All Activity

This stream auto-updates   

  1. Past hour
  2. Yesterday
  3. ye depend karta hai key file ko kitna compress kya gaya hai
  4. Allah ap ko aor ap ke family ko khush aor kamyab rakhe.. app Ahle Sunnat ka fakhar hain. Kya khoob hota k app mazeed kitabain terhreer karain
  5. Last week
  6. ماشاءاللہ تبارک اللہ بہت خوب پلیزاگرجنازےکےبعددعاپہ بھی کوئی ایسی پوسٹ عنایت فرمادیں.
  7. جی بھائی
  8. ‏اچھےلوگوں کو تو سب ہی چاہا کرتےہیں

    💟
    ھے کوئی طلبگار ! بہت برے ھیں ہم

    💔

    DSC_0002.JPG

  9. https://www.dawateislami.net/medialibrary/50070
  10. Fasting the day of Ashura or Fasting 9th and 10th Muharram ( 10 muharram history) has great value in Islam. We fast because it is the Sunnah of our Prophet Mohammad (Peace Be Upon Him).
  11. Earlier
  12. اسلام علیکم حضرت! ان کے اسکین چاہیے قدم بوسی کے تعلق سے ۔۔ جزاک اللہ
  13. اسکا اسکین دیجے حضرت ۔۔
  14. sir khala ki betii ke ladli se nikah jaiz hi

     

  15. asslam oalikum sir

     

  16. kia khala ki nawasi se nikha jaiz hi ............please bata dein
  17. جزاک اللہ بھائی۔۔ اگر ان ریفرینس کے سکین ہو تو بھیج دیجیے بڑی مہربانی ہوگی ایک وہابی کو دکھانا ہے۔۔۔اور ابن کثیر نے جس آیت کی تفسیر میں واقعہ بیان کیا ہے اس کا بھی بھیج دیجیے
  18. حدیث :من زار قبري، وجبت له شفاعتي: پر غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بے شمار محدثین بشمول امام دارقطنی ، امام بیھقی ، امام نورالدين الهيثمي، امام خطیب بغدادی ، قاضی عیاض اور بہت سے محدثین نے اس رویت کو مختلف اسناد سے نقل کیا ہے ۔ ہم اسکی ایک سند یہاں بیان کرتے ہیں جو کہ بالکل حسن درجے کی سند ہے اسکو روایت کیا ہے امام ابو طاہر السلفی الاصبھانی ؒ (المتوفی 576ھ) وہ برقم ۔9 روایت نقل کرتے ہیں اپنی سند سے حدثنا عبيد الله بن أحمد، نا أحمد بن محمد بن عبد الخالق، نا عبيد بن محمد الوراق، نا موسى بن هلال، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من زار قبري، وجبت له شفاعتي» ] الكتاب: الجزء الخامس من المشيخة البغدادية المؤلف: صدر الدين، أبو طاهر السِّلَفي أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد بن إبراهيم سِلَفَه الأصبهاني (المتوفى: 576هـ)[ اس روایت کے سارے راوی قوی ہیں اور یہ روایت حسن درجے کی ہے محدثین کی نظر میں ۔۔۔ غیر مقلدین اس روایت کے ایک راوی موسیٰ بن ھلال کومجہول کہہ کر اس رویت کو ضعیف قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ راوی حسن الحدیث درجے کا راوی ہے ۔ غیر مقلدین دو اماموں سے جرح پیش کرکے سادہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے اور نبی پاکؐ کی قبر کی زیارت کرنے کا حکم کسی صحیح یا حسن حدیث سے ثابت نہیں (معاذ اللہ) غیر مقلدین جو اعتراض پیش کرتے ہیں ان میں سے ایک امام ابو حاتم کا ہے اور دوسرا امام عقیلی کا ہے جو کہ مندرجہ زیل ہیں !! ابو حاتم موسیٰ بن ھلال کے بارے کہتے ہیں : مجھول اور امام عقیلی کہتے ہیں کہ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُ مُوسَى وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور موسیٰ کا کوئی متابع نہیں۔ غیر مقلدین کے پاس موسیٰ بن ھلال پر ان دو اماموں سے جرح مبھم ہیں جبکہ تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ راوی حسن الحدیث درجے کا ہے اور اس کی توثیق ثابت ہے ۔ امام ابن عدیؒ انکے بر عکس کہتے ہیں ارجو انہ لا باس بہ۔۔ یعنی ان سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں اور امام ذھبی ؒنے کہا کہ یہ صالح الحدیث ہیں (میزان الاعتدال برقم8937) امام ابن حجر عسقلانیؒ اپنی تصنیف التلخيص الحبير میں امام عقیلی کی یہ جرح نقل کرکے اسکا رد رد موسیٰ بن ھلال کی متابعت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وَفِي قَوْلِهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ نَظَرٌ فَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مَسْلَمَةَ بْنِ سَالِمِ الْجُهَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِلَفْظِ "مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا لَا تُعْمِلُهُ حَاجَةٌ إلَّا زِيَارَتِي كَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَكُونَ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (: التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير ج ۲ ص ۵۶۹) کہ امام عقیلی کا یہ قول :لا یتابع علیہ: یہ محل تامل ہے ۔ جبکہ امام طبرانی نے مسلمہ بن سالم سے اسکی مثل روایت بیان کی ہے ابن عمر سے ان الفاظ سے کہ جو میری قبر کی زیارت کی نیت سے آیا تو میرا حق ہے اس پر کہ میں روز قیامت کے دن اسکی شفاعت کرو تو جب امام ابن حجر عسقلانی نے انکی بات کو رد ثبوت سے کر دیا تو امام عقیلی کی جرح خود بخود ساقط ہو گئی اسی طرح امام ذھبی نے میزان الاعتدال ج ۴ ص ۶۶۴ پر موسیٰ بن ھلال کے ترجمے میں اما م ابو حاتم اور عقیلی کی جرح نقل کر کے انکا رد فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ قلت : میں کہتا ہوں کہ موسی بن ھلال صالح الحدیث ہے ۔ اسی طرح امام ابن المقلن سراج الدین الشافعی المصری (المتوفی 804ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد بسند جید کا حکم لگاتے ہیں (البدر المنير في تخريج الأحاديث ج۶ ص ۲۹۶) عرب کے محقق علامہ شعیب الارنووط جو کہ متفقہ محقق ہیں غیر مقلدین کے نزدیک بھی وہ مسند احمد کی ایک روایت جس کو امام احمد بن حنبلؒ اپنے شیخ یعنی مسیٰ بن ھلال سے روایت کرتے ہیں تو اس روایت پر حکم لگاتے ہوئے علامہ شعیب الارنووط لکھتے ہیں : حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، موسى بن هلال -وهو العبدي شيخ المصنف- حسن الحديث، فقد روى عنه جمع، وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس به، وقال الذهبي: صالح الحديث. (مسند احمد بن حنبل برقم : 12031) تو امام ابو حاتم کا مجھول کہنا مردود ہوا اور اسی طرح امام عقیلی کی جرح بھی مبھم و مردود ثابت ہوئی کیونکہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی کسی کو مجھول کہے اور دوسرا امام اسکی توثیق کرے تو اس راوی کی جہالت خود بن خود ختم ہو جاتی ہے اور جب کچھ محدثین ایک راوی کی توثیق کریں اور اس پر جرح مبھم ہو تو اس پر تعدیل مقدم ہوتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔ اور یہ سند حسن ہے ۔ موسیٰ بن ھلال جو العبدی ہے اور وہ شیخ یعنی استاز ہیں مصنف (امام احمد بن حنبلؒ) کے یہ حسن الحدیث ہیں ۔ امام ابن عدی نے کہا ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اور امام ذھبیؒ نے کہا یہ صالح الحدیث ہیں تو موسیٰ بن ھلال حسن الحدیث درجے کا راوی ہے اور اس پر کوئی جرح مفسر ثابت نہیں ہے ۔ اور یہ روایت حسن ہے۔ (دعا گو۔ا سد الطحاوی خادم الحدیث ۶ ستمبر 2018) تمام اسکین نیچے موجود ہیں
  19. امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  20. Sahi Kaha Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  21. plzzz Nur-ul-Iman [Lafzi Tarjama Kanzul Iman] Mufti Raza-ul-Mustafa Qadiri Ksi K Pas PDF Main pouray 30 pary hon to send kr dain
  22. As-Salaam alaikum, During his lifetime on the planet earth, Sayyadi (Sheikh) Abulqadir al-Jilani, one of the illustrious members of the Ahl-Bait, and a Notable Wali, may Allah be pleased with him, had the chance to call on to servants of Allah Ta'ala at his school in the city of Baghdad through what one may term public lectures...meant to call people towards Allahu Tabaraka Wa Ta'ala. It is my pleasure to invite your attention to the attached 45 Discourses of the Sheikh that he delivered at that time. Find time to examine/read these discourses and see how he drew people nearer to Allah and urged them to live a life of dedication to al-Haqq. Indeed, these discourses are still relevant even today.... they will help us live a life of dedication and commitment to Allah and the Day of Judgement... the Last Day. May Allah Help us in that regard... ameen. Best Wishes. purification-of-the-mind-jila-al-khatir.pdf
  23. As-Salaam alaikum, Sayyadi Abu bakr Waasiti, may Allah be Merciful to him, mentioned that a good action is like fine glass. Just a little heedlessness will cause it to shatter, where-after it will be irreparable. In the same way, good actions are shattered by ostentation and boastfulness, thus it will not accrue any reward. When a person senses any show and/or ostentation in a work/deed he or she does, he should try his level best to eradicate it. If it cannot be eradicated, he should not abandon the action/deed, but seek forgiveness from Allah Ta'ala, who could grant him the ability to be sincere.... here, we may cite an incident where a servant of Allah doubted his sincerity after building an inn for travellers. Someone told him in a dream that even if his action was insincere, the du'as of the travellers who will benefit from this noble action will surely be sincere and accepted in your favour. He became pleased and satisfied with this statement.
  24. السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  25. Amuman ihram Bandhne may bhot dushwari hoti hy aksar sharion ko ihram khooly may dar laga rehta hy ayen is mushkil marhala ko bhot he asan andaaz may janny k lian ihram Bandhne ka mukammal tarika mulaizah kerty hain (Ahram Bandhne ka Tarika)…
  26. Hajj may kitne faraiz hoty hain, Hajj k Faraiz kia hain, in Faraiz ke kia adaige kesy hogi yeh sub janiay is video may… https://www.dawateislami.net/medialibrary/46585
  27. Salaam bhai yeh kia topic creat kia hy ap nay?
  1. Load more activity