AshiqeRasool

Members
  • Content count

    30
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

AshiqeRasool last won the day on January 20 2016

AshiqeRasool had the most liked content!

Community Reputation

7 Neutral

About AshiqeRasool

  • Rank
    Member

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab
  1. دیباچہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلحَمْدُلِلِّٰہ الَّذیْ لَہُ الْبَقَاءُ وَالدَّوَامْoوَالصَّلوٰۃ وَالسَّلاَمُ عَلٰی خَےْرِ الْاَنَامِoمُحَّمَدٍوَّاِلِہٖ وَاَصْحَابہ وَاَتْبَاعِہٖ الْعِظَامْoوَعَلٰی اِمَامِنَااِمَامِنَااِمِامِ الْاَ عْظَمِ وَالْھُماَ مِ اَلاَکْرَمِ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ الْکِرَامْo وَعَلٰی مُرْشِدِ نَا وَھََا دِیْنَا قُطُبِ الْاَقْطَابِ الْمَحْبُوبِ السُّبْحَانِیْ اَلسَّیَّد عَبْدِ الْقَادِرِ الْحَسَنِیْ الْحُسَیْنِیْ الْفِخَامِ o بعد حمد وصلوٰۃ کے مترجم کتاب ہذااحقرالعبادسید شاہ محمد عبدالغفار قادری الحنفی اعلیٰ مدرس مدرسہ ء عربیہ جامع العلوم معسکر بنگور ابن جامع معقول حاوی منقول ْ حضرت مولانا مولوی قاضی سید شاہ محمد عبد القدوس قادری الحنفی بنگور ی مدظلہ العالی عرض کرتا ہے کہ انسان کی حیات مستعار کا اعتبار نہیں اور یہ وجود ظاہری پائیددار نہیں ,یہ دنیا ئے دون اقامت کی جانہیں ہے بلکہ ابک گزرگاہ ہے کہ اس سے گزر کے منزلِ عقبیٰ پرپہنچنا ہوتا ہے جیسا کہ رسولِ خدا (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے مسافر کو گرمی کے دن میں کوئی درخت ملے اس کے سایہ کے نیچے تھوڑا آرام لے پھر چل دے اور اس کو چھوڑ جائے ۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ انسان کی حیات مانند حباب دریا کے ہے اس کو قیام و دوام نہیں پس یہاں کی زندگی کی مدت حقیقت میں محض بے حقیقت ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ دنیا ایک پل ہے اس پر سے گزر جاؤ اس لیے کہ دنیا جائے سفر ہے نہ اقامت کا گھر۔ جب کہ اس مستعار گھر میں ایک مدت تک ٹھہرنا لازم قرار دیا گیا ہے توچاہیے کہ جانے سے پہلے اس کا حال معلوم کرکے جائیں تاکہ پہنچنے کے وقت اجنبیت محض نہ ہو اور جو عقائد واعمال وافعال وہاں زیادہ مفید ہیں ان کے حاصل کرنے میں یہاں سعی کی جائے اور جووہاں مضر ہیں ان سے یہاں بچے جیسا کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی قدس اللہ سرہ السامی کتاب مثنوی شریف میں جو مقبول علمائے شریعت وطریقت ہے,لسان فیض ترجمان سے ارشاد فرماتے ہیں۔ تومکانی اصل تو در لا مکان این وکان بربند وبکشا آن دوکان اے خنک آنرا کزین ملکت بجست کہ اجل این ملک راویران گراست صالحان را کار عقبیٰ اختیار جاہلان راکارِ دنیا اختیار این جہان زندان دمازند انیال حفرہ کن زندان خود رادارہان گفت دنیا لعب ولہو است وشمار کو وکید دراست فرماید خدا اس لیے امامانِ عظام وعلماء کرام نے اس باب میں بہت کتابیں لکھیں ہر امر کی خوب تحقیق و تنقیح کی آیات شریفہ,احادیث عظیمہ ,آثار کریمہ جمع کیے۔ ان کتب سے شرح برزخ لکھی جس کو امام ابوسعید سلمی حنفی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ)نے جو علماء متاخرین سے تھے جمع کیا ہے جس کے اکیاسی باب اور چھ فصلیں ہیں۔اور ہر حدیث سے جو مسائل فقیہہ نکلتے ہیں اس کو وقال(رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) سے خوب تشریح کیا چونکہ یہ کتاب عربی اور کمیاب ہے کہیں مطبوعاً نظرنہ آئی ۔ پس راقم نے پہلے استخارہ شرعی کیا اور مؤلف(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی روح سے اس کے ترجمہ مع الشرح کے لیے استعانت چاہی اور اصل عربی کو بحال رکھ کر بطورمتن کے داخل نصاب کیا اور اس کا ترجمہ ذیل میں مع الشرح کیا اور فائدہ میں دیگر کتب مشہور ہ برزخ سے اصل مضامین کو بڑھا دیا جیسا کہ شرح الصدور بشرح حال الموتیٰ والقبور فارسی رسالہ تالیف حضرت قاضی ثناء للہ پانی کی وغیر ذلک من الرسائل امعتبرۃ امنیفۃجس کی تفصیل آخر کے رسالے میں مندرج ہے اور تاریخی نام تصریح الاوثق فی ترجمہ شرح البرزخ رکھا۔ترجمہ میں اصل عربی کو بحال رکھ کے بطور متن کے داخل کتاب کیا تاکہ اُن علماء کو جنہیں اصل کتاب میسر نہیں ہوئی فائدہ حاصل ہو اور ترجمہ میں اکثر مقامات پر بحسب ضرورت (فائدہ) کے تحت اس کے مسائل کو ادلّہ معتبر اور اسناد لائقہ سے مبر ہّن اور مزیّن کیا ۔اس تشریح میں ازروئے مناسب دیگر مسائل ضروریہ کو معہ ادلّہ معتبرہ بڑھا دیا تاکہ طالب کو تنقیح دلائل وبراہین میں تشنگی باقی نہ رہے۔جس حدیث کو مؤلف(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) نے اپنی اصل کتاب میں کتب احادیث سے حوالہ نہیں دیا مترجم نے اکثر مقامات پر اس کا ماخذ کتب احادیث سے بتلا دیا ہے۔ خاصتہً اس کے تجس کے لیے بہت محنت بلیغ وسعی جمیل کی ہے۔ تاکہ ہر خاص وعام اس سے مستفید ومستفیض ہوں اور اس کی تنقیح پر اور کتب احادیث وقفہ سے اس کے نظائر وامثال بخوبی ظاہر کیا اورمؤلف(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کتاب ہذانے جس جگہ فقط راوی کا نام لکھا اور اس کی تشریح صحابی وتابعی سے نہیں کی۔ احقر نے اکثر مقام پر اس کی تفصیل وتشریح کردی ہے اور اس کا حوالہ بھی کتب احادیث وتواریخ سے بتلا دیا ہے مثل التسیر شرح جامع الصیغرامام مناوی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) اور مجمع بحار الانوارمحدث محمد طاہرفتنی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) ۔اور شرح صحیح مسلم امام نووی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور عمدۃ القاری شرح صحیح بخاریامام بدرالدین عینی حنفی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور فتح الباری شرح صحیح بخاریامام ابن حجر عسقلانی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ)کی اور ارشاد الساری شرح صحیح بخاریامامِ قسطلانی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور تیسیر القاری شرح صحیح بخاریمحدث نور الحق حنفی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی۔ اور شیخ الاسلام علی البخاریمحدث شیخ الاسلام(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور میزان الاعتدال امام ذہبی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ)کی اور شرح نخبتہ الفکراور تقریب التہذیبامام ذہبی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور شرح الشرح الفکر ملاعلی قاری حنفی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی اور فتح القدیر حاشیہ ہدایہ مام ابن الہام حنفی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ)کی اور البنایہ شرح ھدایہامام عینی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کی وغیر ذلک من الرسائل امعتبرۃ امنیفۃ۔یہ کتاب باوجود فن حدیث میں ہوتے ہوئے مثل کتابِ فقہ کے مروج ومستند ہوگئی چونکہ یہ جامع احادیث شریفہ وآثار قویہ واقوال سلف عظیمہ و حکایات صالحین جخیمہ ہے۔علماء کرام وصوفیان عظام نے اس کونہایت پسند کیا اور بطور کتب فقہ کے اس کے مسائل کو سندگردانا۔پس یہ کتاب ایسی بے نظیر ہوگئی جواحادیث شریفہ اورمسائل فقہیہ سے حملواور جامع ہے۔ خصوصاً اس رسالے میں مسائل اہل سنت وجماعت اس طرزسے مندرج ومدلل ہیں جس میں مشککون کا وہم و تشکیک بالکلیہ زائل کردیتاہے اور ان کے اعتقاد کو اہلسنت و جماعت پر مستحکم ومضبوط بناکر جدید خیالات سے دور کر دیتاہے گوکہ حتی الوسع تصحیح کتاب اور تنقیح مسائل میں میں نے بہت محنت وجانفشانی کی بااین ہمہ اپنی قلت بصاعت کا معترف ہوں اگر کسی جگہ غلطی ہونا ناظرین عالی ہمم سیامیدوار معافی ہوں۔ نیاز بسرمائیہ فضل خویش ہمہ دیدہ آوردہ ام دست پے خدائے تعالیٰ اور اس کے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ واتباعہ وسلم کے فضل سے امیدواثق رکھتا ہوں جیسا کہ اصل کتاب عرب وعجم کے باشندوں میں مقبول اور مختار وپسندیدہ ہے یوں ہی اس ترجمہ مع الشرح کو پسند ارباب دین واصحاب یقین فرمائے اور اس سعی کو مشکور ومنصور کرکے باقیات الصالحات میں کرے اور اس رسالے سے سب کو نفع حاصل ہو۔ ہم سب کو دنیا سے باایمان اٹھاوے اور قبروبرزخ کے عذاب سے بچائے۔ رَبَّبَا تَقَبَلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَاٰخِرُدَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابہٖ وَاَتْبَاعِہٖ وَاَوْلِیَاءِہٖ وَعُلْمَآءِہٖ وَمَنْ تَبِعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ اِلْی یَوْمِ الدِّیْنِ۔اٰمین ثم اٰمین ***** کتاب کا نام ’’شرح البرزخ‘‘رکھنے کی وجہ تسمیہ کی تفصیل شرح معنی برزخ اللہ تعالیٰ نے لفظ برزخ کا قرآن شریف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ سورہ مومنون میں ہے۔وَمِنْ وَرَاءھِمْ بَزْزَخُ اِلیٰ ےَوْمِ ےُْعَثُوْنَoیعنی اُن کے آگے ایک حجاب ہے اُس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے۔علامہ ابونعیم نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ برزخ نام ہے اس چیز کا جودرمیان دوشئی کے ہو۔ یہاں برزخ وہ زمانہ ہے جوکہ زندگی کے بعد موت کے ہے بعثت کے درمیان تک مجمع بحار الانوارمیں ہے کہ برزخ حائل ہے درمیان دوشئی کے اور برزخ وہ ہے جو درمیان دنیا و آخرت کے ہے یعنی پہلے وقت موت سے حشرتک سیوطی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) نے کہا برزخ انتقال ہونے کے دن سے بعثت کے دن تک ہے جو انتقال کیا وہ برزخ میں داخل ہوا حاصل یہ ہے کہ عالمِ برزخ عالم قبر ہے جو کہ موت سے بعثت تک ہے جو انتقال کیا وہ برزخ میں داخل ہوا حاصل یہ ہے کہ عالمِ برزخ عالمِ قبر ہے جو کہ موت سے بعثت تک کے درمیان ہے۔ چونکہ یہ کتاب حالات برزخ سے مخصوص ہے لہٰذا شرح برزخ نام رکھا گیا۔ کتب خانہ مکہ معظّمہ سے جو یہ کتاب نقل مطابق اصل پائی گئی ہے اس کے اوپر مؤلف(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) کا نام بدین طور مرقوم ہے مُؤَلِّفُ ھٰذَا الْکِتَابِ الشَّیْخُ النَبِیْذُ قُدْوَۃُ الْمُتَآخِّرِیْنَ اَلْاِمَامُ اَبُوْسَعِیْدُ السُّلَمِیّ الْحَنِفِیَّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جامع اس رسالے کے حضرت امام ابوسعیدسلمی حنفی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیہِ) ہیں جوشیخ کبیر اور پیشواعلماء ومتاخرین کے ہیں راضی ہواللہ تعالیٰ ان سے۔ ***** مواہیر علماء قسطنطینہ المعروف بہ استانبول بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعد ورضی اللہ عن الصحابت والقرابۃ وال بیت رسول اللہ اجمعین وعن الا ولیاء والعارفین خصوصاً عن سیدنا وجدنا ومولانا سلطان الاولیاء العظام السیدمحی الدین عبدالقادر الجیلانیؓ اما بعدانی طالعت رسالۃ المبارکۃ الموسوم بالتصریح الا وثق الترجمۃ شرح لبرزخ من تالیف الفاضل الاجل والعالم الا کمل شمس العلمابدر الفضلا مولانا المولوی القاضی المفتی السیدالشاہ محمد عبدالغفار القادری الحنفی بنجلوری اعلی المدرس فی المدرسۃ العربیۃ الجامع العلوم فوجدت مطابق اھل السنت والجماعت ومحتویا بجمع المسائل الشریفہ کتبت بیدی السید سیف الدین من اعضاء انجمن معارف عمومیہ فی استانبول گیلانی زادہ مفتی استانبول ابن السیدمرتضی افندی الگیلانی نقیب اشراف حما السیدسیف الدین ۱۰۳۱ مواہیر علماء العرب بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ الذی شرح صدورنا باحکام الاسلام والصلوٰۃ والسلام علی شفیع الا نام محمد والہ اصحابہ واتباع الکرام خصوصا علی امامنا وقدوتنا وھدانا الا مام الا عظم ابی حنیفۃ العظام وخصوصاًً علی قطب الا قطاب المحبوب السبحانی السید عبدالقادر الحسنی الحسینی الفخام فقد طالعت ھذا الرساۃ المبارکت الموسوم بالتصریح الاوثق الترجمۃ شرح البرزخ من تالیف شمس العلماء مولانا المولوی القاضی المفتی السیدالشاہ محمد عبدالغفار القادری الحنفی اعلی المدرس فی المدرست العربیت لجامع العلوم الساکن فی الشھر الینجلور فی الھند وجدت محتویا بالاحادیث الشریفۃ والفقہ الفخمیۃ وحامعا باعتقاد اھل السنت والجماعت فلہ درالمؤلف حیث سلک مسلک الا قتصارفی اماطت الاذی عن طریق الحق وسبیل السوی فبشری المن یطلب الثواب وطوبی لا ولی لالباب۔ کتب السید محمد الحنفی القادری الیمنی السیدمحمدالحنفی القادری الیمنی ۰۱۳۱ واناطالعت ایضا الرسالۃ المذکورۃ فوجدت مطابقا لاھل السنۃ والجماعۃ کتب السید یحیی الشافعی القادری الیمنی السیدیحییٰ الشافعی الیمنی ۵۱۳۱ موہیر علماء الحلب بسم اللہ الرحمن الرحیم فیعد الحمد النعت اقول انی طالعت ھذا الرسالۃ الموسوم بالتصریح الاوثق للفاضل الاجل والمفتی الا کمل لمولانا القاضی السید شاہ محمد عبد الغفار القادری الحنفی بنجلوری فوجدت مطابقا للقران والحدیث والا جماع والقیاس فللہ درالمؤلفؒ کتبہ الفقیر السید محمد الحنفی المفتی بحلب الحنفے السید محمد مواہیر علماء الولایۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد انی طالعت الرسالۃ الموسوم بالتصریح الاوثق للعالم الا کمل مولانا القاضی المفتی السیدشاہ محمد عبد الغفار القادری الحنفی الساکن فی البنجلور فوجدت مطابقا لاھل السنۃ والجماعۃ فللہ درۃ۔ کتبہ لمسکین شھاب الدین ولدایوب الساکن فی القندھار شھاب الدین مواہیر علماء بدایوں بسم اللہ الرحمن الرحیم حامد اومصلیا ومسلما گردش لیل ونہار وانقلاب احوال روزگار کے کرشمے اور خواب تغافل دنیوی کے جھگڑے ایسے نہیں کہ کوئی نئی بات ہوں ہمیشہ سے اولیاء علماء وَ عاظ صلحا مشائخ فقرا اہل دنیا کو اس خواب غفلت سے جگاتے اور پردہ دوری کو ہٹاتے چلے آئے ہیں لیکن اس دورہ آخر میں کچھ ایسا تلاطم طوفان امواج خود فراموشی وناحق کوشی عالمگیری ہو ریا ہے کہ ایک عالم ورطہ تحیر وضلال میں اسیر ورہا ہے۔عالم غیب سے جتنی تنبیہات ملتی ہیں اتنی ہی غفلت کی ترقی ہے ۔ صلحائے اہل دین علما و واعظین جتنا ہوشیار کرتے ہیں اتنی ہی بے دینی بڑھتی ہے حدیہ ہوگئی کہ مبتدعہ لیام نجدبہ بدانجام نے آنکھوں پر ضلالت کی تاریک پٹی باندھ کراحادیث صحیحہ نصوص کثیرہ صریحہ سے جو امور اجماعاً ثابت تھے مثل سماع اموات وایصال ثواب وزیارت قبور وتوسل وتبرک باولیاء مقربین باگاہ رب العالمین وغیرہ دیگر امور مذہب اہل سنت اور ان کا نکار باتباع اہل ضلال ارباب اعتزال کرکے عوام کو بہکانا آغاز کیا۔ایسے وقت میں سخت ضرورت تھی کہ احادیث صحیحہ واقوال معتمدہ صریحہ سے امور مذکورہ کا اثبات ہو اور یونہی نہیں بلکہ مدلل بہ نصوص وآیات ہو۔اگرچہ چند رسائل ان مباحث میں شائع ہوئے اور ہورہے ہیں لیکن ہمارے مخدوم معظم حاجی السنن السنیہ ماحی الفتن البدعیہ سلالتہ السادات الابرار نقاوت بیت الاشرف الاطہار حزن الاسرار والا نوار مولانا مولوی مفتی شاہ عبد الغفار صاحب بارک الموتی تعالیٰ فی ایامہ ولیالیہ زاد وبرکاتہ ومعالیہ مدرس اعظم مدرسہ عربیہ جامع العلوم نے بطرز جدید آئین مفید بالفعل اس ضرورت کو بخوبی دفع فرمایا ۔یعنی کتاب شرح برزخ جو جامع احادیث وا قوال وتفاسیر و روایات ہے اس کی بزبان فصیح اردوشرح فرمائی اور حسب مققضائے مقام جابجا فوائد تائید مذہب اہل سنت وتردید اہل بدعت کے لیے زائد کئے ۔راقم الحروف نے ملتقطا اس کو دیکھا نافع اہل ایمان دوافع وساوس ارباب طغیان پایا والحمدللہ اولا وآخر وجزا اللہ خیرالجز اور زقہ اجرا عظیما وافر مولای تعالیٰ اس کو نافع ومفید بنائے اور حضرت ممدوح کو اجر جزیل وثواب جمیل عطافرمائے آمین۔ حررۃ العبد المفتقر عطیع الرسول عبدالمقتدر القادری الحنفی اللہ الولے کان اللہ تعالٰی خادم مدرسہ قادریہ بدایون لاریب ان المولوی الشارع الفاضل جزاک اللہ تعالٰی خیر الجزاء اذاشرحت السید السندفخرالا ماثل احق الحق الصدور المومنین واحبیت سنن سید وابطل الباطل رفاہ اللہ الانبیاء وکشفت العظاء عن احوال الموتی اعلی المنازل وحشرنا والقبور وقعت اعناق المبتدعۃ النجدیۃ وایاہ تحت ذیل جیبہ اھل الشرور نفع اللہ تعالٰی بھد الشرح لمصطفی یوم الفتن والزلازل امین فقط اھل الا سلام وتقبل منک سعیک فی حند حررہ العبد المتصم بذیل سیر الا مجد المرام وحشرنا یوم القیام فی زمرہ سید عبدالر سول محب احمد القادری الحنفی الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام فقط الصدیقی المدرس الا علی بالمدرسہ حررہ محمد حافظ بخش المدرس الشمسیہ القادریۃ بجامع بلدۃ بدایون بالمدرسہ المحمدیہ القامۃ تیلدہ بدایون مواہیر علماء بریلی وجبلپور بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم لک الحمد سرمد اصل وسلم علی رسولہ والہ وصحبہ ابدا اما بعد ہم نے رسالہ مبارکہ تصریح الاوثق کو مطالعہ کیا بے شک اس کو شمس العلما بدرالفضلا مولانا مولوی قاضی سیدشاہ محمد عبدالغفار صاحب قادری حنفی اعلی مدرس مدرسہ عربیہ جامع العلوم الواقعۃ فی المسجد الجامع بمعسکر بنجلور مقبول بارگاہ نوری نے کمال محنت سے بہت عمدہ لکھا ہے جو اہلسنت کے لیے نہایت مفید ہے اللہ تعالیٰ بطفیل رسول اکرم وغوث پاک مؤلف کے علم وعمر میں ترقی عطا فرمادے۔ کتب عبدالمذنب احمد رضاالبر یلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اللہ علیہ وسلم محمدی سنی حنفی قادری ۱۰۳۱ عبدالمصطفے احمد رضا خان سنی حنفی قادری محمدی ولد مولوی احمد رصا خان محمد عرف حامد رضا خان کتب عبدالسلام حنفی قادری عبدالسلام حنفی قادری مواہیر علماء مصطفی آباد عرف رامپور افغانان بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ الحی القیوم الذی لا یموت خلق الموت والحیوۃ لیبلو کم ایکم احسن عملا والصلوٰۃ والسلام علی برزخ الملک والملکوت شرح الحقائق والدقائق وماترک لنااملامابعد فقیر خادم بارگاہ احمدی محمدی سلامت اللہ عفی عند نے اس رسالہ مبارکہ تصریح الاوثق ترجمہ شرح برزخ مولفہ قرۃ العین سعادت فروغ بصرسیادت عالم ربانی عارف حقانی صاحب المجدوالافتخار جناب مولانا محقق مدقق سید شاہ محمدعبدالغفار صاحب مدرس اعظم مدرسہ عربیہ جامع العلوم متع اللہ المسلمین بطول بقاۂ کو دیکھا،مطابق مسلک اہل سنت و جماعت وموافق مختارات مذہب حنفی کے پایا طالبین آخرت کے عمل درآمد کے واسطے یہ رسالہ کافی اور وائی ہے اور جملہ امراس شکوک وشبہات کے لیے نافی اور شافی فجزہ اللہ الکریم المکانی فی الدارین خیرالجزا العبد الموانی فقط العبد اللہ امانت محمد محمدالدین محمدس ابوالذکرکاسراج ولد حبیب اللہ خان محمد عنایت اللہ خان رامپوری محمدامانت اللہ ابوالذ کاسراج الدین محمد سلامت محمد عنایت اللہ خاں ولد حبیب الہ کیا خوب رسالہ ہے العبد خواجہ احمد عفی عنہ العبد محمد امداد اللہ عفی منہ رامپوری محمد ہدایت اللہ عفی عنہ رامپوری مواہیر علماء پٹنہ عظیم آباد بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاہ والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الذی ارسلہ بالحق بشیرا ونذیراہ وعلی الہ واصحابہ الذین جھدوا فی اشاعۃ الدین جھدا بلیغا تبارک الذی بیدہ الملک موت وحیات باہم متضاد کے پیدا کرنے میں کیسی کچھ حکمت بلیغہ رکھی کہ فہم انسان میں نہیں آسکتی،آزمائش حسن عمل کی توتصریح فرمائی گئی ۔رہے رموز خفیہ و دقائق معنویہ تو انسان ضعیف البنیان کی کیا تاب وتوان جو اُس حکیم مطلق کی حکمت کو سمجھ سکے۔اس کی کیا ہستی جو اس میدان بے پایاں میں قدم بڑھائے مگر ظاہری طور پر سب سے بڑھ کر بقدر فہم احقریہ رمزسمجھ میں آتا اور اس طرف خیال ناقص جاتا ہے کہ اکثر آدمی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے اور جام انائیت سے ہر دم مخمورہتے الملک والحکم للہ الجبار القہار سے منہ موڑتے۔ماؤمن کی مٹی تنددبلا کرتی۔این وان کی شورش رہاکرتی۔صدہا امور میں فتور پڑجاتا عجب تماشا نظر آتا ۔اس پر ہی بعض سلاطین مفرورین متکبرین سابقین نے خدائی کا دعویٰ کیا مگر اس ہاذم اللذلت نے اس دعوے میں ان کو کامیاب نہ ہونے دیا ۔اس کے تشریف لاتے ہی تمام نشہ ہرن ہوگیا۔ کہ زاد وبنا چار بایدش نوشیا زجام مرگ مٹی کل من علیہا فان عاقل وہی ہے جو انجام پر غور فرمائے اومیکاو حیان ہر آن قلب ناتوان میں لائے اسی کی فکر میں صبح سے شام اور شام سے صبح کی جائے اور اس کا تذکرہ ہر دم آئے ۔فراموشی کا گزرنہ ہونے پائے ہر شئی پر وہ تقدیم پائے ۔کلام قادر غلام نے اسی کی ہدایت فرمائی خلق الموت والحیاۃ سے یہ حکمت سمجھ میں آئی۔حیات کے پہلے لفظ موت ہے۔یہ ہمارے لئے تعلیم قادر حییّ لایموت ہے کہ اس چند روزہ حیات میں موت کو مقدم رکھو۔اس کو کسی آن نہ بھولو،حسن عمل کی طرف دوڑو۔ اقامت گاہ توان ساختن گلزار ونیارا نسیم صبح گوید این سخن آہستہ درگوشم افسوس کہ ہم موت کو بھولے دنیا پہ پھولے۔شہر خموشاں میں بھی اگر بھولے سے کبھی گزر ہوجائے توبیت مرقوم ذیل کے مضمون پر نظر کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور عبرت آئے۔ اس زندگی پہ آج جو مغرور یار ہیں اپنی ہی صورتیں ہیں جو اتنے مزار ہیں موت سے ایسی بیزاری اور فراموشی کہ اس کے احکام اور اس کے مسائل متعلقات سے محض بے خبری ۔علما اتمام حجت فرما چکے سب کچھ بتاچکے۔زبان عربی میں رسائل لکھے پھر آسانی کے لیے فارسی میں کیے انتہایہ کہ اردو میں ہوئے ۔وہی یہ بات کہ کسی میں موت کی حالت میت کی کیفیت ۔کسی میں وعید وبشارت کس میں مسائل کی صراحت بیان کی گئی ، مجموعی حالت کسی خاص ایک کتاب اردر میں نہیں دی دکھائی دی اب یہ بھی عذرنہ رہا۔بحمدللہ تعالیٰ حامی سنن ماحی فتن سید شاہ محمد عبدالغفار صاحب قادری دام فیضہ المعنوی والصوری مدرس اعظم مدرسہ عربیہ جامع العلوم نے کتاب مستطاب عربی شرح برزخ کو بدقت تمام دستیاب فرما کر بزبان اردو ترجمعہ کیا نام نامی تصریح الاوثق رکھا۔اس ہیچمد ان نے اس کو مختلف مقامات سے دیکھا معلوم ہوا کہ صرف ترجمعہ ہی نہیں کیاگیا ہے بلکہ جابجا فوائد جلیلہ مسائل مفیدہ مطالب نفیسہ مضامین موئد دین وملت قاتل گمراہی وبدعت نیمکن ضل نیچریت خرمن سوزندویت و وہابیت وغیر ہا کا بھی اضافہ ہوا ہے فی الحقیقہ بہ مجموعہ متعلق مسائل موت اموات وحالات موت وسکرات قابل دید اہل سنت ہیں۔حضرات اس کتاب کو بغور ملاحظہ فرمائیے اور اس کے مضامین پر کا ربند ہوجائے ۔اللہ جل جلالہ اس کے مترجم اور اس کی اشاعت میں مال صرف کر نیوالے کو مصائب دنیا وآخرت سے بچائے اور خاتمہ بخیر فرمائے آمین یا مجیب الداعین بحرمت سید المرسلین علیہ وعلی الہ فصحبہٖ الصلاۃ والسلام مادامت الیالی والایام۔کتبہ خادم اھلَ السنۃ عبدالصدیق محمد وحید عفے عنہ عبدالصدیق مواہیر علماء بہار بسم اللہ الرحمن الرحیم حمد وثنا اسی ذات کو زیبا ہے جس نے تمام مخلوقات کو خلعت وجود پہنایا اور جوجملہ موجودات کو حجاب عدم سے میدان شہودمیں لا یا ہم عامیان بہتر ین اسم کو لقد کرمنابنی آدم کا مثردہ سنایا۔ہرشی خصوصاً ملائکہ سے بھی رتبہ بڑھایا۔اپنے خاص برگزیدہ بندے کو جہاں فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں وہاں پہنچایا۔خاص اس کو لامکاں کی سیر کے ساتھ مختص فرمایا۔طرح طرح کے اسرار کو بتایا۔ عجائبات قدرت کو دکھایا ۔تائید کے لیے ایسے چار یار ہوئے جن سے چہارو وانگ عالم میں اسلامی ڈنکے بجے جنہوں نے وہ داد نصرت دینی دی کہ قیامت تک لئے ظلمت کفر کا فور ہوئی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین الی یوم الدین جب اس خالق بیچوان نے کل اشیاء کو لباس وجود بخشا تو ساتھ ہی اس کے فنا کو پیدا رفرمایا عالم برزخ کا راستہ بتایا۔عن الینا راجعون کا حکم سنایا لیبلوکم ایکم احسن عملا اسی وجہ سے عقلانے موتو اقبل ان تموتوا کو پیش نظر رکھا اور اس کو اپنا معمول ٹھہرایا۔کل شئی ہالک الاوجہہ کی پوری جلوہ گری ہوئی۔ کل شئی یرجع الی اصلہ کی حقیقت کماہی کھلی۔پانی جب تک دریا میں ساکن تھا پانی ہی کہلاتا تھا جب حرارت بڑی جوش میں آیا کہیں کف کہیں جباب کہیں موج کہیں گرداب کا اسم پایا ۔پھر تھوڑی ہی دیر میں نہ وہ جوز دندنہ وہ طغیانی بیدنہ حباب وکف و گرداب سارا دریا مآب ہی آب کل شئی یرجع الی اصلہ کی پوری آب وتاب ۔وحدت سے کثرت۔کثرت سے وحدت۔یہ سارا اوسیکا کرشمہ اوسیکی قدرت ۔پس اسی قدر پر اکتفا کروں آگے نہ بڑھوں کیونکہ یہ وہ دریائی بے پایا ں وبحرنا پیدا کنارہے جس میں ہزار وں کشتیاں اس طرح ڈوبیں کہ مطلق پتہ نہ چلا۔لاکھوں بڑے بڑے تیرنے والے ایسے غرق ہوئے کہ نشان تک نہ ملا۔سیکڑوں غواصوں نے غواصی میں کوئی وقیقہ باقی نہ رکھا ۔مگر درآرزوسے دامن جستجو خالی ہی رہا۔ دریں ورطہ کشتی فروشد ہزار کہ پیدانشد تختہ برکنار جب بڑے بڑوں کی یہ حالت تو مجھ ناچیز کی کیا حقیقت کہ دم مارے اور اس بحروخار میں قدم رکھے۔بہتر یہ ہے کہ اس سے خاموشی اختیار کروں اور مقصود کو مختصر طور پر رنگ تحریردوں۔میں نے اپنے مخدوم ومکرم فاضل اجل واقف رموز شریعت کاشف اسرار طریقت غواص بحر حقیقت مدرس اعظم مدرسہ عربیہ جامع العلوم مولانا مولوی سید شاہ محمد عبدالغفار صاحب بنگلوری عم فیضہ المعنوی الصوری کے رسالہ تصریح الاوثق فی ترجمعہ شرح البرزخ کو ابتدا سے انتہا تک دیکھا۔عجب لطیف پایا۔اس کی ہر سطر سلک مردار یدشریعت۔اس کا ہر لفظ گوہر آبدار طریقت ہر نقطہ درشہوار حقیقت۔ہر مرکز دائرہ معنی۔سلسلہ سطرخط مستقیم ہدی۔سپیدی یدبیضا۔سیاہی طورسینا۔سچ تویہ ہے کہ اس کتاب کو جس نے مطالعہ کیا۔نقشہ برزخ اسی عالم میں اس نے دیکھ لیا۔یہ رسالہ اس قابل ہے کہ اب زر سے قرطاس حریر پر تحریر ہو۔نقش الواح دلہا سے برنادپ کہاں میں طالبان حقیقی۔کدھر ہیں مشتاقان جمال معنوی آئین۔عالم برزخ کی سیر دریائے لذات سے عبور کریں۔آب ہادم لذات سے ہر وقت سیر رہیں۔لالی مقصود سے اپنا دامن بھریں فقط خادم العلماء والا طباء ابو طاہر نبی بخش البہاری عفاعنہ الباری المدرس بالمدرسۃ الحنفیۃ لاہل السنۃ والجماعت الواقعۃ فی بلدۃ عظیم آباد صانہا اللہ عن الشروالفساد والی یوم التناوی بحر متانبی والہ الا مجاد فقط خادم العلماء والا طباء ابو طاہر نبی بخش البہاری عفاعنہ الباری المدرس بالمدرستہ الحنفیۃ لاہل السنۃ والجماعت الواقعۃ فی بلدۃ عظیم آباد صانہا اللہ عن الشر والفساد والی یوم التناوبحر متانبی والہ الا مجاد فقط مواہیر علماء لکھنو میں نے اس رسالہ متبر کہ کو بغور ملاحظہ کیا بے شک اہلسنت کے عمل کے لیے کافی و وافی ہے کیوں نہ ہو اس کے مؤلف عالم علامہ فاضل فہامہ شمس العلماء بدر الفضلا مولانا مولوی سید شاہ محمد عبدالغفار صاحب قادری حنفی بنگلوری ہیں اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمر میں ترقی عطا فرمائے کتبہ الفقیر ہدایۃ الرسول حنفی قادری برکاتی احمد رضائی لکھنوی ہدایت الرسول مواہیر علماء دہلی کتاب تصریح الاوثق مطابق اعقتاد اہل سنت ہے اور عمل کے لیے کافی ووافی حررہ الٰہی بخش حنفی شاہجہان آبادی الٰہی بخش مواہیر علماء پیلی بہیت بعد حمد وصلوٰۃ کے واضح ولائح رہے کہ فقیر غفرلہ المولے القدیر نے کتاب تصریح الاوثق فی ترجمعہ شرح البرزخ مترجمہ حامئی سنت ماحی بدعت ندوی شکن وہابی فگن واقف رموز شریعت عالم اسرار طریقت گل گلزار محبت گوہر درج حرارت فخر خاندان فاضل نوجوان محب العلماء والا ولیا انیس الغرباوالفقر امقلد امام ہمام ابو حنیفہ اقحم وصاحبزادہ پیردستگیر غوث اعظم مولانا وبالفضل اولانا عنقائی اوج عالی مقامی سیدی مخدومی ومکرمی حضرت مولوی سیدشاہ محمد عبدالغفار صاحب حنفی قادری مدرس اعظم مدرسہ عربیہ جامع العلوم بنگلوری کو مطالعہ کیااس کے مطالعہ سے آنکھوں نے نورپایا دل کو سرور ہوا۔فی الحقیقت اس کتاب کو نایاب بلکہ کمیاب دیکھا اور موافق مذہب مہذب اہل سنت ومطابق مسلک اہل ہدایت پایا۔جزاہ اللہ تعالٰی خیرالجزاء فی الدین والدنیااللہ تعالیٰ مترجم ممدوح کو ہمارے سروں پر قائم رکھے اوردین ودنیا میں عزت دے اور آئندہ اور ایسے باقیات صالحات کرنے کی توفیق بخشے اور اس کتاب کو مقبول فرمادے اور سبب استعانت موجب استقامت اہل سنت وسبب ہدایت اہل بدعت گردانے آمین یارب العلمین بحرمت نبی الا مین وصاحب طہ ویس وختم النبیین وشافع المذبنین ورحمۃ للعالمین قائد والغرا المحجلین وسید الاولین والا خرین صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ واصحابہ وازواجہ وعلماء واولیاامتہ اجمعین یر حمتک یاارحم الراحمین الی یوم الدین مستطرالفقیر الحقیرعبدالمجتبیٰ معروف بہ عبدالاحدسنی حنفی صدیق محمدی نعمانی قریشی فضل رحمانی قادری برکاتی احمد رضائی پیلی بہیتی ابن محدث ارشد فقیہ اوحد حضرت مولانا وصی احمد صاحب مدرس اعلیٰ مدرسہ مدرستہ الحدیث پیلی بہیت معروف بہ محدث سورتی قبلہ مدظلہ العالیٰ وتلمیذ حضرت مجدد ماتہ حاضرہ صاحب حجتہ قاہر ہ حضرت مولانا احمدرضا خان صاحب مدظلہ وعم عنیہ و دام ہدایتہ صانہ اللہ عن شرکل غبی وغوی البدعی الندوی والوہابی والنیچری والرافعی والبدعتی والقادیانی والر شیدی والا سماعیلی مواہیر علماء رای بریلی کتاب تصریح الاوثق ترجمہ شرح البرزخ ازتالیف فاضل مکرم ذی اللطف والکرم منبع الفیوض البرکات مجمع العلوم والکمالات شمس العمابدرالفضلاء،جناب مولانا مولوی قاضی مفتی سیدمیں عبدالغفار صاحب بنگلوری سلمہ اللہ العلی الولی مدرس اعظم مدرسہ جامع العلوم مطالعہ فقیر میں آئی ازاول تا آخر نظر سے گزری۔مقاصد اصلیہ کتاب کو محمود ومستحسن پایا۔اللہ تعالیٰ مؤلف کے ارادات حسان وحسنات قلم ولسان میں برکت عطا فرمادے اور اہلسنت والجماعت کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ونیز یہ کتاب اہل سنت والجماعت کے ہر صغیر و کبیر کے عمل کے لیے کافی و وافی ہے۔ کتبہ احقرالعباد رحیم بخش عفی عنہ مدرس مدرسہ بکسر دیوان ضلع رائی بریلی۔
  2. Radd E Wahabi Deobandi 4000 Scan Refence Form Deoband Books For Internet Facebook And Twiter Etc have folders like this its a very big collection of anti wahabi and deobandi scan books and quotes [CLICK HERE] for download
  3. system say image upload karnay wala icon hide hai kia waja sai ?
  4. video making team mujh say jald rabta kary i have some thing special
  5. میں نے پوسٹ ایڈٹ کی ہے دراصل مقالہ عاق کے متلق ہے ۔ ایڈمن سے گذراش ہے کہ اس کا ٹائٹل بھی بدل دے ۔ شکریہ ۔
  6. علماءومشائخ کرام ومُرشد اور استاذ کا عاق کافر ہے الحمدﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ یہ تحریر ان طلباء و طالبات کے لئے مفید ثابت ہو گی جو کہ ذرا ذرا سی بات پر علماء حق سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو مدرسے سے نکال دیا جاتا ہے اور ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے میں داخلہ لے کے اپنی تعلیم تو جاری رکھتے ہیں ۔ مگر علماء و مشائخ کرام کی توہین کی وجہ سے عاق کیئے جانے کی وجہ سے دین و دنیا میں ناکامی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ اس آرٹیکل میں ان کو مُرشد و استاذ و مشائخ کے درجہ اور مرتبہ کا پتا چلے گا۔ انشاللہ علماءومشائخ کرام ومُرشد اور استاذ کا عاق فاسق نہیں بلکہ کافر علماء ومشائخ کرام ومُرشد اور استاذ کا عاق فاسق نہیں بلکہ کافرہے : قرُآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے : وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔( سورۃ البقرہ آیت 34) ور اس آیت کے بارے میں بیضاوی شریف میں ہے کہ : ای صار منھم باستقبا حہ امر اللہ یاہ بالسجود لاٰدم علیہ السلام اعتقادا بانہُ افضل منہ والافضللا یحسن ان موئ مر بالتخضع للمفضول۔ ( تفسیر بیضاوی ،ص۶۳،) وجہ کفر یہ ہے کہ اُستاد و مُرشد کی تخفیف کرنے والا کافر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بیضاوی شریف کی اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کیونکہ سب فرشتے بمہ شیطان مردود کے آدم علیہ السلام کے شاگرد تھے سب فرشتوں نے سجدہ تعظیمی کیا لیکن شیطان نے نہیں کیا بلکہ آدم علیہ السلام کو حقیر جانا جبکہ وہ اُستاذ ہونے کے باعث لائق عزت تھے جیسا کہ مصرح موجود ہے ۔ وھومراعاۃ للدب بتفویض العلم کلہ الیہ۔ ( تفسیر بیضاوی شریف ص۶۴) ابیٰ ای امتنع من السجود لاٰ دم فلم یسجدواستکبر وھٰذا کانکان من اللہ خبراعن ابلیس فانہ خلق اللہ الذین یتکبرون عن الخضوع لامر اللہ والانقاد لطاعتہ فیما امر ھم وفیما نھی ھم عنہ والتسلیم لہ فیما اوجب لبعضھم علی بعض من الحق فنبہ اللہ الی الکافرین انہ کان حین ابیٰ حین ابیٰ من السجود فصار من الکافرین حینئذ و قبل فی ھٰذا الموضع۔ ( تفسیر ابن جریر ج ۱،ص۱۷۵) تفسیر ابن جریر کی عبارت سے ثابت ہے کہ ایک شخص کا دوسرے شخص پر حق ہوتا ہے اور خُداوند کریم فرماتا ہے کہ تو اس کا حق ادا کر اور وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا بسب تکبر اور حسد کے تو وہ اس صورت میں کافر ہو جاتا ہے ۔ اس طرح سے سرکار دو عالم ﷺ کی تعظیم و توقیر اور طاعت تمام دنیا پر واجب ہے کیونکہ وہ معلم الخیر تھے ۔ جس وقت یہودیوں نے تعظیم و توقیر سے انکار کیا بوجہ تکبر و حسد کے تو خُدا وندکریم نے اُن کو کفر میں مبتلا کیا۔ اس طرح سے اگر استاذ و مُرشد بِھی معلم الخیر ہیں ان کی تعظیم و توقیر نہیں کرتابلکہ تخفیف کرتا ہے تو اس صورت میںاس پر کفر لازم ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ خُدا وند کریم قُرآن شریف میں ارشاد فرماتا ہے ۔ یا الھا الیزین اٰمنو اطیعو اللہ واطیع الرسول و اولی الامر منکم ۔ اس آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے ۔ قال ابن عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنھما ھم الفقھاء والعلامء الذین یعلمون الناس معالم دینھم وھو قال الحسن والضحاک والمجاھد۔ ( خازن ، ج۱،ص۳۷۲، بیروت) خُداوندکریم اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت واجب ہے اور نا فرمانی کُفر ہے ۔ اسی طرح اُستاذ و معلم کی اطاعت واجب ہے اور نا فرمانی کفر ہے ۔ کیونکہ حکم معطوف اور معطوف علیہ دونوں کا ایک ہوتا ہے ۔ ایک اور جگہ قُرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔ لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ سورة النور - الآية ۶۳ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل نصوص میں تعلیل ہے ۔ اس نص میں علت یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ تمام مخلوق کیلئے مُعلم الخیر تھے اس لئے ان کا نام مبارک لیکر پُکارنا حرام ہے اور ان کی تخفیف کرنا کُفر ہے ۔ جیسا کہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وفی ھذاالاٰیۃ بیان توقیر معلم الخیر لان رسول اللہ ﷺ کان معلم الخیر فامر اللہ یتوقیرہ و تعظیم و فی ھٰذاالاٰیۃ معروفۃ حق الاستاذ لا نہ معلم الخیر ایضا و جب علی التلمیذ توقیرہ۔ ( تفسیر الروح البیان، ج۲،ص ۷۹۱، سورۃ النور) لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ دُعا مصدر اپنےفاعل کی طرف مضاف ہے یعنی لاّ کی دعوت و امر برائے اعتقاد و عمل کو نہ بنا : کَدُعَاء بَعْضِکُم بَعْضًا اپنے جیسوں کی دُعا کی طرح یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی دعوت کو اپنی دعوت پر قیاس مت کرو اس سے اعراض اور اجابت میں مساہلت ان کی اجازت کے بغیر رجوع ہرگز نہ کرو اس لئے کہ آپﷺ کی دعوت کی اجابت واجب ہے اور آپ کی اجازت کے بغیر رجوع حرام ہے ۔ فقیہ ابو اللّیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آیت میں معلم الخیر یعنی استاذ کا ادب سکھایا گیا ہے ۔ یعنی اشارتاََحکم فرمایا کہ اَپنے استاذ کی تعظیم و تکریم کرو۔ آیت سے استاذ کی معرفت کو معفت حق بتایا اور اس سے اہل علم و فضل کی علوِ شان و رفعت اور مرتبہ کا پتہ چلتا ہے ۔ حقائق البقلی میں ہے کہ احترام ِ رسول ﷺ احترام الہٰی اور معرفت نبوی ، معرفتِ ایزدی اور ان کی متابقت حق تعالی کی مطابقت ہے ۔ ( تفسیر الروح البیان،پارہ ۱۸، ص۳۰۲) اس کی تائید یہ آیت مبارکہ کرتی ہے ۔ قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا۔ سورہ الکہف آیت ۶۶، ۶۹۔ موسیٰ علیہ السلام باوجود کمال علم کے اور عالی منصب ہونے کے اپنے اُستاذکی تعظیم اور توقیر اور تابعداری کرتے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اُستاد اور مرُشد کی نافرمانی کرنا کفر ہے ۔ ( تفسیر مدارک ص۲۱۸) حدیث مبارکہ:لا یشکر اللی من لا یشکر الناس جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر نہ کیا۔ حدیث مذکورہ میں اللہ تعالی نے اپنے شکر کو بندوں کے شکر پر موقوف فرمایا ہے ۔ یاس کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے شکر کے ثواب کو بندوں کے شکرہ ادا کرنے پر موقوف فرمایا ہے ۔ اُستاذ کا شکریہ والدین کے شکریہ پر فوقیت رکھتا ہے ۔ ، لیکن افسوس دور حاضرہ میں عوام تو عوام ، خواص نے بھی اساتذہ کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ۔ (فیوض الرحمٰن تفسیر روح البیان پارہ ۲۱، ص۲۸۳) التاویلات النجمیہ‘‘ میں ہے کہ آیت کریمہ ’’لاتجعلو دعا الرسول الایۃ‘‘ میںعلماءِ و مشائخ اور پیران طریقت کی تعظیم کرنے کی طرف اشارہ ہے لان اھانۃ اھل العلم کفر علی المختار۔ (درشامی ج۳، صفہ ۲۰۳) ترجمہ: عالم کی تخفیف اور استہزا ء کرنا کفر ہے ۔ تو کیا استاذ کی تخفیف و استہزا کفر نہیں ہو سکتا بلکہ ہو سکتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو حقوق استاذ کے ہیں وہ دلالت النصوص کے ساتھ ثابت ہیں وہ نصوص جو کہ نبی کریم ﷺ کے حقوق میں وارد ہوئے ہیں کیونکہ دونوں کی علت مشترکہ ہے ۔ اور وہ علت یہ ہے کہ ہر ایک معلم الخیر ہے ۔ اور دلالت النص حکم قطعی اور یعینی ثابت کرتی ہے جیسا کہ ظاہر علم اصلول میں مرقوم ہے ۔ استاذ و علما ءِ کرام کے ساتھ کینہ بُغض رکھنا اور اُن کی توہین کرنا یا عُلماء کرام کی شان میں بُرا بھلا کہنا کفر ہے ۔ خاص کر عوام جہلاء ایسی باتیں نہین جانتے اِس لئے علمائے کرام کی توہیں کرتے ہیں ۔ اِس وجہ سے علامہ شامی نے لکھا ہے ۔ والااحتیاط ان یجدد الجھال ایمانہ کل یوم و یجدہ نکاح امراتہ عند شاھدین فی کُل شھر مرۃ او مرتنین اذا الخطاء وان لم یصدر من الرجل فھو من النّساء کثیر۔ (شامی، ص۳۲) یعنی احتیاط اِ سمیں ہے کہ جاہل (عام شخص) روزانہ ایمان کی تجدید کرتا رہے ۔ اور ہر مہینے میں دو یا ایک مرتبہ اپنا نکاح پڑھاتا رہے ۔ (یعنی تجدید نکاح کرتا رہے) دو گواہوں کے سامنے کیونکہ اگرچہ آدمی کی طرف سے کوئی نہ ہو ۔ مگر عورتیں گناہ میں کثرت کرتی ہیں۔ انا عبد من المنی حرفا واحدا ان شاء باع وان شاء اعتق وان شاء استرق۔ (تعلیم المتعلم ) یعنی میں اس شخص کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف پڑھایا۔ اگر ہو چاہے تو مجھے پیچ دے اگر چاہے تو آزاد کر دے اور اگر چاہے تو غلام بنا لے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ : من تعلم عبدا آیۃ من کتاب اللہ فھو مولاہ لا ینبغی لہ ان یخذلہ ولا یستاثر علیہ۔ یعنی جو کسی کو کتاب اللہ کی ایک آیت سکھا دے وہ اس کا آقا ہے لہذا سیکھنے والے طالب علم کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس کی توہین کرے یا اس پر برتری جتائے ۔ الاستھزاء بالعلم والعلماء کفر۔ (حموی شرح اشباہ ولنظائر ، ص۱۷۸) علماء ومشائخ کرام ومُرشد اور استاذ کا گستاخ اگر گستاخی سے باز نہ آئے اور نوبت عاق تک پہنچ جائے تو اسکے بارے میں قران و حدیث سے دلائل اور علماء و مشائخ کرام کی رائے : استاذ و مُرشد کے عاق کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ُاُستاذ و مُرشد کے عاق کی توبہ قبول نہیں ہو سکتی جیسا کہ اس آیۃ کریمہ کی تفسیر میں ہے ۔ فان تولو ا فان اللہ علیم بالمفسدین قال امشائخ رحمھم اللہ تعالی فی تفسیر ھٰذہ الآیۃ عقوق الاستاذین لا توبۃ منہ۔ ( تفسیر روح البیان ج۲، ص۴۶،لبنان ، بیروت) اس سے معلوم ہوا کہ عاق توبہ سے نہیں بخشا جاتا۔ جس طرح سابی الرسول توبہ سے نہیں بخشا جاتا۔ یہ مذھب مختار ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ عاق، شرک سے بڑا گناہ ہے ، کیونکہ شرک توبہ سے بخشا جاتا ہے ۔ اعوذ باللہ منہ تحذیر الاخوان ص۱۷۰ میں فج عمیق کے حوالے سے منقل ہے کہ عاق کے کفر کے بہت سی روات منقول ہیں آخر میں لکھا ہے کہ عاق کا کفر۔ نوادر اور ذکیرہ کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اخون درویزہ بابا رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے رسالے میں لکھا ہے کہ کسی کتاب میں نہ روایت ہے یہ کسی سے سُنا گیا ہے اور نہ کوئی کہتا ہے کہ عاق کے پیچھے نماز جائز ہے ۔ حق الاستاذ فرض فمن انکر من حقہ فھو کافر وکذا الشیک بل الشیخ افضل من الاز فادبہُ اولی من ادبہ وقال یحییٰ بن معاذ العلماء ارحم بامۃ محمد ﷺ من اٰ بائھم وامھا تھم قیل وکیف ذٰلک قال لان اٰ بائھم وامھاتھم یحفظونھم من نار الدینا وھم یحفظونھم نار الآ خرۃ۔ ( دُررالفرائد معروف بکچکول الحیدری، شیخ ابو عبد الرحمن حاجی ملا حیدر الحنفی القادری) یعنی اُستاذ کا حق فرض ہے جس نے اُستاذ کے حق کا نکار کیا وہ کافر ہے اس طرح شیخ یعنی پیر و مرُشد کا حق ہے بلکہ شیخ والد سے افضل ہے تو شیخ و استاذ کا ادب والد کے ادب سے اولی و مقدم ہے ۔ یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ علماء کرام اُمت محمدیہ پر ان کے والدین سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں پوچھا گیا کہ وہ کیسے فرمایاکہ ان کے والدین سے بڑھ کر رحم کرنے والاے ہیں پوچھا گیا کہ وہ کیسے فرمایا کہ ان کے والدین انہیں اس دنیاوی آگ سے محفوظ رکھتے ہیں اور علماء کرام ان کو آخرت کی آگ سے محفوظ رکھتے ہیں ۔ اسکی تائید فقۃ کے دلائل سے بھی ہوتی ہے ۔ وعقوق الوالدین الخ و المعلم و الشیخ قیاس علیھما و فی الفتاوی برالتلمیذ لا ستاذہ الفضل من بر الوالد لوالدیہ لا نالاب یحمی ولدہ من اٰفات الدینا و الاستاذیحمی تلمیذہ من اٰفات الآخرۃ۔ انتھی۔ ویودہ ما فی کتب الفقہ و زوج الموضعۃ اب المرفع انتھی ۔ وتربۃالعلم افضل من تربۃ اللبن و قال فی الظھریۃ و غیر ھا لا یجوز الصلوۃ خلف العاق ولا تقبل توبۃ انتھی ۔ وفی العاق ثلاثۃ والقاف دال علی القھر فھٰذا اسباب العقوق اعذانا اللہ تعالی منہ ولا یجوز تعلیم العلم ولا طلب المسئلۃ من العاق۔ (تسھیل المشکوۃ صفہ ۵) یعنی والدین کی نافرمانی اور اس پر قیاس استاذ اور پیر و مُرشد کی نافرمانی ہے ۔ شاگرد کا اپنے استاذ کی خدمت بیٹے کا اپنے والدین کی خدمت سے افضل ہے ۔ کیونکہ باپ اپنے بچے کو دنیاوی مصیبتوں سے بچاتا ہے اور استاذ اپنے شاگرد کو اُخروی آفات سے بچاتا ہے ۔ اسکی تائیدمیں فقہ کے دلائل بھی موجود ہیں۔ دودھ پلانے والی عورت کا شوہر دودھ پینے والے بچے کا باپ ہے ۔ اور علم کی تربیت دودھ کی تربیت سے افضل ہے ظہریہ میں ہے کہ عاق کے پیچھے نماز جائز نہیں اور عاق کی توبہ قبول نہیں ہوتی ۔ عاق میں تین حروف ہیں عین، عیب پر دلالت کرتا ہے ، الف ، اہانت پر دلالت کرتا ہے قاف ، قہر پر دلات کرتا ہے ۔ اور یہ تینوں عقوق کے اسباب ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے بچائے ۔ آمین۔ عاق کو تعلیم دینا یا اس سے مسئلہ پوچھنا جائز نہیں۔ ولاتعقن والدیک ہا و قیاس علیھا المعلم و شیخ و زوج المرضعۃ و العجب فی ھٰذا الذمان ان الا و لاد یخالفون عن الوالدین و التلمیذ من الاستذۃ و ھلم جرا و قال فضل بن عیاض لا الکلم العالم الذی یخالف عن شیخہ ولاانظر اِلی وجھہ انتھی۔ ( تسھیل المشکوۃ ص ۶) یعنی اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اور اس پر قیاس استاذ اور پیر و مُرشد ہے اور رضاعی باپ بھی۔ اس زمانے میں تعجب کی بات یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین اور شاگرد اپنے اساتذہ کی مخالفت کرتے ہیں، فضیل بن عیاض فرماتے ہیں میں اِس عالم سے بات نہیں کرتا جو اپنے پیر و مرشد کی مخالفت کرتا ہے اور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوں ۔ من تعلم منہ حرفا من القرآن اور من تفسیر اور من الففقہ او من مسئلۃ من المسائل الدینیۃ او من کلمۃ الاخری او من الصلوۃ او من ذکر اللی او نصیحۃ من الحسنات فھو الستاذ من انکر من حقہ کفر لان حق الاستاذ فرض من انکر من حقہ فھو کافر النبی ﷺ من استخف استاذہ ابتلاہ اللی بشالاثہ بلاء اولہ نسی منہ العلم و الثانی قل رزقہ و الثالث یخرج من الدنیا کافرا و من منع کلمۃ من کلام الاستاذ من عاق لا یقبل اللہ تعالی عنہ الصلوۃ و الصوم الحج و الذکاۃ و کل عبادۃ ولا یجوز الصلوۃ خلفہ ولایقبل شھادتہ ولا یعتبر قولہ ولو کان عالما فقیھا ولاذبیحۃ من یدہ لانہ صار عاقا فذبیحۃ العاق و الکافر سواء کان فی النار من الکافرین الا ان یرضی عنہ الستاذہ صار مسلما کما اسلم الکافر من الکفر کذا ذکر من منھاج العابدین۔ ( دُررالفرائد معروف بکچکول الحیدری، شیخ ابو عبد الرحمن حاجی ملا حیدر الحنفی القادری) یعنی جس نے کسی سے ایک حرف قُرآن یا تفسیر یا فقہ یا دینی مسئلہ یا کلمہ شھادت یا کوئی دوسرا کلمہ یا نماز یا ذکر یا نیکی کو کوئی نصیحت سیکھی تو وہ اس کا استاذ ہے پس جو اپنے استاذ کا حق فرض ہے اور جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے ۔ اس طرح جس نے اپنے استاذ کی اہانت کی وہ کافر ہے ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے استاذ کی توہین کی اس کو اللہ تعالی تین مصیبتوں میں مبتلا کرے گا۔ ۱۔ اس سے علم بھول جائے گا۔ ۲۔ رزق میں کمی ہو گی۔ ۳۔ دنیا سے کافر جائے گا۔ جس نے اپنے استاذ کی کوئی بات منع کی تو وہ عاق ہے ۔ اللہ تعالی اس کی نماز ، روزہ ، حج، زکوۃ، اور اللہ اس کی کوئی عبادت بھی قبول نہیں فرمائے گا۔ اور عاق کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسکی شہادت قبول نہیں اور نہ ہی اس کے قول کا اعتبار ہو گا اگرچہ عالم ہو یا فقیہ اور اسکے ہاتھ کا ذبیحہ جائز نہیں کیونکہ وہ عاق ہے اور عاق اور کافر کا ذبیحہ برابر ہے اور کافروں کے ساتھ دوزخ میں ہو گا۔ مگر یہ کہ استاذ اس سے راضی ہو جائے تو وہ مسلمان ہو جائے گا۔ لایقبل اللی تعالی من کل طاعۃ کالکافر ولا یجوز الصلوۃ خلفہ قال رسول اللہﷺ المرتد علی نوعین احدھمامرتد عن الدین فیلقنہ علی الفور فان عاد و تاب صار مسلما فیصیح توبتہ ولا یقتل و الثانی المرتد عن الاستاذلا یقبل اللی تعالی منہ کل طاعۃ بالاتفاق الاان یرضی استاذہ ذکر فی الظھیرۃ و کذٰلک لا تسافر بغیر اذن الاستاذ حتی لا تصیر عاقا۔ ( دُررالفرائد معروف بکچکول الحیدری ،ص ۳۳۵، ۳۳۶ بریقیہ ۱۴۸) اللہ تعالی عاق کی کوئی عبادت کافر کی طرح قبول نہیں فرماتا اور عاق کے پیچھے نماز نہیں ہوتی سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا مُرتد کی دو قسمیں ہیں۔ ۱۔ دین سے مُرتد : ایسے مُرتد کو فورا دین کی تلقین کی جائے گی اگر واپس آیا اور توبہ کی تو مسلمان ہو گیا اور اس کی توبہ قبول ہے اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۲۔ اپنے استاذ سے مُرتد: ایسے مُرتد کا کوئی بھی عمل قبول نہیں ہو گا مگر یہ کہ اس سے استاذ راضی ہو جائے اور استاذ کی اجازت کے بغیر سفر بھی نہیں کرنا چاہیئے تاکہ عاق نہ ہو جائے ۔ عاق کا شرعی حکم ۱۔ عاق کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس پر اپنی بیوی طلاق ہو جاتی ہے ۔ ۲۔ اسکا ذبیحہ حرام اور گواہی مردود ہے اور اس کی امامت صحیح نہیں ۔ ۳۔ اسکی اقتداء میں پڑھی ہوئی نماز واجب الاعادۃ ہے ۔ ۴۔ عاق کا کوئی قول و فعل معتبر نہیں ۔ ۵۔ عاق کی کوئی بھی مالی و جانی عبادت قبول نہیں ہے ۔ ۶۔ اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہو تو عاق واجب القتل اور لازم الاہانت ہے ۔ سب سے پہلے عاق شخص کو توبہ کی ترغیب دی جائے گی اگر توبہ کر کے اپنے حقدار ( استاذ، مُرشد، اور والدین) کو راضی کر لیا تو پھر اس کو اسلام کی تلقین کی جائے گی اور نکاح کی بھی تجدید کی جائے گی ۔ اگر توبہ سے انکار کیا تو واجب القتل ہے ۔ اور اگر قتل کا غلبہ و قدرت نہ ہو تو عاق کے ساتھ قطع تعلق کرنا واجب ہے البتہ استاذ کا حق والدین کے حق سے زیادہ ہے جس نے کسی سے ایک بھی حرف پڑھا اس کی قدر کرے گا اور اس کے سامنے عاجزی کرے گا۔ علماء ومشائخ کرام ومُرشد اور استاذ کا گستاخ جب عاق ہو جائے تو اسکا کیا حکم ہے بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ اُستاذ و مُرشد کا عاق فاسق ہوتا ہے ۔ ہالانکہ فاسق لُغت میں خارج عن حد الایمان کو کہتے ہیں ۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا ہے ۔ قولہ تعالی الاالفاسقین الزین الفاسق فی اللغۃ خارج عن حد الایمان۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فاسق بھی کافر ہوتا ہے ۔ فاسق کا کفر دلالت النص سے ثابت ہے جیسا کہ مولوی صاحب شرح الحسامی نے تشریح کی ہے ۔ فان استدل بمعناہ اللغوی فدلالت ص۷۴۔ وفی الشرع الخارج عن امر اللی بارتکاب الکبرۃ ولہُ درجات ثلث الاولی التغابی وھو ان یرتکبھا احیانا مستقبحا ایاھا و الثانیۃ الانھمساک وھو ان یعاتاد ارتکا بھا غیر مبال بھا و الثالثۃ الجحود و ھو یرتکبھا متصوبا ایاھا فخلع ربقتہ الایمان عن عنقہ وھو لا بس الکفر۔ (تفسیر بیضاوی ،ص ۵۴) عاق اگر استاذ کا اگر فاسق ہے تو اعلیٰ درجہ کا فاسق ہے (وھو لابس الکفر) اس سے ثابت ہوا کہ عاق امامت کے لائق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لان معصومیت الامام عن الکبائر شرط لان الام ھو الذی یوتمّ بہ وقتدی بہ فلو صدر منہ الکبائر لو جب علینا الاقتداء لہ فی ذٰلک فیلزم ان یجب علینا فعل الکبائر و ذٰلک محال لان کونہ معصیۃ عبارت عن کونہ ممنوعا من فعلہ و کونہ واجب عبارت عن کونہ ممنوعا عن ترکہ والجمع بینھما محال فثبت بدلالۃ النص بطان امامۃ الفاسق وقال لا طعۃ للمخلوق فی معصیۃ الخالق و دل ایضا علی ان الفاسق لا یکون حاکما و احکامہ لا تنفذ اذا ولی احکم و کذا لا تقبل شھادتہُ و لا خبرہُ اذا اخبر عن النبی ولا فتیاہ اذا افتنی ولا یقدل الصلوۃ ۔ (تفسیر کبیر ج۱، ص۴۶۹ ) کراھۃ تقدمہ بانہ لا ینھم لا مردینہ وبان تقدمہ للا مۃ تعظیمہ وقد و جب علیھم اھانتہ شر عابل مشی فی شرح منیۃ علی ان کراھِۃ تقدمہ بانہ لاینھم لامردینہ وبان تقدمہ للمۃ تعظیمہ وقد وجب علیم اھانتہ شر عابل مشی فی شرح منیۃ علی ان کراھۃ تقدیم ہکراھتہ لما ذکر نا ولھٰذا لم تجز الصلوۃ خلفہُ اصلاعن مالک رحمہ اللہ تعالیٰ و فی روایۃ احمد رحمہ اللہ تعالٰی ۔ (شامی ،ج۱) فاسق ، علماءی مجتہدین کے درمان کافر اختلافی ہو گیا ہے ۔ (کبیری ص ۳۱۸، ۳۱۹) عاق کافر ہے اور اس کی کوئی عبادت بھی قبول نہیں ہے ۔ (فتاوی نور الھدیٰ المشہور فتاویٰ جامع الفوائد) وینبغی للمتعلم ان یعظم استاذہ لان فی تعظیم برکۃ ومن لم یعظم او شتم فھو عاق لا تقبل صلاتہ و لااممتہُ و یعذر و یشھر ع لیہ الفتوی فی زماننا(مختار الفتاوی ) ولا یجوز شھادۃ العاق ولاامامتہ و تسقط عدالتہ ولایتعبر قولہ ولایعمل بفتواہ لو کان مفتیا(تحفۃ الفقھاء) لا یحل ذبیحۃ العاق ولامامتہ لان العاق یصیر متدا فی الحال و مثواہ فی النار (فتاویٰ جامع) من امتنع کلمۃ من الاستاذ فھو عاق لم یدخل الجنۃ ولانجدۃ لہ من النار و یخرج من الدنیا بغیر الایمان ولا تقبل عبادتہ ان کان الاستاذ ممن تعلم منہ حرفا من القرآن او تعلّم مسئلۃ من مسائل الفقہ او الحدیث او النصیحۃ من الحسنات او الذکر او لقّن کلمۃ طیبۃ۔ (فتاوی نور الھدیٰ المشہور فتاویٰ جامع الفوائد) (1) يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ" أخرجه أحمد: جـ 441/6، وأخرجه مختصرًا ابن ماجه: 3376, وحسَّن إسناده البوصيري. النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ وَالِدَيْهِ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ (2) مسند أحمد 2/ 201 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ". أخرجه أحمد: جـ 441/6، وأخرجه مختصرًا ابن ماجه: 3376, وحسَّن إسناده البوصيري. وأخرجه أحمد بن منيع، ثنا الهيثم بن خارجة، ثنا سليمان بن عتبة به انظر: مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه: 1173، وحسنه الألباني في: الصحيحة: 675. (3) أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ» . وأخرجه أحمد 3/ 28 من طريق عبد العزيز بن مسلم به. وأخرجه أحمد 3/ 44 والبيهقي 8/ 288 من طريق شعبة عن يزيد به. وأخرجه أبو يعلى 1168 من طريق جرير عن يزيد به. وأخرجه النسائي في «الكبرى» 4920 عاق اور صلہ رحمی قطع کرنے والا جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔ (فتاوی خانیہ ) سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ والدین کے نافرمان کی مغفرت کی جائے گی مگراستاذ کے نافرمان کی مغفرت نہ ہو گی ۔ (مجمعۃ العجائب) الاستھزاء بالعلم و العلماء کفر۔ (بحر الرائق ج۵، صفہ ۱۲۳، درسہ جا آوردہ) ولو صغر الفقیہ قاصدا الا ستاخفاف بالدین کفر ۔ (بحر الرائق ج۵، صفہ ۱۲۴، ) قال الملا علی قاری من البعض عالما من غیر سبب ظاھرخیف علیہ الکفر قلت الظاھر انہ یکفر لا نہ اذا ابعض العالم من غیر سبب دنیوی او اخروی فیکون بغضہُ لعلم الشریعۃ ولا شک فی کفر من انکرہ فضلا عمن ابعضہُ۔ (شرح فقہ الاکبر) تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ استاد کا عاق توبہ سے نہیں بخشا جاتا جب تک کہ استاد کو راضی نہ کرے اس سے ثابت ہوا کہ عاق، شرک سے بڑا گناہ ہے کیونکہ شرک توبہ سے بخشا جاتا ہے اللہ رب العرز ہمیں والدین ، استاد اور شیخ کی نافرمانی سے بچائے ۔ آمین جو شخص علماء کرام کی توہین کرے یا ان کا مذاق اُڑائے اُس کے متعلق سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے اُستاد کو حقیر جانے اُس شخص کو اللہ تعالی بارہ بلائوں میں مبتلا فرما دیتا ہے ۔ ۱۔ وہ شخص جو کچھ بھی علم حاصل کریگا بھول جائیگا۔ ۲۔ اسکا رزق جاتا رہے گا۔ ۳ ۔ اُسکی عمر کم ہو گی۔ ۴۔ اُسکے چہرے سے نیکی اور سعادت کی رونق دور ہو جائیگی ۔ ۵۔ عبادت الہٰی کی اُسکو توفیق نہ ہو گی ۔ ۶۔ شیطان کے مکر و فریب میں ہمیشہ مبتلا رہے گا۔ ۷۔ معرف الہٰی کیلئے اُسکا دل حاضر نہ ہُو سکے گا۔ ۸۔ جان کَنی کے وقت اُسکی زبان سے کلمہ شہادت کیلئے گونگی ہو جائے گی۔ ۹۔ دنیا سے بغیر ایمان کے اُٹھا لیا جائے گا۔ ۱۰۔ اُس کی قبر اس قدر تنگ ہو گی کہ اُسکی ہڈیاں پسلیاں چُور چُور ہو جائیں گی۔ ۱۱۔ فاسقوں اور بد کاروں کے ساتھ اُسکا حشر ہو گا۔ ۱۲۔ ہمیشہ دوزخ میں رہیگا۔ ( تذکرۃُالواعظین ص۱۶۹) شب برات یعنی ۱۵شعبان المعظم کی مبارک رات کو تمام لوگوں کی بخش دیا جاتا ہے سوائے ان سات بد نصیب لوگوں کے ان ساتھ میں سے ایک بد نصیب وہ شاگرد بھی ہے جسکا اُستاذ اُس سے ناراض ہو۔ ( تذکرۃُالواعظین ص۳۳۳) اے لوگو میرے اہلبیت رضوان اللہ اجمعین کی محبت اور حاملان قُرآن کی محبت اور اپنے علماء کی محبت فرض سمجھو، خبردار|ا ۔۔ کبھی اُنسے بُغض و حسن نہ رکھنا کبھی اُن پر طعن و تشنیع نہ کرنا خوب سمجھ لو کہ جو اُن کا دوست ہے وہ میرا دوست ہے اور جو میرا دوست ہے وہ خُدا کا دوست ہے جو اُنسے دشمنی رکھتا ہے وہ میرا دشمن ہے جو میرا دشمن ہے وہ خُدا کا دشمن ہے ۔ ( تذکرۃُالواعظین ص۲۳۵) سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت عالم کسی جلسہ میں آئے اور حاضرین اُسکی تعظیم کے لئے پورے طور پر کھڑے نہ ہوں تو قیامت کے دن وہ لوگ میری شفاعت سے محروم رہیں گے۔ (فتاوی نسفی)( تذکرۃُالواعظین ص۷۹) ہنر ی کا کہناہے:معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے ۔لیکن اس کے علم سے فائدہ و ہ نیک بخت اُٹھاتے ہیں ۔جنکے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں ۔ کیونکہ :الادب شجر والعلم ثمر فکیف یجدون الثمر بدون الشجر۔ ”ادب ایک درخت ہے اور علم اسکا پھل ۔اگر درخت ہی نہ ہوتو پھل کیسے لگے گا؟“ ادب و تعظیم و توقیر پر سلف صالحین کی روایات: اب ملت اسلامیہ کی قابل قدر ،قد آورچنداہم شخصیات کے احوال و اقوال کا ذکر کیا جاتا ہے ۔جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ادب و احترام کی درخشندہ مثالیں قائم کیں اور جو ہمارے لےے مشعل راہ ہیں۔ مفسر قرآن حضرت سیدنا عبد اللّٰہ ابن عباس رضی اللہ عنہما: معارف قرآن کے لئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے گھر جاتے ۔ تو انکے دروازے پر دستک نہ دیتے ۔ بلکہ خاموشی سے انکا انتظار کرتے ۔حتیٰ کہ وہ اپنے معمول کے مطابق باہر آتے ۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو یہ بات گراں گزری ۔ایک دن کہنے لگے”آپ نے دروازہ کیوں نہ کھٹکھٹایا ۔تاکہ میں باہر آجاتا اور آپکو انتظار کی زحمت نہ اُٹھانا پڑتی۔“آپ نے جواب میں کہا! العالم فی قومہ کالنبی فی امتہ وقد قال اللّٰہ فی حق نبیہ ﷺ ولو انھم صبروا حتیٰ تخرج الیھم۔”عالم کا اپنی قوم میں مقام ایسا ہی ہے جیسے نبی ﷺ کا مقام امت میں اور بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے ادب کے بارے فرمایا (اے دروازہ نبوت پر آوازیں لگانے والو)اگر تم صبر کرتے یہاں تک کہ میرے رسول خود باہر تشریف لاتے۔“ حضرت زید بن ثابت نے ایک جنازے پر نماز پڑھی ۔پھر انکی سواری کےلئے خچر لایا گیا ۔تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آگے بڑھ کر رکاب تھا م لی ۔حضرت زید نے یہ دیکھ کر کہا:اے ابن عم رسول اللہ !آپ ہٹ جائیں ۔اس پر حضرت ابن عباس نے جواب دیا:”علماءاور اکابر کی عزت اسی طرح کرنی چاہے۔“ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہرضی اللہ عنہ:امام اعظم رضی اللہ عنہ اور آپکے استاد امام حماد بن سلیمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا۔ لیکن آپ کبھی انکے گھر کی طرف پاؤں کر کے نہیں سوئے۔آپ دوران درس اپنے استاد کے بیٹے کے احترام میں کھڑے ہوجایا کرتے ۔امام حماد کی ہمشیرہ عاتکہ کہتی تھیں ،کہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر کی روئی دھنتے ۔دودھ اور ترکاری خرید کر لاتے اور اسی طرح کے بہت سے کام کرتے تھے۔ امام احمد رضی اللہ عنہ:امام احمد رضی اللہ عنہ ایک بار مرض کی وجہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔اثنائے گفتگو ابراہیم بن طہمان کا ذکر نکل آیا۔ان کا نام سنتے ہی آپ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہ بات ناز یبا ہو گی کہ نیک لوگوں کا ذکر ہو اور ہم اسی طرح بیٹھے رہیں ۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مالک کی مجلسِ درس بڑی باوقار ہوتی تھی ۔تمام طلبہ مو ¿دب بیٹھتے۔یہاں تک کہ ہم لوگ کتاب کا ورق آہستہ اُلٹتے کہ کھڑکھڑاہٹ کی آواز پیدا نہ ہو۔ امام قاضی ابو یوسف رحمة اللہ علیہ:امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کےلئے دعا نہ مانگی ہو۔ ایک روایت ہے کہ آپ ہر نماز کے بعد پہلے امام اعظم کےلئے دعا مغفرت کرتے تھے ۔پھر اپنے والدین کےلئے ۔ امام ربیع رحمة اللہ علیہ :آپ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے استاد حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی نظروں کے سامنے مجھے کبھی پانی پینے کی جرا ت نہیں ہوئی۔ ہارون الرشید :ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کےلئے کھڑا ہوجاتا ۔درباریوں نے کہا کہ اس سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جانے ہی کے قابل ہے۔ایک دفعہ ہارون الرشید نے ایک نابینا عالم کی دعوت کی اور خود ان کے ہاتھ دھلانے لگا ۔اس دوران میں عالم صاحب سے پوچھا ۔آپ کو معلوم ہے کہ کون آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا ہے ۔عالم نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہارون الرشید نے جواب دیا کہ میں نے یہ خدمت خود انجام دی ہے ۔اس پر عالم دین نے کسی ممنونیت کا اظہار نہیں کیا ۔بلکہ جواب دیا کہ ہاں آپ نے علم کی عزت کےلئے ایسا کیا ہے ۔اس نے جواب دیا بے شک یہی بات ہے ۔ ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کے لئے امام اصمعی کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً انکے پاس جا پہنچا ۔دیکھا کہ اصمعی اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے ۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا ۔میں نے تواسے آپکے پاس اسلئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے ۔آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے ۔ حضر ت یوسف بن حسین رحمة اللہ علیہ: حضر ت یو سف بن حسین رحمتہ اللہ علیہ کا قو ل ہے کہ ادب سے علم سمجھ میں آتا ہے ۔اور علم سے عمل کی تصحیح ہوتی ہے ۔اور عمل سے حکمت حاصل ہوتی ہے ۔(آداب المعلمین ،صفحہ10) اصمعی رحمة اللہ علیہ کا قول مشہور ہے:جو شخص علم حاصل کرنے میں ایک لمحہ کی ذلت برداشت نہ کر سکے ،وہ پھر ساری عمر جہالت کی ذلت میں زندگی گزار دیتا ہے۔ (ادب الاملائ،والاستملاءللسمعانی،صفحہ145۔ ) حضرت مظہر جان جاناں:حضرت مظہر جان جاناں شہید رحمة اللہ علیہ نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل سے حاصل کی تھی ۔تحصیل علم سے فراغت کے بعد حضرت حاجی صاحب نے اپنی کلاہ جو پندرہ برس سے آپکے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی ۔حضرت مظہر جان جاناں کو عنایت فرمائی۔آپ نے رات کے وقت ٹوپی پانی میں بھگودی ۔ صبح کے وقت پانی سیاہ ہو چکا تھا ۔آپ نے اس پانی کو پی لیا ۔آپ فرماتے ہیں کہ اس پانی کی برکت سے میرا دماغ ایسا روشن ہوا کہ کوئی کتاب بھی مشکل نہ رہی۔ اللہ ہم سب کو علماء و مشائخ کی گستاخی اور ناراضگی سے بچائے ۔ آمین فقیر خادم علم و علماء محمود ختم شد
  7. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سوال نمبر ۱۔ سورۃ المائدہ، آیت نمبر55، پس اللہ ولی ہے تمھارا اور اس کے پیغمبر اور مومن جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور رکوع والے۔ تفسیر در منثور، جلد نمبر2، صفحہ نمبر293(علامہ جلال الدین سیوطیؒ)1 (1-۔ تفسیر فتح القدیر، جلد نمبر2، صفحہ نمبر53(علامہ شوکانی) (1-c)تفسیر قادری، حضرت عبدا للہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سورۃ المائدہ کی یہ آیت مولا علی ؓ کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب مسجد نبوی ﷺ میں مولا علی ؓ نے حالت رکوع میں سائل کو انگوٹھی خیرات کی۔ جواب: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر55 اس کے شان نزول میں مفسرین کرام نے ہر گزحضرت مولیٰ علی شیر خدا کے حق میں نزول پر اتفاق نہیں کیا۔ بلکہ مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے اور اس کے شان نزول مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ نمبر1۔ چنانچہ تفسیر ابن جریر جلد چہارم، صفحہ 186 مطبوعہ بیروت، میں فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ جبکہ بنی خزرج سے حضر ت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں تمھاری دوستی کو چھوڑتا ہوں ، کیوں کہ میں اللہ عز وجل و رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو دوست رکھتا ہوں۔ نمبر 2۔ تفسیر روح المعانی صفحہ176/6 میں اس آیت کے تحت ایک اور روایت بیان کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جب ایمان لائے تو ان کی قوم نے ان سے بائیکاٹ کر دیا تو حضرت عبد اللہ بن سلام بہت پریشان ہوئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی، انما ولیکم اللہ ۔۔۔ نمبر3۔ جب کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا شیعہ کی معتبر تفسیر مجمع البیان 210/2پر بھی موجود ہے جس کی عبار ت یہ ہے ۔ وقال الکلبی نزلت فی عبد اللہ بن سلام اصحابہ لما اسلموا فقطعت الیھود موالاتھمیعنی کلبی نے کہا کہ یہ سوره مائده آیه 55 آیت، انما ولیکم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جب وہ مشرف باسلام ہوئے اور اسلام لانے کے بعد یہودیوں نے ان سے دوستی ختم کر دی تھی۔ اور تفسیر فتح القدیر ، شوکانی، کا حوالہ ہمارے لیئے حجت نہیں کیونکہ شوکانی غیر مقلد ہے۔ سرکارﷺ نے مردوں پر سونا حرام فرما دیا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سونے کی انگوٹھی پہننا اس روایت کی غیر معتتبر ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ تفسیر فتح القدیر صفہ 6 پر لکھا ہے شوکانی شاگرد تھا عبد الحق بنارسی کا اور عبدالحق بنارسی کا سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں وہی عقیدہ تھا جو کہ شیعہ کا ہے ۔ دیکھو۔ کشف الحجاب ، عبد الحق بنارسی دوسری بات مذھبہ و عقیدہ تفقہ علی مذھب الامام زید زیدی شیعہ تھا ۔ تفسیر فتح القدیر صفہ 6 مذکورہ بالا سنی اور شیعہ روایات سے ثابت ہوا کہ۔ ۱۔ اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے۔ ۲۔ ان روایات مذکورہ میں سے پہلی روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ۳۔ دوسری روایت یعنی روح المعانی ، شیعہ تفسیر مجمع البیان کی روایت سے ثابت ہے کہ یہ آیت حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ۴۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سوره مائده آیه 55 اس آیت میں ولی بمعنی دوست استعمال ہوا ہے لہٰذا قطعی طور پر اس کا شان نزول سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قرار دینا درست نہیں ہے۔ جبکہ تفسیر در منثور صفحہ518/2مطبوعہ بیروت، میں اس آیت کا پہلا شان نزول ہی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے برے میں بیان کیا گیا ہے۔ ۵۔ فتح القدیر اہل سنت کی کتاب نہیں۔ دوسری روایت حضرت علی المرتضیٰ کے بارے میں اور تیسرا شان نزول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے والد گرامی حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے منقول ، اصحاب محمد ﷺ ہیں۔ اور سائل نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت نبی پاک ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان میںسے ہیں۔ واضح ہو گیا کہ شیعہ حضرات کا اس آیت کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قطعی طور قرار دینا درست نہیں ہے۔(جب بنیاد ہی قائم نہ ہو سکی تو اس سے من گھڑت، خود ساختہ مفہوم کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟) کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سائل کو چادر دی؟ پہلی بات: بفرض محال ہم تسلیم کر لیں کہ یہ آیت پاک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض کتب شیعہ میں اس آیت مبارکہ کے ماتحت لکھا ہو ا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سائل کو چادر دی، بعض نے لکھا ہے کہ انگوٹھی دی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائل بھی بڑا عجیب تھا اس نے انتظار نہ کیا کہ حضرت علیرضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو جائیں بعد میں سوال کروں ۔ دوسری بات:۔ چلو ہم مان لیں کہ سائل نے نماز کے اندر سوال کر لیا اور مولا علیرضی اللہ عنہ رکوع کی حالت میں انگوٹھی یا چادر سائل کو دے دی ، بات سمجھنے کی ہے کہ چادر مولا علی رضی اللہ عنہ نے اتار کر سائل کو دی اور یہ فعل کثیر ہے، اور فعل کثیر مفسدات نماز ہے۔ کیا باب العلم رضی اللہ عنہ کو اس بات کا بھی علم نہ تھا؟ حالانکہ رکوع سے مراد وہ لوگ جو زکوٰۃ دیتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں یہ حضور ﷺ کی امت میں ہے سابقہ امتوں میں نماز تھی رکوع نہ تھا۔ تیسری بات:۔ اگر مولا علی رضی اللہ عنہ نے جو سائل کو زکوٰۃ دی ، تو جو ۱۰۰۰ درہم کی چادر دی اور حضرت علی رض کے قول کے مطابق کہ ساری زندگی زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی، کیا جواد پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے؟ سوال نمبر 2۔ سورۃ التغابن، آیت نمبر8۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لائو اور خدا تمھارے سب اعمال سے خبر دار ہے۔ (2-a)مسند(امام احمد بن حنبلؒ) (2- مودت القرباء ( میر سید علی حمدانی ) (2-c)مناقب(ابن مغزالی شعفی ) (2-d)فردوس الاخبار(دیلمی ) میں اور علی، آدم 1400سال پہلے ایک ہی نور سے خلق ہوئے۔ یہ نور سلب عبد المطلب سے ہوتا ہوا حضرت عبدا للہ اور حضرت ابو طالب میں تقسیم ہوا۔اتنے Refrencesکے بعد بھی اس نور کو علماء کرام نے (قرآن ) سے تشبیہ دی ہے۔ اس نور کو اگر قرآن ہی مانا جائے تو قرآن پاک نبی پاک ﷺکے ظہور کے چالیسویں سال نازل ہوا جبکہ اس حدیث کے مطابق یہ نور علی ہے جو حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ہی نازل ہوا ہے ۔ یہ نور اگر آپ کے 40سال بعد نازل ہوا تو قرآن ہے اور اگر ساتھ نازل ہوا تو علی ہیں اس نور کو سمجھنے کیلئے دوبارہ قرآن مجیدکا مطالعہ کرتے ہیں۔ جواب:۔ اس آیت فاٰمنوا باللہ روسولہ والنور الذی انزلنا واللہ بما تعملون خبیر میں والنور الذی انزلنا سے حضرت علی رضی اللہ عنہرضی اللہ عنہ مراد لینا صریحاً تحریف ہے جو کہ یہود و نصاریٰ کا کام ہے۔ وہ نو ر جو ہم نے نازل کیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نازل نہیں ہوئے بلکہ ان کی /پیدائش مبارکہ ہوئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس میں اللہ و رسول ، قرآن شریف پر ایمان لانے کا حکم ہے، جس کو نور کہا ہے۔ مستند اور معتبر روایات سے ثابت ہے کہ اس نور سے مراد قرآن مجید ہے، جیسا کہ: تفسیر ابن کثیر صفحہ375/4پر ہے ، یعنی قرآن۔ یعنی اس نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ تفسیر ابن عباس ؓ صفحہ 599پر ہے ۔ الکتاب یعنی اس سے مراد کتاب ہے یعنی قرآن مجید۔ تفسیر معالم التنزیل صفحہ353/4پر ہے ھوالقرآن، یعنی اس نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ تفسیر روح المعانی، صفحہ 123/14الجز ء الثامن والعشرون میں ہے ، وھو القرآن، یعنی وہ نور جو ہم نے نازل کیا ہے وہ قرآن مجید ہے۔ تفسیر مدارک التنزیل صفحہ1818/3مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں ہے۔ یعنی قرآن ، یعنی اس نازل شدہ نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ تفسیر خزائن العرفان صفحہ896حاشیہ14پر ہے نور سے مراد قرآن شریف ہے کیوں کہ اس کی بدولت گمراہی کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور ہر شے کی حقیقت، واضح ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا معتبر تفاسیر سے واضح ہے کہ سورۃ التغابن کی آیت نمبر8میں جس نور کا ذکر ہے اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ باقی سوال مذکور میںجن کتب کے حوالے دیئے گئے ہیں ایک تو نامکمل ہیں اور دوسرے کتب شیعہ کے ہیں جو کہ اہل سنت وجماعت کے نزدیک معتبر نہیں ہیں ۔ اس سوال میں جن کتب کے حوالے دیئے ہیں ان میں اکثر کتب شیعہ اورہیں جو ہمارے لئے حجت نہیں ۔ پہلی کتاب مودت القربیء ، میر سید علی حمدانی پہلی مودت القربیِء ، میر سید علی حمدانی، یہ کتاب اصل تو عربی میں ہے لیکن اس کا ترجمہ ایک شیعہ نے کیا ہے کیوں کہ عقائد شیعہ سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے سو اسی سے کتاب کا ترجمہ لکھ کر باہر ٹائٹل پر لکھ دیا ہے زاد العقبیٰ ،ترجمہ مودۃ القربیٰ، مولف مولوی سید علی ہمدانی شافعی سنی المذہب تاکہ پڑھنے والا سمجھے یہ کتاب سنیوں کی ہے ، ترجمہ کرنے والے کا نام مولوی سید شریف شیعی ہے پھر اس کتاب کو چھاپنے کا کام امامیہ کتب خانہ لاہور نے کیا ، صاحب مودۃ القربیٰ کے شیعہ ہونے پر شیعہ علما کی نصوص قطعیہ:۔ پہلی دلیل: الذریعہ المودۃ القربیٰ لسید علی الھمدانی المتوفی سنہ ست وثمانین وسبعماتہ۷۸۶ طبعت مع ینابیع المودۃ وایضاً مستقلاً فی سنۃ۱۳۰۱، وافرد القاضی نور اللہ المرعشی رسالۃ فی اثبات لتشیعہ کما فی مرفی9=11و ترجمہ فی المجالس الذریعہ الی تصانیف الشیعہ جلد۲۳، صفحہ۱۵۸، مطبوعہ بیروت ترجمہ : سید علی ہمدانی متوفی۷۸۶ء کی کتاب مودۃ القربیٰ صفحہ۱۳۱۰ میں ینابیع المودۃ کے ساتھ ایک جلد میں چھپی اور قاضی نور اللہ مرعشی نے اس سے شیعہ ہونے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے مجالس االمومنین میں علی ہمدانی کا تذکرہ موجود ہے۔ دوسری دلیل: رسالۃ فی اثبات تشیع السید علی بن شھاب الدین محمد الھمدانی للقاضی نور اللہ اتستری ذکرھا بعض الموثقین ۔ ترجمہ:۔ سید علی بن شہاب الدین ہمدانی کا مذہب شیعہ ثابت کرنے کیلئے نور اللہ تستری نے ایک رسالہ لکھا ہے بعض موثقین نے اس کا ذکر کیا ہے۔حوالہ: الذریعہ جلد نمبر11صفحہ نمبر7۔ مزید سید علی ہمدانی کے شیعہ ہونے کیلئے دیکھیں ۔ الذریعہ جلد نمبر1صفحہ ۲۳۳، جلد نمبر ۹/۲صفحہ ۵۶، مجالس المومنین، صفحہ۲ /۱۳۸،۱۳۹ فردوس الخبار ، دیلمی دیلمی، جہاں تک دیلمی کا ذکر ہے یہ عالی شیعہ ہے، حوالہ الذریعہ جلد 1، ۳۱۹ اور پھر حدیث مذکورہ کی کوئی سند نہیں بیان کی گئی ہے ۔بغیر سند معتبر کے روایت قبول نہیں ہوتی۔پھر سند صحیح ثقہ کے ساتھ حدیث نور ہم سے سنئے۔ مصنف عبد الرزاق الجزء المفقود صفحہ51تا 55پر حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث نور مروی ہے، صفحہ53پر الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نور محمد ﷺ کے اپنے سامنے دیکھنے کا حکم فرمایا نور محمد ﷺاپنے سامنے اورپیچھے، اور دائیں او ر بائیں ایک ایک نور دیکھا، اور وہ نور، ابو بکر (صدیق)، عمر(فاروق) عثمان (غنی) اور علی (المرتضیٰ ) رضی اللہ عنھم اجمعین کا نور تھا۔ اس کی سند یہ ہے کہ عبد الرزاق عن معمر، عن الزھری، عن السائب بن یزیدقال۔۔۔۔۔۔۔۔ (الجز ء المفقود من المصنف عبد الرزاق ، مطبوعہ لبنان) تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس نازل شدہ نور سے مراد ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نور ہے یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نور ہے یا حضرت عثمان غنی کا نور ہے یا کٹھا حضرات خلفاء راشدین ، خلفاء اربعہ رضی اللہ عنھم اجمعین کا نور مراد ہے۔جو کہ شیعہ کو کسی طرح بھی قبول نہیں ہے اور نہ ہی یہ درست ہے یعنی اگر نور کی روایت بفرض تقدیر ثابت بھی ہوتی (جو کہ ثابت بھی نہیں ہے) تو پھر بھی اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ معاذ اللہ اس سے مرادحضرت علی رضی اللہ عنہ کا نور ہے۔ اس تمام گفتگو سے واقع ہو گیا کہ سورہ تغابن کی آیت نمبر8 میں نازل شدہ نور سے مراد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہرضی اللہ عنہ ہر گز مراد نہیں ہیں نہ ہی کوئی آدمی بلکہ اس سے مراد فقط قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ سوال نمبر3۔ سورہ الاعراف، آیت نمبر 157، تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نوران کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔ پس قرآن پاک کی یہ آیت واضح کرتی ہے کہ یہ نور نبی ﷺ کے ساتھ نازل ہوا پس وہ نور علی ہے۔ (3-a)صحیح بخاری، جلد نمبر2، باب فضائل اصحاب ؓ، النبی ﷺ، حدیث3 & 9 (3- صحیح مسلم ، باب من فضائل علی ، طبعہ مصر (3-c)جامع ترمذی، صفحہ نمبر218، مطبوعہ نول کشور (3-d)مشکوٰۃ شریف، جلد نمبر3، حدیث نمبر5826 (3-e)مسند احمد بن حنبل ؒ، جلد اوّل، صفحہ نمبر179 اے علی تیری منزلت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ سے تھی۔ یعنی علی ، حضرت محمد ﷺ کے وصی برحق ہیں اور ایمان بزریہ ء کلمات لانا ضروری ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے جواب ۔ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 157کہ یہ کہنا کہ اس آیت میں بھی جو نور حضور ﷺ کے ساتھ نازل ہوا ہے وہ نور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہے خالص جھوٹ اور تحریف معنوی ہے۔ بلکہ اس نور سے مراد بھی قرآن مجید فرقان حمید ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔ حوالاجات: تفسیر خزائن العرفان صفحہ 279حاشیہ302اس نور سے مراد قرآن شریف ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں، اورعلم یقین کی ضیاء پھیلتی ہے۔ اور تفسیر ابن عباس صفحہ181پر ہے ، واتبعوا النور۔ (القرآن)یعنی اس آیت میں بھی نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ اور تفسیر مظہری صفحہ نمبر418/3پر ہے یعنی القرآن، یعنی اس نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ تفسیر معالم التنزیل صفحہ206/2 پر ہے کہ یعنی القرآن، یعنی اس نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ تفسیر ابن کثیر صفحہ نمبر260/2پر ہے یعنی القرآن، کہ اس نور سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وحی فرمایا ہے۔ تفسیر مدارک التنزیل صفحہ555پر ہے ، ای القرآن، یعنی اس نور سے مراد قرآن مجید ہے۔ ان تمام حوالہ جات سے واضح ہے کہ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر157میں جس نور کا ذکر ہے وہ قرآن مجید ہے۔ یہ ہے کہ بلا شبہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس حدیث سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا آپ ﷺ کا وصی بالخلافت ہونا قطعاًباطل ہے۔ پہلے مکمل حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ البدایہ والنھایہ ، صفحہ نمبر7/5پر مسند ابو داوٗد طیالسی کے حوالے سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جب حضرت علی المرتضیٰ کو غزوہ تبوک کے وقت گھر پر ہی ٹھہرنے کو کہا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑیں گے( جو بوجہ بچے اور عورتیں ہونے کے جہاد سے مستثنیٰ ہیں) یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تو یہ پسند نہیں کرتا کہ تیری حیثیت میرے نزدیک ویسی ہی ہو جائے جیسے ہارون ؑ کی موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی(یعنی طور پر جاتے ہوئے انہیں اپنا نائب بنا گئے تھے) لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ ہے مکمل حدیث کوئی بھی ذی ہوش اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وصی با الخلافت بعد الوفات رسول ﷺ ہونا نہ ثابت کر سکتا ہے اور نہ ہی ثابت ہونا ممکن ہے۔ فقط اتنی بات میں تشبیہ ہے کہ جس طرح موسیٰ ؑ نے طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارون ؑ کو قوم کا نگہبان مقرر کیا اسی طرح آپ ﷺ نے غزوہ تبوک پر جاتے ہوئے حضرت علی المرتضیٰ کو مدینہ منورہ میں بچوں اور عورتوں کا نگہبان مقرر فرمایا۔ سوال نمبر4۔ سورۃالاعراف آیت نمبر121 to 122 اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پرور دگار پر ایما ن لائے یعنی موسیٰ اور ہارون کے پرورد گارپر پس قرآن مجید کی یہ آیت بھی واضح کرتی ہے کہ پہلے نبیوں کی پیروی اور ان پر ایمان لانے کے لیے نبی اور وصی دونوں پر ایمان لانا ضروری و واجب تھا تو نبیوں کے سردار پر ایمان وصی ء رسول ﷺ پر ایمان لائے بغیر کیسے ممکن ہے۔؟ جواب: حضرت موسیٰ ؑکے بعد حضرت ہارون ہر گز آپ ؑ کے وصی اور خلیفہ نہیں تھے کیونکہ حضرت ہارون ؑ کا انتقال ہی حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی میں ہو گیا تھا( نہ رہے بانس نہ بجے بانسری) حضرت موسیٰ ؑ کے بعد آپ ؑ کے وصی حضرت یوشع بن نون تھے۔ شیعہ حضرات کے معتبر تفسیر فرات الکوفی صفحہ65مطبوعہ حیدریہ نجف اشرف۔ (سورہ ھود) جناب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد گرامی، حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے جب کہ ان کے پاس کعب الاخبار بھی موجود تھے، جو تورات اور کتب انبیاء کرام علیھم السلام کے عالم تھے ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے کعب بنی اسرائیل میںحضرت موسیٰ ؑ کے بعدسب سے بڑا عالم کون تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ سلام کے بعد بنی اسرائیل میںسب سے بڑے عالم جناب یوشع بن نون تھے اور یہی موسیٰ ؑ کے بعد ان کے وصی تھے۔ اصل عربی عبارت یہ ہے، کان اعلم بنی اسرائیل بعد موسیٰ، یوشی بن نون وکان وصی موسیٰ من بعدہ، تفسیر فرات الکوفی، مطبوعہ ، نجف اشرف صفحہ 65، صاحب تفسیر فرات الکوفی شیعہ نے ، اس مقام مذکورہ سے تھوڑاسا آگے پھر یہ لکھا ہے کہ ، فان موسیٰ لما توفیٰ اوصی الیٰ یوشیٰ بن نو ن علیہ السلام یعنی جب موسیٰ ؑ کے وصال کا وقت ہوا تو آپ نے جناب یوشی بن نون ؑ کو اپنا وصی مقرر فرمایا۔ شیعہ تفسیر سے واضح ہو گیا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے وصی حضرت یوشع بن نون ؑ تھے نہ کہ حضرت ہارون ؑ ۔ کیونکہ ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ سے پہلے وفات پا گئے تھے پھر وہ موسیٰ ؑ کے بعد خلیفہ کیسے ہوئے۔ واضح ہو گیا کہ اس حدیث کا خلافت بلا فصل یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وصی ہونے کے وصی ہونے کے متعلق اس حدیث کا دور سے بھی تعلق نہیں ہے۔تو جب آپ کا وصی خلیفہ بلا فصل ہونا ہی ثابت نہیں توپھر سورۃ الاعراف کی آیت نمبر121-122سے استدلال کا کیامعنی؟ (فاعتبروا یا اولی الابصار) سوال نمبر5۔ اے رسول ﷺ پوچھو ا ن سے کہ نبی کیسے رسول بنے،القرآن تفسیر غرید القرآن، جلد نمبر6، صفحہ نمبر39 نبی کریم ﷺ جب معراج شریف پر تشریف لے گئے تو تمام انبیاء کرام کو اکٹھے کیا اور پوچھا کہ تم نبی کیسے بنے تو سب نے یک مشت ہو کر کہا کہ ہم نے جب تک اللہ کہ وحدانیت آپ کی رسالت اور علی کی ولایت کا اقرار نہ کیا ہم نبی نہیں بنائے گئے، جب تک تین شہادتوں کا اقرار نہ کریں اس وقت تک نبی نہیں بنتے تو ایک گنہگار انسان مومن بن سکتا ہے؟ اگر ہم دوبارہ کلمہ کے متعلق قرآن مجید سے پوچھیں کہ کلمہ کتنی گواہیوں پر مشتمل ہے تو قرآن مجید میں ہمیں ،شھادتین ،کا لفظ نہیں ملتا جس کا مطلب دو گواہیاں ہیں اور پورے قرآن پاک میں لفظ ، شھاد، ملتا ہے جس کا عربی میں تین یا تین سے زیادہ شہادتیں مطلب بنتا ہے۔ جواب:۔ شیعہ صاحب کا یہ کہنا اے رسول پوچھو ان سے کہ نبی کیسے بنے رسول کیسے بنے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے۔ البتہ شیعہ صاحب کے امام غائب کے پاس جو سترہ ہزار اآیات والا قرآن ہے شاید اس میں یہ من گھڑت آیت موجود ہو۔ یہ بے حیائی اور بے دینی کی آخری حد ہے کہ اپنا موقف ثابت کرنے کیلئے معاذ اللہ غیر آیت کے آیت قرآن بنا کر پیش کر دیا جائے۔ تو جب یہ آیت ہی قرآن مجید کی نہیں ہے تو پھر اس کے بعد شیعہ صاحب نے جو ایک من گھڑت قصہ بیان کیا ہے وہ خود بخو د ہی باطل ثابت ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ آیت قرآن مجید میں موجود ہے۔ واسئل من ارسلنا من قبلک من ارسلنا اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یعبدون ترجمہ: اے محبوب پوچھ لو ان رسولوں سے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے کہ رحمٰن کے بغیرکسی اور کی عبادت کا بھی حکم دیا ہے۔ تو شب معراج جب جبرائیل ؑ نے آپ ﷺ سے یہ کہا تو حضور پر نور علی نور محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نہیں پوچھتا کیونکہ مجھے کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، تو اس آیت میں توحید الٰہی کا بیان ہے ، شیعہ صاحب کا باطل موقف اس آیت سے بھی کسی طرح ثابت نہیںہے۔ سوال نمبر6۔ سورۃ المعراج، آیت نمبر33تا 35 اور جو لوگ شہادات(تین یا زائد) پر قائم رہنے والے ہیں اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ایسے ہی لوگ جنتوں میں حفاظت پانے والے ہوں گے۔ جواب:۔ شیعہ صاحب نے لکھا ہے کہ سورۃ المعراج( جب کہ یہ غلط ہے اصل نام سورۃ المعارج ہے) کی آیت33تا 35میں لکھا ہے کہ اس میں شھادات کا لفظ ہے جو کہ تین گواہیوں پر دلالت کرتاہے اور باطل استدلال کیا ہے کہ جب تک نبیوں نے تیسری گواہی یعنی ولایت علی رضی اللہ عنہ کی گواہی نہ دی وہ نبی نہ بنے۔(معاذ اللہ) شیعہ صاحب کا یہ استدلال گزشتہ سطور میں باطل ثابت کر دیااور اس کی بنیاد بھی وہی پہلا باطل استدلال ہے جب اصل دلیل ہی ثابت نہ ہو سکی توپھر اس پر مزید عمارت کیسے استوار ہو سکتی ہے۔ شیعہ صاحب جب تک معنوی تحریف نہ کریں ان کا باطل موقف ثابت ہی نہیں ہو سکتا اس لیے بار بار بے چارے معنوی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سچ کہا کسی نے : کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان پتی نے کنبہ جوڑا یہ لفط مفرد ہو یا جمع کا شہادات ہو، تو اس سے ولایت علی ؓ کا نبیوں کیلئے اقرار کیسے ثابت ہو گیا۔ من مافی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرنا کفر ہے جو کہ شیعہ صاحب کا ہی نصیب ہے۔اب ان آیات کا صحیح معنی واضح کیا جاتا ہے۔ تفسیر خزائن العرفان، حاشیہ نمبر29یعنی صدق و انصاف کے ساتھ نہ اس میں رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ زبردست کو کمزور پر ترجیح دیتے ہیں ، نہ کسی صاحب حق کا تلف حق گوارا کرتے ہیں۔ تفسیر ابن عباس میں ہے کہ ، عند الحکام اذا دعوا ولا یکتمونھا،صفحہ 615 یعنی جب گوہوں کی گواہی کی ضرورت ہو اور انہیں بلایا جائے تو وہ اس گواہی کو چھپاتے نہیں، بلکہ حکام کے سامنے گواہی دیتے ہیں۔ یعنی مضمون۔ تفسیر مظہری صفحہ68/10 تفسیر ابن کیثیر422/4، تفسیر روح المعانی صفحہ109/15، تفسیر ابن وھب، صفحہ438 وغیرہ میں بالفاظ مقاربہ موجود ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات سے واضح ہے کہ شیعہ کے باطل موقف کو اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ بلکہ ان آیات میں شرعی احکام کا بیان ہے۔ سوال نمبر7۔ کتاب ار جح المطالب، مولوی عبد اللہ بسمل۔ نبی پاک ﷺ جب معراج سے واپس تشریف لائے تو اصحاب ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے عرش پر جو کلمہ جنت سے دروازوں پر لکھا ہو پایا کیا آپ جاننا چاہو گے؟ سب نے عرض کی ضرور یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد حبیب خدا ہیں، علی اللہ کے ولی ہیں، فاطمہ کنیز خدا ہیں،حسنین صفواۃ اللہ ہیں ان کے دشمنان پر اللہ کی لعنت۔ کیا جنت کے طب گار جنت میں کلمہ شھادا پر دل و زبان سے ایمان لائے بنا جا سکتے ہیں؟ جواب:۔ کتاب ارجح المطالب مصنف، عبید اللہ امرتسری: پہلی دلیل: ارجع المطالب کے مصنف مولوی عبید اللہ امرتسری کا اپنی زبان سے اپنے شیعہ ہونے کا اقرار،ہمارے نزدیک سب شیخین نہایت امرتشیع ہے ہم اپنے امامیہ مذہب کے ساتھ ہر گز اس میں اتفاق نہیں کر سکتے ۔ اس عبارت سے واضح ہو ا کہ مولوی عبید اللہ امرتسری پکا امامیہ شیعہ ہے۔ دوسری دلیل: ساری کتاب اس نے شیعہ کتب کے حوالوں سے لکھی ہے مثلاًفوائد السمطین ، تذ کرۃ الخواص الامہ، ینابیع المودۃ، المناقب للخوارزی، مروج الذہب، کفایۃ المطالب ابن حدید وغیرہ۔ ارجح المطالب کتاب کے کچھ حوالے:۔ پہلا حوالہ :۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجتہد تھے مگر معصوم نہیں تھے، بوجہ المجتہد ان سے فدک کے معاملے میں خطا فی الاجتہاد واقع ہو ئی ہے۔ سیر ت شیخین،ارجح المطالب، صفحہ نمبر۷۹۵ دوسرا حوالہ:۔ عن حذیفۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ علی خیر البشر من ابی فتد کفر اخرجہ ابن مرء دیہ۔ ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺفرماتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ خیر البشر ہیں، جس نے انکار کیا وہ کافر ہوا۔ حوالہ: ارجح المطالب صفحہ۸۶۰ وضاحت: ابن مردویہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تین چار صدیوں کا طویل زمانہ ہے ، کیونکہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ﷺہیں اور ابن مردویہ نے۴۱۰ھ میں انتقال کیا۔ صاف واضح ہے کہ ان کی ملاقات نہ ہوئی لہٰذا کئی واسطوں سے یہ روایت ابن مردویہ تک پہنچی ہو گی وہ واسطے کیا ہیں اورکتنے اور کیسے ہیں کوئی علم نہیں،عبارت کی دیکھیں کفر تک پہنچا دیا ہے ۔ یہ کتاب شیعہ حضرات کی ہے جو کہ ہمارے لیے حجت نہیں، پھر اس روایت کی سند نہیں بیان کی تا کہ سند کا حال واضح ہو جاتا اور بلا سند کوئی روایت کیسے قبول کی جاسکتی ہے۔ پھر اگر بفرض محال والتقدیر اگر اس روایت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کو خلافت بلا فصل، یا وصی رسول ہونے کے متعلق کیا واسطہ ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نہ صرف ولی اللہ ہیں بلکہ ہم اہلسنت وجماعت کے نزدیک تو آپ سید الاولیاء ہیں کہ سارے جہان بھر کے اولیاء ان کے غلام ہیں مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ آپ وصی رسول اور خلیفۃ بلا فصل ہیں (معاذ اللہ) مختلف کتب حدیث میں کئی احادیث ہیں جن میں فرمایا گیا ہے آسمانوں پر جنت کی اشیاء وغیرہ پرحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام آپ ﷺ کے نام اقدس کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔ اور کئی روایات میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی ؒ نے خصائص الکبریٰ صفحہ 13/1پر کئی روایات بیان کی ہیں ، پہلی روایت : ابن عساکر کے حوالے سے جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے ، نبی پاک ﷺ نے فرمایا ، معراج کی رات میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا ، لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ابو بکر صدیق عمر فاروق عثمان ذوالنورین۔ دوسری روایت۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی اور طبرانی کی اوسط، اور ابن عساکر اور حسن بن عرفہ، کے جزء کے حوالے سے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں جس آسمان سے بھی گزرا اس پر یہ لکھا ہوا پایا، محمد الرسول اللہ وابو بکر الصدیق خلفی تیسری روایت : دارقطنی کی افراد، اور خطیب اور ابن عساکر کے حوالے سے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ، معراج کی رات عرش پر میں نے سفید نور لکھا ہوا دیکھا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ابو بکرالصدیق عمرالفاروق، مواھب الدنیہ اور شرح زرقانی وغیر ہ میں اور بھی روایات ہیں جن میں نبی پاک ﷺ کے نام اقدس کے ساتھ خلفاء راشدین ، خلفاء اربعہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے نام بھی ہیں۔ بھلا ان روایات کو وصی رسول ہونے اور خلیفہ بلافصل ہونے سے کیا واسطہ ہے ۔ ہاں البتہ یہ ایک قسم کی فضیلت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے۔ فقط مذکورہ بالا سطور سے واضح ہے کہ شیعہ صاحب کا اس سے استدلال بھی باطل اور سو فیصد ناکافی۔ سوال نمبر8۔ جواھر خمسہ، صفحہ نمبر473، شیخ غوث، (چور پکڑنے کا طریقہ) امام اہل سنت شیخ غوث ؒ نے چور پکڑنے کا عمل لکھا اور رات کو پڑھنے سے صبح چور کا پتہ چل جاتا ہے عمل مندرجہ ذیل ہے۔ اللھم بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وعلی ولی اللہ، نبی پاک ﷺ نے جو قبر کے تین سوال بتائے تو فرمایا کہ وہ پہلا سوال ہو گا کہ تمھارا رب کون ہے؟ دوسرا سوال ہو گا کہ تمھارا نبی کون ہے؟اور تیسرا سوال ہو گا کہ تمھارا امام کون ہے؟ جو زبان دنیا میں لا الہ الا اللہ پڑھتی رہی ہوگی وہ یہی بولے گی، جو زبان محمد الرسول اللہ پڑھتی رہی ہو گی وہ یہی کہے گی اور جو زبان دنیا میں علی ولی اللہ ،پڑھتی رہی ہو گی وہ بھی یہی جواب دے گی اور ایمان کامل کے صدقے عذاب قبر سے قیامت تک محفوظ رہے گی(بے شک) اور شیخ علی معزوقی ؒکی مندرجہ ذیل کتا ب کا مطالعہ کرنے سے تمام شکوک شبھات ختم ہو جاتے ہیں، جواب: شیعہ صاحب نے لکھا ہے چور پکڑنے کا طریقہ ، پھر عملیات کی ایک کتاب جوہر خمسہ کے حوالے سے لکھا ہے۔ اس عمل میں یہ عبارت مذکور ہے،اللھم بحق لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وعلی ولی اللہ، جواہر خمسہ عملیات کی کتاب ہے اس سے کلمہ شریف کے ساتھ علی ولی اللہ کے الفاظ نقل کرنا کیا یہ اس کی دلیل ہے کہ کلمہ شریف میںعلی ولی اللہ کے الفاظ بھی شامل ہیں۔ہر گز نہیں، پہلی بات یہ ہے کہ شیعہ صاحب جب اپنا کلمہ قرآن مجید سے احادیث نبویہ سے آثار صحابہ سے ثابت نہ کر سکے تو عملیات و وظائف کی دنیا میں کو د پڑے۔ اور ایک عمل ذکر کر دیا جب کہ عاملین پر یہ بات واضح ہے کہ عملیات کی کئی کتب میں ہر قسم کے عملیات ہوتے ہیں۔ وہ فقط عملیات کی حد تک ہی ہوتے ہیں نہ کہ شرعی حجت۔ یہ مذہب بھی کیسا یتیم مذہب ہے کہ نہ قرآن سے ثابت نہ حدیث سے ثابت اب دلیل کے طور پر عملیات کی کتاب جواہر خمسہ پیش کر دی ہے۔ یہ ہے اس مذہب کی حقیقت۔ گزشتہ سطور میں بھی یہ ذکر ہو چکا ہے کہ ہم اہلسنت وجماعت کے نزدیک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہنہ صرف کہ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں بلکہ آپ سید الاولیاء ہیں، مگر اس سے یہ کب ثابت ہو ا کہ یہ الفاط کلمہ شریف کا حصہ ہیں۔ (معاذ اللہ) سوال نمبر 9: کتاب الازمنہ والامکینہ، الشیخ ابی علی احمد بن محمد الحسن المرزرقی جب مولا علی رضی اللہ عنہ کی والدہ فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیھا نے وفات پائی تو نبی پاک ﷺ نے انہیں قبر مبارک میں اتارنے کے بعد تلقین پڑھی تھوڑی دیر بیٹھے اور کہنے لگے کہ وہ تیرا بیٹا ہے، وہ تیرا بیٹا ہے، اصحاب ؓ نے جب وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میںنے دیکھاکہ فاطمہ بنت اسد کو حوریں آئیں اور اپنے ساتھ لے گئیں اتنی دیر میںمبشر و بشیر آئے اور سوال جواب کرنے لگے پہلے رب پوچھا، پھر نبی پوچھا جب ولی پوچھا آپ سوچ میں پڑ گئیں کہ کونسا نام لوں تو میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ وہ تیر ا بیٹا ہے وہ تیرا بیٹا ہے تب آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ، ابن علی ولی اللہ،کیا جب مولا علی رضی اللہ عنہ کی اپنی ماں قبر علی ولی اللہ کا جواب دئیے بغیر جنت میں نہیں جا سکتیں تو کیا انسان نبی پاک ﷺ کاامتی ہو کر جنت میں جا سکتا ہے جسکے ہر دروازے پر شہادت کا کلمہ لکھا ہے؟ جواب:۔ کتاب الازمنہ والامکینہ، کی عبارت نقل کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا وصال قبر میں سرکار ﷺ نے تلقین پڑھی، ان النبی ﷺ تولی دفن فاطمہ بنت اسد وکان اشعر : ھا قمیصالۃ فسمع وھویقول ابنک فسل علیہ سید فقال امھا سئلت عن ربھا فاجابت وعن بنھیا فاجابت وعن امامھا فلجلجت ، مقلت ابنک ابنک۔کتاب الازمنہ والامکینہ صفحہ ۴۷۳ اسی عبارت کے نیچے صفے پر لکھا ہو ا ہے، الظاہران ھٰذہ الروایۃ من کتب الشیعۃ الامامیہ ۔ حوالہ کتاب الازمنہ والامکینہ، صفحہ۴۷۳ ثابت ہوا کہ یہ عبارت شیعہ مسلک کی ہے اہلسنت کی نہیں۔ شیعہ صاحب نے کتاب الأزمنة والأمكنةکے حوالے سے بیان کیا ہے کہ قبر میں تین سوال ہونگے، تیرا رب کون ہے ، تیرا نبی کون ہے اور تیرا امام کون ہے۔ اور شیعہ صاحب نے امام سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات مراد لیا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قبر میں سوال ہونا خالص جھوٹ ہے جو کہ ایجاد شیعہ ہے۔ پھر فقط امام سے خود ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات مراد لینا خالص کذ ب بیانی ہے۔ اس چیز کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ بندہ نا چیز پہلے گزارش کر چکا ہے کہ جب تک شیعہ صاحب تحریف معنوی نہ کریں گے ہر گز ان کا موقف ثابت نہیں ہو سکتا۔ صحیح بات یہ ہے کہ قبر میں تین سوال ہوتے ہیں، تیرا رب کون ہے، تیرا دین کونسا ہے، اور آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق کہ تو ان کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ تفصیل کیلئے دیکھیے۔ جامع ترمذی، بہیقی، مشکوٰۃبروایۃ ترمذی، مسند امام احمد عن البراء بن عازب، ابو داوٗد، مشکوٰۃباب عذاب القبر صفحہ25۔ ان تمام کتب حدیث میں روایات صحیحہ سے تین سوال ثابت ہیں۔ تیر ارب کون ہے، تیرا دین کونسا ہے، اور آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔کسی بھی ایک صحیح روایت میں یہ موجود نہیں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی قبر میں پوچھا جاتا ہے۔ یہ خالص شیطان کی مکاری ہے جو اس نے شیعہ صاحب کو عطاکی ہے۔ (العیاذ با للہ تعالیٰ) یہ ہے کہ خالص جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں کسی بھی صحیح روایت میں ثابت نہیں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میںقبر میں فرشتے سوال کرتے ہیں۔ یہ کہانی خالصتاً ایجاد شیعہ ہے۔ جس کا کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حضور ﷺکی ذات اقدس پر جھوٹ بولا گیا ہے اور آپ ﷺ پر عمداً جھوٹ بولنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ جیسا کہ متواتر حدیث میں ہے۔ تمام کتب حدیث میں سوالات کے بارے میں تین سوال مذکور ہیں۔رب تعالیٰ کے متعلق، دین کے متعلق، اور آقا محمد الرسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے متعلق۔ پھر تمام کتب حدیث میں بھی سوالات کی حدیث مفصل مذکور ہے اس میں یہی مذکور ہے کہ جب تم میت کو دفن کر کے لوٹتے ہو تو قبر میں فرشتے آتے ہیں اور سوالات کرتے ہیں۔ جب کہ شیعہ صاحب کی من گھڑت روایت میں ذکر ہے کہ ابھی قبر میں اتارا ہی تھا ، حضور ﷺ ابھی قبر کے اندر ہی تشریف فرما تھے اور فرشتوں نے سوالات شروع کر دیئے۔جبکہ احا دیث صحیحہ اس کے مخالف ہیں ان میں ہے کہ جب تم دفن کر کے واپس ہوتے ہو ۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ سوالات قبر میں دفن کے بعد واقع ہوتے ہیں، یہ بات بھی اس کے بطلان پر گواہ ہے۔ اور صحیح روایت جو کہ امام طبرانی نے طبرانی کیبر صفحہ351/24پر روایت فرمائی ہے اس میں یہ الفاظ جو کہ ایجاد شیعہ ہیں، نہیں ہیں۔بلکہ آپ ﷺ کا قبر میں لیٹنا اور ان کی مغفرت کی دعا مانگنا ثابت ہے۔ فقط دعا کے الفاظ یہ ہیں۔ اغفر لامی فاطمۃ بنت اسد وسع علیھا مدخلھابحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی فانک ارحم الراحمین۔ ترجمہ: اے اللہ میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما اور ان کی قبر کو وسیع فرما بطفیل اپنے نبی اکرم ﷺ اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام ؑ کے کیونکہ تو ہی ارحم الراحمین ہے۔ یہ ہے وہ روایت معتبر،جس میں من گھڑت خود ساختہ الفاظ کا ذکر نہیں ہے کیونکہ وہ خالص ایجاد شیعہ ہے جس کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان تمام سوالات اور جوابات سے یہ بات واضح ہے کہ شیعہ مذہب باطل ہے اور خود ساختہ مذہب ہے۔ اور اہلسنت وجماعت کے عقائد بالکل قرآن سنت کے عین مطابق ہیں۔ یہی مذہب ہے صحابہ کرام ، اہل بیت کرام ، تابعین، تبع تابعین، اولیاء کرام اور تمام اہل ایمان کا اور ان تمام کا نام اہل سنت وجماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت ہے اور وہی ذات اقدس شیطان کے شر سے پناہ دینے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ بالخیر کرے اور گمراہوں کے ہدایت عطا کرے آمین۔ بجاہ سید المرسلین ﷺ یہ چند سطور ہیں جو کہ شیعہ کے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے خالص اپنے لیے بنائے اور فقیر راقم الحروف کیلئے اور اسکے اساتذہ و مشائخ کیلئے باعث مغفرت و باعث درجات بلندی فرمائے، آمین۔ فقیر و بندہ :
  8. ما شا اللہ ابھی تک پرانے مناظرہ جھنگ کا پیٹ کا درد بھی ٹیک نہیں ہوا اور نیا ٹیکا بھی لگنے لگا ہے
  9. Thanvi Book Al Takashf K Scan Refrences اتکشف اشرف علی تھانوی جس میں اہل سنت کی تائید میں کافی حوالاجات موجود ہیں
  10. al takashf by ashraf ali thanvi some scans اتکشف اشرف علی تھانوی کی کتاب کے کچھ سکین حوالہ جات
  11. TEHREEK INSAF K AZAMIN AUR MAQASID KEA HAIN? PAKSITAN MAIN YAHOODION NAY TEHREEK INSAF BANANAY KA MALB YEH HAI K QANUN E NAMOOS RISALAT AUR KHATM E NUBUWWAT K QANUN JO BY INSAFI PE MABNI QAWANEEN HAIN UN KY KHILAF QADIANEO, EEESAYO, GUSTAKHO KO BRABER K HUQUUQ DILANA AUR GUSTAKHON SE SAZAE MOT KHATAM KRANA. PROOFS: MOVIE NO 1 – MOVIE NO 2 – APPEAL IMRAN KHAN ka sath DYNY SAY pehle is ne Mumtaz hussain qadri ko qatil kaha aor ab kehtta he k - Public Meeting Main Naat Sunne se log Bor hote hain ( Astaghfirullah ) Imran Khan - Laatnat PTI per . Hum aisi tabdeeli aur sinami pe lanat baijty hain jo Nabi Pak sallallaaho alyhi wasallam ki shan m gustakhi kre. Jo sunni ghairat mand he is ko her jaga phela de.apni wall,groups aor pages her jaga per.is gustakh yahudi ajent ko benaqab kar do. PROOFS ABOUT IMRAN KHAN : 1. What imran said - ;A. Ghazi mumtaz qadri k iqdam ko Intiha pasandi kaha. B. salman taseer ny khususi tor pe kaha k imran bhi mere sath hy. C. imran khan ny kaha qanun namoos e risalat sakht qanoon hy. D. blasphemy law be-qusur logo ko phansata hay. Iski implementation galat hay. E. Imran khan was also against Pakistani Namus e risalat Qanun. Imran k mutabiq qadianio ka is m phans jana galat h. Ye inteha pasandana qanun h. F. YE KEHTA HY K BLASPHEMY LAW JO ANGRAIZ NY BNAYA THA WO WAPAS LAYA JAE Q K US MAIN MOT KI SAZA NHE THEE…. ANGRAIZ K QANOON KA MAQSAD AMAN PHAILANA THA JB K QANUN E NAMOOS E RISALAT AMAN KO KHARAB KAR RAHA HY…AUR INTEHA PASANDI KO FAROGH DY RAHA HY. 7. Imran Khan said People Get Bored while Listening to Naat ( Astaghfirullah ) - 8. 1974 k law m qadiani ko muslim se mumtaz krna na insafi hy aur PTI jb power m ae to sb ko yaksan huquq milain gy. Weak yani qadianeo k huquq braber hon gy. ANY LAW (1974 , KHATM E NUBBUWAT, AND QANUN NAMOOS RISALAT) WHICH DISCRIMINATES HUMAN BEINGS (BETWEEN MUSLIM NON MUSLIM QADIANI) IS UNJUST AND PTI WILL COME TO REMOVE UNJUSTICE AND WILL PROTECT WEAK (QADIANI) FROM STRONG (MUSLIMS). VIDEO NO 5 - 8. India interview main kaha pak main qatil hero bn jata hay. 9. IMRAN SHARABI AUR ZANI HY, ISKI BV NY ISKO TALAQ DI, BV MUSLMAN HUE PHIR KAFIR HO GAE…BV B MURTAD HY. 10. Imran Khan (Shaitan Khan) wished Merry Cristmas or happy Diwali (which is Haraam). Chairman of Pakistan Tehreek-i-Insaf (PTI) Imran Khan on Wednesday wished Hindus a happy Diwali on the occasion of the religious festival. Reference “PTI believes in forming relationships with all the religious parties on the basis of equality and every citizen should be treated equally despite their ethnic or lingual origin” said a statement issued from the PTI central secretariat. The statement also said that PTI will put these norms in practice when it enters the power corridors. 11. IMRAN KHAN HINDU, MUSLIM, QADIANI SB KO BRABER SAMJHTA HY AUR SB KO BRABER HUQOOQ DAINA CHAHTA HY. 12. IMRAN KHAN NY QADIANEO SE VOTE KI BHEEK MANGI AUR KAHA K HUM ASSEMBLY MAIN AA KAR YE QADIANEO KO NON MUSLIM KEHNY KA QANOON KHATAM KAR DAIN GY AUR UNKA JAEZ HAQ JO MUSALMANO NY CHEEN LEA HY WO WAPAS DILAEN GY. VIDEO NO 6 - 13. BLASPHEMY LAW GALAT ISTIMAL HOTA HY AUR BY QUSUR LOG PKRY JATY HAIN AUR BAICHARON KO MUSHKIL SE GUZARNA PARTA HY. VIDEO NO 8 14. A. ASIA BEQUSUR HY B. 2. SALMAN TASEER AUR IMRAN KLHAN DONO KEHTY HAIN HAIN HUZUR KI SHAN MAIN KOE GUSTAKHI KAR HE NHE SAKTA TO QANUN E NAMOOS E RISALAT KI ZRURAT HI KHATAM HO JATI HY…..YE SHAITAN KA AK BHT BARA WAR HY………..HUZUR SALLALLAAHO ALYHI WASALLAM KI SHAM MAIN GUSTAKHIAN AJ TK HOTI RAHI HAIN AUR YEB QANUN ISI LEA NABI PAK SALLALLAAHO ALYHI WASALLAM NY BNAYA . PROOF K LEAY GUSTAKH VIDEO VIDEO HY INNOCENCE OF MUSLIMS….KEA YE BHI GUSTAKHI NHE. C. SALMAN TASEER NY KAHA “IMRAN KHAN NY QANUN NAMUS RISALAT MAIN TAMEEM KA KAHA” D. QANUN E NAMOOS E RISALATMAIN NUQSAN BARA HY. 15. QADIANI KO HAQ NA DAINA JUNGLE KA QANUN HY. PTI CHAHTI HY TMAM HINDU AUR CHRISTIAN KA IMAN ROSHAN HO AUR ACHY HINDU AUR EESAE BNAIN. HINDU AUR SARY DEEN YEH KEHTY HAIN K BARA INSAN WO HY JO KAMZORE (QADIANI AUR EESAE) KO ZALIM (MUSLIMS ) K PUNJY SE NIKALY. YE HAR DEEN KI BUNYAD HAY MASLAN HINDU. AUR ISI MAIN AP PEHCHAN JATY HAIN K ASLI DEEN KIKA HAY MASLAN HIDU KA AUR DEEN KO FOOTBALL KIS NY BNAYA HY JESE MULLAON NY FORCED CONVERSION KRWA K. HUMARA DEEN KEHTA HY K KISI INSAN QADIANI ETC KO KISI PE CHOTA BARA NA KAHO. JO CHOTA BARA KAHAY GA WO ZULM KAR RAHA HY. HAMARI HUKUMAT MAIN SB EESAE HUNDU YAHOODI MAIN KOE IMTIAZ NHE KEA JAE GA, SB KO BRABER KA SHEHRI SAMJGHAIN GY. MOVIE NO 10 – NOW MUSTLIMS STAY AWAY FROM PTI AND THIER NAPAK GOALS TOWARD NAMOOS E RISALAT
  12. رمضان میں کئی امراض سے جان چھڑانا آسان ہے روزے رکھنے سے کچھ افراد قبض کا شکار ہو جاتے ہیں، کچھ کو گیس کی شکایت کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہ سحری و افطاری میں بہت زیادہ مسالے دار چٹ پٹے کھانے ہیں۔ سحری اور افطاری کے بعد پانی کا استعمال بہت کم کرنے والوں کو بھی یہ شکایت رہتی ہے آج کی جدید سائنس اس بات کی تصدیق کررہی ہے کہ رمضان میں، روزے رکھنے والے افراد کے جسم کی اوورہالنگ ہو جاتی ہے اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینے روزے کی پابندی کرنے سے جسم کے اندر کے تمام نظام ایک طرح سے نئے ہو جاتے ہیں۔ روزے کے اثرات کے حوالے سے مغربی ممالک میں، جو تحقیقات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق،جوروزے دار، سحری و افطاری میں متوازن غذا اور افطار میںپیٹ بھرکر کھانے سے بچتے ہیں، ذہنی و جسمانی طور پر روزے کے تمام فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔چناں چہ موجودہ دور کے مغربی ماہرینِ صحت، ہر طرح کے مرض کے علاج کے لیے اب فاقہ تجویز کر رہے ہیں، جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ روزہ رکھنا انسانی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں پیشاب کی مقدار، خون اور پیشاب کے نمکیات، تیزاب کا میزان اور نائٹروجن کا اخراج، سب معمول کی حدود میں رہتا ہے، البتہ اس مہینے میں روزے رکھنے والے افراد کے وزن میں خاصی کمی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ غذا قدرے کم کھائی جائے، مگر رمضان المبارک میںعام طور پر مُرغن اور گوشت والے کھانوں کا رواج ہو چلا ہے، اس لیے اکثر اوقات وزن بڑھنے کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ دل کے مریضوں میں ایسے افراد، جو افطار میں مُرغن اور ثقیل اشیاء استعمال کرتے ہیں، ان کے دل میں درد کی شکایت اور جسمانی تھکن بڑھ سکتی ہے، چناںچہ، دل و دماغ، دردِ گُردہ اور معدے کے السر میں مبتلا افراد کے لیے روزے رکھنا مناسب نہیں۔ ایسے افراد کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے معالج سے مشورہ کر لیں۔ اسی طرح، دمے کے مریض، جن کا مرض معمولی نوعیت کا نہ ہو اور انہیں تکلیف کی صورت میں سانس کے ساتھ اندر جانے والی ادویہ( انہیلر) استعمال کرنا پڑتی ہوں، روزہ رکھنے کی صورت میں معالج کے مشورے سے دیرپا اثر والی ادویہ، بعداز افطار اور قبل از سحری استعمال کر کے روزے کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ جو افراد مِرگی، بُلند فشار خون، ہارمونل اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں یا خُون پتلا کرنے والی ادویہ استعمال کر رہے ہیں، ان کے لیے معالجین طویل الاثر ادویہ تجویز کر کے روزے رکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح، جن افراد کے گُردوں کے فعل میں کمی آ گئی ہو ، ان میں روزہ رکھنے سے پانی کی کمی لاحق ہو سکتی ہے یا جن کے گُردے خراب ہو چکے ہوں اور ان کے خون کی ڈائی لیسس ہوتی رہتی ہے، ان میں دو ڈائی لیسس کے وقفے میں پوٹاشیم میں اضافہ اور وزن میں زیادتی ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ جسم کے تیزاب میں بھی اضافے کا امکان ہوتا ہے۔ ایسے افراد اگر افطاری کے وقت یا رات کو زیادہ کھا لیں، تو ان کا وزن بڑھ سکتاہے، جو نقصان دہ ہے، لہٰذا ایسے افراد بھی روزے نہ رکھیں ۔ البتہ وہ افراد، جن کا گُردہ تبدیل ہو چکا ہے اور وہ صحت مندانہ زندگی گزار رہے ہیں، تو انہیں روزے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے، لیکن وہ بھی اپنے معالج سے مشورہ کر لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ چھوٹی موٹی بیماریوں میں مُبتلا افراد روزے کی حالت میں سکون محسوس کرتے ہیں اور کئی قسم کے معمولی امراض سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ روزے رکھنے سے کچھ افراد قبض کا شکار ہو جاتے ہیں، بعدازاں بواسیر، فشر یا بدہضمی کی بھی شکایت ہو جاتی ہے اور کچھ کو گیس کی شکایت کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہ سحری و افطاری میں بہت زیادہ مسالے دار چٹ پٹے کھانے ہیں۔ اس کے علاوہ، سحری اور افطاری کے بعد پانی کا استعمال بہت کم کرنے والوں کو بھی یہ شکایت رہتی ہے۔ پھر وہ غذائیں، جن میں مناسب مقدار میں ریشہ شامل ہوتا ہے، استعمال نہ کرنے سے بھی قبض اور ہاضمے کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ رمضان میں چٹ پٹے کھانوں اور مرچ مسالے دار اشیا سے پرہیز کریں، افطاری اور سوتے وقت تک وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں اور ہمیشہ بے چھنے آٹے کی روٹی استعمال کریں۔ بہت زیادہ پسینہ آنا، کم زوری محسوس ہونا، تھکاوٹ و نقاہت، غنودگی، خصوصاًَ اس وقت، جب بیٹھنے یا لیٹنے کے بعد اٹھا جائے۔ اسی طرح، چہرے کی رنگت زردی مائل ہونا یا بہت زیادہ کمی سے بے ہوشی طاری ہونا، یہ وہ علامات ہیں، جو بلڈ پریشر کی کمی والے مختلف افراد روزے رکھنے کے دوران محسوس کرتے ہیں اور یہ علامات عموماً بعد از دوپہر محسوس ہوتی ہیں ۔ یہ علامات ایسے افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہیں، جو سیال اشیا (پانی یا جُوس وغیرہ) بہت کم یا نہ ہونے کے برابر استعمال کرتے ہیں، نمک نہ کھانا یا کم کھانا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ایسے افرادغصّے سے پرہیز کریں، پُرسکون رہنے کی کوشش کریںاورسحری و افطاری میں سیال اشیا اور نمک زیادہ استعمال کریں۔ روزے کی حالت میں عموماًََ کچھ افراد سردرد کی شکایت کرتے ہیں، یہ شکایت پورے سر یا آدھے سردرد کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ سردرد کے ساتھ ساتھ افطار سے کچھ دیر قبل متلی و قے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے، کیفین ملے مشروبات اور شراب نوشی کرنے والے افراد جب روزہ رکھتے ہیں تو انہیں ان اشیا کی طلب کی وجہ سے سردرد کی شکایت ہوتی ہے، نیند کی کمی کے سبب بھی سردرد لاحق ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگ بھوک برداشت نہیں کر پاتے او ر سحری میں بھی کچھ کھانے سے قاصر ہوتے ہیں، تو انہیں عموماً دوپہر کے بعد سے سردرد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ایسے افراد کو کیفین ملے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے۔ رمضان المبارک میں روزے رکھنے سے کچھ افراد میں شدید کم زوری، تھکاوٹ، توجّہ مرکوز کرنے میں دُشواری، جسم میں کپکپاہٹ، کسی جسمانی کسرت کرنے کی نااہلی، سردرد اور دل کی دھڑکن کی تیزی جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں اور یہ تمام علامات خون میں شوگر کی کمی کی علامات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایسے افراد، جنہیں ذیابطیس کا عارضہ نہیں، وہ اگر سحری اور افطاری میں ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں بہت زیادہ مٹھاس ہو، تو عموماً ان علامات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سحری کے وقت بہت زیادہ کاربوہائیڈریٹس استعمال کرنے سے بھی جسم میں شوگر لیول زیادہ ہو جاتا ہے اور انسولین اسے قابو کرنے کے لیے خارج ہونے لگتی ہے، اس لیے بھی شوگر لیول کی نارمل مقدار کم ہو جاتی ہے، سحری میں بالخصوص اور افطاری میں بالعموم، ایسی غذائیں کھائیں، جو متوازن مٹھاس لیے ہوں۔ معدہ جب خالی ہو، تو عمو ماً تیزابیت کالیول بڑھ جاتا ہے اور ایسی حالت میں سینے کی جلن، السر کی شکایت، گیس کی پیدائش اور ہیاٹس ہرنیا کی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ایسے افراد، جو سحری و افطار میں بہت زیادہ مرچ مسالے والی اشیاء استعمال کرتے ہیں، ان میں یہ علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کافی، چائے اور کولا مشروبات کی کثرت سے بھی یہ علامات ہونے لگتی ہیں۔اس مرض کا سبب بننے والی اشیا سے پرہیز کریں اور زود ہضم کھانا کھائیں۔ وہ افراد، جو پیپٹک السر یا معدے و آنتوں کی سوزش کے مریض ہوں، اپنی ادویہ جاری رکھیں اورسحری و افطاری میں کھانے پینے کے معمولات کے حوالے سے معالج سے مشورہ ضرورکر لیں۔ کئی افراد یہ شکایت کرتے ہیں کہ روزے رکھنے سے گُردوں میں پتھری بننے لگتی ہے، حالاںکہ یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ ہاں، یہ بات الگ ہے کہ روزے کی حالت میں جسم کے اندر پانی یا سیال اشیا کی کمی ہوجاتی ہے، اس لیے گُردے کی پتھری کی علامات نمودار ہونے لگتی ہیں، جیسے گُردوں کے مقام پر درد، پیٹ میں درد اور کھچاؤ یا پیشاب کی وقتی رکاوٹ وغیرہ پھر سیال مواد کی قلّت کے سبب عموماً گُردوں کے مقام پر کھچاوٹ اور درد کی شکایت رہنے لگتی ہے ۔ ایسے افراد، جنہیں گُردوں کی پتھری کی شکایت لاحق ہو یا ماضی میں لاحق رہی ہو، انہیں چاہیے کہ افطار کے بعد پانی کی مقدار وقفے وقفے سے پوری کرتے رہیں۔ ادھیڑ عمر یا کم زور جسم کے مالک افراد، رمضان کے دوران، چوںکہ غذائی بے اعتدالیوں کاشکار ہو جاتے ہیں اور وہ، جو جسمانی مشقّت کا کام کرتے ہیں، خاص طور پر فربہ افراد، انہیں مکمل طور پر توانائی نہیں مل پاتی، اس لیے جوڑوں کے درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے، تو انہیں وقتاً فوقتاًجوڑوں، بالخصوص ٹانگوں کی ہلکی پُھلکی ورزش کرنی چاہیے۔ذیابطیس سے متاثرہ مریض، جو انسولین کا استعمال کرتے ہیں، انہیں بھی روزے نہیں رکھنے چاہئیں، کیوںکہ ان کے مرض کو کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس انسولین نہ لینے والے مریضوں کو ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ ان میں مثبت اثرات مرتّب ہو سکتے ہیں۔ روزے سے متعلق عام طور پر ذیابطیس سے متاثرہ افراد، جو شکایت کرتے ہیں، وہ شوگر کی فوری کمی یعنی ہائپو کی شکایت ہے اور یہ عموماً درج ذیل وجوہ کی بناء پر ہوتی ہے: سحری میں کم کھایا ،سحری میں محض دوا کھانے پر اکتفا کیا اور کھانا نہ کھایا، عصر و مغرب کے درمیانی وقت میں ورزش کی جائے یا اس دوران کوئی جسمانی مشقّت والا کام کیا جائے،سحری کے بعد ورزش کی جائے، انسولین یا دوا کی زیادہ مقدار لے لی جائے، جب کہ سحری کی دوا افطاری میں اور افطاری کی دوا سحری میں لی جائے۔ ہائپو سے متاثرہ افراد میںدل کی دھڑکن تیز ہوجائے، نقاہت یا کم زوری محسوس ہو،ہونٹوں پر سنسناہٹ ہو، جسم کپکپائے،آنکھوں کے سامنے دھبے آئیں یا دو دودکھائی دیں،چڑچڑاپن اور شدید غصّہ آئے، زبان لڑکھڑائے،پسینہ آئے اورسردرد، غنودگی جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً شوگر چیک کرائیں اور معالج سے رابطہ کر کے مکمل صورتِ حال سے آگاہ کریں۔ اگر معالج روزہ توڑنے کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ ہائپو عام طور پر ان مریضوں میں ہوتا ہے، جو اپنے معالج کی تجویز کردہ غذا استعمال نہیں کرتے یا کم غذا استعمال کرتے ہیں۔ ذیابطیس سے متاثرہ افراد کو افطار میں مُرغن غذاؤں، تلی ہوئی اشیا، جیسے سموسے، پکوڑے، رول اور مٹھائیاں وغیرہ، چینی ملا شربت، چینی سے بنی اشیاء بلکہ ایسی فروٹ چاٹ، جس میں چینی کی آمیزش کی گئی ہو، سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ ان افراد کی غذا کا 45 سے 55 فی صد حصّہ نشاستے پر مشتمل ہونا چاہیے اور رمضان المبارک میں یہ نشاستہ کچھ اس طرح تقسیم کریں کہ سحری میں 15 سے 20 فی صد نشاستے والی غذائیں لیں، جوایک پراٹھے (ایک چمچ تیل میں پکا ہوا) اور چائے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ افطار میں 25 سے 30 فی صد نشاستے والی غذا کھائیں، جو ایک پیالی فروٹ چاٹ، تین چوتھائی کپ چھولے اور ایک سے دو پکوڑوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ رات کا کھانا 40 سے 45 فی صد نشاستے والی غذا پر مشتمل ہو، جو ایک چپاتی، تین چوتھائی کپ دال اور تین چوتھائی کپ چاول سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ رات سوتے وقت 5 سے 10 فی صد نشاستے والی غذا ضروری ہے، جو ایک کپ دُودھ اور ایک پھل سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس ماہِ مقدس کے دوران، ذیابطیس سے متاثرہ افراد، اگر روزے رکھیں، تو وہ درج ذیل مینو (یہ مینو تقریباً 1800 کیلوریز پر مشتمل ہے )کو اپنا لیں تو اُمید ہے کہ وہ کسی پیچیدگی کا شکار نہیں ہوں گے، البتہ پُرانے مریض اپنے معالج سے مشورہ کر کے اس میں ردّوبدل کر سکتے ہیں: سحری:ایک پراٹھا (ایک چمچہ تیل میں پکا ہوا)، دو انڈوں کی سفیدی (ایک چمچ تیل میں پکی ہوئی یا سالن کی صورت میں)، آدھا کپ دہی یا لسی اور ایک کپ چائے۔ افطار:ایک کھجور اور فروٹ چاٹ (بغیر چینی والی)، ایک کپ لیموں کا جوس یا لسّی، ایک سے دو پکوڑے، تین چوتھائی کپ چنے، چھولے (سفید یا کالے) لیے جائیں۔ کھانا:ایک چپاتی، آدھا کپ سبزی کا سالن(ایک چمچ تیل میں پکا ہوا)، تین چوتھائی کپ دال (ایک چمچہ تیل میں پکی ہوئی)، تین چوتھائی کپ اُبلے ہوئے چاول، دو بوٹی گوشت (مُرغ یا مچھلی) لی جائے اور سوتے وقت دُودھ پی لیا جائے۔