All Activity

This stream auto-updates   

  1. Today
  2. Mughal Waisy kitny besharam tum logo ho. Pahly qadri aya phir tum khud aye aye end wohe jawab saeedi dy ga Tum mngo purchase krny aye thy. Uper sy itny besharam ho aur beiman ho. Jo main proof manag Raha hoon wo dynahe rahy aur besharam kah raaha hy mainy jawb dydeya. Agar tumhary pass jawab nahe Tu apni tar tar band karo And wait for saeedi aur dekho wo keya chabal marta hy. Waisy esy bri chabal keya hoogi Jo usny jawab main mari thi
  3. Yesterday
  4. jnab aap ko b jawab day dia gya ap k baray mean kisi nay sach kaha ha . kutay ki dum tehri hi rahti ha chahay so saal nali mean daal kr rakho. baki aap ko meri post fazol lagti ha tow reply mat krean saeedi sahib ki post ka intazar krean ... shukria
  5. Last week
  6. Mughal. Yaar jab tumko baat ki smaj henahe arahi tu kun apna aur maira Time brbad kar rahyo. Saeedi ki esi baat py mainy swalat keay magar tum ny unko para tk nahe. Jethon Di khoti uthy he aan khaloti. Kuch tu aqal mandi dekhao mairi urdu wali post paro uska jawb dou. Note. Bans jaisy aqal waloon k leye. Tarjma Ap saw py hy baki ambiya ki tu baat he nahe horahe. Aur tum jahloon sy main bar bar poch raha hoon kahan ashraf Ali thanvi ny kaha k Wo Ap saw ko naubillah ghunah gar janta hy. Aur aisy he tariq jamil Aur junaid jamshaid ka. Qasim ali nanutavi ny b yehe lekha k Ap saw sab sy mahfooz hyn. Darul uloom k fatwa tum NY khud lagay Aur ab dobara baki ambiya k mutalak baat start kar k abujahal k father hony ka sboot na dyna. Mair baki sari posts parlo phir nawab dyn
  7. Aoa, Mujhe mere khwab ki tabeer puchni hai, mene dekha ek kamra hai wahan meri Mami hain bethi hui (baal khulla, lambay, kaalay) aur me khud hu, Mami haamila hain aur mujhe kehti hain k me bhi haamila hojaugi, kamray mein shelf pe 3 quran parray hotay hain rehel samait (rehel lakri ki hai aur size mein barri hai aur Quran bhi size mein Barra hai) , mujhe kehti Hain Mami k me quran ko rehel pe khol kr rakhu aur uspe kharri hojau, me 3 quran ko khol kr uspe kharri hojati apna ek baazu upar krke nangay paaon bilkul seedhi.
  8. جب ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو انسان ہمیں دو ہی جذبوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ یہ دو جذبے محبت اور نفرت ہیں۔ محبت کا جذبہ غالب ہو تو انسان زندگی کو بچانے والی دوا ایجاد کرنے سے لے کر چاند اور مریخ کو تسخیر کرلیتا ہے جبکہ نفرت کا جذبہ غالب آنے سے انسان کئی جنگوں میں کروڑوں بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے جرم کا ارتکاب کرنے سے بھی نہیں ڈرتا۔ کہتے ہیں کہ محبت و نفرت کے ان جذبوں پر جس کو کمال حاصل ہو جائے وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا بادشاہ یا جادوگر بن جاتا۔ محبت انسان کی فطرت ہے اور اسے جو اچھا لگے اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اکثر یہ محبت یک طرفہ ہوتی ہے۔ انسان اپنی محبت کو پانے کے لیے مشکل سے مشکل کام کرتا آیا ہے۔ کبھی وہ صحراؤں میں خاک چھانتا نظر آتا ہے تو کہیں وہ پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر بناتا۔ محبت انسان کو اس قدر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ انجام کی پرواہ کئے بنا اپنی محبت کو حاصل کرنے کی ہر سعی کرتا ہے۔ کچھ لوگ عشق حقیقی کے متلاشی ہوتے ہیں اور اس کے لیے کئی سخت قسم کی عبادات اور وظائف کا سہارا لیتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ انسانوں سے محبت کرنے کو اہمیت نہیں دیتے۔ قدرت نے انسان کی فطرت میں دوسرے انسان سے محبت کرنا رکھا ہے جب آپ اپنی فطرت کے خلاف جاتے ہیں کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ در حقیقت عشق مجازی ہی عشق حقیقتی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اس میں کچھ تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ روحانیت اور جادو کی دنیا میں محبت پر بہت سارے اعمال درج ہیں جن میں کچھ اپنے اثرات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ کچھ اعمال بہت سادہ اور کچھ بہت پیچیدہ ہیں۔ ان کی پیچیدگی اور آسانی عمل کی تاثیر میں فرق نہیں ڈالتی۔ اکثر سادہ نظر آنے والے اعمال اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں بہت موثر ثابت ہوتے ہیں۔ آج ہم حصول محبت کے لیے ایک ایسا عمل پیش کر رہے ہیں جو بہت آسان ہونے کے ساتھ ساتھ کرشماتی اثرات بھی رکھتا ہے۔ یہ عمل ہر کوئی کر سکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کا مشکل نقش یا لوح تیار نہیں کی جاتی بلکہ قدرت کی پیدا کردہ ان قوتوں کو استعمال کیا جاتا ہے جو تخلیق کے مختلف عناصر پر مامور ہیں۔ یہ عمل کرنے سے پہلے آپ اپنے ارد گرد میں کسی صاحب علم سے رائے اور تجویز ضرور لیں۔ عمل کے لیے جو چیزیں درکار ہیں ان میں سرخ گلاب کا پھول، محبوب کا پہنا ہوا کپڑا یا کپڑے کا ٹکڑا اگر یہ نہ تو پھر محبوب کے چند بال، لکھنے کے لیے سرخ روشنائی، دو سفید کاغذ کے ٹکڑے، سرخ رنگ کا دھاگہ اور سرخ موم بتی۔ اس عمل پر مامور قوتوں کو اپنے پاس بلانے کے لیے ان کی خدمت میں کچھ تحائف پیش کئے جاتے ہیں۔ تحفہ ہر مخلوق کے دل میں آپ کے لیے پسندیدہ جذبات پیدا کرتا ہے اور جب کوئی آپ کو پسند کرتا ہے اور آپ اس سے کوئی فرمائش کرتے ہیں تو وہ لازمی پوری کرتا ہے۔ اس عمل کے تحائف میں میٹھے چاول یعنی زردہ یا میٹھائی، شہد اور پھولوں میں یاسمین کے پھول شامل ہیں۔ ان سب کو ایک صاف پلیٹ میں رکھ لیں۔ یہ عمل جمعہ کے دن طلوع آفتاب کے وقت کیا جائے گا۔ دو باتوں کا خاص خیال رکھیں کہ جس دن آپ عمل کریں اس دن چاند کی روشن راتیں ہوں اور چاند برج عقرب میں نہ ہو۔ جمعہ کا دن سیارہ زھرہ سے متعلق ہے اور سیارہ زھرہ کی ساعت میں محبت کے اعمال کے لیے جاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بہترین خوشبو جلائے رکھیں۔ خوشبو اگر سیارہ زھرہ سے متعلق ہو تو زیادہ موثر ہو گا۔ سب سے پہلے ہم جمعہ کے دن اور سیارہ زھرہ پر مامور قوتوں کو اپنی مدد کے لیے پکاریں گے۔ آپ نے ایک پلیٹ میں جو چیزیں رکھی ہوئی ہیں ان کو سامنے رکھ لیں اور یہ عبارت پڑھیں۔ یہ عبارت اردو میں لکھی جا رہی ہے کیونکہ بہت سے لوگ عربی زبان کو درست تلفظ میں ادا نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے عمل کی تاثیر ظاہر نہیں ہوتی۔ عبارت یہ ہے : ” یا جبرائیلُ ، یا عینیائیلُ، یا ابوالحسن ، یا زوبعہ ابیض آپ کو قسم ہے کہ میرے اس محبت کے عمل کو انجام دو آپ کو اسم الہی خبیر کا واسطہ ” یہ عبارت تین بار پڑھی جائے گی۔ جب عبارت مکمل کر لیں تو سامنے رکھی چیزوں پر نظر ڈال کر کہیں میں یہ تمام اشیاء جبرائیل ، عینیائیل، ابوالحسن اور زوبعہ ابیض کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرتا ہوں۔ یہ چیزیں عمل تیار کر لینے کے بعد چلتے پانی میں بہا دیں یا پھر بچوں میں کھانے کے لیے تقسیم کر دیں۔ اس عمل کے لیے ہم ایک مثال پیش کر رہے ہیں۔ اس مثالی عمل میں ہم آنسہ بنت نساء(عورت) کے دل میں رجل بن خانم(مرد) کی محبت پیدا کر رہے ہیں۔ آپ جن دو افراد کے لیے عمل کریں ان کے نام استعمال کریں۔ آپ کے پاس سرخ رنگ کی جو موم بتی ہے اس پر کسی نوک دار چیز سے یہ کلمہ لکھیں ” الحب آنسہ بنت نساء علی حب رجل بن خانم ”۔ پہلے اس کا نام لکھا جائے گا جس کے دل میں محبت پیدا کرنی ہے۔ نام لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ موم بتی ٹوٹ نہ جائے۔ موم بتی پر کلمہ جس انداز میں لکھا جائے گا وہ آپ کی سہولت کے لیے دیا گیا ہے۔ آپ کے پاس کاغذ کے دو سفید ٹکڑے ہیں۔ ان دونوں ٹکڑوں کا سائز ایک جیسا ہونا چاہیے۔ ایک کاغذ پر ہم نے ” آنسہ بنت نساء ” لکھا اور دوسرے کاغذ پر ” رجل بن خانم ”۔ دونوں نام لکھے بھی ایک ہی سائز میں جائیں گے۔ یہ نام سرخ رنگ کی روشنائی سے لکھے جائیں گے۔ نام لکھنے کے بعد دونوں ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے اوپر اس طرح رکھیں کہ دونوں نام ایک دوسرے سے مل جائیں۔ ان ٹکڑوں پر محبوب کے کپڑے کا ٹکڑا یا بال لپیٹ دیں۔ ایک پلیٹ میں یہ دونوں کاغذ اور موم بتی رکھ دیں۔ موم بتی کو جلا لیں۔ پختہ یقین رکھیں کہ موم بتی روشن کرتے ہی آپ کے محبوب کے دل میں آپ کی محبت روشن ہو جائے گی۔ اب یہ عزیمت 21 بار پڑھیں۔ اس عزیمت کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات سات کی تعداد میں پڑھنا ہے۔ جس انسان کو آپ اپنی محبت میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں اس کا چہرہ اچھی طرح اپنی نگاہوں میں جما لیں اور یہ عزیمت سات بار پڑھیں : ” اے پاک و طاہر ارواح میں آپ کو قسم دیتا ہوں ہمارے رب کے نام کا واسطہ میری طرف متوجہ ہوں، اور آنسہ بنت نساء کو رجل بن خانم کی طرف متوجہ کرو، آنسہ بنت نساء کے قلب و روح و جسم کو رجل بن خانم کے عشق و محبت کی آگ میں جلاؤ۔ آنسہ بنت نساء کے قلب و ذہن و روح پر مسلط ہوجاؤ اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہ رجل بن خانم کی محبت سے غافل نہ ہو سکے ۔ آنسہ بنت نساء کو رجل بن خانم کی طرف اس طرح کشش کرو جیسے مقناطیس لوہے کو اپنی جانب کشش کرتا ہے ۔ اے اس عمل پر مامور موکل میں آپ کو ہمارے رب کا واسطہ دیتا ہوں میری اس حاجت کو ابھی پورا کرو، ابھی فوری، اسی لمحہ “۔ اب بند آنکھوں سے تصور کریں کہ آپ کا محبوب آپ کی طرف دوڑتا ہوا آ رہا ہے اور اس کے ساتھ یہی عزیمت سات بار ورد کریں۔ آخر میں بند آنکھوں سے تصور کریں کہ آپ کا محبوب آپ کے سامنے ہے اور اسی عبارت کو سات بار ورد کریں۔ جب عزیمت کو 21 بار ورد کر چکیں تو گلاب کے پھول اور ناموں والے کاغذ پر سات بار پھونک دیں۔ جب تک موم بتی جلتی رہے آپ نے اس کے سامنے بیٹھے رہنا ہے اور بند آنکھوں سے اپنے محبوب کا چہرہ دیکھتے رہیں اور دل ہی دل میں محبوب کی آواز سنیں کہ وہ آپ کو کہہ رہا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ جب موم بتی مکمل طور پر جل کر بجھ جائے تو ناموں والے کاغذ کو گلاب کے پھول کے اندررکھ دینا ہے اور پھول کے ارد گرد سرخ رنگ کا دھاگہ لپیٹ دینا ہے تاکہ پتیاں بند ہو جائیں۔ اس پھول کو آپ کسی ویرانہ میں صاف جگہ پر مٹی میں دفن کر دیں۔ آپ نے جس انسان کے لیے یہ عمل کیا ہے وہ چند ہی دنوں میں آپ کی محبت میں بےقرار ہونا شروع ہو Mohabbat ke liye Dua | Mohabbat ki Dua جائے گا اور آپ سے اظہار محبت کرے گا۔
  9. As-Salaam alaikum, The Reality of Allah Tabaraka Wa Ta'ala is His Existence which is really His Dhat. The Absolute Existence has no form, no shape, no limitation, neither beginning nor end; and in spite of this, He has manifested Himself in different shapes without any change in His Dhat. It is like a person surrounded by mirrors of different sizes, makes and colours appearing in the mirrors, without any change in his own personality. Al'aan Kama Kana- 'He is as he was' Allah Ta'ala is unknown and unknowable. His Attributes alone are known... but any attempt to understand His Reality...the Reality of His Essence is forbidden: "Wa Yuhazziru-Kumullahu Nafsahu.. And He makes you cautious of Himself" (3:50)
  10. Earlier
  11. As-Salaam alaikum, "And remember your Lord by your tongue and within yourself, humbly and in tearful submission, without loud voice, in the mornings and evenings; and be not among the neglectful." (7:205) As we sit to remember our Creator, the Lord of the Cosmos, sometimes we silently chant His Name, Allah, Allah, Allah.. sometimes 'Subhanallah' (Praised be Allah)..sometimes 'Alhamdulillah (All thanks be to Allah)... other times..'Astaghfirullah.... La-ilaha illallah... This Zikr... this remembrance entombs the body to rest, but creates enough sonic subtleties to move the resting body to gesture back and forth. There appears to be some kind of music, which provides enough balance to prod an uncanny space for the soul to reside in beauty... at a point when we are intimate with Allah-- a kind of intimacy which abolishes all loneliness. Indeed, to mouth the Praise for Allah Ta'ala quitely, is to preserve the forgetfulness of everything in the bright remembrance of Allahu..Jalla-Jalalahu.
  12. As-Salaam alaikum, The Sufi way is firmly built upon 2 foundations: Islam or Submission to Allah (the practice of the Shari'a) and Imaan (assent in the heart to the basic Islamic teachings concerning Allah, Prophecy and the Last Day). Once a person has gained sufficient ground in these 2 dimensions, then Sincerity, love and spiritual protection can develop. Briefly, the Sufi path is the attempt to achieve Ihsan or spiritual perfection. It is to try "to try to worship Allah as if you see Him." Eventually, sincerity and love may take the seeker to the place where the "as if" ceases to apply. In otherwords, the seeker of Allah will worship Him while seeing Him, in the mode of one of the supreme models of Sufi life, Sayyadi Ali Ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, who said: "I would not worship a Lord whom I do not see". Of course this happens when the heart beholds/sees by the light of certainty that which is hidden in the unseen world. An important exercise, when it comes to Ibada (worship) in this way is the Dhikr...Remembrance of Allah, which the Qur'an commands the faithful (believers) to do in several verses. In the Qur'an and in Islamic usage in general, the command to remember Allah also means to mention Allah, so the actual means of remembering Him is the mention of His Name(s), which is considered inseparable from the object named. Through a gradual process of transformation, the revealed name fills up the mind and consciousness, leaving no room for individual self hood. The content of our consciousness determines our own nature. As Jalaluddin Rumi put it in his famous lines:-- ''You are your thought, brother, the rest of you is bones and fibre. If you think of roses, you are a rosegarden, but if you think of thorns, you are fire's fuel." (Rumi 1925-40, Book 2).
  13. As-Salaam alaikum, The Sufi way is firmly built upon 2 foundations: Islam or Submission to Allah (the practice of the Shari'a) and Imaan (assent in the heart to the basic Islamic teachings concerning Allah, Prophecy and the Last Day). Once a person has gained sufficient ground in these 2 dimensions, then Sincerity, love and spiritual protection can develop. Briefly, the Sufi path is the attempt to achieve Ihsan or spiritual perfection. It is to try "to try to worship Allah as if you see Him." Eventually, sincerity and love may take the seeker to the place where the "as if" ceases to apply. In otherwords, the seeker of Allah will worship Him while seeing Him, in the mode of one of the supreme models of Sufi life, Sayyadi Ali Ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, who said: "I would not worship a Lord whom I do not see". Of course this happens when the heart beholds/sees by the light of certainty that which is hidden in the unseen world.
  14. Download the official version (6111 books): (approximately 2GB) ISO file المكتبة الشاملة Download the waqf copy (12400 books): (90 GB) Torrent tORRENT
  15. جناب آپ بحث کو فضول میں طول دے رہے ہیں سعیدی صاحب کی ان دو باتوں میں آپ کے سوالوں کے جواب ہیں کے کیوں سنی عالموں کے ترجموں میں گناہ کے لفظ پر فتوی نہیں لگتا اور دیوبندی علماء کے اسی لفظ کے استعمال پر فتوی کیوں لگ جاتا ہے سعیدی صاحب نے بھی نبی کا لفظ استعمال کیا اور آپ کے عالم نے بھی
  16. mughal sahab. agar mainy kuch sach bool deya tu itna ghusa kun? Qasim Ali Nanntative ka aqeeda: Ap SAW sab sy Mahfooz, Darul uloom ka fatwa AP SAW Masoum Ashraf Ali Thavi, AP SAW ki Asmat par paky ( fatawa amdadiya, nashar al teb) aur la tadad Hawalay majood hyn, kuch mainy uper b deye. Mughal SB, mujy lagta hy AP shayad barelvi ulma ko doeband akabar samaj rahy ho, magar had hy be sharami ki, khud he scan page laga tasfiya ka aur Allah ny parny ki tufiq nahe di. lehaz agar kuch pass hy tu jawab dyn, warna qadri sultan ki tarah khamushi achi hy
  17. جناب اشرف علی تھانوی ہوں یا آپ ہوں یا طارق جمیل جب کسی بات پر بحث و مباحثہ ہوتا تو آپ کے عقائد و نظریات آپ کے بڑوں کی کتابوں سے دیکھیں جائیں گئیں کیوں کے آپ ان کا نام اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں جیسے آپ دیوبندی ہیں تو دیوبند کی بنیاد رکھنے والے جو دیوبندیوں کے علماء ہیں ان سے ہی دیوبندیوں کے عقائد کا پتہ چلے گا. باقی میرے قابل ہونے کی بات جناب ہم تو طالب علم ہیں اور آپ کی بات کے تب ایسی ہی اردو ہوتی تھی تو میرے خیال تب کے ادوار میں زیادہ اچھی اردو ہوتی اور ایک عالم تو ویسے پھونک پھونک کر لکھتا ہے
  18. muhtaram Mughal SB. RAHA HOON, yaqeen karyn ye ebarat tu kci barelvi alam k zehan main nahe aye, ab main apko shetani damagh wala kahoon yan kuch hor. ap ko itna nahe pata k pahly urdu aisi he use hoti thi. aur jo pager ap ny lagaya mujy samaj agae k ap kitny kabal hyn. yehan py tarjma ghalat kaha geya k AP SAW ko deoband masoom nahe samajty. aur ap scan baki ambiya k laga rahay ho jo alag discussion hy. Agar ashraf ali khan ny koe aisi baat ki tu tarjma ashraf thanvi aur hawala Qasim ali nanutavi ka kun deya, Ashraf ali thanvi k kun nahe deya. main pahly b kah chuk hoon tuhmat kafir pay lagany k b utna gunah hy jitna musalman py. BAKI sary maslak air dossary ko kafir kahty hyn tu ap ye forum kun chala rahy hyn, please jo mazu hy us py rahayn
  19. جناب اصل میں بات یہ جو میں اس بحث سے سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ دیوبندیوں کی بہت ساری ایسی عبارتیں ہیں جن پر کفر فتوے ہیں جن میں علم رسول کو تشبیہ کذب باری تعالی وغیرہ شامل ہیں تو جب ترجموں میں گناہ کا لفظ استعمال کریں گیئں تو اس کا مطلب وہ لیا جاے جو انہوں ںے لکھا اس لیے اشرف علی تھانوی کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوے ان پر فتوی صادر ہو سکتا ہے اور ان کے ماننے والوں پر بھی
  20. "ہر قسم سے نبی کا معصوم ہونا ضرور نہیں اگرچہ ہمارے پغیمبر سبھی سے محفوظ رہے ہوں " اصلی الفاظ یہ ہیں یہ نہیں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سبھی سے محفوظ رہے.. دونوں میں فرق ہے درود شریف کو پورا لکھا کریں
  21. Mughal bro Jazakallah Allah tala ap k elam main afaza kary aur ap k leye HAQ ki rahyn khol Deye. Ahle Elam brothers ko kafi samaj agae hogi, k kahan saeedi sb ny dandi mari. kun k tarjma AP SAW ki zaat py tha, yahan baki Ambiya ki baat nahe horahi thi, aur Qasam Ali nanutavi ny Baki Amibiya py alag bahas ki aur AP SAW k mutalak SAF SAF lekh deya AP SAW SABI SY MAHFOOZ RAHAY aur yehe he aqeeda saeedi sb ka hy. tu phir tarjama ulma barelvion ka same, aqeeda same magar kufar ka fatwa deoaband py saeedi ny kun lagaya. Saeed sb jo hawal ap ny deya wo tu radi ki tokari main geya, Ab Ap ny Junaid JAmshaid, Tariq Jamil aur Ashraf Ali thanvi ka aqeeda batana hy proof k sath. KUNK jo alzam ap ny laga tha QASIM ALI NANUTAVI py wo scan page main ghalat sabit huwa, QASIM ALI nanutavi ka aqeeda wohy hy jo ap b manty ho aur MUGHAL bahe ny ulma deoband ka ijtamae aqeeda b post kar deya (fatwa darul ULOOM deoband) NOTE: Baki ambiya k mutalak bahas alag hy, wo yahan discuss nahe horahi, jab wo hogi tu uspy apny apny comments dyn gy)
  22. جناب سپر مودریٹ ہونے کا مطلب یہ نہیں کے میں کوئئ عالم ہوں میں تو ادنی سا طالب علم ہوں دارالعلوم کا فتوی تو پوسٹ پڑھنے والوں کے لیے ہی لگایا ہے ڈسکشن میں حصہ لینے کے نہیں ۔حالنکہ فتوی سے آپ کا فائدہ ہوا مجھے شوق نہیں آپ کی عقائد کی کتابیں پڑھنے کا فتوی لگا دیے ہیں عقائد کی کتاب کا خود لگالیں قاسم نانوتوی کے رسالے کا میں نے لگا دیا ہے میں نے کوئی جواب نہیں دیا نا آپ کو مخاطب کیا ۔ا اب ہر کوئی آپ کی طرح ٹائم نہیں نکال سکتا تھوڑا صبر کریں
  1. Load more activity