Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/30/2017 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 2 likes
    Wahabi Bolta Hai per Samjhta nahi . is fake fatwa Me Likha Gaya Hai K Aala Hazrat Ne Al mohannad Manazr e Aam Per Aane K Bad Takfir se Ruju Farma liya Kaha Ruju Farmaya ? jawab .. سبحان السبو ح اور تمہد ایمان میں Hasna Mana Hai ..... سبحان السبوح 1309 ھجری Me Likhi Gai تمہید ایمان 1326 ھجری Me Likhi Gai Fatwa E Kufr 1320 Me DiyaGaya..... Al monnad ...1353 Me Chapi Sarkar Aala HAZRAT رضی اللہ تعالیا Ka Wisal 1340 hij Ko Huwa Ab Sawal Y Hai K 1320 Me fatwa E Kufr De Kar Aala Hazrat Ne 1309 Wale Risale ( سبحان السبوح ) Me Yani Fatwa Dene Se 11 Sal Qabl Fatwa Se kaise Ruju Kiya Honga ? Wo Al Mohannd Ki Bina Per Jo 1353 Me Chapi Ja K Aala Hazrat Hayat Bhi Nahi The Ya Illahi Y Majra Kiya Hai ? Koi Deo Hai jo Aisa Maths Janta Ho jis Se Y Hisab Ka Kitab Ho Sake ?
  3. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Wesy toh Zubair Zai ki taqreeban har book ka sunni hazrat ny rad likha hy Jin mein Faisal bhai bhi hain.. Magar Zubair zai k tazadaat pe deoband hazrat ki ye kafi achi book meri nazar hy. Mazy ki baat k jin Deobandi Ulma ny is book mein Zubair zai ko khoob bura bhala bhi kaha hy aur class bhi li hy, Unhi deobando ki wafaat pe Ghair_muqaldeen ki janib se unk forum pe in Deobandi ulma ko Magfirat aur Duaiya kalmon se nawaza gaya.. http://tauheed-sunnat.com/book/321/Tunaqzaat-Zubair-Ali-Zai
  4. 2 likes
  5. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  6. 2 likes
    تذکرہ سنوسی مشأخ.pdf
  7. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  8. 2 likes
    (1) کتاب: توثیقِ صاحبین آن لائن مطالعہ:۔ https://archive.org/details/ToseeqESahibeen ڈاؤن لوڈ:۔ https://archive.org/download/ToseeqESahibeen/Toseeq-e-Sahibeen.pdf (2) (3)
  9. 2 likes
    جناب محمد علی صاحب قبلہ سعیدی صاحب کے پیرومرشد حضرت غزالئ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمت نے سماع کے جواز میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔سماع کے جواز کے قائلین بھی کچھ صوفیاء کرام ہیں اور کچھ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔۔اس لیے اس پر اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں
  10. 2 likes
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  11. 2 likes
    عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  12. 2 likes
  13. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  14. 2 likes
  15. 2 likes
  16. 2 likes
    pehle is kitab ki sanad to sabit karo,,, aur agar is riwayat ko sahi bana kar Maaz Allah Imam ko kafir bana raheho to batao,,, Zubair Ali zayi inko imam keh kar kya hua???
  17. 2 likes
    وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
  18. 2 likes
  19. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  20. 2 likes
  21. 2 likes
    مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  22. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  23. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  24. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga
  25. 1 like
  26. 1 like
    جی آپ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا قصیدہ دیکھ لیں اس میں انکا عقیدہ آپ کو پتا چل جاۓ گا
  27. 1 like
    دیوبندی حقیقت میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمہ کے نظریاتی مخالف ہیں۔ عرصہ ہوا ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ کے ملوظات بنام القول الجلی فارسی مخطوطہ کاکوری ضلع لکھنؤ سے بازیافت ہوا ،پھر دہلی سے اس مخطوط کو اُسی حالت میں شاءع کردیا گیا۔ ان ملفوظات میں شاہ ولی اللہ کے وہی عقاءد ہیں جو کہ اہل سنت حنفی بریلویوں کے ہیں یہ ملفوظات ان کے شاگرد شاہ محمد عاشق پھلتی نے لکھے اور شاہ ولی اللہ کو دکھاتے رہے۔ اس کتاب کے شاءع ہونے کے بعد اُردو میں اس کا تعارف لاہور سے شاءع ہوا اس کا ابتداءیہ مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے لکھا وہ اس کے شروع میں لکھتے ہیں۔ ویسے بہت سے اختلافات میں سے صرف ایک عقیدہ نذر ونیاز کے متعلق یہاں عکس حاضر ہیں۔ دیوبندی ان نظریات کے خلاف لکھتے ہیں تو یہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی مخالفت ہی ہے اور کیا ہے؟
  28. 1 like
    Urdu: https://www.scribd.com/document/35947982/Al-Sawaiq-al-Ilahia-fi-al-Ra-d-ala-al-Wahabia-by-Suleman-Ibn-Abdul-Wahab-Hanbali Arabic: http://ia700701.us.archive.org/12/items/swa3iq-ilahia/13138341161.pdf
  29. 1 like
    22950- من عشق فعف ثم مات مات شهيدا (الخطيب عن عائشة) أخرجه الخطيب (12/479) . 22951- من عشق فكتم وعف فمات فهو شهيد (الخطيب عن ابن عباس) أخرجه الخطيب (6/50) . 22952- من عشق وكتم وعف وصبر غفر الله له وأدخله الجنة (ابن عساكر عن ابن عباس) أخرجه ابن عساكر (43/195) 1. حقی، اسماعیل، تفسير روح البيان، ج ‏8، ص 100؛ تفسير بيان السعادة في مقامات العباده، ج ‏2، ص 355؛ التفسير المعين للواعظين و المتعظين، المتن، ص 238؛ در این تفسیر ذیل آیه 23 سوره یوسف، این روایت را از کنزالعمال چنین نقل می‌کند: النبي (صلی الله علیه و آله): من عشق فعف ثم مات مات شهيدا؛ «كنز العمال، خ 6999»؛ در شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید هم که اشاره فرمودید به این صورت نقل شده: «قد جاء فی الحديث المرفوع من عشق فكتم و عف و صبر فمات مات شهيدا و دخل الجنة» ؛ شرح‏ نهج‏ البلاغة، ج 20، ص 233. 2. مَنْ عَشِقَ شَيْئاً أَعْشَى بَصَرَهُ وَ أَمْرَضَ قَلْبَهُ فَهُوَ يَنْظُرُ بِعَيْنٍ غَيْرِ صَحِيحَةٍ وَ يَسْمَعُ بِأُذُنٍ غَيْرِ سَمِيعَةٍ قَدْ خَرَقَتِ الشَّهَوَاتُ عَقْلَهُ وَ أَمَاتَتِ الدُّنْيَا قَلْبَهُ وَ وَلِهَتْ عَلَيْهَا نَفْسُه‏ ... (نهج‏ البلاغة، خطبه 109). 3. آلوسی، محمود، روح المعاني فی تفسير القرآن العظيم، ج‏ 9، ص 201 .*گستاخ رسول اور منکرین حدیث کے لفظ عشق پر ہرزہ سرائی کے پس پردہ حقائق* اس لفظ پر تنقید کا مقصد امت مسلمہ کے مسلّمہ اکابرین اور آئمہ کرام پر طعن و تشنیع کر کے امت مسلمہ میں انکی محبت اور احترام کو کم کرنا مقصود ہے اس میں کافی حوالے موجود ہیں کہ امت مسلمہ کے جید علماءکرام نے اس لفظ کو تواتر کے ساتھ استعمال کیا اور احادیث میں بھی یہ لفظ وارد ہوا لیکن حدیث کے منکر اور گستاخ رسول احادیث کو پس پشت ڈال کر اپنی قیاس آرائیوں سے کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو سراسر زیادتی ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ انکے پاس ماں بہن کی چادر کے پیچھے چھپنے کے علاوہ کوئی قیاس تک موجود نہیں یہ امت مسلمہ میں ایموشنلی بلیک میلنگ کے زریعے امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سب سے پہلے ہم اس لفظ کو احادیث مبارکہ سے پیش کریں گے پھر اس لفظ عشق کے عربی لغت میں معنی دیکھیں گے پھر ان معنوں کو ہم اس احادیث کے مطابق چیک کریں گے اسکے بعد ہم اسلاف امت کے اقوال پیش کریں گے اسکے بعد امت مسلمہ کے مستندشعراکےاقوال پیش کرکےسب سے آخر میں تبصرہ کرکے گستاخ رسول اورمنکرین حدیث کا مکمل ردکریں گے ان شاء اللہ سب سے پہلی بات کہ اگر یہ لفظ عشق حدیث میں اچھائی کے معنوں میں جگہ لے لیتا ہے تو ایک مسلمان ہونے کے ناطے تاویل باطلہ سے اس میں عیب پوشی نہیں کرنی چاہئے جبکہ بقول منکرین حدیث یا گستاخوں کے یہ لفظ عشق معیوب ہے تو اس لفظ پر گرفت بنتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ کے اکابرین نے ہمیشہ اسلام کی اساس کو برقرار رکھا اور جہاں جہاں کوئی خرابی دیکھی فوراً گرفت کی لہزا پہلی بات تو اس لفظ عشق کا حدیث میں تعریفی معنوں میں آنا ہی اسکے عیبوں کو پاک کر دیتا ہے مگر پھر کوئی اعتراض کرے تو اسے اکابرین یا اسلاف سے پہلے حدیث کو ضعیف اسکے بعد اس لفظ کی اسلاف سے گرفت ثابت کرنا ہوگی اب ہم آپکے سامنے وہ احادیث پیش کرتے ہیں جو مختلف سندوں اور واسطوں سے مختلف مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں جن سے ماں بہن کی چادر کے پیچھے چھپنے والے بے نقاب ہوسکیں گے ان شاء اللہ پہلی حدیث بروایت خطیب بغدادی حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ *من عشق فعف ثم مات مات شہیدا* جسکو عشق ہوا پھرﮨﮯ۔ پاک دامن رہتے ہوئے مر گیا تو وہ شہید ہوا جہاں اس حدیث میں محبت کی انتہاء(عشق) کا زکرکیاگیاوہاں ہی ایک اورحدیث میں آتا ہے *بروایت خطیب حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ *من عشق فکتم وعف فمات فھو شہید* جس کو کسی سے عشق ہوا اور اس نے چھپایا اور پاک دامن رہتے ہوئے مر گیا وہ شہید ہے (الجامع الصغیر جلد 2 صفحہ 175 طبع مصر) جب ہم نے یہ حدیث کچھ گستاخوں کے سامنے پیش کی تو انھوں نے اپنے ایک خود ساختہ امام سے اسکو رد کرنے کی کوشش کی کہ یہ احادیث ضعیف ہیں جبکہ امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسانید متعددہ سے اسکو نقل کیا بعض میں کلام کیا جنھیں گستاخ کیش کر رہے تھے جبکہ اس آدھی عبارت کے بعد کی عبارت پیش کرنا انھیں اور انکے خودساختہ امام کو ہضم نہ ہوئی جسکی وجہ سے آدھی عبارت کو چھوڑ دیا آئیں ہم آپکے سامنے مکمل عبارت پیش کرتے ہیں امام نے بعض میں کلام ضرور کیا مگر کچھ اسانید کو برقرار رکھا کہ وہ ضعیف نہیں اور اس میں ایک سند کو تو مکمل اور واضح طور پر *وھو سند صحیح* کہا (مقاصد حسنہ صفحہ 420) اسکے علاوہ ایک اور جگہ ایک حدیث کے بارے میں امام سخاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام خرائطی رحمۃاللہ علیہ اور امام ویلمی رحمۃاللہ علیہ نے بھی روایت کیا وہ حدیث یہ ہے *من عشق فعف فکتم فصبر فھو شہید* جس کو کسی سے عشق ہو گیا اور وہ پاک دامن رہا اور اسے چھپایا اور صبر کیا تو وہ شہید مرا امام سخاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی متعدد اسناد اور طریقوں سے روایت کیا (مقاصد حسنہ صفحہ 419-420 طبع مصر) اب اہل علم جانتے ہیں کہ اگر حدیث ضعیف بھی ہو تو مختلف اسانید کی وجہ سے اسکا ضعف دور ہو جاتا ہے جبکہ اس میں تو پھر بھی ایک صحیح حدیث موجود ہے جس میں کوئی ضعف نہیں جسکا محور اور مرکز ہی محبتوں کی انتہاء عشق ہے اب ہم عشق کا معنی و مفہوم بیان کریں گے عشق ﺷﺪﯾﺪ ﺟﺬبہ ﻣﺤﺒﺖ، ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ، ﻣﺤﺒﺖ، ﭘﯿﺎﺭ۔ کو کہتے ہیں اب ہم ایک مستند حوالے کے ساتھ عشق کی کیفیات بیان کرتے ہیں عشق میں ایک عاشق پانچ مختلف حالتوں کا شکار ہوتا ہے یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک عاشق کے عشق کی انتہاء پانچ مرحلوں تک ہوتی ہے ﺩﺭﺟﮧ ﺍﻭﻝ ﻓﻘﺪﺍﻥِ ﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻝ ﮐﺎ اپنے معشوق کی طرف لگا دینا، ﺩﺭجہ ﺩﻭﻡ ﺗﺎﺳﻒ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻖ ﺑﯿﺪﻝ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺳﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﺭجہ ﺳﻮﻡ ﻭﺟﺪ : ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﺭﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺩﺭﺟﮧ ﭼﮩﺎﺭﻡ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ، ﺩﺭﺟﮧ ﭘﻨﺠﻢ ﺻﯿﺎﻧﺖ، ﻋﺎﺷﻖ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﺠﺰ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ۔ ‏( ﻣﺼﺒﺎﺡ ﺍﻟﺘﻌﺮﻑ، 176) ایک عاشق اپنے معشوق ﮐﮯ ﻋﯿﻮﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺲ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮﺟﺎتا ہے ۔ ‏( ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ ﺍﻟﻤﺤﯿﻂ ، ﺝ : 1 ، ﺹ : 909 ‏) ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﯾﮩﯽ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 10 ، ﺹ : 251 ‏) ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺼﺤﺎﺡ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 4 ، ﺹ : 1525 ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﻓﺎﺭﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﻘﺎﯾﯿﺲ ﺍللغۃ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﻋﺸﻖ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﮐﻮ ﭘﮭﻼﻧﮕﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 4 ، ﺹ : 321 ، ﻃﺒﻊ : ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻔﻜﺮ ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺍﻟﻌﺰ ﺷﺮﺡ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻃﺤﺎﻭﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﺸﻖ ﺍﺱ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﮨﻼﮐﺖ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ علامہ اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشا ہے لب بام ابھی اسکے علاوہ اسی عشق کے بارے میں مولانا رومی فرماتے ہیں *ہر کراہ زعشق جامہ چاک شد اوز حرص وعیب کلبی باک شد* جسکے وجود نفسانی کا جامہ عشق سے چاک ہوگیا وہ ہر عیب اور لالچ سے پاک ہوگیا* ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر ہم ان گستاخوں اور منکرین حدیث کے پروپیگنڈے کو مان لیتے ہیں تو سوچیں کہ ہم نے کیا کھویا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 1)ہم نے حدیث کے الفاظ پر تنقید کی 2)ہم نے حدیث کے اعزازی لفظ کو عیب دار مانا 3)ہم نے آئمہ کے اقوال کو رد کیا 4) ہم نے اسلاف پر تنقید کی 5) ہم نے قیاس کو حدیث سے اچھا جانا 6) ہم نے منکرین حدیث کے اس نقطہ نظر کو تقویت دی کہ حدیث کے واسطے قابل اعتبار نہیں 7) ہم نے گستاخوں کو آئمہ پر جرح کرنے کا موقع دیا 8) ہم نے امت کے اجماع کو پس پشت ڈالا 9)ہم نے اس تواتر کا انکار کیا جسکی بنیاد 1400 سال پہلے رکھی گئی خدارا اب بھی وقت ہے جاگو امت مسلمہ جاگو اور اپنی صفوں میں ان لوگوں کو پہچانو جو انجانے میں آپکا ایمان برباد کر رہے ہیں اب اس عشق کے لفظ کی آڑ میں آپکو ان اوپر بیان کردہ 9 گناہوں کا انجانے میں ارتکاب کروا رہے ہیں خدارا پہچانو انکو اگر اس عشق کی پاکیزگی اور امت میں تواتر کو تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک مکمل رسالہ بن جائے ہم نے مختصراً کچھ چیدہ چیدہ پوائنٹس آپکے سامنے پیش کیے تاکہ آپکے سامنے ان گستاخ اور حدیث کے منکروں کو بے نقاب کیا جائے دراصل امت مسلمہ میں منکرین حدیث اور گستاخ ہیں تو آٹے میں نمک کے برابر لیکن امت مسلمہ کو گمراہ کرنے اور شیطان پرست بنانے میں اہم کردار اداکر رہےہیں انکی خواہش ہے کہ امت مسلمہ کے سامنے اکابرین امت اور سلف صالحین کو داغدار ثابت کیا جائے جسکی آڑ لے کر تمام آئمہ محدثین پر جرح کی جائے اور امت مسلمہ کے دلوں میں انکے لیے موجود عزت کو ختم کیا جائے پوسٹ کی طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو ہم آپکو بتاتے کہ ان گستاخوں اور منکرین حدیث کے اس لفظ پر اعتراض کے پیچھے کتنے مزموم مقاصد چھپے ہیں انکا مقصد علماء اسلام کے مستند اور معتبر اسلاف کے کردار کو داغدار ثابت کر کے انکے اقوال کو پس پشت ڈالنا ہے 100-150 پہلے تک امت مسلمہ میں میں قرآن اسکے بعد حدیث اسکے بعد آئمہ کے اقوال کو درجہ دیا جاتا تھا ان لوگوں کے اس طرح کے پروپیگنڈوں کے بعد آئمہ کے کردار کو داغدار بنا کر اور خطاؤں کے پتلے ثابت کرکے انکو پس پشت ڈال دیا گیا اور نعرہ لگایا کہ ہمارے نزدیک صرف قرآن و حدیث ہے ہم صرف اور صرف قرآن و حدیث کے پیروکار ہیں اسکے بعد منکرین حدیث کو موقع ملا اور انھوں نے حدیث کے واسطوں پر جرح کر کے احادیث کو بھی پس پشت ڈال دیا اب انکا کہنا ہے کہ وہ صرف قرآن کے ماننے والے ہیں آئمہ کے کردار کو داغدار بنانے کے لیے انسان خطا کا پتلا کا جواز پیش کیا وہیں اس طرح کے جاہلانہ اعتراض کرکے اپنے اس موقف کو تقویت دینے کی کوشش کی لیکن ازل سے ابد تک رحمٰن کےبندوں نے ہمیشہ شیطان کے بندوں کو بے نقاب کیا جو ہدایت کے متمنی تھے وہ ہدایت پا گئے اور شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے اور جو نفس پرستی کے متمنی اور نفس پرستی کی طرف مائل تھے وہ شیطان کے جال میں پھنس کر رہ گئے اللہ پاک کی ذات سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام امت مسلمہ کو ان شیطانی ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھے اور اپنی اپنے محبوب کی اپنے اولیاء کی اپنے صلحاء کی ناموس پر ہمیں پہرہ دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے
  30. 1 like
    Deobandio Ke bahmi Jang o Jadal- new part
  31. 1 like
    حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی اﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
  32. 1 like
    یہ تو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اگر نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تو اللہ عزوجل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی بناتا اور ساتھ ان کو نبوت والے تمام فضائل و احوال بھی مہیا کرتا لیکن جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو پھر ایسا اعتراض کرنا بھی فضول ہے ۔ یہی اعتراض شیعہ پر تو ہو سکتا ہے کہ ان کے بارہ امام ان کے نزدیک اگرمعصوم ہیں پھر وہ نبی کیوں نہیں ہیں؟؟؟ شیعہ مر تو جائے گا لیکن اس کا جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  33. 1 like
    Salam.. Hazrat ye book remove ho chuki Dusri website se.. Kindly isy Dobara upload kar dijiye..
  34. 1 like
  35. 1 like
    میرے خیال میں بھایٔ محمد علی غیر شرعی کلام و اشعار گانے والے پیشہ ور قوالوں کو کہہ رہے ہیں،جن کا مقصد لوگوں میں مشہور ہونا اور اور پیسے کمانا ہوتا ہے، ان کو سماع کے آداب ،شراءط ،قیوداورروحانیت سے کویٔ غرض نہیں ہوتی۔بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ سننے والے غیر شرعی چہرے والے پیراور قوال، بےوضو عوام، اور کلام کو نہ سمجھنے والے ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم ورسولہ عزوجل صلی اللہ علیہ وسلم
  36. 1 like
    فاضل بریلوی اور مفتی مالکیہ شیخ حسین مکی الازھری.pdf
  37. 1 like
  38. 1 like
    محمد حسین بٹالوی غیر مقلد لکھتا ہے “مولوی رشید احمد صاحب کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ خاکسار (مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب) کو جو سبیل الارشاد میں کئی جگہ “فرقہ غیر مقلدین“ کہا گیا ہے یہ مجھے ناگوار گزرا ہے ہم لوگ جو اس گروہ سے علم کی طرف منسوب ہیں۔ منصوصات میں قرآن و حدیث کے پیرو ہیں اور جہاں نص نہ ملے وہاں صحابہ تابعین و ائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں خصوصاً آئمہ مذھب حنفی کی جن کے اصول و فروغ کی کتب ہم لوگوں کے مطالعہ میں رہتی ہیں“۔ (اشاعۃ السنہ۔ج23،ص290) “خاکسار نے رسالہ نمبر6 جلدنمبر 20 کے صفحہ 201 اپنے بعض اخوان اور احباب اہلحدیث کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کو اجتہاد مطلق کا دعوٰی نہیں اور جہاں نص قرآنی اور حدیث نہ ملے وہاں تقلید مجتہدین سے انکار نہیں تو وہ مذہب حنفی یا شافعی(جس مذہب کے فقہ و اصول پر بوقت نص نہ ملنے کے وہ چلتے ہوں) کی طرف اپنے آپ کو منسوب کریں“۔ (اشاعۃ السنہ،ج23،ص291) “جس مسئلہ میں مجھے صحیح حدیث نہیں ملتی اس مسئلہ میں میں اقوال مذہب امام سے کسی قول پر صرف اس حسن ظنی سے کہ اس مسئلہ کی دلیل ان کو پہنچی ہوگی تقلید کرلیتا ہوں ۔ ایسا ہی ہمارے شیخ و شیخ الکل (میاں صاحب) کا مدت العمری عمل رہا“۔ (اشاعۃ السنہ،ج22،ص310) بٹالوی صاحب مزید لکھتے ہیں۔یہ بلا قادیانی کے اتباع کی اکثر اسی فرقہ میں پھیلی ہے جو عامی و جاہل ہوکر مطلق تقلید کے تارک و غیر مقلد بن گئے ہیں یا ان لوگوں میں جو نیچری کہلاتے ہیں ۔ جو درحقیقت اس قسم کے غیر مقلدوں کی برانچ (شاخ) ہیں۔ (اشاعۃ السنۃ،ص271،ج15)
  39. 1 like
    اپ کو یہ الزامی جواب پش کیا جاسکتا ہے اس پر بھی کچھ کلام کریں ”امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیک ثقہ ہیں“ [فتاوي رضويه نسخه جديده ج 5 ص 526
  40. 1 like
    Wa Alaikum salam. Bhai bary bary Aima pe aisi jarah majood hain bhai.. Imam Hakim Rehmatullah Ahl-e-Sunnat k imam thy.. Muhaddis thy.. ilm-e-hadees mein unki khidmaat ko aaj bhi Sunni, Wahabi, deobandi sabhi tasleem karty hain. Jahan tak Mawlood-e-Kaba ka Masla hy toh Moula Ali Razi Allahu anhu k bary mein Ikhtilaaf hy..Aur jahan tak Imam Hakim Rehmatullah ki ye baat hy toh unki isi baat ko Hazrat Shah Waliullah aur dusry aima karam ne bhi naqal kiya hy.. Main yahan un hazrat k dalail bhi likh dyta hun jo Moula Ali ko mawlood-e-kaba tasleem karty hain.. مولود کعبہ حضرت علی حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے : لکھتے ہیں ” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “ ”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے “ دلیل نمبر ۲ :حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ حضرت علی سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں: ” تواتر الاخبار ان فاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“ متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا دلیل نمبر ۳ علامہ ابن جوزی حنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے : ”جناب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلااورجناب فاطمہ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہو گئیں ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی پیدا ہوئے۔“ (تذکرت الخواص ص ۲۰) دلیل نمبر ۴ شیخ عبد الحق محدث دہلوی: حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“ میں تحریر فرماتے ہیں: جناب فاطمہ بنت اسد نے امیر المومنین کا نام حیدر رکھا ،اس لئے کہ معنی کے اعتبار سے باپ (اسد) اور بیٹے کا نام ایک ہی رہے۔ لیکن جناب ابو طالب نےاس نام کو پسند نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آپ کا نام ” علی “ رکھا۔ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ”صدیق “ کہہ کر پکارا اور آپ کی کنیت ” ابو ریحانتین“ رکھی۔ ” امین، شریف، ہادی کے القاب سے آپ کو نوازا۔اس کے بعد عبد الحق بن سیف الدین دہلوی تحریر فرماتے ہیں : ” حضرت علی کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی“ (مدارج النبوہ ج۲ ص۵۳۱) دلیل نمبر ۵ علامہ برہان الدین حلبی شافعی: علامہ برہان الدین حلبی شافعی نے حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت کے سلسلہ میں کافی طول بحث کی ہے مختصر یہ کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیداہوئے ۔ اس وقت حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمرمبارک تیس سال تھی۔ (السیرت الحلبیہ ج۱ ص۱۳۹) دلیل نمبر ۶ ۔ علّامہ سعید گجراتی: علامہ سعید گجراتی ” خدا یا ! تو بہتر جانتا ہے کہ یہ بہتان دشمنان اہلبیت کی طرف سے ہے۔ دشمنان علی نے اس واقعہ کو گڑھا ہے ۔ جب کہ متواتر روایتیں دلالت کرتی ہیں کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ خدایا ! تو مجھے رسول اکرم کی سنت پر باقی رکھ اور ان کے اہلبیت کی دشمنی سے دور رکھ “ (الاعلام باعلام مسجد الحرام ص۷۶) اس کے علاوہ دیوبندی مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی یہ قول کیا ہے حضرت عبدالمصطفی اعظمی نے بھی اپنی کتاب کرامات صحابہ کے صفحہ۴۴ پر حضرت علی کی ولادت خانہ کعبہ میں ہونے کا قول کیا ہے شیخ سعدی فرماتے ہیں کسے را میسر نہ شد ایں سعادت بکعبہ ولادت بمسجدشہادت کتاب آل رسول مصنف پیر سید خضر حسین چشتی ص۱۲۸ (۱) مستدرک حاکم نیشاپوری ،ج۳ص۴۸۳۔۵۵۰( حکیم ابن حزام کے شرح میں)و کفایۃ الطالب،ص۲۶۰ ۲ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۳ ۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۴ ۔ ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱ ۵۔ تذکرۃ الخواص ،ص۲۰ ۶۔ مناقب ابن مغازلی ،ص ۶، ۷۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۸۔ محاضرۃ الاوائل ،ص۷۹ ۹۔ وسیلۃ النجاۃ ،محمد مبین حنفی ،ص۶۰( چاپ گلشن فیض لکھنو ) ۱۰۔ وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲ ۱۱۔ تلخیص مستدرک ج۲ص۴۸۳ ۱۲ غالیۃ المواعظ ،ج ۲ص۸۹ و الغدیر ،ج۶ ، ص۲۲ ۱۳۔ازاحۃ الخلفاءعن خلافۃ الخلفا ،۱۴۔ مدارج النبوہ ج۲ص۵۳۱ ۱۵۔ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۱۶۔ نور الابصار ، ص۸۵ ۱۷۔ عبقریۃ الامام علی(ع) ،ص۴۳ ۱۸ نزھۃ المجالس ،ج۲ص۴۵۴ ۱۹ السیرۃ الحلبیۃ ،ج۱ص۱۳۹و ج۳ص۳۶۷ ۲۰۔ سیرہ خلفاءج ۸ ص ۲ ۲۱۔ وسیلۃ المال ،ص۱۴۵ ۲۲۔ ریاض الجنان ،ج۱ص۱۱۱ ۲۳الاعلام الا ¾ علام مسجد الحرام خطی بہ نقل علی و کعبہ،ص۷۶ ۲۴۔ قصیدہ علویہ ص۶۱ شمس الزماں خان جامعی صابری Magar Jo Tasleem nahi karty Unka kehna ye hy k Bas Aima karam k Aqwaal hain jinho ne Imam Hakim Rehmatullah ka hawala diya hy.. Jab k Is silsaly mein koi Sahih Hadees naqil nahi ki unho ne aur na hi is pe ijmaa ummat hy... Ye Masla aisa nahi k iski wajah se kisi ko Sunniyat se bahar kardiya jaye ya usy shia kaha jaye..Is bary mein toh khud shia hazrat mein bhi ikhtilaaf hy مشہور شیعه ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ:واختلف فی مولد علی علیه السلام این کان؟ فکثیر من الشیعة یزعمون انه ولد فی الکعبة والمحدثون لا یعترفون بذٰلک، ویزعمون ان المولود فی الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی ۔ (شرح نہج البلاغة لابن ابی الحدید 9:1 القول فی نسب امیر المؤمنین علی علیه السلام، دار الکتاب العربی بغداد)ترجمه: حضرت علی کرم اللہ وجهہ کی ولادت گاہ کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کثیر شیعوں کا خیال ہے کہ آپ کعبه میں متولد ہوئے ہیں لیکن محدثین اس بات کو نہیں مانتے، ان کے نزدیک "مولود فی الکعبة" صرف حکیم بن حزام (حضرت خدیجه رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) ہیں ۔.
  41. 1 like
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  42. 1 like
  43. 1 like
    السلام علیکم اس بے غیرت کمینے کو اگر کوئی جاہل بھی مناظرے کا کہے یہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔علماء اہل سنت اس کو مناظرے کا چیلنج کر چکے ہیں مگر یہ بزدل کیسے آۓ میدان میں۔
  44. 1 like
    دیوبندی سفید جھوٹ بولتے ہیں. آپ حسام الحرمین کے سو سال کتاب پڑھیے۔ اس میں اکثر اعتراضات کے جوابات موجود ہیں۔ جو جھوٹ انہوں نے المہند میں بولے اور کیا کچھ ہوا۔۔ http://www.khatmenabowat.com/2013-02-07-23-34-08/
  45. 1 like
    دیوبندی ہمیشہ ڈنڈی مارتے ہیں۔ علمی طور پر یہ پہلے سے ہی یتیم ہیں۔ ایسے بے تکے اعتراضات کر کے اپنے دیوتائوں کوخوش کرتے ہیں۔ کشمیر خان بھائی نے درست جواب دیا ہے۔ اعلی حضرت ایک بزرگ کا قول نقل کر رہے ہیں اور آگے لکھتے ہیں کہ "اپنے مرتبے کا اظہار کیا"۔ یعنی ان بزرگ نے اپنی ولایت و کرامات کا اظہار کیا۔ اس میں لفظ مردانگی با عمل اور ولایت کے مقام پر ہونے کے معنی میں ہے۔ اگر ہر لفظ کا مطلب اصلی معنی میں لینا شروع ہوجائو تو کسی کو شیر کہنا جائز نہ ہوگا کہ شیر حقیقتاً ایک خونخوار درندہ ہے۔ جس طرح شیر بہادری کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، ایسے ہی یہاں مرد دوسرے معنی میں ہے۔
  46. 1 like
    محمد علی بھائی آپ کا کلپ تو میرے پاس نہیں کھلا البتہ جلاءالافہام کا حوالہ درج ذیل ہے۔
  47. 1 like
    IS masla mey ikhtilaf hai Dono taraf ulama e ahle sunnat hain,is liye kisi moqif par b shidat nahi karni chahiye,واللہ اعلم
  48. 1 like
    Assalamu 'Alaykum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu ASALATU WASALAMU ALAYKA YA RASULLALLAH Salla Allahu ta'ala 'alayhi wa Sallam 1st - Islamic New Year, 1st - Wissal Shaykh Abul Hassan Ali Bukhari, Baghdad Shareef 1st - Birth ; Hadrat Umar Farooq Radi Allahu anhu, 1st - Birth ; Hadrat Shahabuddin Suharwardi Radi Allahu anhu 2nd - Urs ; Pir Jamal Shah Bin Murtaza Radi Allahu anhu 2nd - Wissal Hadrat Khwaja Ma'roof Kirki, Baghdad Shareef 4th - Wissal Hadrat Khwaja Hassan Basri Radi Allahu anhu 5th - Urs ; Hadrat Baba Fariduddin Ganj Shakar Radi Allahu anhu 6th - Chatti Shareef, Khawaja Gharib-e-Nawaz Radi Allahu anhu, Ajmer Shareef 8th - Wissal ; Hadrat Imam Zayn al-Abideen Radi Allahu anhu Medina Munawwara 8th - Urs ; Hadrat Mawlana Hashmat Ali Khan, Pilibit Shareef 9th - Shab-e-Ashura Amal 10th - Yaum-e-Ashura Amal 10th - Allah Ta'ala Created the Heavens and Earth. - On this Very Day would be the Day of Qiyyamah (Judgement). - Allah Subhanahu wa Ta'ala gave his infinite blessings and bounties to many of his Prophets and delivered them from the clutches of the enemies - Ship of Hadrat Noah alayhis 'salam came to rest on Mount Al-Judi. - Hadrat Ayyub (Alayhi Asallam) was delivered from distress. - Hadrat Yunus (Alayhi Asallam) was cast onto the shore after being swallowed by a fish for 40 days . - Hadrat Moosa (Alayhi Asallam) got victory over the Pharoah - The Birth of Hadrat Ibrahim (Alayhi Asallam) 10th - Martyrdom of Imam Hussain Radi Allahu anhuat Karbala 10th - Hadrat Sayyadi Shah Barkatullah Ishki, Mahrehah Shareef 11th - Urs ; Pir Rahmat Shah Saheb, Gojarkhan, Rawalpindi. 11th - Ghiyarwee Sharif ; Hadrat Shaykh Abd'al-Qadir al-Jilani Radi Allahu anhu 13th - Urs ; Mufti-e-Azam Had Mustafa Raza Khan Bareilly Sh. 19th - Wissal Hadrat Sayyad Ahmad al-Jilani, Baghdad Shareef 20th - Wissal ; Hadrat Bilal Radi Allahu anhu 20th - Wissal ; Hadrat Shah Waliyullah Dhelvi Radi Allahu anhu 21st - Wissal ; Mawlana Muhammad Nazir al-Akram Sahib Naeemi 21st - Urs ; Hadrat Zinda Pir,Ghamkhol Shareef, 25th - Birth ; Hadrat Imam Hassan Radi Allahu anhu 26th - Urs ; Hadrat Tajul Awliya, Baba Tajuddin, Nagpur Shareef 28th - Urs; Hadrat Makhdoom Ashraf Jahangir Radi Allahu anhu,Kicchocha Shareef[/b]
  49. 1 like
    HAQ MIL GAYA MERAY SATH KYA MASLA HAI WO TO DEFINE KAR DO ?? KOI JALDI NAHI HAI APP PAPER SAY FARIG HO JAYEEN, PHIR APP SAY BAAT KARAIN GE, BEHAS BARAYE BEHAS KAR NAY APP LOOG YAHAN AAYE THAY, HUM MAIN NAY KISI NAY APP KO YAHAN INVITE KIA, NAHI NA TO PHIR JAWAB DENA HAI TO DAIN, KESAY SHIA HAIN KAH APP KAY PASS APNI KITABAIN NAHI, CHALAIN NAHI TO NAHI SAHI, APNAY KISI SAY LAY KAR DEKH KAR JAWAB DE DO. EBAARAT APP KAY SAMNAH HAI, REFERNCE KAY SATH, KOI JALDI NAHI HAI.
  50. 1 like
    As-salam-u-alikum! Dars-e-Nizami aik aisa course hai jissey Ulama-e-Karaam ne murattab farmaya hai. Is k parhne k baad Insaan mai itni salahiyat paida ho jaati hai k woh Masail ka hal nikaal sake, kisi topic per research ker sake, Quran-o-Hadith ko samajh sake etc. It comprises of the following subjects:- 1) Sarf(Morphology) 2)Nahv(Syntax) 3)Mantiq(Logic) 4)Fiqh 5)Usuul-e-Fiqh 6)Hadith 7)Usuul-e-Hadith 8)Quran 9)Usul-e-Quran 10)Falsafa(Philosopy) 11)Balaghat(Eloquence) 12)Aqaaid And there are few more subjects too.