abdulwahab

Members
  • Content count

    60
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    8

abdulwahab last won the day on September 17

abdulwahab had the most liked content!

Community Reputation

24 Excellent

About abdulwahab

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

312 profile views
  1. Video:- Ali {R.A} ka Abu Bakar {R.A} ki Bayt karna http://tune.pk/video/4736837/ali-ra-ka-abu-bakar-ra-ki-bayt-karna
  2. حضرت علی رضی اللہ عنہ غالبا وہ واحد ہستی ہیں جن کے بیٹے کا نام بھی عمر تھا، پوتے کا نام بھی عمر تھا، پڑپوتے کا نام بھی عمر تھا، اور پڑپوتے کے بیٹے کا نام بھی عمر تھا۔ اور پڑپوتے کے پوتے کا نام بھی عمر تھا اور پڑپوتے کے پڑپوتے کا نام بھی عمر تھا۔ تفصیل مندرجہ زیل ہے۔ 1۔ بیٹے کا نام عمر عمر الأطرف بن علي رضی اللہ عنہ 2۔ پوتے کا نام عمر عمر بن حسين الشهيد بن علي رضی اللہ عنہ 3۔ پڑپوتے کا نام عمر عمر الأشرف بن علي بن الحسين بن علي رضی اللہ عنہ 4۔ پڑپوتے کے بیٹے کا نام عمر عمر بن جعفر بن محمد بن عمر الأطرف بن علي رضی اللہ عنہ 5۔ پڑپوتے کے پوتے کا نام عمر عمر بن الحسن الأفطس بن علي الأصغر بن علي زين العابدين بن الحسين بن علی رضی اللہ عنہ 6۔ پڑپوتے کے پڑپوتے کا نام عمر عمر بن موسی بن جعفر بن باقر بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ میں نے ایک ہی نام کو کافی سمجھا، ورنہ بعض جگہوں پر دو دو تین تین دفعہ بھی عمر کا نام موجود تھا، لیکن ایک ہی کافی رہے گا۔ آج کل شیعہ غلطی سے بھی اپنے بیٹے کا نام عمر نہیں رکھتے۔ یہ حب علی کے نام پر بغض آل علی رضی اللہ عنہ تو نہیں؟
  3. حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کی قاتلان حسین رضی اللہ عنہ کو بدعا-----[شیعہ کتاب احتجاج طبرسی سے اقتباس] _______________________ واضح رہے کہ اس بدعا کا اثر محرم کے مہینے میں کچھ زیادہ نظر آتا ہے
  4. اس روایت میں ابن اسحاق متفرد ہے، اور جس روایت میں ابن اسحاق متفرد ہو، اس میں نکارت پائی جاتی ہے۔ حدثنا یعقوب قال حدثنا ابی عن ابن اسحاق قال حدثنی یحیی بن عباد بن عبداللہ بن الزبیر عن ابیہ عباد حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی کا وصال میری گردن اور سینے کے درمیان اور میری باری کے دن ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری نو عمری تھی کہ میری گود میں نبی کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔ یہ روایت شاز ہے، محمد بن اسحاق کی شازہ روایات اور متفردانہ مرویات میں سے ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ ایک شخص ایوب بن اسحاق بن سامری نے امام محمد سے محمد بن اسحاق کی اس حدیث کے متعلق سوال کیا جس میں وہ منفرد ہو تو امام احمد نے جواب میں فرمایا کہ نہیں قبول کی جائے گی۔ علامہ زہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں کہ ’’ما انفردا بہ ففیہ نکارۃ‘‘ یعنی اس کی منفردانہ روایات منکر ہوتی ہیں۔ میزان الاعتدال للذہبی ج ۳ ص ۲۴ تحت محمد بن اسحاق علامہ بدرالدین عینی نے شرح بخاری میں امام بیہقی سے نقل کیا ہے کہ جن روایات میں ابن اسحاق منفرد ہو ان کے قبول کرنے سے علماء اجتناب کرتے ہیں۔ نقال البیہقی الحفاظ یتوفون ما ینفرد بہ ابن اسحاق عمدۃ القاری شرح البخاری للعینی ج ۶ ص ۱۷۸
  5. جناب اگر کسی حدیث کی سند صحیح ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا متن بھی ہمیشہ صحیح ہو بلکہ صحیح سند روایت متن کے لحاظ سے شاذ بھی ہو سکتی ہے معلل بھی اور مدرج بھی ۔ مزید بونگیاں مارنے سے پہلے کسی سے کچھ اصول سیکھ لو ۔
  6. جناب اس روایت میں اِدراج پایا گیا ہے ۔ ناراضگی کے الفاظ صرف ابنِ شھاب زہری روایت کر رہے ہیں ۔ اس کو ظنِ راوی یعنی راوی کا گُمان کہا جاتا ہے ۔ تفصیل ملاحضہ کر لیں۔
  7. جناب اگر یہ روایت مرسل ہو تب بھی آپ کے لیئے فائدہ مند نہیں کیوں کہ دیگر کئی آحادیثِ صحیحہ اس کی شاہد ہیں اور الاصابہ کے جو سکین آپ نے لگائے ہیں اس کا جواب علامہ ابنِ حجر ؒ نے الاصابہ میں ہی لکھ دیا ہے آپ میرے دیئے کئے سکین پڑھنے کی زحمت فرمائیں ۔ایک قرآنی دلیل سے۔
  8. چلیں جناب ٹھیک ہے آپ کے نزدیک پوری روایت قابلِ قبول نہیں بلکہ روایت میں صرف اپنی مطلب کی بات قابلِ قبول ہوتی ہے۔اسے یاد رکھیئے گا ،کھبی میرے کام آئے گی۔ اب آتے ہیں روایت کی طرف تو جناب یہ روایت مدرج ہے یعنی اس روایت میں مذکورہالفاظ شدید ( کاذبا ، اثما ، غادرا خائنا ،ظالم فاجر ) بعض راوۃ نے نقل کیئے ہیں ۔ جو قابلِ احتجاج نہیں۔ اکثر مقامات پر یہ الفاظ موجود ہی نہیں ہیں ۔ اور آپ نے جو مطلب اپنے رافضی ذہن سے نکالنا چاہا ہے وہ بھی سراسر غلط ہے ملاحضہ ہو۔
  9. جناب پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ آپ کو یہ پوری روایت قابلِ قبول ہے ؟ اچھی طرح سوچ کر جواب دیجیئے گا
  10. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صلوۃ الوسطی کا مطلب بتانے کیلئے کہا، صلوۃ العصر، یعنی صلوۃ الوسطی سے مراد صلوۃ العصر ہے۔ اس کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے http://anwar-e-islam.org/node/25226#.Um5LRXCl5r1 اب میری طرف سے جواب مکمل ہے آپ تسلی سے ہوائی تیر چھوڑتے رہیں مذید آپ کی طرف سے کوئی ڈھنگ کا جواب آیا تو جواب دوں گا