Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 08/08/2018 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  3. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  6. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  7. 1 like
    نبی پاکﷺ اپنی قبر مبارک میں اپنی امت کے اعمال پر مطلع ہوتے ہیں اس مشہور روایت کی تحقیق! امام البزار اپنی مسند میں اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ [ص:309]، فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں اس روایت پر متعدد متفقہ جید محدثین کی توثیق درج ذیل ہے ۱۔امام ابن عراقیؒ اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتےہیں : وروی ابو بکر البزار فی مسندہ باسناد جید عن اب مسعود ؓقال رسولﷺ بلخ۔۔۔۔ (کتاب طرح التثریب فی شرح التقریب امام ین الدین ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین االعراق ، ص ۲۹۶) ۲۔ امام جلال الدین سیوطیؒ امام سیوطی اسی روایت کے بارے فرماتے ہیں اوخرج البزار بسند صحیح من حدیث ابن مسعود مثله (الخصائص الکبریٰ ص ۴۹۱) ۳۔ امام ہیثمیؒ امام الحافظ نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں : (باب مایحصل لا مته ﷺمن استغفار بعد وفاتة) یعنی نبی پاکﷺ کا بعد از وصال استغفار کرنا اپنی امت کے لیے پھر اس روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کر کے فرماتے ہیں رواہالبزار ورجالہ رجال الصحیح (مجمع الزوائد ص ۹۳) ۴۔امام سمہودیؒ امام سمہودی اس روایت کو نققل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں: الحدییث وللبزار برجال الصحیح عن ابن مسعود بلخ۔۔۔ (خلاصہ الوافا با خبار دارالمصطفیٰﷺ ص ۳۵۳) اتنے بڑے جید محدثین کی تائید حاصل ہونے پر اس روایت کے رجال کی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہم اس کی سند پر تحقیق پیش کر کے ان جید محدثین کی تائید کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی : يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، یہ امام بخاری سمیت صحاح ستہ کے اماموں کے شیخ ہیں امام ابن ابی حاتم انکا ترجمہ یوں نقل کرتے ہیں: 969 - يوسف بن موسى القطان الكوفى، وأصله اهوازي روى عن جرير بن عبد الحميد وحكام بن سلم ومهران بن ابى عمر العطار وأبي زهير عبد الرحمن بن مغراء وسلمة بن الفضل وعبد الله بن ادريس ومحمد بن فضيل ووكيع وعبد الله بن نمير روى عنه أبي وأبو زرعة. نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال: هو صدوق (الجرح والتعديل لا ابن ابی حاتم برقم ۹۶۹) امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ان سے میرے والد اور امام ابو زرعہؒ نے روایت کیا ہے اور میرے والد (امام ابی حاتمؒ) فرماتے ہیں یہ صدوق تھے امام خطیب بغدادیؒ انکے بارے میں فرماتے ہیں : وكان ثقة (تاریخ بغداد ج۱۶، ص ۴۵۴) مختصر یہ صحیح بخاری کا راوی ہے متفقہ ثقہ ہے سند کا دوسرا راوی: عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ 340 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد أبو عبد الحميد المكى مولى الازد روى عن معمر وابن جريج سمعت أبى يقول ذلك، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول ابن علية عرض كتب ابن جريج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فأصلحها له فقلت ليحيى ما كنت اظن ان عبد المجيد هكذا قال يحيى كان اعلم الناس بحديث ابن جريج ولكن لم يكن يبذل نفسه للحديث، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة (نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سئل يحيى بن معين وانا اسمع - عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة - 3) ليس به بأس نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال ليس بالقوى يكتب حديثه كان الحميدى يتكلم فيه. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم برقم ۳۴۰) امام ابن ابی حاتم امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالمجید صالح تھا پھر فرمایا دو مرتببہ اسکوثقہ کہہ کر توثیق کی ہے اسکے بعد ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کے میرے والد انکو لیس بالقوی قرار دیتے اور اسکی حدیث لکھی جائے اور اس میں کمزوری ہے یاد رہے امام ابن معین الحنفیؒ امام ابو حاتم وغیرہ سے بڑے محدث اور متشدد تھے تو انکی توثیق راجع قرار پائے گی 3435- عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه وابن جريج وأيمن بن نابل وعنه كثير بن عبيد والزبير بن بكار قال أحمد ثقة يغلو في الارجاء وقال أبو حاتم ليس بالقوي توفي 206 م (الکاشف امام ذھبی ) امام ذھبی فرماتے ہیں اسکو امام احمد نے ثقہ فرمایا اور یہ مرجئی تھا اور ابو حاتم نے اسکے قوی ہونے کی نفی کی ہے اسکے علاوہ امام ذھبی کے نزدیک یہ راوی معتبر اور صدوق ہے جیسا کہ وہ اس راوی کو اپنی کتاب : ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں زکر کیا ہے اور اس کتاب کے مقدمے مین انہوں نے لکھا ہے کہ اس میں ان راویان کے نام ہے جو صدوق اور حسن الحدیث ہیں لیکن ان پر جروحات بھی ہیں (لیکن راجع یہی ہے کہ وہ راوی صدوق و حسن الحدیث ہیں ) 220 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد المدني (م على) : ثقة مرجىء داعية غمزه ابن حبان نیز اسکے علاوہ امام ذھبی میزان الاعتدال میں بھی اسکی توثیق فرماتے ہوئے کھتے ہیں : 5183 - عبد المجيد بن عبد العزيز [م، عو] بن أبي رواد. صدوق مرجئ كابيه. کہ عبدالمجید صدوق ہے اور مرجئی ہے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اسکی توثیق فرمائی ہے لسان المیزان میں وہ صیغہ (هـ) استعمال کرتے ہوئے اسکی توثیق کی طرف فیصلہ دیاہے 1706 - م4 , (هـ) عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد (2: 648/ 5183). ========= [مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال] رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ): - (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة. - (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه. -ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف. (لسان المیزان برقم ۱۷۰۶) اسکے علاوہ امام ابن حجر نے تقریب میں بھی اسکو صدوق یخطی قرار دیا ہے اور ابن حبان کا اس پر جرح کرنے کو باطل قرار دیا ہے 4160- عبد المجيد ابن عبد العزيز ابن أبي رواد بفتح الراء وتشديد الواو صدوق يخطىء وكان مرجئا أفرط ابن حبان فقال متروك من التاسعة مات سنة ست ومائتين م (تقریب التہذیب بررقم ۵ؤ۴۱۶۰) یعنی عبدالمجید صدوق درجے کا ہے اور یخطی ہے اور ابن حبان نے اس پر متروک کی جرح کر کے حد سے تجاوز کیا اسکی توثیق مندرجہ زیل اماموں نے کی ہے ۱۔امام ابن معین (متشدد) ۲۔امام احمد بن حنبل ۳۔ امام نسائی (متشدد) ۴۔ امام ابو داود ۵۔ امام نسائی ۶۔ امام ذھبی ۷۔ امام ابن حجر نیز یہ راوی طبقہ ثالثہ کا مدلس راوی ہے جسکی روایت عن کے ساتھ ضعیف ہوتی ہے لیکن اسکی شاہد موجود ہے جسکو امام سیوطی نے الخصائص الکبرہ میں با سند صحیح نقل کیا ہے جو کہ مرسل ہے تو اسکی تدلیس والا اعتراض یہاں بےضرر ہے جیسا کہ اس روایت کی دوسری مرسل سند ایسے ہے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ . ترجمہ : حضرت بکر بن عبدللہ المزنی سے روایت ہے،رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 'میری حیات بهی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم حدیثیں بیان کرتے ہو اور تمہارے لئے حدیثیں (دین کے احکام)بیان کیے جاتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ، تمہارا جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر الله کا شکر ادا کرتا ہوں،اور اگر برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔ (الراوي : بكر بن عبد الله المزني المحدث : الألباني - المصدر: فضل الصلاة - صفحة 26 خلاصة الدرجة : جيدة رجالها رجال مسلم . المحدث : محمد ابن عبد الهادي - المصدر: الصارم المنكي صفحة 329 خلاصة الدرجة : مرسل إسناده صحيح ) السيوطي - المصدر: الخصائص الكبرى الصفحة أو الرقم: ٢/٤٩١ خلاصة الدرجة: إسناده صحيح ۔) امام ابن سعد نے بھی مرسل روایت کی ایک اور بے غبار سند بیان کی ہے أخبرنا يونس بن محمد المؤدب، أخبرنا حماد بن زيد، عن غالب، عن بكر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حياتي خير لكم، تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خيرا لكم، تعرض علي أعمالكم، فإذا رأيت خيرا حمدت الله، وإن رأيت شرا استغفرت الله لكم» (طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۴) امید ہے جناب کو اب تدلیس والے اعتراض کا کافی و شافی جواب مل گیا ہے سند کا تیسرا راوی :سفیان الثوری یہ متفقہ ثقہ اور امیر المومنین فی حدیث ہیں امام ذھبی انکا تعارف یوں کرواتے ہیں هو شيخ الإسلام، إمام الحفاظ، سيد العلماء العاملين في زمانه، أبو عبد الله الثوري، الكوفي، المجتهد، مصنف كتاب (الجامع) . (سیر اعلام النبلاء برقم 82) سند کا چوتھا راوی : عبداللہ بن سائب الکندی 303 - عبد الله بن السائب الكندي روى عن زاذان وعبد الله (6) ابن معقل وعبد الله بن قتادة المحاربي روى عنه الشيباني أبو إسحاق والأعمش وسفيان الثوري وأبو سنان [الشيباني - 7] سمعت أبي يقول ذلك. نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: عبد الله بن السائب ثقة. نا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول: عبد الله بن السائب الذي يروى عنه زاذان ثقة. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم ) 891 - عبد الله بن السَّائِب الكندى ثِقَة (الثقات امام عجلی ) الغرض یہ متفقہ ثقہ امام ہیں سند کا پانچواں راوی: زاذان أبو عمر1 450- زاذان أبو عمر1: سمع من عبد الله بن مسعود، ثقة. (الثقات عجلی ) 417 - زَاذَان ثِقَة كَانَ يتَغَنَّى ثمَّ تَابَ (تاریخ الثقات ابن شاھین) 1603- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم الضرير البزاز عن علي وابن مسعود ويقال سمع عمر وعنه عمرو بن مرة والمنهال بن عمرو ثقة توفي 82 م (امام ذھبی الکاشف) 4556- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم سمع: علي بن أبي طالب، وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمر. روى عنه: ذكوان أبو صالح، وعبد الله بن السائب، وعمرو بن مرة، وغيرهم. وكان ثقة (تاریخ بغداد امام خطیب) 1976- زاذان أبو عمر الكندي البزاز ويكنى أبا عبد الله أيضا صدوق يرسل وفيه شيعية من الثانية مات سنة اثنتين وثمانين بخ م 4 (تقریب التہذیب امام ابن حجر) اما م ابن حجر کہتے ہین کہ یہ صدوق ہے شیعت کا عنصر پایا جاتا تھا اس میں اور ارسال بھی کرتا تھا امام ذھبی انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں : 470- زاذان 1: "م، أبو عمر الكندي، مولاهم، الكوفي، البزاز، الضرير، أحد العلماء الكبار. ولد: في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وشهد خطبة عمر بالجابية. وكان ثقة، صادقا، روى جماعة أحاديث. (سیر اعلام النبلاء) زاذان یہ ابو عمر ہیں اور علماء میں سے تھے یہ نبی پاک کی زندگی میں پیدا ہوئے اور وہ ثقہ صدوق تھے سند کے پانچوے راوی خود صحابی رسولﷺ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں اس تحقیق سے معلووم ہوا کے اسکی سند صحیح ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے دعاگو: خادم الحدیث رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )
  8. 1 like
    امام ابن معین الحنفی اور امام احمد بن حنبل کے درمیان امام ابو حنیفہ و امام شافعی کی وجہ سے چپکش کا پس منظر بقلم اسد الطحاوی الحنفی البریلوی! أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم، قال: حدثنا محمد بن خلف بن جيان الخلال، قال: حدثني عمر بن الحسن، عن أبي القاسم بن منيع، قال: حدثني صالح بن أحمد بن حنبل، قال: مشى أبي مع بغلة الشافعي، فبعث إليه يحيى بن معين، فقال له: يا أبا عبد الله، أما رضيت إلا أن تمشي مع بغلته؟ فقال: يا أبا زكريا لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. (تاریخ بغداد ، سند صحیح ) صالح بن احمد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد احمد بن حنبل کو امام شافعی کی سواری کے ساتھ جاتے ہوئے یحییٰ ابن معین نے دیکھا تو اُن کے پاس کہلا بھیجا کہ ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل کی کنیت ہے) آپ شافعی کی سواری کے ساتھ چلنے کو پسند کرتے ہیں؟ والد نے اُس کے جواب میں کہا کہ ابو زکریا! (یحییٰ ابن معین کی کنیت ہے) اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ اس واقعے کو امام القاضی عیاض مالکی نے بھی صالح بن احمد سے ان الفاظ سے نقل کیا ہے وقال ابن معين لصالح بن أحمد ابن حنبل: أما يستحي أبوك رأيته مع الشافعي، والشافعي راكب وهو راجل، ورأيته قد أخذ بركابه. قال صالح فقلت لأبي فقال لي: قل له إن أردت أن تتفقه، (الكتاب: ترتيب المدارك وتقريب المسالك ، المؤلف: أبو الفضل القاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) قیام بغداد میں آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ایک احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) ہیں۔ ایک مرتبہ یحییٰ ابن معین نے احمد بن حنبل کے صاحبزادے صال بن احمد سے کہا کہ آپ کے والد کو شرم نہیں آتی ہے؟ میں نے اُن کو شافعی کے ساتھ اِس حال میں دیکھا ہے کہ شافعی سواری پر چل رہے ہیں اور آپ کے والد رکاب تھامے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔ صالح بن احمد نے یہ بات اپنے والد احمد بن حنبل سے بیان کی تو اُنہوں نے کہا کہ اُن سے کہہ دو کہ اگر آپ فقیہ بننا چاہتے ہیں تو شافعی کی سواری کی دوسری رکاب کو آپ تھام لیں تاریخ بغداد کی روایت کی سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی ابو طالب عمر بن ابراھیم: 3979- الزهري الفقيه العلامة، أبو طالب؛ عمر بن إبراهيم بن سعيد، الزهري الوقاصي، من ذرية صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سعد بن أبي وقاص، بغدادي من كبار الشافعية ببغداد، ويعرف بابن حمامة. مولده في سنة سبع وأربعين وثلاث مائة. كتب عن: أبي بكر القطيعي، وابن ماسي، وعيسى بن محمد الرخجي، وعدة. روى عنه: الخطيب ووثقه. توفي سنة أربع وثلاثين وأربع مائة. (سیر اعلام النبلاء) سند کا دوسرا راوی : محمد بن خلف 749- محمد بن خلف بن محمد بن جيان بالجيم بن الطيب بن زرعة أبو بكر الفقيه المقرئ الخلال سمع: عمر بن أيوب السقطي، وقاسم بن زكريا المطرز، وعبد العزيز بن محمد بن دينار الفارسي، وعلي بن إسحاق بن زاطيا، وأحمد بن سهل الأشناني، وأبا بكر بن المجدر، ومحمد بن يحيى العمي، وحامد بن شعيب البلخي، ومحمد بن بابشاذ البصري، وكان ثقة، سكن بستان أم جعفر. (تاریخ بغداد) سند کا تیسرا راوی : محمد بن عمر الحسن ابو عاصم 5908- عمر بن الحسن بن علي بن الجعد بن عبيد أبو عاصم الجوهري، وهو أخو سليمان، وعلي حدث، عن زيد بن أخزم، وأبي الأشعث العجلي، ويحيى بن محمد بن السكن البزار، وعباس الدوري. روى عنه أبو بكر بن شاذان، وابن شاهين، والمعافى بن زكريا، وابن الثلاج، وكان ثقة. 1466 - نَا عمرَان بن الْحسن بن عَليّ بن مَالك قَالَ سَأَلت مُوسَى بن هَارُون الْبَزَّاز عَن أبي الْقَاسِم بن منيع فَقَالَ ثِقَة صَدُوق (الثقات لا ابن شاھین) سند کا چوتھا راوی زہیر بن صالح جو کہ بیٹے ہیں امام احمد بن حنبل ؒ کے 138 - زهير بن صالح بن أحمد بن حنبل. [المتوفى: 303 هـ] عن: أبيه. وعنه: ابن أخيه محمد بن أحمد، وأبو بكر الخلال، وأبو بكر النجاد. وهو ثقة. (تاریخ الاسلام) اس واقعے کا پس منظر امام یحییٰ ابن معین ؒ اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے دوست تھے اور امام احمد امام ابن معین سے احادیث بھی روایت کرتے تھے یعنی ایک طرح سے احمد بن معین شیخ بھی تھے امام احمد کے اور دوست بھی لیکن امام احمد بن حنبل جو کہ پہلے امام ابو یوسفؒ سے فقہ و علم حدیث سیکھتے تھے پھر انکا رجھان امام شافعی کی طرف ہوا یہ بات امام ابن معینؒ الحنفی کو اچھی نہیں لگتی تھی اور امام ابن معین امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے انکے اجتیہاد پر مثالیں دیتے امام ابن معین کا امام ابو حنیفہ پر فخر کرنے کا یہ عالم تھا کہ جب امام شعبہ امام ابو حنیفہ ؒ کو خط لکھتے اور احادیث اور احکامات (فقہ) کے لیے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہؒ سے عر ض کرتے ہوئے پڑھتے تو فخریہ انداز میں کہتے کہ یہ امام شعبہ (جو علم رجال کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے ) جو امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے ہیں اور ان سے احادیث اور مسائل کا حکم کے لیے عرض کرتے ہیں اور پھر شعبہ ؒ تو پھر شعبہ ہیں (یعنی رجال کی محارت پھر امام شعبہ پر ختم ہو جاتی ہے) اور اسی طرح دوسری طرف امام احمد بن حنبل تھے جو امام شافعی کی طرف رجھان رکھتے تھے اور انکے فضائل و مناقب بیان کرتے اور جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے امام ابن معین اور امام احمد کے درمیان فقہ حنفی و شافعی کی چپکلش کی وجہ سے امام احمد کی زبان سے امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے بارے مذمت کے کچھ الفاظ ملتے ہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے ان سب باتوں سے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ ایک وقت میں انکا موقف تھا کہ امام ابو یوسف سے بیان نہ کیا جائے کیونکہ وہ ابو حنیفہ کی رائے پر عمل کرتے ہیں لیکن وہ صدوق ہیں لیکن پھر اس قول کے مخالف امام احمد نے اپنی مسند مین امام ابو حنیفہ سے روایت بیان کی ہے یعنی اگر کوئی پڑھنے والا امام احمد کے اس اعتراض کو پڑھے تو صاف جان جائے کہ یہاں امام احمد بن حنبل جو کہ امام ابو یوسف کو ثقہ جانتے ہوئے بھی فقط اس تعصب کی وجہ سے اسکی روایت کو بیان کرنے سے روکا کہ وہ اما م اعظم کی فقہ پر عمل پیرہ ہیں جو کے امام شافعی کی فقہ سے بالکل مختلف تھی یہی حسد تعصب جو امام احمد بن حنبل میں پایا جاتا تھا جسکی نشاندہی امام ابن معین نے کی اور امام احمد اور انکے ساتھ چند اور عداوت رکھنے والے حاسد و متعصب محدثین نے جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین پر ہاتھ صاف کیا تو امام ابن معین دفاع میں نکل آئے اور انہوں نے اپنی جماعت محدثین کو مخاطب کر کے کہا کہ : ہمارے ساتھی (یعنی محدثین کی جماعت) امام ابو حنیفہ ، اور صاحبین پر بے وجہ ، نا حق جرح کر کے حد سے تجاوز کرتے ہیں یعنی امام ابن معین نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا کو ان سب جروحات سے پاک قرار دیا جو کہ تعصب میں ان پر کی جاتی تھی جیسا کہ اما م ابن عبدالبر نے یہ تصریح کی ہے کہ امام ابن معین ابو حنیفہ و صاحبین کی تعدیل اور انکی تعریف کرتے لیکن اہل حدیث یعنی محدثین کی ایک جماعت اما م ابو حنیفہ اور صاحبین سے حسد بغض اور عداوت کی وجہ سے جرح کرتی ہے (الاتنقاءفی فضائل الثلاثہ) یہی وجہ ہے کہ امام ابن معین نے پھر امام احمد بن حنبل کو انکی زبان میں سبق سیکھایا کہ امام شافعی جنکو امام ابن معین بھی ثقہ و محدث حافظ مانتے تھے لیکن جب انہوں نے امام احمد کو امام شافعی کی سواری کی رکاب پکڑے پیدل چلتے دیکھا تو کہا : کیاتم یہ پسند کرتے ہو ؟ کہ امام شافعی کی رکاب پکڑ کر اب پیدل چلو گے ؟ اور یہ پیغام امام ابن معین کا امام احمد کو فقیہ ابو حنیفہ اور صاحبین پر اعتراض کی وجہ سے کہاگیا جسکی تائید امام احمد بن حنبل کے جواب سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امام احمد نے یہ پیغام سننے کے بعد یہ جواب دیا : لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. یعنی امام احمد ابن معین کو فرماتے ہیں : اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ یعنی امام احمد کے بقول امام ابن معین چونکہ امام شافعی کی فقہ اور انکے اجتیہاد پر شدید جرح کرتے ہیں اس لیے امام احمد انکو جواب دیتے ہیں کہ اگر آپ امام شافعی کی طرف ہوتے تو زیادہ فائدہ مند ہوتے ۔۔ یعنی بقول امام احمد امام شافعی کی طرف نہ ہو کر کم فائدہ مند ہیں ؟ اور اسکی وجہ یہی ہے کہ امام ابن معین امام ابو حنیفہ کے مداح و ثنا کرنے والے تھے اس طرح ایسی اور کئی باتیں ہیں جنکی وجہ سے امام ذھبیؒ جو خود شافعی مسلک کے امام ہیں انکو یہ بات لکھنی پٖڑی کہ امام ابن معین جو کہ محدث تھے لیکن غالی حنفی تھے اور دوسری جگہ فرمایا کہ فروع میں حنفی مقلد تھے اور امام ذھبی کو امام شافعی کو الضعفاء میں د رج کیا اور امام ابن معین سے اما م شافعی کے بارے لکھا کہ وہ انکے بارے بری رائے رکھتے تھے اور غالی حنفی امام ذھبی نے اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ امام شافعی جیسے فقیہ کو بھی انکے اجتیہاد(مخالف امام ابو حنیفہ کی وجہ سے ) ایسی جرح کرتے کہ سوائے غالی حنفی اور کوئی نہیں کر سکتا لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ امام احمد نے رجھان امام شافعی کی طرف رکھنے کے باوجود بھی اپنی فقہ اور اسکے اصول امام احمد نہ اپنا سکے بلکہ امام محمد و امام ابو یوسف جنہوں نے اما م ابو حنیفہ کے اصول اور انکی فقہ کو پروان چڑھایا اسی کی پیروی کی اور اس طرح بقول ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کے اقوال کے سب سے زیادہ قریب ترین کوئی فقہ ہے تو وہ فقہ حنفی ہے یعنی امام ابو حنیفہ کے اصول اور اجتیہاد کے قریب کسی کے فتوے ہیں مجتہد ہوتے ہوئے تو وہ امام احمد بن حنبل ہیں دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !
  9. 1 like
    Wa alayqum salam, Moterma aap joh sawal pooch rahi hen is k talluq nah aap kay Islam say, nah ap kay iman say, aur nah hamaray jawab say heh, yeh aap ki pasand heh ... pasand mein nah ap nay Allah aur Rasool kay deen ka lehaz keren gi aur nah hamaray jawab ka ... mukhtasar ... Ismail Musalman nahin hen ... Namaz, Hajj, Roza, Zakat ... aur baqi kay munkir hen ... is inqar ki waja say yeh logh 100 say ziyada ayaat kay munkir hotay hen aur hukm kufr lagta heh ... aur GHAYR MUSLIM SAY AAP KA NIKKAH NAHIN HOGA ... aik maulvi kia hazaaar aa kar Nikkah kar denh Shar'ri tor par aap ka Nikkah nahin hoga ... aur Zina ki murtaqib aur haram ki ulaad peda keren gi.
  10. 1 like
    اسلام علیکم تما م اسلامی محفل کے ممبران کا کیا حال ہے اللہ پاک سب کو خوش رکھے آمین
  11. 1 like
  12. 1 like
    قرآن پاک کی وہ آیات جوذکروثناء اوردعاء پرمشتمل ہوں ان کوبنیت ذکرودعاحالت ناپاکی میں پڑھناجائزہے اسی طرح اسماء الٰہی، وظائف، 6کلمے پڑھنا اور مسنون ماثور دعائیں پڑھنا جائزہے لیکن بہتر یہ ہے کہ با وضو یا کلی کر کے پڑھے جائیں۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خا ن رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: " قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثناء ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے" آیۃ الکرسی" متعدد آیات کاملہ جیسے سورۃحشرکی آخیر کی تین آیتیں " هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ" سے آخرسورت تک بلکہ پوری سورت جیسے الحمدشریف بہ نیت ذکر ودعا نہ بنیت تلاوت پڑھنا جنبی وحائضہ ونفاس والی سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتداء میں " بسم اللہ" کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ آیت مستقلہ ہے اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے نہ کہ تلاوت"۔ [فتاوی رضویۃ ،جلد:1، صفحہ:795, رضا فاوندیشن لاہور]۔ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " قرآن پاک کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف درودشریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے بھی پڑھ لیا تب بھی حرج نہیں ایسی عورت کو اذان کا جواب دینا جائز ہے"۔[بہار شریعت ،جلد :1، حصہ دوم، صفحہ:379، مکتبہ المدينہ کراچی ]
  13. 1 like
    Bhai koi ahle ilm hazrat aap ko jarur bata denge
  14. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  15. 1 like
    السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  16. 1 like
  17. 1 like
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم 1۔ خاتم النبین صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” بے شک نبوت اور رسالت منقطع ہو چکی پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔ (ترمذی) 2۔ امین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہے کہ آقائے کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میں خاتم الانبیاءہوں اور میری مسجدا نبیاءکی مساجد کی آخری ہے“۔( کنز العمال) 3۔سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ حضور اقدس صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا فرمان عالی نقل کرتے ہیں فرمایا” میں آخر الانبیاءہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے“(مسلم) 4۔ نبی کریم علیہ الصلوة التسلیم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اﷲعنہ کی وفات کے موقع پر ارشاد فرمایا” اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا لیکن میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ (بخاری) 5۔اور فرمایا اس کے جنت میں ايک دودھ پلانے والی کا انتظام ہے۔اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔(ابن ماجہ) 6۔عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے فرمایا رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ) ہوتا“(ترمذی) 7۔سیدنا ابوہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے سرکار عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ کو نبوت کب ملی تو فرمایا” جب آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے “ (یعنی ان میں ابھی روح نہیں روح پھونکی گئی تھی مرتبہ کہ اعتبار سے میں ا س وقت بھی اﷲ کا نبی تھا)۔ (ترمذی) 8۔سیدنا عرباض بن سارےہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” میں اﷲ کے نزديک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی گار ہے ہی کی شکل میں تھے“۔(ترمذی) 9۔فرمایا رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں پیدائش کے اعتبار سے تمام انبیاءسے اول ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں۔ (یعنی میرا آخری نبی ہونا اسو قت مقرر ہو چکا تھا) (خضائص کبری) 10۔ حدیث معراج میں سید نا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ”معراج کے موقع پر فرشتوں نے سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوة التسلیم سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو فرمایا”محمد“ صلی اﷲ علیہ وسلم کے رسول اور خاتم النبین ہیں“۔ (ترجمان السنہ از مولانا بدر عالم) 11۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” مجھے باقی انبیا ءپر چھ باتوں کی وجہ سے فضلیت دی گئی۔ ۱۔ مجھے جامع کلمات عطا کيے گئے۔ ۲۔ دشمن پر رعب اور دبدبہ کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ۳۔میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ ۴۔ میرے ليے تمام زمین کو پاک کر کے مسجد بنا دیا گیا۔ ۵۔ مجھے ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا۔ ۶۔ میرے بعد سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ (بخاری ومسلم) 12۔سیدنا رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا ”( شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو نلا کر فرمایا) ”میں اورقیامت اس طرح ہیں جس طرح ےہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں“ بتلانا يہ مقصود ہے کہ میرے بعد قیامت تو آئے گی لیکن کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ( بخاری) 13۔ سیدنا نعیم بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک عنقریب میری امت میں تیں (30) جھوٹے ہونگے ان میں سے ہر ايک کہے گا وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( منصف ابن ابی شیبہ) 14۔ سیدنا ابو ہر یرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دوگروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہو گی اور دونوں کا دعوی ايک ہو گا اور قیامت ا سوقت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال نہ ظاہر ہو جائیں ہر ايک کہے گا” میں ا ﷲ کا رسول ہوں“ ( بخاری) 15۔سیدنا ابو امامہ الباھلی سے مروی ہے کہ رسول ا کرم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو“۔( ابن ماجہ) 16۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک میں ا ﷲکابندہ ہوں اور انبیاءکرام کا خاتم ہوں؟ ( مستدرک حاکم ۔مسند احمد) 17۔سیدنا ابو ہریرہ رضی ا ﷲعنہ فرماتے ہیں کہ رسول ا کرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہم (امت محمديہ علیہا الصلوة والسلام) اہل دنیا میں سب سے آخر میں آئے اور روز قیامت کے وہ اولین ہیں جن کا تمام مخلوقات میںسب سے پہلے حساب ہو گا۔(مسلم) 18۔سیدنا ضحاک بن نوفل رسول کریم علیہ الصلوة السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا”میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں“ (المعجم الکبیر للطبرانی) 19۔فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں تمام رسولوں کا قائد ہو ں لیکن فخر نہیں کرتا اور تمام انبیاءکا ختم کرنے والا ہوں (یعنی نبوت ختم کرنے والا) مگر فخر نہیں کرتا اور میں پہلا شفاعت کرنےو لا ہوں اور مقبول شفاعت ہوں اور کوئی فخر نہیں کرتا“ (مسلم) 20۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ راوی ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے فرمایا ” میری اور مجھ سے پہلے انبیا کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اس میں ہر طرح سے زیب و زنیت کی مگر ايک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،لوگ عظیم الشان مکان کی تعمیر ديکھ کر حیرانی کا اظہار کریں اور کہیں کہ اس جگہ بھی اینٹ رکھ دی جاتی تا کہ تعمیر مکمل ہو جاتی۔ ختم الرسل نے فرمایا ”قیامت تک آنے والے انسانو! نبوت کے گھر کی وہ آخری اینٹ میں ہوں لہذا نبوت کا مکان مکمل ہو گیا“۔ (بخاری) 21۔ سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ سے روایت ہے فرمایا” ہم سب س آخر والے روز قیامت مقدم ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے حالانکہ پہلے والوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی او رہمیں ان سب کے بعد“ ( مسلم) 22۔سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا“ بے شک میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، ماحی ہوں یعنی اﷲ میرے ذرےعے کفر کو مٹا دے گا۔ اور حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو“(مسلم) 23۔سیدنا محمد بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، احمد ہوں، ماحی ہوں اور میرے ذريعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہو ں (یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا) (بخاری) 24۔ فرمایا خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”میرے بعد جو شخص دعوی نبوت کرےگا وہ دجال، کذاب ہوگا۔( ترمذی، ابو داؤد، مشکوة)۔ 25۔حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال تک سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا میں نے خو سنا کہ وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” نبی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاءکیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تو اﷲ تعالی خود کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ چار خلفاءہوں گے اور بہت ہونگے، صحابہ نے عرض کیا ان کے متعلق آپ کی حکم ديتے ہیں فرمایا ہر ايک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو، اور ان کے حق اطاعت کوپورا کرو، اس لئے کہ اﷲ تعالی ان کی رعیت کے متعلق ان سے سوال کرےگا۔(بخاری) 26۔سیدنا ابو ہریرة نے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام نے فرمایا ” نبی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیاءچلایا کرتے تھے جب کبھی ايک نبی رخصت ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔( مصنف ابن ابی شیبہ) 27۔سیدنا سعد بن ابی وقاص رحمتہ اﷲ سے مروی ہے کہ ”غزوہ تبوک میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مدینہ میں خواتین اور بچوں کے پاس چھوڑا تو عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا تو فرمایا ! اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے موسی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم) 28۔سیدنا ابوذر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا اے ابو ذر! انبیا ءمیں سب سے پہلے آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد صلی ا ﷲعلیہ وسلم ہوں۔(فردوس ماثور دیلمی) 29۔ام کرز رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت ختم ہو گئی صرف مبشرات(سچے خواب) باقی رہ گئے۔(ابن ماجہ) 30۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے فرمایا! اے لوگو علامات نبوت میں سے صرف سچے خواب مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا ( مسلم) 31۔سیدنا جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے کندھے کے پاس کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جس کے رنگ کے مشابہ تھا ۔(مسلم) 32۔سیدنا علی رضی ا ﷲ عنہ سے مروی ايک طویل روایت ہے فرمایا”حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آخری نبی ہیں“(ترمذی) 33۔سیدنا ابو ہریرة سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة السلام نے فرمایا” میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اورمیرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے متفکر ہوا پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار کر اڑادوںمیں نے پھونک ماری تو وہ اڑگئے، میں نے اس خواب کی تعبیر يہ لی کہ میں دوکذابوں کے درمیان ہوں، ايک صاحب صنعا ءاور دوسرا صاحب یمامہ۔ (مسلم) 34۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اےک حدیث کے آخر میں ہے” میں نے اسی کی تعمیر يہ لی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص کا ظہور ہوگا ايک ان میں سے صنعاءکا رہنے والا عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسلمہ ہے۔ (مسلم) 35۔ سیدنا وھب بن منبہ سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے ايک حدیث کے ذیل میں روایت کرتے ہیں کہ ” حضرت نوح علیہ السلام کی امت کہے گی اے احمد صلی اﷲ علیہ وسلم آپ کو ےہ کیسے معلوم ہوا حالانکہ آپ علیہ السلام (آخری نبی) اور آپ کی امت امتوں میں آخری امت ہے “ (مستدرک حاکم) 36۔فرمایا ختم الرسل صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میرے بعد کوئی نبی نہیں اورنہ تمہارے بعدکوئی امت ہے پس اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں قائم کرو، رمضان کے رورے رکھو، اور اپنے اولوالامر (اہل الرائے علمائ) کی اطاعت کرو پس اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ “ ( کنزالعمال) 37۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” اے لوگو‘ بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے ، آگاہ روہوپس اپنے رب کی عبادت کرو، اور پانچ نمازں ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور صلی رحمی کرو، اور خوشدلی سے زکوة اداکرو، اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تمہارے امور کے والی ہیں اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ابو اؤد، ترمذی) 38۔سیدنا ثوبان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا خاتم النبیین علیہ الصلوة التسلیم نے ”میری امت میں تیس جھوٹ پیدا ہونگے، ہر ايک کہے کا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں“ (ابو اؤد، ترمذی) 39۔فرمایا رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” قیامت کے دن کسی نبی کے ہزاروں امتی ہونگے کسی کے ساتھ سینکڑوں کسی ساتھ چند اور کسی نبی کے ساتھ کوئی امتی نہ ہوگا۔جبکہ میری امت کا نظارہ قابل دید ہوگا میرے چاروں طرف تاحدنگاہ میری امت کا سیلاب ہوگا“ (بخاری ، مسلم،شکواة) 40۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے راویت ہے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا ” میں نے آپ کی امت کو سب سے آخر میں بھیجا اور يہ حساب میں سب سے پہلے ہو گی اور آپ نبیوں میں سے سب پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں بھیجا اور آپ کو فاتح یعنی دورہ نبوت شروع کرنے والا بنایا اور آپ ہی کو اس کا ختم کرنے والا بنایا“۔
  18. 1 like
  19. 1 like
    جناب سلفی صاحب فقیر پہلے عرض کرچکا ہے کہ آپ اس کی سند امام نووی علیہ الرحمہ سے پوچھیں، کیونکہ یہ عبارت ہم نے نہیں لکھی،بلکہ امام نووی نے لکھی ہے۔ ہم نے جو پوچھا ہے کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے یہ جو عبارت لکھی ہے کیا یہ قرآن وحدیث کے خلاف شرکیہ عقاید والی عبارت لکھی ہے؟اور کیا یہ جھوٹ لکھ دیا ؟ دوسری بات نواب صدیق حسن خاں وھابی نے جو شعر لکھا ،ہم اس کا مطلب نثر میں لکھ دیتے ہیں کہ اے قاضی شوکانی المدد ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواب صدیق حسن خاں وھابی نے یہ کہہ کر شرک کیا اور کیا وہ شرک کے مرتکب ہوۓ؟یا ایسا کہہ کر موحد ہی رہے ؟ کیا نواب صدیق حسن خاں عالم دین نہیں تھےاور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا کہنا شرک ہے ؟
  20. 1 like
  21. 1 like
  22. 1 like
  23. 1 like
    أَخْبرنِي بِشَيْء غَرِيب قَالَ كنت شَابًّا وَكَانَت لي بنت حصل لَهَا رمد وَكَانَ لنا اعْتِقَاد فِي ابْن تَيْمِية وَكَانَ صَاحب وَالِدي وَيَأْتِي الينا ويزور وَالِدي فَقلت فِي نَفسِي لآخذن من تُرَاب قبر ابْن تَيْمِية فلأكحلها بِهِ فانه طَال رمدها وَلم يفد فِيهَا الْكحل فَجئْت الى الْقَبْر فَوجدت بغداديا قد جمع من التُّرَاب صررا فَقلت مَا تصنع بِهَذَا قَالَ أَخَذته لوجع الرمد أكحل بِهِ أَوْلَادًا لي فَقلت وَهل ينفع ذَلِك فَقَالَ نعم وَذكر أَنه جربه فازددت يَقِينا فِيمَا كنت قصدته فَأخذت مِنْهُ فكحلتها وَهِي نَائِمَة فبرأت ترجمہ:مجھے ایک عجیب چیز کے بارے میں خبر دی ہے۔کہا میں جوان تھا اور میری ایک بیٹی تھی جس کو آشوب چشم کی بیماری تھی اور ہمارا ابن تیمیہ کے بارے میں بڑا اچھا اعتقاد تھا وہ میرے والد کا دوست تھا وہ ہمارے پاس میرے والد کی زیارت کے لیے آتا رہتا تھا میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں ضرور ابن تیمیہ کی قبر کی مٹی لوں گا اور اس کا سرمہ بیٹی کی آنکھ میں ڈالوں گا اس لیے کہ کافی عرصے سے اس کی آنکھیں خراب ہیں اور اس کو سرمہ فائدہ نہیں دے رہا.پس میں قبر کے پاس آیا تو میں نے وہاں بغدادی کو پایا جو کہ وہاں مٹی جمع کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا میں اس کو آنکھوں کے درد کے لئے لے رہا ہوں کہ اس کا سرمہ اپنی اولاد کو ڈالوں گا.تو میں نے کہا کیا یہ کوئی فائدہ دے گا اس نے کہا جی ہاں.اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا تجربہ کیا ہوا ہے تو جس بات کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس میں میرا یقین اور زیادہ ہوگیا تو پس میں نے وہاں سے مٹی اٹھائی اور اس کا سرمہ اپنی بیٹی کو سونے کی حالت میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئی.
  24. 1 like
    Noor-ul-Iman [Lafzi Tarjma Kanz-ul-Iman] پارہ اول http://www.mediafire.com/view/x74n3pzez1f6bbj/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84.pdf
  25. 1 like
    منتظم اعلی حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ 1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔ 2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ 3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔ 4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔ 5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ 6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔ 7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
  26. 1 like
  27. 1 like
    Har Kafir Badmazhab Hai Lakin Har Badmazahb Kafir Nahi.... Kafir...Zaruruyat E Deen K Munkir Ko kahete Hai Bad mazhab ...Zaruriyat E Ahele Sunnat K Munkir Ko Kahete Hai
  28. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  29. 1 like
  30. 1 like
    KHAOF NA RAKH RAZA ZARA TU TO HAI ABD E MUSTAFA TERE LIYE AMAAN HAI TERE LIYE AMAAN HAI
  31. 1 like
    kya hi zauk afza shafa'at hai Tumhari( ) waah waah karz leti hai gunah parhezgaari waah waah
  32. 1 like
    Deobandi Wahabion Aor Modoodi Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf Ghair Muqallid Nam Nihad Ahlehadees Wahabion Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf
  33. 1 like
  34. 1 like
    Jawab with scans in single pdf file: http://www.scribd.com/doc/154878713/Nabi-Kareem-ke-Barazakhi-Azdwaji-Zindagi-Shabbashi-per-Aetiraz
  35. 1 like
    السلام علیکم الحمداللہ ، اللہ نے اپنے حبیب کے صدقےوطفیل ہمیں اولادِ نرینہ کے نعمت سے نوازا ہے۔ آپ سب سے دعاوٗں کی خاص التجا ہے کہ اللہ اس بچے کو بدمذہبوں بددینوں کے شر سے محفوظ رکھے اور اپنے حبیب سرورِ دوعالم کی غلامی میں قبول فرمائے۔ آمین۔
  36. 1 like
    mien yahan per talib ilm ki hasiyat say hee ata hooon. or mera maksad yahan per ilm seekhna hee hay. or mien kisi ahle khabsee ya deogandi ko khud say kuch reply nahi kerta. bulkay app jaisay ilmi hazrat say rujoo kerta hooon. jo app boltay ho to wohi baaat agay bolta hoooon. or khud bhi samjhta hooon kay aisa kiun hay or waisa kiun hay. or jo galiyaaan day rahey hotay hien muhj say berdasht nahi hoti kay kisi sunni ko kuch bola jai. ab muhjay app say aik point mila. kay sunan abu daoon ki jo hadith hay . AHLE KHABEEES nay gahlat tajerma keeya hay. us may BAAZ QABAIL ka ziker hee nahi hay. srif QABAIL ka ziker hay. or muhjay pata hay kay mien jub ya boloon ga kay hadith may BAAZ ka word kahan say agaya to us ko sabit kernay ki koshish karien gay. kay hadith may word BAAZ hay. phir app ki rehnumai chahiya hogi. is terhan mien khud bhi seekhooon ga or un ko moo tor jawab bhi day sakooon ga. kul ko kisi rishtay daar may , dostoon may , job per koi bhi kuch bhi bolay ga atleast moo bund ker wa sakoon ga. kiun kay SHIRK SHIRK soun ker her koi tung agaya hay. ALLAH app ko jaza khair ata fermai.
  37. 1 like
    15-1 Krishn Qadyani.pdf 15-2 Mubahis-e-Qadyani.pdf 15-3 Tardeed-e-Nabuwat-e-Qadyani.pdf 15-4 Mujaddid-e-Waqt Kon Ho Sakta Hay.pdf
  38. 1 like
    ماشا اللہ توحیدی بھائی آپ نے بحث کا لب لباب بڑی اچھی طرھ واضع کیا ہے۔ اب اگر کوئی میں نہ مانوں کی رٹ لگاے تو اس کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔
  39. 1 like
  40. 1 like
    yeh new book nahi hay balkeh 1986 ki likhi hui book hay jab woh deobundi thay. aur ab deobundion ne ise dobara publish kr diya hay jaise yeh koi new book hau. iss book ka first edition 1986 main publish huwa tha aur iss k third edition ki date bhi book k pg.56 par 1989 likhi hay (jis k bare main likha hay k jo aap k hath main hay). jis k neeche author ne 20 feb 1986 date likhi hui hay. so jau bhi date maan lau yeh old book hay aur tm deobundion ne ise again publish kr diya hay jaise woh phr deobundi hau gaye hon woh kehte hain na k naqal k liye bhi aqal ki zarurat hoti hay. deobundion ne book tau publish kr di but uss main dates change krna bhul gaye. issi book k page 13 par author ki tarf se "Intisab" main 20 feb 2010 date likhi gai hay jb keh pg 56 pe "Arz e Muallaf" main 1986 hay. aur phr kitab k end pr bhi 20 feb 1986 likha hay so yeh koi new book nai hay siraf purani mayyat ko nai qabar main litaya hay . chk the book here
  41. 1 like
    Altabsheer Be Radd-it-Tahzeer & Altabsheer Par Etrazat k Jwabat Az Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi رحمت اللہ علیہ: Altabsheer-full.pdf RAR FORMAT AlTabsheer-1.rar AlTabsheer-2.rar AlTabsheer-3.rar Nazria-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Syed Muhammad Madani Miyan Ashrafi Jeelani : NazriaKhatmeNabowatAurTahzeerunnaas.pdf التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسلہء تکفیر از علامہ غلام علی قادری اشرفی رحمت اللہ علیہ Altanweer-full.pdf Altanweer Different Print Al-Tanweer.pdf RAR FORMAT Altanweer-1.rar Altanweer-2.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Snaullah Naqshbandi Mujaddidi : Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Molvi Qasim NaNotvi Ka Jurm (Az Kitab: Hassam-Ul-Haramain k 100 Saal) Az Dr.Altaf Hussain Saeedi Molvi Qasim Nanotvi Ka Jurm.rar Abtal-e-Aghlat-e-Qasmia . http://www.nafseisla...glatQasmiya.htm Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaddisana Nazar Az Allama Manzir-Ul-Islam AlAzhari : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhadisana Nazar.rar Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqiqana Nazar Az Ghulam Naseer-ud-Deen Sialwi : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqqiqana Nazar.rar Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar Az Allama Badr-Ud-Deen Ahmad Qadri رحمت اللہ علیہ: Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar.rar Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas Az Allama Abd-Ul-Hakeem Akhtar ShahJahan Poori رحمت اللہ علیہ : Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas.rar Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Shareef-Ul-Haq Amjadi رحمت اللہ علیہ : Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Az Hazrat Allama Peer Hafiz Sultan Mahmood Daryawi : Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Qadri AbdurRzaq Bhtralwi Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Tahzeer-Un-Nas K Difa Ka Ta'qub Az Muhtram Khaleel Ahmad Rana Tahzeer-un-Nas k Difa Ka Ta'qub.rar
  42. 1 like
    جناب دیوبندی صاحب آپ نے مرتضیٰ چاندپوری کی اولادالزوانی لکھی، یہ گالی ھے یا مدح ھے؟ نظیر ھے تو پیش کریں۔ ھوالمعظم کتاب کو ھم تسلیم نہیں کرتے۔ بر سبیل تنزل، اُس میں سے خواجہ ضیاء الدین سیالوی کے الفاظ پیش کریں۔ آپ نے پوچھا ھے کہ دیوبندی بریلوی اختلافات کیا ھیں؟ یہ ضروریات دین میں بھی ھیں، ضروریات مذھب اھل سنت میں بھی ھیں اور فروعیات و اجتہادیات میں بھی ھیں۔ آپ جواب تو کسی بات کا دیتے نہیں اور اوٹ پٹانگ اپنی ھی ھانکے جاتے ھیں اگر بحث کا شوق ھے تو ھماری بھی ھر بات کا جواب دیا کریں ۔
  43. 1 like
    (1) qasim nanotvi (2) rasheed gangohi (3) khalil anbethvi (4) ashraf ali thanvi jo in ki kufriya ibarat ko sahi kahe won bhi in ke hukam main dakhil hai.
  44. 1 like
    Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-1 Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-2 Alahazrat aor Radd-e-Qadianiat.pdf Radd-E-Qadianiat Par Imam Ahmad Raza Ki Chand Tasaneef Khatm-e-Nabuwat K Paasban Khatm-e-Nabuwat K Pasban.pdf Khatm-e-Nabuwat Aor Radd-e-Mirzaiyat Par Ulama-e-Bareli Ka Kirdar http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63068 Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi رحمت اللہ علیہ Ki Tasneefat Tahfuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi Ki Tasneefat.rar Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom 1Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom.rar Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh.rar Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan 01Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan.rar Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla.rar Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar.rar Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan.rar 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din.rar 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadiniat Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi Aor Radd-e-Qadiniat.rar Ameer-e-Millatرحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ameer-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwiرحمت اللہ علیہ Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwi.rar Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwi.rar Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban.rar Khawja Ghulam Murtzaرحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Khawja Ghulam Murtza Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat.rar Molana Enayat-Ullah-Chishti رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Molana Enayat-Ullah-Chishti Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mujahid-e-Millat رحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Mujahid-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azamرحمت اللہ علیہ ka Kirdar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azam ka Kirdar.rar Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah رحمت اللہ علیہ Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhariرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhari.rar Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheedرحمت اللہ علیہ Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheed.rar Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat.rar Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi.rar Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat Shah Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat SHah.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azamرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azam.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasanرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasan.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Shaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazarwiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor SHaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazrwi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barni.rar Tajdar-e-Golraرحمت اللہ علیہ Aor Marka-e-Qadianiat Tajdar-e-Golra Aor Marka-e-Qadianiat.rar Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Munazray Aor Tahreeri Khidmaat Shah Ahmad Noorani Munazray Aor Tahreeri Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani رحمت اللہ علیہ Aor Inki Rabta Muhim Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani Aor Inki Rabta Muhim.rar
  45. 1 like
  46. 1 like
    Subhan Allah Mashallah,ap ka jawab waki Ilmi maharat ki pehchan he,Saeedi bhai, me Dil se ap ki Ilmi qabiliat ka mutaraf ho gaya hon,ju Fan e Olum ap ne is Jawab e Risala me ap ne dekhai woh har Aam ki bat nahi Khas ul Khas hi is fan ko samj sakte hen, Allah apke ollum me mazeed barkat ata farmae Ameen.
  47. 1 like
    the translierated version. Bismillahir Rahmanir Raheem LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK UL QUDOOS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ UL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAUF UR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KAREEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL WAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL LATEEF IL KHABEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL SAMAD IL MA'BOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IL WADOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAKEEL IL KAFEEL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL RAQEEB IL HAFEEZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL DAEM IL QAEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUHI UL MUMEET LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYUL QAYYUM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL BAARI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MOMIN IL MUHAIMIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HASEEB IS SHAHEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HALEEM IL KAREEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AWAL IL AKHIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ZAHIR IL BAATIN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL MUTA'AL LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAZI IL HAJAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL REHMAN IR RAHEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ARSHIL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBI AL AALA LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BURHAN IL SULTAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL BASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL WAHID IL QAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL HAKEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN ID DAYYAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KABEER IL AKBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALEEM IL ALLAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAFI IL KAAFI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AZEEM IL BAQI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMAD IL AHAD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABIL ARDE WAS SAMAAEY LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IL MAKHLOOK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA MAN KHALAQ AL LAILE WAN NAHAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IR RAZZAQ LA ILAHHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FATTAH IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL GHANI LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHAFOOR IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEM IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL MULKE WAL MALAKOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL IZZATE WAL AZMATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL HAIBATE WAL QUDRATE LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL KIBRIYA E WAL JABAROOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALIM IL GHAIB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAMEED E WAL MAJEED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAKEEM IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SAMI IL ALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL AZEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALAM IS SALAM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IN NASEER LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IR RAHMAN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAREEB IL HASANAAT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SABOOR IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIQ IN NOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL MOJIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL FADIL IS SHAKOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL GHANI IL QADEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL JALAL IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL KHALIS IL MUKHLIS LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SADIQ IL WAED LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAQ IL MUBEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL QUWATIL MATEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QAWI IL AZIZ LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL ALLAM IL GHOYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HAYYIL LA YAMOOT LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AS SATTAR IL AYOOB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MUSTA'AN IL GHAFOOR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL ALAMEEN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR REHMAN IS SATTAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AR RAHEEM IL GHAFAAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZEEZ IL WAHAB LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QADIR IL MUKTADIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL GHUFRAN IL HALEEM LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MULK LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL BARI IL MUSAWWIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL AZIZ IL JABBAR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL JABBAR IL MUTAKABBIR LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN ALLAHI AMMA YASI FUN LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL QUDOOS IS SUBOOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA RABBIL MALAEKATI WAR ROOH LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHANA ZIL ALA E WAN NA'AMA E LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL MALIK IL MAQSOOD LA ILAHA ILLAL LAHO SUBHAN AL HANNAN IL MANNAN LA ILAHA ILLAL LAHO ADAM SAFI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO NOOH E NAJI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO IBRAHIM KHALIL ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO ISMAEL ZABI ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUSA KALEEM ULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO DAWOOD KHALIFA TULLAH LA ILAHA ILLAL LAHO EISA ROOH ALLAH LA ILAHA ILLAL LAHO MUHAMMAD UR RASOOL ALLAH WA SALLAL LAHO ALA KHAIRI KHALKIHI WA NOORI ARSHI HI AFDALIL AMBIYA HI WAL MURSALEENA HABEEBINA WA SAYYIDINA WA SANADINA WA SHAFI INA WA MAULANA MUHAMMADIN WA ALA AALIHI WA ASHAABIHI AL MUNTAJABEENA BI REHMATIKA YA AR HAMAR RAHEEMIN
  48. 1 like
  49. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.
  50. 1 like
    in logo k aqaid aur nazriyat me share karoon to aap logo ko inki gandi zehniyaat ka andaza kuch na kuch to zaroor hojay ga aik baar Nighat Hashmi ki Student (bal k mureeed e khaas keh lain to byja na hoga) ny farmaya: "Nabi sirf aik messenger hain.........apko aik example dy k samjhati hun........jistarha aik school ki principal KISI PEON K ZARIYE messege bhijwati hain kisi teacher k pas..........BILKUL ISI TARHA Nabi b ALLAH ka messege hamen deny k liye bhejy gay hain" sharm uj ko magar nhe aati....... is misal ko mulahiza farmaiye.........inki soch reflect horhi hy is sy...... ALLAH ki misal k liye is ny principal ka word use kiya........ hamary meethy meeethy AAQA k liye PEON ki misal tk deny sy gurez na kiya................???? (al amaan walhafeeez) {bughz e Nabi to dekhiye.......!!! } aur apny aap ko AAQA sy b ooper ka darja ata farma diya.......aur TEACHER bun bethi.......!!! ary esy aqeeda rakhny waly to gadhon aur kuttoon sy b zaleel hain..........!!! ac gustakhi to shayad jahilon k baap (abu jahal) ny b na ki ho......!!! mujy aaj tk us gustakh k ye words yaad hain..........!!!