hussainali

Members
  • Content count

    11
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

hussainali last won the day on May 11 2013

hussainali had the most liked content!

Community Reputation

6 Neutral

About hussainali

  • Rank
    Newbie

Previous Fields

  • Madhab
    Maliki
  1. میرا اس فورم پر موجود اہل علم سے سوال ہے کہ اللہ کہاں ہے؟ براہ مہربانی قرآن، حدیث، اور فہم سلف کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
  2. اللہ کہتا ہے کہ تم شعور نہیں رکھتے۔ لیکن یہ لوگ اس پر قیاس کیے بیٹھے ہیں۔
  3. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ھلاک ھونے والوں کو خطاب فرمایا کہ: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو بدر کے کنوؤں میں ایک گندے پلید کنویں میں پھنکوادیا، حضور کاطریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم پر فتحیاب ہوتے تو میدان میں تین دن قیام فرماتے، جب بدرکا تیسرا دن تھا تو سواری مبارک پر کجاوہ کسوایا، پھر چلے، صحابہ نے ہمر کابی کی، اور کہا ہمارا یہی خیال ہے کہ اپنے کسی کام سے تشریف لے جارہے ہیں، یہاں تک کہ کنویں کے سرے پر ٹھہر کران کا اور ان کے آباء کانام لے لے کر اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کہہ کر پکارنے لگے، فرمایا ''کیا اس سے تمھیں خوشی ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم تم نے مانا ہوتا، ہم نے تو حق پایا وہ جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا، کیا تم نے اس کو ثابت پایا جو تمھارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ''۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سوال ۔۔ ( ذرا غور سے پڑھئیے گا انشاء اللہ سب سمجھ آجائے گا) یا رسول اللہ کیف تکلم اجساد الا ارواح فیھا؟ (یا رسول اللہ آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رھے جن میں روح موجود نہیں!) بخاری جلد ۲ صفحہ ۵۶۶ ، مسند احمد جلد صفحہ ۳۵۷ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1176 اسی طرح دوسری روایت میں موجود ھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یارسول اللہ کیف اتنا دیھم بعد ثلاث و ھل یسمعون یقول اللہ عزوجل "اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی" یارسول اللہ آپ ان سے گفتگو فرما رھے ھیں جن کو ھلاک ہوئے تین دن گزر چکے ہیں حالانکہ اللہ رب العزت فرماتے ھیں آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ مسند احمد جلد ۲ صفحہ ۲۸۷ یہ چیزیں معلوم ہوئیں: 1- حضرت عمر رضی اللہ عنہ اعادہ روح،اور جسم میں روح کے حلول و دخول کے قائل نہیں تھے۔ 2-حضرت عمر رضی اللہ عنہ سماع موتٰی کے قائل نھیں تھے۔اگر قائل ہوتے تو کبھی یہ سوال نہ کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں سے کلام کر رہے ہیں ؟؟ 3- "اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی سے سماع موتیٰ کی نفی ھوتی ھے تب ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطور دلیل یہ آیت پیش کی۔ اور اس آیت سے استدلال کیا کہ مردے نہیں سنتے۔ ظاہر ہے اب جس کا عقیدہ یہ ہو کہ مردے سنتے ہیں تو وہ ایسے سوال کیوں پوچھے گا ازراہِ تعجب سے ۔۔ اور کیوں دلیل پیش کرے گا! جبکہ آپ نے دیکھا حضرت عمر نے سوال کے ساتھ دلیل بھی پیش کی "انک لا تسمع الموتٰی "۔۔۔ یہ آیت قرآن میں ہے ۔۔۔ -Surah Roum 52 فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے (١) اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں (٢) جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں۔ تو میرے خیال میں ہم،تم سے ذیادہ قرآن سمجھنے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے یہ آیت پیش کر کے بتا دیا کہ اس آیت سے سماعِ موتٰی کی نفی ہوتی ہے۔اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ تقرری بھی بنتی ہے کہ آپﷺ نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی اور منع نہیں کیا کہ نہیں عمر اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم لے رہے ہو ۔۔ آگے آپ جواب ملاحظہ کریں بات واضح ہو جائے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب: ’’انھم الان یسمعون ما اقول لھم‘‘ بخاری شریف جلد ۲ صفحہ ۵۷۶ جو بات میں ان سے کہ رھا ھوں وہ اس وقت اسکو سن رھے ھیں ایک اور جگہ ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، اب جواب پر غور فرمائیں یہ جواب آگے خود واضح ھو جائے گا صرف یہ مردے (ھر مردہ نھیں ) صرف اس وقت (ھر وقت نہیں) ، صرف میری (ھر ایک کی بھی نہیں) بات سن رھے ھیں حضرت قتادہ تابعی رحمہ اللہ علیہ کا قول نقل کر رھا ھوں۔ قال قتادہ احیا ھم اللہ حتی اسمعھم قولہ تو بیحا و تصغیرا و نقمۃ و حسرۃ و ند ما (بخاری شریف جلد ۲، صفحہ ۲۶۶) حضرت قتادہ تابعی رحمہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ھے کہ اللہ نے کچھ دیر کے لیئے ان مردوں کو زندہ کر دیا تھا کہ نبی کریم صلی علیہ و وسلم کی بات سنا دے، افسوس دلانے اور ندامت کے لئیے ، (گویا یہ نبی کریم صلی علیہ و وسلم کا معجزہ تھا) ما کلامہ علیہ السلام اھل القلیب فقد کانت معجزۃ لہ علیہ السلام بدر کے کنویں میں پڑے ھوئے کفار مردوں سے کلام کرنا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا۔ شرح ھدایہ جلد ۲ صفحہ ۴۸۴ فتح القدیر جلد ۲ صفحہ ۴۴۷ روح المعانی صفحہ ۵۰ مشکوٰۃ ، باب المعجزات صفحہ ۵۴۳ اب جواب دوبارہ پڑھئیے ، غور کیجئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا: صرف یہ مردے (ھر مردہ نھیں ) صرف اس وقت (ھر وقت نہیں) ، صرف میری (ھر ایک کی بھی نہیں) بخاری شریف جلد ۲ صفحہ ۵۶۷ "پس ثابت ہوا کہ بدر کے مردوں سے کلام کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور عموم میں ایسا نہیں ہوتا ۔ یہ معجزہ تھا (خرقِ عادت) اور اس پر ہم عقیدہ قائم نہیں کر سکتے کہ تمام مردے ہر وقت سنتے ہیں ۔ "
  4. قلیب بدر کا واقعہ خاص واقعہ ہے ، جس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مُردے ہر وقت سنتے ہیں اور ہر بات سنتے ہیں۔ اسی طرح یہ واقعہ اس پر بھی دلالت نہیں کرتا کہ دوسرے مُردے بھی سنتے ہیں۔ جن صحابہ نے صراحتاً اس عقیدہ کا اظہار کیا تھا کہ : مُردے کیسے سن سکتے ہیں؟ اُس کی وضاحت حضرت انس کی روایت میں پائی جاتی ہے جسے امام احمد نے بیان کیا ہے : ...... فسمع عمر صوته فقال يا رسول الله أتناديهم بعد ثلاث وهل يسمعون يقول الله عز وجل إنك لا تسمع الموتى فقال والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع منهم ولكنهم لا يستطيعون أن يجيبوا‏.‏‏ جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مُردوں سے ہمکلام ہوتے ہوئے دیکھا تو کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ تین دنوں کے بعد ان کو آواز دے رہے ہیں، کیا یہ سنتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے: إنك لا تسمع الموتى (آپ مُردوں کو سنا نہیں سکتے) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان سے زیادہ تم میری بات کو نہیں سن رہے ہو لیکن یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔ [ شیخ البانی اور شیخ ارناوؤط سے اس حدیث کو صحیح کہا ہے] دیکھ لیجئے کہ اس حدیث میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے صراحت کے ساتھ یہ ذکر کیا کہ ان کے اس سوال کی بنیاد مذکورہ آیت ہے اور اس آیت سے تمام صحابہ نے ایک عام مفہوم مراد لیا ہے جس میں قلیبِ بدر کے مُردے بھی داخل ہیں ، اس لیے انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے دو ٹوک باتیں کیں تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہ جائے! اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ : صحابہ نے آیت کا جو مفہوم مراد لیا تھا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کو صحیح قرار دیا۔ وہ اس طرح کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس مفہوم کا انکار کیا اور نہ ہی ان سے یہ کہا کہ : تم نے آیت کا مفہوم غلط لیا ہے ، یہ آیت تمام مُردوں کو شامل نہیں۔ ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اتنی وضاحت ضرور کر دی کہ ان مُردوں کا معاملہ جداگانہ ہے ، یہ آیت اس سے مستثنیٰ ہے۔ ایک بات کا ذکر کر دینا بہتر ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے آیت سے جو استدلال کیا تھا بعینہ وہی استدلال حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا بھی تھا۔ لہذا حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو آج خطاوار ٹھہرانا صحیح نہیں ہے، خاص طور سے اس وقت جبکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی تائید کی۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے جب اس قصہ کو بیان کیا تو حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے اُن کی تردید کی۔ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) اور دوسرے صحابہ کرام کی روایات کو جمع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہی سے وہم ہوا ہے۔ لیکن ۔۔۔ ان تمام روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جا سکتی ہے کہ آیت سے استدلال کرنے میں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے بلکہ اس قصہ کی حقیقت ان سے پوشیدہ تھی۔ اگر ایسی بات نہ ہوتی تو ان کا موقف بھی وہی ہوتا جو تمام صحابہ کا موقف تھا۔ لہذا صحیح موقف یہی ہے کہ یہ قصہ آیت سے مستثنٰی ہے۔ ایک بات قابلِ توجہ یہ ہے کہ : مسائل کو صحیح طور سے سمجھنے کے لیے ان امور کی رعایت بھی ضروری ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بطورِ اقرار ثابت ہوں۔ ورنہ احادیث کے سمجھنے میں بسا اوقات غلطی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اسی ضمن میں دو مثالیں پیش خدمت ہیں: مثال نمبر:1 حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث ام مبشر (رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ ۔۔۔ انہوں نے حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لا يدخل النار ان شاء الله من اصحاب الشجرة احد ‏.‏ ان شاءاللہ جو لوگ بیعتِ رضوان میں شریک تھے ان میں سے کوئی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا : کیوں نہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُن کو ڈانٹا ، پھر حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے کہا : اللہ نے فرمایا ہے : {‏ وان منكم الا واردها‏} تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا ، اللہ یہ بھی کہتا ہے : ‏{‏ ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا‏}‏ ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میں متقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے آیت سے یہ استدلال کیا تھا کہ : جہنم میں ہر شخص داخل ہوگا خواہ وہ نیک ہو یا بد ، اسی لیے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کہا : بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا ، تو اُن کو اشکال ہوا اور یہ آیت پیش کی۔ لہذا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کا یہ اشکال اس طرح دور کیا کہ ان کو پوری آیت پڑھ کر سنائی۔ لہذا اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے آیت کا جو مفہوم سمجھا تھا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کا انکار نہیں کیا بلکہ ۔۔۔۔ آیت کے اندر اس سے کون لوگ مراد ہیں اور حدیث کے اندر کون ہیں ، اس کی وضاحت کر دی ۔۔۔۔ جس کا خلاصہ یوں ہے کہ : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والوں کو عذاب نہیں ہوگا ، ہاں جہنم سے گزرتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے۔ اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام لوگ جہنم سے گزریں گے ، کچھ لوگ تو اس کے عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے اور کچھ لوگ اس سے محفوظ رہ کر جنت میں چلے جائیں گے۔ مثال نمبر:2 ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس آئے ، اس وقت انصار کی دو لڑکیاں منیٰ کے دنوں میں دف بجا کر انصار کے کے اُن کارناموں کو بیان کر رہی تھیں جو انہوں نے جنگِ بعاث میں انجام دئے تھے، یہ لڑکیاں گانے والی نہیں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنا رُخِ انور دوسری طرف کر کے لیٹ گئے۔ اسی دوران حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) داخل ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے اوپر کپڑا ڈھانکے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ شیطانوں کی بانسری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر میں؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا چہرۂ مبارک کھولا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : ابوبکر ! رہنے دو ، ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، آج ہماری عید کا دن ہے۔ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ذرا ان لڑکیوں کی طرف سے غافل ہوئے تو میں نے اُن کو اشارہ کیا اور وہ واپس چلی گئیں۔ اس حدیث کے اندر آپ دیکھئے گا کہ ۔۔۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی اس بات کا انکار نہیں کیا کہ ۔۔۔ مزمارة الشيطان (گانا بجانا شیطان کا فعل ہے) اور نہ ہی جب ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے ڈانٹا تو اس کو برا سمجھا ، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی دونوں باتوں کو برقرار رکھا ، لہذا معلوم ہوا کہ یہ چیز درست ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن دیکھنے کی مزید بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے یہ بات کیسے کہی کہ : یہ شیطان کا فعل ہے؟؟ ظاہر سی بات ہے کہ انہوں نے اس چیز کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی سے حاصل کیا تھا ، جیسا کہ گانے بجانے کے متعلق بےشمار احادیث موجود ہیں۔ اگر حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو پہلے سے اس کا علم نہ ہوتا اور اس موقف میں وہ حق پر نہ ہوتے تو کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے اس قسم کی جراءت نہ کرتے۔ ہاں حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو یہ نہیں معلوم تھا کہ : عید اور خوشی کے موقع پر اس نوعیت کا گانا بجانا درست ہے جس کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اشارہ کیا۔ لہذا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کا انکار اپنی جگہ مسلم تھا ، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے برقرار رکھا لیکن اس سے یہ مستثنیٰ کر دیا کہ عید کے موقع پر اس نوعیت کا گانا بجانا جائز ہے۔ خلاصہ : چنانچہ معلوم ہوا کہ جس طرح حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے انکار کو برقرار رکھتے ہوئے یہ بیان کیا کہ جس نوعیت کا گانا بجانا یہ لڑکیاں کر رہی تھیں ، عید کے موقع پر اتنا جائز ہے ۔۔۔۔ بالکل اسی طرح ۔۔۔۔ قلیب بدر کی حدیث میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے انکار کو برقرار رکھا اور ایک خاص حکم بیان کیا کہ تمہاری بات صحیح ہے کہ مُردے سنا نہیں کرتے لیکن یہ مُردے اِس وقت سن رہے ہیں !!
  5. نماز میں چارمقامات پررفع الیدین ثابت ہے لیکن بعض حضرات صحیح‌ مسلم کی ایک غیرمتعلق حدیث پیش کرکے عوام کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ اس میں مسنون رفع الیدیں سے منع کردیا گیا ہے: سب سے پہلے صحیح‌ مسلم کی یہ حدیث‌ ملاحظہ ہو: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ» [صحيح مسلم (1/ 322) رقم 430] مذکورہ حدیث کا مسنون رفع الیدین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے کئی دلائل ہیں ۔ پہلی دلیل: اس میں ہاتھ اٹھانے کا موقع ومحل ذکرنہیں ہے۔ یعنی یہ صراحت نہیں ہے کہ اس حدیث میں‌ قبل الرکوع وبعدہ یا بعدالقیام من الرکعتین والے رفع الیدین سے روکا جارہا ہے جبکہ ان مواقع پررفع الیدین صراحتا ثابت ہے، لہٰذا یہ روایت ان مواقع کے علاوہ دیگرمواقع کے لئے ہے اوران مواقع پرہم بھی کسی طرح کا رفع الیدین نہیں‌ کرتے۔ دوسری دلیل: رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کی کیفیت مبہم ہے۔ اورہاتھ اٹھا نا کئی طرح کا ہوتا ہے، مثلا: الف: دعاء کے لئے رفع الیدین یعنی ہاتھ اٹھانا، چنانچہ امام بخاری فرماتے ہیں: وَقَالَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ: «دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ» وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» صحيح البخاري (8/ 74) نیزصحیح بخاری حدیث نمبر4323 کے تحت ایک ایک روایت کا ٹکڑا ہے: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ (صحيح البخاري 5/ 156 رقم 4323 ) ب: سلام کے لئے ہاتھ اٹھانا ، امام طبرانی فرماتے ہیں : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 ) اس حدیث سے معلوم ہوا بوقت سلام ہاتھ اٹھانے پر بھی رفع الیدین کے الفاظ حدیث میں‌ مستعمل ہیں ۔ تیسری دلیل: قران قران کی تفسیر ہے اسی طرح حدیث حدیث‌ کی تفسیرہے ۔ اورصحیح مسلم کی زیربحث راویت کی تشریح درج ذیل روایت سے ہوجاتی ہے کہ اس کا تعلق بوقت سلام والے رفع الیدین سے ہے: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 ) تنبیہ بلیغ: یہی حدیث صحیح مسلم میں اسی سند متن کے ساتھ ہیں لیکن اس میں ’’مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کی جگہ ’’«عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘ کے الفاظ ہیں اورجب ہم زیربحث روایت کی تشریح میں مسلم کی اس دوسری روایت کو پیش کرکے کہتے ہیں کہ دیکھو صحیح مسلم ہی میں اس دوسری حدیث کی تشریح‌ موجود ہے کہ اس سے مراد بوقت سلام والا رفع الیدین ہے ، تو حنفی حضرات چیخنے لگتے ہیں کہ نہیں مسلم کی اس اگلی حدیث میں تو’’«عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘ کے الفاظ ہیں اورپہلی حدیث میں ’’«مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ،‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اسی لئے ہم نے مسلم والی دوسری حدیث کے الفاظ نہ نقل کرکے طبرانی کے الفاظ نقل کئے ہیں جوبعینہ اس سند متن سے ہے جو مسلم میں آگے موجودہے۔ اورطبرانی کی یہ روایت اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ مسلم کی اگلی روایت میں ’’«عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘کے الفاظ اورپہلی روایت میں‌’’«مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ،‘‘ کے الفاظ میں‌کوئی فرق نہیں ہے۔ طبرانی کی اس روایت اورمسلم میں اگلی والی روایت دونوں کی سند یکساں ہے: مسلم کی اگلی والی روایت کی سند یہ ہے: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا۔۔۔۔۔۔۔الخ اورطبرانی والی روایت کی سند یہ ہے: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا ۔۔۔۔۔ چوتھی دلیل : الفاظ حدیث ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘کی دلالت: اس حدیث میں جس رفع الیدین کا ذکرہے اسے سرکش گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دی گئی ہے ، اوریہ مسنون رفع الیدین سے ایک الگ شکل ہے کیونکہ اس صورت میں ہاتھ دائیں بائیں ہلے گا جساکہ درج ذیل حدیث اس کی دلیل ہے: عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 ) اس حدیث‌ میں غورکریں یہاں یہ بات مسلم ہے کہ اس میں بوقت سلام والے رفع الیدین کا تذکرہ ہے ، اورہاتھ کو دائیں بائیں اٹھانے کی بھی صراحت ہے ، اوریہاں اس صورت کو ’’كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کہا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہواکہ ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟‘‘ کی صورت جس رفع الیدین میں پائے جاتی ہے اس کا مسنون رفع الیدین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پانچویں دلیل: یہ ممنوع عمل صرف صحابہ کی طرف منسوب ہواہے۔ مسلم کی زیربحث حدیث میں ’’ «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ‘‘ کے الفاظ پرغور کریں اس میں جس رفع الیدین پرعمل سے روکا گیا ہے اس عمل کو صرف صحابہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا تعلق مسنون رفع الیدین سے نہیں ہے، کیونکہ ایسا ہوتا تویہ عمل صرف صحابہ کی طرف منسوب نہ کیا جاتا اس لئے کہ یہ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی عمل تھا جیسا کہ فریق دوم کو بھی یہ بات تسلیم ہے۔ ایسی صورت میں جمع متکم کا صیغہ استعمال ہونا چاہئے یعنی اس طرح ’’مالنا نرفع ایدینا‘‘ ۔ اورحدیث میں ایسا نہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ ممنوعہ رفع الیدین صرف صحابہ کا اپنا عمل تھا اورمسنون رفع الیدین جس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام سب عمل کرتے تھے اس کا اس حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چھٹی دلیل: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوکنے پرصحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہ دیا: زیربحث مسلم کی حدیث میں جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے رفع الیدین کی وجہ پوچھی تو صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہ دیا ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا تعلق مسنون رفع الیدین سے نہ تھا کیونکہ ایسا ہوتا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی عمل تھا اورایسی صورت میں صحابہ آپ کا حوالہ فورا دیتے کے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو رفع الیدین کرتے ہوئے دیھکا اس لئے ہم نے بھی کیا ، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: «مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ» ، قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا - أَوْ قَالَ: أَذًى - " وَقَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ: فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا "،سنن أبي داود (1/ 175 رقم 650) اس حدیث میں‌ غورکریں کہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھ کر عمل کیا اورجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوکا توفورا‌آپ کا حوالہ دے دیا کہ آپ نے ایسا کیا اس لئے ہم نے بھی ایسا کیا۔ معلوم ہوا کہ اگرزیربحث حدیث میں مسنون رفع الیدین پر صحابہ کرام کو ٹوکا گیا ہوتا تو صحابہ یہاں بھی فورآ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ، اس سے ثابت ہوا کہ اس حدیث‌ میں مسنون رفع الیدین سے نہین روکا گیا ہے۔ ساتویں دلیل: اس عمل کو سرکش گھوڑوں کی دم کی حرکت سے تشبہ دینا: اس حدیث میں ممنوعہ رفع الیدین کوسرکش گھوڑوں کی دم کی حرکت سے تشبہ دی گئی ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کا اس کا تعلق ایسے عمل سے نہیں ہوسکتا جسے آپ نے کبھی بھی انجام دیاہو، اورمسنون رفع الیدین تو آپ کا عمل رہا ہے ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پل کے لئے بھی ایسے عمل کوانجام دے سکتے جس کی اتنی بری مثال ہو؟؟؟ آٹھویں دلیل: محدثین کا اجماع۔ محدثین کا اس بات پراجماع ہے کہ زیربحث روایت میں ممنوعہ رفع الیدین کا تعلق تشہد کے وقت ہے۔ 1: امام نووی نے باب قائم کیا: بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ صحيح مسلم (1/ 322) 2:امام ابوداؤد نے باب قائم کیا: بَابٌ فِي السَّلَامِ سنن أبي داود (1/ 261) 3: امام نسائی نے باب قائم کیا: بَابُ السَّلَامِ بِالْأَيْدِي فِي الصَّلَاةِ سنن النسائي (3/ 4) 4:امام ابونعیم نے باب قائم کیا: بَابُ الْكَرَاهِيَةِ أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فِي الصَّلاةِ المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم (2/ 53) 5: امام ابن حبان نے باب قائم کیا: ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُقْتَضِي لِلَّفْظَةِ الْمُخْتَصَرَةِ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهَا بِأَنَّ الْقَوْمَ إِنَّمَا أُمِرُوا بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ الْإِشَارَةِ بِالتَّسْلِيمِ دُونَ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرُّكُوعِ صحيح ابن حبان (5/ 199) 6:امام ابن ابی شیبہ نے باب قائم کیا: مَنْ كَرِهَ رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ مصنف ابن أبي شيبة (2/ 230) 7: امام ابن حجرنے فرمایا: وَلَا دَلِيلَ فِيهِ عَلَى مَنْعِ الرَّفْعِ عَلَى الْهَيْئَةِ الْمَخْصُوصَةِ فِي الْمَوْضِعِ الْمَخْصُوصِ وَهُوَ الرُّكُوعُ وَالرَّفْعُ مِنْهُ لِأَنَّهُ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَبَيَانُ ذَلِكَ أَنَّ مُسْلِمًا رَوَاهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ التلخيص الحبير ط العلمية (1/ 544) 8: امام نووی نے فرمایا: وَأَمَّا حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فَاحْتِجَاجُهُمْ بِهِ مِنْ أَعْجَبِ الْأَشْيَاءِ وَأَقْبَحِ أَنْوَاعِ الْجَهَالَةِ بِالسُّنَّةِ لِأَنَّ الْحَدِيثَ لَمْ يَرِدْ فِي رَفْعِ الْأَيْدِي في الركوع والرفع منه لكنهم كَانُوا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي حَالَةِ السَّلَامِ مِنْ الصلاة ويشيرون بها الي الجانبين ويريدون بِذَلِكَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَنْ الْجَانِبَيْنِ وَهَذَا لَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَمَنْ لَهُ أَدْنَى اخْتِلَاطٍ بِأَهْلِ الْحَدِيثِ وَيُبَيِّنُهُ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ رَوَاهُ فِي صَحِيحِهِ مِنْ طَرِيقِينَ المجموع شرح المهذب (3/ 403) 9: امام بخاری نے فرمایا: وَأَمَّا احْتِجَاجُ بَعْضِ مَنْ لَا يَعْلَمُ بِحَدِيثِ وَكِيعٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي التَّشَهُّدِ لَا فِي الْقِيَامِ» كَانَ يُسَلِّمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فِي التَّشَهُّدِ , وَلَا يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا مَنْ لَهُ حَظٌّ مِنَ الْعِلْمِ، هَذَا مَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ , وَلَوْ كَانَ كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ لَكَانَ رَفْعُ الْأَيْدِي فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرَةِ , وَأَيْضًا تَكْبِيرَاتُ صَلَاةِ الْعِيدِ مَنْهِيًّا عَنْهَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْتَثْنِ رَفْعًا دُونَ رَفْعٍ قرة العينين برفع اليدين في الصلاة (ص: 31) 10: امام ابن الملقن نے فرمایا: (أما) الحَدِيث الأول، وَهُوَ حَدِيث (جَابر بن) سَمُرَة فجعْله مُعَارضا لما قدمْنَاهُ من أقبح الجهالات لسنة سيدنَا رَسُول الله - صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم -؛ لِأَنَّهُ لم يرد فِي رفع الْأَيْدِي فِي الرُّكُوع وَالرَّفْع مِنْهُ، وَإِنَّمَا كَانُوا يرفعون أَيْديهم فِي حَالَة السَّلَام من الصَّلَاة، ويشيرون بهَا إِلَى (الْجَانِبَيْنِ) يُرِيدُونَ بذلك السَّلَام عَلَى من (عَلَى) الْجَانِبَيْنِ، وَهَذَا لَا (اخْتِلَاف) فِيهِ بَين أهل الحَدِيث وَمن لَهُ أدنَى اخْتِلَاط بأَهْله، البدر المنير (3/ 485) تلک عشرۃ کاملہ۔ مؤخرالذکردونوں‌ حوالوں میں عدم اختلاف یعنی اجماع کی صراحت ہے۔ نویں دلیل: عموم مان لیں تو مسنون رفع الیدین کی استثناء ثابت ہے: جس طرح اس حدیث‌ کے ہوتے ہوئے احناف تکبیرات عیدین میں اوروترمیں اورتکبیرتحریمہ میں دیگردلائل کی بنا پررفع الیدین کرتے ہیں اسی طرح مسنون رفع الیدین کے بھی دلائل موجود ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں: وَلَا يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا مَنْ لَهُ حَظٌّ مِنَ الْعِلْمِ، هَذَا مَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ , وَلَوْ كَانَ كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ لَكَانَ رَفْعُ الْأَيْدِي فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرَةِ , وَأَيْضًا تَكْبِيرَاتُ صَلَاةِ الْعِيدِ مَنْهِيًّا عَنْهَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْتَثْنِ رَفْعًا دُونَ رَفْعٍ قرة العينين برفع اليدين في الصلاة (ص: 31) دسویں دلیل: خود علمائے احناف کا اعتراف: محمود حسن دیوبندی فرماتے ہیں: ’’باقی رہا اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں ، کیونکہ وہ سلام کے بارے میں ہے، کہ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز اشارہ بالید کرتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کومنع فرمادیا (الورد الشذی :ص: 65) محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں: ’’لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اورکمزورہے۔۔۔(درس ترمذی: ج 2ص36)
  6. شائد آپ نے میرا جواب غور سے نہیں پڑھا۔ آپ کی پوسٹس کا ہی جواب دیا ہے تفصیلی۔ تھوڑا دقت کریں پلیز
  7. جزاکم اللہ خیرا استاذ مجاہد اسلام
  8. بالکل صحیح کہا مجاہد اسلام بھائی