kashmeerkhan

Members
  • Content count

    367
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    24

Everything posted by kashmeerkhan

  1. molvi ke mojodgi lazmi nahe hae.,. gawah 2 mard ya 1 mard+2 ortay hoon. aaqil baaligh aorr ijab o qbool ke time gwahoo ke mojodgi lazim hae. Ye dekh lena ky baligh female ny agr gher-kufw me wali ki consent ke bgher nikah kea tu nahi hoga.
  2. Salam Hazrat Nikaah ki baqi shraaait pori honi chiaey. Aorat apne pori marzi sy apne saray hqooq maaf kar de, tu gunjaesh he jaiz hone ke. BUT keep it in mind that Nikah ka maqsad pori zindgi ka baham mazboot rishta hota he, if non-serious then nikah kro he na.
  3. غیر مقلد اس فتوی پر کیا اعتراض رکھتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنا دعوی ثابت کرے نا اس صورت میں بیوی کیوں حرام ہوجائے گی ؟ غیرمقلدوں کو ذرا بھی حیا نہیں، بات بات پر بیوی حرام کرانے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟۔،۔
  4. سلفی جی اب ادھر نظر نہیں آنے یقینا ۔،،۔،۔،۔
  5. سلفی جی اتنا زیادہ خیانتیں اور وہ بھی ایک پوسٹ میں ۔،۔ کراہت کو حرمت بنانے والی مشین لگتے آپ۔،۔۔ لانہ لا حق للخلق علی اللہ تعالیٰ کی سمجھ آئی یا ایسے ہی لکھ مارا؟؟ اس بےحد گھسے پٹے اعتراض کا جواب فورم پر موجود ہے،۔، مگر سلفیوں کو کچھ اور چاہیے بجائے جواب کے ،۔، عقل مند کو اشارہ کافی ۔،
  6. حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی اﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
  7. 1 امام احمد رضا نے جو تعزیہ جائز کہا، اسمیں اور شیعہ کے تعزیہ میں زمین آسمان کا ڈفرینس ہے۔،۔ ۲ شیعہ کا تعزیہ جائز نہیں تو منہ جدھر مرضی کرو، ناجائز رہنا پھر بھی ۳ وہ ۱۳۹۸ میں بھی انڈیا آیا تھا، پیدائش نو اپریل ۱۳۳۶ اور وفات ۱ٹھارہ فروری ۱۴۰۵ تھی۔،۔ ،۔، اس انفو کا کیا کرنا ہے؟ ۴ مولوی صاحب سے یہ سوال کرنے کا حق آپکو کس نے دیا؟؟۔،۔ ۵ حکم ہر صورت کا الگ ہوتا مگر شیعہ کا تعزیہ منکرات سے خالی نہیں۔،، اور جو فرقہ ضروریات کا منکر ہے، وہ جائز تعزیہ کرلے تو کونسا کارنامہ سرانجام دیا؟۔،۔ ۶ ہم منکرات کے خلاف ہیں۔۔،۔ کوئی کسی عرس میں شادی میں ناجائز کام کرے تو ہم ذمہ دار نہیں،۔،۔، جو غلط ہے وہ غلط رہے گا،۔، نفس تعزیہ شیعہ کوئی اٹل چیز نہیں، مختلف خرافات کا مجموعہ ہے۔،
  8. سبحان اللہ،۔،۔ اب کی بار وہابڑوں کو عطائی غیب پر علم کے اطلاق میں کوئی اعتراض نہیں پلس غیب کی ذاتی عطائی تقسیم بھی کرنے لگے،۔، ایسی بدعقیدہ قوم میں رہنا کیسے گوارہ کرلیتے یہ لوگ۔،۔، اگر کوئی شخص وقت نکالے اور وہابڑوں کے تمام اختلافی مسائل تو نہیں صرف ایک علم غیب کو ہی پڑھنا شروع کرے تو کنفرم ہے کہ بھونڈا سا ملغوبہ بنے گا، یہ لوگ ایک دوسرے کے قطعی عقیدوں کی رو سے کافر قرار پاتے ہیں
  9. اس موقع پر سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے ‘‘وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل’’ الخ[آل عمران: ۱۴۴] والی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ ان سے یہ آیت سن کر (تمام) صحابہ کرام نے یہ آیت پڑھنی شروع کر دی۔(البخاری: ۱۲۴۱ ، ۱۲۴۲)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔ دیکھئے صحیح البخاری (۴۴۵۴) معلوم ہوا کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے دنیا کے بدلے آخرت کو اختیار کر لیا۔ یعنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زندگی اُخروی زندگی ہے جسے بعض علماء برزخی زندگی بھی کہتے ہیں۔ چلو کوئی ایسا بندہ تو آیا جو خود کو قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث کہلوا رہا ہے،۔، مجھے یقین ہے کہ یہ خود کو ’’ومن الناس میں یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‘‘ والی الحدیث کا اہل ثابت کروا کے جائے گا۔،۔ بس اتنا سا بتا دو کہ وفات کا شرعی معنی ہے کیا؟؟ جب محض قرآن و سنت کی اتباع کا دعوی ہے تو غیر معصوم لوگوں کے اقوال مت لانا پلیز تنبیہ: میر محمد کتب خانہ باغ کراچی کے مطبوعہ رسالے‘‘جمال قاسمی’’ میں غلطی سے ‘‘ارواح’’ کی بجائے‘‘ازواج’’ چھپ گیاہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب‘‘تسکین الصدور’’ (ص ۲۱۶)محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی کی کتاب‘‘ندائے حق’’ (ج ۱ص۵۷۲و ص ۶۳۵) یعنی بقولِ رضوی بریلوی ، احمد رضا خان بریلوی کا وفات النبی ﷺ کے بارے میں وہ عقیدہ نہیں جو محمد قاسم نانوتوی کا ہے۔ جب بندے کو پتہ ہی نہ ہو کہ بات کس سے کرنی ہے اور کیا کرنی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔،۔، چلو بیٹھے بٹھائے تفریح کا سامان ہو گیا ہمارے دعوی کی نفی کیسے سمجھ آئی آپکو ان سے؟؟،۔،، قیاس بھی کرنے لگے ہیں اب اہلحدیث اور اب اول من قاس کا سبق بھلا دیا؟۔،۔،۔،۔،۔ پھر آگے وہ یہ فلسفہ لکھتے ہیں کہ یہ زندگی نہ تو ہر لحاظ سے دنیاوی ہے اور نہ ہر لحاظ سے جنتی ہے بلکہ اصحاب کہف کی زندگی سے مشابہ ہے۔(ایضاً ص۱۶۱) حالانکہ اصحابِ کہف دنیاوی زندہ تھے جبکہ نبی کریم ﷺ پر بہ اعتراف حافظ ذہبی وفات آچکی ہے لہذا صحیح یہی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی ہر لحاظ سے جنتی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ حافظ ذہبی بصراحت خود آپ ﷺ کے لئے دنیاوی زندگی کے عقیدے کے مخالف ہیں۔ معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں لیکن آپ کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیا وی نہیں ہے۔ ہم تو حیات دنیوی برزخی اخروی سب مانتے ہیں بلکہ تمام عالمین کے مناسب حیات، تمہارے ان حوالوں سے تو ہمارا پوائنٹ مزید قوی ہوگیا۔،۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ’’اہل حدیث کے دو اصول۔قرآن و حدیث‘‘ والے اب غیر معصوم لوگوں کے اقوال پیش کرنے پر اتر آئے اس کا راوی محمد بن مروان السدی: متروک الحدیث(یعنی سخت مجروح) ہے۔ (کتاب الضعفاء للنسائی: ۵۳۸) اس پر شدید جروح کے لئے دیکھئے امام بخاری کی کتاب الضعفاء (۳۵۰) مع تحقیقی : تحفۃ الاقویاء (ص۱۰۲) و کتب اسماء الرجال۔حافظ ابن القیم نے اس روایت کی ایک اور سند بھی دریافت کر لی ہے۔ ‘‘عبدالرحمن بن احمد الاعرج: حد ثنا الحسن بن الصباح: حد ثنا ابو معاویۃ: حد ثنا الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ’’ الخ(جلاء الافھام ص ۵۴بحوالہ کتاب الصلوۃ علی النبی ﷺ لابی الشیخ الاصبہانی) اس کا راوی عبدالرحمن بن احمد الاعرج غیر موثق (یعنی مجہول الحال) ہے۔ سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں۔(طبقات المدلسین:۵۵؍۲والتلخیصالحبیر ۳؍۴۸ح۱۱۸۱و صحیح ابن حبان، الاحسان طبعہ جدیدہ ۱؍۱۶۱و عام کتب اسماء الرجال) اگر کوئی کہے کہ حافظ ذہبی نے یہ لکھا ہے کہ اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت سماع پر محمول ہے۔(دیکھئے میزان الاعتدال ۲؍۲۲۴)تو عرض ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔ امام احمد نے اعمش کی ابو صالح سے (معنعن) روایت پر جرح کی ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (۲۰۷بتحقیقی) اس مسئلے میں ہمارے شیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کو بھی وہم ہوا تھا۔ صحیح یہی ہے کہ اعمش طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں اور غیر صحیحین میں اُن کی معنعن روایات ، عدمِ تصریح و عدمِ متابعت کی صورت میں ، ضعیف ہیں، لہذا ابو الشیخ والی یہ سند بھی ضعیف و مردود ہے۔ یہ روایت‘‘من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں آیا ہے کہ: ‘‘إن للہ فی الارض ملائکۃ سیاحین یبلغونی من أمتی السلام’’ بے شک زمین میں اللہ ے فرشتے سیر کرتے رہتے ہیں۔ وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔(کتاب فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ للإمام إسماعیل بن إسحاق القاضی: ۲۱ و سندہ صحیح ، والنسائی ۳؍۴۳ح ۱۲۸۳، الثوری صرح بالسماع) اس حدیث کو ابن حبان(موارد:۲۳۹۲)و ابن القیم (جلاء الافہام ص ۶۰) و غیر ہما نےصحیح قرار دیا ہے واقعی یہ بندہ اہل حدیث ہی ہوا۔،۔، عقل چیک کرو اسکی، ایک تو غیرمتعلقہ ٹاپک میں اور دوسرا ایک پورا ایسا فن جسکا قرون ثلثہ میں ثبوت نہیں، سے دلیل پکڑ رہا۔،۔،۔ اہلحدیث کے صرف دو اصول کا سبق بھی یاد نہیں رہا۔،۔،۔ ائمہ کی تقلید کو شرک کہنے والا خود ائمہ کے اقوال کو حجت بنا رہا، کمال ہی کمال ۔،۔،۔ کسی امام نے اگر کسی شخص کو ضعیف یا مجہول کہہ دیا تو وہ لوگ بھی اسے حق ماننے لگ گئے جن کے ہاں قول صحابی تک حجت نہیں۔،۔،۔ الگ سے ٹاپک بناو اہلحدیث جی اسکے لیے، ویسے آپکی قصے کہانیوں ناولوں کی دکان یہاں نہیں چلنے والی سبحان اللہ۔،۔۔ آپ اسے تحقیق کہتے ہیں؟؟؟ تحقیق کا موضوع ہی بتا دو تو مان جائیں۔،۔، ایک بات کہیں جارہی تو دوسری اسکے بالکل اپوزیٹ۔،۔، اقول خلاصۃ التحقیق: اسلامی محفل پر @Ahlehadees صاحب نے تین گھنٹے قبل اپنے ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے ایک پوسٹ کی ہے صرف میں ایسا نہیں کہتا، تمہارا کوئی قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث بھائی بھی اسکی تصدیق کرے گا تمہاری پوسٹ دیکھ کر
  10. جزاک اللہ خیرا،۔۔ حضرت مجدد الف ثانی سرکار رحمہ اللہ پر یہ اعتراض میں نے بھی سنا تھا حال میں ہی، مگر آپ نے ہر پہلو کو واضح انداز سے بتایا وہ بھی مستند فتاوی کی روشنی میں، سارا مسئلہ حل ہو گیا۔، جزاک اللہ خیرا بھئی جان
  11. @Raza Asqalani bhai @Kilk-e-Raza bhai @Kilk e Raza bhaii
  12. Ek najdee (understood jaahil) ka itraaz Imam Alahazrat par kay unho nay ALLAH ki Zaat aor Siffaat kay ilawa kissi cheez kee qasm byaan kee hay, jo kay na jaeiz kaam hay: Ahl_i_Ilm jewaab daen khsoosan Syyidi Saeedi Sahb aor Allaama Khalil Raana Sahb waghaira
  13. قبلہ عسقلانی بھئی، بحث برائے بحث سے بچنے کیلئے مختصر سی بات لکھوں گا۔ نہ کوئی ایڈمن مجھے پروٹیکٹ کررہا اور نہ آپکو لاک، کوئی تکنیکی ایرر وجہ ہوگی۔ میں نے کسی عالم کی محض تقریظ سے استدلال نہیں کیا، بلکہ انہوں (علامہ غلام رسول رضوی شیخ الحدیث) نے خود لکھ دیا کہ انہوں نے بغور کتاب کا مطالعہ کیا اور اسمیں تمام کے تمام حوالہ جات مستند و دلائل قاہرہ ہیں۔ کتاب لکھنے والے (علامہ حافظ احسان الحق صاحب) بھی غیر عالم نہیں ہیں۔مزید دو بار تصحیح بھی ایک عالم (علامہ مختار اشرفی صاحب) نے فرمائی ہے۔،۔ آپ کی یہ بات (کتاب تو مستند نہیں ہو گی لیکن پھر بھی علماء اہل سنت نے اس سے دلیل لی ہو گی) میری دلیل کا جواب ہرگز نہیں (کیونکہ میں نے جن علما کا حوالہ دیا ہے، وہ جواہر خمسہ میں سے محض حوالہ نہیں دے رہے بلکہ اسے مستند و دلائل قاہرہ میں شمار کرتے ہیں)، میں نے جواہر خمسہ کا مستند ہونا سنی عالم کی تحقیق سے دکھایا ہے تو آپ بھی سنی عالم کی تحقیق سے جواہر خمسہ کا غیر مستند ہونا ثابت کریں اور بس۔ پوسٹ سنگل بنانی ہے بھئی
  14. wo topic behs braey behs ko prevent karney ky leay lock kya gea hy AND i think it was an excellent step bcz discussion complete ho gae the AND reader can easily decide what z right r wrong.,. I have given material 4m authentic sunni book+these r not my words.,. so ur post should also b 4m authentic sunni book+not ur own words., No more behs braey behs
  15. wa_alaikom_us_salam May your mother rest in peace and ur family come to a point of patience upon this loss u r welcome on this site, give a read to the article Chaliswan
  16. علامہ سعیدی علیہ الرحمہ کی عبارت میں علم نہ ہونے سے مراد توجہ نہ ہونا ہو سکتا ہے۔،،۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جو اکابر دیوبند کے مرشد ہیں نے لکھا ہے ’’علم کے واسطے توجہ ضروری ہے‘‘ (انوار غیبیہ صفحہ ۲۵)۔،۔،۔ علامہ سعیدی علیہ الرحمہ کی کتاب مقام ولایت و نبوت پڑھیں، وہ لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات کے ہر ذرہ کا علم تفصیلی عطا فرمایا ہے‘‘ (مقام ولایت و نبوت صفحہ ۵۴)۔،۔،۔،۔ تو ثابت ہوا علامہ سعیدی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹھ پیچھے کے علم کا انکار نہیں کیا۔،۔،۔
  17. ما شاء الله رضا بھئی جان. میں بھی یهی سوچ رها تھا که سوا لاکھ بات کے اور مطلب نکل سکتے هیں جن میں قباحت نهیں.
  18. خلط نہ کریں بھئی جان۔ میری بات واضح تھی کہ جب جواہر خمسہ ہی جناب کے نزدیک غیر مستند ہے تو ناد علی کو حضرت غوث سے کیسے ثابت مانتے ہیں؟؟ بھئی جان آپکی ذاتی بات کو ماننا ہم پر لازم نہیں ہے۔،۔ مدعی آپ تھے کہ حضرت غوث نے یہ وظیفہ سیدنا علی علیہ السلام سے منسوب کیا ہے۔ الدلیل علی المدعی کے تحت دلیل بھی آپکے ذمہ تھی، مگر دلیل ندارد۔ تو دعوی بلا دلیل باطل کیا کہنے جناب کی منطق کے۔،۔،۔،۔، لازم آپ پر آتا ہے (کیونکہ مدعی آپ تھے) کہ قرآن مجید سے ثبوت پیش کریں کہ صحف صرف اور صرف عربی میں ہی تھے(چند دعائیں عربی میں آنے سے دیگر زبانوں کی نفی کا اثبات محتاج دلیل ہے، اگرچہ خود انہی دعاوں کا انکے صحف میں آنا محتاج دلیل اور جناب کوئی بھی دلیل پیش نہ کر سکے۔۔،۔،۔ اپنا بوجھ مجھ پر کیوں ڈال رہے ہیں؟؟؟؟؟؟ حیرت ہے کہ ہندوں کا دعاوی پر جناب کو اتنا یقین کیسے ہے، کفار کی باتیں اسلامی امور میں نہیں مانی جائیں گی۔،۔،۔ بلا ثبوت محض دعووں پر ٹکے ہیں بھئی، کوئی حوالہ تو دیں ہمارا کہ ہم نے ایسا کہا کیا ہو؟ جھوٹ مت بولیں بھئی پلیز واہ بھئی واہ، کیا استدلال فرمایا ہے۔،۔،۔ اس فورم پر پوسٹ بنی ہوئی ہونا اور اس پر اعتراض نہ کیا ہوا ہونا اس پوسٹ کے درست ہونے کو لازم کب سے ہوا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جو فوٹو آپ نے لگائی تھی اسی جگہ، وہ شیعہ کا نظریہ تھا، ہمارے سر مت تھونپیں بھئی۔ اسی فوٹو کو دوبارہ اوپر سے نیچے تک ایک بار پورا دیکھ تو لیتے اولیا کرام کا حضرت خضر سے ملاقات ہونا واقع ہے، ہو سکتا ہے کہ جس نے ان سے روایت کیا، وہ انکی ملاقات پر محمول ہو۔ تطبیق کا راہ کھلا ہے۔،۔ روایت چاہے کیسی بھی ہو، نفس وظیفہ کے جواز یا عدم جواز کا اس پر مدار نہیں ہے،۔،۔ مدعی آپ ہیں کہ نفس وظیفہ کا وہی حکم ہے جو سند کا ہے، تو دلیل کہاں ہے اسکی؟؟؟؟؟؟؟ بھئی جان میں نے اوپر اپنی پوسٹنگ میں کہا تھا کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح کو ذہن میں رکھ کر کچھ کلام فرمائیے گا، نزعتک من دیوان الاولیا پر بھی کچھ نہیں کہا آپ نے بھئی باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ ناد علی میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔ آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ
  19. آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said: میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں ۔۔۔، کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟ منسوب کی بابت آپکی بات صرف آپکو سمجھ آئی ہے بھئی جان۔،۔،۔ میں نے شروع میں ہی ایک فتوی کی فوٹو لگائی تھی، اسمیں بھی دیکھ لو کہ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں کہا گیا۔،۔ ہم نے اگر کہیں اسے ان سے ثابت مانا ہے تو پیش کرو، ورنہ وقت ضائع نہ کریں بھئی۔،۔، منسوب ہونے کا کوئی ثبوت آپ پیش نہیں کر سکے، آپکی سمجھ بوجھ ہمارے لیے دلیل نہیں بھائی جان،۔،۔ اگر سند پوری چاہیے تو منسوب ہونے کی بات بھی بلا احتمال ہونی چاہیے ناں۔۔،۔، حضرت غوث کے کلام سے مجرد آپکا مزعومہ مفہوم بلا احتمال نہیں نکلتا،۔، آپ اگر اوپر سکین کی صورت میں ثبوت دے چکے تو وہیں میرا جواب بھی لکھا ہے، دوبارہ پڑھ لیں بھئی جناب من میں مفتی نہیں ہوں، کسی ناحقدار کو مفتی کہنا سمجھ نہیں آیا، ادھر تو سند کی ضرورت بھی نہ پڑی بھئی۔،۔ آپکی دلیل اور دعوی میں ربط پر انگشت بدنداں!!۔۔، کیا دلیل ہے کہ ان پیغمبروں علیھم السلام کی جو دعائیں قرآن پاک میں مذکور ہیں، وہ انہی پیغمبروں علیھم السلام کے صحف میں موجود تھیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا آپ کو کسی بھی ذریعہ سے وہ صحف ملے ہیں کہ انکے مطالعہ سے آپکو انکی زبان کا علم ہوا ہو!!۔،،۔۔ ہم اگر دعوی کرتے کہ ناد علی پڑھنے سے سنت کا ثواب ملتا ہے تو آپکا ایسا فرمانا بجا ہوتا، مگر ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بھئی جان خود سے کچھ سوچ کر ہم پر مت تھونپیں پلیز تشبیہ کا من کل الوجوہ ہونا ہرگز لازم نہیں بھئی جان، من بعض الوجوہ یہاں اثبات کے خلاف اپنی دلیل پیش فرمائیے کیونکہ ایسا دعوی صرف آپکا ہے بھئی جان۔،۔ مستند حوالہ پیش کرنے کا کہا تھا میں نے بھئی صاحب، کسی عالم کا کلام پیش کرسکے آپ اپنے دعوی کے اثبات پر؟؟؟؟ چلیں سند جھوٹ ہوئی ناں۔۔، اس سے اور زیادہ کیا ثابت ہوگیا۔،۔۔ جو بندہ اب اسی سند کو صحیح ثابت کرے تو آپ اسے اپنی یہ بات کہیں،،۔،، ہم نے کب اس جھوٹی سند کو صحیح کہا ہے؟؟؟؟؟؟ بھئی جان آپکو بیسک مس کنسیپشن یہی ہے کہ وظیفہ کی سند کا صحیح ہونا لازم ہے۔۔۔۔،،۔ جب تک شریعت کسی بات (مثلا نفس وظیفہ) سے منع نہ کردے، کسی کی کیا مجال کہ خود سے شرطیں قائم کرے!!۔،۔،۔ مسبعات عشر کے جائز ہونے کیلئے کسی بھی خاص دلیل کی ہرگز ضرورت نہیں تھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ جلیل القدر صوفیا کا وظیفہ یہی رہا ہے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑی دلیل ہے۔،۔، بھئی جان میں نے اوپر اپنی پوسٹنگ میں کہا تھا کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح کو ذہن میں رکھ کر کچھ کلام فرمائیے گا، نزعتک من دیوان الاولیا پر بھی کچھ نہیں کہا آپ نے بھئی باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ ناد علی میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔ آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ
  20. پیارے رضا بھئی جان۔،۔ بحث تو شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ ہم نے نہ پہلے ایسا دعوی کیا تھا اور نہ اب کہ اسکی سند حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔، جس پوسٹ میں میں نے ایسا کہا ہے (کہ سند حضرت علی سے ثابت ہے) تو دکھائیں وہ،۔،۔ جناب آپ نے خود سے سمجھا تھا کہ اسکی سند حضرت علی سے ثابت کا قول کیا گیا ہے، ہمارا دعوی نہ تھا یہ۔،۔ قبلہ عسقلانی بھئی جان۔،، کبھی تو آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں۔۔۔، یہ کیسی بات کر دی جناب من؟؟ کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟ جناب من، اس پر کوئی نص قطعی پیش کریں کہ صحف میں ہندی (اور دیگر زبانوں) میں کوئی کلام نہیں تھا۔ ورنہ سکوت فرمائیں،۔،۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اس پر ’’نصوص صریحہ‘‘ ہیں تو وہ پیش کریں ناں بھئی واہ جناب کیسی بات کرتے ہیں آپ؟؟۔،۔، ایک مسلمان بزرگ کا حوالہ ہے کہ ایک چیز کتاب میں موجود تھی مگر آپ انکی بات بلا دلیل نہیں مانتے اور ساتھ عیسائیوں کا اپنی کتب میں لکھ دینا معتبر سمجھتے ہیں!!!!!،۔،۔،۔، ۔،۔ عیسائیوں کا کسی بات کو اپنی کتاب میں نہ لکھنا یا حوالہ نہ دینا اس بات کے عدم ثبوت کو بس ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟،۔،۔ بھئی جان۔۔،۔ یہ اصول صرف اسی وظیفہ کے وقت کیوں یاد آیا ہے جبکہ ہر وظیفے پر یہی اپلائی ہوتا ہے۔،۔،۔ درود شریف کا ہی باب لیجئے کہ کتنے کتنے موجود ہیں، ان میں سے کتنوں کی سند ثابت ہے۔،۔،۔، اردو عربی انگریزی وغیرہ میں جو نعتیں موجود ہیں، ان پر کیوں نہیں کہتے کہ بہتر ہے نہ پڑھیں بلکہ صحیح یا حسن سند والی ہی پڑھی جائیں۔،۔، جن ملا علی قاری کا حوالہ جناب نے پیش کیا تھا (یہ الگ بات کہ اب تک اس پر میری بات کا جواب نہیں دیا) وہ تو نزھۃ الخاطر الفاتر میں در بارہ نماز غوثیہ تحریر فرماتے ہیں کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح ۔، اب بتائیں جناب کہ ادھر کیا حکم اپلائی فرمائیں گے آپ؟؟۔،۔، رد المحتار میں حضرت احمد بن علوان سے مدد بھی مانگی گئی اور نزعتک من دیوان الاولیا بھی کہا گیا ہے، اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟؟۔،۔،۔ واضح انداز میں حکم بیان کریں کہ آپکے نزدیک ایسے وظائف کا پڑھنا کس وجہ سے اور کیسا ہے یعنی جائز یا نہیں؟؟؟۔،۔۔، بہتر کی بحث الگ ہے، (اور یہاں ہو بھی نہیں رہی بہتر کی بحث)۔،۔،۔ کمال کر دیا آپ نے بھئی!!۔،۔،غوث صاحب کے ایسا لکھ دینے سے حضرت علی سے سند کے اثبات یا انکار کی طرف ذہن عود ہی نہیں کرتا ، آپ تاویل القول بما لا یرضی بہ القائل کیوں کررہے ہیں؟؟۔،۔،۔۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے کہ نعت گو کہے کہ یہ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے!۔،۔ کوئی حمد گو عالم کہے کہ یہ حمد اللہ کی ہے!۔،۔ تمام لوگوں کا ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔۔، بات غوث صاحب کی جواہر خمسہ پر ہو رہی تو وہیں تک رہے بھئی جان تو اس سے کیا ہوگیا؟؟نفس وظیفہ پر حکم دکھائیں،۔۔، اگر ایسا ہوا بھی تو عمل بزرگان بھی بذات خود ایک دلیل ہے اور ملا علی قاری کے الفاظ و قد جرب ذلک ذہن میں رکھ کے جواب دیجئے گا۔،، بھئی باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ اس دعا میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔ آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ
  21. کشمیر بھائی میں صرف دلیل دی ہے کہ اس طرح کے وظائف کی صرف خوابی اسناد ہوتی ہیں اور دلیل کے لیے میں خود جواہر خمسہ ایک سکین پیج دیا ہےاس میں صرف ایک لفظ والی بات نہیں ہے بلکہ اکثر وظائف ہیں ہی ایسے۔ میرے پیارے اور عزیز عسقلانی بھائی۔،۔ اللہ عزوجل آپکو خوش رکھے،۔،۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ حضور غوث صاحب سے ناد علی ثابت ہے اور ان سے آگے انکے شاگردوں و مریدوں کو اسکی اجازت (جیسا فتاوی رضویہ والے فوٹو میں ہے)،۔،۔ اسکی سند خوابی نہیں ہے، آپکی بات صرف ایک لفظ کی کنفیوژن سے ایلیٹڈ تھی۔ آپ سند کے لفظ سے حدیث کی سند مراد مت لیجے گا،۔،۔ ہر چیز کا ایک سا حکم نہیں ہوتا،۔،۔،یہ تو محض ایک وظیفہ ہے، جسکی سند چاہے نہ بھی ہو، پھر بھی اسمیں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی اور مانع نہ ہو،،۔، حیرت ہو رہی بھائی آپ کے دلائل پربھائی میرے اس میں کیا احتمالات ہیں جب یہ بات ثابت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو عربی کلمات کی تعلیم دی اللہ عزوجل نے جو قرآن سے ثابت ہے تو اس میں ہندی کہاں سے آگئی ہے؟؟ ویسے بھی آدم علیہ السلام کے صحف عربی میں تھے اور ان پر وحی بھی عربی میں آئی تھی خود قرآن سے ثابت ہے حضرت آدم علیہ السلام کی دعائیں جو عربی میں ہیں۔ اس لیے کشف سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں تو ہندی زبان کا وجود تک نہیں تھا پھر ہندی کہاں سے آگئی ہے اس میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف تو عربی میں تھے اس میں تو کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں بھائی۔ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو صرف عربی نہیں سکھائی بلکہ ہر زبان سکھا دی ہے جن میں ہندی بھی شامل ہے اور اس وقت بھی ہندی کا وجود تھا (جیسے اور اشیا فرشتوں پر پیش کی گئی تھی)،۔،۔، مانا کہ قرآن پاک میں انکی دعائیں ہیں مگر قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل اپنے نبی کو غیر عربی میں کلمات نہیں سکھا ئے گا؟؟۔،۔، ایسا ممکن تو ہے اور بزرگان دین کی بات کو جتنا ہو سکے، اچھائی کی طرف پھیرا جائے گا جہاں تک ممکن ہو،۔۔،۔، یہ کہنا خود دلیل کا طالب ہے کہ آدم علیہ السلام کے زمانے میں ہندی کا وجود نہ تھا۔ اتنے احتمالات کی جب گنجائش ہے تو آپ کیوں غوث صاحب کی بات کو درستی کی طرف نہیں پھیرتے؟؟،۔،۔ کشمیر بھائی آپ کی باتوں پر تو مجھے حیرت ہو رہی ہے 900ھ میں بھی 4 انجیل تھیں اب بھی 4 ہیں 2 قدیم اور 2 جدید باقی تحریف تو خود حضرت غوث سے پہلے بھی ثابت تھی۔باقی ہم بزرگوں کے ساتھ حسن ظن کے قائل ہیں ان سے خطاء ہو سکتی ہےاس لیے ہم صرف انبیاءعلیہم السلام کو ہی معصوم سمجھتے ہیں۔کسی کتاب کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنا ہی کافی کہ اس میں بنا کسی اسناد اور بنا کسی حوالہ جات کہ بات کو لکھا جاتا ہے اور اس کو پرکھا نہیں جاتا باقی محقق بننے کے لیے بریک بین باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس کے اصل ماخوذ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اس لیے بھی آپ بھی اس بات کو سمجھیں اور سنی علماء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جیسے علامہ شامی نے ردالمحتار میں اپنا منہاج بتایا ہے تحقیق کا۔ جناب من ہم بھی کسی بزرگ کو معصوم نہیں مانتے، مگر انکی باتوں کو حق کی طرف پھیرتے ہیں جتنا ممکن ہو جبکہ کئی احتمالات کی گنجائش بھی ہو،۔،۔ جناب عسقلانی بھئی جان مانا کہ تحریف پہلے سے چل رہی اہل کتاب کے ہاں مگر کیا ایسا ممکن نہیں کہ غوث صاحب کے دور میں انکے زیر نظر انجیل میں ایسا واقعہ موجود ہو؟؟،۔،۔ جب انکی بات کو حسن کی طرف پھیرنے میں کوئی خرابی نہیں تو ہمیں پھیرنا چاہیے اور واقعی ایسا ہی ہے، وہ اپنے ایسا لکھنے میں بالکل حق بجانب ہیں۔،۔، جناب بھئی جان، وظائف وغیرہ فضائل کیلئے نہ کسی خاص اسناد کی ضرورت ہے اور نہ حوالہ کی جب تک شریعت منع نہ کر دے۔۔،۔، ذاتی تجربہ جو ایک صالح متقی دین دار شخص کو کسی وظیفہ سے ملا، اسکو آگے رائج کرنا شرعا جائز ہے اور ایسا ہماری کتب میں واقع ہے کیونکہ شریعت نے منع نہیں کیا۔،۔،۔ جناب واقعی اصل کی طرف رجوع چاہیے ، مگر ساتھ ہی اور حقائق بھی تو نہیں جھٹلائے جا سکتے ایک واقعہ اگر گذر چکا تو اب صالح مسلمان کی شہادت کافی ہوگی، نہ کہ اصل واقعہ کی بذات خود بعینیہ عینی تحقیق۔،۔،۔ نادعلی حضرت غوث سے کیسے ثابت ہے جب کہ حضرت غوث نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا جو کہ اصل میں ثابت نہیں حیرت ہے بھائی آپ پر تو۔جو بات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں پھر اسے ہم نادعلی کیسے کہہ سکتے ہیں یا تو اس کا نام تبدلیل کریں تاکہ اس سے یہ گمان نہ ہو کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ورنہ اکثر اس بات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں۔باقی یہ میرا کوئی ذاتی اصول نہیں ہے یہ خود آئمہ حدیث کا اصول ہے کہ جو بات کسی سے ثابت نہ ہو تو اس کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔ جناب بھئی جان،۔ بات کو طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں عموما،۔۔ آپکو جتنے اعتراض ہیں، نمبر وار ایک پوسٹ میں شائع کردیں۔،۔، یوں ہر پوسٹ میں آپ کوئی نئی بات لے آتے ہیں اور اپنی پچھلی بات کو ایکدم چھوڑ دیتے (اب اس پر مزید کچھ نہیں لکھدینا بھئی،۔،۔)۔ حضرت غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی سے کیسے منسوب کیا ہے؟؟ اسکا حوالہ دیں۔،۔ نام تبدیلی والا مسئلہ بعد میں آئے گا پہلے یہ تو بتائیں کہ غوث صاحب نے کہاں اسے حضرت علی سے منسوب کیا ہے؟ غوث صاحب کے اپنے الفاظ پیش کریں جناب، ہم انتظار کررہے ہیں۔،۔،۔بھئی جان ہم کسی حدیث پر بات نہیں کررہے جو آپ بار بار ائمہ حدیث کا نام لیتے ہیں۔،۔ احادیث کی جانچ پرکھ کے اور اصول ہیں، وظائف کے ویسے نہیں، اس پوائنٹ کو نوٹ کریں،۔ آپ نے لکھا کہ اکثر ناد علی کو حضرت علی سے منسوب کیے ہوئے ہیں، تو ان اکثر کا تھوڑا بتادیں کہ کون کون ہیں وہ؟؟ حضر ت غوث نے خود وظیفہ کیسا مقرر کیا جب کہ خود حضرت غوث نےاس بات کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو کی طرف منسوب کیا ہوا ہے جو کہ ثابت نہیں اس بات کا سکین پیج میں آپ کو اوپر دے چکا ہوں۔پھر سلسلہ بہ سلسلہ اجازت کیسے ثابت ہو گئی ہے بھائی جو اصل بنیاد تھی وہ تو ثابت ہی نہیں جہاں غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا، وہ پوائنٹ آؤٹ فرمائیں بھئی۔،۔ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت سے مراد یہ ہے کہ اپنے مریدین و شاگردوں کو وظائف کی اجازت دی جن میں ناد علی بھی شامل (جیسا کہ فتاوی رضویہ والا فوٹو گواہ)،۔،۔ باقی نہ ہم اسے حدیث کہتے اور نہ حضرت علی سے اسکی سند ثابت کو ہمارا دعوی،۔ اگر اسکے خلاف آپکے پاس کچھ ہے تو لائیں بھئی۔۔ اصل بنیاد ثابت کہ غوث صاحب نے یہ وظیفہ لکھا، شاگروں مریدوں فیض پانے والوں کو بھی دیا اور ان سے آگے یہ چلا۔،۔ بھائی میرے سچ کا سہارا آپ لیں میں نے اس میں کون سی بات ذاتی کی ہے ذرا وہ بتائیں ذرا؟؟؟ پھر تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ حضرت غوث نے جو نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا وہ ہے وہ حقیقت میں ثابت نہیں ؟؟؟ اگر دعویٰ نہیں کیا تو پھر تسلیم کریں کے نادعلی نام کی کوئی دعا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثانت نہیں اور جو حضرت غوت نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے ان سے اس میں خطاء ہو گی ہے باقی ہم بھی حضرت غوث علیہ الرحمہ کے اس بارے میں حسن ظن کے قائل ہیں۔ باقی آپ سے بات کر کے کوئی تحقیقی جواب ملا نہیں صرف الزامی جواب تھے جن کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں۔آپ نے میرا مفت میں ٹائم ضائع کروا دیا بنا کوئی صحیح دلیل کے ساتھ تحقیقی جوابات نہ دینے میں۔ ذاتی باتیں بہت کیں آپ نے مثلا وظیفہ کی سند مکمل ثابت کریں، حضرت علی سے اسکی سند دکھائیں، وغیرہ،۔ منسوب کے حوالے سے اوپر کلام گذرا جو کافی ہے۔،۔ جناب ہم نے کب کہا کہ ناد علی حضرت علی سے ثابت ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ خود سے ذہن میں کچھ سوچ کے ہم پر مت تھونپیں بھئی جان۔،۔ چلیں معذرت اگر آپکا وقت ضائع ہوا۔،، جناب تحقیق تو آپ نے اپنے طور پر کی مگر میرے مین سوالوں کا کوئی جواب ابھی تک نہیں دیا مثلا ناد علی میں کونسے ایسے پوانٹ ہیں جو صرف شیعہ رافضیوں کے عقیدے ہیں؟؟؟ وظیفہ کی مکمل سند ثابت ہونا لازم کس دلیل سے ہے؟؟؟ ناد علی پڑھنے پڑھانے والوں پر کیا حکم شریعت ہے؟ وغیرہ بھائی میرے لگتا ہے آپ نے میری بات کو صحیح طرح سے سمجھا نہیں، میرا اصل مقصد یہ تھا کہ یہ دعا یا وظیفہ جو حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ ثابت نہیں اور اس کو نادعلی کہنا ہی صحیح نہیں کیونکہ یہ بات خود حضرت علی سے ثابت نہیں یا آپ اس کا نام تبدیل کر کے اور نام رکھ لیں تا کہ یہ گمان ہی ختم ہو جائے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ۔کیونکہ آج کل اس وظیفے کو اکثر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں صرف اور صرف نام میں علی ہونے کی وجہ سے۔باقی میرا آپ کے ساتھ کوئی ذاتی اور مذہب اختلاف نہیں جو میں آپ پر کوئی تنقید کروں۔باقی آپ کی مرضی ہے آپ کو چاہیں کریں۔ویسے آپ سے بات کر کے تھوڑا الزامی حوالے سے بات کرنے میں علم میں اضافہ ہوا۔ شکریہ بھائی جان منسوب والا کلام اوپر گذرا، دیکھ لیں۔،۔،۔ ’’ناد علی کہنا صحیح نہیں‘‘ ایک دعوی ہے، اسکی دلیل شریعت سے دیجئے۔،۔ ہم اسے مولائے کائنات کی طرف منسوب کرتے ہی نہیں۔ عجیب بات کی آپ نے کہ اگر اسے ناد علی کہا جائے تو لازم آتا کہ یہ حضرت علی سے ثابت ہو،۔ اگر کوئی شخص نعت رسول کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ نعت بعینہ رسول پاک سے ثابت ہو؟؟؟ اگر کوئی حمد کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ حمد بعینہ اللہ سے ثابت؟؟ اگر کوئی قصیدہ ولی کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ قصیدہ بعینہ ان ولی صاحب سے ثابت؟؟ اگر کوئی نماز غوثیہ کہے تو اس لازم آئے گا کہ حضور غوث اعظم وہی نماز غوثیہ پڑھتے رہے؟؟ اور بھی بہت باتیں دماغ میں آرہی مگر اسی پر اکتفا بھئی جان اللہ عزوجل آپکو اور مجھے جزائے خیر دے
  22. سلام، کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ اسلامی محفل فورم کی پرانی (موجودہ سے فورا پہلے والی) شکل و صورت واپس لائی جا سکے؟ موجودہ صورت بھی ٹھیک ہوگی مگر مجھے پہلے والی چاہیے۔،۔،۔، اگر کوئی راہ ہو تو پلیز بتائیں۔،۔،۔ جزاک اللہ
  23. مقیاس نور https://archive.org/details/MiqiyasENoor.pdf مقیاس نبوت مفت دستیاب نہیں نیٹ پر غالبا