Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/30/2017 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 3 likes
  3. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  4. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  5. 2 likes
    اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
  6. 2 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  7. 2 likes
    وھابیہ کو مدارج النبوت کے ترجمہ کی توفیق نہیں ملی یہ تومحمد عبدالوھاب،ابن تیمیہ، ابن قیم، شوکانی وغیرہ کی کتابوں کے ترجمے کرتے ہیں۔ مدارج النبوت فارسی مطبوعہ نول کشور اور پرنا اُردو ترجمہ کے عکس درج ذیل ہیں۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی سوانح حیات میں اس کتاب کا تعارف لکھا ہے۔
  8. 2 likes
    امام ابواسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی نے اپنی معروف کتاب الاعتصام میں بدعت کی اقسام بھی بیان کی ہیں اور بدعت حسنہ کے جواز پر دلائل بھی دئیے ہیں۔
  9. 2 likes
    Wahabi Bolta Hai per Samjhta nahi . is fake fatwa Me Likha Gaya Hai K Aala Hazrat Ne Al mohannad Manazr e Aam Per Aane K Bad Takfir se Ruju Farma liya Kaha Ruju Farmaya ? jawab .. سبحان السبو ح اور تمہد ایمان میں Hasna Mana Hai ..... سبحان السبوح 1309 ھجری Me Likhi Gai تمہید ایمان 1326 ھجری Me Likhi Gai Fatwa E Kufr 1320 Me DiyaGaya..... Al monnad ...1353 Me Chapi Sarkar Aala HAZRAT رضی اللہ تعالیا Ka Wisal 1340 hij Ko Huwa Ab Sawal Y Hai K 1320 Me fatwa E Kufr De Kar Aala Hazrat Ne 1309 Wale Risale ( سبحان السبوح ) Me Yani Fatwa Dene Se 11 Sal Qabl Fatwa Se kaise Ruju Kiya Honga ? Wo Al Mohannd Ki Bina Per Jo 1353 Me Chapi Ja K Aala Hazrat Hayat Bhi Nahi The Ya Illahi Y Majra Kiya Hai ? Koi Deo Hai jo Aisa Maths Janta Ho jis Se Y Hisab Ka Kitab Ho Sake ?
  10. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Wesy toh Zubair Zai ki taqreeban har book ka sunni hazrat ny rad likha hy Jin mein Faisal bhai bhi hain.. Magar Zubair zai k tazadaat pe deoband hazrat ki ye kafi achi book meri nazar hy. Mazy ki baat k jin Deobandi Ulma ny is book mein Zubair zai ko khoob bura bhala bhi kaha hy aur class bhi li hy, Unhi deobando ki wafaat pe Ghair_muqaldeen ki janib se unk forum pe in Deobandi ulma ko Magfirat aur Duaiya kalmon se nawaza gaya.. http://tauheed-sunnat.com/book/321/Tunaqzaat-Zubair-Ali-Zai
  11. 2 likes
  12. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  13. 2 likes
    تذکرہ سنوسی مشأخ.pdf
  14. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  15. 2 likes
    (1) کتاب: توثیقِ صاحبین آن لائن مطالعہ:۔ https://archive.org/details/ToseeqESahibeen ڈاؤن لوڈ:۔ https://archive.org/download/ToseeqESahibeen/Toseeq-e-Sahibeen.pdf (2) (3)
  16. 2 likes
    جناب محمد علی صاحب قبلہ سعیدی صاحب کے پیرومرشد حضرت غزالئ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمت نے سماع کے جواز میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔سماع کے جواز کے قائلین بھی کچھ صوفیاء کرام ہیں اور کچھ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔۔اس لیے اس پر اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں
  17. 2 likes
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  18. 2 likes
    عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  19. 2 likes
  20. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  21. 2 likes
  22. 2 likes
  23. 2 likes
    pehle is kitab ki sanad to sabit karo,,, aur agar is riwayat ko sahi bana kar Maaz Allah Imam ko kafir bana raheho to batao,,, Zubair Ali zayi inko imam keh kar kya hua???
  24. 2 likes
    وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
  25. 2 likes
  26. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  27. 2 likes
  28. 2 likes
  29. 2 likes
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  30. 2 likes
    مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  31. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  32. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  33. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga
  34. 1 like
  35. 1 like
  36. 1 like
    امام ذھبی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب بھی دیکھ لیں imam abo hanifa (zahbi).pdf
  37. 1 like
    جناب سلفی صاحب تلملانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس ٹاپک میں سیدنا امام شافعی علیہ الرحمت کا سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ سے مدد مانگنا،انکے وسیلے سے مدد مانگنا سند کے ساتھ ثابت ہے،لیکن جناب کی سمجھ میں کچھ نہ آۓ تو اس میں ہمارا کیا قصور؟؟
  38. 1 like
  39. 1 like
    دیوبندی حقیقت میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمہ کے نظریاتی مخالف ہیں۔ عرصہ ہوا ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ کے ملوظات بنام القول الجلی فارسی مخطوطہ کاکوری ضلع لکھنؤ سے بازیافت ہوا ،پھر دہلی سے اس مخطوط کو اُسی حالت میں شاءع کردیا گیا۔ ان ملفوظات میں شاہ ولی اللہ کے وہی عقاءد ہیں جو کہ اہل سنت حنفی بریلویوں کے ہیں یہ ملفوظات ان کے شاگرد شاہ محمد عاشق پھلتی نے لکھے اور شاہ ولی اللہ کو دکھاتے رہے۔ اس کتاب کے شاءع ہونے کے بعد اُردو میں اس کا تعارف لاہور سے شاءع ہوا اس کا ابتداءیہ مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے لکھا وہ اس کے شروع میں لکھتے ہیں۔ ویسے بہت سے اختلافات میں سے صرف ایک عقیدہ نذر ونیاز کے متعلق یہاں عکس حاضر ہیں۔ دیوبندی ان نظریات کے خلاف لکھتے ہیں تو یہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی مخالفت ہی ہے اور کیا ہے؟
  40. 1 like
    Urdu: https://www.scribd.com/document/35947982/Al-Sawaiq-al-Ilahia-fi-al-Ra-d-ala-al-Wahabia-by-Suleman-Ibn-Abdul-Wahab-Hanbali Arabic: http://ia700701.us.archive.org/12/items/swa3iq-ilahia/13138341161.pdf
  41. 1 like
    یہ وہابی بک کا فرمٹ پیج اس کتاب میں وہانیوں نے نماز اور حضور صلی اللہ علیک وآلہ وسلم کے لئے عشق کا لفظ استعمال کیا 👇👇👇👇 اس سکین پیج پر عبدالرشید عراقی وہابی نے الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے لئے عاشق کا لفظ استعمال کیا سکین ملاحظہ ہو۔۔ اس سکین پیج پر پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد وہابی لکھتا ہے کہ سب سے پہلے مقرر ڈاکٹر سعادت سعید تھے۔ انہوں نے مولانا ندوی کے بارے میں فرمایا کہ آپ دیانتداری کا جذبہ کامل رکھنے والے اور عشق رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے سرشار ہیں۔۔ سکین ملاحظہ ہو۔ عاجز بندہ ظہور الہی وہابی نماز کےمتعلق لکھتا ہے کہ کہ نماز سے ہمیں عشق کی حد تک تعلق ہونا چاہیئے۔۔۔ سکین ملاحظہ ہو۔۔ عبدالحنان جانباز وہابی صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت بھی یہی ہے کہ نماز کو ہمیں عشق کی حد تک تعلق ہونا چاہیئے۔۔۔ سکین ملاحظہ ہو۔۔ ثابت ہوا عشق کا لفظ نبی پاک صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے لئے استعمال کرنا برا نہیں بلکہ یہ ایک آخری حد ہے محبت کے بعد یہ آخری حد ہے اس لئے ان غیر مقلدین وہابیوں کو کہیں کہ آپنے گھر کی خبر بھی لے لیا کرو۔۔ ان وہابی حضرات کی علمی قابلیت ہی اتنی ہے لیکن ان کے بڑے بڑے یہ ہی الفاظ استعمال کرتے رہے ساری زندگی۔۔
  42. 1 like
    اسلام وعلیکم مجھے مسئلہ جبر وقدر پہ ائمہ احناف ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ یا کسی بھی سنی عالم کی کتب درکار ہیں
  43. 1 like
  44. 1 like
    ماشاء اللہ مستدرک چھے جلد اردو، لنک ہے تو مہیا فرما دیں ۔۔۔
  45. 1 like
    *امیرِ اہلسنت مولانا الیاس عطار قاری پر صحابی حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے الزام کا منہ توڑ جواب* دیوبندی مولوی کاذب خائن المعروف ساجد خان اور مفتری نجیب نے امیرِ اہلسنت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ پر حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا الزام لگا کر اپنے رافضی بھائیوں کی طرح دل کھول کر تبرا کیا دیوبندیوں میں تھوڑی سی غیرت ہے تو ہمارے جواب کا جواب دیں اور اس جواب میں خاص کر مولوی ساجد خان اور مفتری نجیب کو مخاطب کیا گیا ہے اگر ان دونوں میں شرم و حیاء نام کی کوئی چیز ہوگی تو ضرور جواب دیں.
  46. 1 like
  47. 1 like
    Ji Shukrya Ali bhai. Hayraan hun, Khuda nay jhotay per lanat bheji hay to goya kis per laanat hogi? Ye kesay khuda k parastaar hayn jinhayn parastish k adaab bhi maloom nahin? Magar bazid hyn aur Allah ko chhoor ker mullah k haq may iman farokht ker rhy hyn.
  48. 1 like
    شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیعہ رافضی پادری شرف الدین علی الحسینی الاسترابادی اپنی کتاب "تاویل الآیات الظاھرة في فضائل العترة الطاھرة" میں نقل کرتا ہے کہ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے،جبرائیلؑ رسولؐ اللہ کے پاس یہ آیت ایسے لے کر آئے تھے: "وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا في علي فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ" اور اگر تم کو اس میں،جو ہم نے اپنے بندے(محمدؐ) پر نازل فرمائی ہے "علی" کے بارے میں،کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورة تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمھارے مددگار ہوں،ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔ (معاذ اللہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 23؀ اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اُتاری ہے،یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اِس کے مانند ایک ہی سورة بنا لاؤ،اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو،ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو،مدد لے لو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ ۔(23) "سُوْرَةُ الْبَقَرَة"
  49. 1 like
    http://www.youtube.com/watch?v=HyAcRg4YQ3k http://www.youtube.com/watch?v=HyAcRg4YQ3k
  50. 1 like