Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content on 01/12/2019 in all areas

  1. 1 like
    أَخْبرنِي بِشَيْء غَرِيب قَالَ كنت شَابًّا وَكَانَت لي بنت حصل لَهَا رمد وَكَانَ لنا اعْتِقَاد فِي ابْن تَيْمِية وَكَانَ صَاحب وَالِدي وَيَأْتِي الينا ويزور وَالِدي فَقلت فِي نَفسِي لآخذن من تُرَاب قبر ابْن تَيْمِية فلأكحلها بِهِ فانه طَال رمدها وَلم يفد فِيهَا الْكحل فَجئْت الى الْقَبْر فَوجدت بغداديا قد جمع من التُّرَاب صررا فَقلت مَا تصنع بِهَذَا قَالَ أَخَذته لوجع الرمد أكحل بِهِ أَوْلَادًا لي فَقلت وَهل ينفع ذَلِك فَقَالَ نعم وَذكر أَنه جربه فازددت يَقِينا فِيمَا كنت قصدته فَأخذت مِنْهُ فكحلتها وَهِي نَائِمَة فبرأت ترجمہ:مجھے ایک عجیب چیز کے بارے میں خبر دی ہے۔کہا میں جوان تھا اور میری ایک بیٹی تھی جس کو آشوب چشم کی بیماری تھی اور ہمارا ابن تیمیہ کے بارے میں بڑا اچھا اعتقاد تھا وہ میرے والد کا دوست تھا وہ ہمارے پاس میرے والد کی زیارت کے لیے آتا رہتا تھا میں نے اپنے دل میں یہ خیال کیا کہ میں ضرور ابن تیمیہ کی قبر کی مٹی لوں گا اور اس کا سرمہ بیٹی کی آنکھ میں ڈالوں گا اس لیے کہ کافی عرصے سے اس کی آنکھیں خراب ہیں اور اس کو سرمہ فائدہ نہیں دے رہا.پس میں قبر کے پاس آیا تو میں نے وہاں بغدادی کو پایا جو کہ وہاں مٹی جمع کر رہا تھا تو میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرے گا تو اس نے جواب دیا میں اس کو آنکھوں کے درد کے لئے لے رہا ہوں کہ اس کا سرمہ اپنی اولاد کو ڈالوں گا.تو میں نے کہا کیا یہ کوئی فائدہ دے گا اس نے کہا جی ہاں.اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا تجربہ کیا ہوا ہے تو جس بات کا میں نے ارادہ کیا ہوا تھا اس میں میرا یقین اور زیادہ ہوگیا تو پس میں نے وہاں سے مٹی اٹھائی اور اس کا سرمہ اپنی بیٹی کو سونے کی حالت میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئی.