Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/30/2017 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  3. 2 likes
    تذکرہ سنوسی مشأخ.pdf
  4. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  5. 2 likes
    (1) کتاب: توثیقِ صاحبین آن لائن مطالعہ:۔ https://archive.org/details/ToseeqESahibeen ڈاؤن لوڈ:۔ https://archive.org/download/ToseeqESahibeen/Toseeq-e-Sahibeen.pdf (2) (3)
  6. 2 likes
    جناب محمد علی صاحب قبلہ سعیدی صاحب کے پیرومرشد حضرت غزالئ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمت نے سماع کے جواز میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔سماع کے جواز کے قائلین بھی کچھ صوفیاء کرام ہیں اور کچھ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔۔اس لیے اس پر اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں
  7. 2 likes
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  8. 2 likes
    عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  9. 2 likes
  10. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  11. 2 likes
  12. 2 likes
  13. 2 likes
    pehle is kitab ki sanad to sabit karo,,, aur agar is riwayat ko sahi bana kar Maaz Allah Imam ko kafir bana raheho to batao,,, Zubair Ali zayi inko imam keh kar kya hua???
  14. 2 likes
    وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
  15. 2 likes
  16. 2 likes
  17. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  18. 2 likes
  19. 2 likes
    مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  20. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  21. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  22. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga
  23. 1 like
    تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ آیت بتوں کے بارے میں ہے۔
  24. 1 like
    اصل نسخہ تو مکتبہ راغب پاشا استنبول ترکی میں ہے لیکن جس صفحہ کا اسکین لگایا گیا ہے وہ نسخہ بیروت کا ھے۔
  25. 1 like
    یہ تو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اگر نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تو اللہ عزوجل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی بناتا اور ساتھ ان کو نبوت والے تمام فضائل و احوال بھی مہیا کرتا لیکن جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو پھر ایسا اعتراض کرنا بھی فضول ہے ۔ یہی اعتراض شیعہ پر تو ہو سکتا ہے کہ ان کے بارہ امام ان کے نزدیک اگرمعصوم ہیں پھر وہ نبی کیوں نہیں ہیں؟؟؟ شیعہ مر تو جائے گا لیکن اس کا جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  26. 1 like
    اسلام وعلیکم مجھے مسئلہ جبر وقدر پہ ائمہ احناف ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ یا کسی بھی سنی عالم کی کتب درکار ہیں
  27. 1 like
  28. 1 like
    Salam alayqum, Meray bhai esi kohi baat nahin heh. Aap kissi naik aur mukhlis Shaykh say bayt ho jahen. Aap kay pesay mafooz hen fikr nah keren. Agar Peer Sahib kamil Peer huway toh aap ko Namaz, Roza, Zikr, Nawafil ka hee hokam keren gay. Agar aap khud un ko tofay mein kuch denh toh aap ki marzi.
  29. 1 like
    Us Jahil se kahiye k pehly Apni website pe upload hui kitab parhy.. Jahan Imam sahib k manaqib pe book majood hy.. https://ia600407.us.archive.org/29/items/ImamMuhammadBinHasanShaibaniAurUnkiFiqhiKhidmat/Imam-Muhammad-Bin-Hasan-Shaibani-Aur-Unki-Fiqhi-Khidmat.PDF
  30. 1 like
  31. 1 like
    *اس فورم میں الحمدللہ زیادہ تر اعتراضات کے جوابات پہلے سے ہی موجود ہیں اس لیے نیا ٹاپک بنانے کی بجاۓ پہلے فورم کو سرچ کر لینا چاہیے۔یہ لنک ملاحظہ فرمائیں*
  32. 1 like
    لکھا ہے بدعاءہ عند قبر رسول اللہ توسل، تشفع، استغاثہ ایک ہی بات ہے۔
  33. 1 like
    شارح صحیحین و مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے ایک عظیم تساہل و خطاء محدث العصر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی نشان دہی میں ایک عظیم تساہل اور خطاء ہو گی۔ علامہ سعید ملت علیہ الرحمہ اپنی تفسیر تبیان القرآن جلد دہم صفحہ 290-291(سورہ الحجرات ) میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشہور قاتلین کی سرخی بنا کر تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310ھ لکھتے ہیں: عبدالرحمان نے بیان کیا کہ محمد بن ابی بکر دیوار پھاند کر حضرت عثمان کے مکان میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ کنانہ بن بشر ، سودان بن حمران اور حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) بھی تھے اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قرآن شریف سے سورۃ البقرہ پڑھ رہے تھے ،محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر کہا: اے بڈھے احمق ! تجھے اللہ نے رسواکردیا، حضرت عثمان نے کہا :میں بڈھا احمق نہیں ہوں ، امیرالمومنین ہوں، محمد بن ابی بکر نے کہا: تجھے معاویہ اور فلاں فلاں نہیں بچا سکے، حضرت عثمان نے کہا : تم میری داڑھی چھوڑ دو، اگر تمہارے باپ ہوتے تو وہ اس داڑھی کو نہ پکڑتے ، محمد بن ابی بکر نے کہا:اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو وہ تمہارے افعال سے متنفر ہو جاتا ، محمد بن ابی بکر کے ہاتھ میں چوڑے پھل کا تیر تھا وہ انہوں نے حضرت عثمان کی پیشانی میں گھونپ دیا، کنانہ بن بشر کے ہاتھ میں ایسے کئی تیر تھے وہ اس نے آپ کے کان کی جڑ میں گھونپ دیئے، او رتیر آپ کے حلق کے آرپار ہوگئے، پھر اس نے اپنی تلوار سے آپ کو قتل کردیا۔ابوعون نے بیان کیا ہے کہ کنانہ بن بشر نے آپ کی پیشانی اور سر پر لوہے کا ڈنڈا مارا اور سودان بن حمران نے آپ کی پیشانی پر وار کرکے آپ کو قتل کردیا۔ عبدالرحمان بن الحارث نے بیان کیا کہ کنانہ بن بشر کے حملہ کے بعد ابھی آپ میں رمق حیات تھی ، پھر حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) آپ کے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور آپ کے سینہ پر نو وار کیے بالآخر آپ شہید ہوئے(تاریخ الامم والملوک المعروف تاریخ طبری، ج 3، ص 423-424، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیروت) اس واقعہ کی سند کی تحقیق: علامہ سعیدی علیہ الرحمہ نے تاریخ طبری سے جو اوپر واقعہ نقل کیا ہے وہ یہ ہے: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حدثه عن عبد الرحمن ابن مُحَمَّدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ، وَسُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ! فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلانُ وَفُلانُ! فَقَالَ عثمان: يا بن أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْ رَآكَ أَبِي تَعْمَلُ هَذِهِ الأَعْمَالَ أَنْكَرَهَا عَلَيْكَ، وَمَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدَّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، قَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ، فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ، ثُمَّ عَلاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بشر جبينه وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ، فَخَرَّ لِجَبِينِهِ، فَضَرَبَهُ سُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَ مَا خَرَّ لِجَبِينِهِ فَقَتَلَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرحمن ابن الْحَارِثِ، قَالَ: الَّذِي قَتَلَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ التُّجِيبِيُّ وَكَانَتِ امْرَأَةُ مَنْظُورِ بْنِ سَيَّارٍ الْفَزَارِيِّ تَقُولُ: خَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ، وَمَا عَلِمْنَا لِعُثْمَانَ بِقَتْلٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ سَمِعْنَا رَجُلا يَتَغَنَّى تَحْتَ اللَّيْلِ: أَلا إِنَّ خير الناس بعد ثلاثة ... قتيل التجيبي الذي جَاءَ مِنْ مِصْرَ قَالَ: وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ، فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ، فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعْنَاتٍ قَالَ عَمْرٌو: فاما ثلاث منهن فانى طعنتهن اياه الله، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ إِيَّاهُ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ. اور طبقات الکبریٰ میں علامہ ابن سعد نے بھی یہ روایت اپنے استاد واقدی سے ہی نقل کی ہے اس کا ثبوت یہ ہے۔ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ: " أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ , وَسَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانُ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنْ عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ , فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدُّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ , ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ , وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ , ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ جَبِينَهُ وَمُقَدَّمَ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ فَخَرَّ لِجَنْبِهِ , وَضَرَبَهُ سَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَمَا خَرَّ لِجَنْبِهِ فَقَتَلَهُ , وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعَنَاتٍ وَقَالَ: أَمَّا ثَلَاثٌ مِنْهُنَّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ لِلَّهِ، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُ إِيَّاهُنَّ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ " (الطبقات الکبریٰ لابن سعد 3/73-74) اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔ 1-علامہ طبری کی ملاقات محمد بن عمر واقدی سے ثابت نہیں کیونکہ واقدی کی وفات 202 ہجری میں ہوئی اس وقت تو علامہ طبری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ یہاں علامہ طبری نے واقدی سے خود نہیں سنابلکہ اس کی کتاب سے نقل کیا ہے کیونکہ سند میں کے الفاظ موجود ہیں۔ 3-علامہ ابن سعد نے یہ واقعہ اپنے استاد محمدبن عمر واقد ی سے نقل کیا ہے۔ 2-محمد بن عمر واقدی خود جمہور کے نزدیک متروک اور کذاب ہے ۔ امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ: عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: لَيْسَ الوَاقِدِيُّ بِشَيْءٍ (تاریخ یحیی بن معین /532) ومحمد بن عمر الواقدي قال يحيى بن معين كان الواقدي يضع الحديث وضعاً (مشیخہ النسائی ، 1/76، رقم 6) خطیب بغدادی فرماتے ہیں: فَقَالَ: هَذَا مِمَّا ظُلِمَ فِيْهِ الوَاقِدِيُّ (تاریخ بغداد، 3/9) امام بخاری لکھتے ہیں: وَذَكَرَهُ البُخَارِيُّ، فَقَالَ: سَكَتُوا عَنْهُ، تَرَكَهُ: أَحْمَدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ (تاریخ الکبیر ، 1/178) و قال البخارى : الواقدى مدينى سكن بغداد ، متروك الحديث ، تركه أحمد ، و ابن نمير ، و ابن المبارك ، و إسماعيل بن زكريا . و قال فى موضع آخر : كذبه أحمد (تہذیب الکمال/6175) امام مسلم فرماتے ہیں: متروك الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام حاکم فرماتے ہیں: ذاهب الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام ابن عدی فرماتے ہیں: أحاديثه غير محفوظة و البلاء منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: و قال ابن المدينى : عنده عشرون ألف حديث ـ يعنى ما لها أصل . و قال فى موضع آخر : ليس هو بموضع للرواية ، و إبراهيم بن أبى يحيى كذاب ، و هو عندى أحسن حالا من الواقدى . تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوداؤد فرماتے ہیں: لا أكتب حديثه و لا أحدث عنه ; ما أشك أنه كان يفتعل الحديث ، ليس ننظر للواقدى فى كتاب إلا تبين أمره ، و روى فى فتح اليمن و خبر العنسى أحاديث عن الزهرى ليست من حديث الزهرى تهذيب التهذيب 9 / 366 امام بندار فرماتے ہیں: ما رأيت أكذب منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوحاتم رازی فرماتے ہیں: و حكى ابن الجوزى عن أبى حاتم أنه قال : كان يضع . امام ساجی فرماتے ہیں: و قال الساجى : فى حديثه نظر و اختلاف . و سمعت العباس العنبرى يحدث عنه امام نووی فرماتے ہیں: و قال النووى فى " شرح المهذب " فى كتاب الغسل منه : الواقدى ضعيف باتفاقهم . امام ذہبی فرماتے ہیں: و قال الذهبى فى " الميزان " : استقر الإجماع على وهن الواقدى . و تعقبه بعض مشائخنا بما لا يلاقى كلامه . امام دارقطنی فرماتے ہیں: و قال الدارقطنى : الضعف يتبين على حديثه امام نسائی فرماتے ہیں: قَالَ النَّسَائِيُّ: المَعْرُوْفُونَ بِوَضعِ الحَدِيْثِ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَرْبَعَةٌ: ابْنُ أَبِي يَحْيَى بِالمَدِيْنَةِ، وَالوَاقِدِيُّ بِبَغْدَادَ، وَمُقَاتِلُ بنُ سُلَيْمَانَ بِخُرَاسَانَ، وَمُحَمَّدُ بنُ سَعِيْدٍ بِالشَّامِ. (سیر اعلام النبلاء،9/463) لَيْسَ بِثِقَةٍ. (سیر اعلام النبلاء،9/457) امام شافعی فرماتے ہیں: وَقَالَ يُوْنُسُ بنُ عَبْدِ الأَعْلَى: قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ: كُتُبُ الوَاقِدِيِّ كَذِبٌ (تاریخ بغداد، 3/14) امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: المُغِيْرَةُ بنُ مُحَمَّدٍ المُهَلَّبِيُّ: سَمِعْتُ ابْنَ المَدِيْنِيِّ يَقُوْلُ: الهَيْثَمُ بنُ عَدِيٍّ أَوْثَقُ عِنْدِي مِنَ الوَاقِدِيِّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) اور جمہور کے نزدیک ھیثم بن عدی ضعیف اور متروک ہے امام ذہبی ہیثم بن عدی کے بارے میں لکھتے ہیں: قُلْتُ: أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِ الهَيْثَمِ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ مرۃ فرماتے ہیں: وَقَالَ مَرَّةً: لاَ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ. (سیر اعلام النبلاء،9/462) امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: النَّسَائِيُّ فِي (الكُنَى) : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ أَحْمَدَ الخَفَّافُ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: هُوَ عِنْدِي مِمَّنْ يَضَعُ الحَدِيْثَ يَعْنِي: الوَاقِدِيَّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ ابو اسحاق الجوزجانی فرماتے ہیں: لَمْ يَكُنِ الوَاقِدِيُّ مَقْنَعاً، ذَكَرتُ لأَحْمَدَ مَوْتَهُ يَوْمَ مَاتَ بِبَغْدَادَ، فَقَالَ: جَعَلتُ كُتُبَهُ ظَهَائِرَ لِلْكُتِبِ مُنْذُ حِيْنَ (تاریخ بغداد، 3/15) امام ابوزرعہ فرماتے ہیں: تَرَكَ النَّاسُ حَدِيْثَ الوَاقِدِيِّ (تہذیب الکمال/1249) واقدی کے علاوہ عبدالرحمن بن ابی الزناد پر بھی کافی جرح ہے لیکن اس کو نقل کرنے سے پوسٹ بڑی ہو جائے گی۔ویسے عبدالرحمن بن ابی الزناد کی تمام جرحیں میری پوسٹ "حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی صحیح حدیث اور غیرمقلد زبیرعلی زئی کے اعتراضات کا ردبلیغ" میں موجود ہیں۔ خلاصہ تحقیق یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں حضرت عمروبن الحمق رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ﷺ ہیں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور نہ ہی محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے۔علامہ سعیدی علیہ الرحمہ سے بہت بڑی خطاء ہو گی جو اس واقعہ کو بنا تحقیق کیے اپنی تفسیر میں نقل کردیا۔ اللہ عزوجل علامہ سعیدی علیہ الرحمہ کی تمام خطاؤں کو معاف فرمائے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے(امین)
  34. 1 like
    محمد بن عمر بن واقدی الاسلمی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"ضعفہ الجمہور"جمہور نے اسے ضعیف قراردیا ہے۔(مجمع الزوائد ج3ص255) حافظ ابن الملقن نے فرمایا:" "وقد ضعفه الجمهور ونسبه الي الوضع:الرازي والنسائي" "اسے جمہور ضعیف کہا اور(ابو حاتم)الرازی رحمۃ اللہ علیہ اور نسائی نے وضاع (احادیث گھڑےوالا ) قراردیا۔(البدر المنیرج5ص324) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"متروک الحدیث"وہ حدیث میں متروک ہے۔(کتاب الضعفاء بتحقیقی :344) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مزید فرمایا:"کذبہ احمد"احمد(بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ )نےاسے جھوٹا قراردیا ہے۔(الکامل لا بن عدی ج6ص2245دوسرا نسخہ ج7 ص481وسندہ صحیح) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كان الواقدي يقلب الاحاديث يلقى حديث ابن اخى الزهري على معمر ونحو هذا" "واقدی احادیث کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا وہ ابن اخی الزھری کی حدیث کو معمر کے ذمے ڈال دیتا تھا اور اسی طرح کی حرکتیں کرتا تھا۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كما وصف وأشد لأنه عندي ممن يضع الحديث" "جس طرح انھوں (احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ )نے فرمایا: وہی بات بات بلکہ اس سے سخت ہے کیونکہ وہ میرے نزدیک حدیث گھڑتا تھا۔(کتاب الجرح التعدیل ج8ص21وسندہ صحیح) امام محمد بن ادریس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كتب الواقدي كذب" "واقدی کی کتابیں جهوٹ (کا پلندا) ہیں"(کتاب الجرح التعدیل ج8ص21وسندہ صحیح) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "والكذابون المعروفون بوضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة. بن أبي يحيى بالمدينة والواقدي ببغداد، ومقاتل بن سليمان بخراسان، ومحمد بن السعيد بالشام، يعرف بالمصلوب" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حدیثیں گھڑنے والے مشہور جھوٹے چار ہیں۔ (ابراہیم بن محمد)بن ابی یحییٰ مدینے میں واقدی (محمد بن عمر بن واقد الاسلمی) بغداد میں مقاتل بن سلیمان خراسان میں اور محمد بن سعید شام میں جسے مصلوب کہا جاتا ہے۔(آخر کتاب الضعفاء والمتروکین ص310دوسرا نسخہ ص265) اس شدید جرح اور جمہور کی تضعیف کے مقابلے میں واقدی کے لیے بعض علماء کی توثیق قبول نہیں۔
  35. 1 like
    Wa Alaikum salam. Bhai bary bary Aima pe aisi jarah majood hain bhai.. Imam Hakim Rehmatullah Ahl-e-Sunnat k imam thy.. Muhaddis thy.. ilm-e-hadees mein unki khidmaat ko aaj bhi Sunni, Wahabi, deobandi sabhi tasleem karty hain. Jahan tak Mawlood-e-Kaba ka Masla hy toh Moula Ali Razi Allahu anhu k bary mein Ikhtilaaf hy..Aur jahan tak Imam Hakim Rehmatullah ki ye baat hy toh unki isi baat ko Hazrat Shah Waliullah aur dusry aima karam ne bhi naqal kiya hy.. Main yahan un hazrat k dalail bhi likh dyta hun jo Moula Ali ko mawlood-e-kaba tasleem karty hain.. مولود کعبہ حضرت علی حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے : لکھتے ہیں ” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “ ”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے “ دلیل نمبر ۲ :حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ حضرت علی سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں: ” تواتر الاخبار ان فاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“ متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا دلیل نمبر ۳ علامہ ابن جوزی حنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے : ”جناب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلااورجناب فاطمہ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہو گئیں ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی پیدا ہوئے۔“ (تذکرت الخواص ص ۲۰) دلیل نمبر ۴ شیخ عبد الحق محدث دہلوی: حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“ میں تحریر فرماتے ہیں: جناب فاطمہ بنت اسد نے امیر المومنین کا نام حیدر رکھا ،اس لئے کہ معنی کے اعتبار سے باپ (اسد) اور بیٹے کا نام ایک ہی رہے۔ لیکن جناب ابو طالب نےاس نام کو پسند نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آپ کا نام ” علی “ رکھا۔ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ”صدیق “ کہہ کر پکارا اور آپ کی کنیت ” ابو ریحانتین“ رکھی۔ ” امین، شریف، ہادی کے القاب سے آپ کو نوازا۔اس کے بعد عبد الحق بن سیف الدین دہلوی تحریر فرماتے ہیں : ” حضرت علی کی ولادت باسعادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی“ (مدارج النبوہ ج۲ ص۵۳۱) دلیل نمبر ۵ علامہ برہان الدین حلبی شافعی: علامہ برہان الدین حلبی شافعی نے حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت کے سلسلہ میں کافی طول بحث کی ہے مختصر یہ کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیداہوئے ۔ اس وقت حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمرمبارک تیس سال تھی۔ (السیرت الحلبیہ ج۱ ص۱۳۹) دلیل نمبر ۶ ۔ علّامہ سعید گجراتی: علامہ سعید گجراتی ” خدا یا ! تو بہتر جانتا ہے کہ یہ بہتان دشمنان اہلبیت کی طرف سے ہے۔ دشمنان علی نے اس واقعہ کو گڑھا ہے ۔ جب کہ متواتر روایتیں دلالت کرتی ہیں کہ حضرت علی خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ خدایا ! تو مجھے رسول اکرم کی سنت پر باقی رکھ اور ان کے اہلبیت کی دشمنی سے دور رکھ “ (الاعلام باعلام مسجد الحرام ص۷۶) اس کے علاوہ دیوبندی مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی یہ قول کیا ہے حضرت عبدالمصطفی اعظمی نے بھی اپنی کتاب کرامات صحابہ کے صفحہ۴۴ پر حضرت علی کی ولادت خانہ کعبہ میں ہونے کا قول کیا ہے شیخ سعدی فرماتے ہیں کسے را میسر نہ شد ایں سعادت بکعبہ ولادت بمسجدشہادت کتاب آل رسول مصنف پیر سید خضر حسین چشتی ص۱۲۸ (۱) مستدرک حاکم نیشاپوری ،ج۳ص۴۸۳۔۵۵۰( حکیم ابن حزام کے شرح میں)و کفایۃ الطالب،ص۲۶۰ ۲ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۳ ۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۴ ۔ ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱ ۵۔ تذکرۃ الخواص ،ص۲۰ ۶۔ مناقب ابن مغازلی ،ص ۶، ۷۔الفصول المہمۃ ،ص۳۰ ۸۔ محاضرۃ الاوائل ،ص۷۹ ۹۔ وسیلۃ النجاۃ ،محمد مبین حنفی ،ص۶۰( چاپ گلشن فیض لکھنو ) ۱۰۔ وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲ ۱۱۔ تلخیص مستدرک ج۲ص۴۸۳ ۱۲ غالیۃ المواعظ ،ج ۲ص۸۹ و الغدیر ،ج۶ ، ص۲۲ ۱۳۔ازاحۃ الخلفاءعن خلافۃ الخلفا ،۱۴۔ مدارج النبوہ ج۲ص۵۳۱ ۱۵۔ کفایۃ الطالب ، ص۴۰۷ ۱۶۔ نور الابصار ، ص۸۵ ۱۷۔ عبقریۃ الامام علی(ع) ،ص۴۳ ۱۸ نزھۃ المجالس ،ج۲ص۴۵۴ ۱۹ السیرۃ الحلبیۃ ،ج۱ص۱۳۹و ج۳ص۳۶۷ ۲۰۔ سیرہ خلفاءج ۸ ص ۲ ۲۱۔ وسیلۃ المال ،ص۱۴۵ ۲۲۔ ریاض الجنان ،ج۱ص۱۱۱ ۲۳الاعلام الا ¾ علام مسجد الحرام خطی بہ نقل علی و کعبہ،ص۷۶ ۲۴۔ قصیدہ علویہ ص۶۱ شمس الزماں خان جامعی صابری Magar Jo Tasleem nahi karty Unka kehna ye hy k Bas Aima karam k Aqwaal hain jinho ne Imam Hakim Rehmatullah ka hawala diya hy.. Jab k Is silsaly mein koi Sahih Hadees naqil nahi ki unho ne aur na hi is pe ijmaa ummat hy... Ye Masla aisa nahi k iski wajah se kisi ko Sunniyat se bahar kardiya jaye ya usy shia kaha jaye..Is bary mein toh khud shia hazrat mein bhi ikhtilaaf hy مشہور شیعه ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ:واختلف فی مولد علی علیه السلام این کان؟ فکثیر من الشیعة یزعمون انه ولد فی الکعبة والمحدثون لا یعترفون بذٰلک، ویزعمون ان المولود فی الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی ۔ (شرح نہج البلاغة لابن ابی الحدید 9:1 القول فی نسب امیر المؤمنین علی علیه السلام، دار الکتاب العربی بغداد)ترجمه: حضرت علی کرم اللہ وجهہ کی ولادت گاہ کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کثیر شیعوں کا خیال ہے کہ آپ کعبه میں متولد ہوئے ہیں لیکن محدثین اس بات کو نہیں مانتے، ان کے نزدیک "مولود فی الکعبة" صرف حکیم بن حزام (حضرت خدیجه رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) ہیں ۔.
  36. 1 like
  37. 1 like
    السلام علیکم اس بے غیرت کمینے کو اگر کوئی جاہل بھی مناظرے کا کہے یہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔علماء اہل سنت اس کو مناظرے کا چیلنج کر چکے ہیں مگر یہ بزدل کیسے آۓ میدان میں۔
  38. 1 like
    سنگ در جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی سجدہ نہ سمجھ نجدی سردیتاہوں نذرانہ محبوب کے دروازے پر پیشانی رگڑتاہوں،اور یوں سر کا نذرانہ (تحفہ)دینے کی کوشش میں ہوں،نجدی اسے سجدہ مت سمجھ بیٹھنا۔سجدے میں پیشانی رگڑی نہیں جاتی بلکہ زمین پررکھی جاتی ہے اورساتھ ہی زمین پر ناک بھی رکھی جاتی ہے اوردونوں پاؤں کے سرے،گھٹنے اورہاتھ بھی زمین پررکھے جاتے ہیں۔نمازمیں کوئی نمازی زمین پر صرف ماتھا رگڑے تو نجدی بھی اسے سجدہ نہیں مانتا مگر مزار پر کوئی ماتھا رگڑے تو جھٹ سجدہ کالیبل لگا دیتاہے۔ مستدرک حاکم اورمسنداحمد میں ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری نے نبی پاکﷺ کی قبرانورپرچہرہ رکھا ہواتھا،(چہرہ کا کونسا حصہ رکھا تھا اور کونسا نہیں؟اس بات کی کوئی تصریح نہیں۔ماتھا،ناک،ہونٹ،رخسار ،سبھی کا احتمال ہے)۔مروان نے اعتراض کیا۔ بوسے اورسجدے میں فرق نہ کرنا اور عبادت اور تعظیم میں فرق نہ کرنا اورعشق اورشرک میں فرق نہ کرنا ہی پہلےمروان کا اور اب قرن الشیطان کا کام ہے۔
  39. 1 like
    Bhai Wesy mega.nz archive se mujhy acha laga khas kar Slow internet walon k liye.. kun k Wahan file archive se jaldi downlaod ho jati hy..aur In case internet off ho jaye toh On hony ki surat mein wahin se download hona shuru hoga jahan se net off howa tha.. ye lijiye Archive pe.. Jild # 1 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%201%20LRes.pdf Jild # 2 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/sahi%20ibne%20hibban%20Jild%202%20HRes.pdf Jild # 3 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%203%20LRes.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%204%20LRes.pdf Jild # 5 https://ia801900.us.archive.org/13/items/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%205%20LRes.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%206%20LRes.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%207%20LRes.pdf Jild # 8 https://archive.org/download/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%208%20LRes.pdf
  40. 1 like
  41. 1 like
    شیعہ کی تکفیر سے ٹاپک کا یہ تعلق ہے۔ یہ کہنا کہ پیر صاحب نے قادیانی کے علاوہ کسی کی تکفیر نہیں کی ۔یہ حوالے آپ کے گھر کی گواہی سے غلط ثابت ہوگئے۔جب پیر صاحب شیخین کرمین اور امہات المومنین کے گستاخوں پر فتوی لگایا تو گساخ رسول پر خاموشی کس طر ح فرما سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ثبوت مانگنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ سوا کچھ نہیں۔ "میں نہ مانوں" شروع سے دیوبندیوں کا شیوا رہا ہے۔ ورنہ مردود کب کی توبہ کر چکے ہوتے۔
  42. 1 like
    تمام باتوں کا جواب تمہارے گھر سے دیدیا ہے۔ پیر صاحب نے شیعہ کی تکفیر کی ہے۔ حوالہ ساتھ میں درج ہے۔ جو اسکین تم نے دیا ہے وہ تمہارے اپنوں نے غلط ثابت کر دیا۔اور اس میں مصنف کی غلط فہمی ہے جس کو تمہارے گھر کے ساتھ ساتھ پیر صاحب کے مرید کے سنے ہوئے ملفوظ سے بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔ پیرصاحب نے حسام الحرمین دیکھی اور تائید کی بلکہ صبح اس سے درس دینے کا عزم کیا۔ پیر صاحب کی صحبت میں رہنے والے مرید پیر صاحب کی حیات کے بعد آنے والی نسل سے زیادہ معتبر ہیں۔ بتائو تھانوی کی صحبت میں جو بیٹھے ہوتے تھے ان کی بات تمہارے نزدیک زیادہ معتبر ہوگی یا آج کے دور میں کوئی تھانوی کا پرپوتا ایسی بات کہہ دے جو تھانوی کے عقیدے کے خلاف ہو۔ مجھے پتہ ہے یہاں بھی تم چبل مارو گے۔ شکست خوردہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہ ٹاپک تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ جو دلیل تم نے دینی تھی دیدی۔ ہماری طرف سے دلائل آگئے۔ عوام خود فیصلہ کرے گی کون حق پر ہے۔
  43. 1 like
    http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_rel_module=post&attach_id=69742
  44. 1 like
    اب اس مسلے میں اعلاحضرت کا مبارک فتاویٰ بھی ملاحظہ کر لیں مسئلہ نمبر ۵۶۵: ایک شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الٰہ الااﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف کلمہ پڑھاتا ہے اورمحمد رسول اﷲبظاہراس کی زبان سے نہیں سُنا جاتا اور وُہ امامت بھی کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز امّت محمدیہ حنفیہ علٰی صاحبہا الصلٰو ۃ والسلام کی درست ہے یا نہیں؟ الجواب: صوفیہ کرام نے تصفیہ قلب کے لئے ذکرشریف لا الٰہ الا اﷲ رکھا ہے کہ تصفیہ حرارت پہنچانے سے ہوتا ہے اور کلمہ طیّبہ کا یہ جز گرم وجلالی ہے اور دوسرا جز کریم سرد خنک جمالی ہے، اگر ایسے ہی موقع پرصرف لاالٰہ الا اﷲکی تلقین کرتا ہے تو کچھ حرج نہیں اوراگر خود کلمہ طیبہ پڑھنے میں صرف لاالٰہ الا اﷲکافی سمجھتا ہے اور محمد رسول اﷲ سے احتراز کرتا ہے تو اس کی امامت ناجائزہے کہ یہ ذکر پاک محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے معاذ اﷲ بے پرواہی پر دلیل ہے اور اگر واقعی اسے محمد رسول اﷲ کہنے سے انکار ہے یا یہ ذکر کریم اُسے مکروہ و ناگوار ہے توصریح کافرو مستوجب تخلید فی النار ،والعیاذ باﷲ تعالٰی،واﷲ تعالٰی اعلم۔ مسئلہ نمبر ۲: ازپٹنہ ڈاکخانہ گلزاری باغ محلہ ترپولیہ متصل ہسپتال زنانہ، مرسلہ باقر علی حکاک۔ ۹ رجب ۱۳۲۹ھ مع فتوائےعبدالحکیم پٹنوی کہ وقتِ مرگ صرفلا الٰہ الّااﷲکہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مرنے والوں کولا الٰہ الّا اﷲکی تلقین کرومحمد رسول اﷲملانے کو نہیں فرمایا اور فرمایا۔جس کا پچھلا کلاملا الٰہ الّا اﷲہوتو وہ جنّت میں گیا، یہاں بھیمحمد رسول اﷲنہیں فرمایا، تو اگرلا الٰہ الّا اﷲکے بعدمحمد رسول اﷲکا لفظ بڑھایا جائے تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہونے کے سبب بُرا اور منع ہو۔المجیب عبدالحکیم صادق پوری۔ اس کے رَد میں مولٰنا عبدالواحد صاحب مجددی رام پوری کا رسالہ''وثیقہ بہشت '' اس ساتھ تھا، تحریر فقیر بر''وثیقہ بہشت''۔ الجواب بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۵ اللھم لک الحمد۔ اﷲ عزّوجل خیر کے ساتھ شہادتین پر موت نصیب کرے۔ وقتِ مرگ بھی پورا کلمہ طیبہ پڑھنا چاہئے۔جو اسے منع کرتا ہے مسلمان اس کے اغواواضلال پر کان نہ رکھیں کہ وہ شیطان کی اعانت چاہتا ہے۔امام ابن الحاج مکی قدس سرہ الملکی مدخل میں فرماتے ہیں کہ دمِ نزع دو۲ شیطان آدمی کے دونوں پہلو پر آکر بیٹھتے ہیں ایک اُس کے باپ کی شکل بن کر دوسرا ماں کی۔ ایک کہتا ہے وہ شخص یہودی ہوکر مرا تو یہودی ہوجا کہ یہود وہاں بڑے چین سے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے وہ شخص نصرانی گیا تو نصرانی ہوجا کہ نصارٰی وہاں بڑے آرام سے ہیں۱؎۔ (۱؎ المدخل لابن الحاج فتنہ المختصر مطبوعہ داارلکتب العربی بیروت ۳ /۲۴۱) علمائے کرام فرماتے ہیں شیطان کے اغوا کے بچانے کے لئے محتضر کو تلقینِ کلمہ کا حکم ہوا۔ ظاہر ہے کہ صرف لا الٰہ الا اﷲ اس کے اغوا کا جواب نہیں، لا الٰہ الا اﷲ تویہود و نصارٰی بھی مانتے ہیں، ہاں وہ کہ جس سے اس ملعون کے فتنے مٹتے ہیں محمد رسول اﷲ کا ذکر کریم ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ یہی اس کے ذریات کے بھی دل میں چُبھتا جگر میں زخم ڈالتا ہے، مسلمان ہرگزہرگز اسے نہ چھوڑیں اور جو منع کرے اُس سے اتنا کہہ دیں کہ ''گر بتوحرام است حرامت بادا'' (اگر یہ تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ت)مجمع بحارالانوار میں ہے : سبب التلقین انہ یحضرالشیطان لیفسد عقدہ، والمراد بلاالٰہ الا اﷲ الشھادتان۲؎ ۔ تلقین کا سبب یہ ہے کہ اُس وقت شیطان آدمی کا ایمان بگاڑنے آتا ہے،اور لا الٰہ الّا اللہ سے پورا کلمہ طیّبہ مراد ہے۔ (۲؎ مجمع بحارالانوار تحت لفظ''لقن'' مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳ /۲۶۲) فتح القدیر میں ہے : المقصودمنہ التذکیر فی وقت تعرض الشیطان۳؎ ۔ تلقین سے مقصود تعرض شیطان کے وقت ایمان یاد دلانا ہے۔ (۳؎ فتح القدیر باب الجنائز مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۶۸) اسی طرح تبیین الحقائق اورفتح اﷲ مبین وغیرہ میں ہے۔مرقاۃ شرح ،شکوٰۃ میں علامہ میرک سے ہے: من کان اٰخر کلامہ لا الٰہ الّااﷲ المراد مع قرینتہ فانہ بمنزلۃ علم لکلمۃ الایمان۱؎ ۔ حدیث میں جو فرمایا کہ جس کا پچھلا کلام لا الٰہ الّااﷲہواُس سے مراد پورا کلمہ طیبہ ہے کہ لا الٰہ الّااﷲگویااس کلمہ ایمان کانام ہے۔ (۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ باب مایقال عند من حضرۃ الموت فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ /۱۵) دُرر غرر میں ہے : یلقن بذکر شہادتین عندہ لان الاولی لا تقبل بدون الثانیۃ ۲؎ ۔ کلمہ طیّبہ کے دونوں جُز میّت کو تلقین کئے جائیں اس لئے کہ لا الٰہ الّا اللہ بےمحمد رسول اﷲ کے مقبول نہیں۔ (۲؎ دررشرح غررملّاخسرو باب الجنائز مطبوعہ مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ا/۱۶۰) غنیـہ ذوی الاحکام میں اس پر تقریر فرمائی،تنویر الابصار میں ہے: یلقن بذکر الشہادتین۳؎ دونوں شہادتیں تلقین کی جائیں۔ ( ۳؎ تنویرالابصار متن الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۹) دُر مختار میں ہے : لان الاولی لاتقبل بدون الثانیۃ۴؎ کہ پہلی بے دوسری کے مقبول نہیں۔ (۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۹) المختصر القدوری میں ہے: لقن الشھادتین ۵؂پوراکلمہ سکھایا جائے۔ (۵ ؂المختصر للقدوری باب الجنائز مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور بھارت ص۴۴) جوہرہ نیرہ میں ہے: لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقنوا موتاکم شھادۃ ان لا الٰہ الااﷲ وھوصورۃ التلقین ان یقال عندہ فی حالۃ النزع جھراًوھویسمع اشھدان لاالٰہ الااﷲ واشھدان محمدارسول اﷲ۶؎ ۔ اس لئے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اموات کو لا الٰہ الا اﷲکی شہادت یاددلاؤ اور اس یاد دلانے کی صورت یہ ہے کہ اس نزع میں اس کے پاس ایسی آوازسے کہ وہ سنے اشھدان لاالٰہ الاﷲ واشھدان محمدارسول اﷲ پڑھیں۔ (۶؎ جوہرہ نیرہ باب الجنائز مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۱۲۳)
  45. 1 like
  46. 1 like
  47. 1 like
    Assalamu 'Alaykum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu ASALATU WASALAMU ALAYKA YA RASULLALLAH Salla Allahu ta'ala 'alayhi wa Sallam 1st - Islamic New Year, 1st - Wissal Shaykh Abul Hassan Ali Bukhari, Baghdad Shareef 1st - Birth ; Hadrat Umar Farooq Radi Allahu anhu, 1st - Birth ; Hadrat Shahabuddin Suharwardi Radi Allahu anhu 2nd - Urs ; Pir Jamal Shah Bin Murtaza Radi Allahu anhu 2nd - Wissal Hadrat Khwaja Ma'roof Kirki, Baghdad Shareef 4th - Wissal Hadrat Khwaja Hassan Basri Radi Allahu anhu 5th - Urs ; Hadrat Baba Fariduddin Ganj Shakar Radi Allahu anhu 6th - Chatti Shareef, Khawaja Gharib-e-Nawaz Radi Allahu anhu, Ajmer Shareef 8th - Wissal ; Hadrat Imam Zayn al-Abideen Radi Allahu anhu Medina Munawwara 8th - Urs ; Hadrat Mawlana Hashmat Ali Khan, Pilibit Shareef 9th - Shab-e-Ashura Amal 10th - Yaum-e-Ashura Amal 10th - Allah Ta'ala Created the Heavens and Earth. - On this Very Day would be the Day of Qiyyamah (Judgement). - Allah Subhanahu wa Ta'ala gave his infinite blessings and bounties to many of his Prophets and delivered them from the clutches of the enemies - Ship of Hadrat Noah alayhis 'salam came to rest on Mount Al-Judi. - Hadrat Ayyub (Alayhi Asallam) was delivered from distress. - Hadrat Yunus (Alayhi Asallam) was cast onto the shore after being swallowed by a fish for 40 days . - Hadrat Moosa (Alayhi Asallam) got victory over the Pharoah - The Birth of Hadrat Ibrahim (Alayhi Asallam) 10th - Martyrdom of Imam Hussain Radi Allahu anhuat Karbala 10th - Hadrat Sayyadi Shah Barkatullah Ishki, Mahrehah Shareef 11th - Urs ; Pir Rahmat Shah Saheb, Gojarkhan, Rawalpindi. 11th - Ghiyarwee Sharif ; Hadrat Shaykh Abd'al-Qadir al-Jilani Radi Allahu anhu 13th - Urs ; Mufti-e-Azam Had Mustafa Raza Khan Bareilly Sh. 19th - Wissal Hadrat Sayyad Ahmad al-Jilani, Baghdad Shareef 20th - Wissal ; Hadrat Bilal Radi Allahu anhu 20th - Wissal ; Hadrat Shah Waliyullah Dhelvi Radi Allahu anhu 21st - Wissal ; Mawlana Muhammad Nazir al-Akram Sahib Naeemi 21st - Urs ; Hadrat Zinda Pir,Ghamkhol Shareef, 25th - Birth ; Hadrat Imam Hassan Radi Allahu anhu 26th - Urs ; Hadrat Tajul Awliya, Baba Tajuddin, Nagpur Shareef 28th - Urs; Hadrat Makhdoom Ashraf Jahangir Radi Allahu anhu,Kicchocha Shareef[/b]
  48. 1 like
    As-salam-u-alikum! Dars-e-Nizami aik aisa course hai jissey Ulama-e-Karaam ne murattab farmaya hai. Is k parhne k baad Insaan mai itni salahiyat paida ho jaati hai k woh Masail ka hal nikaal sake, kisi topic per research ker sake, Quran-o-Hadith ko samajh sake etc. It comprises of the following subjects:- 1) Sarf(Morphology) 2)Nahv(Syntax) 3)Mantiq(Logic) 4)Fiqh 5)Usuul-e-Fiqh 6)Hadith 7)Usuul-e-Hadith 8)Quran 9)Usul-e-Quran 10)Falsafa(Philosopy) 11)Balaghat(Eloquence) 12)Aqaaid And there are few more subjects too.
  49. 1 like
    Rana Sahib... Share Kerney Ka Buhut Shukriya... Is Sey Hamarey Sunnis Ko Buhut Faida Hoga.. Insha Allah
  50. 1 like