abuzaid

Members
  • Content count

    58
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

-8 Poor

About abuzaid

  • Rank
    Under Observation

Contact Methods

  • ICQ
    0

Profile Information

  • Gender

Previous Fields

  • Madhab
  1. چشتی پادری صاحب شریک زندگی کا مطلب آپ اپنے احمد رضا سے ہی لیجیے
  2. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) ریڈی ایٹنگ علی تمہاری ذہنی کیفیت کا اندازہ تمھاری بدزبان تحریر سےبخوبی لگایا جاسکتا ہے اگر سعیدی و دیگر کو مسلسل دندان شکن منہ توڑ جواب اور میرے وہ سوالات جن پرآل تقلید بریلویہ تاحال لاجواب ہیں صرف اللہ سبحانہ تعالی کی توفیق سے میں یہاں دے رہا ہوں تو اس میں اتنا تلملانے کی کیا ضرورت ہے اپنے اندراتنی علمیت ؛ اہلیت و غیرت پیداکروکہ تم ہی جواب دے سکوبجاءے اسکے کے یہاں پر آپ اپنے گھر اور گمراہ و بدمذھب کے بانی کی زبان کی عکاسی کریں لیکن اس کا ریکارڈ نہ آج تک کوءی توڑ سکااور نہ ایسا ہوسکے گاپہلی بات اور دوسری بات یہ کہ میرے کمنٹس کافی تھے کہ تم ؛ اہل سنت و الجماعت اہل حدیث کا عقیدہ جان سکو لیکن میری بات تمھاری سمجھ میں نہ آسکی کیوں کہ تم میں اتنی اہلیت و علمیت نہیں کہ علمی گفتگو سمجھ سکو تیسری بات یہ کہ سعیدی کے پاس جاو اورملفوظات کا وہ صفحہ ضرور کھلواو جس میں احمد رضا نے موسی سہاگ کا وہ واقعہ نقل کیا ہے جس میں موسی سہاگ اپنے آپ کو اللہ کی بیوی کہا کرتا تھا اور اسی صفحہ پر” ف سیدی موسی سہاگ کے دوایمان افروزواقعے”۔ لکھاہے پھر کنزالایمان کا وہ صفحہ بھی کھلواو جس کا ترجمہ احمد رضا نے یہ کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس (اللہ) کے بچہ کہاں سے ہو حالآنکہ اسکی عورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الانعام ۱۰۲ اب لگاو فتوی احمد رضا پر کفر کا ۔ اور ہاں لفظوں کی ہیرا پھیری سے کام مت لینا کہ مجذوب سے اللہ تعالی نے قلم اٹھالیا ہے؛ تھوڑی دیر کے لیے اگر اگر اور اگر فرض کیے لیتے ہیں وہ مجذوب تھا تو لیکن احمد رضا تو مجذوب نہ تھا قلم مجذوب سے اٹھایا گیا ہے اس سے تو نہیں جو مجذوب کے کفریہ کلمات کو صحیح جانے اور ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ احمدرضا کی تحریر سے ہی وہ سچا مجذوب ثابت ہی نہیں ہوتا کیونکہ اسی واقعہ میں احمد رضا لکھتا ہے کہ سچے مجذوب کی پہچان یہ ہے کہ کبھی شریعت مطہرہ کا مقابلہ نہ کرے گا اور جب تمہارے ولی مجذوب نے اپنے کو اللہ کی بیوی کہا توشریعت مطہرہ کا مقابلہ کیا اور احمد رضا کے فارمولے کے مطابق سچا مجذوب نہ رہا لہذا اب اس پر بھی کفر کا فتوی لگاو؛ قیامت آسکتی ہے تم لوگ راہ فرار اس حقیقت سے اختیار کرسکتے ہو بدزبانی پر اترکر اپنے بدمذھب کے بانی کی عکاسی کرسکتے ہو زہر کاپیالہ پی کر حرام موت مرنا پسند کرسکتے ہو حقیقت سے آنکھیں چرا سکتے ہو دنیا اور آخرت میں ذلیل ہونا پسند کرسکتے ہو انشاءاللہ تعالی لیکن اپنے مشرک مذھب کے بانی پر فتوی نہیں لگاسکتے کیونکہ تم اسے اپنے قولی اظہار کے بغیر اور عملی اظہار کے ساتھ معصوم عن الخطاء سمجھتے ہو۔ لیکن اللہ تعالی نے ہی تمہارے بدمذھب مشرک بانی کے شاگردرشید کے قلم سے ایک فتوی جاری کروادیا جس سے تمہارے بدمذھب بانی پر کفر کا فتوی پڑتا ہے۔ اس ( اللہ ) کے لیے بیوی ثابت کرے کافرہے بلکہ جوممکن بھی کہے وہ گمراہ بددین ہے۔ بہارشریعت حصہ اول صفحہ ۵ اب تمھارا یا آل تقلید بریلویہ میں سے کسی دیگر کا فتوی کوءی اہمیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس سے فرق پڑتا ہے کہ تم فتوی کفراحمد رضا پر دو یا نہیں کہ اللہ تعالی نے تمھارے اس عالم کے قلم سے یہ فتوی دلوادیا اور اس فتوی کی رو سے احمد رضا کافر قرار پاتا ہے اب احمد رضا کے کفر کا انکار وہی کرے گا جس کی اصل میں فرق ہے۔
  3. ........................
  4. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) ریڈی ایٹنگ علی صاحب آپکو یہ اسکین لگانےکے بعداس بارے ہمارا موقف ذہن میں رہنا چاہیے کہ ہم آپکی طرح اپنے علماء کے کسی فتوے یا بات کا اس وقت دفاع نہیں کرتے جب اسکا کوی فتوی یا کوءی بات قرآن وحدیث سے متصادم ہو۔کیونکہ ہمارے امام کا نام ہے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے بارے ہمارا عقیدہ معصوم عن الخطاء کا ہے اور ہمارےعلماء معصوم عن الخطاء نہیں ہیں وہ خطاء کرسکتےہیں۔ اور اپنی خطاء"دانستہ یا نادانستہ فقط واللہ اعلم" پراللہ تعالی کےدربار میں جوابدہ ہیں اللہ چاھے تو چھوڑدے اور اللہ چاھے توگرفت کرے۔اللہ ہم سے ان کے کیے کا دریافت نہیں کرے گا۔ ہاں اس صورت میں ہماری گرفت اللہ کے دربار میں ہوگی اگر ہم اللہ کاقرآن اور نبی علیہ السلام کا فرمان چھوڑتے ہیں اپنے عالم کے فتوے یا بات یا اسکے فہم پر۔ امید ہے کہ بات سمجھ آگءی ہوگی۔ انورصاحب آپکی پوسٹ نمبر ۱۴۷ کا جواب ؛ میں پوسٹس نمبر۷۷تا ۱۳۴ کے درمیان اپنی کءی پوسٹس میں دے چکا ہوں لہذا اسکا مطالعہ آپکی طبیعت صاف کرنے کے لیے کافی ہے۔ پادری صاحب ؛ آپنے اپنی پوسٹ نمبر ۱۴۴ میں آخر پادریوں والا کام کرکے اپنے پادری ہونے کا ثبوت دے ہی دیا۔ آپ نے لکھا کہ ” ابوزید نے تو یہ جھوٹا بہانہ بنایا کہ اسے رومن اردو کی سمجھ نہیں آتی” پادری صاحب کیا آپ میری پوسٹ نمبر ۱۳۴ میں یہ جملہ دکھاسکتیں ہیں لیجیے میں اپنے کمنٹس دوبارہ یہاں نقل کیے دیتا ہوں۔ ”ریڈی ایٹنگ علی صاحب میں نے آپکی تمام پچھلی پوسٹس نظرانداز کیں یعنی مطالعہ ہی نہ کیا کیونکہ وہ تمام کی تمام اردو خوش خط میں نہیں اور جس طرز پر آپ لکھرہے ہیں وہ میں پڑھتا نہیں۔ کہ اس میں وقت کا بہت زیاں ہے لہذا آپ اردو خوش خط میں اپنے کمنٹس لکھیں تاکہ آپکا ” چیلنج” نظروں کے سامنے آسکے۔اور آءیندہ سے آپکی پوسٹس بغور مطالعہ کی جاسکیں اور دیگربریلوی مشرکین کی طرح صرف اللہ سبحانہ تعالی کی مدد سے آپکی طبیعت بھی صاف کی جاسکے۔انشاءاللہ تعالی۔” میں نے لکھا کہ "جس طرز پر وہ یعنی علی صاحب لکھ رہے ہیں وہ میں پڑھتا نہیں۔ کہ اس میں وقت کا بہت زیاں ہے۔ اب میرا آپکو چیلنج ہے کہ میری تحریر سے یہ دکھاءیں کہ میں نے کہا ہو کہ مجھے رومن اردو کی سمجھ نہیں آتی۔ قیامت آسکتی ہی زہر کا پیالہ پادری صاحب آپ غصہ میں آکر پی سکتے ہیں لیکن آپ میری تحریر میں اپنا بیان کردہ جملہ نہیں دکھا سکتے تو جان لیں کہ جیسے عیساءی ہیں ویسے ہی آپ بھی پادری ہیں۔ اگر آپ پادری نہیں تو ثابت کریں کہ میں نے وہ جملہ استعمال کیا جو آپ نے میرے سر تھونپنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پادری صاحب آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۱۴۶ میں لکھا کہ میں نے سعیدی کی پوسٹس نمبر ۶۴؛۶۵؛۷۸؛۱۱۰ اور ۱۱۶کا جواب نہیں دیا ۔ دراصل آپکے مذھب کا بانی تو ایک آنکھ سے کانا تھا اور آپ پادری صاحب دونوں آنکھوں سے اندھے اور دل سے ہیں آپ شرک کے گندے لہذا آپ کو جواب نظر آءے تو کیسے؛ کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ آپکے دل اور آنکھوں دونوں امرض کا علاج ہوسکے اور ہاں دیکھنا دیر مت کرنا کہ آپ لاعلاج ہوجاءیں۔ سعیدی کی پوسٹ نمبر ۱۱۶ کا جواب میں اپنی پوسٹ نمبر ۱۳۴ میں دے چکا ہوں۔ سعیدی کی پوسٹ نمبر ۱۱۰ کا جواب میں اپنی پوسٹ نمبر ۱۱۱ میں دے چکاہوں۔ سعیدی کی پوسٹ نمبر ۷۸ و ۶۵ کا جواب میں نے دیا تھا لیکن آپکے ہمنواوں نے اسے ڈلیٹ کردیا لہذا دوبارہ پوسٹ کررہاہوں۔ باقی رہا سعیدی کی پوسٹ نمبر ۶۴ تو اس کاذکر میں اپنی پوسٹ نمبر۱۳۴ میں کرچکا ہوں کہ جواب تیارکررہاہوں۔ باقی رہیں آپکی ادھورے جواب پر مشتمل پوسٹس تو پہلے میرے سوالات کے مکمل جوابات دینے کی اہلیت اپنے اندر پیدا کریں پھرآپکو نمبر وار جواب دیا جاءے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ایک اور صاحب آءے ہیں جنکا نام ہے خلیل رانا چشتی پادری کی طرح انہوں نے بھی چیخنا چلانا شروع کردیا علمی یتیمی علمی یتیمی ارے جناب سب سے پہلے یہ لفظ ہمارے مواحد بھاءی نے ابوحنیفہ رح کے لیے استعمال کیا اور اب سارے مقلدین نے شاھد بھاءی کی تقلید شروع کردی کیا ابوحنیفہ کی تقلید سے آپکا دل نہیں بھرا کہ ایک اہل حدیث کی بھی تقلید شروع کردی؛ قارءین دیکھ سکتے ہیں کہ علمی یتیمی کا شکار کون ہے یہ راز حل کرنے کے لیے قارءین جب پورا تھریڈ پڑھیں گے تو انہیں پتا چلے گا کہ نوید خان بحث کرنے آیا میرے سوالات پر بھونچکا رہ گیا اوربھاگ جانے میں عافیت سمجھی؛ چشتی پادری کے کمنٹس دیکیں جاسکتے ہیں کہ میرے سوالات کے جوابات پورے دینے سے تاحال قاصر ہے اور ادھوری ادھوری باتیں کرتا ہے البدایہ والنھایہ کا اسکین لگایا اور خود ہی اس کے جال میں پھنس گیا ہذیان بکتا ہے اور بس بڑا ہی بے بس ہے اس کے بعد سعیدی صاحب آءے بجاءے میرے سوالات کے جواب دینے کے لفظوں کی ہیرا پھیری ؛کہیں جملوں میں قطع برید کہیں قرآن کی آیت لکھنے میں نسیان تو کہیں یہ صدا کہ نہیں نہیں جس آیت پر بحث چل نکلی ہے وہ ہمارا مقصود ہی نہیں کہیں ضعیف احادیث کی آڑ میں فرار اور کہیں میرے سوالات سے فراراور کہیں میرے سوالوں سے لاجواب ہوکر اپنے فضول تبصرہ کو سوالات کا نام دینا اور اس پر طرہ یہ کہ نمبروں کا زیادہ سے زیادہ شمار کرکے اپنے حلقہ بریلویہ میں قدآور بننے کا عزم اور پھر انور صاحب آءے اور جب ان پر میں نے سوالات داغے ان کی پیش کردہ آیت کے حوالے سے تو وہ بھی بھاگے بھاگے سعیدی کے پاس پہنچے اور ایک پرچا راہ فرار کا لکھوالاءے کہ ارے وہ آیت جس پر بحث چل نکلی ہے وہ تو موضوع ہی نہیں ہے بلکہ دوسری آیت ہے جب ترجمہ کی تحریف کے ساتھ سعیدی نے وہ آیت پیش کی تو الحمدللہ میں نے صرف اللہ سبحانہ تعالی کی مدد سے انہی کے مذھب کے بانی احمد رضا کے ترجمہ سے انکی گرفت کی تو یہ کہتے ہوءے سعیدی صاحب نے جان چھڑانے کی کوشش شروع کردی "۔۔۔۔۔ میں نے کسی آیت کے ترجمہ کی حیثیت سے نہیں لکھا بلکہ میں نے کہیں بھی آیت کا ترجمہ نہیں لکھا" اسکے بعد علی صاحب آءے اور اپنے حلق سے شیرکی آوازنکالنے کی نقل شروع کردی اور جب انہیں انکا مقام بتایا تو شاہ اسمعیل کے حوالے شروع کردیے اور میرے سوالات کے جوابات ان سے بھی نہ بن پڑے ۔ اس سارے پس منظر کے بعد بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جو آیت سورہ نساء ۶۴ ان بریلویوں کی طرف سے پیش ہوءی اس ضمن میں جب میں نے سوالات کیے تو جوابات سے راہ فرار اختیار کیا ہوا ہے۔ اب خلیل رانا صاحب کو ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ میرے سارے سوالات کو چھوڑ صرف ایک کا جواب انہوں نے دینے کی کوشش کی فی الحال سند کے حوالے سے میں ابھی سکوت اختیارکرتا ہوں کچھ وقت کے لیے کہ انشاء اللہ جلد اس کی تحقیق پیش کی جاءے گی۔ سعیدی صاحب کی غلطیوں و بددیانتیوں کا جواب خلیل رانا سے طلب کرنا تو نا انصافی ہوگی لہذا آپ خلیل رانا صاحب سورہ نساء آیت نمبر۶۴ اور آیت نمبر ۵۹ کے تحت کیے گءے میرے سوالات کے جوابات مکمل عنایت فرماءیں۔ امیدکرتا ہوں کہ دیگر آل تقلید بریلویہ کی طرح نامکمل جوابات سے جناب احتیاط برتیں گے اور نمبر وار میرے سوالات کے جوابات مرحمت فرماءیں گے۔تاکہ بات آگے مثبت انداز سے چل سکے۔
  5. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) چشتی پادری صاحب اب آپکے کمنٹس صرف اس لیے پڑھتا ہوں کہ ذرا منہ کاذاءقہ کچھ تبدیل ہوجاءے۔ آپکے کمنٹس پڑھتا جاتاہوں اور آپکے ذہنی خلفشار کا اندازہ کرتا جاتا ہوں اور ہنستا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھیں اور لکھیں تاکہ آپکا نقاب اتر سکے اور آپ بے نقاب ہوسکیں ان بھولی بھالی بھیڑوں کے سامنے جنکو آپ نے شرک کی دلدل میں پھنسانے کا بیڑا اٹھارکھا ہے۔انشاء اللہ کل قیامت کے دن آپ اپنا بوجھ بھی اٹھاءیں گے اور انکا بھی جو آپکی مشرکانہ باتوں میں آکر بہک جاءیں گے۔ اور ہاں آپ احمد رضا کی زبان کی عکاسی کچھ تھوڑی اچھی کرلیتے ہیں لیکن ریکارڈ تو آپکے مذھب کے بانی کا نہ کوءی توڑ سکا اور نہ ہی توڑسکے گا۔
  6. بسم اللہ الرحمن الرحیم یا اللہ مدد کی آءیڈی سے آنے والے بھاءی کوالسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ؛ اللہ تعالی آپکو جزاءے خیر دے آپ میری غیر موجودگی میں ان مشرکین کو میرے سوالات یاد دلاتے رہے ہمارا کام ہے ان کو شرک اور توحید کا فرق سمجھادینا یہ سمجھیں یا سمجھنے کی کوشش ہی نہ کریں انشاءاللہ تعالی اللہ تعالی کے دربار میں ہماری چھوٹ ہوگی اور جو توحید کو قبول کرے اور شرک کو چھوڑ دے وہ دین میں ہمارا بھاءی ہے اور جو توحید کو قبول نہ کرے اور شرک کی گندی دلدل میں دھنسا رہنا پسندکرے وہ خود اللہ تعالی کے حضور اپنے خلاف حجت قاءم کررہاہے۔ اللہ تعالی ہمیں دین اسلام میں استقامت عطافرماءے۔آمین۔
  7. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) پوسٹ نمبر ۱۱۶ کا جواب قارءین دیکھ سکتے ہیں کہ بریلویت کس طرح داءیں باءیں جاءپناہ تلاش کررہی ہے لیکن آج نہ ہی ان کے لیے یارسول اللہ مدد کامشرکانہ نعرہ کارآمد ثابت ہورہا ہے نہ یاغوث المدد کامشرکانہ عقیدہ انکے لیے سہارہ ہو رہا ہے اور نہ ہی عطار لگا بیڑا پار کا مشرکانہ نعرہ یاد آرہا ہے۔ السلام علیک ایہاانبی کے حوالے سے میرا جواب ذیل میں آءے گا۔ میں نے اپنی پوسٹ نمبر ۱۱۱میں سوال نمبر ایک کا جواب مانگا تھا جو کہ نہیں آیا لہذا ایک بار پھر دھراتا ہوں۔ سوال نمبر ایک ؛ احمد رضا کے ترجمے میں دیکھاجاسکتا ہے کہ لفظ ”اے مومنو” ترجمہ میں نہیں ہے جبکہ سعیدی نے ترجمہ کرتے ہوءے ”اے مومنو” سے ترجمہ شروع کیا لہذا سب سے پہلے ترجمہ کیا گیا لفظ ”اےمومنو” عربی متن میں دکھاءیں کہ کہاں لکھا ہےمذکورہ آیت میں؟ سوال نمبر دو کا جواب بھی نہیں آیا لہذا ایک بار پھر دھراتا ہوں۔ آپ اس آیت سورہ نساء ۶۴ کا فہم اپنے امام ابوحنیفہ رح سے ثابت کریں کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ ایک گمنام مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سورہ نساء آیت نمبر ۶۴ بھی ذہن میں رہے اور وہ بھی ترجمہ احمد رضا کا بحوالہ کنزالایمان ”اور ہم نے کوءی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اسکی اطاعت کی جاءے اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمھارے حضور حاضرہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرماءے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنیوالا مہربان پاءیں۔ سوال نمبر تین کا جواب بھی نہیں آیا لہذا ایک بار پھر دھراتا ہوں؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں بھی مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے و اسکین کے ثابت کریں؟ سوال نمبر چار کا جواب بھی نہیں آیا جس میں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ احمد رضا نے ظلموا کا ترجمہ لفظ ”ظلم” سے استعمال کے ساتھ کیا جبکہ سعیدی صاحب نے ظلموا کا ترجمہ لفظ ”مسءلہ” کے استعمال کے ساتھ کیا کس کا ترجمہ غلط ہے احمد رضا کا یا سعیدی کا؟ سوال نمبر پانچ کا جواب بھی نہیں آیا جس میں میرا مطالبہ تھا کہ کسی مستند ڈکشنری سے عربی لفظ ” ظلموا” کا ترجمہ ”مسءلہ” دکھاءیں؟ سوال نمبر چھ کا جواب بھی نہیں آیا جس میں میرا مطالبہ تھا کہ نبی علیہ السلام کا فرمان صحیح سند کے ساتھ معہ حوالہ پیش کریں کہ اس آیت کا حکم بعد از وفات النبی علیہ السلام بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آپکی حیات میں تھا؟ نوٹ : یہ سوال اس وقت ہے جب مقلد اپنے امام کا فہم مذکورہ آیت کے بارے میں نہ دکھا سکے۔ سوال نمبر سات؛ اس آیت کو فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صحیح سند کے ساتھ معہ حوالہ پیش کریں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس آیت کو ایسا ہی سمجھا جیسا کہ آج کے بریلوی سمجھتے ہیں؟ اور ایک بات اور کہ جب آپ اس آیت سورہ نساء ۶۴ سے حیات النبی علیہ السلام کا عقیدہ لیتے ہیں تو اس آیت سورہ نساء ۵۹ سے انکارکیسے کرسکتے ہیں کیا ایک کا اقرار اور دوسرے کا انکارصرف اپنے نفس پرستی کے لیے یہ کون سا اصول بنایا ہے کہ قرآن کی آدھی بات کو ماننا اور آدھی کا انکار کیا یہ بھی بریلویت کے مدارس میں تعلیم دی جارہی ہے ۔لہذا جب آپ سورہ نساء ۶۴ سے حیات النبی کا عقیدہ لیتے ہیں تو اب اس کے حوالے سے بھی میرے سوالات کے جوابات دیں اور سورہ نساء ۵۹ کے حوالے سے بھی میرےکیے گءے سوالات کے جوابات دیں۔ میرے جن سوالات سے سعیدی صاحب کے نفس پر چوٹ پڑتی تھی اس پر تو تبصرہ کرگءے لیکن میرے سوالات جو تاحال حلقہ بریلویہ کی جانب سے لاجواب ہیں کو چھواتک نہیں باقی جہاں جہاں سعیدی صاحب نے ہیراپھیری کی ہے ان کا جواب درج ہے۔ جواب نمبر۱۔ انور صاحب کا اپنی سات عدد پوسٹس میں میری طرف سے پیش کی جانے والی سورہ نساء کی آیت ۵۹ کے ترجمہ کو رد نہ کرنا باوجود اسکے کے اس ہی کو بنیاد بناکرمیں نے اپنی پانچ سے زاءد پوسٹس میں مختلف سوالات کیے اور پھر انورصاحب نے اپنی پوسٹ نمبر ۹۰ کی سطر ۳ میں لکھا کہ ”جس قرآنی آیت کو آپ ایک خاص وقت تک محیط کرنے کی کوشیش (صحیح لفظ کوشش ہے) آپ منافق و غداراسلام کررہے ہو اس کا بھی منہ طور ( صحیح لفظ توڑ ہے ) جواب آپ کو جلدمل جاءے گا انشاءاللہ”۔ کیا اس کے بعد بھی جہلا کو سمجھانے کے لیے انورصاحب کی تحریر سے ”تسلیم” دکھانا باقی رہ جاتا ہے۔ میرے وہ سوالات جن سے بریلویوں کومرچیں لگیں کہ بعد انورصاحب کی پوسٹس دیکھی جاسکتی ہیں کہ کسی بھی اپنی پوسٹ میں انہوں نے میری بیان کردہ آیت کوغیرمتعلقہ نہیں کہا اور نہ ہی کسی اور مشرک نے تو پھر سعیدی صاحب کی یہ لفظی قلابازیاں بھلا کیا اہمیت رکھتی ہیں۔ سعیدی صاحب و دیگر آل تقلید بریلویہ سے جب میرے سوالات کے جواب نہ بن پاءے تو راہ فرار کے لیے یہ طریقہ وضع کیا کہ نہیں جی نہیں وہ آیت تو زیر بحث ہے ہی نہیں۔ واہ بریلویوں واہ جب جواب نہ بن پڑا تو راہ فرار کا کیا خوب طریقہ نکالا ہے۔ ۲۔ اس تھریڈ پر آپ مناظرانہ بحث کررہے ہیں کوءی حدیث کی کتاب نہیں لکھ رہےاس قسم کی لفظی ہیراپھیری سے آپ اپنے آل تقلید بریلویہ میں تو اندھوں میں کانا راجا کے مصداق ہوسکتے ہیں لیکن مواحدین آپکی ان دجل فریبیوں میں نہیں آسکتے الحمدللہ ؛ اور دوسری بات یہ کہ امام بخاری نےصحیح بخاری جوکہ حدیث کی کتاب ہے تالیف کی وہ کوءی مناظرانہ بحث پر مبنی کتاب نہیں جو آپ انہیں الزام دے سکیں لہذا ان کا اشاراتن (اس لفظ کا املا صحیح یہ ہے اشارہ ؛ ہ پر دونکتے دوزبرکےساتھ ہیں جو کہ ٹاءپنگ میں نہیں آرہے لہذا تلفظ کی اداءگی کے لیے اشاراتن لکھا گیا ہے) ادھوری آیت کا لکھدینا معیوب نہیں ہاں آپکا ادھوری آیت لکھنا ضرور معیوب بات ہے کیوں کہ آپ یہاں حدیث کی کتاب تالیف نہیں فرمارہے بلکہ مناظرانہ بحث کررہے ہیں۔ ۳۔ سعیدی صاحب آپکی حالت بھی بڑی دیدنی کہ جو کھاوں چوٹ کدھر کی تو بچاوں چوٹ کدھر کی جب آپکی احمد رضا کے ترجمہ سے میں نے صرف اللہ تعالی کی توفیق سے گرفت کی تو آپکے پاس اس لاچارگی کے اور کوءی طریقہ راہ فرار کا نہیں رہا۔ دراصل آپ بات ہی ادھوری اس لیے کرتے ہیں کہ بھاگنے کی راہ کھلی رہے۔لیکن آپ اپنے معتقدین سے تو جان چھڑاسکتے ہیں کہ وہ بیچارے آنکھیں بندکرکے آپ کے پیچھے چلے جارہے ہیں لیکن ہم ہیں مواحدین جو آپکی جان نہیں چھوڑ سکتے اس وقت تک جب تک چور کو اس کا مقام نہ بتادیں۔ آپ میں نسیان واقعی ہی کچھ زیادہ ہے یا پھرآپکے مدارس میں کذب بیانی کی قلابازیاں کھانے کی خوب خوب مشق کراءی جاتے ہے۔ اپنی پوسٹ نمبر۱۱۰ ملاحظہ کریں اور بتاءیں کہ ”اے مومنو اگر تمہیں کوءی مسءلہ پیش آءے تو نبی کے دربار میں حاضر ہوجاو”۔ یہ آپ نے ترجمہ نہیں کیا تو اور کیا کیا ہے۔اب جب آپ پھنس چکے ہیں توفورا تکرار شروع کردی کہ یہ ترجمہ نہیں میں نے ترجمہ نہیں کیا ارے اگر یہ ترجمہ نہیں تو پھر آپ نے اپنی پوسٹ ۱۱۰ کی بنیاد کس پر رکھی ہے۔ آپکی مثال اس چور کی ہے جسے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑلیاجاءے اور جب اسے چور کہہ کر پکارا جاءے تو وہ جھٹ کہہ اٹھے کہ میں نے کب یہ اقرار کیا ہے کہ میں چور ہوں۔جس طرح اس چور کے انکار میں اقرار چھپا بیٹھا ہے اسی طرح آپکےانکار میں بھی اقرار ہے۔ ۴۔ میں نے تفہیم سے ترجمہ نزاع نقل کیا تھا اور کنزالایمان سے ترجمہ جھگڑا نقل کیا تھا جو کہ میری پچھلی پوسٹس میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرآپ کا اشارہ انورصاحب کی پیش کردہ مبہم آیت کے حوالے سے ہے تو اس کے لیے میرا جواب نمبر۱ مطالعہ کریں۔ ۵۔ آپ نے ترجمہ کرتے ہوءے بالکل دانستہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے غلطی کی جسے آپ قبول کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہےکیونکہ آپ کا انداز تحریر آپکا عقیدہ شرک اس پردلیل صریح ہے لہذا اسی پس منظر میں میں نے انفسھم جب آپکی نقل کردہ آیت میں نہیں پایا تو اسے تحریف سے تعبیرکیا لیکن اب آپ یہ اقرار کررہے ہیں کہ آپ سے سہوہوا تو حسن ظن رکھتے ہوءے صرف اسے مانے لیتاہوں۔ ۶۔آپ قرآن کی جس آیت کو جس طرح دل میں آءے تشریح کریں خواہ وہ فہم ابوحنیفہ رح سے ثابت ہی نہ ہوخواہ وہ فہم صحابہ سے ثابت ہی نہ ہو بھلا آپ کے عقیدہ پر کیا اثر پڑے گا۔ تو پھر آپکا آیت سے انفسھم نکال دینے سے آپ پر بھلا کیا اثر پڑے گا۔کیوں کہ آپکا تو اوڑھنا بچھونا ہی شرک سے شروع ہو کر شرک پر ختم ہوتا ہے۔ ۷۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبا جوڑا؛ آدھی بات کرنا اور آدھی چھپالینا یہ عادت تو آپ لوگوں کی جاءے گی نہیں ارے جناب یہ تو میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ معجزہ ہے جو اللہ تعالی نے آپ کو دیا؛پھر نبی علیہ السلام نے مسجد اقصاء میں امامت کراءی وہاں بھی دیگر نبیوں کی طرح موسی علیہ السلام موجود ہیں اور پھر آسمان میں بھی موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے۔ اب اگر آپ اس سے حیات النبی کا عقیدہ لیتے ہیں تو جواب دیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سمجھ میں نہیں آءی تھی نعوذباللہ جس سےآج چودہ سوسال بعدایک مقلد استدلال کررہا ہے۔ اب اٹھاءیں صحیح بخاری جلد سوءم ۔ کتاب الاستءذان پارہ ۲۵ ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے مجھ کو تشہد اس طرح سکھلایا کہ میرا ہاتھ آپکے دونوں ہاتھوں میں تھا جیسے قرآن کی کوءی سورت سکھلاتے التحیات للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیک ایہاالنبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تشہد ہم اس وقت پڑھاکرتے تھے۔جب آپ ہم لوگوں میں تشریف رکھتے تھے آپ کی وفات کے بعد ہم السلام علیک ایہاالنبی کے بدل السلام علی النبی کہنے لگے”۔ اگرنبی علیہ السلام موسی علیہ السلام کے واقعہ کے حوالے سے حیات النبی کا عقیدہ دے کر جاتے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی صورت یہ نہ کہتے کہ یہ تشہد ہم اس وقت پڑھاکرتے تھے۔جب آپ ہم لوگوں میں تشریف رکھتے تھے آپ کی وفات کے بعد ہم السلام علیک ایہاالنبی کے بدل السلام علی النبی کہنے لگے پس اس سے ثابت ہوا کہ اہل سنت و الجماعت اہل حدیث کا عقیدہ وہی ہے جو صحابہ کا تھا اور صحابہ کا عقیدہ بعد از وفات حیات النبی کا عقیدہ نہ تھا جیسا کہ حوالے سے ثابت ہوگیا ہے۔سعیدی صاحب اسے کہتے ہیں فہم صحابہ ہم نے تو اپنا عقیدہ صحابہ کے فہم سے ثابت کردیاالحمدللہ اور صحابہ کون جنہیں میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے رضی اللہ عنہم و رضوعنہ کا خطاب ملا۔آپ تو جس امام کے مقلد ہیں اس کا فہم حیات النبی کا صحیح سند سے نہیں دکھاسکے اب تک صحیح سند کے ساتھ حدیث کیا دکھاءیں گے۔ آپ کے دامن عقیدہ میں ہے ہی کیا سواءے ضعیف احادیث ؛فرضی واقعات ؛ حکایات وغیرہ کے۔ نوٹ : آپ نے لکھا ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا بطور استقبال حالت قیام میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوہ (درود) پڑھ رہے تھے”۔ یہ ایک مقلد کا قیاس ہے یا حدیث کا ٹکڑا ہے اگر حدیث کا ٹکڑا ہے تو حوالہ دیں اور اگر آپکا قیاس ہے تو اس کی کوءی اہمیت نہیں۔ ۸۔ میرا سوال اپنی جگہ اب بھی موجود ہے آپ نے لکھا کہ ”امام ابوحنیفہ کا تو فرمان ہے کہ اخذبکتاب اللہ فان لم اجد فبسنتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم”۔ اس کی سند بیان کریں؟ ۹۔ یہ دعوی احمقانہ نہیں بلکہ آپکی سمجھ احمقانہ ہے آپکا انداز تحریفانہ ہے آپکا بنی اسراءیل کی طرح ادھوری بات کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کا طریقہ واردات پرانا ہے میری پوری تحریردرج ذیل ہے ”کیوں کہ حیات النبی کے مسءلہ پر نبی علیہ السلام کا فرمان صحیح سند کے ساتھ آءے تو کہاں سے آءے ابوحنیفہ رح کا موقف صحیح سند سے آءے تو کہاں سے آءے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم صحیح سند سے آءے تو کہاں سے آءے کیونکہ یہ عقیدہ تو بہت بعد کی پیداوار ہے”؛ جبکہ آپ نے جومیری تحریر میں قطع برید کرکے بددیانتی کا ثبوت دیا ہے اسے بھی قارءین ملاحظہ فرماءیں۔جناب نے میری تحریرکوجملوں کے بیچ سے نکال کر اس طرح نقل کیا ” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم صحیح سند سے آءے تو کہاں سے آءے؟ جناب نے اس کے بعد لکھا گیا میرا وہ جملہ جو کہ میری بات کو مکمل کرتا ہے کو حذف کردیا وہ یہ ہے ”کیونکہ یہ عقیدہ تو بہت بعد کی پیداوار ہے”۔ آپ سے یہی توقع تھی کہ جب قرآن کو آپ نے نہ چھوڑا ترجمہ میں تحریف کرنے میں تو میری تحریر بھلا قرآن کے سامنے کیااہمیت رکھتی ہے۔ ۱۰۔ آپ مقلد ہیں جسکی وجہ سے صحیح حدیث (بااعتبار سند)آپ کے حلق سے نیچے نہیں اترتی یا پھر اسے جواز بناکر ضعیف ؛ من گھڑت ؛ موضوع احادیث کو پیش کرکے اپنے مشرکانہ عقیدہ کو سہارہ دیتے ہیں حالآنکہ مقلد کو رجوع الی الحدیث کی اجازت اسکی فقہ حنفی دیتی نہیں تو پھر آپ سے آپکے امام کا قول صحیح سند کے ساتھ کا مطالبہ کیا جاءے گا جب میں نہ یہ کہا ہی نہیں کہ میرا یہ مطالبہ حدیث کی رو سے ہے تو آپکا اس کی آڑ لیکر فرار ہونا اور کسی بھی ایک اس فتوی کی سند جسے آپ ابوحنیفہ کا فتوی کہتے ہیں پیش نہ کرسکنا آپکی شکست خوردہ ذہنی کیفیت کی عکاسی کررہاہے۔ مت بھاگیں میدان سے اور لاءیں ابو حنیفہ رح کا فہم صحیح سند کے ساتھ اس آیت کے حوالے سے جسے بنیاد بناکرآج بریلویت کی عمارت کو سہارہ دیاجارہاہے۔اور حیات النبی کا خود ساختہ پودا ضعیف احادیث ؛ من گھڑت حدیثوں ؛ حکایتوں اور فاسد تاویلوں کے پانی سے سینچا جارہاہے۔ سورہ نساء آیت نمبر ۶۴ کا فہم ابوحنیفہ سے صحیح سند کے ساتھ پیش کریں کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جیسا کہ بریلوی سمجھتے ہیں؟ اور کتنی عاجزی و بے بسی ٹپک رہی ہے آپکی تحریر میں ؛ کیا آپکے علم میں نہیں کہ میرے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے نکلے ہوءے وہ لفظ کہ ” جب کوءی فاسق تمہارے پاس خبر لاءے تو اس کی تحقیق کرلیاکرو”۔ کتنے ہی ایسےمساءل ہیں جن پر مہر لگاءی گءی قال ابوحنیفہ عند ابوحنیفہ کی ان سب کی سند آپ پیش کرسکتے ہیں۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کون کون سے اجتہادی مساءل ہیں کہ جن کی سندیں آپ کو مل چکی ہیں۔ ذرا ہمیں بھی تو علم ہو؟ حدیث کی ہر کتاب میں عربی متن میں صحابی کی روایت میں صلی اللہ علیہ وسلم ملتا ہے تو کیا یہ صحابہ نے اپنی طرف سے استعمال کیا یا اگر نہیں تو کیا وہ نبی علیہ السلام کی تعلیم وادب نہیں جانتے تھے نعوذباللہ۔ ۱۱۔ جملوں کے ہیرپھیر ؛ لفظوں کی قلابازیوں کے تو آپ ماہر ہیں لیکن اپنے بریلوی شاگردوں کےسامنےہمارے سامنے نہیں بات تو آیت کی منسوخی کی یہاں ہے ہی نہیں بلکہ فہم کی بات ہے کہ اسے صحابہ نے کیسے سمجھا ابوحنیفہ نے کیسے سمجھا کیوں کہ آپ ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اور انکی تقلید آپ پر لازم ہے۔لہذا آپکا فہم کوءی اہمیت نہیں رکھتا۔ابوحنیفہ کا فہم یہاں صحیح سند کے ساتھ نقل کریں؟ ۱۲۔ آپکی بددیانتی ؛ خیانت؛ تحریف ترجمہ وغیرہ وغیرہ سب ہمارے سامنے ہے ان سب کو مدنظررکھتے ہوءے صرف آپکے حوالوں پربھلا کیسے اعتبارکیاجاسکتا ہے۔لہذا تمام کے اسکین یہاں لگاءے جاءیں۔ اورصرف ایک تفسیر ابن کثیرکا اسکین جو چشتی پادری صاحب نے لگایا ہے اس اسکین میں ہی اس کا پول کھل رہا ہے جو شاید آپکے اندھے مقلد کو نظر نہ آیا جیسے البدایہ والنہایہ سے میں نے اسی کے موقف کا رد دکھایا تھا الحمدللہ ؛ جس پر وہ تاحال خاموش ہے۔ ابونصربن الصباغ نے اپنی جس کتاب میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کیا وہ حدیث کی کتاب ہے۔ جواب یقینا نہ میں ہوگا تو پھر وہ کتاب ہے کیا وہ تو قصوں کی کتاب ہے نہ کہ حدیث کی کتاب اس سے دلیل لانا آل تقلید بریلویہ کا ہی کام ہے یہ حکایت ہے جو عتبی کے حوالے سے مشہور ہے اور اس حکایت کی اسی طرح دین میں کوءی اہمیت نہیں جس طرح آج کے الیاس قادری کے چھوٹے چھوٹے کتابچوں میں ذکرکردہ حکایتوں کی کوءی اہمیت نہیں ہے۔ ۱۳۔اسے استدلال نہیں کہتے مقلد صاحب اسے فہم کہتے ہیں صحابہ کے درمیان جس جس معاملہ پر نزاع ہوا کیا وہ نبی علیہ السلام کی قبراطہر پرجاکرمعاملہ حل کراتے تھے جواب یقینا نہ میں ہوگا تو پھر کس طرح معاملہ حل ہوتا تھا۔ نبی علیہ السلام کی حدیث اس معاملہ پر جب کوءی تیسرےصحابی سنا دیےتو فورا وہ حدیث پر عمل شروع کردیتے اوراپنے نزاع کو اللہ اور اسکے رسول علیہ السلام کی طرف لوٹا دینا کا معنی بعد از وفات النبی یہی ہے کہ نبی علیہ السلام کے فرامین کو من و عن مان لینا آل تقلید بریلویہ و دیوبندیہ کی طرح احادیث میں کٹ ہجتی نہ کرنا اسے کہتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم سے دین کو سمجھنا جو کہ آپکو آتا نہیں۔ ۱۴۔ مقلد بھلا کیا جانے کے تحقیق کس چیزکا نام ہے۔کیا آپ کی فقہ آپکو اجازت دیتی ہے کہ آپ تحقیق کریں تو آپ کو سب سے پہلے تمام وہ مساءل جن کے پیچھے قال ابوحنیفہ عند ابوحنیفہ کی مہر دھڑادھڑ لگا کر مقلدین کو بے وقوف بنایاجارہا ہے کا پتا لگانا چاہیے کہ آیا انکی سند کیا ہے؟ آپکے نظریہ کی پختگی تو ابوطالب کے مثل ہے کہ مرتا مرگیا لیکن میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا نہ مانا۔ باقی رہے آپکے ۳۲ سوالات بقول آپکے ؛ تو وہ میں نے اس لیے اہمیت نہ دیے کہ آپکو سوال کرنے کا بھی ڈھنگ نہیں آتا بس اپنے جیسے لوگوں کو آپ خوش کرنے کے لیے سوال نمبروں کی تعداد بڑھاکر تبصرہ کو سوالات کے نام دے دیتے ہیں۔خیر اس کا بھی پہلے کی طرح حشر کروں گا انشاءاللہ تعالی صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالی کی توفیق سے۔ اگرمیرے یا میرے دیگر مواحدین بھاءیوں کے سوالات جاہلانہ ہیں توآپ لوگ لاجواب کیوں ہو جاتے ہیں ادھر ادھر کی خاک کیوں اڑانے لگ جاتے ہیں لفظوں کی ہیراپھیری کیوں شروع کردیتے ہیں۔کبھی نوید خان جواب دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب منہ کی کھاتا ہے تو غاءب ہی ہوجاتا ہے۔چشتی پادری آتا ہے تو عربی میں حوالے دیتا ہے جو خود اسکے خلاف چلے جاتے ہیں کیوں کہ اس کو خود بھی سمجھ نہیں آتا کہ جو اسکین لگانے جارہا ہوں وہ میرے اپنے گلے پڑجاءے گا اور ادھورے ادھورے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہے اور بلا آخر زچ ہوکر وہ بھی پیچھے بیٹھ کرآپکی لفاظیوں پر خوب خوب تالیاں بجاتا ہے اور مشرکانہ انداز میں دعاءیں دینے کا وطیرہ اختیار کرتا ہے خواہ بات سمجھ آءے یا نہیں۔پھر اچانک سوءے ہوءے شخص کی طرح انور صاحب کا جاگنااور بڑی ہبڑدبڑ میں بے محل سوال کرنا اورجب ان کے سوال کی بنیاد پر انسے سوالات داغے جاتے ہیں تو پھر انکا دم دباکربھاگ جانا اور آپ کے تو کیا ہی کہنے کبھی ترجمے میں غلطی کبھی عربی عبارت مبہم نقل کرنا اور کبھی کبھی قرآن کی آیت نقل کرنے میں نسیان کا ہوجانا تو کبھی لفظوں کی ہیرا پھیری کبھی تحریر کے نقل میں بددیانتی وغیرہ وغیرہ اور اب ایک نءے شخص آءے ہیں اور وہ بھی چیلنج کے دعوے کے ساتھ ارے بھءی چیلنج کرو اور شوق سے کرو کس نے منع کیا ہے بھلا؛ لیکن کچھ تو اصول بنالوکیا اسی طرح ایک ایک کوہم صرف اللہ تعالی کی توفیق سے بھگاتے رہیں گے اورآنے والا ہر نیا مشرک اپنے گلے سے شیر کی آواز نکالنے کی نقل کرتا رہے گا۔لیکن یاد رکھوکتا اگر شیر کی نقل کرے تو شیر نہیں ہوجاتا کتا ہی رہتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتوں سے بڑی نفرت تھی خواہ وہ کتا مدینہ کا ہویا پاکستان کا؛ کیوں کہ جہاں کتا ہوتا ہے وہاں تو رحمت کے فرشتے تک نہیں آتے۔ لہذا ایک بار پھر میں موضوع کی طرف آتا ہوں میرے کیے گءے سوالات کے جوابات بغیر کسی لفاظی و ہیرا پھیری کے دیں جو کہ اوپردرج کیے گءے ہیں۔ نءے آنے والے بریلوی ریڈی ایٹنگ علی صاحب و دیگر صاحبان آپ سے بھی وہی تمام سوالات ہیں جوکہ میری پچھلی پوسٹس میں دیکھے جاسکتے ہیں جنکے جوابات آل تقلید بریلویہ دینے سے تاحال قاصر ہیں۔ ریڈی ایٹنگ علی صاحب میں نے آپکی تمام پچھلی پوسٹس نظرانداز کیں یعنی مطالعہ ہی نہ کیا کیونکہ وہ تمام کی تمام اردو خوش خط میں نہیں اور جس طرز پر آپ لکھرہے ہیں وہ میں پڑھتا نہیں۔ کہ اس میں وقت کا بہت زیاں ہے لہذا آپ اردو خوش خط میں اپنے کمنٹس لکھیں تاکہ آپکا " چیلنج" نظروں کے سامنے آسکے۔اور آءیندہ سے آپکی پوسٹس بغور مطالعہ کی جاسکیں اور دیگربریلوی مشرکین کی طرح صرف اللہ سبحانہ تعالی کی مدد سے آپکی طبیعت بھی صاف کی جاسکے۔انشاءاللہ تعالی۔
  8. احمد رضا کے ترجمے کا اسکین نیچے دیاجارہاہے۔ آیت نمبر ۶۴ سورہ النساء ترجمہ از احمد رضا ۔ کنزالایمان
  9. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) پوسٹ نمبر ۱۱۱ کا جواب انورصاحب نے اپنی پوسٹ نمبر ۷۲ میں ایک سوال کیا جسمیں آیت پوری نہیں لکھی اور نہ ہی اس آیت کا حوالہ دیا میں نے اس آیت کو بحوالہ پوری یہاں تحریرکردی اس کے بعد انورصاحب نے اپنی پوسٹس ۷۵؛۷۹؛۸۳؛۹۰؛۹۴؛۹۵ اور ۱۰۰میں اپنے خیالات کا اظہارمختلف انداز میں کیا لیکن انورصاحب نے کہیں بھی اپنی کسی پوسٹ میں یہ ذکرنہیں کیا کہ جو آیت میں نے (ابوزید) لکھی ہے ان کے سوال کی بنیاد وہ آیت ہے ہی نہیں جسکا واضح معنی سواءے اسکے اور کیا ہے کہ انہوں نے میری طرف سے بیان کردہ آیت کو ہی صحیح جانا اورانکے ذہن میں بھی وہی تھی ورنہ میری پوسٹ نمبر ۷۴ کے بعد یا ۷۷ کے بعد یا ۸۱ کے بعد یا ۸۵ کے بعد یا ۹۷ کے بعد ضرور انورصاحب یہ کہتے کہ انکی بیان کردہ ادھوری آیت وہ ہے ہی نہیں جو کہ ابوزید نے بیان کی ہے۔ اب آنکھیں ملتے ہوءے ہڑبڑاتے ہوءے کوءی سعیدی صاحب ہیں جو کہ یہاں آگءے ہیں اور اپنے جاہل ہمنواوں کے سامنے قدآور بننے کے لیے میرے سوالات کے جوابات دینے کے بجاءے راہ فرار کا ایک نیا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ایک نیا راگ الاپنا شروع کردیا کہ نہیں نہیں وہ آیت نہیں تھی جس پر بحث چل نکلی ہے بلکہ آیت تو دوسری ہے اب ان صاحب کا انداز تحریر بھی دیکھ لیں بلکل بنی اسراءیل کی ہی طرح ہے پوری قرآن کی آیت اس شخص نے بھی نہیں لکھی ادھوری لکھ چھوڑی اور خوب خوب لفاظی کی پناہ ڈھونڈناشروع کردی۔ اورادھوری آیت پیش کرکے حوالہ بھی نہیں لکھا کہ کہیں چوری نہ پکڑی جاءے بلکہ اس پر طرہ یہ کہ ترجمہ کرتے ہوءے آیت کو ہی تبدیل کردیا۔اسی کو کہتے ہیں کہ خود کو نہیں بدلتے قرآن کو بدل دیتے ہیں استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ اور لفظ ’مسءلہ” کی آڑ لیکرفرار ہونے کی بھرپورکوشش جاری ہے لیکن اوہ بریلوی مشرکوں میں تم لوگوں کوچھوڑنے والا نہیں ہوں انشاء اللہ یا تو تنگ آکر اس تھریڈ کو ہی لاجواب ہوکر دیگرتھریڈ کی طرح بند کردوگے یا ڈلیٹ کردو گے لیکن میرے سوالوں کے جوابات دینے کی حسرت انشاءاللہ تعالی تمہارے ساتھ قبر میں ہی اترے گی۔ سعیدی مشرک کی قرآن کی آیت نقل کرنے میں بھی خیانت؛ ۱) آیت ادھوری لکھی ۲) ادھوری آیت میں بھی تحریف کی اور آیت یہ لکھی ولوانھم اذ ظلمو ا جاءوک جبکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں ولوانھم اذاظلمواانفسھم جاءوک ؛ ادھوری آیت میں بھی لفظ ”انفسھم” کو نہیں لکھا۔ ۳) حوالہ نہیں دیا ۴) ترجمہ بھی اپنی مرضی سے کیا ۵) قرآن میں بیان لفظ ”ظلموا” کا ترجمہ ’مسءلہ” کیا ( احمد رضا کو بھی یہ ترجمہ نہ سوجھا جواس کے ہمنواسعیدی کو سوجھا) ۶) احمد رضا کے ترجمہ کو اہمیت نہیں دی باوجود اسکے کے موصوف خود بریلوی ہیں ۷) عربی متن میں مذکورہ آیت میں ”یایھاالذین امنو” استعمال نہیں ہوا جبکہ ترجمہ کرتے ہوءےسعیدی مشرک نے اے مومنو زاءد استعمال کیا۔ تاکہ جملہ میں اپنا من مانا ربط پیدا کیا جاسکے لہذا یہ بھی تحریف ہے۔ آو بریلویوں میں تمہیں بتاوں تمہارے سعیدی نے اللہ تعالی کے قرآن میں کیا خیانت کی شاید اس ڈر سے کے اگر پوری آیت بحوالہ نقل کردی تو ابوزید کے سوالات تو پھر وہیں کھڑے ہوں گے کیوں کہ حیات النبی کے مسءلہ پر نبی علیہ السلام کا فرمان صحیح سند کے ساتھ آءے تو کہاں سے آءے ابوحنیفہ رح کا موقف صحیح سند سے آءے تو کہاں سے آءے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم صحیح سند سے آءے تو کہاں سے آءے کیونکہ یہ عقیدہ تو بہت بعد کی پیداوار ہے۔ پوری آیت کیا ہے اور احمد رضا نے اسکا ترجمہ کیا کیا ہے۔ درج ذیل ہے۔ وماارسلنامن رسول الا لیطاع باذن اللہ (ط) ولوانھم اذظلمواانفسھم جاءوک فا ستغفروااللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوااللہ توابارحیما۔ ترجمہ ؛ اور ہم نے کوءی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اسکی اطاعت کی جاءے اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرماءے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنیوالا مہربان پاءیں۔ آیت نمبر ۶۴ سورہ النساء ترجمہ از احمد رضا ۔ کنزالایمان الحمدللہ صرف اللہ سبحانہ تعالی کی مدد سے میں نے پوری آیت یہاں نقل کر دی اور حوالہ بھی نقل کردیا ترجمہ بھی احمد رضا کا یہاں نقل کردیا گیا ہے بریلویوں کی آسانی کے لیے اور سعیدی کی قرآن میں خیانت بھی پکڑکرلوگوں کو دکھادی الحمدللہ سوال نمبر ایک ؛ احمد رضا کے ترجمے میں دیکھاجاسکتا ہے کہ لفظ ”اے مومنو” ترجمہ میں نہیں ہے جبکہ سعیدی نے ترجمہ کرتے ہوءے ”اے مومنو” سے ترجمہ شروع کیا لہذا سب سے پہلے ترجمہ کیا گیا لفظ ”اےمومنو” عربی متن میں دکھاءیں کہ کہاں لکھا ہےمذکورہ آیت میں؟ سوال نمبر دو ؛ آپ اس آیت سورہ نساء ۶۴ کا فہم سب سے پہلے اپنے امام ابو حنیفہ رح سے ثابت کریں اور وہ بھی صحیح سند و معہ حوالہ و اسکین کے کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ ایک گمنام مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سوال نمبرتین؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں بھی مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے و اسکین کے ثابت کریں؟ سوال نمبر چار؛قرآن کی آیت ۶۴ سورہ نساء کا ایک ٹکڑا ہے ’ولوانھم اذظلمواانفسھم جاءوک’ جسکااحمد رضا نے ترجمہ کیا کہ ”اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں” جبکہ سعیدی نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ عربی متن میں تحریف کرتے ہوءے لکھا ” ولوانھم اذظلموا جاءوک” اور ترجمہ بھی یہ کیا کہ ”اگر تمہیں کوءی مسءلہ درپیش آءے” اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ احمد رضا نے ظلموا کا ترجمہ لفظ ”ظلم” کے استعمال کے ساتھ کیا جبکہ سعیدی نے ظلموا کا ترجمہ لفظ ”مسءلہ” کے استعمال کے ساتھ کیا کس کا ترجمہ غلط ہے احمد رضا کا یا سعیدی کا؟ سوال نمبر پانچ؛ کسی مستند ڈکشنری سے عربی لفظ ”ظلموا” کا ترجمہ ”مسءلہ” دکھاءیں؟ سوال نمبر چھ؛ نبی علیہ السلام کا فرمان صحیح سند کے ساتھ معہ حوالہ پیش کریں کہ اس آیت کا حکم بعد از وفات النبی علیہ السلام بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آپکی حیات میں تھا؟ نوٹ : یہ سوال اس وقت ہے جب مقلد اپنے امام کا فہم مذکورہ آیت کے بارے میں نہ دکھا سکے۔ سوال نمبر سات؛ اس آیت کو فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صحیح سند کے ساتھ معہ حوالہ پیش کریں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس آیت کو ایسا ہی سمجھا جیسا کہ آج کے بریلوی سمجھتے ہیں؟ اور بھی مزید سوالات اس پوسٹ نمبر۱۱۱ کے حوالے سے کیے جاسکتے ہیں لیکن فی الحال اتناہی کافی ہے۔ اور ایک بات اور کہ جب آپ اس آیت سورہ نساء ۶۴ سے حیات النبی علیہ السلام کا عقیدہ لیتے ہیں تو اس آیت سورہ نساء ۵۹ سے انکارکیسے کرسکتے ہیں کیا ایک کا اقرار اور دوسرے کا انکارصرف اپنے نفس پرستی کے لیے یہ کون سا اصول بنایا ہے کہ قرآن کی آدھی بات کو ماننا اور آدھی کا انکار کیا یہ بھی بریلویت کے مدارس میں تعلیم دی جارہی ہے ۔لہذا جب آپ سورہ نساء ۶۴ سے حیات النبی کا عقیدہ لیتے ہیں تو اب اس کے حوالے سے بھی میرے سوالات کے جوابات دیں اور سورہ نساء ۵۹ کے حوالے سے بھی میرےکیے گءے سوالات کے جوابات دیں۔
  10. بسم اللہ الرحمن الرحیم یا اللہ مدد کی آءیڈی سے آنے والے بھاءی کوالسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ؛آپ نے صحیح چوری پکڑی اس قسم کی حرکتیں یہ مشرکین کرتے ہی رہتے ہیں چشتی پادری پہلے بھی اپنی پوسٹ نمبر ۱۱ کے حوالہ البدایہ والنہایہ میں کرچکا ہے جس کا پوسٹ مارٹم الحمدللہ صرف اللہ کی توفیق سے میں نے کیا اور اسکی چوری کو پکڑا اور اس پادری کومیں نے اپنی پوسٹ نمبر ۶۳ تریسٹھ میں نقاب کیا۔ جسے وہ بالکل ہی نظر انداز کرگیا۔
  11. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) انورصاحب ہر روز میں اس امید کے ساتھ آپکے کمنٹس پڑھتاہوں کہ شاید میرے سوالات کے جوابات آج مجھے مل جاءیں گے کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بس یوں ہی یہ سوالات میں نے آپ سے کردیے ہیں کیا انکے جوابات اگر صحیح طور پر آپ دیں تو؛ اس سے کوءی نتیجہ نہ آءے گا۔بالکل آءے گا بشرط یہ کہ آپ ہٹ دھرمی کوچھوڑدیں اور جوابات دینے کے موڈ میں آجاءیں۔ دراصل یہ سوالات پوچھنے کا مقصد میرا یہ ہے کہ آپکی آنکھوں کے سامنے جو شرک کی سیاہ رات چھاءی ہوءی ہے اور آپکے دل کے اندر میرے پیارے نبی علیہ السلام کے فرامین کی جو اہمیت نہیں ہے اس اہمیت کو اجاگرکرنے کے لیے اور شرک کی سیاہ رات آپکی آنکھوں سے صاف کرنے کے لیے میں نے یہ سوالات آپ سے کیے ہیں ۔ لیکن آپکی پوسٹ ہر بار پڑھ کر شدت سے مجھے یہ ہی محسوس ہوا کہ آپ میرے سوالات پر بے انتہا تلملا جاتے ہیں۔ باقی یہاں احمد رضا کی زبان استعمال کرکے کون ننگا ہورہا ہے اوراللہ تعالی نے اپنے اس فقیرابوزید کوکتنی عزت دی ہوءی ہے یہ فیصلہ آپ مت کریں یہ تھریڈ پڑھنے والے خود سمجھ رہے ہیں۔ انور صاحب جس سورہ نساء کی آیت کو آج ۱۴ سو سال بعد آپ بیان کرکے اس کی من مانی تشریح کررہے ہیں اسے فہم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کیوں ثابت نہیں کردیتے صحیح سند کے ساتھ اور کیوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فہم اس آیت کے حوالے سے پیش نہیں کردیتے کیوں بار بار احمد رضا کی گلیاری زبان استعمال کرکے اپنے بدمذھب مشرک مذھب کی عکاسی کررہے ہیں۔ آپ ہر بار فضول قسم کے کمنٹس دے کر اور ہاءپر ہوکرراہ فراراختیار کیے ہوءی ہیں۔ براءے مہربانی ہاءپر مت ہوں اور میں پہلے بھی اس بات کو کہہ چکا ہوں کہ آپ مجھ سے سوال نہیں سوالات کیجیے گا لیکن زرا صبر رکھیں اور پہلے میرے سوالات کے جوابات دیں۔ میرے سوالات کے جوابات کے لیے ہو سکتا ہے کہ آپکو مطالعہ کی ضرورت پڑے تو کوءی ایسی بات نہیں ہے آپ مطالعہ کرکے آجاءیں میں انتظار کرلیتا ہوں اور تب تک میں دوسرے مشرکین پر محنت کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالی کی توفیق ہوءی تو حق انکے دل میں اتر جاءے گا ورنہ احمد رضا کی مشرکانہ موت ہی مرجاءیں گے اور کامیابی اور ناکامی کا پتا یہاں بحث و مباحثہ میں نہیں چلے گا بلکہ وہ تو آخرت میں پتہ چلے گا ۔ دراصل میرے سوالات کے جوابات میں ہی آپکے سوال کا جواب ہے کیوں کہ آپکا فہم ان قادیانیوں کی طرح ہے جنہوں نے خاتم النبیین کی تشریح آپ کی طرح کی اور گمراہ ہو گءے جس طرح ان کی کی ہوءی خاتم النبیین کی تشریح ناقابل قبول ہے کیوں کے اس تشریح کے پیچھے میرے نبی علیہ السلام کے فرامین ان کو جس طرح جھوٹا ثابت کرتے ہیں اور فہم صحابہ سے وہ لوگ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں بلکل اسی طرح آپ بھی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ آپ تو اپنے امام کا فہم بھی اس آیت کا وہ جو فہم آپکا ہے ثابت نہ کرپاءے اب تک اور نہ ہی نبی علیہ السلام کا فرمان اور فہم صحابہ لہذا آپ کی بے بسی بھی قابل دید ہے کہ کبھی ادھر بھاگتے ہیں اور کبھی ادھر بھاگتے ہیں۔ادھر ادھر مت بھاگیں میرے سوالات کے جوابات دیں لیں ایک بار پھر میں آپکی یاد دہانی کے لیے اپنے سوالات دھراءے دیتا ہوں کیوں کہ آپکے دیگر مشرکین نے میرے آخری کمنٹس جو کو مزید سوالات پر مشتمل تھے کو ڈلیٹ کر دیا ہے راہ فرار کا آپ لوگوں کا یہ بھی خوب طریقہ ہے کبھی تو پوری پوری پوسٹس ڈلیٹ کردیتے ہیں اس پربس نہیں چلتا تو تھریڈ ہی کلوز کردیتے ہیں یا پھر لاجواب ہو کرآخری حربہ استعمال کرتے ہوءے تھریڈ ہی پورا ڈلیٹ کردیتیں ہیں۔ آپ نے جو آیت لکھی وہ پوری نہیں لکھی پہلی بات اور دوسری یہ کہ حوالہ نہیں دیا اور تیسری بات یہ کہ بنی اسراءیل کے طرزعمل پر چلتے ہوءے آدھی بات پر ہاتھ رکھ لیا اور آدھی کی تشہیرشروع کردی بلکہ میرا مشاہدہ تو یہ کہتا ہے کہ آپ لوگ سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتےرہتے ہیں۔ آءیں میں آپ کو بتادوں کہ پوری آیت کیا ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ نساء ۵۹ میں فرمایا ” اے لوگوجو ایمان لاءےہو؛ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب امرہوں پھرتمھارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جاءے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقہ کار ہے اور انجام کے اعتبار سےبھی بہتر ہے۔ ترجمہ از ابوالاعلی مودودی ؛ تفہیم القرآن اب آپ اپنے احمدرضا م کا بھی ترجمہ پڑھ لیں۔ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔ ترجمہ از احمد رضا بریلوی ؛ ترجمہ کنزالایمان سوال نمبر ایک ؛ آپ اس آیت کا فہم سب سے پہلے اپنے امام ابو حنیفہ رح سے ثابت کریں اور وہ بھی صحیح سند و معہ حوالے کے کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سوال نمبردو؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے کے ثابت کریں؟ سوال نمبر تین؛ آپ نے لکھا کہ ”وہابیوں کا عقیدہ توسل پر موقف درست قبول کرلوں گا اور اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں” آپکی تحریر چیخ و پکار کررہی ہے کہ جسے آپ اسلام سمجھے بیٹھے ہیںآپ اس میں ڈانواںڈول ہیں شرک کی چبھن آپکے دل میں ہے جبھی تو آپ نے لکھا کہ اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں گا۔یعنی آپکا اسلام شرک سے شروع ہوکر شرک پرختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اسکو صحیح جانتے تو اسے چھوڑنے کا دعوی ہی کیوں کرتے لہذا جب آپ اپنے اسلام میں ڈانواںڈول ہیں تو اس پر قاءم کیوں ہیں؟ سوال نمبرچار؛ نبی علیہ السلام کی وفات کے بعد صحابہ کرام میں خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ہوگیا انصار نے کہا کہ خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے ؛ مہاجرین نے کہا کہ ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہیے اور نبی علیہ السلام کے قریبی رشتہ داروں نے کہا کہ خلافت ہمارا حق ہے لہذا خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے۔ تو اب آپ بتاءیں کہ تمام کے تمام صحابہ بعد از وفات ؛ نبی علیہ السلام کے پاس جا کر کیوں نہیں کہتے کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ؛جھگڑا ہوچکا ہے لہذا ہم آپ کی طرف اس معاملے کو پھیرتے ہیں آپ فیصلہ فرمادیجیے ؟ قرآن کی وہ آیت جس سے ایک جاہل بریلوی اپنے من مانے معنی یا تشریح کررہا ہے کیا وہ آیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے سامنے نہیں تھی یا نعوذباللہ ان میں سے کسی کے بھی علم میں یہ آیت نہ تھی یا ان کو اس آیت کی سمجھ نہ تھی نہیں ایسا نہیں ہے وہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت تھی جنکے معلم ہیں میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھلا وہ زیادہ قرآن و سنت کو سمجھنے والے تھے یا کہ آج کا ایک بریلوی جس کا عقیدہ ہی شرک سے شروع ہو کر شرک پر ختم ہوتا ہے لہذا اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےاس آیت سے حیات النبی کے عقیدے کا استدلال نہیں کیااگر کیا ہوتا تو اس نازک مرحلے (خلیفہ کے انتخاب) پر وہ قرآن کے اتنے اہم فیصلے کو ہی فراموش نہ کردیتے کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔ جب تم میںکسی معاملہ میں نزاع ہوجاءے تو اللہ اور اسکے رسول علیہ السلام کی طرف رجوع کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور صحابہ کرام ہیں کہ اس حکم کو نہیں مانتےکہ نبی علیہ السلام کا جسم اطہر صحابہ کے درمیان ہے اور کوءی یہ نہیں کہہ رہا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ہمارے درمیان خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ہوگیاہےآپ اس کا فیصلہ فرمادیں کیوں کہ اللہ تعالی نے سورہ نساء میں یہ حکم دیا ہے لہذا ہم آپ کے پاس آءے ہیں ہماری مدد کیجیےکیا ایسا ہوا جواب یقینا نہ میں ہی ہے کیوں کہ ایسا نہیں ہوا ؛ ہوسکتا ہے کہ بریلویوں کا یہ ایمان ہو کہ نعوذباللہ صحابہ سورہ نساء کی اس آیت کو صحیح طرح نہیں سمجھے تو جناب آپ کا ایسا ایمان ہومعہ دیگرتمام آل تقلید بریلویہ کہ تو ہوسکتا ہے الحمد للہ ہمارا ایمان ایسا نہیں کہ صحابہ کی مقدس جماعت قرآن و حدیث کے خلاف کرے گی۔ پس ثابت ہو گیا کہ صحابہ کرام میں سے کسی کاحیات النبی کاعقیدہ نہ تھا جو کہ آج بریلویوں کا ہےاور بریلویوں نے سورہ نساء کی آیت کو بعد از وفات کے توسل پرغلط سمجھا۔ ایک اور مثال لیجیے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا اماں عاءشہ رضی اللہ تعالی عنہا ؛معاویہ رضی اللہ عنہ سے خون عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کے مسءلہ میںاختلاف ہوگیا اور دونوں طرف صحابہ کرام کے گروہ میںجنگ جمل و جنگ صفین کے نام سےتصادم ہوگیا اور کءی صحابہ کرام شہید ہوگءے لیکن دونوں طرف کے صحابہ کرام جمع ہو کر نبی علیہ السلام کی قبر اطہر پر جاکر یہ کیوں نہیں کہتے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سورہ نساء میں اللہ تعالی نےہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ۔۔۔جب تم میں کسی معاملے میں نزاع ہو جاءے تو اللہ اور اسکے رسول کی طرف رجوع کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ہم آپکے پاس آءے ہیں اور اپنے درمیان کے اس نزاع کو آپکی طرف پھیرتے ہیں یاآپکی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا آپ فیصلہ فرمادیجیے ایسا نہیں ہوا صحابہ کرام نےایسا نہیں کیا لہذا اس سے ثابت ہوگیا کہ سورہ نساء کی اس آیت کو بریلویوں نے اپنے مطلب اور نفس پرستی؛شرک پرستی کے لےجسطرح سمجھا ہے صحابہ کرام نہ اس کے قاءل تھے اور نہ ہی فاعل لہذا آل تقلید بریلویہ نے اس آیت کو فہم صحابہ کے مطابق نہیں سمجھا اور ٹھوکر کھاءی اسی لیے یہ لوگ گمراہ بددین بدمذھب مشرک ہیں۔ سوال نمبر پانچ ؛ آج دیوبندی بریلوی دونوں ہی اس بات کے دعوے دار ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہیں لیکن دونوں کے درمیان کفر و شرک کا نزاع ہے تو دونوں مل کر کیوں نبی علیہ السلام کی قبراطہر پر جاکر سورہ نساء کی آیت ۔۔۔جب تم میں کسی معاملے میں نزاع ہوجاءے تو اسے اللہ اور اسکے رسول کی پھیردو۔۔۔پر عمل کرتے ہوءے نبی علیہ السلام کی طرف اس نزاع کو نہیں پھیرتے؟ اور وہاں سے کیوں تصدیق نہیں کرالیتے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔ لہذا اب انور صاحب و انکی جماعت کے چیدہ چیدہ افراد کو چاہیے کہ دیوبندیوں کے چیدہ چیدہ افراد معہ میڈیا کے نبی علیہ السلام کی قبراطہر پر جاءیں اور اس سورہ نساء کی مذکورہ آیت کو وہاں پڑھیں اور تصدیق کی مہر لگواکر لے آءیں کہ کون نبی علیہ السلام کے مطابق زندگی گزار رہاہے اور کون خلاف ؛ انورصاحب یہ اتنا آسان کام ہے لیکن آپ کبھی نہیں کریں گے کیوں کے آپ لوگوں کے دل خود اس بات کو تسلیم نہیں کرتے جس کے لیے ہم سے مجادلہ ہے۔
  12. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) پوسٹ نمبر۸۳ پر تبصرہ و سوالات۔ کیا ہوا انورصاحب احمد رضا کی زبان کی عکاسی کرتے کرتے تھک گءے یا فرار کا یہ بھی کوءی نیا انداز ہے بریلویت میں کہ میرے سوالات ہی گول کردیے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں یہ لکھ چکا ہوں کہ اگر اب آپ نے میرے تین سوالات کے جوابات نہیں دیے تو میں مزید سوالات آپ سے کروں گا۔ لیجیے حاضر ہیں میرے سوالات ؛ آپ نے جو آیت لکھی وہ پوری نہیں لکھی پہلی بات اور دوسری یہ کہ حوالہ نہیں دیا اور تیسری بات یہ کہ بنی اسراءیل کے طرزعمل پر چلتے ہوءے آدھی بات پر ہاتھ رکھ لیا اور آدھی کی تشہیرشروع کردی بلکہ میرا مشاہدہ تو یہ کہتا ہے کہ آپ لوگ سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتےرہتے ہیں۔ آءیں میں آپ کو بتادوں کہ پوری آیت کیا ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ نساء ۵۹ میں فرمایا ” اے لوگوجو ایمان لاءےہو؛ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب امرہوں پھرتمھارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جاءے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقہ کار ہے اور انجام کے اعتبار سےبھی بہتر ہے۔ ترجمہ از ابوالاعلی مودودی ؛ تفہیم القرآن اب آپ اپنے احمدرضا م کا بھی ترجمہ پڑھ لیں۔ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔ ترجمہ از احمد رضا بریلوی ؛ ترجمہ کنزالایمان سوال نمبر ایک ؛ آپ اس آیت کا فہم سب سے پہلے اپنے امام ابو حنیفہ رح سے ثابت کریں اور وہ بھی صحیح سند و معہ حوالے کے کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سوال نمبردو؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے کے ثابت کریں؟ سوال نمبر تین؛ آپ نے لکھا کہ ”وہابیوں کا عقیدہ توسل پر موقف درست قبول کرلوں گا اور اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں” آپکی تحریر چیخ و پکار کررہی ہے کہ جسے آپ اسلام سمجھے بیٹھے ہیںآپ اس میں ڈانواںڈول ہیں شرک کی چبھن آپکے دل میں ہے جبھی تو آپ نے لکھا کہ اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں گا۔یعنی آپکا اسلام شرک سے شروع ہوکر شرک پرختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اسکو صحیح جانتے تو اسے چھوڑنے کا دعوی ہی کیوں کرتے لہذا جب آپ اپنے اسلام میں ڈانواںڈول ہیں تو اس پر قاءم کیوں ہیں؟ سوال نمبرچار؛ نبی علیہ السلام کی وفات کے بعد صحابہ کرام میں خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ہوگیا انصار نے کہا کہ خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے ؛ مہاجرین نے کہا کہ ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہیے اور نبی علیہ السلام کے قریبی رشتہ داروں نے کہا کہ خلافت ہمارا حق ہے لہذا خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے۔ تو اب آپ بتاءیں کہ تمام کے تمام صحابہ بعد از وفات ؛ نبی علیہ السلام کے پاس جا کر کیوں نہیں کہتے کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ؛جھگڑا ہوچکا ہے لہذا ہم آپ کی طرف اس معاملے کو پھیرتے ہیں آپ فیصلہ فرمادیجیے ؟ قرآن کی وہ آیت جس سے ایک جاہل بریلوی اپنے من مانے معنی یا تشریح کررہا ہے کیا وہ آیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے سامنے نہیں تھی یا نعوذباللہ ان میں سے کسی کے بھی علم میں یہ آیت نہ تھی یا ان کو اس آیت کی سمجھ نہ تھی نہیں ایسا نہیں ہے وہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت تھی جنکے معلم ہیں میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھلا وہ زیادہ قرآن و سنت کو سمجھنے والے تھے یا کہ آج کا ایک بریلوی جس کا عقیدہ ہی شرک سے شروع ہو کر شرک پر ختم ہوتا ہے لہذا اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےاس آیت سے حیات النبی کے عقیدے کا استدلال نہیں کیااگر کیا ہوتا تو اس نازک مرحلے (خلیفہ کے انتخاب) پر وہ قرآن کے اتنے اہم فیصلے کو ہی فراموش نہ کردیتے کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔ جب تم میںکسی معاملہ میں نزاع ہوجاءے تو اللہ اور اسکے رسول علیہ السلام کی طرف رجوع کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور صحابہ کرام ہیں کہ اس حکم کو نہیں مانتےکہ نبی علیہ السلام کا جسم اطہر صحابہ کے درمیان ہے اور کوءی یہ نہیں کہہ رہا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ہمارے درمیان خلیفہ کے انتخاب پر نزاع ہوگیاہےآپ اس کا فیصلہ فرمادیں کیوں کہ اللہ تعالی نے سورہ نساء میں یہ حکم دیا ہے لہذا ہم آپ کے پاس آءے ہیں ہماری مدد کیجیےکیا ایسا ہوا جواب یقینا نہ میں ہی ہے کیوں کہ ایسا نہیں ہوا ؛ ہوسکتا ہے کہ بریلویوں کا یہ ایمان ہو کہ نعوذباللہ صحابہ سورہ نساء کی اس آیت کو صحیح طرح نہیں سمجھے تو جناب آپ کا ایسا ایمان ہومعہ دیگرتمام آل تقلید بریلویہ کہ تو ہوسکتا ہے الحمد للہ ہمارا ایمان ایسا نہیں کہ صحابہ کی مقدس جماعت قرآن و حدیث کے خلاف کرے گی۔ پس ثابت ہو گیا کہ صحابہ کرام میں سے کسی کاحیات النبی کاعقیدہ نہ تھا جو کہ آج بریلویوں کا ہےاور بریلویوں نے سورہ نساء کی آیت کو بعد از وفات کے توسل پرغلط سمجھا۔ ایک اور مثال لیجیے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا اماں عاءشہ رضی اللہ تعالی عنہا ؛معاویہ رضی اللہ عنہ سے خون عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کے مسءلہ میںاختلاف ہوگیا اور دونوں طرف صحابہ کرام کے گروہ میںجنگ جمل و جنگ صفین کے نام سےتصادم ہوگیا اور کءی صحابہ کرام شہید ہوگءے لیکن دونوں طرف کے صحابہ کرام جمع ہو کر نبی علیہ السلام کی قبر اطہر پر جاکر یہ کیوں نہیں کہتے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سورہ نساء میں اللہ تعالی نےہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ۔۔۔جب تم میں نزاع ہو جاءے تو اللہ اور اسکے رسول کی طرف رجوع کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ہم آپکے پاس آءے ہیں اور اپنے درمیان کے اس نزاع کو آپکی طرف پھیرتے ہیں یاآپکی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا آپ فیصلہ فرمادیجیے ایسا نہیں ہوا صحابہ کرام نےایسا نہیں کیا لہذا اس سے ثابت ہوگیا کہ سورہ نساء کی اس آیت کو بریلویوں نے اپنے مطلب اور نفس پرستی؛شرک پرستی کے لےجسطرح سمجھا ہے صحابہ کرام نہ اس کے قاءل تھے اور نہ ہی فاعل لہذا آل تقلید بریلویہ نے اس آیت کو فہم صحابہ کے مطابق نہیں سمجھا اور ٹھوکر کھاءی اسی لیے یہ لوگ گمراہ بددین بدمذھب مشرک ہیں۔ سوال نمبر پانچ ؛ آج دیوبندی بریلوی دونوں ہی اس بات کے دعوے دار ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہیں لیکن دونوں کے درمیان کفر و شرک کا نزاع ہے تو دونوں مل کر کیوں نبی علیہ السلام کی قبراطہر پر جاکر سورہ نساء کی آیت ۔۔۔جب تم میں کسی معاملے میں نزاع ہوجاءے تو اسے اللہ اور اسکے رسول کی پھیردو۔۔۔پر عمل کرتے ہوءے نبی علیہ السلام کی طرف اس نزاع کو نہیں پھیرتے؟
  13. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) پوسٹ نمبر ۷۹ کا جواب قبل اس کے کہ میں آپ سے مزید آپکے کمنٹس کے حوالے سےسوالات کروں اور آپ ”مزید” ہکا بکا ہوکرداءیں باءیں بھاگنا ”مزید” شروع کردیں میرے سوالات کے جوابات دیں ورنہ اگلی پوسٹ میں "مزید" سوالات آپکو منہ چڑارہے ہوں گے اور آپ پریشان ہوکراپنے ”م” بانی کی زبان پر مزید اترآءیں گے۔ بات کچھ سمجھ اءی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے جو آیت لکھی وہ پوری نہیں لکھی پہلی بات اور دوسری یہ کہ حوالہ نہیں دیا اور تیسری بات یہ کہ بنی اسراءیل کے طرزعمل پر چلتے ہوءے آدھی بات پر ہاتھ رکھ لیا اور آدھی کی تشہیرشروع کردی بلکہ میرا مشاہدہ تو یہ کہتا ہے کہ آپ لوگ سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتےہیں۔ آءیں میں آپ کو بتادوں کہ پوری آیت کیا ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ نساء ۵۹ میں فرمایا ” اے لوگوجو ایمان لاءےہو؛ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب امرہوں پھرتمھارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جاءے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقہ کار ہے اور انجام کے اعتبار سےبھی بہتر ہے۔ ترجمہ از ابوالاعلی مودودی ؛ تفہیم القرآن اب آپ اپنے احمد رضا م کا بھی ترجمہ پڑھ لیں۔ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔ ترجمہ از احمد رضا بریلوی ؛ ترجمہ کنزالایمان سوال نمبر ایک ؛ آپ اس آیت کا فہم سب سے پہلے اپنے امام ابو حنیفہ رح سے ثابت کریں اور وہ بھی صحیح سند و معہ حوالے و اسکین کے کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سوال نمبردو؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے و اسکین کے ثابت کریں؟ سوال نمبر تین؛ آپ نے لکھا کہ ”وہابیوں کا عقیدہ توسل پر موقف درست قبول کرلوں گا اور اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں” آپکی تحریر چیخ و پکار کررہی ہے کہ جسے آپ اسلام سمجھے بیٹھے ہیںآپ اس میں ڈانواںڈول ہیں شرک کی چبھن آپکے دل میں ہے جبھی تو آپ نے لکھا کہ اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں گا۔یعنی آپکا اسلام شرک سے شروع ہوکر شرک پرختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اسکو صحیح جانتے تو اسے چھوڑنے کا دعوی ہی کیوں کرتے لہذا جب آپ اپنے اسلام میں ڈانواں ڈول ہیں تو اس پر قاءم کیوں ہیں؟ میں نے اپنی ٹاءپنگ مسٹیک کی تصحیح کرلی ہے۔ آپ بھی اپنے املا کی غلطی طلع کو درست فرمالیں۔
  14. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) آءینہ جو انکو دکھایا تو برا مان گءے پوسٹ نمبر 65 کا جواب بریلوی مشرک صاحب جوتے کا پجاری آپ کو ”ہم ” نے صرف سمجھا نہیں بلکہ یہ تو آپکی تحریریں آپکے عقاءد ہیں جو بتارہے ہیں کہ آپ مزاروں کے پجاری ؛جوتوں کے پجاری؛پتھروں کے پجاری؛جھنڈوں کے پجاری؛نشانوں کے پجاری؛ولیوں کے پجاری اللہ تعالی کے ولیوں کے نہیں بلکہ بریلویوں کے ولیوں کے؛تقلید کے پجاری؛شخصیت کے پجاری وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ۱۔ آپ نے لکھا کہ تابوت سکینہ سے برکت حاصل کی جاتی تھی ان اشیاءے برکت میں مقدس نعلین کا ذکر بھی ملتا ہے ۔ جواب معہ سوال از طرف ابوزید: آپ نےاپنی ایک پوسٹ میں لکھاکہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ پہلے مسءلہ قرآن سے لیتے تھے وہاں نہ ملتا تو حدیث سے لیتے تھے تو اب آپ یہ بتاءیں کہ اس آیت کو ابوحنیفہ رح نے اسی طرح سمجھا ہے جیسا کہ آپ نے لہذا معہ حوالہ و اسکین تحریر کریں کیونکہ آپکا فہم قرآن کوءی اہمیت نہیں رکھتا؟ قیامت تک یہ مطالبہ تو آپ پورا نہیں کرسکتے لہذا میرا سوال نمبر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث صحیح روایت پر مشتمل ہو دکھاءیں کہ میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں یہ بیان کیا ہو کہ بنی اسراءیل کے لیے جو توسل کا حکم اس آیت میں تھا وہ میری امت میں بھی قیامت تک جاری ہے؟ سوال نمبر تین۔صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوءی روایت صحیح سند کے ساتھ دکھاو کہ انہوں نے اس آیت سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ وسیلہ لیا ہو جسکو ثابت کرنے کے لیے آپ ہلکان ہورہے ہیں؟ بہت افسوس کی بات ہے کہ ابوحنیفہ کے حق پر آپ لوگ شب خون بھی مارتے ہیں اور انہیں امام اعظم بھی کہتے ہیں ارے بریلوی مشرک صاحب یہ جو آپ نے لکھا کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کے مقام ( نقش پا یا نقش نعلین پا) کو جاءے نماز (سجدہ گاہ) بنانے کا حکم قرآن پاک میں ہے۔ ” گویا کہ آپ نے اس آیت کو اس طرح سمجھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے نقش پا پر سجدہ کیا جاتا ہے یا اس طرح کرنے کا حکم ہے۔ تو اب آپ جواب دیں سوال نمبرچار؛ کہ کیا نبی علیہ السلام کی پیشانی اقدس ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان یا چپلوں کے نشان پر سجدہ ریز ہوتی تھی نعوذباللہ۔ حالآنکہ میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو افضل الانبیاء و اشرف الانبیاء ہیں؟ ۲۔ مشرک صاحب نے لکھا کہ ” عام جوتے کے لیے بلکہ عام جوتے کے ٹوٹے ہوءے تسمے کے لیے اللہ سے سوال کیا جاسکتا ہےجو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب ازطرف ابوزید: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیسال احد کم ربہ حاجتہ کلھا حتی یسال الملح و حتی یسالہ شسع نعلہ اذاانقطع”۔ ( مشکوہ) ترجمہ ؛ میرے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی سب حاجتیں اپنے رب سے ہی مانگے یہاں تک کہ نمک بھی اسی سے مانگے اور اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جاءے تو وہ بھی اپنے رب سے ہی مانگے۔ اوہ ہو ارے مشرک صاحب کیا یہی آپکی حدیث کی فہم دانی ہے کہ تھوڑی تھوڑی حدیث کے ٹکڑے لکھنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ایسا نہ کریں اپنے شرکیہ اعمال کا بوجھ تو انشاء اللہ تعالی آپ اٹھاءیں گے ہی لیکن آپ کی ان ادھوری ادھوری حدیثوں کے نقل کرنے سے لوگ گمراہ ہو گءے تو ان کا بوجھ بھی آپ کو اٹھانا پڑجاءے گا۔ میرے پیارے نبی علیہ السلام کے فرامین کو دل میں جگہ دیں ان سے محبت کریں نام نہاد نہیں بلکہ سچی اور وہ اس طرح کہ جب میرے نبی علیہ السلام کا فرمان آپکے سامنے آءے تو کسی تقلیدی تاویل باطل تاویل مشرکانہ ذہنی تاویل کی خوردبین سے نہیں دیکھیں بلکہ اس نیت سے حدیث کو دیکھیں کہ یہ میرے نبی علیہ السلام کا فرمان ہے مجھے اس پر عمل کرنا ہے۔ لیجیےمیں نے صرف اللہ تعالی کی توفیق سے حدیث عربی متن کے ساتھ لکھدی ہے اب آپ اس میں خود بھی غور کریں اوراپنےدیگر مشرکین کو بھی کہیں کہ وہ بھی اس میں غور کریں کہ اس میں میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بغیر کسی وسیلہ کے ڈاءریکٹ اللہ تعالی سے نمک اور حتی کے جوتی کے تسمہ تک کی بھی اگر حاجت ہو تو اللہ تعالی سےڈاءریکٹ مانگنے کا حکم فرمارہے ہیں ناکہ جوتے کی پوجا اگر مقصود ہو جیسا کہ مشرک نے حدیث کو ہی غلط انداز میں سمجھا اور لکھدیا کہ ”عام جوتے کے لیے بلکہ عام جوتے کے ٹوٹے ہوءے تسمے کے لیے اللہ سے سوال کیا جاسکتا ہے دعا کی جاسکتی ہے جو عبادت ہی نہیں بلکہ عبادت کا بھی مغز ہے۔ توبابرکت جوتے کی تو بات ہی کیا ہے”۔ اب آپ اپنے باطل عقیدے کے اثبات کےلیے حدیث کو اپنے من مانے معنی پہناکر کیوں لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں تو اس قسم کے کوءی الفاظ نہیں جیساکہ آپ نے لکھا کہ ”بابرکت جوتے کی تو بات ہی کیا ہے”!لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ حدیث میں واضح ہے اگر کسی کو نمک یا جوتے کے تسمے کی بھی حاجت ہو۔ حدیث میں لفظ حاجت استعمال ہوا ہے ۔ جوتے کا تسمہ اور نمک انسان اللہ تعالی سے مانگتاہے تواس چیز کو پوجنے یا وسیلہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ استعمال کرنےکے لیےاب مشرک اس کو جواز بناکراپنے گول مول لفظوں کا سہارا لیکراس حدیث کو بغیر اپنے امام کی فہم کے ؛بغیرصحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین کے فہم کے سمجھے گا تو پھراسی طرح سمجھے گا اورٹھوکرکھاءے گا خود بھی گمراہ ہوگا اور ایک خلقت کو بھی گمراہ کرے گا۔ سوال نمبر پانچ؛ آپ نے لکھا کہ ” بابرکت جوتے کی تو بات ہی کیا ہے” اور پچھلی پوسٹ نمبر ۴۸ میں یہ لکھا کہ ”پس مفہوم صاف ہوا کہ کسی بزرگ کے جوتے بلکہ نقش پا کو بھی وسیلہ بنایا جاسکتا ہےاور ایسے جوتے کے حصول کی خاطر نمازوعبادت و دعاجاءزہے” آپ اپنےموقف کو ثابت کرنے کے لیے جو ادھوری حدیث لکھی اور جسے میں نےصرف اللہ تعالی کی توفیق سے بحوالہ عربی متن و ترجمہ کے مکمل اس کو یہاں نقل کردیا اس حدیث میں یہ الفاظ دکھاءیں کہ میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ کسی بزرگ یا پیغمبرکے جوتے یا نقش پا کوبھی وسیلہ بنایا جاسکتاہے؟ اور ایسے جوتے کے حصول کی خاطر نمازوعبادت و دعا جاءز ہے؟ ۳۔ مشرک نے میرے سوال کے جواب میں لکھا کہ ”قرآنی ثبوت جواز کے بعد یہ سوال زاءید ہے۔ جواب ازطرف ابوزید : میرے جوابات بحوالہ درج بالا نمبر ایک و دو میں میں نے الحمد للہ یہ ثابت کردیا کہ آپ مشرکین لوگوں کو نہ قرآن کی فہم ہے نہ حدیث کی فہم بلکہ اپنی گول مول باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرنےمیں سرگرداں ہو۔ لہذا جب آپ نے قرآن کی آیتوں کو اور حدیث کو صحیح طورسمجھاہی نہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے سمجھا تو آپکا فہم قرآن و حدیث کوءی اہمیت نہیں رکھتا اور میرے حالیہ ۴ سوالات بحوالہ میری پوسٹ نمبر ۵۴و معہ میرے دیگرکزشتہ ۱۴سوالات کل ۱۸ سوالات مزیدآپ پر ادھار ہوگءے۔ ۴۔ مشرک صاحب نے لکھا کہ ”یہ سوال خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجوزین کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن و حدیث میں ممانعت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب ازطرف ابوزید۔ میرے نبی علیہ السلام کے فرامین اگرآپ نے پڑھے ہوتے ان سے محبت ہوتی تو میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین آپکے دل میں گھر بھی کرتے اسکی روشنی تمہارے دل میں توحید کی روشنی لاتی چہرے پر اجالا لاتی لیکن جب میرے نبی علیہ السلام کے فرامین کی آپکے دل میں کوءیوقعت ہی نہیں تو بھلا آپکے دلوں میں توحید کی روشنی اور آپکے چہروں پر اجالا کیسےآءے اس کی زندہ مثال کل کی ملفوظات احمد رضا سے لیکر آج کےآپکے چینل پر بیٹھے ہری پگڑی پہنے لوگوں کو دیکھی جاسکتی ہے انکے دل انکے چہروں سے زیادہ کالے ہیں۔ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے الیاس قادری کے دل میں میرے نبی علیہ السلام کے فرامین کی اتنی بھی محبت نہیں کہ ایک حدیث بھی من و عن بیان کردے ہمیشہ حدیث کا مفہوم ہے کہہ کر بیان کرتا ہے کیوں کہ اس کے دل میں میرے نبی علیہ السلام کے فرامین ٹکتے ہی نہیں ایک مشرک کے دل میں شرک ٹکے گا یا میرے پیارے نبی علیہ السلام کے پاک فرامین۔ لیجیے میرا جواب حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میرے پیارے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے کوءی ایسا کام کیا جو ہم سے ثابت نہیں وہ عمل مردود ہے ۔ بخاری اس حدیث سے بات واضح ہوگءی کہ ہر وہ کام جسے دین سمجھکر کیا جاءے اور وہ نبی علیہ السلام سے ثابت نہیں اس عمل کی کوءی حیثیت نہیں وہ عمل مردود ہے یہ کون کہہ رہے ہیں میرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لہذا آپکا جوتوں یا نقشوں کو پوجنا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے اور جن قرآنی آیتوں اور حدیث کو آپ نے جواز بنایا وہ تو آپکے موقف کے سراسر خلاف ہیں۔ لہذا میرے سوالات اپنی جگہ ہی کھڑے ہیں ہے کوءی دوسرا بریلوی جو جواب دے سکے۔ لفظوں کی ہیراپھیری سے مشرک صاحب کام نہیں چلے گا۔کبھی قرآن کو سبق دینے بیٹھ جاتے ہو کبھی حدیث کو سبق دینے بیٹھ جاتے ہوجبکہ یہ دونوں تو اس لیے ہیں کہ ان سے سبق لیا جاءے نہ کہ ان کو سبق دیا جاءے لہذا قرآن و حدیث کواپنے من مانے معنی مت پہناءیں بلکہ اسے فہم صحابہ و عمل صحابہ سے ثابت کریں بھی اور سمجھیں بھی؛ آپ نے لکھا کہ "پس مفہوم صاف ہوا کہ کسی بزرگ کے جوتے بلکہ نقش پا کو بھی وسیلہ بنایا جا سکتا ہے اور ایسے جوتے کے حصول کی خاطر نمازوعبادتودعاجاءزہے"۔ کیونکہ آپکے دیےہوءے جوابات بلکل صحیح نہیں جسکا پوسٹ مارٹم صرف اللہ تعالی کی توفیق سے میں اوپر بیان کرچکاہوں لہذا جوتے کے پجاریوں سے ایک بار پھر سوالات ہیں۔ سوال نمبر ایک ؛ نبی علیہ السلام کا فرمان جو کہ صحیح سند پر مشتمل ہو دکھاو کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہو کہ میرے یا میرے صحابہ یا کسی بزرگ کے جوتے یا نقش پا کو بھی وسیلہ بنایا جاسکتا ہے؟ سوال نمبردو؛ نبی علیہ السلام کا فرمان جو کہ صحیح سند پر مشتمل ہو دکھاو کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہومیرے یا میرے کسی صحابی کے یا کسی پیرفقیریا ولی اللہ کے جوتے کے حصول کی خاطر نمازوعبادت و دعا جاءزہےوسیلہ کے لیے حاجت رواءی مشکل کشاءی پوجا وغیرہ کے لیے؟ سوال نمبر تین؛ کسی صحابی کا عمل صحیح سند سے دکھاو کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی علیہ السلام کے جوتے یا نقش پا کو وسیلہ بنایا ہو؟ سوال نمبرچار؛کسی صحابی کا عمل صحیح سند سے دکھاو کہ کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی علیہ السلام کے جوتے کے حصول کی خاطر نماز و عبادت و دعا کو جاءز کہا ہو یا عمل کیا ہو؟
  15. بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف یااللہ سبحانہ تعالی مدد انماالمشرکون نجس (سورہ توبہ) ارے ارے ارے انور صاحب اتنے غصے میں آگءے آپ ؛ آپ بار بار اس قسم کی زبان استعمال کرکے کیوں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آپ احمد رضا کے پیروکار ہیں ارے بھءی آپکا ایک بار کا انداز بیاں ہی کافی ہے احمد رضا کی عکاسی کے لیے ؛ خیر وہ لوگ جو سنجیدہ ہیں دیکھ سکتے ہیں کہ میرے صرف تین سوالات سے مشرک انور صاحب کتنا ہاءپر ہوگءے ہیں۔ اصولا اس تھریڈ پر آنےکے بعد میرے ۱۴ سوالات کے جوابات انکو دینے چاہیے تھے لیکن آتے ہی ہم سے سوال شروع کردیا ارے بھءی بے شک آپ ہم سے سوال کریں یا سوالات لیکن اصولا میرے سوالات کے جوابات پہلے دیں چلیں ۱۴ سوالات کے جوابات فی الحال نہ دیں صرف تین کے جوابات دے دیں۔ میں اپنے سوالات ایک بار پھر دھراتا ہوں کہ شاید آپ جوابات دے سکیں۔ آپ نے جو آیت لکھی وہ پوری نہیں لکھی پہلی بات اور دوسری یہ کہ حوالہ نہیں دیا اور تیسری بات یہ کہ بنی اسراءیل کے طرزعمل پر چلتے ہوءے آدھی بات پر ہاتھ رکھ لیا اور آدھی کی تشہیرشروع کردی بلکہ میرا مشاہدہ تو یہ کہتا ہے کہ آپ لوگ سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتےہیں۔ آءیں میں آپ کو بتادوں کہ پوری آیت کیا ہے۔ اللہ تعالی نے سورہ نساء ۵۹ میں فرمایا ” اے لوگوجو ایمان لاءےہو؛ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب امرہوں پھرتمھارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جاءے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقہ کار ہے اور انجام کے اعتبار سےبھی بہتر ہے۔ ترجمہ از ابوالاعلی مودودی ؛ تفہیم القرآن اب آپ اپنے امام کا بھی ترجمہ پڑھ لیں۔ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔ ترجمہ از احمد رضا بریلوی ؛ ترجمہ کنزالایمان سوال نمبر ایک ؛ آپ اس آیت کا فہم سب سے پہلے اپنے امام ابو حنیفہ رح سے ثابت کریں اور وہ بھی صحیح سند و معہ حوالے و اسکین کے کہ انہوں نے اس آیت کو اسی طرح سمجھا جس طرح آپ سمجھ رہے ہیں۔ کیونکہ حلقہ مقلدین میں آپکے فہم کی کوءی اہمیت نہیں آپ مقلد ہیں اور پابند ہیں اپنے امام کی تقلید کے؟ سوال نمبردو؛ بریلوی مشرکین حیات ظاہری و حیات باطنی کو جس اصطلاح میں مانتے ہیں اسے صحیح سند کے ساتھ ابوحنیفہ رح سے معہ حوالے و اسکین کے ثابت کریں؟ سوال نمبر تین؛ آپ نے لکھا کہ ”وہابیوں کا عقیدہ توسل پر موقف درست قبول کرلوں گا اور اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں” آپکی تحریر چیخ و پکار کررہی ہے کہ جسے آپ اسلام سمجھے بیٹھے ہیںآپ اس میں ڈانواڈول ہیں شرک کی چبھن آپکے دل میں ہے جبھی تو آپ نے لکھا کہ اسلام کو چھوڑآپ کا دین قبول کرلوں گا۔یعنی آپکا اسلام شرک سے شروع ہوکر شرک پرختم ہوتا ہے۔ اگر آپ اسکو صحیح جانتے تو اسے چھوڑنے کا دعوی ہی کیوں کرتے لہذا جب آپ اپنے اسلام میں ڈانواڈول ہیں تو اس پر قاءم کیوں ہیں؟ نوٹ : ابراھیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا نمرد سے نہیںکہا پہلی بات؛ دوسری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابراھیم علیہ السلام نے یہ کہا کہ میرا اللہ تو مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اس کو مغرب سےنکال دے تو کافر لاجواب اور مبہوت رہ گیا اور اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ البقرہ ۲۵۸ انور صاحب ابراھیم علیہ السلام نے یہ ضرور کہا کہ میرا اللہ تو مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اس کو مغرب سےنکال دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابراھیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ اگر تو ایسا کردے گا تو میں اسلام کو چھوڑ تیرا مذھب قبول کرلوں گا جیسا کہ آپ نے لکھا کہ ”وہابیوں کا عقیدہ توسل پر موقف درست قبول کرلوں گا اور اسلام کو چھوڑ آپ کا دین قبول کرلوں” اور آپ نے یہ بھی لکھا کہ ”۔۔۔۔ ایک نبی کی سنت کو پورا کیا ہے ” اب چوتھا سوال آپ سے یہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام نے اس سے سوال کیا کہ میرا اللہ تو مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اس کو مغرب سے نکال دے۔۔۔۔۔ لیکن یہ نہیں کہا کہ اگر تو ایسا کر دے گا تو میں اسلام کو چھوڑ کر تیرا دین قبول کرلوں گا۔ لیکن جبکہ آپ نے یہ بات کہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کو چھوڑ آپ کا دین قبول کرلوں” اور آپ اپنے قول پر دلیل قرآن سے یہ کہہ کر لاءے ہیں کہ ایک نبی کی سنت کو پورا کیا؛ جسکا واضح معنی یہ ہوا کہ ابراھیم علیہ السلام نے بھی اسی طرح کا دعوی کیا لہذا ان الفاظ کے ساتھ کے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر تو سورج کو مغرب سے نکال دے تو میں اسلام چھوڑ کر تیرا دین قبول کرلوں گا لہذا اب آپ پر لازم ہے کہ قرآن میں دکھاءیں؟ معہ حوالہ ۔ کیونکہ میں نے قرآن کی آیت جہاں تک تھی اس کو یہاں نقل کردیا اب جو زاءد حصہ جسے ابراھیم علیہ السلام کی سنت جان کر آپ نے لکھا کہ ۔۔۔۔اسلام کو چھوڑ آپ کا دین قبول کرلوں گا یہ بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہے حوالے کے ساتھ یہاں ذکر کریں؟ قرآن سے اپنے دعوی کے پورے الفاظ ابراھیم علیہ السلام کی زبانی نہ دکھاسکیں جنکو آپنے سنت کہا تو پھر یہاں علی الاعلان معافی مانگیں کہ لوگوں کو دھوکہ دیا۔ یہ بھی نوٹ فرمالیں کہ لفظ دعوی ہے دعوا نہیں لفظ طلوع ہے طلع نہیں۔