند میں وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری سند کو امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار چکے ہیں اس کا حوالہ بھی ہم پہلے دے چکے ہیں جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے جناب جب ہمارے رد کا کوئی جواب نہین دیتے پھر وہی پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر کیونکہ پوسٹ کرتے رہتے ہو؟؟ ارے میاں ہزار کتب بدل لو سند ایک ہی رہتی ہے اس لئے کتابیں بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
  14. کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ دو سو سال بعد یا تین سال بعد کے بے سند قول یا بے دلائل اقوال سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ورنہ تو ایسے قول تو معاذاللہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہیں کہ وہ یزید کی بیعت اور امیرالمومنین کہنے کو تیار تھے یہی باتیں بھی امام ذہبی وغیرہ نے لکھی ہیں۔ کوئی بات کو درج کرنے سے وہ بات ان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی جب تک وہ ان قول کی تصحیح نہ کر دیں ورنہ امام ذہبی اور امام بن حجر نے بے شمار بے سند باتیں اور ضعیف روایات کو اپنی کتب میں درج کر دی ہیں جو خود ان کے اصول کے مطابق صحیح نہیں ہیں۔ اصل بات اصول کی ہوتی ہے ورنہ رطب وبابس کتب میں موجود رہتا ہے جب کوئی مسئلہ ہو گا تو اصول کے مطابق ہی بات کی جایئے گی نہ کہ درج کرنے اسے حجت مانا جائے گا ورنہ تو بہت سے محدثین نے موضوع روایات درج کر دی ہیں تو کیا وہ ان کے نزدیک حجت ہیں؟؟ نہیں ہرگز نہیں ان کا کام ہے ہر وہ بات جو انہیں ملے وہ درج کر دیتے ہیں بعد میں وہ خود یا بعد کے علماء اس کی تحقیق کرتے ہیں جیسے امام ذہبی نے مستدرک کی روایات کی تحقیق کی ہے۔
  15. ارے میاں پہلے بھی سمجھایا ہے امام ابن معین جنگ صفین میں نہیں تھے اور جب جنگ صفین میں نہیں تھے تو یہ بات کن سے سنی ہے اس کی کوئی سند ہے یا نہیں جناب کے پاس؟؟ اگر صرف اقوال مان لینا ہے تو ایسے بے دلیل اقوال کافی زیادہ ہیں ان میں ایک جناب کو ہم پیش کر دیتے ہیں امام ابوحاتم الرازی کا: سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) چلو اب یہاں اپنے اصول کے مطابق امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی مانو بنا کسی چاں چوں کیے کیونکہ تم بھی امام ابن معین کا قول بھی بنا تحقیق کے مان رہے ؟ اگر اس قول کو ماننے سے انکار کرتے ہو تو پھر امام ابن معین کا بے سند اور بے دلیل قول سے استدلال کیوں کیے ہوئے؟ اب تمہارے اصول سے تم نے یہ دونوں قول ماننے ہیں اگر نہیں مانتے تو یہ دوغلا پالیسی ہے اپنی مرضی کا قول ماتے ہو اور اپنی مرضی کے خلاف قول چھوڑ دیتے ہو۔
  16. ارے میاں ہم تو ائمہ حدیث کے اصولوں پر بات کرتے ہیں ورنہ جناب کی طرح ایسی باتوں سے استدلا ل شروع کر دیں تو فساد برپا ہو جائے گا کیونکہ ثقہ محدثین سے ایسے عجیب و غریب قول ہیں جیسے امام ابوحاتم نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کر دیا ہے امام ابن ابی حاتم اپنے والد سے لکھتے ہیں: سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) لو جیسے امام ابن معین کا قول بنا دلیل کے مان رہے تو اب یہاں بھی امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی بنا دلیل کے مان لو کیونکہ یہی جناب کی واردات چل رہی ہے اس قول کو مان کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کر دو۔ معاذاللہ اس لئے کہا ہے ہم ان ائمہ کا ادب ضرور کرتے ہیں لیکن ہر بات کو ایسے نہیں مان لیتے جیسے جناب نے استدلال کیے ہوئے ہیں۔۔ ارے جناب ضرور لگائیں پوسٹ ہم تو کب کا انتظار میں ہیں کہ کب ہماری باتوں کا جواب دو گے ابھی تک ہماری ایک بات کو جواب نہیں دیا روزانہ وہی پرانی باتیں جن کا ہم کئی بار تحقیقی اور اصولی جواب دے چکے ہیں۔
  17. بے شک ان ائمہ نے صحابہ کرام کے حالات پر کتب لکھیں تو کوئی نہ کوئی دلائل سے لکھا ہو گا نا یا خود سے ایسے لکھی دی کیا یہ ائمہ صحابہ کے زمانے میں تھے؟؟ اگر نہیں تھے تو سند بیان کی ہوگی اور ان ائمہ نے خود سند سے بیان نہیں کیا تو اور ائمہ نے سند سے بیان کیا ہو گا کیونکہ یہ ائمہ خود ناقل ہیں یہ خود روایت نہیں کرتے اس لیے جو انہوں اس بات کی سند لکھی ہے تو جناب پر فرض ہے وہ پیش کریں ورنہ امام شعبہ کا قول صحیح سند کے ساتھ قول دیکھ لیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی حدیث جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13، المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17،الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) یہ ہم نہیں خود محدثین کا اصول اس کو رد کر رہا ہے میاں اس لئے اصول محدثین پر بات کرو ہم پر الزام نہ لگاو کیونکہ ہم تو اصول پر چلنے والے ہیں۔
  18. ارے جناب تعجب تو جناب پر ہے ایک ہی ضعیف روایت کو 8 کتابوں سے دیکھایا تو کون سا تیر مار دیا ہے روایت تو ایک ہی ہے سند بھی ایک ہی تو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا فائدہ؟؟ باقی جناب نے جو دعوی کیا صحیح و حسن اسناد کا ہم اوپر ان کا کی اسناد کا پوسٹ مارٹم کر آئے ہیں ان میں ایک کا بھی جواب نہیں دیا ۔ یزیدی مان چکے ہیں ہم تو ان کو تحقیقی طور پر ضعیف ثابت کر چکے ہیں اگر یزیدی سلفی ہی جناب کے نزدیک محدث اور محقق ہیں تو جناب کو مبارک ہوں ورنہ ہم تو ایسے لوگوں کی باتیں نہیں مانتے۔
  19. یاد رہے بدمذہبوں سے اصل اختلاف ان کی کفریہ عبارات پر ہے نہ کہ ان باتوں پر۔ سیدی اعلیحضرت،امام اہلسنت علیہ الرحمہ ملفوظات شریف میں ارشاد فرماتے ہیں: وہابی غیر مقلد قادیانی وغیرہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ اُصول چھوڑ کر فرعی مسائل میں گفتگو ہو ، انہیں ہرگز موقع نہ دیا جائے۔ان سے یہی کہا جائے کہ تم اسلام کے دائرے میں آلو،اپنا مسلمان ہونا تو ثابت کرلو پھر فر عی مسائل میں گفتگو کا حق ہوگا۔
  20. بدمذہبوں کی عقل کا ماتم کریں۔ ان الفاظ پر غور فرمائیں۔ منقول از فتاوٰی امدادیہ معروف بہ فتاوٰی اشرفیہ جلد چہارم صفحہ ۵۷ و ۵۸
  21. Bhai title Urdu mn likh k neechy kuch or likha ....kia likha kuch samjh ni a raha.....faida esi post krny ka
  22. رضا عسقلانی صاحب تعجب ہے کہ آپ 8 کتابوں سے ثابت اسناد صحیح و حسن کو بغیر کوئی کتاب دیکھائے انکار کرنے کے بعد ان بغیر اسناد کے اقوال سے اس بات کا انکار کر رہے ہیں جسے تقریباً ہر محدث ، ہر محقق مان چکا ہے ۔ اور اب تو میں نے صحابہ کرام کی لکھی ہوئی دو کتب جنہیں عالم اسلام میں مانا اور تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کے دو محدثین أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني اور عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزریؒ دونوں سے ثابت کیا کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے ۔ لیکن جناب عسقلانی صاحب آپ اب ان محدثین کا بھی انکار فرما رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔ اور اس بھی افسوس ناک بات آپ نے بقول الدوری کے یحییٰ ابنِ معین کے قول کو بڑی بےرحمی سے رد فرما دیا جبکہ کہ دونوں امام حجت اور ثقہ ہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا کہ آپ سے آپ کی ان باتوں کو جواب نہیں مانگا جائے گا میرے دوست سوشل میڈیا پر جس دن بھی یہ مکمل پوسٹ میں لگاؤں گا اسی دن آپ سب دوستوں کو مینشن کر کے اہل علم کی موجودگی میں آپ کی اک اک بات آپ سے یوں ہر محدث و محقق کی تحقیق کو ٹھکرانے اور ائمہ اہل سنت کے اقوال کو دیوار پر مارنے پر آپ سے وضاحت مانگی جائے گی ، ان شاء اللہ ۔ آپ نے جو یوں یحییٰ ابن معین کی بات کو رد کیا ہے تو بتائیں کہ ابن حبان کی ثقات کی اس کتاب کو کس کھاتے میں ڈالیں گے ؟ جناب رضا عسقلانی صاحب کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے ہی ہم نام محدث کی بات کا انکار فرما رہے ہیں اور اس کی اسناد صحیح نہیں ہیں تو کیا امام حجر عسقلانی نے غلطی سے یا تسامح کھا کر ابوالغادیہ کو قاتل لکھا ََ ۔ آپ نے لکھا کہ ابن معین کا لکھ دینا کسی کے لیے حجت نہیں ہو سکتا ، تو ابن حجر تو امام حاکم کو ، امام مسلم کو ، ابن معین کو حجت مان رہے ہیں اور اور روایات درج کرنے کے بعد ابوالغادیہ کو قاتل بھی قرار دے ہیں اور پہلے ان سے ثابت کیا کہ ابن حجر نے عوام الناس کو یہ اگاہی بھی دی جوشیخ ابو الحسن محمد بن عبد الہادی ٹھٹوی سندھی مدنی الحنفی نے دی تھی کہ : ابوالغادیہ جب بھی معاویہ کے دروازے پر آتا تو کہتا کہ عمارؓ کا قاتل آیا ہے ۔ پہلی پوسٹ میں مکمل کتاب اوپر لگی پڑی ہے ۔ اب امام حجر کی دوسری کتاب بھی پڑھ ہی لیں ۔ اور روایات بھی بغور دیکھ لیں ۔ اور ساتھ ہی ائمہ اھل سنت کو پڑھیں جن کو ابنِ حجر حجت مان رہے ہیں ۔ اب ابن حجر عسقلانی کی تیسری إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کتاب جناب رضا عسقلانی صاحب ابن حجر عسقلانی نے اپنی تین کتابوں سے ابو الغادیہ کو قاتل ڈکلئیر کر دیا ۔ جب آپ رضا عسقلانی صاحب بقلم خود اپنے مبارک ہاتھوں سے کلثوم بن جبر کو ثقہ تسلیم لکھ اور کر چکے ہیں جو کہ میرے پاس محفوظ ہے تو پھر جناب بار بار بے سند اقوال اور روایات کا شور کیوں ؟ اور پھرابن حجر عسقلانی نے بھی کلثوم بن جبر کی اس بات کی تصدیق کر دی ہو کہ قاتل ِ عمارؓ ابوالغادیہ ہی ہے ۔ ------------------------ نوٹ : رضا عسقلانی صاحب آپ نے جو اقوال پر اپنی آخری پوسٹ لگائی ہے اس کا بہت بہت شکریہ ، جناب میری اک مشکل تو حل فرما دیں کہ بقول آپ کے ان اقوال کے اب فتوی رضویہ میں موجود اک بہت اہم فتوی جس کے ذریعے آپ کے دوست و احباب معاویہ بن ابواسفیان کو باغی کہنے پر جو کہ صحیح سند سے ثابت ہے ، جہنم کا کتا بنا کر واصلَ جہنم فرماتے ہیں اس کی حیثیت آپ کے اقوال کی روشنی میں کیا ہو گی ؟ باقی فتووں کی اسناد پر اب بات بھی ہوتی رہا کرے گی ان شاء اللہ ۔ ----------------------------- شکریہ -------
  1. Load more activity