Jump to content

HozaifaMalik

Under Observation
  • Posts

    57
  • Joined

  • Last visited

About HozaifaMalik

Previous Fields

  • Shia

HozaifaMalik's Achievements

Contributor

Contributor (5/14)

  • First Post
  • Collaborator
  • Conversation Starter
  • Week One Done
  • One Month Later

Recent Badges

0

Reputation

  1. ٭ دلیل مانگنا گستاخی نہیں ؟ اگر کوئی بندہ اپنے کسی عالم کی بات سن کر اس سے قرآن و حدیث سے دلیل طلب کرے تو یہ گستاخی نہیں ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا !اے میرے رب میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ مردو ںکو کیسے زندہ کریں گے ؟ اللہ رب العزت نے فرمایا! کیا آپ علیہ السلام کا اس بات پر ایمان نہیں ؟ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کیوںنہیں ‘ لیکن میں اطمینان قلب کے لئے دلیل مانگ رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے طلب دلیل پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ دلیل دیتے ہوئے فرمایاآپ چار پرندے لے لیں اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لیں پھر انہیں ذبح کر کے ان کے گوشت کے ٹکڑے کر کے باہم ملالیں اور ان میں سے تھوڑا تھوڑا پہاڑوں پر رکھ دیں ‘ پھر انہیں آواز دیں وہ آپ کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے ۔ (سورة البقرہ آیت 260)
  2. VIDEO LINK http://www.youtube.com/watch?v=zsTac...Hm_ZX9nDVRbYZh
  3. پلیز میرے حوالوں کو تنقید نہ سمجھا جا ے
  4. فقہ حنفی کے کچھ کتابوں کے حوالے بھی پڑھ لیں . یہ ہمارے علما کی ہی کتابیں ھیں
  5. جس کتاب کا آپ حوالہ دے رھے ھیں اس پوری کتاب کویہاں اٹیچ کریں تا کہ ہم اس پوری کتاب پڑھ سکیں حافظ محمّد اسحاق کا اردو ترجمہ والی کتاب آپ کی طرف سے کتاب کا انتظار
  6. ہمارے ملک کا صدر زرداری سیدھا انڈیا میں جاتا ہے اور اجمیر شریف پر جا کر ماتھا ٹیکتا ہے کیا کل کوئی بندہ زرداری کی مثال اسلام میں حجت بنا سکتا ہے کبھی نہیں حجت قرآن اور صحیح حدیث ہے یا اجماع امّت یا اجتہاد اور وہ بھی قرآن اور حدیث کے مطابق
  7. آپ کو عبدللہ کے ہاتھ تو نظر آ گۓ. لکن کیا آپ بتا سکتے ھیں کہ عبدللہ کی داڑھی بھی سنّت کے مطابق نہیں ہے کیا عبدللہ نے قرآن کی تسفیر لکھی ہے کیا عبدللہ کوئی عالم ہے پھر آپ کس حساب سے عبدللہ کی مثال یہاں فٹ کر رھے ھیں یہی تو فرق ہے آپ میں اور ہم میں . آپ کے نزدیک آپ کے رضا خوانی بابے حجت ھیں لکن ہمارے نزدیک جس بندے کی بات قرآن یا صحیح حدیث سے ٹکراۓ گی رد کر دی جے گی
  8. میرے رضاخوانی بھائی . پتا نہیں تم کون سی توحید کے قائل ھو . میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ اسلام میں کوئی شخص حجت نہیں ہے
  9. پلیز امام مسلم کا مقدمہ غور سے پڑھو پھر بات کرو
  10. اب جو فتویٰ امام ابو حنیفہ رحم اللہ پر وہی دوسروں پر
  11. تم لوگ ابن کثیر کی بات کرتے ھو . اگر امام ابو حنیفہ کوئی بات کہیں اور آپ کے نزدیک وہ ٹھیک نہ ھو تو آپ کیا کرو گے
  12. نعت خوانی کی مجالس اور رسول سے محبت کا معیار ؟ السلام علیکم۔ صحیح بخاری کی مشہور روایت ہے کہ ایک لڑکی نے کہا کہ ہم میں ایک ایسا نبی موجود ہے جو کل کی بات جانتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایسا کہنے سے روک دیا۔ اس سے معلوم ہوا مبالغہ آمیز نعتوں سے روکنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ صحیح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک یوں ہے ‫: مجھے حد سے مت بڑھانا جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حد سے بڑھا دیا ۔ میں تو محض اس کا بندہ ہی ہوں ، تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام و درود اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحسین و توصیف عین مطلوب ہے لیکن غلو آمیز تعریف سے بچنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے اور اس قسم کی غلو آمیز نعتوں کو بڑھاوا دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے انکار ہے۔ سلف صالحیں نے غلو پر مبنی ایسے ہی ترانوں اور نظموں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ امام احمد سے سوال ہوا کہ : ان قصائد اور نعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا یہ ایک بدعت ہے ، ان قصیدے پڑھنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں : میں نے اپنے پیچھے بغداد میں ایک ایسی چیز چھوڑی جسے لوگ تغبیر کا نام دیتے ہیں اور اس کے ذریعے لوگوں کو قرآن سے روکتے ہیں۔ امام احمد کے قول پر امام ابن تیمیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ‫: یہ قول امام احمد کی کمال معرفت اور دین کے علم میں ان کے عمق کی دلیل ہے ، کیونکہ دل جب قصیدے اور مزیدار شعر سننے کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کا دل قرآن سے اچاٹ ہونے لگتا ہے اور وہ سماع رحمانی (یعنی: تلاوت اور سماعِ قرآن) کے بدلے شیطانی قصیدوں اور ترانوں سے اپنا دل بہلاتا ہے۔ بےشک ! نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تحسین و توصیف ، چاہے نظم میں ہو یا نثر میں ۔۔۔۔ یہ ہر مسلمان کو مطلوب و مقصود ہے۔ شریعت کی قائم کردہ حدود میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی جتنی بھی تعریف و تحسین (نظم و نثر میں) کی جائے وہ کم ہے۔ ساری بحث صرف "غلو آمیز تعریف" سے بچنے پر کی جاتی ہے اور کی جاتی رہے گی۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اپنے قول میں بالکل برحق اشارہ فرمایا ہے۔ امام صاحب کا اشارہ دراصل ان مجالس کی جانب ہے جو غلو آمیز نعتوں اور قصیدوں کے لئے خاص طور پر قائم کی جاتی تھیں (اور آج بھی قائم کی جاتی ہیں)۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ساری تاریخ اسلام چھان جائیں تو بھی ایک ایسی صحیح روایت نہیں ملے گی جس میں کوئی "خاص مجلس یا شاعرانہ نشست" صحابہ یا تابعین نے برپا کی ہو اور جس شعری بیٹھک کی تائید و توصیف رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کبھی کی ہو۔ کبھی کبھار شعر یا اشعار سنا دینا یا حالت جنگ میں جوش و جذبہ دلانے کے لئے حضرت حسان بن ثابت (رضی اللہ عنہ) کا اشعار پڑھنا ۔۔۔۔ یہ الگ چیز ہے اور خصوصی نعتیہ اور قصیدوں پر مبنی ، دن اور وقت مقرر کر کے مجلس یا مجلسیں جمانا یہ ایک دوسری چیز ہے۔ اور اسی دوسری چیز کو امام احمد نے "بدعت" سے تعبیر کیا ہے۔ نعت خوانی کی مجلسوں کے قیام کو یا ان میں شرکت کو "شرعی عبادت" سمجھنے پر جب اعتراض کیا جاتا ہے تو عموماً یہ پوچھا جاتا ہے کہ : پھر رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) سے کس طرح محبت کی جائے؟ مجھے اس بات پر وہ واقعہ یاد آ رہا ہے کہ ایک صحابی ، رسول اللہ کی محبت میں اس قدر بیقرار رہتے تھے کہ روز آپ کا دیدار کر کے سکون حاصل کیا کرتے تھے لیکن پھر جب انہیں موت کی یاد آئی تو انہوں نے آزردہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کہا کہ میں جنت میں گیا بھی تو آپ تک نہیں پہنچ سکوں گا کیونکہ جنت میں آپ انبیاء کے ساتھ اعلیٰ درجات میں ہوں گے ۔۔۔۔ اور جب آپ کے دیدار سے محروم رہوں گا تو یہ سوچ کر بےچین ہو ہو جاتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی یہ آیت نازل فرمائی وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقًا جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ سورہ النساء ، آیت:69 لہذا آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں قدم قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کی جائے۔ جو محبت ، سنتِ رسول پر عمل کرنا نہ سکھائے ، وہ محض دھوکہ اور فریب ہے جو محبت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت اور پیروی نہ سکھائے ، وہ محض جھوٹ اور نفاق ہے جو محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی کے آداب نہ سکھائے ، محض ریا اور دکھاوا ہے جو محبت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے قریب تر نہ لے جائے ، محض جھوٹا شور و نعرہ اور فالتو پروپگنڈہ ہے۔ واللہ اعلم۔
  13. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نبی ﷺ کا امام، احمد رضا بریلوی (نعوذ باللہ) احمد رضا بریلوی نے ایک مولوی برکات احمد کے متعلق کہا: ’’ان کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زیارت اقدس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے کہ گھوڑے پر تشریف لئے جاتے ہیں۔ عرض کی: یا رسول اللہ! حضور کہاں تشریف لے جاتے ہیں۔فرمایا برکات احمد کے جنازے کی نماز پڑھنے۔‘‘ احمد رضا خان بریلوی نے اس کے بعد کہا: ’’الحمد للہ! یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا۔‘‘ [ملفوظات،حصہ دوم:ص۱۴۲] اس سے معلوم ہوا کہ احمد رضا بریلوی کے نزدیک انہوں نے وہ جنازہ بھی پڑھا رکھا ہے جس کو پڑھنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ جس نبی(ﷺ) کی موجودگی میں بلا اجازت کوئی دوسرا نبی امام نہیں بن سکتا اس نبی مکرم (ﷺ) کے امام بننے کا بھی شرف احمد رضا بریلوی کو حاصل ہوا (نعوذ باللہ و من ذالک)۔ ملفوظات کی اس عبارت میں موجود گستاخی و توہین کا کوئی صاحب ایمان انکار نہیں کر سکتا۔ مگر اس کے باوجود بریلوی اس گستاخانہ عبارت کی مختلف باطل تاویلات میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے اعلیٰ حضرت کے مردود دفاع میں مزید گستاخی و توہین کے مرتکب بنتے ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے تو خود بریلوی حضرات کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں امام بننے کا حکم ملاحظہ فرمائیں: بریلویوں کے حکیم الامت احمد یار خان نعیمی نے لکھا: ’’اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی علیہا لصلوٰۃ والسلام کی موجودگی میں کسی کو بھی امام ہونے کا اختیار نہیں۔‘‘ [شان حبیب الرحمٰن:ص۲۱۹] گویا جو اختیار کسی کو نہیں وہ بریلویوں کے نزدیک ان کے اعلیٰ حضرت کو حاصل تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی امام بن بیٹھے۔ کچھ بریلوی یہاں چالاکی سے بعض صحابہ کرام ؓ سے ایسی امامت کا ثبوت دینے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔مگر ان کے اس دھوکے کو خود ان کے حکیم الامت احمد یار خان نعیمی ان الفاظ میں مردود قرار دیتے ہیں: ’’ہاں اگرحضور علیہ السلام ہی اجازت دے دیں کہ تم امام بنے رہو تو اب حضور علیہ السلام کی اجازت سے امام بنے رہنا جائز ہوا، جیسا کہ حضرت عبدالرحمٰن ا بن عوف پر گزرا۔‘‘[شان حبیب الرحمٰن:ص۲۱۹] معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صرف وہ امام بن سکتا ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اجازت دے دیں۔ لہٰذا احمد رضا خان بریلوی کا خود کو بلا اجازت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امام بنا لینا سوائے گستاخی کے کچھ نہیں۔کچھ بریلوی علماء نے اپنے اعلیٰ حضرت کی اس گستاخی و توہین کو محسوس کرتے ہوئے اس واضح حقیقت پرجھوٹ اورمتضاد و باطل تاویلات کے پردے ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ معروف بریلوی عالم کوکب نورانی اوکاڑوی نے لکھا: ’’یہ مفہوم کیسے اخذ کر لیا گیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز جنازہ بھی ادا فرمائی؟ یا یہ کہ اعلیٰ حضرت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کی؟ (معاذ اللہ)۔ بلا شبہ یہ اعلیٰ حضرت پر بہتان ہے۔ خواب اور اعلیٰ حضرت بریلوی کے بیان کی حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شفقت و رحمت کے سبب اپنے اس غلام کو نوازنے تشریف لائے اور اس عاشق صادق کے جنازہ کو ملاحظہ فرمایا۔‘‘ [سفید و سیاہ:ص۱۷۹] اوکاڑوی بریلوی صاحب نے تو اپنی باطل تاویل سے قصہ ہی ختم کر دیا کہ یہ جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ہی نہیں بلکہ صرف ملاحظہ فرمایا۔ کوئی ان بریلوی ماہرین تاویل کو سمجھاتا کیوں نہیں کہ بریلوی اعلیٰ حضرت کے ملفوظ میں صاف تصریح موجود ہے کہ’’(نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا برکات احمد کے جنازے کی نماز پڑھنے۔‘‘ اس رضا خانی وضاحت کے باوجودصریح جھوٹ بول کر احمد رضا بریلوی کا دفاع کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس باطل تاویل کا سقم تو انتہائی واضح اور روشن ہے،اس لیے اپنے اعلیٰ حضرت کی اس گستاخانہ عبارت پر ایک اور انداز سے بھی بریلوی ماہرین تاویل نے اپنی فنکاری دکھانے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ بریلویوں کے ترجمانِ مسلک اعلیٰ حضرت حسن علی رضوی بریلوی اپنے اعلیٰ حضرت کے اس توہین آمیز ملفوظ کی من گھڑت وضاحت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عبارت کا صحیح مفہوم واضح ہوا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔۔۔۔‘‘ [برقِ آسمانی بر فتنہ شیطانی:ص۶۴] گویا ان کے نزدیک گستاخی والی کوئی بات نہیں کیونکہ ان کے اعلیٰ حضرت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور احمد رضا خان بریلوی نے باقی لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حالانکہ اس من گھڑت بات کا دور دور تک کوئی نام و نشان اس ملفوظ میں نہیں۔ بہرحال ان بریلوی تاویلات سے یہ تو بالکل واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی امام بنے رہنے پر اصرار کرنا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کا دعویٰ کرنا خود ان کے نزدیک بھی توہین و گستاخی ہے۔ اس تمام تفصیل کے بعد عرض ہے کہ اس گستاخی و توہین سے بریلوی علماء جھوٹ و من گھڑت تاویلات کے سہارے جان نہیں چھڑا سکتے۔بریلویوں کی تسلیم شدہ اس گستاخی و توہین کا اقرار کرتے ہوئے غلام نصیر الدین سیالوی بریلوی نے اپنے اعلیٰ حضرت کے متعلق لکھا: ’’ان کو پہلے تو پتا نہیں تھا کہ حضور علیہ السلام جنازہ میں شامل ہیں بعد میں جب پتا چلا تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ سرکار ﷺ نے میرے پیچھے نماز پڑھی۔۔۔‘‘ [عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،حصہ اول:ص۳۲۴] معلوم ہوا کہ اس جنازے کی نماز بطور امام، احمد رضا خان بریلوی نے ہی پڑھائی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریلوی اعلیٰ حضرت کے پیچھے یہ نماز پڑھی تھی (نعوذ باللہ) اور اس بات کا گستاخی و توہین ہونا خود بریلوی علماء و اکابرین کی اوپر پیش کی گئی تاویلات سے ثابت ہے۔ دوسرا یہ کہ جو بریلوی یہ من گھڑت تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اعلیٰ حضرت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور خان صاحب بریلوی نے باقی لوگوں کو نماز پڑھائی، شاید یہ نہیں جانتے کہ اس صورت میں تو بریلویوں کے نزدیک نماز ہوتی ہی نہیں۔چنانچہ غلام نصیر الدین سیالوی بریلوی لکھتے ہیں: ’’دوسری عرض یہ ہے کہ حضور علیہ السلام پر نماز اب فرض نہیں ہے۔آپ علیہ السلام کی نماز نفلی ہوتی ہے اور حنفی مذہب میں مفترض (فرض پڑھنے والا) متنفل(نفل پڑھنے والے)کی اقتدا نہیں کر سکتا۔لہٰذا حنفی مذہب رکھنے والوں کو یہ اعتراض زیب نہیں دیتا کہ نبی الانبیاء علیہم السلام کی موجودگی اور حاضر و ناظر ہونے کے باوجود تم خود امام کیوں بن جاتے ہو۔‘‘[عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،حصہ اول:ص۳۲۴۔۳۲۵] اس صاف وضاحت کے باوجود لوگوں کا بریلویوں پر اعتراض کرنا کس قدر غلط ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود اور حاضر و ناظر ماننے کے باوجود خود امام کیوں بنتے ہیں؟ بھئی وہ تو صاف صاف اعلان کر رہے ہیں کہ اگر چہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر اور موجود مانتے ہیں مگرچونکہ حنفی مذہب میں فرض پڑھنے والا، نفل پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتااور نہ ایسے کی نماز ہوتی ہے۔ لہٰذامسئلہ مذکورہ کے پیشِ نظر ان کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتی ہی نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اب نفلی ہے۔ چنانچہ احمد رضا خان بریلوی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امام اسی لیے بنے کہ ان کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نہیں ہوتی تھی اور آج رضا خانی امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر ماننے کے باوجود امام بنتی ہے تواس کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نہیں ہوتی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ امید ہے کہ یہ پوسٹ بھی ڈیلیٹ نہیں ھو گی
×
×
  • Create New...