All Activity

This stream auto-updates   

  1. Today
  2. Yesterday
  3. The post Dawateislami Telethon 2019 Appeal appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  4. امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ کے رسالے النّھی الاکیدعن الصّلاۃ وراء عدی التقلید سے دورانِ مطالعہ حاصل ہونے والے علمی وتحقیقی نکات
  5. وہی پرانے اقوال پھر پوسٹ کر دیے جن کا ہم کئی بار اصول حدیث کے قوانین سے جواب دے چکے ہیں حیرت کا مقام ہے جناب پر۔ ارے میاں ایسے بے سند اقوال تو معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی شان اقدس کے خلاف بھی موجود ہیں تو کیا کوئی خبیث ایسے اقوال سے انبیاء کرام اور اہل بیت عظام کی شان مجروح کر سکتا ہے کیا؟؟ ہرگز نہیں اگر کرے گا تو اصول حدیث کی روشنی میں اس کا منہ توڑ دیا جائے گا۔ اس لئے یہ ائمہ بے شک اہل سنت کے ائمہ میں سے ہیں لیکن انہی ائمہ کا خود کا بنایا ہوا اصول ہے کہ کوئی بھی بات بنا سند اور بنا دلیل تسلیم نہیں کرنی ۔ اس لئے ہم ان ائمہ کا احترام کے ساتھ ان کے اصول کی روشنی میں ہی ان کی بات کی تردید کی ہے کیونکہ یہ ائمہ رواۃ کی جرح و تعدیل کے بارے میں اجتہاد کر سکتے ہیں لیکن کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے اجتہاد نہیں کر سکتے کیونکہ اسلام میں قتل کے بدلے قتل ہے اور قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اجتہاد کی نہیں۔ اجتہاد کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کوئی بات قرآن، احادیث صحیحہ اور اجماع صحابہ سے نہ مل رہی ہو تو پھر مجتہد اجتہاد کرتا ہے اور مجتہد کو اجتہاد درست بھی ہو سکتا ہے اور غیر درست بھی۔ اس لئے کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے ائمہ نے سند کا اہتمام کیا ہے جیسے امام ثوری فرماتے ہیں: الاسناد سلاح المومن اذا لم یکن معہ سلاح فبای شیء یقاتل اسناد مومن کا اسلحہ ہے اگر اس کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا تو وہ کس چیز کے ساتھ قتال (مقابلہ وجنگ) کرے گا۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃللخطیب البغدادی، ص392) اور امام ابن مبارک فرماتے ہیں: لولا الاسناد لقال من شاء ما شاء اگر اسناد نہ ہوتیں تو جو شخص جو چاہتا کہتا پھرتا۔ امام حاکم امام عبداللہ بن مبارک کے اس قول کی توضیح میں لکھتے ہیں: فان الاخبار اذا تعرت عن وجود الاسناد فیھا کانت بترا۔ جب روایات سند کے وجود سے خالی ہو ں تو وہ دم بریدہ ہیں (یعنی جس کی دم کٹی ہوئی ہو)۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص6) اور جگہ امام ابن مبارک فرماتے ہیں: مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یرتقی السطح بلاسلم اس شخص کی مثال جو اپنے دینی معاملہ کو بغیر سند کے طلب کرتا ہے اس شخص کی طرح ہےجو بغیر سیڑھی کےچھت پر چڑھنا چاہتاہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص12) اور امام سمعانی اس طرح کا ایک واقعہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں: امام زہری کی مجلس میں ابن ابی فروہ کہنے لگا " قال رسول اللہ، قال رسول اللہ (رسول اللہﷺ نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) اس پر امام زہری نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا قاتلک اللہ یا بن ابی فروۃ ! ما اجراک علی اللہ؟ لا تسند حدیثک! تحدثنا باحادیث لیس لھا خطم ولا ازمۃ، یعنی الاسناد۔ اے ابن ابی فروہ! اللہ تجھے ہلاک کرے تو اللہ کی بارگاہ میں کس قدر بے باک ہے؟ ہمیں تو اپنی حدیث مت بیان کر، ہمیں تو ایسی احادیث سنانے لگا ہے جن کی لگام ہے اور نہ رسی؟ یعنی سند نہیں۔ (ادب الاملاء والاستملا، ص12) اس بارے میں امام شعبہ بن الحجاج فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل ہر ایسی حدیث جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13، المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17،الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) امام اصمعی نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے ہمارے سامنے احادیث بیان کیں اور ہم ایک جماعت تھے، جب وہ بیان حدیث سے فارغ ہوا تو ایک اعرابی نے کہا آپ نے ہمیں کیا ہی اچھی احادیث بیان کیں لو ان لھا سلاسل تقادبھا، قال ابوالحسن یعنی الاسناد اگر ان کی کوئی سند ہوتی تو انہیں آگے چلایا جاتا، حضرت ابوالحسن فرماتے ہیں: یعنی سلسلہ سند ہوتا تو انہیں قبول کیا جاتا۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13، شرف اصحاب الحدیث، ص87) امام سفیان بن عینیہ علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن امام زہری علیہ الرحمہ کوئی حدیث پیش کرنے لگے تو میں نے عرض کیا: ھاتہ بلا اسناد بغیر سند ہی پیش فرما دیجئے! اس پر امام زہری نے فرمایا: اترقی السطح بلا سلم؟ کیا تم سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنا چاہتے ہو؟ (الاسناد من الدین لابی غدۃ، ص20) حافظ بقیہ بن ولید حمصی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد بن زید علیہ الرحمہ کے سامنے چند احادیث بیان کیں تو انہوں نے فرمایا: ما اجودھا لو کان لھا اجنحۃ ، یعنی اسنادا۔ یہ کیا ہی عمدہ احادیث ہیں اگر ان کے پر ہوتے یعنی سندیں۔ (الاسناد من الدین، ص20) اور بھی کافی اقوال ہیں جناب لیکن اتنا کافی ہے جناب کے لئے اب ان ائمہ نے بے سند اقوال اور بے دلائل اقوال پر توجہ نہ کی تو جناب کو چاہیے ان ائمہ کے بارے میں کچھ کہیں جب کہ یہ سب ائمہ تابعین اور تبع تابعین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ویسے بھی اصول حدیث کی رو سے بے سند اقوال اور بے دلیل بات کی کوئی اہمیت نہیں ۔ اس لیے جتنے بھی بے سند اور بے دلیل اقوال پیش کریں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا جو بات جناب اصول حدیث کے قوانین سے اور اصول شریعت کے مطابق پیش کریں ان کی تحقیق کی جائے گی اگر وہ واقعی اصول پر پورا اترے گی تو اسے قبول کر لیا جائے گا اور اگر اصول پر نہیں اترے نہیں تو اسے رد کر دیا جائے گا۔ اور ابھی تک جناب نہ اصول حدیث کے قوانین کے مطابق کوئی بات ثابت کر پائے ہیں اور نہ ہی اصول شریعت کے مطابق عینی گواہ اور قاتل ثابت کر پائے ہیں۔ یہ کوئی پی ٹی آئی یا ن لیگ کی بات نہیں ہے جس نے جو کچھ کہہ دیا وہی مان لیا گیا اسلامی شریعت میں ہر بات ہر چیز کی تحقیق ہوتی ہے اور بنا دلائل کے ثابت کیے اسلام میں کچھ ثابت نہیں ہوتا باقی آپ پر ضد پر اڑے ہیں تو ان میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے میاں ہم تو شریعت کے اصول کے پابند ہیں جناب کی باتوں کے نہیں۔
  6. Last week
  7. Salam alaykum. Kushkhabri Allamah Saeed Ahmad Assad nay ruju kar leeya heh ... un ki mulaqat aur guftgoo huwi heh jayyid Ulamah e Ahle Sunnat say jis ka nateeja yeh nikla heh kay unoon nay ruju kar leeya heh. Allah ta'ala in ko istiqamat aur in kay darajat buland karay ameen.
  8. hazrat khalid bin waleed pr shiyao ne jo aitraz kie hai ki apne qabile qatal kr die....aur malik ibn nuwair ko bhi qatal kia....unki khubsurat biwi k lie...aur bina iddat kie usse humbistar bhi huai.... jawab darkar hai...
  9. کلثوم بن جبر کی روایت پر بعد میں بات ہو گی پہلے امام ابن معین کو پڑھیے حجت ہیں کہ نہیں ؟ آپ کے نزدیک امام ابن معین حجت نہیں ہوں گے شاید ، امام مسلم حجت نہیں ہوں گے شاید اور امام حاکم جیسے امام اھل سنت حجت نہیں ہوں گے شاید مگر اھل سنت ان آئمہ اھل سنت کو ہی حجت مان کر حجر عسقلانی اور ذہبی جیسے محدث امام بنے ہیں تو جناب رضا عسقلانی صاحب پڑھیے : امام اھل سنت حجر عسقلانی ابن معین کو حجت مان کر ہی لکھ رہے ہیں کہ : الد وری نے فرمایا کہ : ابوالغایہ حضرت عمارؓ کو قتل کرنے والے ہیں اور انہیں شرفِ صحابیت حاصل ہے ۔ رضا عسقلانی صاحب ہوسکتا ہے کہ آپ کے نزدیک ابن معین حجت نہ ہوں مگر اصل عسقلانی کے نزدیک حجت ہی ہیں ۔ پڑھیے جناب اعلیٰ لیجے جناب رضا عسقلانی صاحب یہ کتاب بھی پڑھیں اور بتائیں کہ ابن معین کی یہ کتاب " معرفة الرجال " ضعیف ہے کیا ؟ یا موضوع و باطل ہے ؟ معرفة الرجال عن يحيى بن معين المؤلف: يحي بن معين أبو زكريا الإصابة في تمييز الصحابة اور اُسد الغابۃ معرفۃ الصحابۃ دونوں کتابیں اور دونوں کتابیں مستعند اور اُن کے مصنفین عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزریؒ اور أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني دونوں اھل سنت کے امام تسلم کیے جاتے ہیں اب رضا عسقلانی صاحب انہوں نے کن کو حجت مان کر ابوالغادیہ کو حضرت عمار بن یاسرؓ کا قاتل ڈکلئیر کیا ؟ کیا امام ابن معین ، امام مسلم ، امام حاکم اور امام ابن عبدالبر کو حجت مانا یا لکھا کہ انہوں نے تسامح کھایا ؟ اور اُن کے درمیان اور واقعہ صفین کے درمیان اتنے سالوں کا اتنے کلومیٹر فاصلہ تھا ؟ عزیز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزریؒ کا عقیدہ أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني کا عقیدہ رضا عسقلانی صاحب امام ابن حجر عسقلانی نے ابن معین کے ساتھ باقی جن اماموں کو حجت مان کر لکھا کہ ابوالغادیہ قاتلِ عمارؓ ہے ان اماموں کو بقلم خود امام حجر پڑھ لیں ۔ اور بغور جائزہ لیں کہ کہیں تسامح نہیں لکھا اور نہ ہی کہیں سالوں کا فاصلہ کا ذکر کیا بلکہ سیدھا سیدھا دوٹوک اپنا عقیدہ عین ان اماموں کے عقیدہ کے مطابق لکھا کہ ابوالغادیہ ہی وہ شخص ہے جس نے سیدنا عمارؓ کو قتل کیا ۔ محترم رضا رعسقلانی صاحب پڑھیے : بہت بہت شکریہ قادری سلطانی صاحب اپ ڈھول بجائیے َ۔ ----------------------------------------
  10. Assalam o Alikum jnab! mera swal hai k islam main Imam Ya Aaima kram jo 4 Imam hain unko man'na ya unki taqleed main kisi firqa sy munsalik hona ....is amal ki islami taleemat main kia wuqaat hai plz guide me jazakaALLAH
  11. 90% khuwab kii tabeer btany waly log dhong rachty hain jin ki koi haqeeqat nhi hoti ......baqi kuch apny tajurby ki andazy sy btaty jo kabhi thyk ho jata to kabhi galt......rahi bat khuwab kii tabeer to quran pak main Irshad hai " ALLAH pak Irshad farmty hain k koi ghaib ka ilam ni janta han wo jisko main jitna chahta ata krta ya bta deta hn "........or khuwab kii tabeer btana bhi ghaib ilam ki 1 qisam hai ......so esi cheez sy ijtanab kren jo hamen shirk ki tarf ly jay jazakaALLAH o khair
  12. makki
  13. (1):حضور غوث اعظم،شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیزکی تصنیف غنیۃ الطالبین میں بعض معاندین نے جعل سازی اور خفیہ سازش سے چیزیں داخل کیں۔ (2):ابن قیم ابن تیمیہ کا شاگردِ خاص تھا،ان دونوں کے بارے میں امام حافظ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:''ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم جوزیہ وغیرہ کی کتابوں میں جوکچھ خرافات ہیں ان سے خودکوبچا کررکھناکیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیااور اللہ عزوجل نے جان کر ان کوگمراہیت میں چھوڑ دیا اور ان کے کانوں اور دل پرمہر لگادی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیاتو اللہ عزوجل کے سواکون ہے جوان کو ہدایت دے اور(افسوس)کیسے ان بے دینوں نے اللہ عزوجل کی حدود سے تجاوز کیا اوربدعتوں میں اضافہ کیا اور شریعت و حقیقت کی دیوار میں سوراخ کردیا۔ اوریہ سمجھ بیٹھے کہ ہم اپنے رب(عزوجل) کی طرف سے ہدایت پر ہیں جبکہ وہ ایسے نہیں ہیں بلکہ وہ تو شدید گمراہی وگھٹیا عادات سے متصف ہیں اورانتہائی سخت سزاوخسارے کے مستحق ہیں اورانہوں نے جھوٹ و بہتان کی اِنتہاکردی،اللہعزوجل ان کے پیروکاروں کوذلیل ورسواکرے اور ان جیسوں کے وجودسے زمین کوپاک کرے۔'' آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
  14. بھائی یہ آپ نے کس کتاب سے بھیجھی ہے مجھے کتاب کا فرنٹ پیج سیند کریں گے
  15. بسم اللہ الرحمن الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  16. Jaidad main izafa is tarah hua k us waqt mere dada retire nai hoe the or hamara aik chota sa karobar bhi tha to jiski badolat humne baad mai apni jaidad main izafa kya .
  1. Load more activity