Jump to content
IslamiMehfil

Ahmad Lahore

Members
  • Content Count

    103
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    14

Ahmad Lahore last won the day on December 5 2016

Ahmad Lahore had the most liked content!

Community Reputation

50

About Ahmad Lahore

  • Rank
    Ajmeri Member

Recent Profile Visitors

403 profile views
  1. رحمٰن علوی بھائی! نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر سے تعلق رکھنے والی ہر شے ہمارے حق میں پاک و متبرک ہے۔ جہاں تک معترض کا تعلق ہے، اس جاہل کو اصل اور نقش کے مابین فرق بھی معلوم نہیں۔ اتنا نہیں جانتا کہ کعبہ معظمہ اور مسجد نبوی کی تصویر یا تشبیہ کا حکم اصل خانہ کعبہ یا روضہ رسول کے برابر نہیں ہو سکتا، کہ یہ اصل ہے، وہ محض نقل یا شبیہ۔ پھر بھی ضد پر قائم رہے تو اس سے پوچھئے کہ مقام ابراہیم کیا ہے؟ ایک پتھر جس پر نبی اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کا نشان ثبت ہے، جو عین مسجد الحرام کے صحن میں نصب ہے، فاصلہ زیادہ ہو تو طواف کعبہ کے لیے چکر لگاتے ہوئے یہ بھی بیچ میں پڑتا ہے، اس کے قریب نوافل ک
  2. مختصراً کچھ عرض کرتا ہوں اباحت اباحت سے مراد کسی مسٔلہ کی ایسی نوعیت ہے کہ شرعاً نہ تو اس کا کرنا مطلوب ہو نہ ہی چھوڑنا۔ نہ اس کی انجام دہی پر ثواب ہو نہ ہی ترک پر گرفت۔ مباحات ہی کی قسم میں ایک درجہ عفو کا بھی ہےجس سے مراد وہ احکام ہیں جن کا شریعت نے اثباتاً یا نفیاً کوئی تذکرہ نہ کیا ہو اور نہ ہی شریعت میں کوئی دوسری ایسی نظیر ملے جس پر اس کو قیاس کیا جا سکے۔ یعنی محض شریعت کے اس بارے میں خاموش رہنے پر انہیں مباح مان لیا جائے۔ مندوب یا مستحب یہ حکم شرعی تکلیفی کی قسم ہے۔ مندوب کو نفل، مستحب، تطوّع نیز احسان بھی کہا جاتا ہے۔ لفظ مندوب "الندب" سے مشتق ہےجس سے مراد کسی اہم معاملے کی طرف
  3. یوں تو اسلامی محفل پر اہل علم حضرات نے اس موضوع کے تقریباً ہر پہلو پر مدلل اور بھرپور گفتگو فرمائی ہے، جس میں آپ کو تمام اعتراضات کے جوابات تلاش کرنے پر مل جائیں گے، انتہائی اختصار کے ساتھ ان پانچ نکات پر چند معروضات ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ معترض کا کہنا کہ اگرکتاب وسنت سے یہ عید ثابت ہے تو پھراسے بدعت حسنہ نہیں بلکہ سنت ثابتہ کہا جائے گا، اوراگریہ‌بدعت حسنہ یعنی بعد کی ایجاد ہے تو پھر کتاب و سنت سے اس کا ثبوت ممکن ہی نہیں۔ یہ اس کے جاہل مطلق ہونے کی دلیل ہے۔ بیچارہ اتنا نہیں جانتا کہ بدعت حسنہ ہوتی ہی وہ ہے جس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ اسے چاہئے پہلے اباحت اور استحباب کے مابین فرق کسی سے
  4. وہی گھسا پٹا سطحی اعتراض۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص قبل از زمانہ پیدائش مذکور وہابی صاحب پر قیاس کرتے ہوئے دعویٰ کرے کہ جناب آپ تو سِرے سے وجود ہی نہیں رکھتے، بایں وجہ کہ آپ فلاں زمانے میں موجود نہ تھے۔ ظاہر ہے، وہابی صاحب قدامت کے تو دعویدار نہیں ہوں گے، مگر کیا اس بنا پر اپنی پیدائش کے بھی منکر ہیں؟ عقلمند را اشارہ کافی است
  5. اللہ تعالیٰ آپ کی عمر، علم، عمل میں برکتیں عطا فرمائے۔
  6. معترض اپنا اعتراض واضح طور پر پیش کر کے جواب کیوں نہیں مانگتا؟ بہرکیف، نبی کریم ﷺ کے علم مبارک کے بارے میں اہلسنت کا عقیدہ واضح ہے جس کا خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کا علم عطائی، غیر مستقل ہے، نہ تو یہ علم ایسا ہے جس میں تغیر و تبدل ممکن نہ ہو اور نہ ایسا جس کا سلب محال ہو، نہ یہ علم ازلی ابدی ہے۔ ذات نبوی ﷺ اس علم کے حصول اور اس کے قائم رہنے، دونوں میں مکمل طور پر ذات باری عزوجل کی محتاج ہے۔ مزید برآں، یہ علم لامحدود نہیں، بلکہ محدود ہے۔
  7. حجاز پہ قبضے کا دن منانا یہ تو حماقت در حماقت ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کو حجاز پہ قبضہ سے موسوم کرے۔ اگر ان بریلوی کو یہ حکومت ملتی۔۔۔۔۔۔۔ سلفی میں اعتراض سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں اس لیے جواب دینے کے بجائے خلط مبحث میں مبتلا ہو گیا۔ اعتراض کی اصل یہ کہ اگر بالفرض نجدیوں کی خدمت میں حجاز کی حکومت بصد احترام و تکریم پیش کی گئی ہوتی، تب بھی اس دن کو منانے کی شرعی دلیل آخر کیا ہے؟ اور اگر شرعی دلیل موجود نہیں، پھر اسے منانے کا حکم شرعی کیا ہو گا؟ ہر سال کعبہ شریف کو غسل دینا اسی طرح غسل کعبۃ اللہ بھی عملی تواتر سے ثابت ہے ۔ بعض روایات میں تصریح موجود ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر نبی
  8. میں نے وہابیوں کے فورم پر دعوی کیا تھا کہ ’’مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے اختیارات کو باذن اللہ کی قید سے مقید نہیں مانتے تھے۔ تمام اہلحدیثو کو چیلنج کہ کوئی ایک آیت یا حدیث اسکے رد پر لائیں‘‘۔ اس پر وہ سیخ پا تو بہت ہوئے مگر کوئی دلیل اسکے رد پر پیش نہیں کر سکے سوائے ایک حدیث (جسمیں مشرکین تلبیہ پڑھتے ہوئے اپنے من گھڑت خداوں کو مملوک مانتے تھے) اور یہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کی عبارت۔ اس پر مجھے یہ کہنا ہے کہ:۔،۔ شاہ صاحب کی عبارت سے مشرکین کا اپنے بتوں کے اختیارات کا اللہ کی عطا سے ہونے کا عقیدہ مذکور ہے۔ اگر وہابی مشرکوں کے عقیدہ عطائے اختیارات کی عبارت سے یہ کہے کہ ’’اس عبارت سے مشرکی
  9. مختصراً کچھ گزارشات پیش خدمت ہیں۔ 1 شاہ ولی اللہ نے ایسا کیوں کہا ہے اور انکی مراد و مطلب اگر یہ نہیں ہے جو وہابی نے الزام لگایا ہے تو بھی سچ بات بتائیں۔۔،۔،۔ مذکورہ الزام یا تو وہابی کا مکر ہے، یا محض جہالت۔ شاہ ولی اللہ کی نقل کردہ عبارت میں ایسا کچھ نہیں جس سے اہلسنت پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہو۔ اس عبارت میں موجود ان جملوں پر غور فرمائیں ظاہر ہے کہ بادشاہ ہر جگہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر خود توجہ نہیں دے سکتا، اس لیے وہ اپنے ماتحتوں کو اختیار دے دیتا ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھیں کام کریں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو خدائی صفات اور اختیارات عطا فرماتے ہیں جن کی خوشنودی ا
  10. محترم کشمیر خان صاحب اس تمام تر مواد کے بعد اگر آپ اپنے سوالات علیحدہ سے نمبر وار لکھ دیں تو ان پر کلام کرنے میں آسانی ہو گی۔
  11. تبصرہ کر تو ضرور سکتا ہوں، مگر نہیں کر رہا۔ ایک تو اس سے حاصل کچھ نہیں ہو گا، دوسرے، کچھ پاسِ احترامِ دوستاں بھی ہے۔
  12. میرے سوال کے جواب میں پہلے تو فتوے کے ایک خاص حصے کی جانب نشاندہی کی، جب سوال دہرا کر پوچھا کہ مذکورہ الفاظ میں جواب کہاں ہے، تو اب کہتے ہیں کہ تفصیلات منعم عطاری بھائی بتائیں گے۔ اگر ایسا تھا تو پھر منعم عطاری بھائی کا ہی انتظار کیا ہوتا، بےچینی کس بات کی تھی؟
  13. ان الفاظ سے پاکستان کا بننا غلطی کس طرح ثابت ہو گیا؟
  14. کیا اس فتوے سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان بنانا ایک غلطی تھی؟
×
×
  • Create New...