All Activity

This stream auto-updates   

  1. Yesterday
  2. جناب سعیدی صاحب میں ہمیشہ آپ کا جواب پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں اور ساتھ ہی پریشان بھی ۔ آپ اگر یہ مکمل بغور ایک بار پڑھ لیتے تو شاید آپ کو اوپر لکھا ہوا نہ لکھنا پرتا ۔ پڑھیے تو ذرا جناب
  3. اس کا اصولی جواب تو میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ آپ کی روایت میں قتل سے مراد قاتلانہ حملہ ہے اور ابوالغادیہ سے قتل کی کوشش تو منقول ہے۔عمار کی موت کی تصدیق کرنا ابوالغادیہ سے منقول نہیں۔اورکوئی بھی شخص مرکر گرتے ہی فوری طور پرٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔ کیاآپ کے نزدیک ابوالغادیہ کے صحابی ہونے پر اجماع ہے؟ کیا آپ کے نزدیک ابوالغادیہ کے قاتل عمارؓ ہونے پر اجماع ہے؟ آپ اقوال رجال اور ضعیف حدیث میں اختلاف کے وقت کس کو ترجیح دیتے ہیں؟
  4. ابن کثیر جس کا اپنا رجحان ناصبیت کی طرف تھا اس کے دوسرے قول کو ترجیح دینے سے کیا مروان بے گناہ ثابت ہو جاتا ہے ؟ ایسے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جبتکہ آپ سند سے ثابت نہ کریں ۔آپ ہر پوسٹ پر ہی ضعیف و کمزور حوالہ جات لکھ کر وقت گزاری کر رہے ہیں ۔ ہرگز یہ مروان کی بےگناہی کا کوئی ثبوت نہیں ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ سعیدی صاحب میں نہیں سمجھتا تھا کہ آپ فتح مکہ کے طلقاء کے مقابلہ میں خلیفہِ راشد سیدنا علیؓ پر اتنا بڑا الزام لگائیں گے ۔ آپ نے تو کمال ہی کر دیا ہے ۔ وہ خلیفہِ راشد جس نے خلافت کو زینت بخشی ، وہ خلیفہِ راسد حق جس کے ساتھ تھا اور قرآن جس کے ساتھ تھا وہ اتنا ظالم بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے قاتل کو گورنر بھی بنا سکتا ہے ۔ یہ آپ کی بہت بڑی ہمت ہے جناب اب آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ محمد بن ابو بکر کو حضرت عثمان کا صحیح اسناد کے ساتھ قاتل ثابت فرمائیں ۔ ہمت کیجیے جناب اور ثابت فرمائیں کہ محمد بن ابی بکر حضرت عثمان کا قاتل تھا اور حضرت علی نے قصاص لینے کی بجائے اک قاتل کو گورنر یا حاکم بنا دیا ۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے لگائے گئے الزام کو اھل سنت کی کتابیں پیش فرما کر ثابت فرمائیں گے ۔ -----------------------------------
  5. ہر سب کچھ ہو چکا تو اس جناب پھر مجھے حضرت علیؓ سے قصاص طلب کرنے کو ہرگز غلط نہیں کہنا چاہیے ، مگر اس ایف آئی آر کے اندارج پر حوالہ جات کی کتابیں پیش فرما دیں ، بالک میں اس کو پڑھنا چاہوں گا ۔ اور دیکھو گا کہ اھل سنت کے کن کن عملماء نے اس مقدمہِ عدالت کی توثیق کی ہے ۔ اور جہاں تک آپ نے اھل حدیث محدث کا لکھا کہ اھل حدیث کے سامنے پیش کیے جائیں محترم آپ سراسر غلط کہ رہے ہیں ۔ حضرت عثمان غنی کے قصاص پر کوئی اھل اھل حدیث ، دیوبندی اور بریلوی اختلاف نہیں ہے کہ ان کے حوالہ جات اور کتابیں پیش نہیں کی جا سکتی ۔ مگر جناب آپ کتابیں پیش فرما دیں ۔ میں منتظر ہوں کہ یہ مقدمہ کب پیش ہوا اور ایف آئی آر کاٹی گئی --------------------------------------
  6. جناب سعیدی صاحب اپنی روایات کی حالت دیکھ لیں ، ابوالغادیہ جو اصل قتل ہے اس کا مکمل قصہ ابن سعد سے پڑھیں کہ کیسے اس نے حضرت عمار کو قتل کیا ۔ پھر اک نظر اپنی روایت پر ڈالیں ۔ اس کی حالت محققین کے نزدیک کیا ہے وہ میں ابھی بیان نہیں کرتا مگر جناب اپنی روایات کا اندزہ لگا لیں ۔ میری روایات جن پر تین تین محدثین کا حکم موجود ہوتا ہے کہ حدیث صحیح ہے آپ اس کا بھی بڑی بےدردی سے رد فرما دیتے ہیں ۔ پلیز پڑھیے جناب سعیدی صاحب اپنی روایت پر بھی نظر فرما لیں ۔ میں زیادہ اب کی لکھو ۔ آپ کی تیسری روایت کی حالت بھی انہیں کی سی ہے اس میں واقدی ہے اور بھی بہت کچھ غلط ہے ۔ پلیز جناب محترم سعیدی صاحب اگر آپ کے پاس ابوالغادیہ کو بے گناہ ثابت کرنے پر کوئی درست روایت ہے تو آپ بخوشی پیش فرما سکتے ہیں ۔ ورنہ آپ میری پیش کردہ صحیح روایات کو مان لیں ۔ ---------------------------------
  7. قتلِ عثمان کی ایف آئی آر ہوچکی اور قاتلوں کا شریکِ کار بھی تسلیمی بیان دے چکا۔ اب حضرت علی مرتضیٰ نے عثمان کے خون کاقصاص کیوں نہ لیا؟ اگر یہ خود ہی قصاص لے لیتے تو جمل وصفین کی جنگوں کا موقع ہی پیش نہ آتا۔ آپ جن جنگوں کو دھوکہ پر مبنی قرار دے رہے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ان جنگوں کو تاویلِ قرآن پر مبنی بتایا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ اجتہادی جنگیں ہیں اوران کو دھوکہ پر مبنی بتانا حدیث کے خلاف ہے۔ اور نواب صدیق حسن بھوپالی کا حوالہ کسی غیرمقلد کے سامنے پیش کرنا ،میں اس کو کچھ نہیں جانتا۔
  8. بات یہ ہے کہ تاریخ الخلفاء کے عربی الفاظ (وتسمى بالخلافة)کا ترجمہ مترجم نے درست نہ کیا تھا، (اورخلافت سے موسوم کیا گیا )کی بجائے (اپنے آپ کو خلیفہ سے موسوم کیا) کے ترجمہ سے جو غلط فہمی پیدا ہو رہی تھی وہ میں نے طبری کی روایت سے کلیئر کی اگرچہ آپ کے اوپر سے گزر گئی ہے۔ ابن کثیر نے دوسرا قول لکھا ہے کہ مروان کے علاوہ حضرت طلحہ کوکسی اور کا تیر لگاتھا۔اور ابن کثیر نے اُسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔اگر معاملہ اتنا واضح ہوتا تو حضرت طلحہ کے وارث کسی کو قصاص کے لئے نامزدکرتے۔ اگر حضرت معاویہ کے سامنے حضرت طلحہ کے کسی وارث نے مروان کو قصاص کے لئے نامزد کیا ہو اور حضرت معاویہ نے اس کے بعد مروان کو گورنر بنایا ہوتو ثبوت پیش کرو۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
  9. جناب سعیدی صاحب حضرت علیؓ سے معاویہ بن ابوسفیان کا قصاص طلب کرنا بالکل غلط تھا ۔ بلکہ اھل شام کو خونِ عثمان کا بدلہ کہ کر دھوکا دیا ۔ آپ اوپر پڑھ سکتے ہیں ۔ ------------------------------
  10. مکرمی جناب قاسم صاحب! آپ کا یہ مطالبہ غلط ہے کیونکہ حضرت عمار کے قاتل کا صحابی نہ ہونا حضرت عمار کے لئے بھی فضیلت ہے اور صحابہ کرام کے لئے بھی فضیلت ہے۔اور فضیلت کے لئے روایت کا صحیح ہونا لازمی نہیں بلکہ ضعیف روایت بھی کافی ہے۔ اگرچہ اس سے ارادہ قتل یا قاتلانہ حملہ کی نفی نہیں ہوتی۔
  11. Last week
  12. پہلے آپ نے قصاص عثمان کے مطالبہ کے غلط ھونے کی وجہ بتائی تھی : حضرت علی کو حضرت عثمان کے قتل میں شریک جاننا۔ اب آپ مطالبہ قصاص عثمان کے غلط ھونے کی پہلی وجہ کو باطل کرتے ہیں اور وجہ بتاتے ہیں وارثوں کا ایف آئی آر درج نہ کرانا۔ اس سلسلے ميں عرض ھے کہ مدینہ شریف میں دشمنانِ عثمان رضی اللہ عنہ دندناتے پھر رھے تھے اور پسرانِ عثمان اپنی جان بچاتے اور چھپتے پھررہے تھے ۔ سترہ بندوں نے رات کو نماز جنازہ ادا کی ۔ F. I. R درج کرانے والے کا کیا حشر ھوتا۔ بہرحال جنابِ عدالت مآب حضرتِ اقضیٰ مولا علی مرتضیٰ خود ھی حضرت نائلہ زوجہ عثمان کا بیان لینے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا؟ جواب آیا کہ میں نہیں جانتی وہ دو شخص تھے اُن کے ساتھ محمد بن ابوبکرؓ تھا ۔ ۔ ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکرؓ کو بلایا، اس نے تصدیق کی ۔ پھر حضرت نائلہ نے کہا کہ قاتلوں کو یہی اندر لایا تھا ۔ اب فرمایا جائے کہ وارث کی طرف سے FIR بھی ھو گئی اور گواہ بھی گزر چکا تو اب تو عثمان کے خون کا قصاص دلوانے کا مطالبہ کرنے میں ھر شہری حق بجانب تھا۔
  13. مہربانی فرماتے ہوئے جنابِ محترم سعیدی صاحب اپنی پیش کردہ روایات پر کسی محدث یا محقق کا حکم پیش فرما دیں کہ یہ روایات صحیح ہیں ۔ شکریہ ---------------------------
  14. 1 مستدرک حاکم اور طبقات کبریٰ میں حضرت عمارؓ کے بیک وقت تین قاتل ہونے کی روایت موجود ہے۔(عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَتِسْعِينَ سَنَةً، وَكَانَ أَقْدَمَ فِي الْبِلَادِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَارِثِ الْخَوْلَانِيُّ، وَشَرِيكُ بْنُ سَلَمَةَ فَانْتَهُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا وَهُوَ، يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتُمُونَا حَتَّى تَبْلُغُوا بِنَا سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى الْحَقِّ وَأَنْتُمْ عَلَى الْبَاطِلِ» ، فَحَمَلُوا عَلَيْهِ جَمِيعًا فَقَتَلُوهُ)۔تینوں نے عمار ؓ پر بیک وقت حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا۔ ان تین میں ابوالغادیہ کا نام نہیں ہے۔ 2 البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں پہلے یہ لکھا ہے:۔فَأَمَّا أَبُو الْغَادِيَةِ فَطَعَنَهُ، وأما ابن جوى فَاحْتَزَّ رَأْسَهُ۔ ابوالغادیہ نے نیزہ مارا،ابن حوی نے سر قلم کیا۔ البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں بعد میں یہ بھی لکھا ہے۔(وَكَانَ لَا يَزَالُ يَجِيءُ رَجُلٌ فَيَقُولُ لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرٍو: أَنَا قَتَلْتُ عَمَّارًا. فَيَقُولُ لَهُ عَمْرٌو: فَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ فَيَخْلِطُونَ فِيمَا يُخْبِرُونَ، حَتَّى جَاءَ ابْنُ جَوْی فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةْ ... مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ ۔فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: صَدَقْتَ أَنْتَ، إِنَّكَ صَاحِبُهُ)۔یعنی جو بھی معاویہ اور عمرو کے پاس آکرکہتا کہ میں نے عمارؓ کو قتل کیا ہے تو عمرو اُس سے پوچھتا کہ جب تونے اُسے قتل کیا تو تُو نے اُسے کیا کہتے سنا؟تو وہ خلط ملط کرنے لگتے(بوکھلا جاتے) ،یہاں تک کہ ابن حوی (سکسکی) آیا تو اُس نے کہا۔ اُسوقت میں نے اُسے یہ کہتے سنا کہ:۔ آج ہم اپنے پیاروں سے ملیں گے۔احمد سے اور آپ کے یاروں سے ملیں گے۔ پس عمرو نے اُس کو کہا: تو سچ کہہ رہا ہے اورتو ہی اُس کا قتل کرنے والا صاحب ہے۔ اس روایت سے پتہ چلا کہ ابوالغادیہ کاقاتل ِ عمار ؓہونے کا دعویٰ ابوالغادیہ کا اندازہ تھا اور عمارؓ تو ابھی زندہ تھے اور کلامِ محبت فرما رہے تھے کہ ابن حوی سکسکی نے سرکاٹ کراُنہیں قتل کیا۔ 3 حافظ ابن حجر عسقلانی نے ابویعلیٰ کے حوالہ سے روایت لکھی ہے کہ ابوالغادیہ اور ابن حوی دونوں اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔الاتحاف الخیرہ اور المطالب العالیہ میں ابن حجرعسقلانی نے ابوالغادیہ کی زبان سےروایت یوں نقل فرمائی ہے کہ(7386 / 5 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ وَلَفْظُهُ: عَنْ أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: "حَمَلْتُ عَلَى عَمَّارِ بْنِ ياسر يوم صفين، فَأَلْقَيْتُهُ عَنْ فَرَسِهِ وَسَبَقَنِي إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أهل الشام فاجتز رَأْسَهُ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي الرَّأْسِ، وَوَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، كِلَانَا يَدَّعِي قَتْلَهُ، وَكِلَانَا يَطْلُبُ الْجَائِزَةَ عَلَى رَأْسِهِ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رسولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ: تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، بَشِّرْ قاتل عمار بالنار. فتركته مِنْ يَدَي، فَقُلْتُ: لَمْ أَقْتُلْهُ، وَتَرَكَهُ صَاحِبِي مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: لَمْ أَقْتُلْهُ)۔ اب ابوالغادیہ کے قاتلانہ حملہ کے بعد عمارؓ کے زندہ ہونے اور کلام کرنے کا ثبوت سننے کے بعد ابوالغادیہ کا یہ کہنا کہ (میں نے اسے قتل نہیں کیا) درست ہو گیا مگر ابن حوی سکسکی کا اپنے بیان سے منحرف ہونا جھوٹ کہا جا سکتا ہے۔
  15. یعنی اگر جناب طاہر القادری صاحب صحیح بات کہیں اور صحیح سند کے ساتھ کہیں تو آپ مان لیں گے حق بات؟
  16. رسالہ نمبر:1 وضو کا طریقہ اسے خود بھی پڑھیں اور ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ شکریہ
  17. جناب میں نے کسی جگہ نہیں لکھا کہ فلاں عالم دین کا حوالہ نہ دیا جائے ، میرے کہنے کا مطلب یہ لیا جائے کہ امام احمد رضا بریلویؒ سے لے کر ڈاکٹر طاہر القادری تک علماء کی کتابوں میں بہت سی ضعیف ، موضوع اور باطل روایات درج ہیں اور ایسا تقریباً تمام بڑے عالم کی کتاب میں ہو جاتا ہے مگر میرے لیے حجت وہی بات ہو گی جو درست ہو گی ، چاہے وہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں یا امام احمد رضا ۔
  18. سلطابی صاحب بار بار عرض کیا ہے کہ میں آپ کی کسی بھی بات کا جواب اس لیے دینے کا پابند نہیں ہوں کہ میری آپ سے نہیں سعیدی صاحب سے بات ہو رہی ہے ، میں آپ کو جواب دوں گا تو پھر آپ جواب لکھیں گے جو کہ مناسب نہیں ، آپ مہربانی فرمائیں جو بھی سوال ہو سیعیدی صاحب کو کہا کریں وہ اپنے جواب میں اس سوال کا مطالبہ کریں ، امید ہے آپ غور فرمائیں گے ۔ ----------------------------------
  1. Load more activity