Md shamsi rizvi

Members
  • Content count

    8
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Md shamsi rizvi last won the day on July 31 2015

Md shamsi rizvi had the most liked content!

Community Reputation

2 Neutral

About Md shamsi rizvi

  • Rank
    Newbie
  • Birthday 05/15/1980

Contact Methods

  • Website URL
    http://www.islamimehfil.com/user/16953-md-shamsi-rizvi/

Profile Information

  • Gender
  • Location
    bhagalpur india
  • Interests
    Islamic books

Previous Fields

  • Madhab
  • Sheikh
    hanafi
  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضور اسکا جواب چاہیئے امید کہ ضرور توجہ فرمائںگے "چند سوالات جو جواب چاہتے ہیں " بے خودی میں سجدہ در یا طواف جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا (سیدی اعلی حضرت قدس سرہ) سنگ در جاناں پہ کرتا ہوں جبیں سائی سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ (حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ) اہل علم و دانش اور ارباب فقہ و افتا سے مندرجہ بالا دو اشعار کی تشریح مطلوب ہے. ◀کلام رضا میں بے خودی کا مفہوم کیا ہے؟ اور کسی شخص کے بے خود ہونے کا فیصلہ کس معیار پر کیا جائے گا ؟ بے خودی اگر انسان کی باطنی کیفیت سے عبارت ہے تو کسی تیسرے شخص کو یہ اختیار کیونکر دیا جاسکتا ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ برملا یہ کہہ دے کہ فلاں مکار ہے فلاں مخلص ہے؟ کیا باطنی احوال وکیفیات کا علم اللہ کےسوا کسی کو ہے؟؟ افلا شققت عن قلبہ؟ ◀ 'سجدہ در یا طواف' کی وہ کون سی شکل ہے جب یہ کہنا درست ہو جائے کہ "جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا؟" ◀ سنگ در جاناں پہ جبیں سائی کرنے اور سجدہ کرنے میں کیا فرق ہے، جس کی بنیاد پر دیکھنے والا دونوں میں بآسانی فرق کرسکے؟ اگر کوئی مرید یا شاگرد فرط محبت میں اپنے مرشد کے در پہ جبیں سائی کرنے لگے یا اپنے شیخ کے قدم میں پیشانی رگڑنے لگے تو کیا اسے سجدہ کہہ دیا جائے گا؟ اور کیا اس وقت یہ کہنا روا ہوگا کہ سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ. ◀سجدہ تعظیمی کی حرمت ظنی ہے قطعی؟ اپنے موقف کو دلیل سے واضح کریں ! یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ یہ خلجان ایک طالب علم کے ہیں. لہذا زبان کی شکستگی اور علم کی کمی پر طنز کسنے یا غیر شائستہ لب و لہجہ اپنانے کے بجائے عالمانہ لب و لہجہ میں اس بے مایہ کی تشفی کا ساماں کیا جائے . اللہ اہل حق کا حامی ہو! أبو حسام سید قمر الاسلام کان اللہ لہ copy pasted
  2. اشاعره اور ماتریدیه میں اصول عقیده میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،چند فروعی مسائل میں اختلاف ہے جوکہ مضرنہیں ہے یہ ایسا اختلاف نہیں ہے جس کی بنا پر ان میں سے کوئی فرقہ ناجیہ هونے سے نکل جائے ،لہذا الإمام الأشعري اورالإمام الماتريدي کے مابین بعض جزئی اجتهادی مسائل میں خلاف ہے ، اور علماء امت نے ان مسائل کوبھی جمع کیا ہے ،الإمام تاج الدين السبكي رحمه الله نے ان مسائل کوجمع کیا اور فرمایا کہ یہ کل تیره مسائل هیں ، تفحصت كتب الحنفية فوجدت جميع المسائل التى فوجدت جميع المسائل التى بيننا وبين الحنفية خلاف فيها ثلاث عشرة مسائل منها معنوي ست مسائل والباقي لفظي وتلك الست المعنوية لا تقتضي مخالفتهم لنا ولا مخالفتنا لهم تكفيراً ولا تبديعاً، صرّح بذلك أبو منصور البغدادي وغيره من أئمتنا وأئمتهم ) طبقات الشافعية ج 3 ص 38 ( امام تاج الدین سُبکی شافعی فرماتے هیں کہ میں نے احناف کی کتابوں کا بغور مطالعہ کیا تومیں نے صرف تیره مسائل کوپایا جن میں همارا اختلاف ہے اور ان میں چھ مسائل میں تو محض معنوی ( تعبیرکا ) اختلاف ہے اور باقی (سات ) مسائل میں محض لفظی اختلاف ہے ، اور پھر ان چھ مسائل میں معنوی ( تعبیرکا ) اختلاف کا مطلب هرگزیہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے هم ایک دوسرے کی تکفیر اور تبدیع ( بدعت کا حکم ) کریں ، استاذ أبو منصور البغدادي وغيره نے همارے ائمہ میں اور اسی طرح ائمہ احناف نے بھی یہی تصریح کی ہے ۔ بالکل یہی بات علامہ ملا علی قاری رحمه الله نے بھی کی ہے وقال العلامة على القارى فى المرقات وماوقع من الخلاف بين الماتريدية والأشعرية فى مسائل فهى ترجع الى الفروع فى الحقيقة فانها لفظيات فلم تكن من الإعتقادات المبينة على اليقينيات بل قال بعض المحققين ان الخُلف بيننا فى الكل لفظي اهـ۔ ( ج 1 ص 306 ) اشعریہ وماتریدیہ کے مابین بعض مسائل میں اختلاف حقیقت میں فروعی اختلاف ہے ، اور یہ ظنی مسائل هیں ان اعتقادی مسائل میں سے نہیں هیں جو یقینیات کے اوپرمبنی هیں ، بلکہ بعض محققین نے تویہ کہا ہے کہ اشاعره اور ماتریدیه کے درمیان سب مسائل خلافیہ میں محض لفظی اختلاف ہے ۔ لہذا اشاعره اور ماتریدیه عقائد میں ایک هیں اور هم یہ کہ سکتے هیں کہ اشعری ماتریدی ہے اور ماتریدی اشعری ہے ، کیونکہ ان دونوں جلیل القدر ائمہ نے تو عقائد حقہ کو جمع ونشرکیا ہے اور اصول عقائد ان کے پاس وهی هیں جو صحابہ تابعین وتبع تابعین کے تھے ، بس ان دو اماموں نے تو ان عقائد کی تبلیغ وتشہیر ونصرت وحفاظت وحمایت کی توجیسا کہ صحابہ تابعین وتبع تابعین عقائد تھے وهی اشاعره اور ماتریدیه کےعقائد هیں ، اب وه لوگ کتنے خطرے میں هیں جو احناف اور امام ابوحنیفہ سے ضد وتعصب کی بنا پر اشاعره اور ماتریدیه کے عقائد کوگمراه وغلط کہ دیتے هیں۔ اگر امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں صحیح احادیث کو جمع کرنے کا اهتمام کیا تواب اگر کوئی بے وقوف شخص امام بخاری کے ساتھ عداوت وتعصب کی بنا پر صحیح بخاری کا انکار کرے یا اس کو غلط کہے تو ایسا شخص حقیقت میں احادیث رسول کے انکار کا ارتکاب کر رها ہے ، کیونکہ امام بخاری نے تو صرف احادیث رسول کی حفاظت وصیانت کی اور ان کو اپنی کتاب میں جمع کردیا ، بعینہ یہی حال ہے الإمام الأشعري اورالإمام الماتريدي کا ہےکہ ان دو ائمہ نے صحابہ تابعین وتبع تابعین کے عقائد حقہ کی حفاظت وحمایت کی اور اپنی کتابوں میں اس کو لکھ کر آگے لوگوں تک پہنچا دیا ، اب کوئ جاهل کوڑمغز اشاعره اور ماتریدیه کے عقائد کوگمراه کہے تو اس کی اس بکواس کا پہلا نشانہ کون بنتا ہے ؟؟
  3. ہر بدعت گمراہی ہے۔ قرون ثلاثہ کی قید کی حقیقت جواب نمبر۱: تو اس کا جواب اپنے حکیم الامت سے سماعت کریں آپ کے حکیم الامت صاحب لکھتے ہیں اگر بدعت کے یہ معنی ہیں جو ان حضرات نے سمجھے ہیں کہ جو چیز خیرا القرون میں نہ ہو۔ تو خیر القرون میں ان کا وجود بھی نہ تھا پس یہ مجسم بدعت ہوئے کیا خر ا فات ہے آگے لکھتے ہیں خیرالقرون میں نہ ہونا اب ہونا بدعت کو مستلزم نہیں۔(ملفوظات حکیم الامت ج ۲ ص ۹اا ملفوظ نمبر۱۵۸) تو مجسم بدعت جناب مومن صاحب پہلی بات تو یہ کہ کسی عمل کا خیر القرون میں اس کو بدعت نہیں بناتا۔ ایسے ہی فتاوی دار العلوم زکریا میں مفتی رضا الحق لکھتا ہے مثلا کوئی کہے کہ موجودہ ترتیب کے ساتھ مجالس ذکر اور عمل دعوت آنحضرت اور صحابہ نے نہیں کیا تو یہ بدعت ہے صحیح نہیں۔(ج۱ ص ۵ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ۱۷) پھر فتاوی فریدیہ میں بدعت کی بحث کرتے ہوئے مفتی فرید کہتا ہے جو چیز خیر القرون میں نہ بنفسہ ثابت ہو نہ با اصلہ ثابت ہو تو وہ بدعت سیۂ ہے۔اور جو بنفسہ ثابت نہ ہو۔لیکن با صلہ ثابت ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے۔(فتاوی فریدیہ ج۱ص۲۸۵) پھر دیکھے آپ کے مولوی رشید احمد گنگوہی سے سوال ہوا کہ سوال: کسی مصیبت کے وقت بخا ری شریف کا ختم کرانا قرون ثلاثہ سے ثابت ہے کہ نہیں اور بدعت ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ الجواب: قرون ثلاثہ میں بخاری تالیف نہیں ہوئی تھی مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے ۔اس کی اصل شرع سے ثابت ہے لہذا بدعت نہیں۔(فتاوی رشیدیہ حصہ دوئم ۸۹) ان تمام عبارات سے واضح ہوگیا کہ قرون ثلا ثہ میں کسی چیز کا نہ ہونا بدعت کو ملتزم نہیں ۔اگر کسی چیز کی اصل ثابت ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے جو اصل میں سنت ہی ہے (فتاوی رشیدیہ ج۱ ص۸۸) اب مولوی اشرف علی تھانوی قل بفضل اللہ و برحمتہ۔۔۔الخ کے تحت لکھتا ہے کہ اور خو ب سمجھ لینا چاہیے کہ جب قرآن مجید میں خود حضور کے وجود با وجود کی نسبت ۔۔صیغہ امرفلیفر حو موجود ہے تو اس فر حت کو کون منع کرسکتا ہے غرض حضور کی ولادت شریفہ پر فرحت اور سرور کو کوئی منع نہیں کر سکتا۔(مواعظ میلاد النبی ص۹۵) اسی طرح لکھتا ہے : معلوم ہو ا کہ ولادت پر فرح ،جائز و موجب برکت ہے(۵۰) تو جناب آپ کے رشید صاحب کہتے ہیں کہ ختم بخاری کی شرع ثابت ہے اس لیے بد عت نہیں اوئے عقل کے اندھے جب تیرے اشرف علی کے مطابق جشن میلاد خو د قرآن سے ثابت ہو گیا تو پھر یہ بدعت کیسے
  4. Yazeed Laanti Kyu ??? PART :- 02 Yazeed ki Haqeeqat Hadith Aur Tareekh Ki Roshni Mein..... ثور بن یزید کے(باپ/دادا) جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہ ساتھ تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر کے ہاتھوں قتل ہوئے Thaur bin yazeed ke (baap/dada) jung e safeen me hazrat ameer Muawiya radi Allah anho ke sath thy aur Hazrat Ali radi Allah anho ke lashkar ke hathoon qatal hue... ثور بن یزید حضرت علی رضي اللہ عنہ کے بارے میں نام لیکر کہاکہ: "میں ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جس نے میرے (باپ/دادا) کو قتل کیا۔ (طبقات سعد،ج 7، اور ابن حجر، تقریب التدھیب، راوی نمبر1057،ج 2) Thaur bin yazeed Hazrat Ali radi Allah anho ke baray mein naam le ker kaha ke "Mein aise shakhs se Mohabbat nhe kerta jis ne mere (baap/dada) ko qatal kiya. (Tabqaat Ibn sa'ad vol 7. Ibn e hajar) (Taqrib al,Tahdheeb, Rawi no 1057, vol 2.) Hazrat Ali aur Hazrat Ameer Muawiya Radi Allah anhum ki Ek dosry se jungain hui aur Thaur bin Yazeed Hazrat Ameer Muawiya ke Lashkar me the. To phir jab dushmani ho to Insan kisi ki barrai bhi ker sakta hai dushman ko giranay k liye.. WALLAHU AALAM حضور صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایاکہ "کوئی منافق علی رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت نہیں کرسکتا اور کوئی مؤمن علی رضي اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھ سکتا (جامع ترمذی، 213/4) Hazoor Sallallahu Alaihe Wasallam ka irshaad e Mubarak hai ke: "Koi munafiq Ali Radi Allah Anho se mohabbat Nahi kar sakta aur koi mo'min Ali radi Allah anho se bughaz nhi rakh sakta. (Jamiya Tirimzi 213/4) جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ (محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم ) سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔ یہ حدیث کا آخری حصہ تھا۔ مجمع الزوائد، 109/9 Jis ne Ali se bughaz rakha us ne mujh(Hazoor Sallallahu Alaihe Wasallam) se bughaz rakhha aur jis ne mujh se bughaz rakha us ne Allah se bughaz rakhha Ye hadees ka akhri hissa tha… (Majmuaz'zawaiyd. 109/9) Aisi he hadees Ibn majah, Nisai shareef, Sahih muslim, Abu Dawood mein bayan hoi hai lakin kisi bhi hadees mein pehle lashkar ya us lashkar ki maghfirat ki basharat nhe sunai gai jo qaiser ke sheher per hamla kray ga.... Jab ke aisi he ahadees dosray Raviyoun se sahih bukhari mein bayan ki gai hai us mein bhi kisi basharat ka zikar nhI aya hai.... (Sahih Bukhari, Vol 4, Page 327, Hadees 2894, 2895) In books mein bhi basharat ka koi zikar nhe aya hai Reference available is here: (Sunnan Abu Dawood, Vol 2, Page 295,496,497/Hadees 718.719,720.) (Sunnann Nisa'I, Vol 2, Page 967,969, Hadees 1083,1084) (Sahih Muslim, Vol 3, Page 340,342,343,344/Hadees 437,438,439,440) (Sunnan Ibn Majah Vol 2, Page 728, Hadees 933) CONTINUE.....
  5. Yazeed Laanti Kyu ??? PART :- 01. Yazeed ki Haqeeqat Hadith Aur Tareekh Ki Roshni Mein..... آئیے آج دیکھتے ہیں کہ یزید جنتی ہے یا جہنمی ہے اور کیا اسکو رحیم اللہ کہنا جائز ہے یا نہیں۔ آج احادیث اور تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں AAEYE AAJ DEKHTE HAIN YAZEED JANNATI HAI YA JAHANMI HAI? AUR DEKHTE HAIN KE YAZEED KO REHMATULLAH KEHNA JAIZ HAI YA NA'JAIZ HAI? SAB SE PEHLE WO HADEES DEKHTE HAIN JIS MEIN LASHKAR KA ZIKAR AYA HAI. SAB PARHAIN TA KE PATA CHALE KE ZAKIR NAIK KAISE HADEES KO GHALAT TAREEKAY SE BAYAN KAR RAHA HAI..... سب سے پہلے وہ حدیث دیکھتے ہیں جس میں سب سے پہلے لشکر کا ذکر آیا ہے۔ نیچے حدیث کی ہے پڑھیں تاکہ آپکو پتہ چلے کے زاکر نائیک کیسے اللہ کے نبی پر جھوٹ باندھ رہا ہے۔ "Meri Umat Ka Phela Laskr Jo Qaiser Ke Shaher Mein Jung Kare Ga Un Ke Liye Magfirat Hai" Hadees. Humse Is'haaq bin Yazeed Damishqi ne bayan kiya, kaha hamse yahya bin hamza ne bayan kiya, kaha ke mujh se "THAUR BIN YAZEED" ne bayan kiya, Un se Khalid bin mah'dan ne aur un se Umair bin Aswad Ansi ne bayan kiya ke wo ebada bin saamet radi Allah anho ki khidmat mein hazir hue. Aap ka qayam sahil hams per apne he Ek makan per tha. Aur aap ke sath(aap ki biwi) Ummay haraam Radi Allah anha bhi thi. Umair ne bayan kiya ke hamse ummay haraam radi Allah anha ne bayan kiya ke mein ne Nabi Kareem Sallallahu Alaihe Wasallam se suna hai, Aap Sallallahu alaihe wasallam ne farmaya tha ke: "Meri Ummat ka sab se Pehla lashkar jo daryai safar ker ke jahaad ke liye jaeyga, us ne (apne liye Allah ki rahmat o maghfirat) wajib ker li. Ummay Haraam Radi Allah anha ne bayan kiya ke mein ne kaha tha Ya Rasoolallah Sallallahu Alaihe Wasallam! Kiya mein bhi un ke sath hoongi? Aap Sallallahu Alaihe Wasallam ne farmaya ke haan tum bhi un ke sath hogi. Phir Nabi kareem Sallallahu Alaihe Wasallam ne farmaya "Sab se pehla lashkar meri ummat ka jo qaisar ke sheher per hamla krayga unki maghfirat hogi..... Mein ne kaha mein bhi un ke sath hoongi Ya Rasoolallah Sallallahu Alaihe Wasallam! Aap Sallallahu Alaihe Wasallam ne farmaya ke Nahi. (Sahih Bukhari, vol 4. page 345, Hadees 2924.) HADEES ME RAWI KA KHULASA:- Is hadees ki ravi sirf ummay haram binte melhaan hain, kisi doosry sahabi ne issay rawayat nhi kiya? Is hadees ko bayan kerne wale saray shaami hain baqi makkah, madina aur iraq ka koi bhi ravi nhe hai is hadees mein. Thaur bin yazeed al karahi jab madina mein aya to Imam malik ne kaha koi is k pass na baithay aur na is se rawayat likhhay..... Asool e hadees hai ke koi admi koi aisi hadees rawayat kray aur us admi ka talluk kisi khas groh se ho aur uske ilawa koi aur na bayan kray to us ki rawayat sahih nhe mani jaeygi kyonke shuba hai ke us ne apne maslak ya aqeeday ki hamaiyat ki ho. Is hadees mein sabi naasbi hain. CONTINUE.....
  6. مزارات پر حاضری دلائل کی روشنی میں سوال: مزاراتِ اولیاء پر جانا کیسا ہے؟ جواب: مزاراتِ اولیاء پر جانا جائز اور مستحب کام ہے۔ جیسا کہ حضرت بریدہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول ﷲﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا۔ اب زیارت کیا کرو۔
  7. I am browsing [بیشک بریلوی اور مسلک اعلیٰ حضرت حقیقی اہلسنت کی علامت کی نشانی ہے | Islamic Magazine Tahaffuz Karachi, Pakistan]. Have a look at it! http://tahaffuz.com/538/
  8. ک رضاہے خنجر خونخوار برق بار -------------------'----- "Ramzaan ki Pandhrvi shab wali hadis" jisme ek haibat nak aawaz aur dhamaka ki peshen goi hai" ke baare me kaafi jawaab diya ja chuka he phir bhi Mukhtasaran Mulahiza Farmaaye : (1) Aimma e Hadis ne apni kitaabo me is Hadis ko متصل، مرسل، مرفوع، موقوف Riwaayat Kiya he. (2) Ye hadis e paak kai turuq (sanado) se marvi he Baaz Asnad se موضوع, baaz se ضعيف aor Baaz Se حسن, Jaisa ki Muhaddis e Misr O Maghrib Allama Abdullah Ibn e Siddiq Al Ghumari عليه الرحمة ne apni kitaab "المهدي المنتظر" me iske Baaz Turuq (Asnaad) pr Rutba e hasan Ka hukm lagaaya. (3) Baaz Ulama ne is hadis pe jo موضوع Hone ka hukm lagaaya wo khas us sanad ko dekhte huwe jisse wo marvi he (Jaise ki upr bayaan kiya gaya k Ye hadis موضوع، ضعيف، حسن tamaam asnad se marvi he). (4) Imam Jalaluddin Suyuti عليه الرحمة is hadis pr حكم وضع se Raazi Nahi huwe Balki Hukm e Waza ko Khatm krne ki koshish ki. (5) In Baato ko janne ke baad Hadis pe direct حكم وضع lagaa dena kaha ki danishmandi he jbki Hadis Kai Turuq se marvi he ? Aor Albani ya Abdullah Ibne Baaz Wgerh Wahaabi Ulama se Hamaara Koi Lena dena nahi! (6) Aala Hazrat Alyhirrahmah ka ye farmaana ka "k khabar Zroor hone wali he" is se ye laazim nahi aata ki Isi saal yaani 2015 me ye khabar hone wali he, blki Hadis e paak me koi wqt mutayyan nahi (Lihaza jo Hazrat is khabar ko lekr ye Afwaah uda rhe hen k isi saal honi he wo khata pr hen). (7) Ek Hadis e paak wo bhi Jiski Sanad Daraj e Hasan tk Phuch jaaye use Wahaabi aor baaz Digar Ulama ka yeh kah kr rdd kr dena k Hadis موضوع he khata he. (8) Is Hadis e Paak ko Kai Ulame kiraam ne Apni kitaabo me zikr kiya he, Jinme se Baaz Mulahiza Farmaaye: 1. نعيم بن حماد أحد شيوخ البخاري في كتابه "الفتن". 2. و ابن المنادي في الملاحم. 3. والحافظ المقرئ أبو عمرو الداني في "الفتن". 4. و محمد بن جرير الطبري في "تهذيب الآثار". 5. و أحمد بن سليمان الطبراني في"معجميه ". 6. و أبو الشيخ في كتاب الفتن. 7. والحاكم ابن البيع في المستدرك. inme se Imam Tabarani wali Riwaayat Naql kr deta hu, aor ye Sanad sirf is wajah se Zaif he is me Raawi البختري ابن عبد الحميد Majhool hen, Halanki ye hadis Kai Turuq (Asnaad) se marvi he jo ek doosre ko Taqwiyyat phuchate hen أخرج الإمام الطبراني هذا الحديث به في معجمه الأوسط حيث قال: حدثنا أحمد بن القاسم قال:حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة قال:حدثنا نوح بن قيس قال: حدثنا البختري بن عبد الحميد عن شهر بن حوشب عن أبي هريرة قال:قال النبي صلي الله عليه وسلم: في شهر رمضان الصوت و في ذي القعدة تميز القبائل و في ذي الحجة يسلب الحاج. هذا السند رجاله جياد إلا أن فيه راويا مجهولا. و بيانه كما يلي: (1)أحمد بن القاسم شيخ الطبراني. وثقه الخطيب البغدادي و الإمام الذهبي و الإمام المنذري . (2)إبراهيم بن محمد بن عرعرة البصري ثقة من رجال مسلم. (3)نوح بن قيس البصري. وثقه أحمد بن حنبل و ابن معين و العجلي. و هو من رجال مسلم. (4) البختري بن عبد الحميد. قال الهيثمي عنه: لم أعرفه. (5) شهر بن حوشب الأشعري التابعي. وثقه أكثر العلماء الأجلاء مثل أحمد بن حنبل و يحيي بن معين و أخرين. (6)أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر صحابي جليل. من خلال الدراسة للسند السالف تبين لنا أن حديث الصيحة بسندنا هذا ضعيف لجهالة حال البختري. و لكن هذا المتن روي بطرق أخري ضعيفة تشده و ترتقي به إلي درجة الحسن لغيره.و تلك الطرق ذكر بعضها السيوطي في" اللآلي المصنوعة " .و بعضها مذكور في كتب الأئمة الحفاظ الآخرين نتعرض لها في وقت آخر ، إن شاء الله. . أخوكم في الله: محمد سلمان القادري الأزهري (اندور) ، كلية أصول الدين (قسم الحديث) جامعة الأزهر الشريف، القاهرة، مصر. (لا تنسوا في صالح دعائكم). [8:25am, 23/06/2015] +20 127 512 3421: حديث الصيحة في شهر رمضان حديث حسن ليس بموضوع ولا مختلق. والإمام أحمد رضا خان رحمه الله مصيب في ذكره في فتاواه و ليس مغفلا و ليس مجازفا و ذالك فإنه كان علي قدر كاف من المعرفة بعلوم الحديث و قد تولي كتب المصطلح بدراسة متأنية. و لا ينبغي التسرع إلي وسم حديث ما بالوضع إلا بعد إمعان النظر في جميع طرقه و أسانيده . و الحكم علي الحديث عملية صعبة بمكان. وقد عثرت خلال الدراسة لهذا الحديث رغم قلة بضاعتي في علوم الحديث علي أسانيد كثيرة و طرق متعددة يشد بعضها بعضا. لو ذهبت أستقصي تلك الطرق لجاءت في رسالة مستقلة. والإمام الجلال السيوطي رحمه الله لم يرتض بحكم ابن الجوزي علي هذا الحديث بالوضع. وإنما حاول إزالة تهمة الوضع. و الدليل علي ما قلت إكثاره من طرق الحديث من الأسفار العديدة بعد ذكر الطرق المعلولة. أما حكم الإمام الذهبي علي الحديث بالوضع في كتابه تلخيص المستدرك فإنما هو نظرا إلي سند خاص ساقه الإمام أبو عبد الله الحاكم في المستدرك علي الصحيحين. أو دفعه إلي ذلك مخالفة منهجه لمنهج الصوفية. لأنه تتلمذ علي ابن تيمية فبقيت فيه لوحة من لوثاته كما ترون حقيقة ذلك في قاعدة في الجرح و التعديل لتاج الدين السبكي. ثم إنما تبعه في هذا الحكم من جاء من بعده كعلي القاري في الأسرار المرفوعة و العجلوني في كشف الخفاء. و قد روي هذا الحديث أئمة هذا الشأن في كتبهم بكمية كبري من الأسانيد مثل نعيم بن حماد أحد شيوخ البخاري في كتابه "الفتن". و ابن المنادي في الملاحم. والحافظ المقرئ أبو عمرو الداني في "الفتن". و محمد بن جرير الطبري في "تهذيب الآثار". و أحمد بن سليمان الطبراني في"معجميه ". و أبو الشيخ في كتاب الفتن. والحاكم ابن البيع في المستدرك. رواي هؤلاء الحفاظ هذا الحديث متصلا و مرسلا ومرفوعا و موقوفا... و قد حسن بعض طرقه الحافظ الجهبذ محدث مصر و المغرب و ناقدهما الإمام عبد الله بن الصديق الغماري في كتابه "المهدي المنتظر".فليراجع. فإذن الإمام أحمد رضا خان محدث ناقد متيقظ ليس غفلان. عارف بدقائق علوم الحديث كما يشهد له بذاك كتبه في الحديث وعلومه. رحمهم الله جميعا.