rehman alvi

Members
  • Content count

    105
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by rehman alvi

  1. مجھ سے ابرا ہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبد اللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبد اللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ کہ تمہارا موقع پر نہپہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقینا ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کرچکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آگئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کر نے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھاہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لئے گئے ‘آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبد الرزاق سے ( نسواتھا کے بجائے لفظ ) ونوساتھا بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) صحیح بخاری کتاب - غزوات کے بیان میں - حدیث نمبر 4108 (جناب معاویہ بن ابی سفیان کی اجتہادی خطا کا رٹہ لگانے والے بے نقاب ہو گئے ) پہلے تو تمام احباب کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اجتہاد کسے کہتے ہیں....؟ جواب....عقائد و فقہہ کی تمام کتب میں متفقہ قول درج ہے کہ اجتہاد ہمیشہ اس مسئلے میں کیا جاتا ہے کہ جس جگہ شریعت محمدی میں اس مسئلے پر کوئی واضع حکمِ شرعی موجود نا ہو....تو وہاں پر اجتہاد لازم آتا ہے اور اجتہاد کرنے والے کو ثواب بھی ملتا ہے چاہے وہ غلطی پر ہی کیوں نا ہو ( چونکے اجتہاد کرنے والا اپنی طرف سے صحیح سمت جانے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اگر انجانے میں وہ غلط سمت ہی کیوں نا جا رہا ہو اس کو اسکا ثواب ملتا ہے کیونکہ اس کی نیت میں فطور تو نہیں ہوتا اس لیے ) مگر سب احباب حیران ہو جائیں گے کہ معاویہ کا خلیفہِ برحق حضرت علی سے جنگوں کا معاملہ اجتہاد کے قریب سے بھی نہیں گزرہ...کیونکہ نبی کریم کے واضع اور متواترہ احکامات موجود ہوتے ہوئے اجتہاد کیسا....؟ بلکہ جناب معاویہ کے حمایتیوں نے معاویہ کا نبی کریم کے احکامات کو نہ ماننے کو اجتہاد کا من گھڑت رنگ دے دیا...(یعنی کہ جناب معاویہ کو نبی کے احکامات نہ ماننے پر ثواب ملا) اب آتے ہیں کہ وہ کون سے سخت احکاماتِ محمدۖ تھے جن کو معاویہ بن ابی سفیان نے نہیں مانا حالانکہ نبی کریم نے معاویہ سمیت سب صحابہ اکرام کو ان احکامات پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا اور نا کرنے والے پر سخت ترین وعیدیں فرمائیں ۔۔ ۔ وہ احکامات کیا تھے آئیے آپ کو بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی ہم ناصبیوں سے سوال بھی کریں گے... ** اہلسنت والجماعت حنفی کا دشمنانِ اہلبیت معاویہ بن ابی سفیان کے ناصبی چیلوں سے سوالات ** نمبر....1....خلیفہ برحق کی اطاعت... نبی کریم نے یہ فرمایا سحاحِ ستہ کی متفق علیہ حدیث حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہِ نبی کريم صلی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خلیفہ کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے خلیفہ کی نا فرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے خدا کی نا فرمانی کی: ( مصنف ابنِ ابی شیبہ، باب کِتَاب السّیِر، حدیث نمبر 33196 ) بتائیے معاویہ کو نبی کریم کے اس فرمان کو جھٹلانے پر اور امام برحق علی علیہ اسلام کی اطاعت نہ کرنے پر کتنا ثواب ملا....؟؟ نمبر.۔۔۔2۔۔۔ نبی کریم نے یہ فرمایا اے علی جس نے تم سے جنگ کی میں بھی اس کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں اور تم سے جنگ کرنے والا ظالم ہے: ترمزی، باب مناقبِ اہلبیت: حدیث نمبر: 3733 المستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5574 الطبرانی فی الصحیح، جلد 5: 101 بتائیے معاویہ بن ابی سفیان کو حضرت علی پاک سے جنگیں کرنے پر کتنا ثواب ملا....؟؟؟ نمبر.... 3....نبی کریم نے یہ فرمایا حضرت امّ سلمیٰ فرماتی ہیں نبی کریم نے فرمایا جس نے علی کو گالی دی اس مجھے گالی دی: ( مسندِ احمد بن حنبل، جلد 4: حدیث نمبر 18485 ) معاویہ کا مسجد کے ممبروں پر شوہر بتول مولا علی کو گالیاں نکالنا اور تبرا بازی کرنا ہم اہلسنت کی کتب سے متواتر سے ثابت ہے:حواجات درج ذیل ہیں : ( مسلم ، باب : کتاب الفضائلِ علی ) ( سننِ ابنِ ماجہ، جلد 1: صفہ 144 ) ( مسندِ امام احمد، جلد 4: صفہ 18480 ) (امام ذہبی، تاریخِ اسلام: جلد 2: صفہ 288 ) بتائیے حضرت علی پاک کو گالیاں نکالنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا.....؟؟ نمبر.... 4.....نبی کریم نے یہ فرمایا اے علی اس شخص کو مبارک ہو جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے اور ہلاکت ہو اس شخص کے لیے جو تجھ سے بغض رکھتا ہے اور تجھے جھٹلاتا ہے:حوالہ جات درج ذیل ہیں ( الحاکم المستدرک، جلد 3 صفہ 145 رقم 4657 ) ابو لیعلٰی فی المسند، جلد 3 صفہ 178 رقم 1602 ) وہاں معاویہ کے بغض کی آخری حد دیکھ لیں معاویہ نے استغفِراللہ حضرت علی کے بغض میں نبی کریم کی ان سنتوں کو ترک کر دیا جو سنتیں حضرت علی اپناتے تھے: (حوالہ : سننِ نسائی، باب عرفہ کے دن مقامِ عرفات: روایت نمبر 3010 ) معاویہ کا بغضِ علی میں نبی کریم کی سنتیں ترک کرنے پر کتنا ثواب ملا.....؟؟؟؟ نمبر.... 5۔....نبی کریم نے حضرت عمار بن یاسر سے فرمایا۔۔ صحيح البخاري - كتاب الجهاد والسير - باب مسح الغبار عن الرأس في سبيل الله۔ ‏2657 - حدثنا : ‏ ‏إبراهيم بن موسى ، أخبرنا : ‏ ‏عبد الوهاب ‏ ، حدثنا : ‏خالد ‏ ‏، عن ‏ ‏عكرمة ‏ ‏أن ‏‏ابن عباس ‏‏قال له ‏‏ولعلي بن عبد الله ‏: ‏ائتيا ‏ ‏أبا سعيد ‏ ‏فاسمعا من حديثه ، فأتيناه وهو وأخوه في ‏ ‏حائط ‏ ‏لهما يسقيانه فلما رآنا جاء فاحتبى وجلس ‏، ‏فقال : كنا ننقل ‏ ‏لبن ‏ ‏المسجد ‏ ‏لبنة ‏ ‏لبنة ‏ ‏وكان ‏ ‏عمار ‏ ‏ينقل ‏ ‏لبنتين ‏ ‏لبنتين ‏ ‏فمر به النبي ‏ (ص) ‏ ‏ومسح ، عن رأسه الغبار ، وقال : ‏‏ويح ‏عمار ‏‏تقتله الفئة ‏ ‏الباغية ‏ ‏عمار ‏ ‏يدعوهم إلى الله ويدعونه إلى النار. ‏ ابو سعید سے نقل کیا ہے کہ: "ہم مسجد کیلئے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، اور عمار دو ، دو اینٹیں اٹھا کر لاتے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے قریب سے گزرے، تو آپ نے عمار کے سر سے مٹی صاف کی، اور فرمایا: "جیتے رہو! عمار تمہیں ایک باغی گروہ شہید کریگا،عمار انہیں اللہ کی طرف بلائے گا، اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلاتے ہونگے" ( بخاری الصحیح، باب:نماز کے احکام و مسائل:حدیث 493 ) ( مسلم الصحیح، باب: مسجد نبوی کی تعمیر:حدیث 115 ) ( مصنفِ ابنِ ابی شیبہ، حدیث نمبر 39030 ) یہ بات متواتر سے ثابت ہے کہ حضرت عمار بن یاسر کو جنگِ صفین میں معاویہ بن ابی سفیان کے گروہ نے شہید کیا::: بتائیے معاویہ کو حضرت عمار کو شہید کرنے پر کتنا ثواب ملا...؟ نمبر...6....نبی کریم نے امام حسن کے بارے میں یہ فرمایا کہ اے حسن تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں جس نے حسن کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی: ( ترمزی، باب الفضائلِ اہلبیت : حدیث 414 ) ( الطبرانی، جلد 1 : حدیث 663 ) ( بیہقی، شعب ا لایمان: جلد 2: حدیث 6889 ) معاویہ کا جعدہ بنت اشعت کے زریعے حضرت حسن کو زہر دے کر شہید کرنا متواتر سے ثابت ہے: (امام حاکم المستدرک، جلد 3: صفہ 173: حدیث نمبر 4815 ) ( امام عبدالبر الا ستیعاب، باب زکرِ حسن: صفہ374) ( البدائیہ والنھائیہ، جلد 7: صفہ 73 ) ( امام ذہبی، کتاب سیر اعلام النبلاء) ( عبدالرحمان الجامی، کتاب شواہد النبوہ) بتائیے حضرت حسن کو شہید کرنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا.....؟؟؟؟ نمبر.....7۔۔۔۔حضور اکرم نے اہلبیتِ رسول ( علی، فاطمہ، حسن، حسین ) سے محبت کرنے کو فرض کرار دیا اور محبت نہ کرنے والوں کو حرامی قرار دیا: ( ابنِ حجر مکی، کتاب صواعق محرقہ : صفہ 88 ) معاویہ کا حضرت حسن کی وفات کو مصیبت نہ سمجھنا اور حضرت حسن کی وفات پر خوشی کا اظہار کرنا اہلسنت کی کتب سے ثابت ہے: ( سننِ ابو داؤد، حدیث نمبر 4119 ) بتائیے معاویہ کا حضرت حسن کی وفات پر خوشی کرنے سے کونسا ثواب ملا....؟؟؟ نمبر..... 8۔۔۔۔نبی کریم نے حضرت علی اور حضرت عمر کو حضرت اویس کرنی سے اپنی امت کی بخشش کے لیے دعا منگوانے کے لیے بھیجا اور کہا اویس اس دنیا میں ولی اللہ ہے: معاویہ نے جنگِ صفین میں حضرت اویس کرنی کو شہید کیا: ( کشف المجوب، باب دہم : آئمہ و تابعین کا زکر: تصانیف) (حضرت سید علی بن عثمان المعروف داتا صاحب لاہور) بتائیے حضرت اویس کرنی کو شہید کرنے پر معاویہ کو کتنا ثواب ملا....؟؟؟ نمبر..... 9... معاویہ کا حضرت ابو بکر صدیق کے بیٹے محمد بن ابی بکر کو شہید کرنا.... حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد حضرت علی نے آپ کی بیوہ حضرت اسماء ابنِ عمیس سے شادی کر لی ۔حضرت محمد بن ابی بکر اس وقت ان کی گود میں چھوٹے بچے تھے۔ اور یوں انہوں نے حضرت علی کے زیرِ سایہ پرورش پائی جب معاویہ کے خلاف جنگوں کا آغاز ہوا تو حضرت محمد بن ابی بکر کو حضرت علی نے مصر کا گورنر مقرر کر دیا۔معاویہ کے حکم پر مصر پر شبِ خون مارا گیا حضرت محمد بن ابی بکر نے معاویہ کی فوجوں کا مقابلہ جوانمردی سے کیا بِالآخر آپ کو شکست ہو گئی اور آپکو گرفتا کر لیا گیا۔ معاویہ کے حکم پر حضرت محمد بن ابو بکر کو حضرت علی کی ہمایت کے جرم میں گدھے کی کھال میں لپیٹ کر ڈنڈوں سے مارا گیا پھر اسی کھال کو آگ لگا دی گئیں اور یوں آپ کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا کیا: جب شہادتِ ابی بکر کی خبر امیر المومنین حضرت علی کو پہنچی تو آپکی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہوگی اور بے اختیار فرمایا آج میرا ایک بازو ٹوٹ گیا...جب حضرت عائشہ صدیقہ کو اس بات کہ خبر پہنچی تو آپ بہت زیادہ روئیں اور اس کے بعد ہر نماز میں معاویہ اور عمرو بن العاص کو بدعا دیتی تھیں : ( امام ابنِ جریر الطبری، کتاب تاریخِ طبری، باب: خلافتِ علی اور محمد بن ابوبکر : صفہ 679) ( تحریخِ کاملِ، جلد 3 ص163 ) ( المسعودی، باب شہادتِ محمد بن ابی بکر ) ( خلافت و ملوکیت، جلد 1 باب شہادتِ ابی بکر ) بتائیے معاویہ کو حضرت ابو بکر کے بیٹے محمد بن ابو بکر کو شہید کرنے پر کتنا ثواب ملا.....؟؟؟ نمبر.....10.....صحابیِ رسول حضرت حجر بن عدی نے نبی کریم کے فرمان کے عین مطابق معاویہ کے گورنروں کو مسجد کے ممبروں پر مولا علی کو گالیاں دینے سے روکا اور کہا کہ نبی کریم نے فرمایا جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اس لیے مولا علی پر تبرا بازی بند کی جائے: تو معاویہ نے حضرت حجر بن عدی اور انکے ساتھیوں نے گرفتار کر لیا اور حضرت حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی گردنوں پر تلوار رکھ کر کہا یا تو تم بھی علی پر لعنت کرو تو تمھیں چھوڑ دیا جائے گا ورنہ تھارے سر کاٹ دیے جائیں گے تو حجر نے کہا میری جان جاتی ہے تو جائے مگر میں علی پر لعنت نہیں کروں گا.... تو معاویہ نے حضرت حجر بن عدی کے حضرت علی پر لعنت نہ کرنے کی پاداش میں آپ اور آپ کے ساتھیوں کے سر کاٹ کر شہید کر دیا گیا : ( امام عبدالبر، کتاب الاستیعاب : جلد 1 صفہ 135 ) ( ابنِ کثیر، کتاب البدائیہ و النھائیہ: جلد 8 صفہ 50 ) ( ابنِ الاثیر، جلد 31 : صفہ 234 ) ارے نادانوں بتاؤ کہ معاویہ کو حضرت حجر اور اس کے ساتھیوں کو شہید کرنے پر کتا ثواب ملا....؟؟؟ نمبر.... 11...امام اعظم ابو حنیفہ کا بیان پیشِ خدمت ہے.. امام ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کے پاس بیٹھے تھے اور شاگردوں سے کہا کہ کیا تمھیں پتہ ہے کہ شامی ( معاویہ کے ہمایتی) ہم سے کیوں بغض رکھتے ہیں...؟؟؟؟ تو شاگردوں نے کہا نہیں پتہ آپ بتائیے...؟؟ تو امام صاحب نے جواب دیا کہ ان شامیوں کو پتہ ہے کہ اگر حضرت علی اور معاویہ کے دور میں اگر ہم ہوتے تو ہم حضرت علی سے مل کر معاویہ سے جنگیں کرتے... ( بصید الطلب فی تاریخ احلب، صفہ 220 ) ( تمہید ابو شکور سالمی، باب خلافت و امارت: صفہ 371) ( الحمد لله ہم اپنے فقہی امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ کے فتوٰی کے مطابق اقرار کرتے ہیں کہ اگر ہم بھی اُس دور میں ہوتے تو حق و باطل کی ان جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ مل کر معاویہ سے جنگیں کرتے ) نمبر....12....معاویہ بن ابی سفیان کی فضیلت میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں ۔ آئمہ ِاہل سنت کی گواہیاں کہ معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں۔ امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب الاللی مصنوعہ فی االحادیث الموضوعہ، ج 1 ص 424 جبکہ امام ابن جوزی اپنی کتاب الموضوعات، ج 2 ص 24 میں درج کرتے ہیں: قال الحاكم سمعت أبا العباس محمد بن یعقوب بن یوسف یقول سمعت أبي یقول سمعت إسحق بن إبراھیم الحنظلي یقول ال یصح في فضل معاویة حدیث امام حاکم نے بیان کیا ہے کہ میں نے ابو العباس محمد بن یعقوب بن یوسف سے سنا کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے اسحاق بن اباہیم الحنظلی ( امام بخاری کے استاد) کو کہتے سنا کہ معاویہ کی فضیلت میں ایک صحیح روایت بھی نہیں ہے۔ لاللی مصنوعہ فی االحادیث الموضوعہ، ج 1 ص 424 الموضوعات، ج 2 ص 24 اہل ِسنت کے عظیم امام قاضی شوکانی اپنی کتاب فواید المجموعہ، ص 147 میں لکھتے ہیں: ابن حبان کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع یعنی شامیوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔ فواید المجموعہ، ص 147 اب پیش ِخدمت ہے امام ذھبی کی کتاب سیراعالم النبالء، ج 3 ص 132 سے امام ِاہل ِسنت : ٰاسحاق بن راھویہ کا فتوی األصم حدثنا أبي سمعت ابن راھویه یقول ال یصح عن النبي صلى ہللا علیه وسلم في فضل معاویة شيء اسحاق بن راھویہ ( امام بخاری کے استاد) کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں رسول اللہ سے ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں۔ اب پیش ِخدمت ہے امام علامہ محمد طاہر الصدیقی الفتنی متوفی 986 ھ کے الفاظ جو آج تک کی مشہور ترین شیعہ مخالف کتاب لکھنے والے امام ابن حجر مکی الھیثمی اور کنزالعمال کے مصنف مال علی متقی الھندی کے شاگرد تھے۔ اپنی کتاب تذکرة الموضوعات، ص 100 پر لکھتے ہیں: ال یصح مرفوعا في فضل معاویة شئ معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں: نواصب کا چہیتہ امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے: وطائفة وضعوا لمعاویة فضائل ورووا أحادیث عن النبي صلى ہللا علیه وسلم في ذلك كلھا كذب لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہ سے احادیث منسوب کر دیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں۔ امام ِ اہل ِسنت امام حاکم نے تو ذور زبردستی کے باوجود اپنی کتاب میں معاویہ کے فضائل کے سلسلے میں ایک باب قائم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ، ج 11 ص 409 میں لکھا ہے: وقال أبوعبدالرحمن السلمي : دخلت على الحاكم وھو مختف من الكرامیة ال یستطیع یخرج منھم ، فقلت له : لو خرجت حدیثا في فضائل معاویة ألسترحت مما أنت فیه ، فقال: الیجئ من قبلي ال یجئ من قبلي ابو عبدالرح ٰمن السلمی نے کہا کہ میں حاکم کے پاس اس وقت گیا جب وہ بنو امیہ سے چھپرہے تھے اور اس وجہ سے اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ معاویہ کی فضیلت میں حدیث گھڑ کر بیان کر دیں تو آپ بنو امیہ کے بادشاہوں کے ظلم و ستم کی صورتحال سے نکل آئینگے۔ حاکم نے جواب دیا، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔ امام ابن حجر عسقالنی نے صحیح بخاری کی شرح کی کتاب فتح الباری، ج 7 ص 104میں لکھا ہے: عبر البخاري في ھذہ الترجمة بقوله ذكر ولم یقل فضیلة وال منقبة لكون الفضیلة ال تؤخذ من حدیث الباب ۔۔۔ وقد صنف ابن أبي عاصم جزءا في مناقبه , وكذلك أبو عمر غالم ثعلب , وأبو بكر النقاش وأورد ابن الجوزي في الموضوعات بعض األحادیث التي ذكروھا ثم ساق عن إسحاق بن راھویه أنه قال لم یصح في فضائل معاویة شيء امام بخاری نے "ذکر معاویہ" کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ "فضائل معاویہ" یا ”مناقب معاویہ“ سے۔ کیونکہ معاویہ کے فضائل میں ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں امام ابن ابی عاصم، امام ابو عمر غالم ثعلب اور امام ابع بکر النقاش اور ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں معاویہ کے مناقب کے متعلق لکھا ہے پھر اس کے بعد ابن جوزی نے اسحاق بن راھویہ کی رائے درج کی ہے کہ معاویہ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں اسی لئے بخاری نےاس میں ”ذکر معاویہ“ کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ ”فضائل معاویہ“ سے۔ امام شیخ اسماعیل بن محمد العجلونی )متوفی 1162 ھ( نے کتاب کشف الخفاء، ج 2 ص 420 میں لکھا ہے: معاویہ کے فضائل میں ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں امام ابو الحسن الکنانی متوفی 963 ھ اپنی کتاب تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7میں لکھتے ہیں: امام حاکم نے ابن جوزی کے طریق سے اسحاق بن راھویہ سے نقل کیا ہے کہ معاویہ کے فضائل میں رسول اللہ سے ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں۔ تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7 امام ابن خلکان نے وفیات االعیان، ج 1 ص 35 میں اہل ِسنت کی چھ معتبر کتابوں میں سے ایک کے مصنف امام نسائی کے حالات میں بیان کرتے ہیں کہ کیسے معاویہ کے ناصبی پیکروکاروں نے انہیں اپنے پیشوا معاویہ کے فضائل میں حدیث بیان کرنے کے انکار پر ان کے نازک اعضاء پر حملہ کر کے پھوڑ ڈاال اور اس طرح انہیں شہید کرڈالا جبکہ وہ کہتے رہے کہ انہیں معاویہ کے متعلق صرف ایک ہی صحیح حدیث کا علم ہے جس میں رسول اللہ نے معاویہ کے شکم پر لعنت کی ہے۔ نمبر.....13۔.... ترمزی شریف والی حدیث جعلی من گھڑت ہے۔ ترمزی کی روایت یہ ہے۔ عبدالرحمن بن ابی عمیرہ روایت کرتا ہے کہ نبی کریم نے معاویہ کے لیے ارشاد فرمایا۔ اے اللہ ، معاویہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت یافتہ بنا، اور اس کے زریعے ہدایت پھیلا، ( ترمزی ) یاد رہے کہ اول تو اس حدیث کو امام ترمزی نے خود غریب کہا اور دوسرا علماءِ اہلسنت نے اس حدیث پر کلام کیا ہے کہ محدثین نے اس روایت کو قابلِ التفاس نہیں سمجھا اور اس کی وجہ عظمتِ نبویؐ تھی کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس انسان کے حق میں نبی کریم علیہ اسلام کی اتنی جامع دعا دی ہو اور وہ اسکے باوجود بھی عقیدہِ نبویؐ و عقیدہِ خلافت راشدین سے ہٹ کر مسجد کے ممبروں پر اعلانیہ خاندانِ نبوت ع کو گالیاں دے، اور سینکڑوں صحابہ و اہلبیت کو شہید کرے، کیا نبی کریم کی دعا کی یہی تاثیر تھی..؟؟ کیا نبی کریم کی دعاِ ہدایت کا مصداق ایسا شخص بھلا کیسے ہو سکتا ہے جو بجائے خلیفہ راشد مولا علی کی بیعت کرنے کے الٹا ان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے ان پر سب و شتم کرے،،، ہر گز نہیں ۔۔۔! ہمارا عقیدہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم دعا فرماء دیں، اس سے عملً تو دور کی بات بلکہ خواب میں بھی ایسی سنگین غلطیاں نہیں ہو سکتیں۔. اور دوسرا اس حدیث کا راوی عبدالرحمن بن ابی عمیرہ شامی ہے اور شامیوں نے اپنے بادشاہ معاویہ کے فضائل میں سینکڑوں حادیث گھڑیں... یاد رہے کہ سحاحِ ستہ کے باقی پانچ اماموں ۔۔امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام نسائی، امام ابنِ ماجہ میں سے کسی نے بھی معاویہ کے فضائل میں ایک حدیث بھی تحریر نہیں کی بلکہ معاویہ کے مخالفت میں سینکڑوں روایت تحریر کیں۔۔۔۔۔۔" خود امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب قرار دیا ہے اور پھر سنن ترمذی کی شرح لکھنے والے عالمہ عبدالرح ٰمن المبارک پوری نے اس حدیث سے متعلق امام ابن عبدالبر کے الفاظ نقل کئے ہیں: قال الحافظ قال ابن عبد البر : ال تصح صحبته وال یصح إسناد حدیثه انتھى . امام ا المحدثین حافظ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ نہ ہی عبدالرحٰمن بن ابی عمیرہ کی صحابیت صحیح ہے اور نہ ہی اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام المتقین امام فخرالدین الرازی نے کتاب موضوع الحدیث، ج 2 ص 362 میں لکھا ہے: عبدالرحمن بن ابی عمیرہ نے یہ حدیث رسول اللہ سے نہیں سنیبلکہ اسنے خود سے گھڑ لی: امام المجددین امام ذھبی نے سیراعالم النبالء، ج 3 ص 126 میں لکھا ہے: اس حدیث کی سند منقطع ہے: امام المفسرین علامہ شبلی نعمانی اپنی مایہ ناز کتاب سیرت النبیؐ ج 1: ص126 پر فرماتے ہیں حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے نوے سالہ دورِ حکومت میں ہوئی ان نوے سالہ دورِ حکومت میں مسجدوں کے منبروں پر آلِ فاطمہ پر لعنت و توھین کی گئی اور جمعہ کے دن مساجدِ جامع میں بر سرِ منبر علی بن ابی طالب پر استغفِراللہ لعنت کی جاتی تھی اور اسی دور میں معاویہ کے فضائل میں شامیوں نے سینکڑوں حدیث گھڑیں: ( واضع رہے اس حدیث کا راوی عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ کا تعلق شامیوں (گروہِ معاویہ) کے اسی گروہ سے تھا جو مولا علی پر تبرابازی کرتے تھے اور اسی وجہ سے علماءِ اہلسنت نے اس راوی پر جراح کی ہے یعنی کہ یہ جھوٹا کزاب شخص تھا ) نمبر...14...معاویہ سے امام حسن کی صلح کی وجوہات : اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بعض ناصبیوں کو معاویہ کے دفاع کے لیے کوئی بات نہیں ملتی تو وہ امام حسن کی معاویہ کے ساتھ صلح کو بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں جس سے امام حسن نے صلح کی اس سے ہماری بھی صلح ہے...جس انسان بچارے کے پاس علم نہیں ہوتا وہ تو ان ناصبیوں کی بد دیانتی کے جھانسے میں آ جاتا ہے مگر یہ ناصبی اہل علم سُنیوں کو گمراہ نہیں کر سکتے.... علمی جواب......معاویہ کے ساتھ جنگوں کے دوران ہی مسجد میں حضرت علی کی شہادت ہو گئی تو لوگوں نے امام حسن کو اپنا خلیفہ نامزد کر لیا مگر ظالم معاویہ کو پھر بھی سکون نہ ملا معاویہ نے لشکرِ جرار تیار کیا اور امام حسن کو پیغام بھیجا یا تو جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ یا خلافت میرے حوالے کرو....واضع رہے نبی کریم نے پہلے سے خلافت راشدہ کی مدت کے بارے میں پیش گوئی فرما رکھی تھی.. فرمانِ نبی کریم وعنِ سفينة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول الخلافة ثلاثون سنة ثم تكون ملكا: اَلسَند اَلصَحیح: ترجمہ :: صحابیِ رسول حضرت سفینہ رضی اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ خلافت کا زمانہ تیس سال کا ہوگا اس کے بعد بدترین بادشاہت آ جائے گی۔ ( مشکوۃ شریف۔ جلد چہارم،فتنوں کا بیان،حدیث 1327) ( سنن ابی داود/ السنة ۹ ( ۴۶۴۶، ۴۶۴۷ ) ( تحفة الأشراف: ۴۴۸۰ ) ( مسند احمد (۵/۲۲۱ ) (صحیح) بخاری، مسلم نے بھی اس روایتِ صحیح کو نقل کیا۔ امام حسن نے معاویہ کو جب خلافت دی تو اس وقت پورے تیس سال ہو چکے تھے اور معاویہ کا زمانہ نبی کریم کی پیش گوہی کے مطابق ظلم و جبر میں آگیا:اور نبی کریم کی پیش گوہی سچ ثابت ہو گئی ۔ معاویہ کی بادشاہت کے بارے میں صحابہ اکرام کا نظریہ حضرت سعید بن جمھان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے کہ مجھے سفینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ: قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَخِلَافَةَ عُمَر وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ ثُمَّ قَالَ لِیی: اُمْسِکُ خِلافَتَ حَسنُ: قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الخِلَافَةَ فِيهِمْ؟ قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ المُلُوكِ، قُلْتُ : فَمُعَاوِيَةُ ؟ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ الْمُلُوكِ: اَلْسَنْد اَلْصَحِیح: مجھ سے سفینہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا حضرت ابی بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت لو پھر کہا حضرت حسن کی خلافت لو کہا پس ہم نے انکو تیس سال پایا سعید نے کہا میں نے سفینہ سے کہا بے بنی امیہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خلافت ہے۔تو سفینہ نے کہا جھوٹ بولتے ہیں بنو الزرقاءِ (خاندانِ معاویہ کی ایک عورت) والے بلکہ وہ تو بادشاہ ہیں بہت بدترین بادشاہ ہیں پھر میں نے کہا اور معاویہ؟ سفینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جواب دیا وہ اسلام کا پہلا بدترین بادشاہ ہے۔ (اس کی سند صحیح ہے) (ترمذی: ابواب الفتن: باب خلافت کے بیان میں) (مسند أبي داؤد الطيالسي: وَسَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رقم ١٢٠٣) تشریح شیخ السلام محمد طاہر القادری اپنے آن لائن فتوٰی میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم کی پیش گوہی کے مطابق خلافتِ راشدہ کی مدت صرف تیس سال تک ہے جو کہ امام حسن علیہ اسلام تک ختم ہو جاتی ہے اور معاویہ اسلام کے پہلے بدترین ببادشاہ ہیں ۔جن کے دورِ ملوکیت میں اہلبیت کی اعلانیہ توھین کی جاتی رہی ۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے اپنی شرح مشکوۃ میں اس روایت کو نقل کرتے ہوئے "ملکا " کے بعد "عضوضا " کا لفظ بھی نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ خلافت کٹ کھنی بادشاہت میں بدل جائے گی، یعنی خلافت کا دور ختم ہو جانے کے بعد بادشاہت کا دور شروع ہو جائے گا اور بادشاہت بھی ایسی کہ لوگ اس کی سختیوں اور ظالمانہ کاروایوں سے امن نہیں پائیں گے۔ نمبر.... 15...کیا معاویہ کاتب ِوحی تھا...؟؟ جب نواصب کو اپنے اصل کے دفاع میں کچھ نہیں ملتا تو پھر وہ یہی راگ الاپنے لگ جاتے ہیں کہ معاویہ کاتب ِوحی تھا اس لئے اسے کچھ نہیں کہنا چاہیئے۔ جواب : :علمائے اہل ِسنت نے معاویہ کا نام کاتب ِوحی کی فہرست میں شمار نہیں کیا، جید علمائے اہل ِسنت نے کاتب ِوحی کے نام یکجا کرتے ہوئے معاویہ کا نام شامل نہیں کیا ، دیکھیئے: 1۔ فتح الباری، ج 2 ص 450 2۔ عمدة القاری، ج 9 ص 307 3۔ ارشاد الساری، ج 9 ص 22 جواب نمبر 2 :معاویہ کاتب ِوحی نہیں بلکہ کاتب ِدستاویزات تھا؟ امام ابن عبد ربہ اپنی کتاب القعد الفرید میں لکھتے ہیں: عل ّي بن أبي طالب كرم ہللا وجھه وكان مع شرفه ونُبله وقَرابته من رسول ہللاّ صلى ہللا علیهوسلم یكتب الوحي ثم أفضت إلیه الخالفة بعد الكتابة وعثمان بن عفان كانا یكتبان الوحي فإن غابا كتب ابن بن كعب وزید بن ثابت فإن لم یَشھد واحد منھما َكتب غی ُرھما. وكان خالد بن ُمغیرة بن ُشعبة سعید بن العاص ومعاویة بن أبي سفیان یكتبان بین یدیه في َحوائجه وكان الوال ُحصین بن نمیر یكتبان ما بین الناس وكانا ینوبان عن خالد و ُمعاویة إذا لم یحضرا: علی بن ابی طالب کرم ہللا وجہ اپنے تمام فضائل اور رسول اللہ سے قرابت داری کے عالوہ کاتب ِوحی بھی تھے جو بعد میں خلیفہ بھی بن گئے۔ عثمان بن عفان کاتب ِوحی تھے۔ علی اور عثمان کی غیر حاضری میں ابن بن کعد اور زید بن ثابت لکھا کرتے تھے اور ان حضرات کے غیر حاضری میں کوئی اور حضرات لکھا کرتے تھے۔جبکہ خالد بن سعید اور معاویہ بن ابی سفیان کو دستاویزات لکھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ مغیرہ بن شعبہ اور الحسین بن نمیر لوگوں کے لئے دستاویزات لکھا کرتے تھے اور یہ دونوں سعید اور معاویہ کی غیر حاضری میں دستاویزات لکھا کرتے تھے۔ اس کے عالوہ امام ابن حجر عسقلانی نے االصابہ، ج 6 ص 121 میں لکھا ہے: وقال المدائني كان زید بن ثابت یكتب الوحي وكان معاویة یكتب للنبي صلى ہللا علیه وسلم فیما بینه وبین العرب مدائنی کے مطابق زید بن ثابت کاتب ِوحی تھے جبکہ معاویہ رسول اللہ کے لئے عربوں کو خطوط لکھا کرتا تھا۔ بالکل اسی طرح امام ذھبی نے تاریخ السالم، ج 4 ص 309 میں لکھا ہے: وذكر المفضل الغالبي : أن زید بن ثابت كان كاتب وحي رسول ہللا صلى ہللا علیه وسلم ، وكان معاویة كاتبه فیما بینه وبین العربمفضل الغالبی نے کہا ہے کہ زید بن ثابت کاتب ِوحی ِرسول ص تھے جبکہ معاویہ رسول اللہ ص کے اور عربوں کے درمیاں خطوط وکتابت کیا کرتا تھا۔ جید آئمہ اہلسنت کے حوالہ جات کے بعد پھر بھی اگر کوئی کاتب وحی کاتب وحی کی رٹ لگائے تو ہمارا سوال ہے کیا کاتب وحی کو نبی کریم نے اہلبیت رسول اور صحابہ اکرام سے مظالم کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔۔۔۔؟ یا پھر کاتبِ وحی شریعت کے احکامات سے مبرا ہوتا ہے....؟؟؟ ایسے بددیانت لوگوں کو امام بوصیری کے فتوٰی سے سبق سیکھنا چاہیے.... ( امام بوصیری کا معاویہ کے بارے میں فتوٰی ) جی ہاں ! یہ وہ ہی امام شرف الدین بوصیری جن کا لکھا ہوا قصیدہ بردہ شریف صدیوں سے مشرق و مغرب میں سب سے ذیادہ پڑھا جانے والا نعتیہ کلام ہے۔ ان سے بڑا سنی کون ہوسکتا ہے ۔امام شرف الدین بوصیری آلِ رسول کی محبت میں رقم دراز ہیں ۔ امام بوصیری فرماتے ہیں ۔ وَعِنْدِي لَكُمْ آلَ النَّبِيِّ مَوَدَّةٌ ** سَلَبْتُمْ بِهَا قَلْبِي وَصَارَ لَهُ عِنْدُ اے آلِ نبی! میرے پاس صرف آپ کی محبت ہے۔ اس محبت کے ذریعے آپ نے میرے قلب کو اسیر کرلیا ہے اور اب وہ آپ کا ہی ہوکر رہ گیا ہے۔ أَتَرْجُوْنَ مِنْ أَبْنَاء هِنْدٍ مَوَدَّةً ** وَقَدْ أَرْضَعَتْهُمْ دَرَّ بِغضَتِها هِنْدُ لوگو کیا تم ہندہ ( زوجہ ابو سفیان ) کے بیٹوں (معاویہ) سے محبت کی امید رکھتے ہو؟ حالاں کہ ہندہ نے انہیں آل نبی ﷺ کی مخالفت اور بغض کا ہی دودھ پلایا ہے۔ وَأَدْعُو سِفَاهًا غَيْرَ آلِكَ سَادَتِي ** وَهَلْ أَنَا إِنْ وُفِّقْتُ إِلَّا لَهُمْ عَبْدُ (یا رسول اللہ!) میں، آپ کی آل پاک - جو کہ میرے سردار ہیں - کے ہر مخالف کو بےعقل کہ کر پکارتا ہوں۔ مجھے اگر اس بات کی توفیق ارزانی کی گئی ہے تو صرف اِس وجہ سے کہ میں ان کا غلام ہوں (اور غلام وہی ہے جو ہمیشہ اپنے مالک و آقا کی وفاداری کا دم بھرے۔ (دیوان البوصیری، ص 116 تا 117۔ مطبعہ مصطفی البابی الحلبی واولادہ بمصر۔ ایڈیشن دوم، طبع 1973ء۔ نمبر... 16۔۔۔آخر میں اللہ تعالی کا فرمان پیش کرتے ہیں جس میں اللہ نے ظالموں کا دفاع کرنے سے منع فرمایا ہے جیسے کہ آج کل لوگ دشمنِ اہلبیت ( معاویہ بن ابی سفیان) کا دفاع کرتے ہیں ایسے ناصبیوں کو اللہ تعالی کے اس فرمان سے ڈرنا چاہیے۔فرمانِ خدا ﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ﴾ [ھود:113-112] ترجمہ:::؛ اور اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے اور مسلمانوں جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف مائل نہ ہونا۔نہیں تو تمہیں بھی دوزخ کی آگ آ لپیٹے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست نہیں ہوں گے پھر تمہیں کوئی مدد بھی نہ ملے گی: تشریح ::؛: اس آیت میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو ظلم کرنے والوں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ نہ رکھنے کا کہا ہے۔ ان آیات مبارکہ میں ہمارے لیے واضع سبق ہے کہ ہم ظالم کو اس کے ظلم کی بنا پر اعلانیہ ظالم کہیں۔ورنہ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ جو ظلم کی ہمایت کرے گا وہ بھی ظالموں میں شمار ہے اور اللہ اس کو بھی دوزخ کی آگ میں پھینکے گا۔ ----------------------------------------------------------------- تمام احباب خدا کو گواہ رکھ کر بتائیں کہ کیا ایسے شخص کے فضائل بیان کرنے چاہیے جس نے صحابہ واہلبیت پر اتنے زیادہ مظالم ڈھائے....؟؟؟؟ کیا ایسے شخص کے فضائل بیان کرنے سے اللہ اور اس کے رسول کو ازیت نہیں ہو گی......؟؟؟ کیا ایسے شخص کے نام کی مسجدیں بنانے سے اللہ خوش ہو گا جس شخص نے انہی مسجدوں کے منبروں پر خاندان رسول کی عزت کو پامال کیا ہو......؟؟؟ آج کے دور میں اگر کوئی معاویہ کے فضائل بیان کرے تو سمجھ جائیں کہ ایسا شخص آلِ نبی اور صحابہ اکرام سے بغض رکھتا ہے معاویہ کے فضائل بیان کر کے وہ اہلبیت سے دشمنی کا دم بھر رہا ہے.... جسے تم اجتہاد بنا کر پیش کر رہے ہو یہ اجتہاد نہیں تھا بلکہ حق و باطل کہ جنگیں تھی....دشمنانِ اہلبیت کے دفاع سے باز آ جاؤ ورنہ تمھارا ٹھکانہ جہنم ہو گا.... شیخ السلام محمد طاہر القادری صاحب نے امام اعظم ابو حنیفہ اور آئمہِ اہلسنت کے عقیدہِ متوترہ کی روح سے فتوٰی دیا کہ معاویہ کے فضائل میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں سب حدیث شامیوں کی گھڑی ہوئی ہیں... شیخ السلام نے مزید فرمایا کہ برصغیر پاک ہند کے اکثر ملاں امام اعظم ابو حنیفہ کے فتوٰی سے پھر چکے ہیں اس لیے میں انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ معاویہ کے فضائل بیان کرنے سے باز آ جاؤ کیوں کہ معاویہ کے فضائل بیان کرنا ناصبیوں کا طرضِ عمل ہے.... 35. ﮐﺘﺎﺏ اﻣﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﻴﺎﻥ ﻣﻴﮟ Verse no : 10 ٭(٤٧٧٣) ﺣﻀﺮﺕ اﺑﻮ ﻫﺮﻳﺮﻩ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺳﮯ ﺭﻭاﻳﺖ ﻫﮯ، ﻧﺒﻲ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:ﺑﻨﻲ اﺳﺮاﺋﻴﻞ ﮐﻲ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﮐﻴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻬﮯ ﺟﺐ اﻳﮏ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﻣﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮا ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ اﺱ ﮐﻲ ﺟﮕﻪ ﻫﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﻴﺮے ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﻲ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﻧﻬﻴﮟ ﻫﮯ ﺑﻠﮑﻪ ﺧﻠﻴﻔﻪ ﻫﻮں ﮔﮯ اﻭﺭ ﺑﻬﺖ ﻫﻮں ﮔﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮں ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﻴﺎ، ﭘﻬﺮ اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻫﻢ ﮐﻮ ﮐﻴﺎ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻴﮟ۔ اۤﭖ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:"ﺟﺲ ﺳﮯ ﭘﻬﻠﮯ ﺑﻴﻌﺖ ﮐﺮ ﻟﻮ اﺳﻲ ﮐﻲ ﺑﻴﻌﺖ ﭘﻮﺭﻱ ﮐﺮﻭ اﻭﺭ اﻥ ﮐﺎ ﺣﻖ اﺩا ﮐﺮﻭ اﻟﻠّٰﻪ ﺗﻌﺎﻟﻲ اﻥ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﻪ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ اﺱ ﻧﮯ اﻥ ﮐﻮﺩﻳﺎ ﻫﮯ۔"٭ ٭(٤٧٧٤) ﻣﺬﮐﻮﺭﻩ ﺑﺎﻻﺣﺪﻳﺚ اﺱ ﺳﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻬﻲ ﻣﺮﻭﻱ ﻫﮯ۔٭ ٭(٤٧٧٥) ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺳﮯ ﺭﻭاﻳﺖ ﻫﮯ، ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ: "ﻣﻴﺮے ﺑﻌﺪ ﺣﻖ ﺗﻠﻔﻲ ﻫﻮ ﮔﻲ اﻭﺭ اﻳﺴﻲ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﻫﻮں ﮔﻲ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺑﺮا ﺟﺎﻧﻮ ﮔﮯ۔" ﺻﺤﺎﺑﻪ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﻴﺎ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ !ﭘﻬﺮ اﻳﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻴﮟ ﺟﻮ ﺭﻫﮯ اﺱ ﮐﻮ اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﮐﻴﺎ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻴﮟ۔اۤﭖ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ: "اﺩا ﮐﺮﻭ اﺱ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻫﮯ (ﻳﻌﻨﻲ اﻃﺎﻋﺖ اﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩاﺭﻱ)اﻭﺭ ﺟﻮ ﺗﻤﻬﺎﺭا ﺣﻖ ﻫﮯ اﺱ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻮ (ﮐﻪ اﻟﻠّٰﻪ اﺱ ﮐﻮﻫﺪاﻳﺖ ﮐﺮے ﻳﺎ اﺱ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﺎﺩﻝ ﺣﺎﮐﻢ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺩے ﺩے۔)٭ ٭(٤٧٧٦) ﻋﺒﺪاﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺭﺏ اﻟﮑﻌﺒﻪ ﺳﮯ ﺭﻭاﻳﺖ ﻫﮯ، ﻣﻴﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﻴﮟ ﮔﻴﺎ ﻭﻫﺎں ﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﻌﺎﺹ ﮐﻌﺒﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻳﻪ ﻣﻴﮟ ﺑﻴﭩﻬﮯ ﺗﻬﮯ اﻭﺭ ﻟﻮگ اﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻤﻊ ﺗﻬﮯ ﻣﻴﮟ ﺑﻬﻲ ﮔﻴﺎ اﻭﺭ ﺑﻴﭩﻬﺎ۔اﻧﻬﻮں ﻧﮯ ﮐﻬﺎ: ﻫﻢ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻪ ﺗﻬﮯ اﻳﮏ ﺳﻔﺮ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ اﻳﮏ ﺟﮕﻪ اﺗﺮے ﮐﻮﺋﻲ اﭘﻨﺎ ڈﻳﺮﻩ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ،ﮐﻮﺋﻲ ﺗﻴﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺎ،ﮐﻮﺋﻲ اﭘﻨﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭں ﻣﻴﮟ ﺗﻬﺎﮐﻪ اﺗﻨﮯ ﻣﻴﮟ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﮐﮯ ﭘﮑﺎﺭﻧﮯ ﻭاﻟﮯ ﻧﮯ اﻭۤاﺯ ﺩﻱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ اﮐﭩﻬﮯ ﻫﻮ ﺟﺎﺅ،ﻫﻢ ﺳﺐ اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻤﻊ ﻫﻮﺋﮯ،اﭖۤ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:"ﻣﺠﻪ ﺳﮯ ﭘﻬﻠﮯ ﮐﻮﺋﻲ ﻧﺒﻲ اﻳﺴﺎ ﻧﻬﻴﮟ ﮔﺰﺭا ﺟﺲ ﭘﺮ ﺿﺮﻭﺭ ي ﻧﻪ ﻫﻮ اﭘﻨﻲ اﻣﺖ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺑﻬﺘﺮ ﺑﺎﺕ اﺱ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻫﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ اﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﺮﻱ ﺑﺎﺕ ﻫﻮ اﺱ ﺳﮯ ڈﺭاﻧﺎ اﻭﺭ ﺗﻤﻬﺎﺭﻱ ﻳﻪ اﻣﺖ اﺱ ﮐﮯ ﭘﻬﻠﮯ ﺣﺼﻪ ﻣﻴﮟ ﺳﻼﻣﺘﻲ ﻫﮯ اﻭﺭ اﺧﻴﺮ ﺣﺼﮯ ﻣﻴﮟ ﺑﻼ ﻫﮯ اﻭﺭ ﻭﻩ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﻫﻴﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﺮﻱ ﻟﮕﻴﮟ ﮔﻲ اﻭﺭ اﻳﺴﮯ ﻓﺘﻨﮯ اﺋۤﻴﮟﮔﮯ ﮐﻪ اﻳﮏ ﻓﺘﻨﻪ ﺩﻭﺳﺮے ﮐﻮ ﻫﻠﮑﺎ اﻭﺭ ﭘﺘﻼ ﮐﺮ ﺩے ﮔﺎ۔(ﻳﻌﻨﻲ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻪ ﭘﻬﻠﮯ ﺳﮯ اﻳﺴﺎ ﺑﮍﻩ ﮐﺮ ﻫﻮﮔﺎ ﮐﻪ ﭘﻬﻠﮯ اﻳۤﺎ ﻓﺘﻨﻪ اﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﭽﻪ ﺣﻘﻴﻘﺖ ﻧﻪ ﺭﮐﻬﮯ ﮔﺎ۔ اﻭﺭ اﻳﮏ ﻓﺘﻨﻪ اﺋۤﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﻬﮯ ﮔﺎ اﺱ ﻣﻴﮟ ﻣﻴﺮﻱ ﺗﺒﺎﻫﻲ ﻫﮯ ﭘﻬﺮ ﻭﻩ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﻫﮯ ﮔﺎ اﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮا اﺋۤﮯ ﮔﺎ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﻬﮯ ﮔﺎ اﺱ ﻣﻴﮟ ﻣﻴﺮﻱ ﺗﺒﺎﻫﻲ ﻫﮯ ﭘﻬﺮ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﻲ ﭼﺎﻫﮯ ﮐﻪ ﺟﻬﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ اﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﻣﻴﮟ ﺟﺎﺋﮯ اﺱ ﮐﻮ ﭼﺎﻫﻴﮯ ﮐﻪ ﻣﺮے اﻟﻠّٰﻪ ﺗﻌﺎﻟﻲ اﻭﺭ ﭘﭽﻬﻠﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﻳﻘﻴﻦ ﺭﮐﻪ ﮐﺮ اﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮںﺳﮯ ﻭﻩ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮے ﺟﻴﺴﺎ ﻭﻩ ﭼﺎﻫﺘﺎ ﻫﻮ ﮐﻪ ﻟﻮگ اﺱ ﺳﮯ ﮐﺮﻳﮟ اﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﻲ اﻣﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﻴﻌﺖ ﮐﺮے اﻭﺭ اﺱ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ﻫﺎﺗﻪ ﺩے ﺩے اﻭﺭ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﻴﺖ ﮐﺮے اﺱ ﮐﻲ ﺗﺎﺑﻌﺪاﺭﻱ ﮐﻲ ﺗﻮ اﺱ ﮐﻲ اﻃﺎﻋﺖ ﮐﺮے اﮔﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﻫﻮ۔ اﺋۤﮯ اﺏ اﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮا اﻣﺎﻡ اﺱ ﺳﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﻮ اﺋۤﮯ ﺗﻮ (اﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻭ اﮔﺮ ﻧﻪ ﻣﺎﻧﮯ ﺑﻐﻴﺮ ﻟﮍاﺋﻲ ﮐﮯ ﺗﻮ)اﺱ ﮐﻲ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﺎﺭﻭ۔"ﻳﻪ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﻴﮟ ﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﻴﺎ اﻭﺭ اﻥ ﺳﮯ ﮐﻬﺎ: ﻣﻴﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺴﻢ ﺩﻳﺘﺎ ﻫﻮں اﻟﻠّٰﻪ ﮐﻲ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻳﻪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠّٰﻪ ﺻﻠّﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠّﻢ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﻫﮯ،اﻧﻬﻮں ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﻮں اﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ اﺷﺎﺭﻩ ﮐﻴﺎ ﻫﺎﺗﻪ ﺳﮯ اﻭﺭ ﮐﻬﺎ: ﻣﻴﺮے ﮐﺎﻧﻮں ﻧﮯ ﺳﻨﺎ اﻭﺭﺩﻝ ﻧﮯ ﻳﺎﺩ ﺭﮐﻬﺎ ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﮐﻬﺎ: ﺗﻤﻬﺎﺭے ﭼﭽﺎ ﮐﮯ ﺑﻴﭩﮯ ﻣﻌﺎﻭﻳﻪ ﻫﻢ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻴﮟ اﻳﮏ ﺩﻭﺳﺮے ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﻧﺎﺣﻖ ﮐﻬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ اﻭﺭ اﭘﻨﻲ ﺟﺎﻧﻮں ﮐﻮ ﺗﺒﺎﻩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ اﻭﺭ اﻟﻠّٰﻪ ﺗﻌﺎﻟﻲ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﻫﮯ:" اے اﻳﻤﺎﻥ ﻭاﻟﻮ!ﻣﺖ ﮐﻬﺎﺅ اﭘﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﻧﺎﺣﻖ ﻣﮕﺮ ﺭاﺿﻲ ﺳﮯ ﺳﻮﺩا ﮔﺮﻱ ﮐﺮ ﮐﮯ اﻭﺭ ﻣﺖ ﻣﺎﺭﻭ اﭘﻨﻲ ﺟﺎﻧﻮں ﮐﻮ ﺑﮯ ﺷﮏ اﻟﻠّٰﻪ ﺗﻌﺎﻟﻲ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﻬﺮﺑﺎﻥ ﻫﮯ۔"ﻳﻪ ﺳﻦ ﮐﺮﻋﺒﺪاﻟﻠّٰﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﻌﺎﺹ ﺗﻬﻮﮌﻱ ﺩﻳﺮ ﺗﮏ ﭼﭗ ﺭﻫﮯ، ﭘﻬﺮ ﮐﻬﺎ: ﻣﻌﺎﻭﻳﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﮐﻲ اﻃﺎﻋﺖ ﮐﺮﻭ اﺱ ﮐﺎﻡ ﻣﻴﮟ ﺟﻮ اﻟﻠّٰﻪ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻮاﻓﻖ ﻫﻮ اﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ اﻟﻠّٰﻪ ﺗﻌﺎﻟﻲٰ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻫﻮ اﺱ ﻣﻴﮟ ﻣﻌﺎﻭﻳﻪ ﮐﺎ ﮐﻬﻨﺎ ﻧﻪ ﻣﺎﻧﻮ۔٭ ٭(٤٧٧٧) ﺗﺮﺟﻤﻪ ﻭﻫﻲ ﻫﮯ ﺟﻮ اﻭﭘﺮ ﮔﺰﺭا۔٭ ٭(٤٧٧٨) ﻣﺬﮐﻮﺭﻩ ﺑﺎﻻ ﺣﺪﻳﺚ اﺱ ﺳﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻬﻲ ﻣﺮﻭﻱ ﻫﮯ۔٭ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حدیث نمبر: 3724 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَخْلُفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ:‏‏‏‏ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْعُوا لِي عَلِيًّا ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ،‏‏‏‏ وَحَسَنًا،‏‏‏‏ وَحُسَيْنًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ. سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب (علی) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علی (رض) سے فرماتے ہوئے سنا ہے (آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی (رض) نے کہا تھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں) ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ١ ؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا : علی کو بلاؤ، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چناچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم اتری۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٦) ، والمغازي ٧٨ (٤٤١٦) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٤/٣٢) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢١) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٧٢) ، و مسند احمد (١/١٧٠، ١٧٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ علی (رض) کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہایت قریب ہونے کی دلیل ہے ، نیز یہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل ہے۔ ٢ ؎ : اس آیت مباہلہ میں جن لوگوں کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اہل مراد لیا گیا ان میں علی (رض) بھی شامل کئے گئے ، ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء (الجمعة : ٤) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3724 Sayyidina Sad ibn Abu Waqas narrated: Mu’awiyah ibn Abu Sufyan ordered Sa’d and asked, “What prevents you from reviling Abu Turab.” He said, “As long as I remember three things that Allah’s Messenger had said I will not speak against him, for, even each of them is dearer to me than red camels. I heard Allah’s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say (this) to Ali while he had left him behind in one of his battles. All said to him, “O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) do you leave me behind with women and children?” He said to him, ‘Does it not please you that you be to me of the rank of Harun to Musa except that there is no prophethood after me.” And I heard him say on the day of Khaybar, “I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him. We all hoped to receive that. But, he sent for Ali and he came. He had pain in his eyes. The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) put his saliva in them and handed over the banner to him. Then Allah gave us victory at his hands and revealed this verse We will summon our sons and your sons, and our women and your women. (3:61) Allah’s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) summoned Ali, Fatimah, Hasan and Husayn and said, “O Allah, these are my family.” [Muslim 2404]
  2. mera sawal k jawab yaha koi nai da sakta kya ??????????
  3. Is K Jawab Chye
  4. mera sawal ya hai k nalain pak ko member e rasool pa rakna sahi hai ya nai
  5. Moosa (a.s.) k zamane ka waqia hai, jab hazrat moosa khuda se baten karne pahaad par jaate the..1 aurat jiski koi aulad nahi thi usne musa se kaha ki a moosa khuda se puchna ki mujhe aulad kab hogi. Musa (a.s.) ne kaha thik hai puchh lunga. Jab wo pahadh par pahunche to unhone allah se pucha ki ya allah woh aurat ne mujhse puchha hai ki use aulad kab hogi.. Ispar allah ne farmaya ki use aulad kabhi nahi hogi, uske naseeb me aulad nahi hai. Musa ne yahi baat akar us aurat se kah di. Us aurat ka dil toot gaya or o dil masos k rahgai... Fir kuch dino k baad us aurat k ghar 1 faqir aaya or khane ke liye kuch rotiyan mangne laga, us aurat ne jakar faqir ko 1 roti de diya. Woh faqir ne dua kiya ki uske yahan aulaad hojaye.. Aur usi saal us aurat k yahan aulad ho gai. Woh bahot khush hui... Jab musa (a.s.) us aurat k ghar k samne se gujare to uske ghar me jashn dekhkar hairan rah gaye. usne us aurat se pucha ki yah jashn kaisa? to us aurat ne kaha ki uske ghar aulad hui hai, aur usne yah v kaha ki a musa tuto bada nabi bane phirta hai ! Tune to kaha tha mere ghar aulad kabhi nahi hogi magar dekh 1 faqir ki dua se mujhe aulad ho gai... Jab musa yah sunte hain to fauran Allah ki bargah me jaate hain aur kahte hai ya Allah yah kya maajra hai..tune to kaha tha k use aulad nahi hogi to kaise ho gai.? Allah is par musa se kahta hai ki a musa pahle tu jaker mere liye 1 halal gost ka tukda le aa fir mein tere swaal ka jawab dunga...Musa a.s. bahot dhondhte hain magar unhe kahin v halal gosht ka tukda nai milta hai akhir me harkar woh allah k paas wapis aa jaate hain or kahte hain ya Allah mujhe koi halal gosht ka tukda nahi mila. to is par Allah kahta hai jakar kisi insaan k gosht ka tukda le aa.! Moosa (a.s) sochte hain ki yah to or mushkil kaam hai..magar Allah ka hukm sunkar nikal padate hain..kafi jagah bhatakte hain magar unhe Insaan k gosht ka tukda bhi nahi milta...phir 1 jungle me pahonchte hain jahan wohi faqir baitha hota hai...jab wo faqir moosa ko dekhta hai to kahta hai kyon Moosa kahan ghoom rahe ho itne pareshan kyon dikh rahe ho...Moosa ali salam kahte hain ki Allah ne kisi insaan k gosht ka tuqda mangaaya hai ab mein kahan se laaun...is par woh fakir kahta hai bas sirf gosht ka tukda mangaya hai, tere pas kuch chhuri_chaku hai kaatne k liye! Musa kahte hain mein to lekar ghoom raha hun kabse! Woh faqir kahta hai laa mujhe de... musa (a.s) se churi lekar woh apne jangh ka 1 tukda gosh nikaal kar moosa ko de deta hai, .aur kahta hai yah gosht ka tukda le jaa...musa bahot khush hote hain aur jaane lagte hain. Ispar faqir unko rokta hai aur kahta hai ki ruko .pata nahi Allah ne kaun se hisse ka tuqda mangaaya hai, mai tujhe har hisse ka 1 tukda de deta hun.. woh apne haath se 1 tukda nikaalta hai, apne kandhe, pith, gaalon se, har jagah se 1_1_ chhota_chhota tukda kaat kar musa ko de deta hai... Musa khushi_khushi Allah ki bargah me aate hain aur kahte hain ya Allah mein Gosh ke tukde le aaya... Allah ne pucha kiske Gosh k tukde hain, Musa ne farmaya falan jangle me 1 faqir tha usi ke jism k tukde hain! To Allah ne farmaya ki a musa tere kahne par usne mere liye apne jism ke tukde tak katkar de diye, to kya mein uske kahne par us aurat ko 1 aulad nahi de sakta?, gosh to tere jism me bhi tha, aur us aurat k liye dua tu bhi to kar sakta tha magar tune nahi ki.. Us faqir ne sache dil se dua ki aur maine use kabool kiya.
  6. Maktab: - Barailvi Maslak k Bohat Baray Aalim Mohammad Ali Naqshbandi Sab k Nazeeq bhe 22 Rajab ko Konday Krna Jaiz Nahi, Wo Likhtay hain: Shiyon ne Ye Tariqa Eesal-e-Sawab k Liye Nahi Bal k Ameer Muawia Rz.A k inteqal ki Khushi Mananay k Liye Ghara hay, 1 Sahabi e Rasool ki Toheen aor in se Barat ki Khatir Esko Waza Kia Gaya, inka Maqsad sirf Ameer Muawia k Khilaf Dil ki Bharas Nikalna hay,Es Liye Ahle Sunnat ko 22 Rajab ko Konday Bharnay se Mukammal ijtenab krna Chahiye (Dushmanan e Ameer Muawia ka ilmi Muhasba Jild 2, Page 504 aor 505 Nashir: Maktaba Noria Lahore)
  7. lakin saeedi bhai Mohammad Ali Naqshbandi Sab bhi tu humara hi Aalim hai na plz is k detal ma jawab da
  8. Kya Ya Baat Sahi Hai Plz Koi Is K Jawab Do
  9. As salaam o Alaikum Kya Hafiz ibne kaseer or muhammad ibn abdul wahhab najdi or Ibn Taymiyyah Ke Aqiad ek Jaise Hi The ? plz is k jawab da or Hafiz ibne kaseer kon tha
  10. ya bayan sun laa is ma apk her sawal k jawab hai http://www.syedmuzaffarshah.net/Speeches/AudioSpeechDisplay.aspx?SpeechID=902&CategoryID=87
  11. daish tanzeem k peechay kon log hy ?????????
  12. arab k logo ko bura nahi bolna chahiye kya q k log akser bolta hai k abar k logo jasa bi hai un ko bura nai bolna chahiye kya asi koi hadees hai plz koi bhai jawab da
  13. jazakallah is k matlb ya bat galat hoi k arabiyo ko bura nai bolna chahiye
  14. Khalil Rana bhai is sawal k jawab da da plz
  15. Imam e azam k qaseeda e nomania apk her sawal k jawab hai or ala hazrat ki book ad daulatul makkiyah par laa is ma quran or hadees sa ala hazrat na huzoor ka ilm e ghaib sabit kiya hai
  16. I Love Ala Hazrat Imam AhmadRaza Subhan Allah Great salaam and nice sharing
  17. Mujhe thik sy nahi pata andazan likh raha hn barae meharbani sahi hadees scan copy mujhe reply kardein. 1) farookht kiya hua mal wapsi lene wala 2) Imandari sy tijarat karne wala 3) munafa (profit) kam kamany wala.
  18. son bella dak apna ek or alim ki video is ma ya kya bol raha hai wo bi boht zimadari k sat is k bi jawab da do kya ahmed ludhianvi ko apna aqeeda bi nai pata kya ????????? https://www.facebook.com/600484586685518/videos/vb.600484586685518/879926675407973/?type=2&theater
  19. son bella tuja or tari puri jamat ko mara challenge hai koi ek book la do ashraf ali thanvi or qasim nanotvi & rashid ahmad gangohi ki jis ma un logo na shia k khilaf koi fatwa diya ho samja rahi bat ap logo ki tu sirf bata hi karna ati hai ap logo bus
  20. konsi machli khana jaiz hai konsi nahi
  21. Salam, Ma Allama Syed Muzaffar Hussain Shah Sahab ka bayan sun raha tha us ma unho ny kaha k nabi pak sallallahu alaihi wasallam 40 saal phly pura quran janty thy plz is hawaly sy mujhe puri detail ho tu ap kisi k pas bata dein or alahazrat ki is topic pr koi book ho tu us ka bhi naam bata dein