Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 08/08/2018 in all areas

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  3. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  6. 1 like
    : وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔ کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟
  7. 1 like
  8. 1 like
  9. 1 like
    Bhai koi ahle ilm hazrat aap ko jarur bata denge
  10. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  11. 1 like
    السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  12. 1 like
  13. 1 like
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم 1۔ خاتم النبین صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” بے شک نبوت اور رسالت منقطع ہو چکی پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔ (ترمذی) 2۔ امین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہے کہ آقائے کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میں خاتم الانبیاءہوں اور میری مسجدا نبیاءکی مساجد کی آخری ہے“۔( کنز العمال) 3۔سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ حضور اقدس صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا فرمان عالی نقل کرتے ہیں فرمایا” میں آخر الانبیاءہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے“(مسلم) 4۔ نبی کریم علیہ الصلوة التسلیم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اﷲعنہ کی وفات کے موقع پر ارشاد فرمایا” اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا لیکن میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ (بخاری) 5۔اور فرمایا اس کے جنت میں ايک دودھ پلانے والی کا انتظام ہے۔اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔(ابن ماجہ) 6۔عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے فرمایا رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ) ہوتا“(ترمذی) 7۔سیدنا ابوہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے سرکار عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ کو نبوت کب ملی تو فرمایا” جب آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے “ (یعنی ان میں ابھی روح نہیں روح پھونکی گئی تھی مرتبہ کہ اعتبار سے میں ا س وقت بھی اﷲ کا نبی تھا)۔ (ترمذی) 8۔سیدنا عرباض بن سارےہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” میں اﷲ کے نزديک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی گار ہے ہی کی شکل میں تھے“۔(ترمذی) 9۔فرمایا رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں پیدائش کے اعتبار سے تمام انبیاءسے اول ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں۔ (یعنی میرا آخری نبی ہونا اسو قت مقرر ہو چکا تھا) (خضائص کبری) 10۔ حدیث معراج میں سید نا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ”معراج کے موقع پر فرشتوں نے سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوة التسلیم سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو فرمایا”محمد“ صلی اﷲ علیہ وسلم کے رسول اور خاتم النبین ہیں“۔ (ترجمان السنہ از مولانا بدر عالم) 11۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” مجھے باقی انبیا ءپر چھ باتوں کی وجہ سے فضلیت دی گئی۔ ۱۔ مجھے جامع کلمات عطا کيے گئے۔ ۲۔ دشمن پر رعب اور دبدبہ کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ۳۔میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ ۴۔ میرے ليے تمام زمین کو پاک کر کے مسجد بنا دیا گیا۔ ۵۔ مجھے ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا۔ ۶۔ میرے بعد سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ (بخاری ومسلم) 12۔سیدنا رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا ”( شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو نلا کر فرمایا) ”میں اورقیامت اس طرح ہیں جس طرح ےہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں“ بتلانا يہ مقصود ہے کہ میرے بعد قیامت تو آئے گی لیکن کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ( بخاری) 13۔ سیدنا نعیم بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک عنقریب میری امت میں تیں (30) جھوٹے ہونگے ان میں سے ہر ايک کہے گا وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( منصف ابن ابی شیبہ) 14۔ سیدنا ابو ہر یرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دوگروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہو گی اور دونوں کا دعوی ايک ہو گا اور قیامت ا سوقت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال نہ ظاہر ہو جائیں ہر ايک کہے گا” میں ا ﷲ کا رسول ہوں“ ( بخاری) 15۔سیدنا ابو امامہ الباھلی سے مروی ہے کہ رسول ا کرم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو“۔( ابن ماجہ) 16۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک میں ا ﷲکابندہ ہوں اور انبیاءکرام کا خاتم ہوں؟ ( مستدرک حاکم ۔مسند احمد) 17۔سیدنا ابو ہریرہ رضی ا ﷲعنہ فرماتے ہیں کہ رسول ا کرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہم (امت محمديہ علیہا الصلوة والسلام) اہل دنیا میں سب سے آخر میں آئے اور روز قیامت کے وہ اولین ہیں جن کا تمام مخلوقات میںسب سے پہلے حساب ہو گا۔(مسلم) 18۔سیدنا ضحاک بن نوفل رسول کریم علیہ الصلوة السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا”میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں“ (المعجم الکبیر للطبرانی) 19۔فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں تمام رسولوں کا قائد ہو ں لیکن فخر نہیں کرتا اور تمام انبیاءکا ختم کرنے والا ہوں (یعنی نبوت ختم کرنے والا) مگر فخر نہیں کرتا اور میں پہلا شفاعت کرنےو لا ہوں اور مقبول شفاعت ہوں اور کوئی فخر نہیں کرتا“ (مسلم) 20۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ راوی ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے فرمایا ” میری اور مجھ سے پہلے انبیا کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اس میں ہر طرح سے زیب و زنیت کی مگر ايک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،لوگ عظیم الشان مکان کی تعمیر ديکھ کر حیرانی کا اظہار کریں اور کہیں کہ اس جگہ بھی اینٹ رکھ دی جاتی تا کہ تعمیر مکمل ہو جاتی۔ ختم الرسل نے فرمایا ”قیامت تک آنے والے انسانو! نبوت کے گھر کی وہ آخری اینٹ میں ہوں لہذا نبوت کا مکان مکمل ہو گیا“۔ (بخاری) 21۔ سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ سے روایت ہے فرمایا” ہم سب س آخر والے روز قیامت مقدم ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے حالانکہ پہلے والوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی او رہمیں ان سب کے بعد“ ( مسلم) 22۔سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا“ بے شک میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، ماحی ہوں یعنی اﷲ میرے ذرےعے کفر کو مٹا دے گا۔ اور حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو“(مسلم) 23۔سیدنا محمد بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، احمد ہوں، ماحی ہوں اور میرے ذريعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہو ں (یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا) (بخاری) 24۔ فرمایا خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”میرے بعد جو شخص دعوی نبوت کرےگا وہ دجال، کذاب ہوگا۔( ترمذی، ابو داؤد، مشکوة)۔ 25۔حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال تک سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا میں نے خو سنا کہ وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” نبی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاءکیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تو اﷲ تعالی خود کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ چار خلفاءہوں گے اور بہت ہونگے، صحابہ نے عرض کیا ان کے متعلق آپ کی حکم ديتے ہیں فرمایا ہر ايک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو، اور ان کے حق اطاعت کوپورا کرو، اس لئے کہ اﷲ تعالی ان کی رعیت کے متعلق ان سے سوال کرےگا۔(بخاری) 26۔سیدنا ابو ہریرة نے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام نے فرمایا ” نبی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیاءچلایا کرتے تھے جب کبھی ايک نبی رخصت ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔( مصنف ابن ابی شیبہ) 27۔سیدنا سعد بن ابی وقاص رحمتہ اﷲ سے مروی ہے کہ ”غزوہ تبوک میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مدینہ میں خواتین اور بچوں کے پاس چھوڑا تو عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا تو فرمایا ! اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے موسی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم) 28۔سیدنا ابوذر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا اے ابو ذر! انبیا ءمیں سب سے پہلے آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد صلی ا ﷲعلیہ وسلم ہوں۔(فردوس ماثور دیلمی) 29۔ام کرز رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت ختم ہو گئی صرف مبشرات(سچے خواب) باقی رہ گئے۔(ابن ماجہ) 30۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے فرمایا! اے لوگو علامات نبوت میں سے صرف سچے خواب مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا ( مسلم) 31۔سیدنا جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے کندھے کے پاس کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جس کے رنگ کے مشابہ تھا ۔(مسلم) 32۔سیدنا علی رضی ا ﷲ عنہ سے مروی ايک طویل روایت ہے فرمایا”حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آخری نبی ہیں“(ترمذی) 33۔سیدنا ابو ہریرة سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة السلام نے فرمایا” میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اورمیرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے متفکر ہوا پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار کر اڑادوںمیں نے پھونک ماری تو وہ اڑگئے، میں نے اس خواب کی تعبیر يہ لی کہ میں دوکذابوں کے درمیان ہوں، ايک صاحب صنعا ءاور دوسرا صاحب یمامہ۔ (مسلم) 34۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اےک حدیث کے آخر میں ہے” میں نے اسی کی تعمیر يہ لی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص کا ظہور ہوگا ايک ان میں سے صنعاءکا رہنے والا عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسلمہ ہے۔ (مسلم) 35۔ سیدنا وھب بن منبہ سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے ايک حدیث کے ذیل میں روایت کرتے ہیں کہ ” حضرت نوح علیہ السلام کی امت کہے گی اے احمد صلی اﷲ علیہ وسلم آپ کو ےہ کیسے معلوم ہوا حالانکہ آپ علیہ السلام (آخری نبی) اور آپ کی امت امتوں میں آخری امت ہے “ (مستدرک حاکم) 36۔فرمایا ختم الرسل صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میرے بعد کوئی نبی نہیں اورنہ تمہارے بعدکوئی امت ہے پس اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں قائم کرو، رمضان کے رورے رکھو، اور اپنے اولوالامر (اہل الرائے علمائ) کی اطاعت کرو پس اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ “ ( کنزالعمال) 37۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” اے لوگو‘ بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے ، آگاہ روہوپس اپنے رب کی عبادت کرو، اور پانچ نمازں ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور صلی رحمی کرو، اور خوشدلی سے زکوة اداکرو، اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تمہارے امور کے والی ہیں اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ابو اؤد، ترمذی) 38۔سیدنا ثوبان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا خاتم النبیین علیہ الصلوة التسلیم نے ”میری امت میں تیس جھوٹ پیدا ہونگے، ہر ايک کہے کا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں“ (ابو اؤد، ترمذی) 39۔فرمایا رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” قیامت کے دن کسی نبی کے ہزاروں امتی ہونگے کسی کے ساتھ سینکڑوں کسی ساتھ چند اور کسی نبی کے ساتھ کوئی امتی نہ ہوگا۔جبکہ میری امت کا نظارہ قابل دید ہوگا میرے چاروں طرف تاحدنگاہ میری امت کا سیلاب ہوگا“ (بخاری ، مسلم،شکواة) 40۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے راویت ہے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا ” میں نے آپ کی امت کو سب سے آخر میں بھیجا اور يہ حساب میں سب سے پہلے ہو گی اور آپ نبیوں میں سے سب پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں بھیجا اور آپ کو فاتح یعنی دورہ نبوت شروع کرنے والا بنایا اور آپ ہی کو اس کا ختم کرنے والا بنایا“۔
  14. 1 like
    دیوخانی فرقے کی بدعت نماز عیدین و خطبہ کے بعد دعا خود ان کے اصولوں و قواعد سے
  15. 1 like
    کتاب ارغام ھاذر میں بدمذہبوں کے مشہور اعتراضات کا جواب موجود ہے قارئین اگر اِسے تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل پڑھ لیں تو فائدہ ہوگا۔
  16. 1 like
  17. 1 like
    جناب سلفی صاحب فقیر پہلے عرض کرچکا ہے کہ آپ اس کی سند امام نووی علیہ الرحمہ سے پوچھیں، کیونکہ یہ عبارت ہم نے نہیں لکھی،بلکہ امام نووی نے لکھی ہے۔ ہم نے جو پوچھا ہے کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے یہ جو عبارت لکھی ہے کیا یہ قرآن وحدیث کے خلاف شرکیہ عقاید والی عبارت لکھی ہے؟اور کیا یہ جھوٹ لکھ دیا ؟ دوسری بات نواب صدیق حسن خاں وھابی نے جو شعر لکھا ،ہم اس کا مطلب نثر میں لکھ دیتے ہیں کہ اے قاضی شوکانی المدد ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواب صدیق حسن خاں وھابی نے یہ کہہ کر شرک کیا اور کیا وہ شرک کے مرتکب ہوۓ؟یا ایسا کہہ کر موحد ہی رہے ؟ کیا نواب صدیق حسن خاں عالم دین نہیں تھےاور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا کہنا شرک ہے ؟
  18. 1 like
  19. 1 like
  20. 1 like
    عدیل صاحب نے یہ واضح کر دیا کہ غیر مقلدیت جہالیت کا نام اور اپنے عالم کی تقلید کا نام ہے۔یہ زبیر علی زئی سے بڑامتاثر ہے ،اگر زیبر علی زئی کی علمی حالت دیکھنی ہو تو اپنے ہی مسلک کے عالم کی تحقیق پڑھ لو۔
  21. 1 like
  22. 1 like
    أَخْبرنِي بِشَيْء غَرِيب قَالَ كنت شَابًّا وَكَانَت لي بنت حصل لَهَا رمد وَكَانَ لنا اعْتِقَاد فِي ابْن تَيْمِية وَكَانَ صَاحب وَالِدي وَيَأْتِي الينا ويزور وَالِدي فَقلت فِي نَفسِي لآخذن من تُرَاب قبر ابْن تَيْمِية فلأكحلها بِهِ فانه طَال رمدها وَلم يفد فِيهَا الْكحل فَجئْت الى الْقَبْر فَوجدت بغداديا قد جمع من التُّرَاب صررا فَقلت مَا تصنع بِهَذَا قَالَ أَخَذته لوجع الرمد أكحل بِهِ أَوْلَادًا لي فَقلت وَهل ينفع ذَلِك فَقَالَ نعم وَذكر أَنه جربه فازددت يَقِينا فِيمَا كنت قصدته فَأخذت مِنْهُ فكحلتها وَهِي نَائِمَة فبرأت ترجمہ:مجھے ایک عجیب چیز کے بارے میں خبر دی ہے۔کہا میں جوان تھا اور میری ایک بیٹی تھی جس کو آشوب چشم کی بیماری تھی اور ہمارا ابن تیمیہ کے بارے میں بڑا اچھا اعتقاد تھا وہ میرے والد کا دوست تھا وہ ہمارے پاس میرے والد کی زیارت کے لیے آتا رہتا تھا میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں ضرور ابن تیمیہ کی قبر کی مٹی لوں گا اور اس کا سرمہ بیٹی کی آنکھ میں ڈالوں گا اس لیے کہ کافی عرصے سے اس کی آنکھیں خراب ہیں اور اس کو سرمہ فائدہ نہیں دے رہا.پس میں قبر کے پاس آیا تو میں نے وہاں بغدادی کو پایا جو کہ وہاں مٹی جمع کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا میں اس کو آنکھوں کے درد کے لئے لے رہا ہوں کہ اس کا سرمہ اپنی اولاد کو ڈالوں گا.تو میں نے کہا کیا یہ کوئی فائدہ دے گا اس نے کہا جی ہاں.اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا تجربہ کیا ہوا ہے تو جس بات کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس میں میرا یقین اور زیادہ ہوگیا تو پس میں نے وہاں سے مٹی اٹھائی اور اس کا سرمہ اپنی بیٹی کو سونے کی حالت میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئی.
  23. 1 like
  24. 1 like
    Noor-ul-Iman [Lafzi Tarjma Kanz-ul-Iman] پارہ اول http://www.mediafire.com/view/x74n3pzez1f6bbj/%D9%86%D9%88%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84.pdf
  25. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  26. 1 like
  27. 1 like
    Al Bahru Ala Wal Mowju Tagha Man Baykas O Tufaa Hosh Ruba Manjdhaar Me Hu Bigdi Hai Hawa Mori Nayya Paar Laga Jaana
  28. 1 like
    Deobandi Wahabion Aor Modoodi Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf Ghair Muqallid Nam Nihad Ahlehadees Wahabion Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf
  29. 1 like
    میں مرزا قادیانی کو مانتا ہوں قسم سے ضرور مانتا ہوں وہ کافر ہے میں مانتا ہوں
  30. 1 like
    اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ محمّد علی بھائی اللہ پاک کا آپ پر کرم ہوا ، آپ کو اللہ پاک دونوں جہاں میں کامیاب و کامران کرے ، آپ کا واقعہ درس عبرت ہے آپ ہمارے تھے جناب اس لئے آپ کو ہماری جانب کھینچ لیا گیا ، ہمیشہ خوش رہیں انشا اللہ عزوجل ہم اسی مذہب اہل سنت اور مسلک اعلاحضرت پر قائم و دائم رہینگے اللہ پاک اہل سنت کے جملہ مسائل حل کرے ہمیں سچا پکا سنی مسلمان رکھے کہ ایمان کی دولت سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے
  31. 1 like
    Aslam o Alaikum, Alhumdulillah Tri-Monthly Sunni Magazine Kalma e Haq's Official Website Launched. Please Don't Forget to Visit and Share this site on facebook and every where else you can share. http://www.kalmaehaq.com/ Dua Kheir ki Appeal Ghulam Mustafa
  32. 1 like
  33. 1 like
    15-1 Krishn Qadyani.pdf 15-2 Mubahis-e-Qadyani.pdf 15-3 Tardeed-e-Nabuwat-e-Qadyani.pdf 15-4 Mujaddid-e-Waqt Kon Ho Sakta Hay.pdf
  34. 1 like
    سورۃ الکھف میں کل ۱۱۰ آیات ہیں۔
  35. 1 like
    جزاک اللہ خیراً کثیر توحیدی بھائی اگر جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السّلام کی پیدائش کی وجہ سے "یومِ عید" ہوسکتا ہے تو اور اسے کوئی بھی غلط نہیں کہہ سکتا تو پھر سارے نبیوں کے سردار، سب سے افضل و اعلیٰ اللہ کے پیارے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم جس دن دنیا میں تشریف لائے وہ "یومِ عید" کیوں نہیں ہوسکتا۔ اللہ عزّوجل صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  36. 1 like
  37. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی، اللہ عزّوجل اپنے پیارے حبیبِ پاک صلّی اللہ علیہ وسلّم کے صدقے آپ کے علم و عمر میں اضافہ فرمائے اور قائم رہنے والی ڈھیر ساری خوشیاں عطا فرمائے ۔۔۔ آمین اللہ حافظ
  38. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی یہ خزانہ شیئر کرنے کا بے حد شکریہ، اللہ عزّوجل آپ کے علم اور عمر میں اضافہ فرمائے۔ آمین اللہ حافظ
  39. 1 like
    ماشاءاللہ عزوجل انشاء اللہ کل اس پر ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ کردوں گاء اور خوش آمدید بھی
  40. 1 like
  41. 1 like
    yeh new book nahi hay balkeh 1986 ki likhi hui book hay jab woh deobundi thay. aur ab deobundion ne ise dobara publish kr diya hay jaise yeh koi new book hau. iss book ka first edition 1986 main publish huwa tha aur iss k third edition ki date bhi book k pg.56 par 1989 likhi hay (jis k bare main likha hay k jo aap k hath main hay). jis k neeche author ne 20 feb 1986 date likhi hui hay. so jau bhi date maan lau yeh old book hay aur tm deobundion ne ise again publish kr diya hay jaise woh phr deobundi hau gaye hon woh kehte hain na k naqal k liye bhi aqal ki zarurat hoti hay. deobundion ne book tau publish kr di but uss main dates change krna bhul gaye. issi book k page 13 par author ki tarf se "Intisab" main 20 feb 2010 date likhi gai hay jb keh pg 56 pe "Arz e Muallaf" main 1986 hay. aur phr kitab k end pr bhi 20 feb 1986 likha hay so yeh koi new book nai hay siraf purani mayyat ko nai qabar main litaya hay . chk the book here
  42. 1 like
    جناب دیوبندی صاحب آپ نے مرتضیٰ چاندپوری کی اولادالزوانی لکھی، یہ گالی ھے یا مدح ھے؟ نظیر ھے تو پیش کریں۔ ھوالمعظم کتاب کو ھم تسلیم نہیں کرتے۔ بر سبیل تنزل، اُس میں سے خواجہ ضیاء الدین سیالوی کے الفاظ پیش کریں۔ آپ نے پوچھا ھے کہ دیوبندی بریلوی اختلافات کیا ھیں؟ یہ ضروریات دین میں بھی ھیں، ضروریات مذھب اھل سنت میں بھی ھیں اور فروعیات و اجتہادیات میں بھی ھیں۔ آپ جواب تو کسی بات کا دیتے نہیں اور اوٹ پٹانگ اپنی ھی ھانکے جاتے ھیں اگر بحث کا شوق ھے تو ھماری بھی ھر بات کا جواب دیا کریں ۔
  43. 1 like
    (1) qasim nanotvi (2) rasheed gangohi (3) khalil anbethvi (4) ashraf ali thanvi jo in ki kufriya ibarat ko sahi kahe won bhi in ke hukam main dakhil hai.
  44. 1 like
    Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-1 Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-2 Alahazrat aor Radd-e-Qadianiat.pdf Radd-E-Qadianiat Par Imam Ahmad Raza Ki Chand Tasaneef Khatm-e-Nabuwat K Paasban Khatm-e-Nabuwat K Pasban.pdf Khatm-e-Nabuwat Aor Radd-e-Mirzaiyat Par Ulama-e-Bareli Ka Kirdar http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63068 Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi رحمت اللہ علیہ Ki Tasneefat Tahfuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi Ki Tasneefat.rar Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom 1Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom.rar Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh.rar Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan 01Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan.rar Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla.rar Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar.rar Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan.rar 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din.rar 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadiniat Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi Aor Radd-e-Qadiniat.rar Ameer-e-Millatرحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ameer-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwiرحمت اللہ علیہ Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwi.rar Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwi.rar Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban.rar Khawja Ghulam Murtzaرحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Khawja Ghulam Murtza Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat.rar Molana Enayat-Ullah-Chishti رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Molana Enayat-Ullah-Chishti Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mujahid-e-Millat رحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Mujahid-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azamرحمت اللہ علیہ ka Kirdar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azam ka Kirdar.rar Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah رحمت اللہ علیہ Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhariرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhari.rar Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheedرحمت اللہ علیہ Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheed.rar Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat.rar Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi.rar Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat Shah Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat SHah.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azamرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azam.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasanرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasan.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Shaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazarwiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor SHaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazrwi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barni.rar Tajdar-e-Golraرحمت اللہ علیہ Aor Marka-e-Qadianiat Tajdar-e-Golra Aor Marka-e-Qadianiat.rar Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Munazray Aor Tahreeri Khidmaat Shah Ahmad Noorani Munazray Aor Tahreeri Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani رحمت اللہ علیہ Aor Inki Rabta Muhim Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani Aor Inki Rabta Muhim.rar
  45. 1 like
  46. 1 like
    SubhanAllah MashaAllah You're Doing Great Brother JazzakAllahu Kheira
  47. 1 like
    HAZRAT SAEEDI SAB,BARE DIL KI KHOWASH HE KE AP KI QADAM BOSI KA SHARF HASIL HO,OR FAQEER KO AP SE SHARAH ASOOL SIKHNE KA KOI MUQA MU YASIR HO,JIS KHOBI SE AP URDU LOGHAT ME ASOOL KI TASHREEH FARMAT E HEN,SHAED HI APKA KOI MANAZIR SAMNE AE,ALLAH TAALA AP JESE ULOOMA KA SAYA HAM AHLE SUNAT PER HAMESHA RAKHE AMEEN.
  48. 1 like
  49. 1 like
  50. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.