Jump to content
اسلامی محفل

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 09/25/2009 in all areas

  1. 4 points
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 3 points
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  3. 3 points
  4. 3 points
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  5. 3 points
    انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ کفر پر اختلافی بحث نہیں بلکہ دیوبندیوں کی حمایت اور اُن کے کفریہ کلام کی تاویلات کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ اور سُنی لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
  6. 3 points
    تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا نہ کہ اردو کا۔۔ مذاق ٹھٹا، کھیل، ناٹک یہ سب اردو کے مزید معانی ہیں۔ اوپر والی کتاب اردو لغت ہے۔ فارسی لغت نہیں۔۔ فارسی اصل ماخد ہے اس لفظ کا۔ آپ اپنی دلیل پر فارسی لغت ڈکشنری سے اس کے مختلف معنی پیش کرتے تب بھی کچھ بات بنتی۔ آپ نے جو جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی آپ کا اصل رد ہے۔۔ جتنے بھی صحیح اور غلط معنی لغت میں درج ہیں۔۔ وہ اردو کی لغت کے ہیں۔۔۔ مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ نے جو لفظ لکھا وہ اُس کے اصل مطلب پر لکھا۔۔۔ یعنی نظارہ کرنا۔ دوسرا آپ کی جہالت اس بات سے ثابت ہے۔ اردو زبان عربی، فارسی اور کچھ ترک الفاظ سے مل کر بنی۔۔ تو الفاظ جہاں سے لئے گئے پہلے اُس کے وہی معنی ہونگے پھر اُس کے دوسرےمعنی ہونگے۔ لفظ تماشائی کا جو مطلب آپ نے اس جگہ لکھا "تماشہ دیکھنے والا" ۔۔ یہی تو غلطی ہے۔ تماشا (فارسی) "دید، نظارہ" تماشا۔۔۔۔ئی ۔۔"نظارہ کرنے والا"۔۔۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس پوسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو مجرہ کی اوپر تشریح کی ہے۔ اُسی لفظ مجرہ کے اِسی اردو لغت کی کتاب میں غلط معنی بھی درج ہیں (نوٹ: عربی لغت نہیں۔۔ اردو لغت میں مجرہ کے غلط معنی)۔ اور یہاں پر ت مربوظ کا استعمال نہیں ہے کیونکہ لفظ مجرے استعمال ہوا شعر میں۔ مجرۃ نہیں۔ اور بڑی یے اردو کے تلفظ کیلئے نہیں لگائی گئی بلکہ اصل لفظ ہی اردو میں مجرا ہے جو عربی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آپ نے معنی کہکشاں آسماں وغیرہ کِیے ہیں۔۔ جبکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسے اصل آداب، جھکنا، سلام والے معنی میں لکھا ہے۔ پھر سے پڑھو۔ "بیت اللہ مجرے کو جھکا"۔ یعنی جھُک کر سلام پیش کرنا۔ آداب بجا لانا۔ جیسے لفظ مجرہ کے معنی تبدیل ہوگئے اور اب اکثر غلط معنی لئے جاتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ یہاں ہے۔ اب بتائو ان دو میں کونسا معنی لوگے؟ جھُک کر سلام پیش کرنا ۔۔۔ یا معاذ اللہ ناچنا وغیرہ جیسے گندے معنی؟ آپ سے کوئی بعید نہیں۔ شاید اس اسکرین شاٹ کے بعد آپ علی حضرت علیہ الرحمہ کو بھی گستاخ ثابت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔ اور اسی عربی کے کسی دوسرے لفظ کے صحیح معنی کے ساتھ غلط معنی بھی اردو میں جمع ہوجائیں تو کیا وہ عربی کا لفظ ہی غلط ہوجائے گا اور قرآن کریم میں اُس لفظ کا صحیح استعمال گستاخی بن جائے گی۔۔ نعوذ باللہ؟ مثالوں اور مختلف وقت میں مختلف چیزوں کی مختلف نوعیت کا بیان آپ کی جہالت، ہٹ دھرمی اور گندی سوچ کے آگے بالکل فضول ہے۔ چونکہ آپ اپنی جہالت اور گندی سوچ کہ مطابق بغیر فتوی لئے ایک عاشق رسول کو گستاخ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں شیطان لعین سے اور آپ جیسے شخص سے۔
  7. 3 points
    ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ سے دعاء کرسکتا ہے۔ اس وہابی کے میرے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگرایک بندہ قرآن وحدیث والے اذکار کو پڑھتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہ ہو تو کیا معاذاللہ قرآن و حدیث کو جھٹلا دیں ؟؟؟ 2۔اگر دو بندے ایک ہی ذکر والے کلمات کو پڑھتے ہیں ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے اور دوسرے کی نہیں ہوتی تو کیا اس میں دعا قبول ہونے والےشخص کے تجربے کو جھوٹا کہا جائے گا؟؟ 3۔ جب بندہ اپنی طرف بنائے ہوئےکلمات سےاللہ عزوجل سے دعا مانگ سکتا ہے توکیا کسی ولی یا کسی نیک بندے کے تجربے والی دعااللہ عزوجل سے کیوں نہیں مانگ سکتا ؟؟ مرتے دم تک کوئی وہابی ان سوالات کے جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  8. 3 points
  9. 3 points
  10. 3 points
  11. 3 points
    Source: dawatulquran.net/ham-naami-ka-mughalta/
  12. 2 points
    جوابات تو ہیں اس بارے میں لیکن آپ سے یہ کہا گیا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں۔ جو علماء اور صوفیاءکرام قوالی کے جواز کے قائل ہیں کچھ شرائط کے ساتھ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟؟؟ آپ کے سب سوالات کا جوابات بعد میں دیے جائیں۔
  13. 2 points
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  14. 2 points
    بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم الصــلوة والسلام عليك يارسول الله ﷺ Ahle Iblees/Wahabi/Deobandi/Najdi Hamesha Yeh Kahte Hain k Bid'at Ki Koi Qism Nahi Hoti Balkeh Bid'at Sirf Ek Hai Or Woh Hai Bid'at-e-Sayyah....! Hum Mohaddisin k Aqwal Se Janege k Haqeeqat Me Bid'at k Kitne Iqsam Hote Hain امام عزالدين عبدالعزيز بن عبداسلام السلمى الشافعى جو اپنے وقت کے بہت بڑے اصولی محدث اور امام تھے اہل زمانہ انہیں سلطان العلماء پکارتے تھے وہ اپنی کتاب قواعدالأحکام فى مصالح الأنام میں فرماتے ہیں کے بدعت کے پانچ اقسام ہیں. البدعة فعل مالم يعهد فى عصر رسول الله ﷺ وهى منقسمة إلى بدعة واجبة و بدعة محرمة و بدعة مندوبة و بدعة مكروهة و بدعة مباحة. ترجمہ: بدعت سے مراد وہ فعل ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں نہ کیا گیا ہو، بدعت کی حسب ذیل اقسام ہیں- واجب، حرام، مستحب، مکروہ اور مباح. 》قواعدالأحكام فى مصالح الأنام، جلد ٢، صفحہ ٢٠٤. Imam Abu Zakariya Mohiuddin Bin Sharf Nawawi Ka Ai'teqad Or Mazhab Bhi Yahi Hai k Bid'at 5 Qism Ki Hai.... Imam Nawai Bid'at Ki Tareef Or Is k Iqsam k Motaliq Likhte Hain k..... قَالَ الْعُلَمَاءُ الْبِدْعَةُ خَمْسَةُ أَقْسَامٍ وَاجِبَةٌ وَمَنْدُوبَةٌ وَمُحَرَّمَةٌ وَمَكْرُوهَةٌ وَمُبَاحَةٌ فَمِنَ الْوَاجِبَةِ نَظْمُ أدلة المتكلمين لِلرَّدِّ عَلَى الْمَلَاحِدَةِ وَالْمُبْتَدِعِينَ وَشِبْهُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمَنْدُوبَةِ تَصْنِيفُ كُتُبِ الْعِلْمِ وَبِنَاءُ الْمَدَارِسِ وَالرُّبُطِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَمِنَ الْمُبَاحِ التَّبَسُّطُ فِي أَلْوَانِ الْأَطْعِمَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ وَالْحَرَامُ وَالْمَكْرُوهُ ظَاهِرَانِ وَقَدْ أَوْضَحْتُ الْمَسْأَلَةَ بِأَدِلَّتِهَا الْمَبْسُوطَةِ فِي تَهْذِيبِ الْأَسْمَاءِ وَاللُّغَاتِ فَإِذَا عُرِفَ مَا ذَكَرْتُهُ عُلِمَ أَنَّ الْحَدِيثَ مِنَ الْعَامِّ الْمَخْصُوصِ وَكَذَا مَا أَشْبَهَهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ وَيُؤَيِّدُ مَا قُلْنَاهُ قَوْلُ عمر بن الخطاب رضي الله عنه في التَّرَاوِيحِ نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ وَلَا يَمْنَعُ مِنْ كَوْنِ الْحَدِيثِ عَامًّا مَخْصُوصًا قَوْلُهُ كُلُّ بِدْعَةٍ مُؤَكَّدًا بِكُلِّ بَلْ يَدْخُلُهُ التَّخْصِيصُ مَعَ ذَلِكَ كَقَوْلِهِ تَعَالَى تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ. ترجمہ: علماء نے بدعت کے پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہہ اور مباح بیان کی ہے بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر امور کے رد کے لئے استعمال کرنا ہے اور بدعت مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا- بدعت مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں اور اس مسئلہ کو تفصیلی دلائل کے ساتھ میں نے تھذیب الاسماء واللغات میں واضح کر دیا ہے- جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اگر اس کی پہچان ہو جائےگی تو پھر یہ سمجھنا آسان ہے کہ یہ حدیث اور دیگر ایسی احادیث جو ان سے مشابہت رکھتی ہیں عام مخصوص میں سے تھیں اور جو ہم نے کہا اس کی تائید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نعمت البدعة کرتا ہے اور یہ بات حدیث کو عام مخصوص کے قاعدے سے خارج نہیں کرتی- قول کل بدعة لفظ كُلَّ کے ساتھ مؤكد ہے لیکن اس کے باوجود اس میں تخصیص شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالی کے ارشاد *تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ (وہ ہر چیز کو اکھاڑ پھینکےگی) میں تخصیص شامل ہے- 》IMAM NAWAWI, SHARAH SAHIH MUSLIM, JILD 6, SAFA 154-155. Imam Ibn Asir Jazri Hadees-e-Umar Radi Allaho Anho «نِعْمَت البِدْعَة هَذِهِ» k Tahat Bid'at k Iqsam Or In Ka Sharayi Mafhum Bayan Karte Huwe Likhte Hain k....... الْبِدْعَةُ بِدْعَتَان: بِدْعَةُ هُدًى، وَبِدْعَةُ ضَلَالٍ، فَمَا كَانَ فِي خِلَافِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ ورسوله صلى الله عليه وسلم فَهُوَ فِي حَيِّز الذَّمِّ وَالْإِنْكَارِ، وَمَا كَانَ وَاقِعًا تَحْتَ عُموم مَا نَدب اللَّهُ إِلَيْهِ وحَضَّ عَلَيْهِ اللَّهُ أَوْ رَسُولُهُ فَهُوَ فِي حَيِّزِ الْمَدْحِ. ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ جو کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو وہ مزموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عالم حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعالی نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ نے اس حکم پر راغب کیا ہو محمود ہے- 》IMAM IBN ASIR JAZRI, AL NIHAYA FI GHARIBUL HADEES WAL ASR, SAFA 106. Imam Abdur Ra'uf Manawi Apni Kitab FAIZ-UL-QADEER SHARAH JAME-US-SAGHIR Me Farmate Hain k...... فإن البدعة خمسة أنواع: محرمة وهي هذه واجبة وهي نصب أدلة المتكلمين للرد على هؤلاء وتعلم النحو الذي به يفهم الكتاب والسنة ونحو ذلك ومندوبة كإحداث نحو رباط ومدرسة وكل إحسان لم يعهد في الصدر الأول ومكروهة كزخرفة مسجد و تزويق مصحف و مباحة كالمصافحة عقب صبح و عصر وتوسع في لذيذ مأكل وملبس ومسكن ولبس طيلسان وتوسيع أكمام ذكره النووي في تهذيبه. ترجمہ: بدعت کے پانچ اقسام ہیں اور وہ یہ ہیں پہلی بدعت واجبہ ہے اور وہ یہ کہ ان تمام مذاہب کو رد کرنے کے لئے متکلمین کے دلائل پیش کرنا اور اسی طرح علم نحو کا سیکھنا تاکہ قرآن و سنت کو سمجھا جا سکے اور اس جیسے دیگر علوم کا حاصل کرنا بدعت واجبہ میں سے ہیں اور اسی طرح سرائے اور مدارس وغیرہ بنانا اور ہر اچھا کام جو کہ زمانہ اول میں نہ تھا اسے کو کرنا بدعت مستحبہ میں شامل ہے اور اسی طرح مسجد کی تزئین اور قرآن مجید کے اوراق منقش کرنا بدعت مکروھہ میں شامل ہے اور اسی طرح (نماز) فجر اور عصر کے بعد مصافحہ کرنا اور لذیذ کھانے، پینے، پہننے، رہنے، اور سبز چادر استمعال کرنے میں توسیع کرنا اور آستینو کا کھلا رکھنا بدعت مباحہ میں سے ہے- اس کو امام نووی نے اپنی تھذیب میں بیان کیا ہے- 》IMAM ABDUR RA'UF MANAWI, FAIZ-UL-QADEER SHARAH AL-JAME-US-SAGHIR, JILD 1, SAFA 439-440. Imam Jalaluddin Suyuti Apne Fatawa, Al-Hawi Lil Fatawa Me Imam Nawawi k Hawale Se Bid'at k Iqsam Bayan Karte Huwe Likhte Hain k........ أن البدعة لم تنحصر في الحرام والمكروه، بل قد تكون أيضا`` مباحة و مندوبة و واجوبة. قال النووى فى تهذيب الأسماء واللغات، البدعة في الشرح هي إحداث ما لم يكن في عهد رسول الله ﷺ وهي منقسمة إلى حسنة و قبيحة وقال الشيخ عزالدين بن عبدالسلام في القواعد: البدعة منقسمة إلى واجبة و محرمة و مندوبة و مكروهة و مباحة. ترجمہ: بدعت حرام اور مکروہ تک ہی محصور نہیں ہے بلکہ اسی طرح یہ مباح، مندوب اور واجب بھی ہوتی ہے جیسے کہ امام نووی اپنی کتاب تھذیب الأسماء واللغات میں فرماتے ہیں کہ شریعت میں بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نہ ہوا ہو اور یہ بدعت، بدعت حسنہ اور بدعت قبیحہ میں تقسیم ہوتی ہے اور شیخ عزالدین بن عبدالسلام اپنی کتاب قواعد الاحکام فی مصالح الانام میں فرماتے ہیں کہ بدعت کی پانچ قسم ہے واجب، حرام، مندوب، مکروہ اور مباح کے اعتبار سے ہوتی ہے- 》IMAM JALALUDDIN SUYUTI, AL-HAWI LIL FATAWA, JILD 1, SAFA 192. Imam Ibn Hajar Asqalani Fatahul Bari Sharah Sahih Bukhari Me Bid'at Ki Tareef Or Iqsam Per Bahas Karte Huwe Farmate Hain..... والبدعة أصلها ما أحداث على غير مثال سابق، و تطلق فى الشرع فى مقابل السنة فتكون مذمومة، والتحقيق أنها إن كانت مما تندرج تحت مستحسن فى الشرع فهى حسنة و إن كانت مما تندرج مستقبح فى الشرع فهى مستقبحة، وإلا فهى من قسم المباح و قد تنقسم إلى الأحكام الخمسة. ترجمہ: بدعت سے مراد اسے نئے امور کا پیدا کیا جانا ہے جن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملے اور ان امور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ ناپسندیدہ عمل ہے، اور بالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنه ہے اور اگر وہ بدعت شریعت میں ناپسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبه(یعنی بری بدعت)کہلائے گی اور اگر ایسی نہ ہو تو اس کا شمار بدعت مباح میں ہوگا- بدعت کو شریعت میں پانچ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے- 》IMAM IBN HAJAR ASQALANI, FATAHUL BARI SHARAH SAHIH BUKHARI, JILD 4, SAFA 298. Imam Qustalani Hazrat Umar Radi Allaho Ta'ala Anho k Farman نعم البدعة هذه k Tahat Bid'at Ki Ta'reef Or Taqseem Bayan Karte Huwe Likhte Hain...... "نعم البدعة هذه" سماها بدعة لأنه ﷺ لم يسن لهم الاجتماع لها كانت زمن الصديق ولا أول الليل ولا كل ليلة ولا هذا العدد. وهى خمسة واجبة و مندوبة و محرمة و مكروهة و مباحة. ترجمہ: "نعم البدعة هذه" کے تحت نماز تراویح کو بدعت کا نام ديا گیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے تراویح کے لئے اجتماع کو مسنون کرار نہیں دیا اور نہ ہی اس طریقہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں (پابندی کے ساتھ) رات کے ابتدائی حصے میں تھی اور نہ ہی مستقلا" ہر رات پڑھی جاتی تھی اور نہ (تراویح کی رکعات کا) یہ عدد متعین تھا اور بدعت کی پانچ اقسام واجب، مندوب، حرام، مکروہ اور مباح ہیں. 》IMAM QUSTALANI, IRSHAD-US-SARI SHARAH SAHIH BUKHARI, JILD 3, SAFA 426. Wahabiyon k Bahut M'otabar Yaman k Maroof Or Gair Moqallido k Azeez Alim Shaikh Showkani Jinhe Naam-o-Nihad Ahle Hadees Or Salfi Apna Imam Mante Hain Woh Hadees-e-Umar نعمت البدعة هذه k Mota'liq البدعة أصلها ما أحدث على غير مثال سابق و تطلق فى الشرع على مقابلة السنة فتكون مذمومة والتحقيق إنها إن كانت مما يندرج تحت مستحسن فى الشرع فهى حسنة وإن كانت مما يندرج تحت مستقبح فى الشرع فهى مستقبحة و إلا فهى من قسم المباح و قد تنقسم إلى الأحكام الخمسة. ترجمہ: لغت میں بدعت اس کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئ مثال نہ ہو اور اصطلاح شرع میں سنت کے مقابلہ میں بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے یہ مذموم ہے اور تحقیق یہ ہے کہ بدعت اگر کسی ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں مستحسن ہے تو یہ بدعت حسنہ ہے اگر ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیئہ ہے ورنہ بدعت مباح ہے اور بلاشبہ بدعت کی پانچ اقسام ہیں. 》شوکانی، نیل الاوطار شرح منتقی الأخبار، جلد ٣، صفح ہ ٥٠٠-
  15. 2 points
    ان تمام محدثین پر وہابی بدعت کا فتویٰ کیوں نہیں لگاتے بلکہ انکو امام کہتے ہیںَ اور یہ آخر میں وہابیوں کے شیخ شوکانی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بدعت کی اقسام ہوتی ہیں۔ وہابی منافقت چھوڑکر ان محدثین کی پیروی کریں۔ یا منافقت نہ دیکھائیں ان پر بدعتی کا فتویٰ لگوا دیں اپنے ملاوں سے۔
  16. 2 points
    پوسٹ نمبر ۳ سے کافی لنکس کو فکس کر دیا ہے۔ کچھ لنکس بالکل کام نہیں کر رہے۔ جیسے حضرت موسی سہاگ والے اعتراض پر جوابات۔ فورم ممبرز سے گزارش ہے کہ اس سے متعلقہ ٹاپک فورم پر تلاش کرنے میں مدد کریں۔اس طرح اعلی حضرت علیہ الرحمہ پراعتراضات جوابات سے متعلق مزید ٹاپکس ہوں تو ٹیم ممبرز کو مطلع کریں تاکہ اُن کے لنکس یہاں ایڈ کیے جا سکیں۔ اعتراضات و جوابات کی ایک باقائدہ سیٹنگ ترتیب دینے کی جلد کوشش ہوگی۔ ان شاء اللہ۔تاکہ جوابات کو باآسانی تلاش کیا جا سکے۔
  17. 2 points
    میں نے اس بات وضاحت کر دی ہے کہ اگر اس کی نیت انبیاءکرام علیہم السلام میں شمولیت اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی تفضیل پر نہیں تو پھر جائز ہے۔ اس نعرہ میں یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ سوالاکھ بار نعرہ حیدری تو اس میں کونسی شرعی قباحت ہے؟؟؟ یہ بات نعرہ لگانے کی نیت پر ہے اور نیت کا علم اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے۔ویسے یہ نعرہ لوگوں کے عقائد کے مطابق ہو گا، جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کی مراد ہو گی ۔ اگر نعرہ لگانے والا رافضی ہے تو اس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفضیل انبیاء کرام علیہم السلام پر اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر ہے کیونکہ یہ ان کا عقیدہ ہے۔ لیکن اگر یہ نعرہ کوئی صحیح عقائد والا سنی لگائے تو اس میں اس کی مراد یہ ہو گی کہ سوا لاکھ بار نعرہ حیدری کیونکہ کسی بھی صحیح عقائد والے سنی کا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام میں شامل ہیں اور نہ ہی حضرت شیخین رضی اللہ عنہما پر تفضیل والا عقیدہ ہے۔ اس نعرہ کی وجوہات عقائد پر ہے جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی مراد ہو گی۔باقی نیت کا صحیح علم اللہ بہتر جانتا ہے۔
  18. 2 points
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga
×
×
  • Create New...