aaftab

Members
  • Content count

    187
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

aaftab last won the day on May 22

aaftab had the most liked content!

Community Reputation

11 Good

1 Follower

About aaftab

  • Rank
    Ajmeri Member

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

745 profile views
  1. مرد اور عورت کی نماز میں فرق نہیں " عورتيں مردوں كى طرح ہى ہيں " مسند احمد، صحيح الجامع حديث نمبر ( 1983 ) ميں اسے صحيح قرار ديا گيا ہےمسند احمد، صحيح الجامع حديث نمبر ( 1983 ) ميں اسے صحيح قرار ديا گيا ہے. ليكن اگر عورتوں كے متعلق كسى چيز ميں خصوصيت كى دليل مل جائے تو اس ميں وہ مردوں سے مختلف ہونگى، اور اس موضوع ميں نماز كے اندر عورت كے بارہ ميں جو علماء نے ذكر كيا ہے وہ درج ذيل ہے: - عورت پر اذان اور اقامت نہيں ہے، كيونكہ اذان ميں آواز بلند كرنا مشروع ہے، اور عورت كے ليے آواز بلند كرنا جائز نہيں. ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس ميں ہميں كسى اختلاف كا علم نہيں . ديكھيں: المغنى مع الشرح الكبير ( 1 / 438 ). - عورت كے چہرے كے علاوہ باقى سب كچھ نماز ميں چھپائے گى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " اللہ تعالى نوجوان عورت كى نماز اوڑھنى كے بغير قبول نہيں كرتا" رواہ الخمسۃ. عورت كے ٹخنے اور قدموں ميں اختلاف ہے، ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: نماز ميں آزاد عورت كا سارا بدن چھپانا واجب ہے، اگر اس ميں سے كچھ بھى ظاہر ہو گيا تو اس كى نماز صحيح نہيں ہو گى، ليكن اگر بالكل تھوڑا سا ہو، امام مالك، اوزاعى اور امام شافعى كا يہى قول ہے. ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 328 ). - عورت ركوع اور سجدہ ميں اپنے آپ كو اكٹھا كرے گى اور كھلى ہو كر نہ رہے كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے. ديكھيں: المغنى ( 2 / 258 ). ليكن اس كا ذكر كسى حديث ميں نہيں ملتا - عورت كے ليے عورت كى جماعت ميں نماز ادا كرنا مستحب ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ام ورقہ كو حكم ديا تھا كہ وہ اپنے گھر والوں كى امامت كروايا كرے" اس مسئلہ ميں علماء كرام كے مابين اختلاف پايا جاتا ہے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ المغنى اور المجموع ديكھيں، اور اگر غير محرم مرد نہ سن رہے ہوں تو عورت اونچى آواز سے قرآت كرے گى. ديكھيں: المغنى ( 2 / 202 ) اور المجموع للنووى ( 4 / 84 - 85 ). - عورتوں كے ليے گھروں سے باہر مسجدوں ميں جا كر نماز ادا كرنا جائز ہے، ليكن ان كى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرنا افضل ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " اللہ تعالى كى بنديوں كو مسجدوں كى طرف نكلنے سے منع نہ كرو، اور ان كے گھر ان كے ليے بہتر ہيں" - اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع" ميں كہتے ہيں: عورتوں كى جماعت مردوں كى جماعت سے كچھ اشياء ميں مختلف ہے: 1 - عورتوں كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى. 2 - اكيلى عورت مرد كے پيچھے كھڑى ہو گى نہ كہ مرد كى طرح امام كے ساتھ. 3 - جب عورتيں مردوں كے ساتھ صفوں ميں نماز ادا كريں تو عورتوں كى آخرى صفيں ان كى پہلى صفوں سےافضل ہونگى. ديكھيں: المجموع للنووى ( 3 / 455 ). اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كا فائدہ يہ ہے كہ اس سے اختلاط كى حرمت كا علم ہوتا ہے. انتہى اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے. واللہ اعلم یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے سلام تک مردوں اور عورتوں کی نماز ہیئت ایک جیسی ہے سب کیلئے تکبیر تحریمہ قیام، ہاتھوں کا باندھنا، دعاء استفتاح پڑھنا، سورہ فاتحہ، آمین، اس کے بعد کوئی اور سورت، پھر رفیع الیدین رکوع، قیام ثانی، رفع یدین، سجدہ ، جلسہ استراحت ، قعدہ اولیٰ ، تشہد، تحریک اصابع، قعدہ اخیرہ ، تورک، درود پاک اور اس کے بعد دعا، سلام اور ہر مقام پڑھی جانے والی مخصوص دعائیں سب ایک جیسی ہی ہیں عام طور پر حنفی علماء کی کتابوں میں جو مردوں اور عورتوں کی نماز کا فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک ، مر دحال قیام میں زیر ناف ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر ، حالت سجدہ میں مرد اپنی رانیں پیٹ سے دور رکھیں او ر عورتیں اپنی رانیں پیٹ سے چپکا لیں یہ کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں ۔ چنانچہ امام شوکافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :''1) اور جان لیجئے کہ یہ رفع یدین ایسی سنت ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہیں اور ایسی کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی جوان دونوں کے درمیان اس کے بارے میں فرق پر دلالت کرتی ہو ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حدیث وارد ہے جو مرد اور عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقتدار پر دلالت کرتی ہو اور احناف سے مروی ہے کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور عورت کندھوں تک کیونکہ یہ اس لئے زیادہ سا تر ہے لیکن اس کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ''۔ ( نیل الا وطار ۲/۱۹۸)شارح بخاری امام حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ شمس الحق عظیم آابادی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں :'' مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کیلئے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ''۔ (فتح الباری۲٢/۲۲۲، عوں المعبود ۱/۲۶۳) ۲) مردوں اور عورتوں کے حال قیام میں یکساں طور پر حکم ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر باندھیں خاص طور پر عورتوں کیلئے علیحدہ حکم دینا کہ وہ ہی صرف سینے پر ہاتھ باندھیں اور مرد ناف کے نیچے باندھیں اس لئے حنفیوں کے پاس کوئی صریح و صحیح حدیث موجود نہیں ۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری ترمزی کی شرح میں فرماتے ہیں کہ :'' پس جان لو کہ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ مرد نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھے اور عورت سینہ پر امام بو حنیفہ اور آپ کے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی اور قول مروی نہیں ہے ''۔(تحفہ الا حوذی ۱/۲۱۳)محدث عصر علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :'' اور سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے اور اس کے خلاف جو عمل ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا پھر بے اصل ہے ''۔ (صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم /۸۸) ۳) حالت سجدہ میں مردوں کا پانی رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا اور عورتوں کا سمٹ کر سجدہ کرنا یہ حنفی علماء کے نزدیک ایک مرسل حدیث کی بنیاد پر ہے جس میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوعورتوں کے پاس گزر ے جو نماز پڑے رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سجدہ کر وتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورتوں کا حکم اس بارے میں مردوں جیسانہیں ۔ علامہ البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :'' روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں امام ابو داؤد نےا سے مراسیل میں یزید بن ابی حبیبت سے روایت کیا ہے مگر یہ روایت منقطع ہے اور اس کی سند میں موجود ایک راوی سالم محدثین کے نزدیک متورک بھی علامہ ابن التر کمانی حنفی نے الجوھر النقی علی السنن الکبری للبیھقی ۲٢/۲۲۳پر تفصیل سے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے ''۔پس معلوم ہوا کہ احناف کے ہاں عورتوں کے سجدہ کرنے کا مروج طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں مگر اس طریقہ کے خلاف رسول اللہ کے متعد ارشاد مروی ہیں چند ایک یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔'' تم سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے دونوں بازے کتے کی طرح نہ بچھائے'''' سجدہ اطمینان سے کرو اور تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازہ کتے کی طرح نہ بچھائے غرض نماز کے اند رایسے کاموں سے روکا گیا ہے جو جانوروں کی طرح ہوں۔ امام بن قیمہ فرماتے ہیں ـ:'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں حیوانات سے مشابہت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ چنانچہ اس طرح بیٹھنا جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے یا لومڑ کی طرح اِ دھر اُدھر دیکھنا یا جنگلی جانوروں کی طرف افتراش یا کتے کی طرح اقعاء کو ے کی طرح ٹھونگیں مار نا یا سلام کے وقت شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھانا یہ سب افعال منع نہیں ''۔پس ثابت ہو اکہ سجدہ کا اصل سنن طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ کا اپنا تھا اور کتب احادیث میں یوں مروی ہے :'' جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر نہ بچھاتے اور نہ ہی اپنے پہلوؤں سے ملاتے تھے ''۔ بخاری مع فتح الباری ۲٢/ ۳۰۱، سنن ابو داؤد مع عون۱/۳۳۹، السنن الکبری للبیہقی۲/۱۱۶، شرح السنہ للبغوی (۵۵۷) مجید میں جس مقام پر نماز کا حکم وار دہوا ہے اس میں سے کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق بیان نہیں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی صحیح حدیث سے ہیئت نماز کا مفرق مروی نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی کریم کے عہدِ رسالت سے جملہ اُمہات المومنین ، صحابیات اور احادیث نبویہ پر عمل کرنے والی خواتین کا طریقہ نماز وہی رہا ہے جو رسول اللہ کا ہوتا تھا ۔ چنانچہ امام بخاری ل نے بسند صحیح اُم درداء رضی اللہ عنہا کے متعلق نقل کیا ہے :'' وہ نما ز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں ''۔ ( تاریخ صغیر للبخاری ٩٠)چوتھی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے :'' تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔'' ا س حکم کے عموم میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔پانچویں بات یہ ہے کہ خلفائے راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین محدثین اور صلحائے اُمت میں سے کوئی بھی ایسامرد نہیں جو دلیل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عوتوں کی نماز میں فرق کیا ہو بلکہ امام ابو حنیفہؒ کے استاذ کے استاذ امام ابرہیم نحعی سے بسند صحیح مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں :'' نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے مرد کرتا ہے ''۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۱/۷۵/۲)جن علماء نے عورتوں کا نماز میں تکبیر کیلئے کندھوں تک ہاتھ اٹھانا قیام میں ہاتھ سینہ پر باندھنا اور سجدہ میں زمین کے چاتھ چپک جانا موجب ستر بتایا ہے۔ وہ دراصل قیاس فاسد کی بناء پر ہے کیونکہ جب اس کے متعلق قرآن وسنت خاموش ہیں تو کسی عالم کو یہ حق کہاں پہنچتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کر از خود دین میں اضافہ کرے۔ البتہ نماز کی کیفیت وہیئت کے علاوہ چند مرد و عورت کی نماز مختلف ہیں ۔١) عورتوں کیلئے اوڑھنی او پر لے کر نماز پڑحنا حتی کہ اپنی ایڑیوں کو بھی ڈھکنا ضرویر ہے۔ اس کے بغیر بالغہ عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ کسی بھی بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا''۔ (ابن ماجہ (۶۵۵)۱/۲۱۵، ابوداؤد (۶۴۱) ، مسند احمد۶/۱۵۰،۲۱۸،۲۵۹)) امام جب نماز میں بھول جائے تو ا سے متنبہ کرنے کیلئے مرد سبحان اللہ کہے اور عورت تالی بجائے ۔ جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے :'' مردوں کیلئے سبحان اللہ اور عورتوں کیلئے تالی ہے '' (بخاری ٢۲/۶۰، مسلم۲/۲۷، ابو داؤد (۹۳۹) ، ابن ماجہ۱/۲۲۹، نسائی۳/۱۱، مسند احمد۲/۲۶۱١،۳۱۷،۳/۳۴۸)) مرد کو نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں لیکن عورت کو حالتِ حیض میں فوت شدہ نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، دارمی اور مسند احمد میں موجود ہے۔) اسی طرح عورتوں کی سب سے آخری صف ان کی پہلی صف سے بہتر ہوئی ہے ۔ مسلم کتاب الصلوٰۃ ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد۲/۴۸۵،۲۴۷،۳/۳،۱۶ میں حدیث موجو دہے ۔یہ مسائل اپنی جگہ پر درست اور قطعی ہیں مگر ان میں تمام تصریفات منصوصہ کو مروجہ تصریفات غیر منصوصہ کیلئے ہر گز دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ یہ تفریقات علماء احناف کی خودساختہ ہیں جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔س: عورت اور مرد کی نماز میں کیا فرق ہے عورت کو سجدہ کرتے وقت اپنا پیٹ رانوں سے لگانا چاہئے قرآن و سنت کی رو سے وضاحت کریں ۔ ج: نبی اکرم نے نماز کی جو کیفیت بیان فرمائی ہے، اس میں مرد عورت دونوں برابر ہیں ، آپ کا حکم ( صلو ا کمار ایتمونی اصلی ) '' نماز اس طرح پڑحو جس طرح نماز پڑھتے ہوئے مجھے دیکھتے ہو ''( بخاری )مردوں اور عورتوں سب کیلئے برابر ہے۔ آپ نے نماز کا جو طریقہ بیان فرمایااس کی ادائیگی میں مرد و زن کیلئے کوئی فرقی بیان نہیں فرمایا عورت کیلئے سجدہ کی جو کیفیت حنفی علماء بیان کرتے ہیں، اس کی بنیاد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اس روایت پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورب جب سجدہ کرتے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے ۔ اس لئے کہ یہ س کیلئے زیادہ پردے کا موجب ہے۔ یہ روایت سنن کبری بیہقی ۲٢/۲۲۲،۲۲۳ میں موجو دہے لیکن امام بیہقی نے اس روایت کے بارے میں خود صراحت کر دی ہے کہ اس جیسی روایت سے استدلال کرنا صحیح نہیں ۔ یعنی یہ روایت اس قدر ضعیف ہے کہ قابل حجت ہی نہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ احناف کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
  2. as salam alaikum is aaitaraz ka jawab yaha dia ja chuka hai tu link bata dain jazak Allah
  3. https://www.dawateislami.net/bookslibrary/822/page/1157 Al furqan : +92 321 2734345 baki tafseel malom karni hai tu yaha say rabta karain http://mufti.faizaneattar.net/ is posts mai mazeed number hain for contact :
  4. yaha fatwa service / tabeer waghaira ki tarkeeb filhal nahe hai aap kisi darul ifta say rabta karain aur apna masla mukammal likh kay fatwa hasil karain https://www.dawateislami.net/bookslibrary/822/page/1157 Al furqan : +92 321 2734345 baki tafseel malom karni hai tu yaha say rabta karain http://mufti.faizaneattar.net/ is posts mai mazeed number hain for contact :
  5. walaikum as salam bhai yaha fatwa service nahe hai aap kisi darul ifta say rabta karain aur apna masla mukammal likh kay fatwa hasil karain https://www.dawateislami.net/bookslibrary/822/page/1157 Al furqan : +92 321 2734345 baki tafseel malom karni hai tu yaha say rabta karain http://mufti.faizaneattar.net/ is posts mai mazeed number hain for contact : was salam
  6. غیر مقلدین کا خدائی اختیار والا بابا جو اﷲ سے لڑکر اپنی بات منوالیتا تھا٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اﷲ تعالیٰ کے پاس سب سے زیادہ طاقت اور قوت ہے‘ غیر اﷲ میں سے کوئی بھی اﷲ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ اپنی طاقت دکھا سکتا ہے‘ نہ اس زبردست قوت سے لڑ سکتا ہے اور نہ اس سے زور زبردستی سے اپنی بات منوا سکتا ہے‘ لیکن اہلحدیث فرقہ کا ایک مولوی ایسا بھی ہے جس کے متعلق اہلحدیث مذہب کے ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے لڑ بھی لیتا تھا اور اپنی بات بھی منوالیتا تھا ‘ اس مولوی کو یہ لوگ مجاہد اسلام صوفی محمد عبداﷲ کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ چنانچہ وہابیوں کے مورخ اسحاق بھٹی نے صوفی محمد عبداﷲ کے متعلق اپنے فرقہ کا عقیدہ ظاہر کرتے ہوئے لکھا : مولانا احمد الدین گکھڑوی نے فرمایا ’’صوفی عبداﷲ تو خدا سے لڑ کر بات منوالیتا ہے ۔ (صوفی محمد عبداﷲ ص 392‘ مطبوعہ شاکرین شیش محل لاہور) غیر مقلد عالم نذیر احمد سبحانی کا کہنا ہے کہ صوفی عبداللہ اللہ کے اتنے لاڈلے تھے کہ اللہ سے جھگڑا کر کے اپنی بات منوا لیتے تھے۔ـ( علمائے اہلحدیث کا ذوق تصوف، صفحہ 83) غیر مقلد یہ نہ کہیں کہ یہ حوالے اور کرامات غلط ہیں اسی لئے غیر مقلد عالم کہتے ہیں کہ ان کے بڑوں کی یہ کرامات افسانے نہیں بلکہ حقیقت ہیں(علمائے اہلحدیث کا ذوق تصوف ص79) غیر مقلدو! تمہارا عالم اللہ سے جھگڑا کر کے اپنی بات منوائے تو ولی اور اگر کوئی اہلسنت و جماعت بریلوی کرامت بیان کر دے تو مشرک! کچھ تو انصاف کرو! ہے کوئی قرآن اور حدیث پہ عمل کرنے والا غیر مقلد جو اللہ سے جھگڑا کرنے پر اپنے اس عالم پہ فتوی لگائے ؟ عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے دیکھ اڑ جائے گا ایمان کا طوطا تیرا قرآن و حدیث اور توحید کے نام نہاد عویداروں غیر مقلد وہابی حضرات سے ایک سادہ سا سوال قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں یہ آپ کے بابا جی اور لکھنے والے غیر مقلد وہابی مورخ مشرک ہوئے کہ نہیں ؟ ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
  7. قادیانیوں کے سوالات کا الزامی جواب دیا گیا ہے جس کے بعد مرزائی تو چپ ہو گئے مگر ان کے چھوٹے اعتراض کر رہے ہیں ۔
  8. As salam alaikum Is hadees ki scan chahy jiska mafhom hai Pahla shaks Jo meri sunnat ko badlay ga would Bani umaya Ka aik shaks taxed hoga Isi Tarah Bandar mimbar Sharif pay uchal rahay hain aur aik daghi kutta able bait Kay khoon Mai moo Dal Raha hai Yei riwayaaat Kay scan bhee
  9. As salam alaikum isi forum pay aik jaga yei scan aur us par wahabio ka aaitarz bhe kahe daikha tha kay yei zaeef hai aur us ka jawab bhe maujood tha ab search kar raha ho tu mil nahe raha kisi bhai kay pas yei ho tu laga dain wahabia ka aaitarz hai kay yei riwayat sahe nahe hai is ka jawab bhe yaha maujod ho tu laga dain was salam
  10. wahabio kay nazdeek jo buzurg Ala hazrat say pahlay paida howay wo bhe barelvi hain jo shaksiyat khud wahabio kay nazdeek bhe mohtaram hain aur un ki kitabain khud wahabi bhe chaptay hain un pay khud wahabi he aaitaraz kartay hain yei bhe khaub tamasha hai apni he kitabo say jahil wahabio
  11. aaitaraz baraiay aaitaraz jo scan aap nay post kia usi mai is ka jawab maujood hai magar wo aap hazam kar gaiay . yei tu yahoodio ki aadat hai is say bachain .
  12. jis shaks ko ummahat aur umm ka faraq nahe maloom wo syedi Ala hazrat pay aaitaraz copy paste karta phir raha hai . khair is ka jawab bhe jald day dia jaiay ga isi forum pay maujood bhe hai kisi ko mil jaiay tu laga dain mai bhe search karta ho.
  13. is pay kia aaitaraz hai ? aaitaraz kay shoq mai tum itnay andhay ho chukay ho kay bas copy paste ka shoq hai koi thori banda apni aqal bhe laga laita hai itna jahilanaa aaitaraz ? is kitab mai jo scan opar lagaya hai wo khud parh lu yaha deobandio kay aaitaraz ka jawab dia gyaa hai kay tauheen ka darobar niyyat pay nahe hai aur nechay bhe yehi likha hai kay kalmat e tauheen mai koi taweel nahe chalti zahir pay he hukam lagay ga baaki tamam deobandio par hukm e kufr nahe un par hai jo gustakhana kalmat likhay aur jinho nay usay qubool kia jo is say waqif hain aur isay sahe samjhtay hain yani qail aur qabil dono par hukm e kufr hai .