Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 01/12/2018 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  3. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  4. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  5. 2 likes
    واقعہ حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃ اللہ علیہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ( القولی الجلی مترجم اردو ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ442 اردو) ( القول الجلی فارسی ) حضرت موسیٰ سہاگ رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا آج بارش نہ ہوئی تو یہ لباس سہاگ اتار دونگا پھر بارش ہوئی۔(القولُ الجلی شاہ ولی اللہ علیہ الرّحمہ صفحہ336 فارسی ) سوال یہ ہے کہ اسی مجذوب بزرگ کا واقعہ اگر اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمائیں تو ان کے ملفوظات کو لے کر دیوبندی حضرات گندی گندی گالیاں نکالتے ہیں اور لعنتیں بھیجتے ہیں کیا وہی دیوبندی حضرات حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گندی گندی گالیاں دینگے اور ان پر لعنت بھیجیں گے ؟ دیوبندیوں یہودیانہ فطرت چھوڑ دو ، چھوڑ دو یہ منافقت اور دو رنگی یا پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی گالیاں دو اور لعنتیں بھیجو ، کیوں سادہ لوح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہو خود تو گمراہ ہوئے سادہ لوح لوگوں کا ایمان و عقیدہ کیوں برباد کرتے ہے جھوٹ بول کر جھوٹا مفہوم بیان کر کے اور کیوں فتنہ و فساد پھیلاتے ہو شرم تم کو مگر نہیں آتی آئے بھی کیسے شرم و حیاء باقی ہو تو آئے دعا ہے اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے
  6. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  7. 2 likes
    اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
  8. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  9. 2 likes
  10. 2 likes
    اہل خبیث اس طرح کی مبہم جرح جو جھوٹی حسد کینا لوگوں کی پھیلائی ہوئی لوگوں کو دیکھا کر پریشان کرتے ہیں۔ وہابیون کے بڑے ملاوں نے ان بکواسوں کا رد پہلے ہی کر دیا۔ انکے گھر کی گواہی اس طرح کی حسد و کینا کی بنیاد پر پھیلائی گئی باتوں کا رد امام ابن عبدالبر نے کر دیا تھا۔ مزید اگر وہ تنگ کرے اور نہ مانے تو اس وہابی کو اسکے اپنے گھر سے بہت سی شہادتیں دے دینگے جیسی ایک پہلے پیش کر دی گئی
  11. 1 like
    اسلام علیکم تما م اسلامی محفل کے ممبران کا کیا حال ہے اللہ پاک سب کو خوش رکھے آمین
  12. 1 like
    کوئی اور فضیلت مانے یا نہ مانے کوئی لیکن ان کی یہ فضیلت کافی ہے کے نبی پاک صلی الله علیہ وآکہ وسلم کے صحابی ہیں۔۔۔ اور ابن تیمیہ کی یہ بات بلکل غلط ہے۔۔۔ Sent from my iPhone using Tapatalk
  13. 1 like
  14. 1 like
    صاحب حال مرفوع القلم ہوتا ہے یعنی اس پر شریعت قلم نہیں چلاتی مشہور نقاد علامہ ذھبی نے یہی لکھا ہے۔
  15. 1 like
    رد الشمس والی روایت پر غیر مقلدین کے اعتراضات کا مدلل جواب ردالشمس والی مشہور روایت جس میں نبی پاک کے معجزے کا زکر ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے سورج کو واپس پلٹایا اس روایت کی توثیق میں نے جمہور محدثین بشمول امام ابن حجرعسقلانی ، امام بدرالدین عینی، امام طحاوی ، امام قاضی عیاض ، امام جلال الدین سیوطی ، امام مغلطائی الحنفی ، امام ابن حجر مکی ، امام ابو بکر الہیثمی امام شامی ، امام شاہ ولی اللہ محدث ، امام زرقانی سمیت اور کئی محدثین کی توثیق دیکھائی تو ابن تیمیہ اینڈ کمپنی اور دیوبنہ کے پیٹ میں ایسے مروڑ پیدا ہوئے کہ ہر جگہ اسکو ضعیف ثابت کرنے کی کوشیش میں لگے ہیں جبکہ پہلے ابن تییمیہ کی اندھی تقلید میں موضوع سے کم اس پر حکم ہی نہ لگاتے تھے جبکہ یہ روایت بالکل صحیح اور پختہ دلیل ہے نبیؐ کے معجزے کی ۔ جمہور محدثین کی توثیق یہ ہے امام ابن حجرعسقلانی الشافعی شارح بخاری کا ابن تیمیہ اور ابن جوزی کا رد کرنا :۔ الحافظ شیخ الالسلام امام بن حجر عسقلانی الشافعی نے اس روایت کو حسن قرار دیا اور ایک دوسرے طرق کو دلیل قرار دیا کہ یہ روایت نبی کی نبوت کی دلیل ہے اور اس روایت ابن جوزی نے موضوع کہہ کر غلطی کی اور ایسے ابن تیمیہ نے بھی غلطی کی اس کو موضوع قرار دے کر۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری) امام بدرالدین عینی جو شارح بخاری ہیں اور اعظیم محدث کا رد الشمس کو صحیح قرار دینا:۔ امام بدرالدین کہتے ہیں کہ یہ روایت متصل ہے اور ثقات سے مروی ہے اور ابن جوزی کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں جس نے اس میں نقص نکالنے کی کوشیش کی ۔ (عمدتہ القاری شرح صحیح بخاری) امام الحافظ مغلطائی الحنفی:۔ امام مغلطائی فرماتے ہیں کہ ردالشمس والی روایت کو ثقات نے روایت کیا ہے (السرت المصطفیٰ) امام المحدث جلال الدین سیوطی الشافعی :۔ امام جلال الدین سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام طبرانی ، امام ابن مندہ اور امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اسکے بعض طرق صحیح کی شرط پر ہیں (الخصائص الکبریٰ) امام ابو جعفرالطحاوی (امام طحاوی نے رد الشمس کا باب قائم کیا اور اس باب میں دو مختلف طرق سے روایت نقل کی اور توثیق فرمائی ) (شرح مشکل الاثار) امام قاضی عیاض المالکی :۔ز ل، امام قاضی عیاض اس روایت کو دو طرق سے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں روایات صحیح ہیں اور ثقات سے مروی ہیں اور امام طحاوی سے مروی امام احمد بن صالح کا قول نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کے لائق نہیں جو علم حاصل کرنا چاہتا ہو اور وہ اسماء بنت عمیس والی روایت کو حفظ نہ کرے جبکہ اس میں نبوت کی نشانی ہے (الشفاء قاضی عیاض) امام ابو بکر الہیثمی امام ابو بکر الھیثمیؒ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے ابراہیم بن الحسن کے اور وہ بھی ثقہ ہیں ابن حبان نے انکو ثقہ کہا ہے اور فاطمہ بنت علی بن ابی طالب کو میں نہیں جانتا (مجمع الزائد) امام ابن حجر مکی شافعیؒ امام ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ اس روایت کو امام ابو زرعہ نے حسن قرار دیا ہے اور دوسرے محدثین نے بھی انکی تائید کی ہے اور رد کیا ہے انکا جو اسکو موضوع کہتے ہیں (الصوائق المحرقہ) اس کے علاوہ امام زرقانی نے بھی اس روایت کو توثیق کی اور ابن تیمیہ کا رد کیا ۔ ماضی قریب کے اعظیم شیخ و محقق الکوثریؒ نے بھی اس روایت کی توثیق کی اور ابن تیمیہ کے مکڑی کے کمزور دلائل کا مدلل رد فرمایا ، علامہ ابن عابدین الشامی نے بھی اس روایت کی توثیق فرمائی علامہ شاہ عبدالعزیز نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب میں جمہور محدثین اہلسنت کی طرف سے توثیق بیان کی ہے (تحفہ اثنا عشریہ ص 436) اسکے علاوہ اہلسنت کے دو اعظیم محدثین امام جلال الدین سیوطی اور امام ابن یوسف الصالحی نے اس موضوع پر پوری کتاب لکھ کر ردالشمس والی روایت کو صحیح قرار دیا اور ابن تیمیہ کا رد کیا ان دو کتب کے نام یہ ہیں ۔کشف البس فی حدیث رد الشمس ۔مزیل البس فی رد الشمس امام ابو زرعہ اور امام احمد بن صالح نے اس روایت کو صحیح قرار دیا بقول امام قاضی عیاض اسکے علاوہ اور کثیر محققین نے اس روایت کو حسن و صحیح قرار دیا اب بھی کوئی متعصب جو ابن تیمیہ ناصبی کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اس ضیعف یا موضوع قرار دیتا ہے تو وہ اس روایت پر متکلمین کی توثیق کے مقابلے متکلمین ہی سے اس روایت پر جرح مفسر پیش کرے کیونکہ متاخرین میں ابن تیمیہ اینڈ کمپنی نے اس میں نقص نکالے جبکہ اس سے پہلے متکلمین اور بعد والے متاخرین نے اس روایت کی توثیق کی ہے اب آتے ہیں معجم الکیر والی سند پر غیر مقلدین کے اعتراضات کی طرف وہابیہ نجدیہ کی طرف سے اس روایت پر دو راوی جو بشمول جمہور محدثین اور وہابیہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں لیکن کیونکہ بغض اہل بیت اور نبی کے مجعزہ کو ماننے سے انکے پیٹ کے کیڑے ایکٹوو ہو جاتے ہیں تو ان راویوں کو جھوٹا اور معاذاللہ کذاب تک ثابت کرنے کی جھوٹی کوشیش کرنے لگ گئے امام طبرانی نے اپنی معجم الکبیر میں اپنی سند سے اسکو بیان کیا جو کہ یہ ہے حدثنا جعفر ن احمد بن سنان الواسطی ثنا علی بن المنذر ثنا ممد بن فضیل بن مرزوق عن ابراھیم بن الحسن عن فاطمہ بنت علی عن اسماء بنت عمیس بلخ۔۔۔۔۔ اس سند میں ایک راوی فضیل بن مرزوق ہے جو کہ تشیع تھا لیکن ثقہ ، ثبت اور صالح تھا جس کی توثیق ان مندرجہ زیل محدثین نے کی ہے ۱۔ متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں زکر کیا اور کہا کہ غلطی بھی کر جاتا اور عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں ۲۔امام ذھبیؒ نے اسکو الکاشف میں ثقہ لکھا ہے ۳۔امام ذھبیؒ نے میزان الااعتدال میں فضیل بن مرزوق پر جمہور کی توثیق نقل کر کے آخر میں ابن حبانؒ کی جو ہلکی پھلکی جرح ہے اسکا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے جو کہا کہ عطیہ سے موضوع روایت مروی ہے اس سے تو امام ذھبی کہتے ہیں قلت (میں کہتا ہوں )ٌ عطیہ تو خود ضعیف ہے اس سے یعنی عطیہ کی روایات کی وجہ سے فضیل بن مرزوق پر کوئی اعتراض نہیں آتا ۴۔امام عجلیؒ نے فضیل بن مرزوق کوالثقات میں درج کیا اور کہ یہ ثقہ جائز الحدیث اور سچا تھا اور تشیع تھا ۔ ۵۔امام ابن معین الحنفیؒ نے بھی فضیل بن مرزوق کی توثیق کرتے ہوئے اسکو ثقہ گردانہ ہے ۔ یاد رہے کہ وہابیہ ابن معین سے اسکو ضعیف ثابت کرتے ہیں جبکہ امام ابن معین سے اسکی توثیق بھی ثابت ہے لہذا جرح ساقط ہوئی ۶۔امام ابن شاھینؒ نے فضیل بن مرزوق کو تاریخ الثقات میں زکر کرتے ہوئے ثقہ کہا ہے ۷۔امام ابن حجر عسقلانی نے تو جمہور محدثین سے اسکو ثقہ ثابت کرتے ہئے مندرجہ زیل محدثین سے توثیق لکھی جن کے نام یہ ہیں امام شافعی ، امام ابن ابی حاتم امام ابن عینہ امام امام احمد بن حبنل امام ابن عدی امام ابن شاھین امام ابن حبان وغیرہ ہیں اور اس پر جرح کی ہے امام نسائی نے اور وہ متشدد ہیں اب آتے ہیں اس میں تشیع ہونے والے مسلے پر اصول جرح و تعدیل کے اہل علم لوگوں کو معلوم ہے کہ متقدمین میں تشیع سے مراد وہ لوگ ہوتے تھے جہ اہل بیت کا زکر زیادہ کرتے اور حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دیتے اور ہر جنگ کے معاملے میں حضرت علی کو حق مانتے تھے اور بس تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں لکھا کہ متقدمین میں تشیع سے مراد ایسے لوگ جو محض شیخین کے ساتھ حضرت علی کو عثمان بن عفان پر ٖفضیلت دیتے اور بعض حضرت علی ؓ کو نبی پاک کے بعد سب پر فضیلت دیتے وہ بہت نیک ، صالح اور متقی پرہیزگزار تھے اور ایسا عقیدہ تو تابیعن اور تبع تابعین میں بہت سے لوگوں کا تھا تو فقط اسکی وجہ سے انکی روایت کو ترک نہیں کیا جا سکتا البتہ جب تک وہ اپنے عقائد کا داعی نہ ہو اور متکلمین سے تشیع سے مراد رافضی ہے جو کہ آج کے شعیہ ہیں انکی روایت کسی بھی حال میں منظور نہیں تو فضیل بن مرزوق خیر القرون کا راوی ہے اور اس کو تشیع متقدمین نے کہا ہے جیسا کہ ابن معین ، امام نسائی وغیر نے اور تبھی اسکو سچا جائز الحدیث اور ثقہ حجت قرار دیا وہابیہ کا دوسرا اعتراض کہ شیعہ کی روایت قبول نہیں ہوگی یہ والی کیونکہ اس میٰں حضرت علی کی شان بڑھ رہی ہے اور تشیع علی کی شان میں روایتیں گھڑہتے تھے الجواب : ان علمی یتیموں کو یہ بھی معلوم نے کہ ایک راوی جب تمام محدثین کے اتفاق سے ثقہ ہے تو تب اسکی روایت کیوں نہ قبول کی جائے گی ؟؟ جبکہ روایت گھڑہنے والا راوی کذاب ہوتا ہے اور اس روایت میں حضرت علی کی شان معاذاللہ نہ خلفائے راشدین سے افضل ثابت ہو رہی ہے نہ ہی نبی پاک سے ، بلکہ اس میں تو حضرت محمدؐ کا معجزہ ثابت ہو رہا ہے جو کہ انکی شان کو بڑھا رہا ہے اور نبوت کی نشانی ثابت کر رکا ہے تبھی امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ابن تیمہ و جوزی کا رد کرتے ہوئے لکھا کہ اسکی اسناد حسن ہیں اور ابن تیمیہ نے غلطی کی خطائی کھائی اور ایسے ابن جوزی نے اسکو موضوع کہہ کر دوسرا راوی جس کو تشیع ثابت کر کے سادہ لوگوں کو یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ رافضی کی روایت قبول نہیں جبکہ اوپر امام ذھبی اور امام ابن حجر سے متقکلمین اور متقدمین سے تشیع کی تشریح ثابت کر دی اور اگر اس پیمانے کو رکھ لیا جائے کہ ہر تشیع کی روایت قبول نہیں ہوگی تو پھر بخاری میں ۴۵ سے زیادہ راوی تشیع بیٹھے ہیں اور امام حاکم تشیع تھے اور امام عبدالرزاق امام بخاری کے دادا استاد بھی تشیع تھے لیکن اتنے برے کبیر محدث تھے وہابیہ کو چاہیے کہ انکی ساری کتب کو رد کر دیں خیر دوسرا راوی جس کا نام علی بن المنذر ہے اسکی توثیق ۔امام ابن حبان نے الثقات میں درج کیا ۲۔امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اسکی توثیق کی اور مندرجہ زیل محدثین سے اسکی توثیق نقل کی ہے ا امام نسائی نے کہا ثقہ حجت ہے تشیع ہے امام دارقطنی نے کہا اس میں کوئی حرج نے ہے امام ابن ماجہ نے کہا کہ اکثر کے نزدیک حجت ہے امام ابن ابی حاتم نے کہا کہ ثقہ یعنی حجت ہے اس راوی پر تو کسی ایک امام نے بھی جرح نہیں کی بلکہ بالاتفاق یہ ثقہ حجت راوی ہے تو پھر اس وہابیہ نجدیہ کا اسکو تشیع سے حدیث گھڑنے والا راوی بنانا انکی جہالت اور بغض نبی ہی ہو سکتاہے (نوٹ ان تمام حوالاجات کے اسکین نیچے موجود ہیں ) دعا گو رانا اسد فرحان الطحاوی خادم حدیث ۱۴ جون ۲۰۱۸
  16. 1 like
  17. 1 like
  18. 1 like
    Imam al-Bayhaqi (rah) has also reported another version of the above narration through a different channel of transmission. وقد أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين بن فنجويه الدينوري بالدامغان ثنا أحمد بن محمد بن إسحاق السني أنبأ عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ثنا علي بن الجعد أنبأ بن أبي ذئب عن يزيد بن خصيفة عن السائب بن يزيد قال كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام Sa'eeb bin Yazeed who said: "In the time of Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him), they would perform “20 rak'ahs” (Tarawih) in the month of Ramadan. He said (also): And they would recite the Mi'in, and they would lean on their sticks in the time of Uthman ibn Affan (Allah be pleased with him), from the discomfort of standing." [Bayhaqi Sunan al-Kubra Volume 002, Page No. 698-9, Hadith Number 4617] Imam al-Nawawi said: 'Its Isnad is Sahih'. (بإسناد صحيح) [Al-Khulasa al-Ahkam, Hadith Number 1961] نجدیوں کی اپنے گھر کی دلیل ٢٠ رکعت تراویح خلفائے راشدین کے زمانے سے چلی آرہی ہیں ... لگاؤ
  19. 1 like
    أَمَا عَلِمْت أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ فَاطِمَةَ زَوْجَتُك فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. (رد المحتار: ج6 ص243) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا تھا: (اے علی!) فاطمہ دنیا میں بھی تمہاری بیوی ہے اور آخرت میں بھی تمہاری بیوی ہے۔ یہ بعینہ ویسی دلیل ہے جیسی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماقبل میں گزری ہے جس میں نکاح کا باقی رہنا ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کا یہ ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اپنی بیوی کو غسل دینا یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام رواج اس وقت یہ نہیں تھا۔ مشہور فقیہ و محقق علامہ ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں: فَادِّعَاؤُهُ الْخُصُوصِيَّةَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَذْهَبَ عِنْدَهُمْ عَدَمُ الْجَوَازِ ـ. (رد المحتار: ج6 ص243) ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنی خصوصیت کا دعویٰ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت صحابہ کے ہاں بیوی کو غسل دینا ناجائز شمار ہوتا تھا۔ (اسی لیے تو حضرت ابن مسعود نے اشکال کیا اور حضرت علی نے جواباً اپنی خصوصیت کا ذکر فرمایا) معلوم ہوا کہ اس دور میں خاوند اپنی بیویوں کو غسل نہیں دیتے تھے۔ مشہور عالم علامہ ابن عبد البر (ت463ھ) بھی اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لأن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها. (التمہید: ج1 ص380) ترجمہ: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔ ثابت ہوا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی )بشرط ثبوت( خصوصیت تھی، عام رواج ہرگز نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج5 ص232) دوم: یہ کہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905) سوم : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ:”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ) جب روایات اس سلسلے میں متعارض ہیں تو اس واقعے پر کسی شرعی مسئلے کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔ ثانیاً..... بعض محققین نے یہ تسلیم کرنے کی صورت میں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ہے، اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غسل دینے سے مراد غسل کے سامان کا انتظام کرنا تھا، اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن ہی نے دیا تھا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهِ۔ (رد المحتار: ج6 ص243) عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے سفیان ثوری رحمہ اللہ (ت161ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ امام سفیان ثوری فرماتےہیں: ونقول نحن لا يغسل الرجل امرأته لأنها لو شاء تزوج أختها حين ماتت ونقول تغسل المرأة زوجها لأنها في عدة منه. (مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 حدیث نمبر6145) ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد (نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ) یہ جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے (جو کہ نکاح کے آثار کا نتیجہ ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ آپ کی بیویاں رہی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ت279ھ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت لائے ہیں: عن عائشة : أن جبريل جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة. (جامع الترمذی: حدیث نمبر3880) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علیہ السلام کی وفات کے باوجود آپ کا ان سے نکاح باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا۔
  20. 1 like
    یہ اجمالی جواب ہے کہ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی کا ہم عقیدہ ہوں۔ جلیل القدر محدث امام سیوطی نے شرح الصدور میں لکھاہے کہ:۔ 64 - وَقَالَ الشَّيْخ عبد الْغفار القوصي فِي التَّوْحِيد كنت عِنْد بَيت الشَّيْخ نَاصِر الدّين وَالشَّيْخ بهاء الدّين الأخميمي قد ورد فَأخذت فروته على كَتِفي فَأَخْبرنِي أَن خَادِم الشَّيْخ أبي يزِيد كَانَ يحمل فروته على كتفه وَكَانَ رجلا صَالحا فَجرى الحَدِيث فِي مساءلة مُنكر وَنَكِير فِي الْقَبْر فَقَالَ ذَلِك الْفَقِير وَكَانَ مغربيا وَالله إِن سألاني لأقولن لَهما فَقَالُوا لَهُ وَمن يعلم ذَلِك فَقَالَ أقعدوا على قَبْرِي حَتَّى تسمعوا فَلَمَّا مَاتَ المغربي جَلَسُوا على قَبره فَسَمِعُوا المساءلة وسمعوه يَقُول أتسألاني وَقد حملت فَرْوَة أبي يزِيد على عنقِي فَمَضَوْا وتركوه ایک میت نے نکیرین سے کہا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہوحالانکہ میں تو بایزید کا فروہ بردار ہوں،تونکیرین اُسے چھوڑکرچلے گئے۔ امام سیوطی پرزبان چلاؤ۔
  21. 1 like
    Yeh farq Hadith ki tabeer ka heh ... yehni jab RasoolAllah kay pass Jibrael e ameen tashreef farma huway toh aap par khauf tari huwa ... agar pehlay hi pata thah Nabi hen toh khauf toh phir drama huwa ... yeh aik itraz heh Allamah Saeed Ahmad Assad sahib ka joh maqool heh ... us ki islah mein likha thah kay agar la-ilmi wala nazria rakh leeya jata toh alam e arwah mein Nabi bi mantay aur pedaish say chalees saal ki umar taq bi Nabi man letay ... nabuwat kay salb honay ka nazria nah rakhtay aur is buray nazriyeh say bach jatay. Rahi baat Nabi ko ilm honay ki toh Nabi ko pedaish say hi pata hota heh kay woh Nabi heh ... Isa alayhis salam ka farmana mujjay Allah nay Rasool banaya heh aur kitab deeh heh aur woh bi abhi chand dinoon ki pedaish kay baad ... halan kay haqiqat mein unneh Nabuwat ka ilaan karnay ka hukum aur Injeel 30 saal ki umar mein huwa ... magr izhar pehlay kar deeya aur ilm pehlay say hi thah ... Asal mein joh itrazat in hazrat kay hen ... in ki tabeer Ahadith ghalat heh. Yehni RasoolAllah par khauf tari ho gaya jab Wahi nazil huwi. Halan kay iqra bismi rabbi kallazi ... pehli ayaat nazil huwi. Kia Allah nay taruf bi nahin karwaya ... police walay bi atay hen aur batatay hen ham police walay hen aur tooh chor heh is leyeh pakr rahay hen. Allah nay Jibraeel ameen ko beja jah Wahi deh aah ... aur jissay wahi deni heh ussay khabr bi nahin kay woh Nabi heh. Yeh esay heh jesa sari zindgi aik banda school teacher ho aur phir us ko wafad beja jahay aur kaha jahay bachoon ko science-dan bana ... istera kohi nahin karta ... kam say kam banda taruf toh kartwata heh ... Allah joh sab hikmatoon wala us nay taruf bi nahin karaya kay aye Muhammad tum kon ho ... pehlay hi iqra bismi rabbi kallazi ... Mera Rabb aisi bey-hikmati say paak heh ... agar pehlay nah hota toh hikmatoon wala Rabb pehlay ayaat nazil farmata ... Allah nay aap ko Rasool chun leeya aur da'ee e ilahi banaya aur khushkhabri denay wala aur darnay wala aur Shahid. Keun kay pehlay hi maloom thah kay Nabi hoon is leyeh Allah (subhanahu wa ta'ala) nay iqra bismi rabbi kallazi nazil keeh. Aur joh aap nay bayan ki heh wohi baat mein upar biyan kar aya hoon kay sirf ilaan aur tableegh ka hukum jari nahin huwa thah.
  22. 1 like
    At this age Ameer e Ahle Sunnat still attends weekly program Madani Muzakra which telecasts on Madani Channel live. In this program Ameer e Ahle Sunnat gave answers of different questions asked by the people in the light of Sharia whether they are related to Sharia or with the daily life routine and also guide everyone with kindness.
  23. 1 like
    ترجمانی:اسعد اعظمی.بنارس ڈاکٹر موسیٰ موسوی نجف کے رہنے والے اور ایک بڑے شیعی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ۱۹۳۰ء ؁ میں پیدا ہوئے، خالص شیعی خاندان اور شیعی ماحول میں رہنے کے باوجود موجودہ شیعیت سے وہ بیزار رہتے تھے، وہ شیعہ اور حقیقی تشیع یا شیعیت کے مابین فرق اور بڑا فاصلہ مانتے تھے۔ اس لیے انہوں نے موجودہ تشیع کی اصلاح کی تحریک چلا رکھی تھی، انہوں نے ’’الشیعۃ والتصحیح: الصراع بین الشیعۃ والتشیع‘‘ کے نام سے عربی زبان میں ایک مختصر کتاب لکھی اور رائج الوقت شیعی عقائد پر نقد کرتے ہوئے ان میں اصلاح کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ان کے دادا مشہور شیعی زعیم امام اکبرسید ابو الحسن موسوی نے ابتداء یہ تحریک شروع کی تھی، اور تمام تر مخالفت کے باوجود اسے جاری رکھا تھا، ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے بھی اس کام کو اور منظم کیا اور اس مقصد کو آگے بڑھایا۔ اس کتاب میں ڈاکٹر موسیٰ نے ’’ضرب القامات فی یوم عاشوراء‘‘کے عنوان سے پانچ صفحات میں گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے تعزیہ داری اور ماتم ومرثیہ خوانی وغیرہ کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد لکھاہے کہ: ہمیں تعیین کے ساتھ یہ معلوم نہیں کہ ایران وعراق کے شیعی علاقوں میں عاشوراء کے دن سینہ کوبی اور زنجیروں سے ضرب لگانے کی شروعات کب ہوئی۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دسویں محرم کو شہادت حسین کے غم میں سروں پر تلواریں مارنے اور اپنے کو لہولہان کرنے کی رسم ہندوستان سے ہی ایران وعراق میں آئی ہے، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب انگریز ان ممالک پر حکومت کررہے تھے، انگریزوں ہی نے شیعوں کی جہالت، سادہ لوحی، اور امام حسین سے ان کی غلو آمیز محبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو سر پھٹول کی تربیت دی۔ ماضی قریب تک تہران اور بغداد میں موجود برطانوی سفارت خانے ان حسینی جلوسوں کی مالی امداد کرتے تھے جو سڑکوں اور گلی کوچوں میں اس بھیانک منظر کے ساتھ نمودار ہوتے تھے، انگریز اپنی سامراجی سیاست کے تحت اس وحشیانہ کاروائی کو اس لیے بڑھاوا دے رہے تھے تاکہ برطانوی عوام اور سامراج مخالف اخبارات و جرائد کو ہندوستان اور دیگر اسلامی ممالک پر اپنے قبضہ کا جواز پیش کریں، اور ان ممالک کے باشندوں کو ایسی وحشی قوم کی شکل میں پیش کریں جسے ایک ایسے سرپرست کی ضرورت ہے جو اسے جہالت اور درندگی کے دلدل سے نکالے، چنانچہ عاشوراء کے دن جب سڑکوں پر ماتمی جلوس چلتے اور اس میں شامل ہزاروں لوگ زنجیروں سے اپنی پیٹھوں پر ضرب لگاتے اور خون میں لت پت ہوتے، اپنے سروں کو ڈنڈوں اور تلواروں سے لہولہان کرتے تو ان تمام مناظر کی تصویریں انگریزی او ریورپی اخبارات میں شائع کی جاتیں، اور سامراجی آقا بڑی خوبصورتی کے ساتھ یہ دلیل پیش کرتے کہ دیکھو ہم محض انسانی فریضہ کی ادائیگی کے لئے ان ممالک میں ڈیرہ ڈالے ہیں جن کے باشندوں کی یہ تہذیب ہے، ان قوموں کو تمدن اور ترقی کی راہ پر لگانے کی خاطر ہمارا قیام وہاں ضروری ہے۔ ڈاکٹر موسیٰ موسوی مزید لکھتے ہیں: بیان کیا جاتا ہے کہ عراق پر برطانوی قبضے کے زمانہ میں اس وقت کے عراقی صدر یاسین ہاشمی عراق سے برطانوی حکومت کے خاتمہ کے متعلق گفت و شنید کے لیے جب لندن گئے تو انگریزوں نے ان سے کہاکہ ہم تو عراق میں محض عراقی عوام کی مدد کے لئے ہیں تاکہ وہ ترقی سے بہرہ ور ہو اور وحشت وبربریت سے باہر نکلے۔ اس بات سے یاسین ہاشمی بھڑک اٹھے اور ناراض ہوکر مذاکرات والے کمرے سے باہر نکل آئے، مگر انگریزوں نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ان سے معذرت کی اور بصد احترام ان سے درخواست کی کہ عراق سے متعلق ایک دستاویزی فلم مشاہدہ کریں، ان کو جو فلم دکھائی گئی وہ نجف، کربلا اور کاظمیہ کی سڑکوں پر چلنے والے حسینی (ماتمی) جلوسوں کی تھی جن کے لاٹھیوں اور زنجیروں کی مار دھاڑ کے خوفناک اور نفرت انگیز مناظر فلمائے گئے تھے۔ گویا انگریز عراقی صدر سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ ہی بتائیں معمولی تہذیب و تمدن والی بھی کوئی قوم اپنے آپ ایسا کر سکتی ہے؟ ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ شام کے ایک بڑے شیعہ عالم سید محسن امین عاملی نے ۱۳۵۲ ؁ھ میں اس ماتمی حرب و ضرب اور اس سے متعلقہ اعمال کو حرام ٹھہرایا اور اپنی بات کو انہوں نے بڑی صراحت اور بے مثال جرأت کے ساتھ کہا اور شیعوں سے اس طرح کے کاموں کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر علماء اور مذہب کے قائدین نے ان کی سخت مخالفت کی اور اپنے ساتھ بے لگام عوام کو بھی ملالیا۔ ان کی اصلاحی کوششیں خاک میں ملنے کے قریب تھیں، مگر ہمارے دادا سید ابوالحسن شیعہ جماعت کے اعلیٰ رہنما کی حیثیت سے ان کی اصلاحی تحریک کے مؤید ہوگئے اور ان کے فتویٰ کی مکمل طور سے تائید کا اعلان کیا۔ ان حضرات کی مخالفت ہوتی رہی مگر سید ابوالحسن کے مقام ومرتبہ اور رعب ودبدبہ کی وجہ سے مخالفت کا زور کم ہوا اور عوامی پیمانے پر سید ابوالحسن کے فتویٰ کو مقبولیت حاصل ہوئی اور دھیرے دھیرے ان رسوم میں بڑی کمی آگئی، ہمارے دادا جب ۱۳۶۵ ؁ھ میں وفات پاگئے تو بعض نئی قیادتوں نے ان کاموں پر لوگوں کو دوبارہ ابھارنا شروع کیا، اور دھیرے دھیرے اس میں تیزی آتی گئی، پھر بھی ۱۳۵۲ ؁ھ کے پہلے جیسی پوزیشن پر نہیں لوٹ سکی۔ موسوی صاحب نے اس مقام پر عبرت و موعظت سے پر ایک واقعہ بھی ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ محرم کی دسویں تاریخ کو بارہ بجے دن میں میں کربلا میں امام حسین کے روضہ کے قریب کھڑا تھا، ایک مشہور بزرگ شیعہ عالم بھی میرے قریب کھڑے تھے، اتنے میں ماتم کرنے والوں کا ایک جلوس حضرت حسین پر ماتم کرتے ہوئے تلواروں سے اپنے سروں کو لہولہان کیے روضہ حسین میں داخل ہوا، اس جلوس میں شریک لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں پر خون بہے جارہے تھے، یہ بڑا ہی نفرت آمیز اور رونگٹے کھڑا کر دینے والا منظر تھا۔ پھر ایک دوسرا جلوس بھی آ پہنچا، یہ لوگ بھی زنجیروں سے اپنی پیٹھوں پر ضرب لگا لگا کر لہولہان کئے ہوئے تھے۔ یہ سب منظر دیکھ کر وہ بزرگ شیعی عالم مجھ سے پوچھتے ہیں: کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اوپر مصائب وآلام کے پہاڑ توڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: آپ سن نہیں رہے ہیں؟ یہ لوگ ’’واحسیناہ‘‘ کہہ رہے ہیں، یعنی حضرت حسین کا ماتم کررہے ہیں۔ پھر بزرگ عالم نے دوبارہ فرمایا: ألیس الحسین الآن فی ’’مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘‘؟ کیا حضرت حسین اس وقت قدرت والے بادشاہ (اللہ رب العزت) کے پاس مجلس حق (یعنی جنت) میں نہیں ہیں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے دوبارہ سوال کیا: کیا حضرت حسین اس لمحہ اس جنت میں نہیں ہیں ’’التي عرضہا کعرض السماوات والأرض أعدت للمتقین‘‘ جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے، اور جو متقیوں کے لئے بنائی گئی ہے؟ میں نے کہا: بالکل! ان کا اگلا سوال تھا کہ کیا جنت میں ’’حور عین کأمثال اللؤلؤ المکنون‘‘ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں نہیں ہیں جو چھپے ہوئے (محفوظ) موتیوں کی طرح ہیں؟ میں نے کہا :کیوں نہیں! اس موقع پر وہ لمبی سانس لیتے ہیں اور انتہائی درد بھرے لہجے میں فرماتے ہیں: بربادی ہو ان نادانوں اور کم عقلوں پر، یہ لوگ ایسی حرکتیں کیوں کر رہے ہیں! کیا اس امام کے واسطے کر رہے ہیں جو اس وقت جنت اور نعمت میں محظوظ ہورہے ہیں، ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رہیں گے آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو آمدورفت کر رہے ہیں۔ (یطوف علیہم ولدان مخلدون بأکواب وأباریق وکأس من معین)انتہی۔
  24. 1 like
    کسی بھی چیز یا کسی بھی کام کرنے سے پہلے اللہ عزوجل کا نام لینےیا اس کا کلام پڑھنے سے اس میں برکت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ عزوجل کا نام مبارک برکت والا ہے۔
  25. 1 like
    The post Powerful Speech by QAIDE AHLE SUNNAT SHAH AHMAD NOORANI SIDDIQUI RA appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  26. 1 like
    Assalamo Alikukm all.........sweet and dear madani sisters..................... http://library.faizaneattar.net/Books/index.php?id=235 madani tuhfa Risaley ki zaror study fermain...........Allah Azzawajal ap key sadqey mujey bi Madani i=namat pr amal ki tofeeq ata fermay ameen....................
  27. 1 like
  28. 1 like
    behn apka masla taqreban her ghar ka masla hay. apko kuch sabr kerna hoga or kuch koshish. isi terha ke aik topic men aik jawab post kya tha. ap yeh try keren. or sath dua zaror keren. dua momin ka hathyaar hai.
  29. 1 like
    کتاب ارغام ھاذر میں بدمذہبوں کے مشہور اعتراضات کا جواب موجود ہے قارئین اگر اِسے تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل پڑھ لیں تو فائدہ ہوگا۔
  30. 1 like
    جناب سلفی صاحب فقیر پہلے عرض کرچکا ہے کہ آپ اس کی سند امام نووی علیہ الرحمہ سے پوچھیں، کیونکہ یہ عبارت ہم نے نہیں لکھی،بلکہ امام نووی نے لکھی ہے۔ ہم نے جو پوچھا ہے کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے یہ جو عبارت لکھی ہے کیا یہ قرآن وحدیث کے خلاف شرکیہ عقاید والی عبارت لکھی ہے؟اور کیا یہ جھوٹ لکھ دیا ؟ دوسری بات نواب صدیق حسن خاں وھابی نے جو شعر لکھا ،ہم اس کا مطلب نثر میں لکھ دیتے ہیں کہ اے قاضی شوکانی المدد ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواب صدیق حسن خاں وھابی نے یہ کہہ کر شرک کیا اور کیا وہ شرک کے مرتکب ہوۓ؟یا ایسا کہہ کر موحد ہی رہے ؟ کیا نواب صدیق حسن خاں عالم دین نہیں تھےاور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا کہنا شرک ہے ؟
  31. 1 like
    salam AalaHazrat ne aik pora risal likha hai kay (البدورالاجلۃفی امورالاھلۃ ۱۳۰۴ھ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث ثبوت ہلال کے طریقے ye teen 3 rasial hai hai AlaHazrat kay in mein khoob jawab majood hai
  32. 1 like
    Abu. Izrael: Ye Aap logoon ki Ghalat Fahmi. Apni Usool Ki kitaboon say Sirf Quran Pak ki ayaat per apna Emaan hi sabit kardo ye bhi Bari baat hay.
  33. 1 like
    ویسے قادری بھیا یہ کیا فارمولا ہے ہم لنکس دیں تو وہ حذف ہوجائے اور خود دو تو کوئی حرج نہیں محدث فورم اور اردو مجلس میں کیا فرق ہے ذرا واضح کردو ویسے اوپر پوری عبارت اردو مجلس اور محدث فورم کی ہی ہے عجیب منطقیں ہیں ایڈمنسٹریشن کی؟
  34. 1 like
    Noor-ul-Iman [Lafzi Tarjma Kanz-ul-Iman] پارہ اول http://www.mediafire.com/view/x74n3pzez1f6bbj/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84.pdf
  35. 1 like
    Wahabi apnay paish karda tarjumay ko maan kar phass gya!!! Blue Circles per ghoor karain........Sabit howa kay Quran mai jahan Nabi-e-Karim ke leay Shahid aya hai wahan matlab Hazir O Nazir he hai.
  36. 1 like
    Har Kafir Badmazhab Hai Lakin Har Badmazahb Kafir Nahi.... Kafir...Zaruruyat E Deen K Munkir Ko kahete Hai Bad mazhab ...Zaruriyat E Ahele Sunnat K Munkir Ko Kahete Hai
  37. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  38. 1 like
    KHAOF NA RAKH RAZA ZARA TU TO HAI ABD E MUSTAFA TERE LIYE AMAAN HAI TERE LIYE AMAAN HAI
  39. 1 like
    Al Bahru Ala Wal Mowju Tagha Man Baykas O Tufaa Hosh Ruba Manjdhaar Me Hu Bigdi Hai Hawa Mori Nayya Paar Laga Jaana
  40. 1 like
  41. 1 like
    سورۃ الکھف میں کل ۱۱۰ آیات ہیں۔
  42. 1 like
    جزاک اللہ خیراً کثیر توحیدی بھائی اگر جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السّلام کی پیدائش کی وجہ سے "یومِ عید" ہوسکتا ہے تو اور اسے کوئی بھی غلط نہیں کہہ سکتا تو پھر سارے نبیوں کے سردار، سب سے افضل و اعلیٰ اللہ کے پیارے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم جس دن دنیا میں تشریف لائے وہ "یومِ عید" کیوں نہیں ہوسکتا۔ اللہ عزّوجل صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  43. 1 like
    جزاک اللہ خیراً کثیر عثمان رضوی بھائی برھان بھائی، یہ آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اِن کے دل غبار آلود ہیں اور یہ غبار حسد، کینہ اور بغض وغیرہ کا ہے، پھر اِن کو یہ آیات کیسے سمجھ آئیں گی۔ اسی لیئے تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی اطلاع عطا فرمادی کہ ( مفہوم ) " قرآن پڑھیں گے لیکن اِن کے حلق سے نہ اُترے گا"
  44. 1 like
    Altabsheer Be Radd-it-Tahzeer & Altabsheer Par Etrazat k Jwabat Az Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi رحمت اللہ علیہ: Altabsheer-full.pdf RAR FORMAT AlTabsheer-1.rar AlTabsheer-2.rar AlTabsheer-3.rar Nazria-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Syed Muhammad Madani Miyan Ashrafi Jeelani : NazriaKhatmeNabowatAurTahzeerunnaas.pdf التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسلہء تکفیر از علامہ غلام علی قادری اشرفی رحمت اللہ علیہ Altanweer-full.pdf Altanweer Different Print Al-Tanweer.pdf RAR FORMAT Altanweer-1.rar Altanweer-2.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Snaullah Naqshbandi Mujaddidi : Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Molvi Qasim NaNotvi Ka Jurm (Az Kitab: Hassam-Ul-Haramain k 100 Saal) Az Dr.Altaf Hussain Saeedi Molvi Qasim Nanotvi Ka Jurm.rar Abtal-e-Aghlat-e-Qasmia . http://www.nafseisla...glatQasmiya.htm Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaddisana Nazar Az Allama Manzir-Ul-Islam AlAzhari : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhadisana Nazar.rar Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqiqana Nazar Az Ghulam Naseer-ud-Deen Sialwi : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqqiqana Nazar.rar Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar Az Allama Badr-Ud-Deen Ahmad Qadri رحمت اللہ علیہ: Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar.rar Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas Az Allama Abd-Ul-Hakeem Akhtar ShahJahan Poori رحمت اللہ علیہ : Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas.rar Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Shareef-Ul-Haq Amjadi رحمت اللہ علیہ : Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Az Hazrat Allama Peer Hafiz Sultan Mahmood Daryawi : Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Qadri AbdurRzaq Bhtralwi Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Tahzeer-Un-Nas K Difa Ka Ta'qub Az Muhtram Khaleel Ahmad Rana Tahzeer-un-Nas k Difa Ka Ta'qub.rar
  45. 1 like
    Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-1 Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-2 Alahazrat aor Radd-e-Qadianiat.pdf Radd-E-Qadianiat Par Imam Ahmad Raza Ki Chand Tasaneef Khatm-e-Nabuwat K Paasban Khatm-e-Nabuwat K Pasban.pdf Khatm-e-Nabuwat Aor Radd-e-Mirzaiyat Par Ulama-e-Bareli Ka Kirdar http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63068 Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi رحمت اللہ علیہ Ki Tasneefat Tahfuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi Ki Tasneefat.rar Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom 1Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom.rar Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh.rar Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan 01Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan.rar Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla.rar Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar.rar Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan.rar 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din.rar 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadiniat Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi Aor Radd-e-Qadiniat.rar Ameer-e-Millatرحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ameer-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwiرحمت اللہ علیہ Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwi.rar Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwi.rar Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban.rar Khawja Ghulam Murtzaرحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Khawja Ghulam Murtza Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat.rar Molana Enayat-Ullah-Chishti رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Molana Enayat-Ullah-Chishti Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mujahid-e-Millat رحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Mujahid-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azamرحمت اللہ علیہ ka Kirdar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azam ka Kirdar.rar Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah رحمت اللہ علیہ Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhariرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhari.rar Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheedرحمت اللہ علیہ Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheed.rar Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat.rar Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi.rar Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat Shah Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat SHah.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azamرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azam.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasanرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasan.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Shaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazarwiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor SHaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazrwi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barni.rar Tajdar-e-Golraرحمت اللہ علیہ Aor Marka-e-Qadianiat Tajdar-e-Golra Aor Marka-e-Qadianiat.rar Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Munazray Aor Tahreeri Khidmaat Shah Ahmad Noorani Munazray Aor Tahreeri Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani رحمت اللہ علیہ Aor Inki Rabta Muhim Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani Aor Inki Rabta Muhim.rar
  46. 1 like
  47. 1 like
    the translierated version. Bismillahir Rahmanir Raheem LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK UL QUDOOS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ UL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAUF UR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KAREEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL WAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL LATEEF IL KHABEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL SAMAD IL MA'BOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IL WADOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAKEEL IL KAFEEL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAQEEB IL HAFEEZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL DAEM IL QAEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUHI UL MUMEET LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYUL QAYYUM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL BAARI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MOMIN IL MUHAIMIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HASEEB IS SHAHEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HALEEM IL KAREEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL AKHIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ZAHIR IL BAATIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL MUTA'AL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAZI IL HAJAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL REHMAN IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ARSHIL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBI AL AALA LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BURHAN IL SULTAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL BASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL QAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN ID DAYYAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL AKBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL ALLAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAFI IL KAAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AZEEM IL BAQI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMAD IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABIL ARDE WAS SAMAAEY LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL MAKHLOOK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA MAN KHALAQ AL LAILE WAN NAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IR RAZZAQ LA ILAHHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FATTAH IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL GHANI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEM IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL MULKE WAL MALAKOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL IZZATE WAL AZMATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL HAIBATE WAL QUDRATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL KIBRIYA E WAL JABAROOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALIM IL GHAIB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAMEED E WAL MAJEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAKEEM IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALAM IS SALAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IN NASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IR RAHMAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAREEB IL HASANAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SABOOR IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IN NOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL MOJIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FADIL IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL JALAL IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIS IL MUKHLIS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SADIQ IL WAED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAQ IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL QUWATIL MATEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL AZIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALLAM IL GHOYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYIL LA YAMOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUSTA'AN IL GHAFOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ALAMEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR RAHEEM IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL WAHAB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL MUKTADIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL GHUFRAN IL HALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MULK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BARI IL MUSAWWIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ IL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL JABBAR IL MUTAKABBIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN ALLAHI AMMA YASI FUN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QUDOOS IS SUBOOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL MALAEKATI WAR ROOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL ALA E WAN NA'AMA E LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MAQSOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HANNAN IL MANNAN LA ILAHA ILLAL LAHO ADAM SAFI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO NOOH E NAJI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO IBRAHIM KHALIL ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO ISMAEL ZABI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUSA KALEEM ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO DAWOOD KHALIFA TULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO EISA ROOH ALLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUHAMMAD UR RASOOL ALLAH WA SALLAL LAHO ALA KHAIRI KHALKIHI WA NOORI ARSHI HI AFDALIL AMBIYA HI WAL MURSALEENA HABEEBINA WA SAYYIDINA WA SANADINA WA SHAFI INA WA MAULANA MUHAMMADIN WA ALA AALIHI WA ASHAABIHI AL MUNTAJABEENA BI REHMATIKA YA AR HAMAR RAHEEMIN
  48. 1 like
  49. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.
  50. 1 like