Jad Dul Mukhtar

Members
  • Content count

    733
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    25

Everything posted by Jad Dul Mukhtar

  1. اسلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ و مغفرہ مسجد کی تعمیر میں حصہ لے کر ثواب جاریہ حاصل کریں ہمارے علاقہ میں مسجد کے لئے ایک جگہ خریدی جاری ہے ، جس کی قیمت 99،00،000 لاکہ روپے ہے ـ آپ تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے مدنی التجاء ہے کہ اللہ تعالی کے گھر کی تعمیر میں حصہ لے کر اپنے لئے ، اپنے والدین ، اپنے گھر والوں ، اور اپنے مرحومین کے لئے ثواب جاریہ حاصل کریں ـ الحمد اللہ ! پیارے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں دعوت اسلامی اللہ عزوجل اور اسکے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ایسی نعمت ہے کہ جس پر اللہ عزوجل کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ـ مساجد میں نماز کے ساتھ ساتھ روزانہ درس و بیان ، مدرسہ بالغان ، تحصیل اجتماع ، تعویزات عطاریہ ، مدنی قافلہ اور بہت سارے مدنی کام ہوتے ہیں ـ آپ تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے مدنی التجاء ہے کہ آپ سے جتنا ہو سکے درج ذیل اکاؤنٹ میں مدنی عطیات جمع کروا سکتے ہیں ، اور باب المدینہ کے اسلامی بھائی چاہیں تو مجھے بھی دے سکتے ہیں ـ اسلامک محفل کے 1381 کے آس پاس ممبر ہیں اگر ایک ممبر کم ازکم 100 روپے بھی جمع کروائے تو ان شاء اللہ عزوجل کثیر مدنی عطیات جمع ہو جمع ہو جائیں گے ـ ہو سکے تو اپنے رشتہ داروں ، دوست احباب اور گھر والوں سے بھی ترکیب بنائیں ـ ACCOUNT TITLE: FARAZ BIN ALI ACCOUNT NUMBER # : 4353-8 (PLS) BANK NAME : ALLIED BANK LTD. DASTAGIR COLONY BRANCH CODE : 136 امید ہے کہ آپ تمام ممبر اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ـ ان شاء اللہ عزوجل
  2. اسلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ و مغفرہ کنزالایمان اہلحدیث کی نظر میں
  3. Aqeeda Tehreef e Quran Part 1
  4. اسلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ و مغفرہ شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد یزیدیوں کا انجام
  5. یزید نے قتل حسین پر ماتم کیا یزید نے کہا : ـ شامیو ! تم مجھے کہتے ہو کہ میں نے امام حسین کو قتل کیا ہے ـ یا ان کے قتل کا حکم دیا ـ انہیں تو ابن مرجانہ نے قتل کیا تھا ـ یہ کہہ کر ان لوگوں کو یزید نے بلوایا ـ جو شہادت امام حسین کے وقت موجود تھے ـ جب اس کے روبرو پیش ہوئے ـ تو اس نے پوچھا ـ بتلاؤ امام حسین کا قاتل کون ہے ؟ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کو قاتل کہنے شروع ہو گئے ـ اس حالت کو دیکھ کر یزید بولا ـ بربادی ہے تمہارے لیے ـ میں کیا دیکھتا ہوں کہ تم امام حسین کا قتل ایک دوسرے پر ڈال رہے ہو ـ ان حاضرین نے کہا کہ انہیں قیس بن الربیع نے شہید کیا تھا ـ قیس بن الربیع سے یزید نے پوچھا ـ تو نے قتل کیا تھا ؟ کہنے لگا نہیں ہرگز نہیں ـ میں نے تو قتل نہیں کیا تھا ـ یزید نے پوچھا تو پھر اور کس نے قتل کیا تھا ـ قیس بولا حضور بتلاتا ہوں ـ اگر امان مل جائے ـ کہا جاؤ تمہیں امان ہے ـ بتلا دو ؟ قیس نے کہا ـ خدا کی قسم ! امام حسین کا قاتل وہ ہے ـ جس نے جھنڈے گاڑے تھے ـ اور جس نے مجرموں کے سامنے مال رکھا تھا ـ اور جس نے لشکر لے کر چڑھائی کی تھی ـ یزید نے پوچھا ـ آ خر وہ کون ہے ؟ قیس نے کہا خدا کی قسم ! یزید تمہیں وہ شخص ہو جو قاتل حسین ہے ـ اس پر یزید سخت غصہ میں آیا اور وہاں سے اٹھ کر گھر آگیا ـ پھر ایک تھال میں امام حسین کے سر انور کو رکھا ـ اور رومال دے دیا ـ جو دیبقی تھا ـ اسے گود میں لے کر اپنے رخسار پیٹنے لگا ـ اور کہتا جاتا تھا ـ مجھے کیا ہو گیا کہ میں نے امام حسین کو قتل کر دیا ؟ اور مجھے امام کے قتل سے کیا غرض تھی ؟ ( مقتل ابی مخنف ، ص 139 ، تذکرہ دخول السبایا الی الشام ، مطبوعہ نجف ) مقتل ابی مخنف کے مصنف لوط بن یحیے شیعی نے یہ اقرار کیا ہے کہ یزید کے بارے میں شامیوں میں جو یہ بات مشہور تھی کہ امام حسین کا قاتل یزید ہے ـ یہ غلطی تھی بلکہ یزید اس قتل میں کسی طرح بھی ملوث نہ تھا ـ اس سے بڑھ کر یہ بات کہ جب اس کو معلوم ہوا کہ مجھ پر قتل حسین کا الزام لگ ہے اور میرے منہ پر کہا گیا کہ تم قاتل حسین ہو ـ تو اس غصہ میں آکر اٹھ کر کھڑا ہوا اور امام حسین کے سر انور کو گود میں لے کر خوب چہرا پیٹا ـ حس سے یہ بات باکل واضح ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک یزید نہ تو قاتل حسین ہے اور نہ ہی اس میں ملوث بلکہ وہ تو اس قتل پر ماتم کرنے والا ماتمی شیعہ تھا ـ یزید اہل بیت کا غم گسار اور قاتل حسین کو ملعون کہتا تھا پھر یزید نے اہل بیت اطہار کی مستورات اور ان کے بچوں کو بلوایا ـ یہ سب اس کے سامنے بیٹھ گئے ـ ان حضرات کی دگرگوں حالت دیکھ کر یزید بولا ـ اللہ ابن مرجانہ کا ستیاناس کرے ـ اگر تمہارے اور اس کے درمیان قرابت داری ہوتی تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتا ـ اور نہ ہی تمہاری یہ حالت ہوتی ـ جنابہ سیدہ فاطمہ بنت حسین فرماتی ہیں ـ جب ہم یزید کے سامنے بیٹھ گئے ـ اس نے ہمارے سامنے بڑی غم خواری کی ـ پھر یزید نے حکم دیا کہ اس میں سے عورتوں کو ان کے بھائی علی بن الحسین کے ساتھ علیحدہ کمروں میں بٹھایا جائے ـ لہذا ان کے لیے علیحدہ رہائش کا بندوبست ہو گیا ـ اور ان کی رہائش گاہ یزید کے گھر کے بالکل متصل تھی ـ وہاں کئی دن ٹھہرے ـ یزید نے نعمان بن بشیر کو بلا کر کہا ـ تیاری کرو اور ان عورتوں کے ساتھ تمہیں مدینہ منورہ جانا ہے جب تیاری ہو گئی ـ تو یزید نے علی بن الحسین کو تنہائی میں بلا کر کہا ـ ابن مرجانہ پر اللہ کی لعنت ہو ـ خدا کی قسم ! اگر میں تمہارے والد کے پاس ہوتا ـ اور وہ مجھ سے کوئی بھی مطالبہ کرتے ـ تو میں اسے ہر ممکن پورا کرنے کی کوشش کرتا ـ اور ان کو موت کے چنگل سے بچان کی ہر سعی کرتا ـ لیکن اللہ کو منظور تھا وہی ہو گیا ـ جب مدینہ پہنچ جاؤ ـ تو مجھے واپسی تحریری اطلاع دینا ـ آپ کی ہر ضرورت پورا کرنا میری ذمہداری ہے ـ یہ کہہ کر کچھ کپڑے دیئے جو ان کے اور ان کے گھر والوں کے لیے تھے ـ ان کے ساتھ نعمان بن بشیر کو بھیجا ـ اور اسے ہدایت کی کہ رات کو سفر کرنا اور اس قافلے کے پیچھے پمہیں رہنا ہو گا ـ تاکہ وہ نظر سے اوجھل نہ ہونے پائیں ـ جب یہ تمام حضرات کسی جگہ جلوہ فرما ہوں پیچھے تم نعمان بن بشیر علیحدہ کھڑے رہنا ـ حضرت علی بن حسین اور ان کے گھر والے علیحدہ رہیں ـ چوکیدار کی طرح چاروں طرف کی نگاہ رکھنا ـ اور دوران سفر انہیں ایسے مقام پر اتارنا ـ جہاں ان میں سے اگر کوئی فرد وضوء یا قضائے حاجت کرنے جائے تو انہیں وحشت نہ آئے ـ اس قافلہ کو لیے نعمان بن بشیر روانہ ہوا ـ اور جہاں کہیں مناست سمجھتا ـ ان کو راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کو کہتا اور بڑی نرمی سے ان سے پیش آتا ـ کیونکہ یزید کی اسے یہی وصیت تھی اور ان حضرات کی کما حقہ رعایت کرتے ہوئے انہیں مدینہ منورہ پہنچایا ـ (ارشاد شیخ مفید ، ص 246 - 247 فی مکالمۃ علی بن الحسین مع یزید ـ مطبوعہ نجف ) ( جلاء العیون ، ص 622 ، حرکت اہل بیت از شام بطرف مدینہ منورہ ، مطبوعہ تہران طبع جدید ) اعلام الوری ، ص 149 ، فی مجلس الزنیم ، مطبوعہ بیروت جدید ) پھر یزید نے اہل بیت کو اپنے مخصوص مکان میں ٹھہرایا ـ اس دوران اس نے کبھی بھی امام زین العابدین کے بغیر صبح و شام کا کھانا نہ کھایا ـ ( بحار الانوار ، جلد 10 ، ص 254 ، تاریخ حسین بن علی ، طبع ایران قدیم ) پھر یزید نے علی ین حسین کو بلا کر کہا ـ ابن مرجانہ پر اللہ کی لعنت ہو ـ خدا کی قسم ! اگر میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب ہوتا ـ تو وہ جو کچھ مجھ سے مانگتے اسے ضرور پورا کرتا ـ اور اپنی طاقت کے مطابق ان کو موت سے بچاتا ـ اگر اس کی خاطر مجھے اپنی اولاد سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونے پڑتے لیکن اللہ تعالی کو وہی منظور تھا ـ جو کچھ تم دیکھ چکے ـ ( بحار الانوار ، جلد 10 ، ص 255 ، تاریخ حسین بن علی )
  6. Assalam-u-Alaikum wa rahmatullahi ta'ala wa barakatuh
  7. Assalam-u-alaikum wa rahmatullahi ta'ala wa barakatuh
  8. ASSALAM-U-ALAIKUM WA RAHAMTULLAHI TA'ALA WA BARAKATUH WA MAGFIRAH
  9. Mirza Ahle-Hadees Ya Hanafi ???
  10. Last 2
  11. Next 4
  12. Next 4
  13. Next 4
  14. Next 4
  15. Next 4
  16. Next 4
  17. Next 4
  18. Next 4
  19. Next 4
  20. Complete and Final Article
  21. نانوتوی کی قبر اور وحی کا نزول مولانا رفیع الدین صاحب مجددی سابق مہتمم دارالعلوم کا مکاشفہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کی قبر عین کسی نبی کی قبر ہے ـ ( مبشرات دارالعلوم ص 36 مطبوعہ محکمہ نشر و اشاعت دارالعلوم دیوبند انڈیا ) ایک دن مولانا نانوتوی نے اپنے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ صاحب سے شکایت کی کہ : ـ جہاں تسبیح لےکر بیثھا بس ایک مصیبت ہوتی ہے اس قدر گرانی کہ جیسے 100 سو 100 سو من کے پتھر کسی نے رکھ دیئے ہوں زبان و قلب سب بستہ ہو جاتے ہیں ـ ( سوانح قاسمی ج 1 ص 258 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) اس شکایت کا جواب حاجی صاحب کی زبانی کہ یہ نبوت کا آپ کے قلب پر فیضان ہوتا ہے اور یہ وہ ثقل ( گرانی ) ہے جو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو وحی کے وقت محسوس ہوتا تھا تم سے حق تعالی کو وہ کام لینا ہے جو نبیوں سے لیا جاتا ہے ـ ( سوانح قاسمی ج 1 ص 259 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) عین کسی نبی کی قبر ہے ، نبوت کا فیضان وحی کی گرانی اور کار انبیاء کی سپردگی ان سارے لوازمات کے بعد نہ بھی صریح لفظوں میں ادعائے نبوت کیا جائے جب بھی اصل مدعا اپنی جگہ پر ہے ـ نانوتوی صاحب فرشتہ تھے مولوی نظام الدین صاحب مغربی حیدرآبادی مرحوم جو مولانا رفیع الدین صاحب سے بیعت تھے اور صالحین میں سے تھے احقر سے فرمایا جبکہ احقر حیدرآباد گیا ہوا تھا کہ مولانا رفیع الدین فرماتے تھے کہ میں پچیس برس مولانا نانوتوی کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور کبھی بلا وضوء نہیں گیا میں نے انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا ہے وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر کیا گیا ـ ( ارواح ثلثہ ص 231 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) دیوبندیوں سے یہ کوئی پوچھے کہ اپنے مولوی کی تعریف کرتے وقت نور و بشر کی بحث بھول گئے ـ یہ تو نانوتوی کو بشر ہی نہیں مانتے فرشتہ مانتے ہیں ـ بھول گئے تقویۃ الایمان کے مصنف اپنے غبی امام کی کفر کی فیکٹری ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
  22. ASSALAM-U-ALAIKUM WA RAHAMTULLAHI TA'ALA WA BARAKATUH WA MAGFIRAH