Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/30/2017 in all areas

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 3 likes
  3. 2 likes
    وھابیہ کو مدارج النبوت کے ترجمہ کی توفیق نہیں ملی یہ تومحمد عبدالوھاب،ابن تیمیہ، ابن قیم، شوکانی وغیرہ کی کتابوں کے ترجمے کرتے ہیں۔ مدارج النبوت فارسی مطبوعہ نول کشور اور پرنا اُردو ترجمہ کے عکس درج ذیل ہیں۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی سوانح حیات میں اس کتاب کا تعارف لکھا ہے۔
  4. 2 likes
    امام ابواسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی نے اپنی معروف کتاب الاعتصام میں بدعت کی اقسام بھی بیان کی ہیں اور بدعت حسنہ کے جواز پر دلائل بھی دئیے ہیں۔
  5. 2 likes
    Wahabi Bolta Hai per Samjhta nahi . is fake fatwa Me Likha Gaya Hai K Aala Hazrat Ne Al mohannad Manazr e Aam Per Aane K Bad Takfir se Ruju Farma liya Kaha Ruju Farmaya ? jawab .. سبحان السبو ح اور تمہد ایمان میں Hasna Mana Hai ..... سبحان السبوح 1309 ھجری Me Likhi Gai تمہید ایمان 1326 ھجری Me Likhi Gai Fatwa E Kufr 1320 Me DiyaGaya..... Al monnad ...1353 Me Chapi Sarkar Aala HAZRAT رضی اللہ تعالیا Ka Wisal 1340 hij Ko Huwa Ab Sawal Y Hai K 1320 Me fatwa E Kufr De Kar Aala Hazrat Ne 1309 Wale Risale ( سبحان السبوح ) Me Yani Fatwa Dene Se 11 Sal Qabl Fatwa Se kaise Ruju Kiya Honga ? Wo Al Mohannd Ki Bina Per Jo 1353 Me Chapi Ja K Aala Hazrat Hayat Bhi Nahi The Ya Illahi Y Majra Kiya Hai ? Koi Deo Hai jo Aisa Maths Janta Ho jis Se Y Hisab Ka Kitab Ho Sake ?
  6. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Wesy toh Zubair Zai ki taqreeban har book ka sunni hazrat ny rad likha hy Jin mein Faisal bhai bhi hain.. Magar Zubair zai k tazadaat pe deoband hazrat ki ye kafi achi book meri nazar hy. Mazy ki baat k jin Deobandi Ulma ny is book mein Zubair zai ko khoob bura bhala bhi kaha hy aur class bhi li hy, Unhi deobando ki wafaat pe Ghair_muqaldeen ki janib se unk forum pe in Deobandi ulma ko Magfirat aur Duaiya kalmon se nawaza gaya.. http://tauheed-sunnat.com/book/321/Tunaqzaat-Zubair-Ali-Zai
  7. 2 likes
  8. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  9. 2 likes
    تذکرہ سنوسی مشأخ.pdf
  10. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  11. 2 likes
    (1) کتاب: توثیقِ صاحبین آن لائن مطالعہ:۔ https://archive.org/details/ToseeqESahibeen ڈاؤن لوڈ:۔ https://archive.org/download/ToseeqESahibeen/Toseeq-e-Sahibeen.pdf (2) (3)
  12. 2 likes
    جناب محمد علی صاحب قبلہ سعیدی صاحب کے پیرومرشد حضرت غزالئ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمت نے سماع کے جواز میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔سماع کے جواز کے قائلین بھی کچھ صوفیاء کرام ہیں اور کچھ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔۔اس لیے اس پر اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں
  13. 2 likes
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  14. 2 likes
    عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  15. 2 likes
  16. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  17. 2 likes
  18. 2 likes
  19. 2 likes
    pehle is kitab ki sanad to sabit karo,,, aur agar is riwayat ko sahi bana kar Maaz Allah Imam ko kafir bana raheho to batao,,, Zubair Ali zayi inko imam keh kar kya hua???
  20. 2 likes
    وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
  21. 2 likes
  22. 2 likes
    اسلام پر بائیس اعتراضات کا جواب' علامہ پیر غلام رسول قاسمی صاحب نے لکھ کر سرگودھا کے مکتبہ رحمۃ اللعالمین سے شائع کروا دیا ہے۔ اس کتاب میں ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ ساتھ نبوت مصطفیٰ ﷺ کے دلائل نیز الحاد کی تاریخ اور عصر حاضر کے اہم انسانی مسائل کے حل پر بھی بحث ہے۔ https://drive.google.com/file/d/0B-i4oEf62HSuMDFpbURPYmFvY00/view http://www.mediafire.com/file/zx9lvaq3o9ujm18/ISLAM_ZINDA_BAAD.pdf
  23. 2 likes
  24. 2 likes
    مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  25. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  26. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  27. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga
  28. 1 like
  29. 1 like
    Salam alayqum. ----------------------- 1 - Mawlana Saeed Ahmad Assad nay Noor Bashr kay munazray mein jawab deeya thah ... Nabuwat ka mansub mila magr mansub par kaam aakiri Nabi bana kar behja gaya toh phir shoroon huwa. Jistera police walay ko job Lahore ki millay aur rahay Karachi mein ... position to milli magr duty apnay station par hi ja kar deh sakta heh. 2 - Janab Quran mein aya heh kay shahid ki makhi (i.e. Bee) ko Wahi hoti heh toh kia us ko wahi huwi toh woh Nabi ho gahi? Aur Jibraeel alayhis salaam aah kar us ko kitab ka ilm detay hen? Jab Hadith say wazia huwa kay aap Nabi thay pedaish say pehlay toh phir Nabi kay wastay Wahi kitabi ki shart kesi. Dosri baat aur kia zeroori heh kay Nabi ko Wahi kitabi ho toh Nabi heh Quran say wazia heh kay Wahi ka kitabi hona lazam nahin. Is kay ilawah Alam e Arwah mein kis ko khabr kia kia Wahi huwa arwah e Ambiyah ko. Wahi kitabi ka zeroori hona us waqt heh jab Nabi ilaan e Nabuwat karay aur baseehat e bashr dunya mein behja gaya ho. 3 - Ambiyah say pehlay milli ya baad mein, is behas ki zeroorat nahin keun kay maqam e khatamiat sab kay akhir mein milla aur sab say akhir mein behjay gahay. Misaal kay tor par ... das football player select hoon ... Shahid un mein 7th number par chuna gaya ho ... aur sab say akhir mein behja gaya ho ... aur us kay pitch par ajanay kay baad kaha jahay kay yeh aakhiri player heh toh ... us ki selection saatwen number par huwi toh kissi ko ihtiraz hoga? RasoolAllah ka khatam honay ka mansub sab kay aakhir mein bhejnay kay baad mila selection say to is ka talluq hi nahin. Selection say mein tab pansen jab Hadith ho mein aakhiri Nabi thah jab Adam alayhis salam is halat mein thay ... Ala Hadhrat rahimullah ka farman siyaq o sabaq mein parna paray ga. Jahan taq mujjay pata heh Sayyidi Ala Hadhrat rahimullah bi Nabuwat alam e arwah mein milnay ka nazria rakhtay thay ... kaheen par un say yeh Hadith naqal keeya huwa para heh. Keun kay is ibarat ki doh implications hen; agar sab say pehlay milli toh phir baqi Ambiya ko nabuwat milnay ka inqaar lazam ata heh ... aur agar zameen kay lehaz say dekha jahay toh phir ihtiraz banta heh kay agar pehlay milli thee toh phir Ala Hazrat nay zameen par Nabuwat kay milnay ka likha keun. Jahan taq Ala Hazrat ki ibarat ka wazia mafoom heh toh unoon nay yeh wazahat ki heh kay dunya mein Nabi behjay janay kay baad aur khatamiat kay ilaan kay baad kissi aur ko Nabuwat nahin mil sakti. Abh yeh ihtiraz huwa kay Ala Hazrat nay dunya par milnay ka bayan keeya heh agar pehlay milli hoti toh yeh nah likhtay. Is ka jawab meray pass nahin, ahle ilm hazrat denh gay. Istera Qasim Nanotavi ki ibarat Kufr huwi. Isa alayhis salam ki nabuwat khas bani Israel wasteh thee. Aur hamaray Nabi ki tamam insaniat kay wastay. Hamaray Nabi ki Nabuwat nay un ki Nabuwat ko mansookh kar diya keun kay jin kay pass woh bhejay gay thay uneeh kay pass hamaray Nabi bi bhejay gay hen. Un ka title aur maqam e Nabi qaim heh magar Nabuwat khatam ho chuki. Abh woh Ummati hi ban kar ahen gay. Khatam un Nabiyeen ka bazahir mana Nabiyoon ka khatim, akhir, pechla ... Yeh un Nabiyoon ka aakhiri hona heh joh sahib e Nabuwat thay, yehni Sahib e Nabuwat Nabiyoon kay akhar mein anay wala. Note karyeh ... Rasool/Nabi ka lafzi mana ghayb ki khabr batanay wala nahin. Magar yeh shar'ri mana heh. Is'see tera khatamun nabiyeen ka lafzi mana aur shar'ri manay mein farq zeroori heh.
  30. 1 like
    جی آپ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا قصیدہ دیکھ لیں اس میں انکا عقیدہ آپ کو پتا چل جاۓ گا
  31. 1 like
  32. 1 like
    دیوبندی حقیقت میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمہ کے نظریاتی مخالف ہیں۔ عرصہ ہوا ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ کے ملوظات بنام القول الجلی فارسی مخطوطہ کاکوری ضلع لکھنؤ سے بازیافت ہوا ،پھر دہلی سے اس مخطوط کو اُسی حالت میں شاءع کردیا گیا۔ ان ملفوظات میں شاہ ولی اللہ کے وہی عقاءد ہیں جو کہ اہل سنت حنفی بریلویوں کے ہیں یہ ملفوظات ان کے شاگرد شاہ محمد عاشق پھلتی نے لکھے اور شاہ ولی اللہ کو دکھاتے رہے۔ اس کتاب کے شاءع ہونے کے بعد اُردو میں اس کا تعارف لاہور سے شاءع ہوا اس کا ابتداءیہ مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے لکھا وہ اس کے شروع میں لکھتے ہیں۔ ویسے بہت سے اختلافات میں سے صرف ایک عقیدہ نذر ونیاز کے متعلق یہاں عکس حاضر ہیں۔ دیوبندی ان نظریات کے خلاف لکھتے ہیں تو یہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز کی مخالفت ہی ہے اور کیا ہے؟
  33. 1 like
    22950- من عشق فعف ثم مات مات شهيدا (الخطيب عن عائشة) أخرجه الخطيب (12/479) . 22951- من عشق فكتم وعف فمات فهو شهيد (الخطيب عن ابن عباس) أخرجه الخطيب (6/50) . 22952- من عشق وكتم وعف وصبر غفر الله له وأدخله الجنة (ابن عساكر عن ابن عباس) أخرجه ابن عساكر (43/195) 1. حقی، اسماعیل، تفسير روح البيان، ج ‏8، ص 100؛ تفسير بيان السعادة في مقامات العباده، ج ‏2، ص 355؛ التفسير المعين للواعظين و المتعظين، المتن، ص 238؛ در این تفسیر ذیل آیه 23 سوره یوسف، این روایت را از کنزالعمال چنین نقل می‌کند: النبي (صلی الله علیه و آله): من عشق فعف ثم مات مات شهيدا؛ «كنز العمال، خ 6999»؛ در شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید هم که اشاره فرمودید به این صورت نقل شده: «قد جاء فی الحديث المرفوع من عشق فكتم و عف و صبر فمات مات شهيدا و دخل الجنة» ؛ شرح‏ نهج‏ البلاغة، ج 20، ص 233. 2. مَنْ عَشِقَ شَيْئاً أَعْشَى بَصَرَهُ وَ أَمْرَضَ قَلْبَهُ فَهُوَ يَنْظُرُ بِعَيْنٍ غَيْرِ صَحِيحَةٍ وَ يَسْمَعُ بِأُذُنٍ غَيْرِ سَمِيعَةٍ قَدْ خَرَقَتِ الشَّهَوَاتُ عَقْلَهُ وَ أَمَاتَتِ الدُّنْيَا قَلْبَهُ وَ وَلِهَتْ عَلَيْهَا نَفْسُه‏ ... (نهج‏ البلاغة، خطبه 109). 3. آلوسی، محمود، روح المعاني فی تفسير القرآن العظيم، ج‏ 9، ص 201 .*گستاخ رسول اور منکرین حدیث کے لفظ عشق پر ہرزہ سرائی کے پس پردہ حقائق* اس لفظ پر تنقید کا مقصد امت مسلمہ کے مسلّمہ اکابرین اور آئمہ کرام پر طعن و تشنیع کر کے امت مسلمہ میں انکی محبت اور احترام کو کم کرنا مقصود ہے اس میں کافی حوالے موجود ہیں کہ امت مسلمہ کے جید علماءکرام نے اس لفظ کو تواتر کے ساتھ استعمال کیا اور احادیث میں بھی یہ لفظ وارد ہوا لیکن حدیث کے منکر اور گستاخ رسول احادیث کو پس پشت ڈال کر اپنی قیاس آرائیوں سے کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو سراسر زیادتی ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ انکے پاس ماں بہن کی چادر کے پیچھے چھپنے کے علاوہ کوئی قیاس تک موجود نہیں یہ امت مسلمہ میں ایموشنلی بلیک میلنگ کے زریعے امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سب سے پہلے ہم اس لفظ کو احادیث مبارکہ سے پیش کریں گے پھر اس لفظ عشق کے عربی لغت میں معنی دیکھیں گے پھر ان معنوں کو ہم اس احادیث کے مطابق چیک کریں گے اسکے بعد ہم اسلاف امت کے اقوال پیش کریں گے اسکے بعد امت مسلمہ کے مستندشعراکےاقوال پیش کرکےسب سے آخر میں تبصرہ کرکے گستاخ رسول اورمنکرین حدیث کا مکمل ردکریں گے ان شاء اللہ سب سے پہلی بات کہ اگر یہ لفظ عشق حدیث میں اچھائی کے معنوں میں جگہ لے لیتا ہے تو ایک مسلمان ہونے کے ناطے تاویل باطلہ سے اس میں عیب پوشی نہیں کرنی چاہئے جبکہ بقول منکرین حدیث یا گستاخوں کے یہ لفظ عشق معیوب ہے تو اس لفظ پر گرفت بنتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ کے اکابرین نے ہمیشہ اسلام کی اساس کو برقرار رکھا اور جہاں جہاں کوئی خرابی دیکھی فوراً گرفت کی لہزا پہلی بات تو اس لفظ عشق کا حدیث میں تعریفی معنوں میں آنا ہی اسکے عیبوں کو پاک کر دیتا ہے مگر پھر کوئی اعتراض کرے تو اسے اکابرین یا اسلاف سے پہلے حدیث کو ضعیف اسکے بعد اس لفظ کی اسلاف سے گرفت ثابت کرنا ہوگی اب ہم آپکے سامنے وہ احادیث پیش کرتے ہیں جو مختلف سندوں اور واسطوں سے مختلف مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں جن سے ماں بہن کی چادر کے پیچھے چھپنے والے بے نقاب ہوسکیں گے ان شاء اللہ پہلی حدیث بروایت خطیب بغدادی حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ *من عشق فعف ثم مات مات شہیدا* جسکو عشق ہوا پھرﮨﮯ۔ پاک دامن رہتے ہوئے مر گیا تو وہ شہید ہوا جہاں اس حدیث میں محبت کی انتہاء(عشق) کا زکرکیاگیاوہاں ہی ایک اورحدیث میں آتا ہے *بروایت خطیب حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ *من عشق فکتم وعف فمات فھو شہید* جس کو کسی سے عشق ہوا اور اس نے چھپایا اور پاک دامن رہتے ہوئے مر گیا وہ شہید ہے (الجامع الصغیر جلد 2 صفحہ 175 طبع مصر) جب ہم نے یہ حدیث کچھ گستاخوں کے سامنے پیش کی تو انھوں نے اپنے ایک خود ساختہ امام سے اسکو رد کرنے کی کوشش کی کہ یہ احادیث ضعیف ہیں جبکہ امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسانید متعددہ سے اسکو نقل کیا بعض میں کلام کیا جنھیں گستاخ کیش کر رہے تھے جبکہ اس آدھی عبارت کے بعد کی عبارت پیش کرنا انھیں اور انکے خودساختہ امام کو ہضم نہ ہوئی جسکی وجہ سے آدھی عبارت کو چھوڑ دیا آئیں ہم آپکے سامنے مکمل عبارت پیش کرتے ہیں امام نے بعض میں کلام ضرور کیا مگر کچھ اسانید کو برقرار رکھا کہ وہ ضعیف نہیں اور اس میں ایک سند کو تو مکمل اور واضح طور پر *وھو سند صحیح* کہا (مقاصد حسنہ صفحہ 420) اسکے علاوہ ایک اور جگہ ایک حدیث کے بارے میں امام سخاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام خرائطی رحمۃاللہ علیہ اور امام ویلمی رحمۃاللہ علیہ نے بھی روایت کیا وہ حدیث یہ ہے *من عشق فعف فکتم فصبر فھو شہید* جس کو کسی سے عشق ہو گیا اور وہ پاک دامن رہا اور اسے چھپایا اور صبر کیا تو وہ شہید مرا امام سخاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی متعدد اسناد اور طریقوں سے روایت کیا (مقاصد حسنہ صفحہ 419-420 طبع مصر) اب اہل علم جانتے ہیں کہ اگر حدیث ضعیف بھی ہو تو مختلف اسانید کی وجہ سے اسکا ضعف دور ہو جاتا ہے جبکہ اس میں تو پھر بھی ایک صحیح حدیث موجود ہے جس میں کوئی ضعف نہیں جسکا محور اور مرکز ہی محبتوں کی انتہاء عشق ہے اب ہم عشق کا معنی و مفہوم بیان کریں گے عشق ﺷﺪﯾﺪ ﺟﺬبہ ﻣﺤﺒﺖ، ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ، ﻣﺤﺒﺖ، ﭘﯿﺎﺭ۔ کو کہتے ہیں اب ہم ایک مستند حوالے کے ساتھ عشق کی کیفیات بیان کرتے ہیں عشق میں ایک عاشق پانچ مختلف حالتوں کا شکار ہوتا ہے یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک عاشق کے عشق کی انتہاء پانچ مرحلوں تک ہوتی ہے ﺩﺭﺟﮧ ﺍﻭﻝ ﻓﻘﺪﺍﻥِ ﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻝ ﮐﺎ اپنے معشوق کی طرف لگا دینا، ﺩﺭجہ ﺩﻭﻡ ﺗﺎﺳﻒ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻖ ﺑﯿﺪﻝ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺳﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﺭجہ ﺳﻮﻡ ﻭﺟﺪ : ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﺭﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺩﺭﺟﮧ ﭼﮩﺎﺭﻡ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ، ﺩﺭﺟﮧ ﭘﻨﺠﻢ ﺻﯿﺎﻧﺖ، ﻋﺎﺷﻖ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﺠﺰ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﻋﺸﻖِ ﺣﻘﯿﻘﯽ۔ ‏( ﻣﺼﺒﺎﺡ ﺍﻟﺘﻌﺮﻑ، 176) ایک عاشق اپنے معشوق ﮐﮯ ﻋﯿﻮﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺲ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮﺟﺎتا ہے ۔ ‏( ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ ﺍﻟﻤﺤﯿﻂ ، ﺝ : 1 ، ﺹ : 909 ‏) ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﯾﮩﯽ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 10 ، ﺹ : 251 ‏) ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺼﺤﺎﺡ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 4 ، ﺹ : 1525 ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﻓﺎﺭﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﻘﺎﯾﯿﺲ ﺍللغۃ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﻋﺸﻖ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﮐﻮ ﭘﮭﻼﻧﮕﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔ ‏( ﺝ : 4 ، ﺹ : 321 ، ﻃﺒﻊ : ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻔﻜﺮ ‏) ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺍﻟﻌﺰ ﺷﺮﺡ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﻃﺤﺎﻭﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﺸﻖ ﺍﺱ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﮨﻼﮐﺖ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ علامہ اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشا ہے لب بام ابھی اسکے علاوہ اسی عشق کے بارے میں مولانا رومی فرماتے ہیں *ہر کراہ زعشق جامہ چاک شد اوز حرص وعیب کلبی باک شد* جسکے وجود نفسانی کا جامہ عشق سے چاک ہوگیا وہ ہر عیب اور لالچ سے پاک ہوگیا* ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر ہم ان گستاخوں اور منکرین حدیث کے پروپیگنڈے کو مان لیتے ہیں تو سوچیں کہ ہم نے کیا کھویا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 1)ہم نے حدیث کے الفاظ پر تنقید کی 2)ہم نے حدیث کے اعزازی لفظ کو عیب دار مانا 3)ہم نے آئمہ کے اقوال کو رد کیا 4) ہم نے اسلاف پر تنقید کی 5) ہم نے قیاس کو حدیث سے اچھا جانا 6) ہم نے منکرین حدیث کے اس نقطہ نظر کو تقویت دی کہ حدیث کے واسطے قابل اعتبار نہیں 7) ہم نے گستاخوں کو آئمہ پر جرح کرنے کا موقع دیا 8) ہم نے امت کے اجماع کو پس پشت ڈالا 9)ہم نے اس تواتر کا انکار کیا جسکی بنیاد 1400 سال پہلے رکھی گئی خدارا اب بھی وقت ہے جاگو امت مسلمہ جاگو اور اپنی صفوں میں ان لوگوں کو پہچانو جو انجانے میں آپکا ایمان برباد کر رہے ہیں اب اس عشق کے لفظ کی آڑ میں آپکو ان اوپر بیان کردہ 9 گناہوں کا انجانے میں ارتکاب کروا رہے ہیں خدارا پہچانو انکو اگر اس عشق کی پاکیزگی اور امت میں تواتر کو تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک مکمل رسالہ بن جائے ہم نے مختصراً کچھ چیدہ چیدہ پوائنٹس آپکے سامنے پیش کیے تاکہ آپکے سامنے ان گستاخ اور حدیث کے منکروں کو بے نقاب کیا جائے دراصل امت مسلمہ میں منکرین حدیث اور گستاخ ہیں تو آٹے میں نمک کے برابر لیکن امت مسلمہ کو گمراہ کرنے اور شیطان پرست بنانے میں اہم کردار اداکر رہےہیں انکی خواہش ہے کہ امت مسلمہ کے سامنے اکابرین امت اور سلف صالحین کو داغدار ثابت کیا جائے جسکی آڑ لے کر تمام آئمہ محدثین پر جرح کی جائے اور امت مسلمہ کے دلوں میں انکے لیے موجود عزت کو ختم کیا جائے پوسٹ کی طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو ہم آپکو بتاتے کہ ان گستاخوں اور منکرین حدیث کے اس لفظ پر اعتراض کے پیچھے کتنے مزموم مقاصد چھپے ہیں انکا مقصد علماء اسلام کے مستند اور معتبر اسلاف کے کردار کو داغدار ثابت کر کے انکے اقوال کو پس پشت ڈالنا ہے 100-150 پہلے تک امت مسلمہ میں میں قرآن اسکے بعد حدیث اسکے بعد آئمہ کے اقوال کو درجہ دیا جاتا تھا ان لوگوں کے اس طرح کے پروپیگنڈوں کے بعد آئمہ کے کردار کو داغدار بنا کر اور خطاؤں کے پتلے ثابت کرکے انکو پس پشت ڈال دیا گیا اور نعرہ لگایا کہ ہمارے نزدیک صرف قرآن و حدیث ہے ہم صرف اور صرف قرآن و حدیث کے پیروکار ہیں اسکے بعد منکرین حدیث کو موقع ملا اور انھوں نے حدیث کے واسطوں پر جرح کر کے احادیث کو بھی پس پشت ڈال دیا اب انکا کہنا ہے کہ وہ صرف قرآن کے ماننے والے ہیں آئمہ کے کردار کو داغدار بنانے کے لیے انسان خطا کا پتلا کا جواز پیش کیا وہیں اس طرح کے جاہلانہ اعتراض کرکے اپنے اس موقف کو تقویت دینے کی کوشش کی لیکن ازل سے ابد تک رحمٰن کےبندوں نے ہمیشہ شیطان کے بندوں کو بے نقاب کیا جو ہدایت کے متمنی تھے وہ ہدایت پا گئے اور شیطان کی چالوں سے محفوظ رہے اور جو نفس پرستی کے متمنی اور نفس پرستی کی طرف مائل تھے وہ شیطان کے جال میں پھنس کر رہ گئے اللہ پاک کی ذات سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام امت مسلمہ کو ان شیطانی ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھے اور اپنی اپنے محبوب کی اپنے اولیاء کی اپنے صلحاء کی ناموس پر ہمیں پہرہ دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے
  34. 1 like
    یہ تو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اگر نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوتا تو اللہ عزوجل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی بناتا اور ساتھ ان کو نبوت والے تمام فضائل و احوال بھی مہیا کرتا لیکن جب نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے تو پھر ایسا اعتراض کرنا بھی فضول ہے ۔ یہی اعتراض شیعہ پر تو ہو سکتا ہے کہ ان کے بارہ امام ان کے نزدیک اگرمعصوم ہیں پھر وہ نبی کیوں نہیں ہیں؟؟؟ شیعہ مر تو جائے گا لیکن اس کا جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  35. 1 like
    السلام علیکم دوستو اس کتاب میں اس روایت جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک شخص رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر آیا اور بارش کی درخواست کی۔۔۔الخ اس روایت کا ایسا دفاع کیا گیا ہے کے اگر کوئی وہابی/دیوبندی اس کو پڑھے تو سنی بن جاۓ۔ تمام حضرات سے گزارش ہے کے اس کو ضرور پڑھیں۔اور ڈاون لوڈ کر کے اپنے پاس رکھیں۔ The Blazing Star.pdf
  36. 1 like
  37. 1 like
  38. 1 like
    شارح صحیحین و مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے ایک عظیم تساہل و خطاء محدث العصر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی نشان دہی میں ایک عظیم تساہل اور خطاء ہو گی۔ علامہ سعید ملت علیہ الرحمہ اپنی تفسیر تبیان القرآن جلد دہم صفحہ 290-291(سورہ الحجرات ) میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشہور قاتلین کی سرخی بنا کر تاریخ طبری سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310ھ لکھتے ہیں: عبدالرحمان نے بیان کیا کہ محمد بن ابی بکر دیوار پھاند کر حضرت عثمان کے مکان میں داخل ہوئے، ان کے ساتھ کنانہ بن بشر ، سودان بن حمران اور حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) بھی تھے اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قرآن شریف سے سورۃ البقرہ پڑھ رہے تھے ،محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ کر کہا: اے بڈھے احمق ! تجھے اللہ نے رسواکردیا، حضرت عثمان نے کہا :میں بڈھا احمق نہیں ہوں ، امیرالمومنین ہوں، محمد بن ابی بکر نے کہا: تجھے معاویہ اور فلاں فلاں نہیں بچا سکے، حضرت عثمان نے کہا : تم میری داڑھی چھوڑ دو، اگر تمہارے باپ ہوتے تو وہ اس داڑھی کو نہ پکڑتے ، محمد بن ابی بکر نے کہا:اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو وہ تمہارے افعال سے متنفر ہو جاتا ، محمد بن ابی بکر کے ہاتھ میں چوڑے پھل کا تیر تھا وہ انہوں نے حضرت عثمان کی پیشانی میں گھونپ دیا، کنانہ بن بشر کے ہاتھ میں ایسے کئی تیر تھے وہ اس نے آپ کے کان کی جڑ میں گھونپ دیئے، او رتیر آپ کے حلق کے آرپار ہوگئے، پھر اس نے اپنی تلوار سے آپ کو قتل کردیا۔ابوعون نے بیان کیا ہے کہ کنانہ بن بشر نے آپ کی پیشانی اور سر پر لوہے کا ڈنڈا مارا اور سودان بن حمران نے آپ کی پیشانی پر وار کرکے آپ کو قتل کردیا۔ عبدالرحمان بن الحارث نے بیان کیا کہ کنانہ بن بشر کے حملہ کے بعد ابھی آپ میں رمق حیات تھی ، پھر حضرت عمرو بن الحق (صحیح عمرو بن الحمق ہے، رضاالعسقلانی ) آپ کے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور آپ کے سینہ پر نو وار کیے بالآخر آپ شہید ہوئے(تاریخ الامم والملوک المعروف تاریخ طبری، ج 3، ص 423-424، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیروت) اس واقعہ کی سند کی تحقیق: علامہ سعیدی علیہ الرحمہ نے تاریخ طبری سے جو اوپر واقعہ نقل کیا ہے وہ یہ ہے: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حدثه عن عبد الرحمن ابن مُحَمَّدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ، وَسُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ! فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلانُ وَفُلانُ! فَقَالَ عثمان: يا بن أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْ رَآكَ أَبِي تَعْمَلُ هَذِهِ الأَعْمَالَ أَنْكَرَهَا عَلَيْكَ، وَمَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدَّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، قَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ، فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ، ثُمَّ عَلاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بشر جبينه وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ، فَخَرَّ لِجَبِينِهِ، فَضَرَبَهُ سُودَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَ مَا خَرَّ لِجَبِينِهِ فَقَتَلَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرحمن ابن الْحَارِثِ، قَالَ: الَّذِي قَتَلَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ التُّجِيبِيُّ وَكَانَتِ امْرَأَةُ مَنْظُورِ بْنِ سَيَّارٍ الْفَزَارِيِّ تَقُولُ: خَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ، وَمَا عَلِمْنَا لِعُثْمَانَ بِقَتْلٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ سَمِعْنَا رَجُلا يَتَغَنَّى تَحْتَ اللَّيْلِ: أَلا إِنَّ خير الناس بعد ثلاثة ... قتيل التجيبي الذي جَاءَ مِنْ مِصْرَ قَالَ: وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ، فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ، فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعْنَاتٍ قَالَ عَمْرٌو: فاما ثلاث منهن فانى طعنتهن اياه الله، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ إِيَّاهُ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ. اور طبقات الکبریٰ میں علامہ ابن سعد نے بھی یہ روایت اپنے استاد واقدی سے ہی نقل کی ہے اس کا ثبوت یہ ہے۔ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ: " أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ , وَسَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانُ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ يَا نَعْثَلُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنْ عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ , فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدُّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ , ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ , وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ , ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عَوْنٍ يَقُولُ: ضَرَبَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ جَبِينَهُ وَمُقَدَّمَ رَأْسِهِ بِعَمُودِ حَدِيدٍ فَخَرَّ لِجَنْبِهِ , وَضَرَبَهُ سَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانَ الْمُرَادِيُّ بَعْدَمَا خَرَّ لِجَنْبِهِ فَقَتَلَهُ , وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَثَبَ عَلَى عُثْمَانَ فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ وَبِهِ رَمَقٌ فَطَعَنَهُ تِسْعَ طَعَنَاتٍ وَقَالَ: أَمَّا ثَلَاثٌ مِنْهُنَّ فَإِنِّي طَعَنْتُهُنَّ لِلَّهِ، وَأَمَّا سِتٌّ فَإِنِّي طَعَنْتُ إِيَّاهُنَّ لِمَا كَانَ فِي صَدْرِي عَلَيْهِ " (الطبقات الکبریٰ لابن سعد 3/73-74) اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔ 1-علامہ طبری کی ملاقات محمد بن عمر واقدی سے ثابت نہیں کیونکہ واقدی کی وفات 202 ہجری میں ہوئی اس وقت تو علامہ طبری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ یہاں علامہ طبری نے واقدی سے خود نہیں سنابلکہ اس کی کتاب سے نقل کیا ہے کیونکہ سند میں کے الفاظ موجود ہیں۔ 3-علامہ ابن سعد نے یہ واقعہ اپنے استاد محمدبن عمر واقد ی سے نقل کیا ہے۔ 2-محمد بن عمر واقدی خود جمہور کے نزدیک متروک اور کذاب ہے ۔ امام یحیی بن معین فرماتے ہیں: أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ: عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: لَيْسَ الوَاقِدِيُّ بِشَيْءٍ (تاریخ یحیی بن معین /532) ومحمد بن عمر الواقدي قال يحيى بن معين كان الواقدي يضع الحديث وضعاً (مشیخہ النسائی ، 1/76، رقم 6) خطیب بغدادی فرماتے ہیں: فَقَالَ: هَذَا مِمَّا ظُلِمَ فِيْهِ الوَاقِدِيُّ (تاریخ بغداد، 3/9) امام بخاری لکھتے ہیں: وَذَكَرَهُ البُخَارِيُّ، فَقَالَ: سَكَتُوا عَنْهُ، تَرَكَهُ: أَحْمَدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ (تاریخ الکبیر ، 1/178) و قال البخارى : الواقدى مدينى سكن بغداد ، متروك الحديث ، تركه أحمد ، و ابن نمير ، و ابن المبارك ، و إسماعيل بن زكريا . و قال فى موضع آخر : كذبه أحمد (تہذیب الکمال/6175) امام مسلم فرماتے ہیں: متروك الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام حاکم فرماتے ہیں: ذاهب الحديث (تہذیب الکمال/6175) امام ابن عدی فرماتے ہیں: أحاديثه غير محفوظة و البلاء منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: و قال ابن المدينى : عنده عشرون ألف حديث ـ يعنى ما لها أصل . و قال فى موضع آخر : ليس هو بموضع للرواية ، و إبراهيم بن أبى يحيى كذاب ، و هو عندى أحسن حالا من الواقدى . تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوداؤد فرماتے ہیں: لا أكتب حديثه و لا أحدث عنه ; ما أشك أنه كان يفتعل الحديث ، ليس ننظر للواقدى فى كتاب إلا تبين أمره ، و روى فى فتح اليمن و خبر العنسى أحاديث عن الزهرى ليست من حديث الزهرى تهذيب التهذيب 9 / 366 امام بندار فرماتے ہیں: ما رأيت أكذب منه تهذيب التهذيب 9 / 366 امام ابوحاتم رازی فرماتے ہیں: و حكى ابن الجوزى عن أبى حاتم أنه قال : كان يضع . امام ساجی فرماتے ہیں: و قال الساجى : فى حديثه نظر و اختلاف . و سمعت العباس العنبرى يحدث عنه امام نووی فرماتے ہیں: و قال النووى فى " شرح المهذب " فى كتاب الغسل منه : الواقدى ضعيف باتفاقهم . امام ذہبی فرماتے ہیں: و قال الذهبى فى " الميزان " : استقر الإجماع على وهن الواقدى . و تعقبه بعض مشائخنا بما لا يلاقى كلامه . امام دارقطنی فرماتے ہیں: و قال الدارقطنى : الضعف يتبين على حديثه امام نسائی فرماتے ہیں: قَالَ النَّسَائِيُّ: المَعْرُوْفُونَ بِوَضعِ الحَدِيْثِ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَرْبَعَةٌ: ابْنُ أَبِي يَحْيَى بِالمَدِيْنَةِ، وَالوَاقِدِيُّ بِبَغْدَادَ، وَمُقَاتِلُ بنُ سُلَيْمَانَ بِخُرَاسَانَ، وَمُحَمَّدُ بنُ سَعِيْدٍ بِالشَّامِ. (سیر اعلام النبلاء،9/463) لَيْسَ بِثِقَةٍ. (سیر اعلام النبلاء،9/457) امام شافعی فرماتے ہیں: وَقَالَ يُوْنُسُ بنُ عَبْدِ الأَعْلَى: قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ: كُتُبُ الوَاقِدِيِّ كَذِبٌ (تاریخ بغداد، 3/14) امام علی بن مدینی فرماتے ہیں: المُغِيْرَةُ بنُ مُحَمَّدٍ المُهَلَّبِيُّ: سَمِعْتُ ابْنَ المَدِيْنِيِّ يَقُوْلُ: الهَيْثَمُ بنُ عَدِيٍّ أَوْثَقُ عِنْدِي مِنَ الوَاقِدِيِّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) اور جمہور کے نزدیک ھیثم بن عدی ضعیف اور متروک ہے امام ذہبی ہیثم بن عدی کے بارے میں لکھتے ہیں: قُلْتُ: أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِ الهَيْثَمِ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ مرۃ فرماتے ہیں: وَقَالَ مَرَّةً: لاَ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ. (سیر اعلام النبلاء،9/462) امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: النَّسَائِيُّ فِي (الكُنَى) : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ أَحْمَدَ الخَفَّافُ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: هُوَ عِنْدِي مِمَّنْ يَضَعُ الحَدِيْثَ يَعْنِي: الوَاقِدِيَّ (سیر اعلام النبلاء،9/462) علامہ ابو اسحاق الجوزجانی فرماتے ہیں: لَمْ يَكُنِ الوَاقِدِيُّ مَقْنَعاً، ذَكَرتُ لأَحْمَدَ مَوْتَهُ يَوْمَ مَاتَ بِبَغْدَادَ، فَقَالَ: جَعَلتُ كُتُبَهُ ظَهَائِرَ لِلْكُتِبِ مُنْذُ حِيْنَ (تاریخ بغداد، 3/15) امام ابوزرعہ فرماتے ہیں: تَرَكَ النَّاسُ حَدِيْثَ الوَاقِدِيِّ (تہذیب الکمال/1249) واقدی کے علاوہ عبدالرحمن بن ابی الزناد پر بھی کافی جرح ہے لیکن اس کو نقل کرنے سے پوسٹ بڑی ہو جائے گی۔ویسے عبدالرحمن بن ابی الزناد کی تمام جرحیں میری پوسٹ "حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی صحیح حدیث اور غیرمقلد زبیرعلی زئی کے اعتراضات کا ردبلیغ" میں موجود ہیں۔ خلاصہ تحقیق یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس واقعہ کی سند موضوع اور باطل ہے۔اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں حضرت عمروبن الحمق رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ﷺ ہیں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور نہ ہی محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے۔علامہ سعیدی علیہ الرحمہ سے بہت بڑی خطاء ہو گی جو اس واقعہ کو بنا تحقیق کیے اپنی تفسیر میں نقل کردیا۔ اللہ عزوجل علامہ سعیدی علیہ الرحمہ کی تمام خطاؤں کو معاف فرمائے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے(امین)
  39. 1 like
    محمد بن عمر بن واقدی الاسلمی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"ضعفہ الجمہور"جمہور نے اسے ضعیف قراردیا ہے۔(مجمع الزوائد ج3ص255) حافظ ابن الملقن نے فرمایا:" "وقد ضعفه الجمهور ونسبه الي الوضع:الرازي والنسائي" "اسے جمہور ضعیف کہا اور(ابو حاتم)الرازی رحمۃ اللہ علیہ اور نسائی نے وضاع (احادیث گھڑےوالا ) قراردیا۔(البدر المنیرج5ص324) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:"متروک الحدیث"وہ حدیث میں متروک ہے۔(کتاب الضعفاء بتحقیقی :344) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مزید فرمایا:"کذبہ احمد"احمد(بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ )نےاسے جھوٹا قراردیا ہے۔(الکامل لا بن عدی ج6ص2245دوسرا نسخہ ج7 ص481وسندہ صحیح) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كان الواقدي يقلب الاحاديث يلقى حديث ابن اخى الزهري على معمر ونحو هذا" "واقدی احادیث کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا وہ ابن اخی الزھری کی حدیث کو معمر کے ذمے ڈال دیتا تھا اور اسی طرح کی حرکتیں کرتا تھا۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كما وصف وأشد لأنه عندي ممن يضع الحديث" "جس طرح انھوں (احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ )نے فرمایا: وہی بات بات بلکہ اس سے سخت ہے کیونکہ وہ میرے نزدیک حدیث گھڑتا تھا۔(کتاب الجرح التعدیل ج8ص21وسندہ صحیح) امام محمد بن ادریس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "كتب الواقدي كذب" "واقدی کی کتابیں جهوٹ (کا پلندا) ہیں"(کتاب الجرح التعدیل ج8ص21وسندہ صحیح) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "والكذابون المعروفون بوضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة. بن أبي يحيى بالمدينة والواقدي ببغداد، ومقاتل بن سليمان بخراسان، ومحمد بن السعيد بالشام، يعرف بالمصلوب" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حدیثیں گھڑنے والے مشہور جھوٹے چار ہیں۔ (ابراہیم بن محمد)بن ابی یحییٰ مدینے میں واقدی (محمد بن عمر بن واقد الاسلمی) بغداد میں مقاتل بن سلیمان خراسان میں اور محمد بن سعید شام میں جسے مصلوب کہا جاتا ہے۔(آخر کتاب الضعفاء والمتروکین ص310دوسرا نسخہ ص265) اس شدید جرح اور جمہور کی تضعیف کے مقابلے میں واقدی کے لیے بعض علماء کی توثیق قبول نہیں۔
  40. 1 like
    M Afzal Razvi حضور میں حضرت نہیں ہوں آپ کو لنک بھیج دیا ہے پرسنل میں چیک کرلیں جزاک اللہ
  41. 1 like
  42. 1 like
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  43. 1 like
    *امیرِ اہلسنت مولانا الیاس عطار قاری پر صحابی حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے الزام کا منہ توڑ جواب* دیوبندی مولوی کاذب خائن المعروف ساجد خان اور مفتری نجیب نے امیرِ اہلسنت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ پر حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا الزام لگا کر اپنے رافضی بھائیوں کی طرح دل کھول کر تبرا کیا دیوبندیوں میں تھوڑی سی غیرت ہے تو ہمارے جواب کا جواب دیں اور اس جواب میں خاص کر مولوی ساجد خان اور مفتری نجیب کو مخاطب کیا گیا ہے اگر ان دونوں میں شرم و حیاء نام کی کوئی چیز ہوگی تو ضرور جواب دیں.
  44. 1 like
    السلام علیکم اس بے غیرت کمینے کو اگر کوئی جاہل بھی مناظرے کا کہے یہ اس سے بھاگ جاتا ہے۔علماء اہل سنت اس کو مناظرے کا چیلنج کر چکے ہیں مگر یہ بزدل کیسے آۓ میدان میں۔
  45. 1 like
    Agar ap mujhe fresh links send kar den to buht meherbani hogi...m Al Hakim Al Mustadrak k urdu m complete volumes download karna chahta hun..
  46. 1 like
    دیوبندی ہمیشہ ڈنڈی مارتے ہیں۔ علمی طور پر یہ پہلے سے ہی یتیم ہیں۔ ایسے بے تکے اعتراضات کر کے اپنے دیوتائوں کوخوش کرتے ہیں۔ کشمیر خان بھائی نے درست جواب دیا ہے۔ اعلی حضرت ایک بزرگ کا قول نقل کر رہے ہیں اور آگے لکھتے ہیں کہ "اپنے مرتبے کا اظہار کیا"۔ یعنی ان بزرگ نے اپنی ولایت و کرامات کا اظہار کیا۔ اس میں لفظ مردانگی با عمل اور ولایت کے مقام پر ہونے کے معنی میں ہے۔ اگر ہر لفظ کا مطلب اصلی معنی میں لینا شروع ہوجائو تو کسی کو شیر کہنا جائز نہ ہوگا کہ شیر حقیقتاً ایک خونخوار درندہ ہے۔ جس طرح شیر بہادری کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، ایسے ہی یہاں مرد دوسرے معنی میں ہے۔
  47. 1 like
    http://www.islamimehfil.com/topic/22597-جناب-محمدﷺ-کی-دعوت-توحید-اور-عرب-کے-لوگوں-کا-شرک/?p=97873
  48. 1 like
    salam alayqum, Meri behan Islam kay muhafiz kia karen. Sari kharabi nizam aur parwarish kee heh. Jab beta/beti peda hoti heh toh engineer bananay aur actress aur actor bananay aur Doctor bananay kay khawab dekh kar un ko kuffr kay nazam par joh taleemi idharay hen wahan tarbiyat hoti heh ulaad kee, jab woh soch, fikr, zawq, shoq meh kafir ho chookay hotay hen aur deen islam say is wastay joray hen keun kay jin kay gar woh peda wo khud la ila il allah muhammadur rasoolAllah kee had taq hee musalman thay, phir esi ulaad ko Islam say aur musalman say kia muhabbat aur Islam kay ihkamat ka kia parwa. Kuch toh taleemi idharoon meh be hayyahi aur be parwahi seekh leeh jaati heh aur joh rehti heh woh TV par tawahifoon kay naach ganay dekh aur sun kar jaati rehti heh. Nateeja kia hota heh jis musalman kee sari zindgi Quran aur Hadith kee talimat ko pahoon neechay kuchalnay meh guzrti heh jab us ko ISLAM KAY MUHAFIZ batatay hen kay yeh deen kay khilaf heh aur esay karna chahyeh toh phir woh aadaati shariat e mutahira ko pahoon neechay rondnay walay kay qaan say joon nahin rengti. Us nay toh sari zindgi madhuri dixit kay naach ganay dekhay hen ussay kia lagay parda say aur woh kesay raazi ho parda karnay say. Mera matlab heh kay aadati tor par deen ki talimat ko ignore karnay wala ek daffa do daffa das daffa hujjat karnay sa badalay ga nahin. Meh Muhammed Ali apnay behan bahiyoon rishtay daroon ko agar kohi deeni advice doon ya kissi ghair shari kaam say rokoon ya sunoon kay kohi wahhabi/deobandiyoon kay saath chalta heh toh agar meh kaam par hoon toh fori kaam chor kar gar aa jata hoon aur joh advise ho us kay imaan ko bachanay kee khatir deta hoon, roti kha raha hoon toh chor chala jata hoon magar islam aur musalmanoon kay imaan kay muhafizoon ka mahak uraya jata heh kay yeh pagal heh damagh kharab ho gaya heh is ka kitaben par par kar, beta/beti is kay pass mat jaya karo yeh khud damaghi tawazoh kho betha heh aur tummeh be pagal kar deh ga. Yeh family say bahir kee baat nahin family kay andar kee baat heh. Aaj kay dawr meh Islam aur Musalman ajeeb fitrat par lot'h chukay hen jis ka Nabi e kareem sallallahu alayhi wa aalihi was'sallam nay bataya thah. Islam ko apnana aur us par amal karna jalti aag meh haath dalna barabar ho chuka heh. Balkay jalti aag meh haath dalnay kay wastay aap ko encourage keeya jahay ga aur puri qom kee support hogi, go on, go on we are supporting you, clap clap clap, Tv channel par talent kay tor par dekhaya jahay ga magar musalman apnay mulk meh aur gar chupnay par majboor heh keun kay bahir bey-ghairatoon aur bey-haya aur musalman aur Islam dushman la ilaha il Allah ... parnay waloon ka raaj heh. Aur woh apni izzat aur imaan aur haya ko bachanay kee khatar andar choopnay par majboor heh. Vote log Nawaz jesay Shareef, Asif Ghardari ko detay hen, Imran Khan, jesoon ko detay hen joh nizam e kufr ko nafiz karnay kay leyeh kuch be kar saktay hen. Aaj ka la ila ha il allah ... parnay wala PPP kay leyeh sab kuch kar sakta heh PTI kay leyeh kuch be kar sakta heh, democracy kay leyeh pooray SYRIA kee eent say eent baja sakta heh, magar LA ila il allah ... joh parta heh kay leyeh street meh ek second kay leyeh khara nahin ho sakta. Allah aur rasool kay nizaam KA SUNTAY HEE HEART ATTACK KA DORA PARTA HEH. Ham kesay nangi larkiyoon ko nachta dekhen gay ISLAMI HAKOOMAT ho gahi toh. Yeh nangi larki dekhna toh hamaray insaani haqooq ka hissa heh, yeh maulvi toh mulk ko barbad kar denh gay. Udhar larkiyan, hay mera Allah meh skin tight kapray kesay pehnoon gi badan kee numaish nah huwi toh kesay pata chalay ga kay mera wajood bee dunya meh heh. Yeh maulvi to parda karwhen gay yahni soch kar GHALI KOOCHOON MEH AGITATION SHORON ho jahay jis ka solgan yeh ho: MAULVI MARO, QURAN JALAHO, HADITH JALAHO AUR PAKISTAN BACHAHO. Yeh heh musalman joh apnay aap par Islam ko nafiz karnay kay bajahay har kafir kay saath mil kar ISLAM khatam kar sakta heh magar kabi MAULVI kay saath khara ho kar ISLAM NAFIZ karnay kee khatir ek mint nahin laga sakta na kuch deh sakta heh. Aur jab taq Allah ka nizaam nafiz nah ho mulk aur qom meh us waqt taq ISLAM KAY MUHAFIZ KISSI KAY LEYEH KUCH NAHIN KAR SAKTAY, woh bicharay meri tara apnay hee gar waloon say choopay bethay hen. Nizaam ka nafiz hona zeroori heh, keun kay kuch logoon kee tarbiyat/education agar theek ho toh woh badal jatay hen. Kuch logoon ko litroon kee barish say control meh rakha jata heh. Jistera school meh kuch bachay sabak yaad kar letay hen aur un ko peeta jahay toh woh perform nahin kar patay, aur kuch esa hen kay unneh agar nah peeta jahay toh sabak yaad nahin kartay aur kuch esay hen jinnay peeta jahay tab bee nahin kartay, aur kuch esay un meh salahiyat hee nahin ... har ek kay leyeh different approach heh. Is'see tera qom meh be esay logh hen, kuch ko bazar meh khara kar kay darray maray jahen aur jootoon ka haar aur gadday par betha kar goomaya jahay ta kay zillat us ko seeda chalahay. Alhasil yeh heh kay Islam kay muhafiz ko power chahyeh kay jab Islam kay khilaf amal ho toh phir Islam ka muhafiz shar'ri hokam lagahay aur das itnay zor say darray lagwahay kay badan ka ghost hawa meh uray. Allah nay be Allah ho kar, dozakh banahi aur us kay baray meh bataya kay esa esa karo gay toh is kay mustahiq hogay, is ki waja kay insaan kabi lalach meh aur kabi khauf meh aur kabi maar peetahi kay dar say ghalt kaam nahin karta. Nizam ko chalanay kee khatir yeh zeroori hissa heh. Allah ta'ala logoon kay halat ko us waqt taq nahin badalta jab taq woh khud ko nah badlen, aap namaz paren ba'qaida panch, Quran kee tilawat, aur ba parda hoon, muttabeh shariat hoon, in sha allah aap kay joh mojooda halat hen badlen gay. Bandoon par musibaten aati hen magar us ko door karnay ka tareeka Allah kee raza hasil karna heh. Baqi Pakistani qom ka kia keeya ja sakta heh joh nizam e kufr ko musallat karnay kay leyeh civil war kay dahnay par khari heh magar Islam kay ek qanoon nafiz karnay par tiyar nahin.
  49. 1 like
  50. 1 like
    MASHALLAH Jazak Allah Khalil Rana Bhai !!!!!!!!!!!