Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/04/2015 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  3. 3 likes
  4. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  5. 3 likes
    انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ کفر پر اختلافی بحث نہیں بلکہ دیوبندیوں کی حمایت اور اُن کے کفریہ کلام کی تاویلات کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ اور سُنی لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
  6. 3 likes
    تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا نہ کہ اردو کا۔۔ مذاق ٹھٹا، کھیل، ناٹک یہ سب اردو کے مزید معانی ہیں۔ اوپر والی کتاب اردو لغت ہے۔ فارسی لغت نہیں۔۔ فارسی اصل ماخد ہے اس لفظ کا۔ آپ اپنی دلیل پر فارسی لغت ڈکشنری سے اس کے مختلف معنی پیش کرتے تب بھی کچھ بات بنتی۔ آپ نے جو جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی آپ کا اصل رد ہے۔۔ جتنے بھی صحیح اور غلط معنی لغت میں درج ہیں۔۔ وہ اردو کی لغت کے ہیں۔۔۔ مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ نے جو لفظ لکھا وہ اُس کے اصل مطلب پر لکھا۔۔۔ یعنی نظارہ کرنا۔ دوسرا آپ کی جہالت اس بات سے ثابت ہے۔ اردو زبان عربی، فارسی اور کچھ ترک الفاظ سے مل کر بنی۔۔ تو الفاظ جہاں سے لئے گئے پہلے اُس کے وہی معنی ہونگے پھر اُس کے دوسرےمعنی ہونگے۔ لفظ تماشائی کا جو مطلب آپ نے اس جگہ لکھا "تماشہ دیکھنے والا" ۔۔ یہی تو غلطی ہے۔ تماشا (فارسی) "دید، نظارہ" تماشا۔۔۔۔ئی ۔۔"نظارہ کرنے والا"۔۔۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس پوسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو مجرہ کی اوپر تشریح کی ہے۔ اُسی لفظ مجرہ کے اِسی اردو لغت کی کتاب میں غلط معنی بھی درج ہیں (نوٹ: عربی لغت نہیں۔۔ اردو لغت میں مجرہ کے غلط معنی)۔ اور یہاں پر ت مربوظ کا استعمال نہیں ہے کیونکہ لفظ مجرے استعمال ہوا شعر میں۔ مجرۃ نہیں۔ اور بڑی یے اردو کے تلفظ کیلئے نہیں لگائی گئی بلکہ اصل لفظ ہی اردو میں مجرا ہے جو عربی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آپ نے معنی کہکشاں آسماں وغیرہ کِیے ہیں۔۔ جبکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسے اصل آداب، جھکنا، سلام والے معنی میں لکھا ہے۔ پھر سے پڑھو۔ "بیت اللہ مجرے کو جھکا"۔ یعنی جھُک کر سلام پیش کرنا۔ آداب بجا لانا۔ جیسے لفظ مجرہ کے معنی تبدیل ہوگئے اور اب اکثر غلط معنی لئے جاتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ یہاں ہے۔ اب بتائو ان دو میں کونسا معنی لوگے؟ جھُک کر سلام پیش کرنا ۔۔۔ یا معاذ اللہ ناچنا وغیرہ جیسے گندے معنی؟ آپ سے کوئی بعید نہیں۔ شاید اس اسکرین شاٹ کے بعد آپ علی حضرت علیہ الرحمہ کو بھی گستاخ ثابت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔ اور اسی عربی کے کسی دوسرے لفظ کے صحیح معنی کے ساتھ غلط معنی بھی اردو میں جمع ہوجائیں تو کیا وہ عربی کا لفظ ہی غلط ہوجائے گا اور قرآن کریم میں اُس لفظ کا صحیح استعمال گستاخی بن جائے گی۔۔ نعوذ باللہ؟ مثالوں اور مختلف وقت میں مختلف چیزوں کی مختلف نوعیت کا بیان آپ کی جہالت، ہٹ دھرمی اور گندی سوچ کے آگے بالکل فضول ہے۔ چونکہ آپ اپنی جہالت اور گندی سوچ کہ مطابق بغیر فتوی لئے ایک عاشق رسول کو گستاخ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں شیطان لعین سے اور آپ جیسے شخص سے۔
  7. 3 likes
    ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ سے دعاء کرسکتا ہے۔ اس وہابی کے میرے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگرایک بندہ قرآن وحدیث والے اذکار کو پڑھتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہ ہو تو کیا معاذاللہ قرآن و حدیث کو جھٹلا دیں ؟؟؟ 2۔اگر دو بندے ایک ہی ذکر والے کلمات کو پڑھتے ہیں ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے اور دوسرے کی نہیں ہوتی تو کیا اس میں دعا قبول ہونے والےشخص کے تجربے کو جھوٹا کہا جائے گا؟؟ 3۔ جب بندہ اپنی طرف بنائے ہوئےکلمات سےاللہ عزوجل سے دعا مانگ سکتا ہے توکیا کسی ولی یا کسی نیک بندے کے تجربے والی دعااللہ عزوجل سے کیوں نہیں مانگ سکتا ؟؟ مرتے دم تک کوئی وہابی ان سوالات کے جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  8. 3 likes
  9. 3 likes
  10. 3 likes
  11. 3 likes
    Source: dawatulquran.net/ham-naami-ka-mughalta/
  12. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  13. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  14. 2 likes
    اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
  15. 2 likes
    وھابیہ کو مدارج النبوت کے ترجمہ کی توفیق نہیں ملی یہ تومحمد عبدالوھاب،ابن تیمیہ، ابن قیم، شوکانی وغیرہ کی کتابوں کے ترجمے کرتے ہیں۔ مدارج النبوت فارسی مطبوعہ نول کشور اور پرنا اُردو ترجمہ کے عکس درج ذیل ہیں۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی سوانح حیات میں اس کتاب کا تعارف لکھا ہے۔
  16. 2 likes
    امام ابواسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی نے اپنی معروف کتاب الاعتصام میں بدعت کی اقسام بھی بیان کی ہیں اور بدعت حسنہ کے جواز پر دلائل بھی دئیے ہیں۔
  17. 2 likes
    Wahabi Bolta Hai per Samjhta nahi . is fake fatwa Me Likha Gaya Hai K Aala Hazrat Ne Al mohannad Manazr e Aam Per Aane K Bad Takfir se Ruju Farma liya Kaha Ruju Farmaya ? jawab .. سبحان السبو ح اور تمہد ایمان میں Hasna Mana Hai ..... سبحان السبوح 1309 ھجری Me Likhi Gai تمہید ایمان 1326 ھجری Me Likhi Gai Fatwa E Kufr 1320 Me DiyaGaya..... Al monnad ...1353 Me Chapi Sarkar Aala HAZRAT رضی اللہ تعالیا Ka Wisal 1340 hij Ko Huwa Ab Sawal Y Hai K 1320 Me fatwa E Kufr De Kar Aala Hazrat Ne 1309 Wale Risale ( سبحان السبوح ) Me Yani Fatwa Dene Se 11 Sal Qabl Fatwa Se kaise Ruju Kiya Honga ? Wo Al Mohannd Ki Bina Per Jo 1353 Me Chapi Ja K Aala Hazrat Hayat Bhi Nahi The Ya Illahi Y Majra Kiya Hai ? Koi Deo Hai jo Aisa Maths Janta Ho jis Se Y Hisab Ka Kitab Ho Sake ?
  18. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Wesy toh Zubair Zai ki taqreeban har book ka sunni hazrat ny rad likha hy Jin mein Faisal bhai bhi hain.. Magar Zubair zai k tazadaat pe deoband hazrat ki ye kafi achi book meri nazar hy. Mazy ki baat k jin Deobandi Ulma ny is book mein Zubair zai ko khoob bura bhala bhi kaha hy aur class bhi li hy, Unhi deobando ki wafaat pe Ghair_muqaldeen ki janib se unk forum pe in Deobandi ulma ko Magfirat aur Duaiya kalmon se nawaza gaya.. http://tauheed-sunnat.com/book/321/Tunaqzaat-Zubair-Ali-Zai
  19. 2 likes
  20. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  21. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  22. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  23. 2 likes
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  24. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  25. 2 likes
  26. 2 likes
  27. 2 likes
    pehle is kitab ki sanad to sabit karo,,, aur agar is riwayat ko sahi bana kar Maaz Allah Imam ko kafir bana raheho to batao,,, Zubair Ali zayi inko imam keh kar kya hua???
  28. 2 likes
    وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
  29. 2 likes
  30. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  31. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  32. 2 likes
  33. 2 likes
  34. 2 likes
    امام اجل محدث جلیل حضرت ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے طحاوی شریف میں ان روایات کو نقل فرمایا ہے. 🕯عبیداللہ بن مقسم فرماتے ہیں: *ان ابن عمر قال لہ اذا صلیت وحدک فاقرا فی الرکعتین الاولین من الظهر و العصر بام القرآن و سودة سورة و فی الرکعتین الاخریین بام القرآن ...الخ* 📖 یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنهما نے ان سے فرمایا: جب تم تنہا نماز پڑهو تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑهو اور پچهلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑهو ( شرح معانی الآثار المعروف طحاوی، باب القرآءة فی الظہر والعصر) اس کے علاوہ اور بهی روایات اسی باب میں موجود ہیں. 💡امام عبدالله بن محمد بن ابی شیبہ نے *مصنف* میں باب قائم کیا *من کان یقراء فی الاولیین بفاتحة الکتاب و سورة و فی الآخرين بفاتحة الکتاب* 🛢اس باب میں متعدد روایات نقل فرمائیں 🕯ابن سیرین رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : *نبئت ان ابن مسعود کان یقراء فی الظہر والعصر فی الرکعتین الاولین بفاتحة الکتاب و ما تیسر و فی الآخریین بفاتحة الکتاب* 📖 یعنی مجهے خبر دی گئی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑهتے اور جتنا قرآن آسانی سے پڑهه سکیں ، اور بعد کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑهتے 📘 *( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلوٰہ جلد 1 صفحہ 406)* 🕯اسی باب میں سیدنا فاروق اعظم، حضرت ابو درداء ، حضرت جابر ، ام المومنین سیدہ صدیقہ، شیر خدا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنهم کے معمول اور ارشادات درج ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا آیات کو پڑها جائے اور بعد کی دو رکعتوں میں فقط سورہ فاتحہ
  35. 2 likes
    بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم الصــلوة والسلام عليك يارسول الله ﷺ Ahle Iblees/Wahabi/Deobandi/Najdi Hamesha Yeh Kahte Hain k Bid'at Ki Koi Qism Nahi Hoti Balkeh Bid'at Sirf Ek Hai Or Woh Hai Bid'at-e-Sayyah....! Hum Mohaddisin k Aqwal Se Janege k Haqeeqat Me Bid'at k Kitne Iqsam Hote Hain امام عزالدين عبدالعزيز بن عبداسلام السلمى الشافعى جو اپنے وقت کے بہت بڑے اصولی محدث اور امام تھے اہل زمانہ انہیں سلطان العلماء پکارتے تھے وہ اپنی کتاب قواعدالأحکام فى مصالح الأنام میں فرماتے ہیں کے بدعت کے پانچ اقسام ہیں. البدعة فعل مالم يعهد فى عصر رسول الله ﷺ وهى منقسمة إلى بدعة واجبة و بدعة محرمة و بدعة مندوبة و بدعة مكروهة و بدعة مباحة. ترجمہ: بدعت سے مراد وہ فعل ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں نہ کیا گیا ہو، بدعت کی حسب ذیل اقسام ہیں- واجب، حرام، مستحب، مکروہ اور مباح. 》قواعدالأحكام فى مصالح الأنام، جلد ٢، صفحہ ٢٠٤. Imam Abu Zakariya Mohiuddin Bin Sharf Nawawi Ka Ai'teqad Or Mazhab Bhi Yahi Hai k Bid'at 5 Qism Ki Hai.... Imam Nawai Bid'at Ki Tareef Or Is k Iqsam k Motaliq Likhte Hain k..... قَالَ الْعُلَمَاءُ الْبِدْعَةُ خَمْسَةُ أَقْسَامٍ وَاجِبَةٌ وَمَنْدُوبَةٌ وَمُحَرَّمَةٌ وَمَكْرُوهَةٌ وَمُبَاحَةٌ فَمِنَ الْوَاجِبَةِ نَظْمُ أدلة المتكلمين لِلرَّدِّ عَلَى الْمَلَاحِدَةِ وَالْمُبْتَدِعِينَ وَشِبْهُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمَنْدُوبَةِ تَصْنِيفُ كُتُبِ الْعِلْمِ وَبِنَاءُ الْمَدَارِسِ وَالرُّبُطِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمُبَاحِ التَّبَسُّطُ فِي أَلْوَانِ الْأَطْعِمَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَالْحَرَامُ وَالْمَكْرُوهُ ظَاهِرَانِ وَقَدْ أَوْضَحْتُ الْمَسْأَلَةَ بِأَدِلَّتِهَا الْمَبْسُوطَةِ فِي تَهْذِيبِ الْأَسْمَاءِ وَاللُّغَاتِ فَإِذَا عُرِفَ مَا ذَكَرْتُهُ عُلِمَ أَنَّ الْحَدِيثَ مِنَ الْعَامِّ الْمَخْصُوصِ وَكَذَا مَا أَشْبَهَهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ وَيُؤَيِّدُ مَا قُلْنَاهُ قَوْلُ عمر بن الخطاب رضي الله عنه في التَّرَاوِيحِ نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ وَلَا يَمْنَعُ مِنْ كَوْنِ الْحَدِيثِ عَامًّا مَخْصُوصًا قَوْلُهُ كُلُّ بِدْعَةٍ مُؤَكَّدًا بِكُلِّ بَلْ يَدْخُلُهُ التَّخْصِيصُ مَعَ ذَلِكَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ. ترجمہ: علماء نے بدعت کے پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہہ اور مباح بیان کی ہے بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر امور کے رد کے لئے استعمال کرنا ہے اور بدعت مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا- بدعت مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں اور اس مسئلہ کو تفصیلی دلائل کے ساتھ میں نے تھذیب الاسماء واللغات میں واضح کر دیا ہے- جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اگر اس کی پہچان ہو جائےگی تو پھر یہ سمجھنا آسان ہے کہ یہ حدیث اور دیگر ایسی احادیث جو ان سے مشابہت رکھتی ہیں عام مخصوص میں سے تھیں اور جو ہم نے کہا اس کی تائید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نعمت البدعة کرتا ہے اور یہ بات حدیث کو عام مخصوص کے قاعدے سے خارج نہیں کرتی- قول کل بدعة لفظ كُلَّ کے ساتھ مؤكد ہے لیکن اس کے باوجود اس میں تخصیص شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالی کے ارشاد *تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ (وہ ہر چیز کو اکھاڑ پھینکےگی) میں تخصیص شامل ہے- 》IMAM NAWAWI, SHARAH SAHIH MUSLIM, JILD 6, SAFA 154-155. Imam Ibn Asir Jazri Hadees-e-Umar Radi Allaho Anho «نِعْمَت البِدْعَة هَذِهِ» k Tahat Bid'at k Iqsam Or In Ka Sharayi Mafhum Bayan Karte Huwe Likhte Hain k....... الْبِدْعَةُ بِدْعَتَان: بِدْعَةُ هُدًى، وَبِدْعَةُ ضَلَالٍ، فَمَا كَانَ فِي خِلَافِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ ورسوله صلى الله عليه وسلم فَهُوَ فِي حَيِّز الذَّمِّ وَالْإِنْكَارِ، وَمَا كَانَ وَاقِعًا تَحْتَ عُموم مَا نَدب اللَّهُ إِلَيْهِ وحَضَّ عَلَيْهِ اللَّهُ أَوْ رَسُولُهُ فَهُوَ فِي حَيِّزِ الْمَدْحِ. ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ جو کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو وہ مزموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عالم حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعالی نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ نے اس حکم پر راغب کیا ہو محمود ہے- 》IMAM IBN ASIR JAZRI, AL NIHAYA FI GHARIBUL HADEES WAL ASR, SAFA 106. Imam Abdur Ra'uf Manawi Apni Kitab FAIZ-UL-QADEER SHARAH JAME-US-SAGHIR Me Farmate Hain k...... فإن البدعة خمسة أنواع: محرمة وهي هذه واجبة وهي نصب أدلة المتكلمين للرد على هؤلاء وتعلم النحو الذي به يفهم الكتاب والسنة ونحو ذلك ومندوبة كإحداث نحو رباط ومدرسة وكل إحسان لم يعهد في الصدر الأول ومكروهة كزخرفة مسجد و تزويق مصحف و مباحة كالمصافحة عقب صبح و عصر وتوسع في لذيذ مأكل وملبس ومسكن ولبس طيلسان وتوسيع أكمام ذكره النووي في تهذيبه. ترجمہ: بدعت کے پانچ اقسام ہیں اور وہ یہ ہیں پہلی بدعت واجبہ ہے اور وہ یہ کہ ان تمام مذاہب کو رد کرنے کے لئے متکلمین کے دلائل پیش کرنا اور اسی طرح علم نحو کا سیکھنا تاکہ قرآن و سنت کو سمجھا جا سکے اور اس جیسے دیگر علوم کا حاصل کرنا بدعت واجبہ میں سے ہیں اور اسی طرح سرائے اور مدارس وغیرہ بنانا اور ہر اچھا کام جو کہ زمانہ اول میں نہ تھا اسے کو کرنا بدعت مستحبہ میں شامل ہے اور اسی طرح مسجد کی تزئین اور قرآن مجید کے اوراق منقش کرنا بدعت مکروھہ میں شامل ہے اور اسی طرح (نماز) فجر اور عصر کے بعد مصافحہ کرنا اور لذیذ کھانے، پینے، پہننے، رہنے، اور سبز چادر استمعال کرنے میں توسیع کرنا اور آستینو کا کھلا رکھنا بدعت مباحہ میں سے ہے- اس کو امام نووی نے اپنی تھذیب میں بیان کیا ہے- 》IMAM ABDUR RA'UF MANAWI, FAIZ-UL-QADEER SHARAH AL-JAME-US-SAGHIR, JILD 1, SAFA 439-440. Imam Jalaluddin Suyuti Apne Fatawa, Al-Hawi Lil Fatawa Me Imam Nawawi k Hawale Se Bid'at k Iqsam Bayan Karte Huwe Likhte Hain k........ أن البدعة لم تنحصر في الحرام والمكروه، بل قد تكون أيضا`` مباحة و مندوبة و واجوبة. قال النووى فى تهذيب الأسماء واللغات، البدعة في الشرح هي إحداث ما لم يكن في عهد رسول الله ﷺ وهي منقسمة إلى حسنة و قبيحة وقال الشيخ عزالدين بن عبدالسلام في القواعد: البدعة منقسمة إلى واجبة و محرمة و مندوبة و مكروهة و مباحة. ترجمہ: بدعت حرام اور مکروہ تک ہی محصور نہیں ہے بلکہ اسی طرح یہ مباح، مندوب اور واجب بھی ہوتی ہے جیسے کہ امام نووی اپنی کتاب تھذیب الأسماء واللغات میں فرماتے ہیں کہ شریعت میں بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نہ ہوا ہو اور یہ بدعت، بدعت حسنہ اور بدعت قبیحہ میں تقسیم ہوتی ہے اور شیخ عزالدین بن عبدالسلام اپنی کتاب قواعد الاحکام فی مصالح الانام میں فرماتے ہیں کہ بدعت کی پانچ قسم ہے واجب، حرام، مندوب، مکروہ اور مباح کے اعتبار سے ہوتی ہے- 》IMAM JALALUDDIN SUYUTI, AL-HAWI LIL FATAWA, JILD 1, SAFA 192. Imam Ibn Hajar Asqalani Fatahul Bari Sharah Sahih Bukhari Me Bid'at Ki Tareef Or Iqsam Per Bahas Karte Huwe Farmate Hain..... والبدعة أصلها ما أحداث على غير مثال سابق، و تطلق فى الشرع فى مقابل السنة فتكون مذمومة، والتحقيق أنها إن كانت مما تندرج تحت مستحسن فى الشرع فهى حسنة و إن كانت مما تندرج مستقبح فى الشرع فهى مستقبحة، وإلا فهى من قسم المباح و قد تنقسم إلى الأحكام الخمسة. ترجمہ: بدعت سے مراد اسے نئے امور کا پیدا کیا جانا ہے جن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملے اور ان امور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ ناپسندیدہ عمل ہے، اور بالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنه ہے اور اگر وہ بدعت شریعت میں ناپسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبه(یعنی بری بدعت)کہلائے گی اور اگر ایسی نہ ہو تو اس کا شمار بدعت مباح میں ہوگا- بدعت کو شریعت میں پانچ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے- 》IMAM IBN HAJAR ASQALANI, FATAHUL BARI SHARAH SAHIH BUKHARI, JILD 4, SAFA 298. Imam Qustalani Hazrat Umar Radi Allaho Ta'ala Anho k Farman نعم البدعة هذه k Tahat Bid'at Ki Ta'reef Or Taqseem Bayan Karte Huwe Likhte Hain...... "نعم البدعة هذه" سماها بدعة لأنه ﷺ لم يسن لهم الاجتماع لها كانت زمن الصديق ولا أول الليل ولا كل ليلة ولا هذا العدد. وهى خمسة واجبة و مندوبة و محرمة و مكروهة و مباحة. ترجمہ: "نعم البدعة هذه" کے تحت نماز تراویح کو بدعت کا نام ديا گیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے تراویح کے لئے اجتماع کو مسنون کرار نہیں دیا اور نہ ہی اس طریقہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں (پابندی کے ساتھ) رات کے ابتدائی حصے میں تھی اور نہ ہی مستقلا" ہر رات پڑھی جاتی تھی اور نہ (تراویح کی رکعات کا) یہ عدد متعین تھا اور بدعت کی پانچ اقسام واجب، مندوب، حرام، مکروہ اور مباح ہیں. 》IMAM QUSTALANI, IRSHAD-US-SARI SHARAH SAHIH BUKHARI, JILD 3, SAFA 426. Wahabiyon k Bahut M'otabar Yaman k Maroof Or Gair Moqallido k Azeez Alim Shaikh Showkani Jinhe Naam-o-Nihad Ahle Hadees Or Salfi Apna Imam Mante Hain Woh Hadees-e-Umar نعمت البدعة هذه k Mota'liq البدعة أصلها ما أحدث على غير مثال سابق و تطلق فى الشرع على مقابلة السنة فتكون مذمومة والتحقيق إنها إن كانت مما يندرج تحت مستحسن فى الشرع فهى حسنة وإن كانت مما يندرج تحت مستقبح فى الشرع فهى مستقبحة و إلا فهى من قسم المباح و قد تنقسم إلى الأحكام الخمسة. ترجمہ: لغت میں بدعت اس کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئ مثال نہ ہو اور اصطلاح شرع میں سنت کے مقابلہ میں بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے یہ مذموم ہے اور تحقیق یہ ہے کہ بدعت اگر کسی ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں مستحسن ہے تو یہ بدعت حسنہ ہے اگر ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیئہ ہے ورنہ بدعت مباح ہے اور بلاشبہ بدعت کی پانچ اقسام ہیں. 》شوکانی، نیل الاوطار شرح منتقی الأخبار، جلد ٣، صفح ہ ٥٠٠-
  36. 2 likes
    Is kitab ka musannaf Sunni nahin. Yeh ek Deobandi heh. Yeh Deobandiat ki dajjaliat ka subut heh. Ek aur kitab meray pass ek aur kitab heh Deobandiyoon ki. Is mein Deobandi nay un tamam aqahid ko Wahhabi aqahid tehraya heh joh Ahle Sunnat Wal Jammat kay hen. Aur joh aqahid o nazriat Deobandiat kay hen un ko Sunni aqeedah bataya heh ... Yehni jaga jaga likha heh, yeh aqeeda rakhnay wala Wahhabi heh halan kay yeh aqeedah Sunni ka heh, aur jaga jaga Deobandiat kay aqahid ko Sunniyon kay aqahid likha heh ... Yeh Deobandi kuch be kar saktay hen. Mujjay Hindu, Sikh, Christian, agar kissi kitab ka reference deh aur kahay is jaga yeh likha heh, shahid mein maan loon. Deobandi Maulviyoon mein kuch logh itnay baray kazzab aur dajjal hen kay Mirza ko fakhr hota hoga in ki dajjaliat dekh kar. In logoon ka itbar bilqul nah karen.
  37. 2 likes
    ان تمام محدثین پر وہابی بدعت کا فتویٰ کیوں نہیں لگاتے بلکہ انکو امام کہتے ہیںَ اور یہ آخر میں وہابیوں کے شیخ شوکانی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بدعت کی اقسام ہوتی ہیں۔ وہابی منافقت چھوڑکر ان محدثین کی پیروی کریں۔ یا منافقت نہ دیکھائیں ان پر بدعتی کا فتویٰ لگوا دیں اپنے ملاوں سے۔
  38. 2 likes
    میرے خیال میں یہ ایک تازہ تازہ دیوبندی یا وہابی غیر مقلد ہے۔ اس لئے علمی گفتگو کی اُمید بہت ہی کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بیسیوں صفحات کاپی پیسٹ کرنا شروع کردے گا۔ پھر بھی چند چھوٹے سے سوالات ہیں۔ اُمید کرتے ہیں ٹو دا پوائںٹ جواب آئے گا۔ ۱۔ قبر کو پوجنے کو کس نے جائز کہا ہے؟ ہم صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کسی مستند عالم کی تحریر، تقریر، عمل وغیرہ سے یہ بات ثابت کرو۔ خالی چاولیں مارنے سے تمہاری اپنی بدنامی ہوگی۔ جو کہ خیر اس پوسٹ سے ہوچکی ہے۔ ۲۔ اوپر جو لکھا ہے۔ اُس کا جواب کدھر ہے؟ ہم صاحب صحیح مسلم، اما سیوطی، صاحب فتح الباری اور دیگر جید علماء کی مانیں یا چودھویں صدی میں پیدا ایک شخص کی، جس کو اپنی پہچان بھی نہیں؟ ۳۔ اپنی کچھ پہچان پیدا کرنے کیلئے سب سے پہلا کام کرو اور اپنا عقیدہ بتائو۔۔ وہابی دیوبندی یا وہابی غیر مقلد؟ تاکہ بات کرتے ہوئے آسانی ہو۔
  39. 2 likes
    Fazayil Hazrat Ameer Moaviyyah By Allama Ghulam Mahmood Hazaravi https://archive.org/details/FazayilHazratAmeerMoaviyyahByAllamaGhulamMahmoodHazaravi Faizan E Hazrat Ameer Moaviya https://archive.org/details/FaizanEHazratAmeerMoaviya Manaqib E Ameer E Moaviyyah https://archive.org/details/ManaqibEAmeerEMoaviyyah Seerat Syeduna Ameer E Moaviyyah By Mufti Jalal Uddin Amjadi https://archive.org/details/SeeratSyedunaAmeerEMoaviyyahByMuftiJalalUddinAmjadi Fazayil E Ameer E Moaviyyah Aur Mukhalifeen Ka Muhasiba By Siddiqu Zia Naqshbandi Qadri https://archive.org/details/FazayilEAmeerEMoaviyyahAurMukhalifeenKaMuhasibaBySiddiquZiaNaqshbandiQadri Ikhtilaf e Hazrat Ali RadiAllah Anho Wa Amir MaAvia RadiAllah Anho https://archive.org/details/IkhtilafEHazratAliRadiallahAnhoWaAmirMaaviaRadiallahAnho Ikhtelafe Ali W Muaawiya By Abdul Qadir Badayuni https://archive.org/details/IkhtelafeAliWMuaawiyaByAbdulQadirBadayuni Mon Huwa Moaviyyah Moaviyyah Kon https://archive.org/details/MonHuwaMoaviyyahMoaviyyahKon Al Moaviyyah R A By Allama Muhammad Nabi Bukhsh Halwai https://archive.org/details/AlMoaviyyahRAByAllamaMuhammadNabiBukhshHalwai Manaqib e Ameer e Moaviyyah https://archive.org/details/ManaqibEAmeerEMoaviyyah.pdf_853 Manaqib Syeduna Ameer e Moaviyyah by Mufti Shafqaat Ahm https://archive.org/details/ManaqibSyedunaAmeerEMoaviyyahByMuftiShafqaatAhm Radde Rawafid Wa Difa Hazrat Ameer muaviya https://archive.org/details/RaddeRawafid Dushmanan EAmeer EMoaviyyah Ka Ilmi Muhasiba By Allama Muhammad Ali Naqshbandi vol 1& vol 2 https://archive.org/details/DushmananEAmeerEMoaviyyahKaIlmiMuhasibaByAllamaMuhammadAliNaqshbandiPart1_201704
  40. 2 likes
    تیجانی صاحب۔ آپ نے میری پوسٹ کو جان بوجھ کر اگنور کیا ہے یا آپ کے پاس آپ کی اپنی بات پر دلیل نہیں ہے؟ کیا آپ صرف اس بات پر اپنی غلطی تسلیم کریں گے کہ یہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے؟ یا یہاں پر بھی ضد و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ملنے کو نظر آئے گا؟ یہ آپ کی پوسٹ ہے۔ اوہر لغت سے ثابت کیا گیا ہے کہ تماشہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے۔ بلکہ عربی اور فارسی سے ماخوذ کیا گیا ہے۔ عربی کیلئے ڈکشنری کہ یہ دو صفحات ملے ہیں مگر عربی سے کم علمی کی وجہ سے کچھ زیادہ یہاں سے نہیں بتا سکتا۔ بہرحال لفظ تماشی عربی کا اصل ماخذ ہے جیسا کہ فروزاللغات میں بھی لکھا ہے۔ جہاں سے لفظ تماشا فارسی میں بنا، جس کا مطلب ہے دیکھنا، نظارہ کرنا اور اردو لفظ تماشہ فارسی سے لیا گیا۔ http://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/تماشى/ http://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/تماشي/ میرے مطالبے پر آپ نے ایک ایسے ماڈرن اسکالر کا انتخاب کیا جن کا نام پہلے تو کوئی معتبر سُنی علماء میں نہیں آتا۔ دوسرا، آپ نے بغیر سیاق و سباق ایک سوال پوچھا۔ شاید آپ اگر کلام کو واضح کرتے تو پھر جو جواب ملتا اُس پر بحث ہو سکتی تھی۔ تیسرا۔ جناب کا ایک آرٹیکل چند سال قبل پڑھا جو کہ ہر کسی کو صلح کلی کہنے کے رد پر تھا۔ آرٹیکل پڑھ کر ایسا گمان گزرا کہ جناب دیوباندیوں اور ہر کسی سے دینی اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے فیس بک پوسٹ پر کمنٹ پوسٹ کیے اور اشرف علی تھانوی وغیرہ کی گستاخی لکھ کر پوچھا کہ ایسے عقیدے والوں سے اتحاد کیا جائے؟ تو حضرت نے مجھے پرسنل میسج بھیجا کہ آپ نے میری بات کو غلط سمجھا۔ پھر میں نے ڈاکٹر طاہر کا ذکر کیا تو جناب کو اُن کی صلح کُلیت پر اختلاف تھا۔ میں نے چند حوالے پوسٹ کئے، اسی فورم کے لنکس وغیرہ بھیجے مگر پھر اُن کا جواب نہیں آیا تھا۔ اس لئے پھر گزارش ہے کہ آپ واقعی حق کہ متعلاشی ہیں تو کسی معتبر سُنی عالم سے فتوے لاکر دیں اور سوال میں مولانا حسن رضا خاں کا کلام بھی نقل کریں تاکہ سیاق و سباق بھی واضح ہو اور جواب میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
  41. 2 likes
    جناب کاوہی حال ہے کہ اب کے مار۔۔ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج کسی کے پاس نہیں۔۔جب ایک لفظ کے معنی ایک سے زیادہ ہوں تو کیا آپ نے لازمی وہی معنی استعمال کرنا ہے جس میں آپ کو گستاخی کا شائبہ ہو؟؟لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم کی کثرت کیجیے شاید کوئی بہتری آۓ۔۔۔
  42. 2 likes
    محترم بھائی صاحِب!۔ علامہ غُلامِ رسول سعیدی صاحب نوّر اللہ تعالیٰ مرقدہ نے اپنی کئی کتب میں متعدد مقامات پر امرِ زیرِ بحث کا اقرار فرمایا ہے۔ مثال کے طور پر انکی دو کتابوں سے یہ پیشِ خدمت ہے۔ بھائی صاحِب!۔ عقیدۂ علمِ غیب کے متعلق چند امور کا سمجھنا ضروری ہے۔ انکا مختصر بیان نیچے پیش کیا جا رہا ہے۔ آپکو کسی بدمذہب سے نہ بحث کی ضرورت ہے اور نہ اسکین پیجز دکھانے کی، بلکہ بوقتِ ضرورت انہیں اسلامی محفل فورم پر مدعو کریں۔
  43. 2 likes
    Ary janab Ghair Mazhab K Muqallid Kis ne Gali di hy apko..?? kamal hy Uper Apko Janab keh k mukhatib kiya gaya hy..Agar Ye Apk nazdeek gali hy aur Ikhlaaq bas yahi hy apko Wahabi, Najdi Keh k hi Mukhatib kiya jaye toh Ainda se ham Ikhilaaq Ka muzahra krain.. Baqi Siwaye Taqiya aur Matam k ata kuch nahi hy ap logon ko Jab Ap logon ki dukhti Rag pe paon jata hy.. Jaisa k sab k samny hi hy.. Baqi main phir kahon ga k himmat karo aur Apna Aqeeda toh apny alfaaz mein likh do.. Per Main dawy k sath kehta hon k Tumhara Aqeeda har daleel k Bad tabdeel hoga Aur Aisa Main Kafi Dafa Isi topic pe Wahabi Hazraat k sath Munazry mein daikh chuka hun..
  44. 2 likes
    السلام علیکم ورحمت اللہ جناب گزارش ہے کہ یہاں کوئی ایڈمن یا ماڈریٹر کسی کو پروٹیکٹ نہیں کر رہا۔۔ عسقلانی بھائی آپ سے گزارش ہے کہ آپ فیس بک سے لاگ ان ہونے کی بجائے اسلامی محفل میں ڈائریکٹ اکاؤنٹ بنائیں تو شاید یہ مسئلہ دوبارہ نہ ہو کیوں کہ کل تک مجھے آپ کے اکاؤنٹ میں ایسا کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا اور میں بھی آپ سب سنی بھائیوں سے یہی گزارش کروں گا کہ آپس میں فروعی اختلافات پر بحث کی بجائے بدمذہبوں کے رد پر زیادہ توجہ دی جائے۔۔جزاک اللہ خیرا
  45. 2 likes
    محترم بھائی صاحِب!۔ اونٹ اپنی حقیقت میں شیطان یا شیطان میں سے نہیں ہے (جسکے دلائل امیجز میں ملاحظہ فرمائیں)۔ اس لیے جہاں اونٹ کو شیطان یا شیطان میں سے کہا گیا ہے وہاں اونٹ کے مزاج کی سرکشی وغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور جہاں اونٹ کے شیطان یا شیطان میں سے ہونے کی نفی ہے، وہاں اونٹ کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کہا گیا ہے۔ اور ’’پیدا ہونا‘‘ سے متعلق تفصیل نیچے والے امیج میں ملاحظہ ہو۔ اللہ عزوجل مجھے اور آپکو علم سیکھنے کی توفیق بخشے (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ)۔
  46. 2 likes
    فرض، واجب اور سنت مؤکدہ پڑھنا لازم ہے۔ سنت غیر مؤکدہ (اور نفل) پڑھنا لازم نہیں، مگر پڑھ لینا چاہیے۔ اگر صرف فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ پڑھے جائیں (یعنی سنتِ غیرِ مؤکدہ اور نفل نہ پڑھیں) تو کوئی گناہ نہیں ہے (لیکن سنتِ غیرِ مؤکدہ اور نفل کے ثواب سے محرومی ضرور ہے)۔
  47. 2 likes
    امام خطیب بغدادی کی کتاب "الرحلة في طلب الحديث" کا اردو ترجمہ۔۔ Download link.. https://archive.org/details/Rihlahfitalabalhadith
  48. 2 likes
  49. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  50. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga