Jump to content

All Activity

This stream auto-updates

  1. Last week
  2. Nice to read the information here. The content of this post is very useful and informative. Hajj ka Tariqa
  3. Earlier
  4. Qabar main Dedar e Mustafa ( Sallallhu alaihi wasalam) by Allama Faiz ahmad owaisi r.a. قبر میں دیدار مصطفی ﷺ.pdf
  5. ASSALAMU ALAIKUM 

    APNE BOHOT SE AITRAZ KA JAWAB DIYE HAI MASHA ALLAH ।।

    MUJHE IBNE TEHMIYA OR DIGAR WAHABI ULMA KI KARAMAT KE WAKIYAT CHAHIYE UNKI KITABO SE ।। 

    JESE  Kitab Al A’alaam YE ARBI ME HAI ISME  IBNE TEHMIYA KI KARAMAT LIKHI HAI LEKIN ME ARBY SIRF PADHNA JANTA HU KHUD URDU NAHI KAR SAKTA ।। 

    ME CHAHTA HU AP IS FORAM PE IS UNWAN SE MAWAD DAL DE URDU TARJUME KE SATH ।।

     

     

     

     

  6. شیخِ مُحَقِّق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : لفظ “ ہٰذَا “ کے ساتھ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف جو اشارہ ہے یہ یا تو اس وجہ سے ہے کہ آپ کی رسالت مشہور ہے اور آپ کا تصوُّر ہمارے ذہنوں میں حاضر ہے ، یا پھر قبر میں آپ کی ذاتِ مبارک لائی جائے گی اس طرح کہ آپ کی ایک مثال لائی جائے گی تاکہ آپ کے جمالِ جہاں آرا کے مُشاہدے سے فرشتوں کے سوال کی مشکل حل ہوجائے اور آپ کی ملاقات کے نور سے فِراق و دوری کا اندھیرا دور ہوجائے۔ اس بات میں (سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی) زیارت کی حسرت رکھنے والوں کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ اگر وہ قبر میں آپ کی زیارت کی امید پر (اللہ پاک کی راہ میں) جان دے دیں تواس کی گنجائش ہے
  7. السلام علیکم و رحمۃ اللہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالی نے یہ طاقت عطا کے میں ہے کہ آں ﷺ ایک وقت میں کئی جگہ تشریف لے جا سکتے ہیں۔ اس کی دلیل کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ قبر میں تیسرے سوال کے وقت آں حضرت ﷺ کا دیدار کرایا جاتا ہے آقا ﷺ تشریف لاتے ہیں۔ تو ایک وقت میں کتنے ہی مردوں کو یہی سوال ہوتا ہوگا۔ اس پر اعتراض کرتے ہوئے لوگ کہتےہیں کہ ان کی صرف تصویر دکھائی جاتی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ آں ﷺ ایک ہی جگہ ہوتے ہیں بس تمام مردوں کو ان کو دور سے دکھایا جاتا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دور ستارے کو ھذا اسم اشارہ سے اشارہ کر کے پوچھا تھا : " ھذا ربی!؟ کیا آقا ﷺ قبر میں خود تشریف نہیں لاتے؟ جواب دے کر بے چینیاں دور کریں۔ 🙏🏻
  8. اس حدیث مبارکہ کےتحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ارشاد فرماتے ہیں:’’اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ مبارک مقامات پر عبادت کرنا ،نماز ادا کرنا زیادہ ثواب کا موجب ہے،اور بدنی عبادات کا ثواب دوسرے کو دینا بھی جائز ،اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے،رہا معاملہ عبادات مالیہ کا تو وہاں ثواب کا بخشنا بالاتفاق جائز ہے۔‘‘ (اشعۃ اللمعات مترجم،ج6،ص425،مطبوعہ،فرید بک سٹال ،لاہور)
  9. السلام و علیکم اس حدیث کے بارے میں پتا کرنا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہی ہے یا کسی نے صحیح بھی بولا ہے؟ اور کوِی حدیث ایسی ہے جس میں ہو کہ ایصال ثواب کو پہچایا ہو لیکن وہ ماں باپ نہ ہو؟ جزاک اللہ صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے (ابو داود) کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے
  10. Nahin. Mard par wajib heh. Aurat apnay ayyam puray kar kay aur saf honay baad ghusul karay gi.
  11. Asalam o alaikum.mera swal hai k agr aurat se haiz ki halat me shohar hath se masturbation krwaye or inzaal kre to kya aurat pr bhi ghusal wajib hoga? Ya sirf mard pr?
  12. Mufti sahab ne bilkul sahi fatwa jaari kiya, Quran Majeed ko ghair e arabi mein chaapne ki ijazat dene se aage jaake kaafi nayi cheezo ki had nikal sakte hain log, jese k turky mein ata turk ne turkish zaban mein azan dilwana shuru kar di thi jo ke bilkul bhi qabil e qubool nahi hai.
  13. Aslam o alaikum Mera swal hai k mujy aksar ehtilam hota hai Lekin aksar din ko hota hai Lekin jb ehtilam hota h to Mai thori thori hosh Mai hoti hu or koshesh b krti hu k na ho Lekin kr nhi pati.jb ehtilam hota h to kuch feel nhi hota h k aya mazi Nikli h k nhi jb uth kr washroom Mai chk krti hu to sharamgha or kapre saaf hote Hain .is surat Mai b gusal farz ho ga.kindly jaldi jwab dijiye ga Or aksar asa b Hota h ek din Mai gusal krti hu to dusry din phr ehtilam ho jata hai
  14. ابنِ تیمیہ لکھتے ہیں کہ : ایک آدمی کا گدها راستے میں مرا گیا اُس کے ساتهیوں نے اُس کو کہا کہ آ جاؤ ہم اپنی سواریوں پر تیرا سامان رکهتے ہیں اُس آدمی نے اپنے ساتهیوں کو کہا تهوری دیر کیلئے مجهے مہلت دو، پهر اُس آدمی نے اچهے طریقہ سے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑهی ، اور الله تعالی سے دعا کی تو الله نے اس کے گدهے کو زنده کر دیا پس اس آدمی نے اپنا سامان اس پر رکھ دیا ۔ (مجموع الفتاوى جلد 11 صفحہ 281)
  15. 1825 wali baat isi kitab mein likhi hui hai ، isiliye mujh se galti Hui ۔
  16. Meray pass heh. Aap ko ghalat fehmi heh kay yeh print 1825 mein huwi heh. Asal kitab pehli baar 1825 mein print huwi thi. Hand wriiten note ko log ghalat mana letay hen. Yeh print 1970's ka heh. Ji wahan say hi yeh photo leeyeh thay. Meray pass ye donoon print thay magr arsa daraaz ho gaya harddrive kharab ho gaya thah. Meray pass taqwiyat ul imaan kay taqriban 25 mukhtalif print thay.
  17. Ye Wale prints rekhta.org par maujood hain, lakin wahan par padhne ya download karne ka option maujood nahi hai...
  18. یہ والی تقویت الایمان 1825 میں شائع ہوئی ہے ، لیکن اس میں " نہ کبھی کم ہوۓ" کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ https://archive.org/details/TAKWIYATULIMANMini/page/n3/mode/1up
  19. Jazakallah. Aaj say 50/75/100/125/150/200 saal purani print kitab. Yeh print ya in jaisay.
  20. السلام علی من اتبع الھدیٰ اکثر دیوبندی، اہلسنت کو ایک طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ ”سُنی(بریلوی) شیعہ بھائی بھائی ہیں۔ ناجانے کس وجہ سے دیوبندیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ اہلسنت بریلوی، شیعوں کی تکفیر نہیں کرتے اور ان کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں اس لۓ یہ ان کے بھاٸی ہوۓ،ہم کو بھی کٸ بار یہ طعنہ مل چکا ہے۔ آج ہم اس طعنہ کی حقیقت بیان کریں گے اور یہ بتاٸیں گے کہ اصل میں شیعہ کے بھاٸی کون ہیں اہلسنت یا دیوبندی ؟ ہم نے ذیل میں شیعوں کے بارے میں اہلسنت وجماعت کے اور دیوبندیوں کے فتاویٰ نقل کیے ہیں ان سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیعوں کے اصل بھاٸی کون ہیں۔ دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی سے اسمٰعیل کو کافر کہنے والے شخص کے بارے میں سوال ہوا کہ ایسا شخص خود کافر ہوا یا نہیں ؟ تو اس نے جواب دیا کہ! جو لوگ مولوی اسماعیل کو کافر کہتے ہیں وہ بتاویل کہتے ہیں، اگرچہ ان کی یہ تاویل غلط ہے لہذا ان لوگوں کو کافر نہیں کہنا چاہیے اور نہ ہی ان کے ساتھ کفار کا معاملہ کرنا چاہیے ”جیسا کہ روافض و خوارج کو بھی اکثر علما کافر نہیں کہتے حالانکہ وہ(رافضی) شیخینؓ و صحابہ کرام کو اور (خوارج) حضرت علیؓ کو کافر کہتے ہیں،پس جب بسبب تاویلِ باطل کے ان کے کفر سے بھی آٸمہ نے تحاشی کی“ تو مولوی اسماعیل کو مردود کہنے والا کو بطریق اولیٰ کافر نہیں کہنا چاہیے۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صحفہ نمبر 192) یہاں پر رشید احمد گنگوہی کہتا ہے کہ روافض و خوارج بھی شیخینؓ و صحابہ کرام اور حضرت علیؓ کو باطل تاویل کے سبب کافر کہتے ہیں تو ہمارے اکثر علما نے ان کو تاویل کی بنا پر کافر نہیں کہا۔ جبکہ دوسری طرف ہمارے امام احمد رضا خان بریلویؓ نقل فرماتے ہیں کہ! رافضی تبراٸی جو حضرات شیخینؓ کو معاذاللہ بُرا کہے کافر ہے، رافضیوں، ناصبیوں اور خارجیوں کو ”کافر کہنا واجب ہے“ اس سبب سے کہ وہ امیر المومنین عثمانؓ و مولیٰ علیؓ و حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ و حضرت عاٸشہؓ کو ”کافر کہتے ہیں“، (پھر نقل فرماتے ہیں) خلافت صدیقؓ اور خلافت فاروق اعظمؓ اور خلافت عثمانؓ کا منکر کافر ہے،اور جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا شیخینؓ کو بُرا کہے یا حضرت عاٸشہ صدیقہؓ پر تہمت رکھے وہ کافر ہے ”اور اس کی تاویل کی طرف التفات نہ ہو گا نہ اس جانب کہ اس نے راۓ کی غلطی سے ایسا کہا“۔ (فتاویٰ رضویہ شریف، جلد 14، رسالہ رد الرفضہ، صحفہ نمبر 252 تا 255) اعلیٰحضرتؓ یہاں فرماتے ہیں کہ اگر کوٸی شخص صرف حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو بُرا ہی کہہ دے تب بھی وہ کافر ہو جاۓ گا۔ اور ہمارے نزدیک رافضیوں،خارجیوں اور ناصبیوں کو کافر کہنا واجب ہے کیونکہ وہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ و عاٸشہؓ و طلحہؓ و زبیرؓ کو کافر کہتے ہیں۔ اور جو شخص ان کی شان میں گستاخی کر کے کافر ہوا ہو اس کی تاویل پر بھی توجہ نہ دی جاۓ گی اور نہ ہی یہ مانا جاۓ گا کہ اس نے راۓ کی غلطی کی وجہ سے ایسا کہہ دیا۔ جبکہ دوسری طرف رشید احمد گنگوہی کا کہنا تھا کہ اگر کوٸ باطل تاویل کے سبب صحابہ کو کافر کہتا ہے تو اس کو ہمارے علما کافر نہیں کہتے۔(معاذاللہ) رشید احمد گنگوہی سے روافض کے کفر اور ان سے شادی بیاہ کے بارے میں سوال ہوا۔ تو رشید احمد گنگوہی نے جواب دیا کہ! ”رافضی کے کفر میں اختلاف ہے جو علما کافر کہتے ہیں بعض نے اہل کتاب کا حکم دیا ہے بعض نے مرتد کا پس درصورت اہل کتاب ہونے کے عورت رافضیہ سے مرد سُنی(جعلی دیوبندی) کا نکاح درست ہے اور عکس اس کے ناجاٸز اور بصورت ارتداد ہر طرح ناجاٸز ہو گا اور جو ان کو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک ہر طرح درست ہے“۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صحفہ نمبر 198) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیوبندیوں کے تین گروہ ہیں جن میں سے ایک کہ نزدیک رافضی صرف فاسق ہیں اور ان سے نکاح جاٸز بھی سمجھتے ہیں اور جو دوسرا گروہ ان کو اہل کتاب سمجھتا ہے وہ بھی ان سے نکاح کو جاٸز سمجھتا ہے۔ جبکہ ہمارے امام احمد رضا خان بریلویؓ رافضیوں میں نکاح کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ! ”بالجملہ ان رافضیوں تبراٸیوں کے باب میں حکمِ یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار و مرتدین ہیں انکے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے،ان کے ساتھ مناکت (شادی بیاہ) نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے، معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہیٰ ہے،اگر مرد سُنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہرگز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا،اولاد ولدالزنا ہو گی باپ کا ترکہ نہ پاۓ گی اگرچہ اولاد بھی سُنی ہو کہ شرعاً ولدالزنا کا باپ کوٸی نہیں،ان کے مرد عورت،عالم جاہل، کسی سے میل جول، سلام کلام سب سخت کبیرہ اشد حرام، جو ان کے ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر پھر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرۓ باجماع تمام آٸمہِ دین خود کافر بے دین ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ شریف، جلد 14، رسالہ رد الرفضہ، صحفہ نمبر 269) اعلیٰحضرتؓ نے روافض کے کافر ہونے پر اجماعی حکم بیان کیا کہ ان سے نکاح کسی صورت جاٸز نہیں بلکہ زنا ہے اور اگر سُنی مرد نے کسی رافضیہ عورت سے نکاح کر لیا تو وہ بھی زنا ہے اور جو اولاد ہو گی چاہے وہ سُنی ہی ہو وہ ولدالزنا ہو گی اور ترکہ نہ پاۓ گی۔ ساتھ ہی اعلیٰحضرتؓ نے آٸمہِ دین کا اجماع نقل فرمایا کہ روافض کے کفریہ عقاٸد سے آگاہ ہونے کے بعد بھی جو ان کو مسلمان سمجھے یا ان کے کفر میں شک کرۓ وہ خود کافر و بے دین ہے۔ ایک اور مقام پر رشید احمد گنگوہی سے صحابہ پر طعن و لعنت کرنے والے کے بارے میں سوال ہوا کہ ایسا شخص سنت جماعت سے خارج ہو گا یا نہیں ؟ تو رشید احمد گنگوہی نے جواب دیا کہ! ”جو شخص صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی ”تکفیر“ کرۓ وہ معلون ہے ایسے شخص کو امام مسجد بنانا حرام ہے اور وہ اپنے اس گناہ کبیرہ کے سبب سنت جماعت سے خارج نہیں ہو گا“۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صحفہ نمبر 274) یہاں پر رشید احمد گنگوہی کہتا ہے کہ جو صحابہ میں سے کسی کو بھی کافر کہے گا وہ ملعون یعنی لعنتی ہی ہو گا اور اس گناہ کے سبب سنت جماعت (یعنی جماعتِ دیوبند) سے خارج نہ ہو گا بلکہ دیوبندی ہی رہے گا۔ جبکہ اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان بریلویؓ اس مسٸلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ! ”رافضی جو حضرات شیخینؓ صدیق اکبرؓ و فاروق اعظمؓ خواہ ان میں سے ایک کی شان میں گستاخی کرۓ اگرچہ صرف اس قدر کہ انہیں امام و خلیفہ برحق نہ مانے تو فقہ حنفی کی تصریحات اور آٸمہ کے فتویٰ کی تصحیحات پر مطلقاً کافر ہے،اگر ضروریات دین میں سے کسی کا منکر ہو گا تو کافر ہے مثلاً حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو، جو رافضی حضرت شیخینؓ کو معاذ اللہ بُرا کہے کافر ہے، شیخینؓ کو بُرا کہنا ایسا ہے جیسے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنا، جو شیخینؓ کو بُرا کہے یا تبرا بکے کافر ہے،جو خلافتِ شیخینؓ کا انکار کرۓ یا ان سے بغض رکھے کافر ہے کہ وہ تو رسول اللہﷺ کے محبوب ہیں، ہر مرتد کی توبہ قبول ہے مگر کسی نبی یا شیخینؓ یا ان میں سے کسی ایک کی گستاخی کر کے کافر ہونے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، درمختار میں بھی ہے کہ جو حضرات شیخینؓ کو بُرا کہے یا ان پر طعن کرۓ وہ کافر ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی“۔ (فتاویٰ رضویہ شریف، جلد 14، رسالہ رد الرفضہ، صحفہ نمبر 251 تا 261) اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم اہلسنت اور ہمارے آٸمہِ دین کے نزدیک جو صحابہ کی شان میں گستاخی کرۓ یا ان کو کافر کہے وہ جماعت میں رہنا تو دور کی بات ہے اسلام میں بھی نہیں رہتا اور کافر ہو جاتا ہے اور جو انبیا کی گستاخی کرۓ یا حضرت ابوبکر صدیقؓ یا حضرت عمرؓ یا دونوں کی گستاخی کے باعث کافر ہوا ہو تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔ اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ رشید احمد گنگوہی خود شیعہ رافضیوں کو کافر سمجھتا تھا یا نہیں ؟ تو رشید احمد گنگوہی شیعہ کی تجہیر و تکفین کے بارے میں کہتا ہے کہ! جو لوگ شیعہ کو کافر کہتے ہیں ان کے نزدیک تو اس کی نعش کو ویسے ہی کپڑے میں لپیٹ کر واب دینا چاہیے،اور جو لوگ فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک ان کی تجہیر و تکفین حسب قاعدہ(مکمل رواجی و شرعی طور پر) ہونا چاہیے ”اور بندہ بھی ان کی تکفیر نہیں کرتا“۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صحفہ نمبر 291) یہاں پر رشید احمد گنگوہی خود اقرار کرتا ہے کہ میں شیعہ کی تکفیر نہیں کرتا یعنی ان کو کافر نہیں مانتا اور شیعوں کی تجہیر و تکفین کو مکمل شرعی طور پر کرنے کا قاٸل ہے۔ جبکہ جب ہمارے امام احمد رضا خان بریلویؓ سے شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنے کا سوال ہوا تو فرمایا! ”اگر رافضی ضروریاتِ دین کا منکر ہے، مثلًا قرآن کریم میں کُچھ سوُرتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیر المومنین عثمانؓ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے، یا مولٰی علیؓ خواہ دیگر ائمہ اطہار کو انبیائے سابقین میں کسی سے افضل جانتا ہے۔ اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عمومًا ایسے ہی ہیں اُن میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقد نہ ہو جب تو وہ کافر مرتد ہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی و گناہ شدید ہے،اگر ضروریات دین کا منکر نہیں ہے مگر تبراٸی ہے تو جمہور آٸمہ کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے(یعنی اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھی جاۓ گی)، اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہتے (یعنی ان کی نماز جنازہ نہ پڑھے)، اور اگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مُردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے باآں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اُس کے لئے استغفار کی جب تو اُس شخص کی تجدید اسلام اور اپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے“۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صحفہ نمبر 172،173) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آج کل کے تمام شیعہ کافر ہیں اور یہ بھی کہ ہمارے نزدیک تو کسی ایسے شیعہ کا جنازہ پڑھنا بھی جاٸز نہیں جو صرف تفضیلی ہو اور تبرا نہ کرتا ہو،اور اگر کسی نے جان بوجھ کر رافضی منکرِ ضروریات دین کا جنازہ پڑھ لیا تو اس کو تجدید اسلام اور تجدید نکاح کرنا پڑۓ گا۔ اب آپ خود بتاٸیں کہ ان سب باتوں کے بعد بھی سُنی شیعہ بھاٸی بھاٸی ہیں یا دیوبندی شیعہ بھاٸی بھاٸی ہیں ؟ صحابہؓ کو کافر کہنے والے کو کافر نہ کہنے کے قاٸل دیوبندی ہیں۔ روافض سے نکاح کرنے کے قاٸل دیوبندی ہیں۔ صحابہ کی تکفیر کرنے والا بھی دیوبندی جماعت سے خارج نہیں ہوتا۔ اور دیوبندی علما شیعہ کی تکفیر بھی نہیں کرتے۔ اس سب کے باجود بھی اگر کوٸی دیوبندی یہ کہتا ہے کہ ”سُنی شیعہ بھاٸی بھاٸی“ تو اس کو چاہیے کہ پہلے اپنے ان تمام علما کو جماعتِ دیوبند سے خارج مان کر کافر مانے اور پھر ہماری کتب سے یہ دکھاٸے کہ ہم کہاں پر روافض کی حمایت کرتے ہیں اور کہاں پر ان سے شادی بیاہ کو جاٸز سمجھتے ہیں اور کہاں پر ان کی تکفیر نہیں کرتے ؟ دُعا ہے کہ اللہ سب کو حق سننے و سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور شیعوں و دیوبندیوں کا بھاٸی چارہ بڑھاۓ اور دیوبندیوں کا حال شیعوں کے ساتھ فرماۓ۔(آمین) تحقیق ازقلم: مناظر اہلسنت والجماعت محمد ذوالقرنین الحنفی الماتریدی البریلوی
  21. Deobandiyun nay upar walay print mein tahreef ki heh. Asal print mein thah: jo nah kabi maray na kabi kam howay Is upar wali ibarat par puranay print darkar hen aik ta kay qatti tor par sabat keeya ja sakay kay yeh kameenay khud nahin badaltay kitaben badal detay hen. Mar kar mitti mein milnay ka connection kam howay say heh ... Allah nah maray aur nah mitti mein milay yehni nah gal sarr kar kam howay ... ibarat kay sayaq o sabaq say sabat hota heh kay mitti mein milna mana dafnana mein nahin balkay galnay sarrnay say heh aur aisi soorat bad kam honay say heh. Lehaza Deobandiyun nay rawayati bey-hayahi aur apnay beyghayrat uqabir ki sunnat par amal keeya aur kitab mein tarmeem kar di.
  22. صحابہ کرام کا عقیدہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مالک ہیں ،اور عربوں کو سزا و جزا دینے والے ہیں ۔
  1. Load more activity
×
×
  • Create New...