Brailvi Haq

Members
  • Content count

    205
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    5

Everything posted by Brailvi Haq

  1. ایک حدیث کا سکین درکار ہے۔۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "میری موت اور حیات میں کوئی فرق نہیں'' اس حدیث کا سکین اورسند درکار ہے۔۔۔۔
  2. انبیاء کرام علیہ اسلام اپنی قبور میں ذندہ ہیں اور ان کی حیات دنیاوی حیات کی طرح ہے۔۔۔۔۔ اس معاملے پہ آئمہ۔کرام کی تصریحات کیا ہیں؟ براہ کرم ائمہ کرام کے اقوال و فتاوی سینڈ کریں اس مسئلہ پہ۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔۔
  3. محترم خلیل رانا صاحب اس حدیث کا میرے خیال سے مطلب یہ بنتا ہے کہ میری موت بھی تمہارے لئے بہتر ہے اور میری حیات بھی۔۔۔۔ جبکہ میں نے جو حدیث پڑھی ہے وہ کچھ یوں کہ میری موت اور حیات ایک جیسی ہے یا میری موت و حیات میں کوئی فرق نہیں
  4. یہ ایک دوست نے فیسبک پہ۔شئیر کیا ہے۔۔۔۔براہ کرم اس پہ۔روشنی ڈال۔دیں۔۔۔۔ شکریہ
  5. اسلام علیکم میں کچھ اشعار یہاں پیسٹ کروں گا جن کے ظاہری معنی عام انسان کے لئے شائد گمراہ کن ہوں۔۔۔ براہ کرم ان اشعار کو دیکھ کر ان کی مناسب وضاحت فرمادیں)اگر ممکن ہو ( اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔ .قلندر راز تھا پردہ اُٹھا تو راز کیا نکلا..... جسے ہم بشر کہتے تھے حقیقت میں خدا نکلا الف اور لام باطن ہے تو ظاہر میم کو پایا اُٹھا جب میم کا پردہ قلندر بے ریا نکلا... ہماری سوچ سے بڑھ کر مقامِ پیشوائی ہے .... جہاں تک عقل کہتی ہے یہ اُس سے بھی لامکاں نکلا _______________________________________
  6. ان اعتراضات کا جواب چاہئے
  7. " وما ھو علی الغیب بضنین " : یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں القــرآن الکــریــم (۸۱ /۲۴) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے کیا مؤقف اپنایا ہے......آیا وہ اخبار الغیب مراد لیتے ہیں یا علم غیب؟ اگر مفسرین نے علم غیب مراد لیا ہے تو ان تفاسیر کا حوالہ سکین پیج کے ساتھ عنایت فرمائیں.
  8. یہ ایک وہابی پوسٹ ہے کیا امام شافعی امام ابوحنیفہؒ کی قبر پر گئے تھے؟ سوال: ایک روایت میں آیا ہے کہ امام شافعیؒ نے فرمایا: “إني لأتبرک بأبي حنیفۃ و أجي إلیٰ قبرہ في کل یوم۔ یعني زائراً۔ فإذا عرضت لي حاجۃ صلیت رکعتین و جئت إلیٰ قبرہ و سألت اللہ تعالیٰ الحاجۃ عندہ فما تبعد عني حتیٰ تقضی” میں ابوحنیفہ کے ساتھ برکت حاصل کرتا اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لئے آتا ۔ جب مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتا اور ان کی قبر پر جاتا اور وہاں اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا تو جلد ہی میری ضرورت پوری ہوجاتی۔(بحوالہ تاریخ بغداد) کیا یہ روایت صحیح ہے ؟ (ایک سائل) الجواب: یہ روایت تاریخ بغداد (۱۲۳/۱) و اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ للصیمری (ص ۸۹) میں “مکرم بن أحمد قال: نبأنا عمر بن إسحاق بن إبراھیم قال: نبأنا علي بن میمون قال: سمعت الشافعي….“ کی سند سے مذکور ہے۔ اس روایت میں “عمر بن اسحاق بن ابراہیم” نامی راوی کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے۔ شیخ البانیؒ فرماتے ہیں:”غیر معروف….” یہ غیر معروف راوی ہے …. (السلسلۃ الضعیفہ ۳۱/۱ ح ۲۲) یعنی یہ راوی مجہول ہے لہٰذا یہ روایت مردود ہے۔ اس موضوع و مردود روایت کو محمد بن یوسف الصالحی الشافعی (عقود الجمان عربی ص ۳۶۳ و مترجم اردو ص ۴۴۰) ابن حجر ہیثمی/مبتدع (الخیراب الحسان فی مناقب النعمان عربی ص ۹۴ و مترجم ص ۲۵۵]سرتاجِ محدثین[) وغیرہما نے اپنی اپنی کتابوں میں بطورِ استدلال و بطور ِ حجت نقل کیا ہے مگر عمر بن اسحاق بن ابراہیم کی توثیق سے خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ اسی ایک مثال سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تحقیق و انصاف سے دور بھاگنے والے حضرات نے کتبِ مناقب وغیرہ میں کیا کیا گل کھلا رکھے ہیں۔ یہ حضرات دن رات سیاہ کو سفید اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں حالانکہ تحقیقی میدان میں ان کے سارے دھوکے اور سازشیں ظاہر ہوجاتی ہیں پھر باطل پرست لوگوں کو منہ چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملتی ۔ مردود روایات کی ترویج کرنے والے ایک اور روایت پیش کرتے ہیں کہ شہاب الدین الابشیطی (۸۱۰؁ھ وفات ۸۸۳؁ھ) نامی شخص نے (بغیر کسی سند کے ) نقل کیا ہے : امام شافعیؒ نے صبح کی نماز امام ابوحنیفہؒ کی قبر کے پاس ادا کی تو اس میں دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ جب ان سے عرض کیا گیا تو فرمایا :اس قبر والے کے ادب کی وجہ سے دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ (عقود الجمان ص ۳۶۳، الخیرات الحسان ص ۹۴ تذکرۃ النعمان ص ۴۴۱،۴۴۰ سرتاج محدثین ص ۲۵۵) یہ سارا قصہ بے سند، باطل اور موضوع ہے۔اسی طرح محی الدین القرشی کا طبقات میں بعض (مجہول) تاریخوں سے عدمِ جہر بالبسملہ کا ذکر کرنا بھی بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع اور باطل ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے امام شافعیؒ کے امام ابوحنیفہؒ کی قبر پر جانے والے قصے کا موضوع اور بے اصل ہونا حدیثی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھئے “اقتضاء الصراط المستقیم” (ص ۳۴۴،۳۴۳ دوسرا نسخہ ص ۳۸۶،۳۸۵) جو شخص ایسا کوئی قصہ ثابت سمجھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے پیش کردہ قصے کی صحیح متصل سند پیش کرے۔ مجرّد کسی کتاب کا حوالہ کافی نہیں ہوتا۔ تنبیہ بلیغ: امام محمد بن ادریس شافعیؒ سے امام ابوحنیفہؒ کی تعریف و ثنا قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ اس کے سراسر برعکس امام شافعیؒ سے امام ابوحنیفہؒ پر جرح باسند صحیح ثابت ہے دیکھئے آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم (ص ۱۷۱، ۱۷۲ و سندہ صحیح، ۲۰۲،۲۰۱ و سندہ صحیح) تاریخ بغداد (۴۳۷/۱۳ و سندہ صحیح، ۱۷۷،۱۷۸/۲ و سندہ صحیح) لہٰذا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ امام شافعیؒ کبھی امام ابوحنیفہؒ کی قبر کی زیارت کے لئے گئے ہوں۔ وما علینا إلا البلاغ (۱۰ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)
  9. ایک دیوبندی نے یہ پیج دیا یے......... اس کا جواب درکار یے (Mod msg: badmazhab website ya fb page ka link remove kar k posts karain....shukriya)
  10. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فتوی ہے کہ جو کوئی تم سے کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کچھ چھپایا تو وہ جھوٹا ہے..... اس فتوی کو لیکر وہابی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تھا تو وہ ہمیں بھی بتانا چاہئیے تھا کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فتوی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سب کچھ بتادیا .... اس حوالے سے جواب عنایت فرمائیں نیز اگر صحابہ سے یہ صراحت مل جائے کہ بعض علوم صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں تو بہتر ہوگا .. اس کے علاوہ وہابی کا اصرار ہے کہ اللہ نے کدھر حکم دیا کچھ چھپانے کا.....اس کا جواب عنایت فرمائیں..
  11. وہ تو مجھ پہ کفر کا فتوی لگا کر توبہ کرنے کو کہہ رہا ہے
  12. محترم_____ امتاع الاسماع میرے پاس موجود ہے اور میں یہ سند پہلے ہی دے چکا ہوں...وہابی کا اعتراض یہ ہے کہ اس سند میں محمد بن سائب المکی نامی راوی نہیں بلکہ محمد بن سائب الکلبی نامی راوی ہیں جو کہ ضعیف ہیں......... میں نے اصل میں یہی بات پوچھی تھی کہ محمد بن سائب المکی نامی راوی کا پورا نام سند میں مل.جائے تاکہ یہ روایت صحیح ثابت ہو........
  13. حضرت........... فیس بک پہ وہابی کافی دن بعد آیا ہے. اور یہی رٹ لگارکھی ہے کہ اللہ نے کہاں حکم دیا کچھ علوم چھپانے کا...... قرآن یا حدیث میں..... اس کے کمنٹس چیک کریں...... علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے آئمہ کا قیامت کے متعلق علم رکھنے کا حوالہ.دیا تو اس کا جواب کہتا ہے کہ ائمہ کا کوئی قول قبول نہیں اور قرآن و حدیث کے مقابلے پہ رد کردیا جائے گا اور علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ پہ شرک کا فتوی بھی لگا چکا ہے کہ اگر یہی عقیدہ وصال کے وقت تک تھا تو شرک پہ مرے (نعوذباللہ)
  14. ایک روایت ہے کہ جس جنازے میں بیس سے زائد لوگ شریک ہوں تو اس کی مغفرت لی خوشخبری سنادو....... اس روایت کا سکین درکار ہے
  15. نبی صلی الله عليه وسلم کل غیب پہ مامون ہیں المستدرک, جلد 4:صفحہ 41
  16. مجھے الوفاء سے سند نہیں ملی اورالمفقود میں روایت کی سند نہیں ہے جو پیجز افضل صاحب نے دیئے
  17. کیا آپ وہ اسناد بھی یہاں سینڈ کرسکتے ہیں؟
  18. محترم.......سگ مدینہ آپ نے جو سند دی...... اور اس کی تخریج نقل کی.....کیا اس کا سکین پیج مل جائے گا....سند کی توثیق کا.... جس میں محمد بن سائب بن برکۃ المکی کا پورا نام شامل.ہو وہابی نے محمد بن السائب کلبی نامی راوی کو چونکہ محمد بن سائب بن برکۃ المکی بنا کر پیش کیا ہے سس لئے سند کا سکین چاہئے..... .. آپ نے الوفاہ جلد 1 کا حوالہ دیا مجھے اس میں سے نہیں ملا.....
  19. ماشاءاللہ جناب.....اس کا مطلب ,وہابی نے فنکاری دکھائی ......
  20. پہلے پیج میں ابو عاصم کا قول ہے کہ ....ماحدث عن ابی صالح عن ابی عباس فھو کذب......... کیا اا سے عدم سایہ والی روایت جھوٹ ثابت ہوتی ہے؟
  21. اور اس کی صحت کے متعلق بھی کچھ ارشاد فرمائیں
  22. دیوبندی یہ پیجز لایا ہے...اور کہ رہا ہے کہ یہ روایت باطل ہے....
  23. یہاں تو غالب لکھا ہے........اس کا کیا مطلب؟
  24. ,اور ابن تیمیہ تو بہت پہلے کا ہے.....میرے خیال سے تووہ مختلف فیہ نہیں ہے.. ......
  25. ان کے نذدیک تو یہ حجت ہیں ابن تیمیہ وغیرہ...........