Syed Kamran Qadri

Members
  • Content count

    297
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    37

Everything posted by Syed Kamran Qadri

  1. اولا:ایک حکم شرعی کی کیفیت کا بیان ثابت ہو رہا ہے۔ فقیۂ امت ہیں اور مومنوں کی ماں ہیں۔ عملی تعلیم دینے کا ثبوت ہی کافی ہے کہ تھیوری سے پریکٹیکل زیادہ مؤثر اور بلیغ ہوتا ہے۔ وضو نماز کے طریقے لکھے ہیں پھر بھی پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں۔ ہماری عقل ناقص ہے ورنہ اتنے شدید اختلاف کو رفع کرنے کے لیے صرف اپنے محرم کو صرف جُوڑے پر پانی بہا کر دکھانا ضرور فوائد رکھتا ہے۔ موسی علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگنے والے پتھر والی روایت میں بھی ضرور فوائد تھے۔ باقی حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں خالہ بمنزلۂ ماں ہونے کے کپڑے اتارے بغیر انھیں اگر غُسل کا طریقہ بتایا تو کیا ہو گیا؟ ثانیا:رافضیوں کو ان کے کفریہ عقائد پر پکڑا جائے۔ رافضیوں سے اصل اختلاف ان کے کُفریہ عقائد پر ہے۔ امامِ اہلسنت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:بہت دھوکہ ہوتا ہے کہ وہابیہ وغیرہ سے فرعی مسائل پر گفتگو کر بیٹھتے ہیں۔وہابی غیر مقلد قادیانی وغیرہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ اُصول چھوڑ کر فرعی مسائل میں گفتگو ہو،انہیں ہر گز موقع نہ دیا جائے۔ان سے یہی کہا جائے کہ تم اسلام کے دائرے میں آلو،اپنا مسلمان ہونا تو ثابت کرلو پھر فر عی مسائل میں گفتگو کا حق ہوگا ۔ یہ روایت ثابت ہو یا نہ ہو رافضی پھر بھی اپنے کفریات کی بنا پر کافر و مرتد ہی رہیں گے۔ ان سے ان معاملات پر بحث فضول ہے۔ جب کفریات سے توبہ کریں گے تو ان کو یہ باتیں خود ہی سمجھ آ جائیں گی۔ ثالثا:امام سیوطی کا ایک رسالہ بنام عين الاصابة في استدراك عائشة على الصحابة موجود ہے اگر آپ کی مراد وہ ہے تو وہ نیٹ پر موجود ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
  2. بچے کا عقیقہ کس عمر تک ہو سکتا ہے؟ اگر بچہ عقیقے کے وقت اس جگہ حاضر نہ ہو تو کیا عقیقہ ہو جاتا ہے،یا نہیں ؟
  3. یاد رہے بدمذہبوں سے اصل اختلاف ان کی کفریہ عبارات پر ہے نہ کہ ان باتوں پر۔ سیدی اعلیحضرت،امام اہلسنت علیہ الرحمہ ملفوظات شریف میں ارشاد فرماتے ہیں: وہابی غیر مقلد قادیانی وغیرہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ اُصول چھوڑ کر فرعی مسائل میں گفتگو ہو ، انہیں ہرگز موقع نہ دیا جائے۔ان سے یہی کہا جائے کہ تم اسلام کے دائرے میں آلو،اپنا مسلمان ہونا تو ثابت کرلو پھر فر عی مسائل میں گفتگو کا حق ہوگا۔
  4. بدمذہبوں کی عقل کا ماتم کریں۔ ان الفاظ پر غور فرمائیں۔ منقول از فتاوٰی امدادیہ معروف بہ فتاوٰی اشرفیہ جلد چہارم صفحہ ۵۷ و ۵۸