Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,026
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    232

Everything posted by Saeedi

  1. جناب جب خلافتِ امام حسن کے بعد ھم نے معاویہ کو عادل خلیفہ کہا تو کس عقلمند کو ابھی تک سمجھانے کی ضرورت باقی رہ جاتی ھے؟
  2. پانچ کتابوں کو پیش کیا، سند ایک میں بھی نہیں مل سکی۔ کتاب کے مصنف سے لے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک سند ھی پیش نہیں کر سکتے، سند کا صحیح یا حسن ھونا تو بعد کی بات ہے ۔ پانچ نہیں بلکہ پانچ سو کتابوں کی ورق گردانی کرو۔ الزام تو مل سکتا ھے مگر ثبوت وسند نہیں ملیں گے ۔ -------------------------------------------- امیر معاویہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر لعنت بھیجنے والے پر بھی لعنت کے قائل تھے۔(حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے) ۔ پس ثابت ھوا کہ وہ حضرت علی کو قاتلین عثمان میں کسی طرح بھی شمار نہیں کرتے تھے ۔
  3. جناب قاسم علی صاحب 1۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے متعلق فرمایا کہ (فاتوا علیا فقولوا لہ یدفع لنا قتلۃ عثمان) علی کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عثمان کے قاتلوں کو ھمارے سپرد کرے۔ فتح الباری میں ابن حجر عسقلانی نے اسے بسند جید لکھا ھے۔ اس کے مقابلے میں آپ کے حوالوں میں سند جید تو کیا ملنا تھا، سرے سے سند ھی نہیں ملتی۔ اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک قاتلین عثمان اور ہیں ،اور علی اور ھے۔ 2۔ حجر بن عدی کے دعوی اور عمل میں فرق موجود ہے جو اُن کے دعویٰ پر سوالیہ نشان ھے۔ 3۔ بغاوت کی چوتھی قسم لکھا تھا، آپ نہ پڑھیں تو میں کیا کروں؟ 4۔ ایک روایت کے مجہول راوی کی جہالت تو دور کر نہ سکے، اُلٹا اور بے سند روایات پیش کر دیں ۔ چلو شاباش! اب مصنفین سے لے کر معاویہ تک ھر ایک روایت کی سند تلاش کرو اور پیش کرو۔ ایک بات ایک اخبار کی بجائے دس اخباروں میں چھپ جائے مگر اس خبر پر کسی کو سزا نہیں ہو سکتی، اس کے لئے (اسناد صحیحہ والی )گواھیاں درکار ھوتی ھیں ۔
  4. آپ میرا جواب دوبارہ پڑھیں اور غور سے پڑھیں،ان سب باتوں پر کلام ہوچکا ہے۔
  5. جناب والا خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔ جناب والا خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔
  6. ۱۔جناب نے ابوالاعلیٰ مودودی،اشرفعلی تھانوی، طٰہٰ حسین اور ابوزہرہ مصری وغیرہ کی کتابوں سے اِس مناظرانہ بحث میں جو حوالے دیے ہیں، وہ جدلی دلائل ہیں یا برہانی؟ نہ وہ مسلماتِ خصم ہیں اور نہ مسلماتِ فریقین ہیں توآپ کس برتے پر اُن کو پیش کر رہے ہیں؟ ۲۔کتبِ تاریخ میں اکثر بے سند ہیں اوراُن کا ماخذ تاریخ ابن جریرطبری ہے اور وہ طبری خود ماضی کی اچھی بُری خبریں راوی کی گردن پر رکھ کر بیان کرتا ہے۔ فما يكن في كتابي هذا من خبر ذكرناه عن بعض الماضين مما يستنكره قارئه، أو يستشنعه سامعه، من أجل أنه لم يعرف له وجها في الصحة، ولا معنى في الحقيقة، فليعلم انه لم يؤت في ذلك من قبلنا، وإنما أتى من قبل بعض ناقليه إلينا، وإنا إنما أدينا ذلك على نحو ما أدي إلينا اور اپنی اس تاریخ پر خود طبری کو بھروسہ نہیں، چنانچہ حضرت مولا علیؓ اور حضرت معاویہ ؓ میں وہ یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ان میں حق پر کون ہے؟ علماء نے طبری کا موقف توقف لکھا ہے: وَتوقف الطَّبَرِيّ وَغَيره فِي تعْيين المحق مِنْهُم، وَصرح بِهِ الْجُمْهُور وَقَالُوا: إِن عليا، رَضِي الله عَنهُ وأشياعه كَانُوا مصيبين إِذا كَانَ أَحَق النَّاس بهَا الملہم شرح مسلم ازقرطبی مالکی المعلم شرح مسلم از المازری مالکی عمدۃ القاری از بدرالدین عینی حنفی پس تاریخ کو خود مؤرخ بھی اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی رافضی دیتا ہے۔ایسا کیوں ؟ ۳۔عام تاریخ اور فضائل کے باب میں فلاں کتاب کا نام چل جاتا ہے مگر مطاعن کا دارومدار فلاں فلاں کتاب میں ہونے پر نہیں بلکہ اسناد پر ہے اور جب تک کوئی بات قطعی الثبوت والدلالۃ ثابت نہ ہوجائے وہ ظن کے درجہ میں رہتی ہے اور عام مسلمان پر بھی سوء ظن جائز نہیں ہے۔ تو کیا پیغمبر اسلام ﷺ کےصحابہ کے حقوق عام مسلمانوں سے بھی کم ہیں؟ ۴۔ آپ کی مسلمہ تاریخ کی روشنی میں سوال ہے کہ کیا حضرت وائل اور حضرت کثیر وغیرہ جو گواھی نامہ(جمع جموع و دعوتِ حرب وغیرہ) اور حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کو لے کر گئے تھے تو ان چشم دید گواہوں کی گواہی کو کیسے رد کرو گے؟ گواہی نامہ کے ۴۴ کے ہجوم میں سے صرف ایک گواہ منحرف ہوا،باقی کسی کاانحراف بھی منقول نہیں۔ ۵۔ آپ کی مسلمہ تاریخ کی روشنی میں سوال ہے کہ جب حاکم کو سنگ زنی کر کے مسجد سے نکل کر کہیں چھپ کر جان بچانی پڑے تو یہ بھی بغاوت کی کوئی قسم ہے یا نہیں؟ اپنی چوتھی قسم بغاوت کو پڑھیں۔اس فعل کے ہوتے ہوئے جناب ِ حجر بن عدی کےاپنی بیعت پر قائم رہنے کے دعویٰ پر سوالیہ نشان (؟) لگتا ہے یا نہیں؟ ۶ ۔:میں نے لکھا تھا کہ ابن ابی عاصم کی لعنت والی روایت میں خلف بن عبداللہ راوی مجہول ھے۔ جناب نے لکھا کہ: راوی مجہول نہیں ہے مگر میں اس کا اب ثابت بھی نہیں کروں گا۔ دعویٰ کرتے ہو تو ثابت کرو،بھاگتے کیوں ہو؟ ۷۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت حجر بن عدی کے فراق میں جو کیا ،اس سے استدلال کرتے ہو،مگر انجام کی خبر دینے والی حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی اس روایت کو بھی پڑھ لوکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَطَلَعَ مُعَاوِيَةُ تم پر ایک جنتی شخص نمودارہوگا تو معاویہؓ نمودار ہوئے۔ (الشریعۃ آجری،انساب بلاذری، حلیۃ الاولیاء ابونعیم) کیا کسی کے متعلق اِس آخری خبر کے بعد بھی کچھ رہ جاتا ہے؟ ۸۔حضرت معاویہ تو حضرت علی کے لئے دعائے رحمت کرتے تھے (الاستیعاب)۔ حضرت ابن عباسؓ نے حضرت علیؓ کا ذکر کیا اور اس میں تھا کہ جو علیؓ پر لعنت بھیجے تو اللہ اور اُس کے بندے قیامت تک اُس پر لعنت بھیجیں، تو حضرت معاویہؓ نے کہا کہ آپ نے ٹھیک فرمایا۔ طبرانی اور ابن عساکر سے مروی ہے کہ : عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، ۔ ۔ ۔ قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ، كَانَ وَاللهِ عَلَمَ الْهُدَى، وَكَهْفَ التُّقَى، وَمَحَلَّ الْحِجَا، وَطَوْدَ النُّهَى، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى، وَدَاعِيَةً إِلَى الْحُجَّةِ الْعُظْمَى، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى، وَتارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى، وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ، وَزَوْجُ خَيْرِ النِّسَاءِ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ، وَلَا تَرَى حَتَّى الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ، فَمَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ يَا ابنَ عَبَّاسٍ۔ کیا یہ روایت آپ کو اچھی نہیں لگتی؟ ۹۔ ابوحنیفہ احمدبن داؤد الدینوری ۲۸۲ھ نے الاخبارالطوال میں لکھا: ولم ير الحسن ولا الحسين طول حياه معاويه منه سوءا في أنفسهما ولا مكروها امام حسن اورامام حسین نے امیرمعاویہ کی زندگی میں اپنے حق میں اُس سے کوئی برُی بات یا ناپسندیدہ بات نہ دیکھی۔ لعنت اور سب وشتم کی کہانی معاویہ سے ہوتی تو حسنین کریمین کے لئے اس سے بری اور مکروہ بات اور کیا ہوتی؟ ۱۰۔ہم پہلے بھی اس بات کو اجتہادی خطا کہہ چکے ہیں۔کاش وہ قتل کرنےکی بجائے اُن کو قید میں رکھتے اور اُن کی بیعت پر قائم رہنے والی بات کو نظرانداز نہ کرتے ۔ضعیف روایت سے جہاں جنابِ حجر بن عدی کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ،وہیں جنابِ معاویہ کے فیصلہ کی خطا بھی ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ جنابِ معاویہ کاوفات سے پہلے اس بات پرپچھتاوااورندامت منقول ہے۔اور عدل وسنت کا یزیدی دور سے پہلے تبدیل نہ ہونا بھی جنابِ معاویہ کے اجتہاد کی وجہ سے ہے جو ہادی ومہدی بننے کی نبوی دعا کا اثر تھا۔
  7. اگر حضرت معاویہ ، مولا علی کو حضرت عثمان سمجھتے تو یہ نہ کہتے کہ جب تک قاتلین عثمان کو قتل نہ کریں یا ھمارے سپرد نہ کریں اُس وقت تک ھم علی کی بیعت نہیں کرتے ؟ لہٰذا قاتلین عثمان پر لعنت بھیجنے کو حضرت علی پر سب و شتم کی بوچھاڑ کا نام دینا ھرگز درست نہیں ہو سکتا ۔ لکھی ھوئی گواھیوں کو ایک طرف رکھیں کیا حضرت وائل اور حضرت کثیر وغیرہ جو گواھی نامہ اٹھا کر گئے تھے یا حجر اور اس کے ساتھیوں کو لے کر گئے تھے تو انہوں نے اپنی گواھی یا اس گواھی نامہ کی تردید میں کچھ بولا تھا یا نہیں؟ جب حاکم کو سنگ زنی کر کے مسجد سے نکل کر کہیں چھپ کر جان بچانی پڑے تو بغاوت کی کوئی قسم ھے یا اطاعت کی؟ ابن ابی عاصم کی لعنت والی روایت میں خلف بن عبداللہ راوی مجہول ھے۔
  8. ابن حجر عسقلانی نے جو کچھ لکھا وہ میں نے تقریب و تہذیب سے لکھا تھا ۔ آپ اس میں ایک فضول بحث لے آئے جس سے اصل بات میں کوئی فرق نہ پڑا۔ ابن حجر نے اس راوی کو الزام علیہ تسلیم کیا ھے اور اسی بات سے ھم نے استدلال کیا تھا۔ باقی حوالے تبرعا تھے جن میں سے ذھبی، ابن سعد اور معارف کے حوالے آپ پر ادھار ہیں۔
  9. بات سمجھ نہیں آتی تو لکھنا چھوڑ دو۔ جھوٹ بول کر کیوں لعنت کے حق دار بنتے ہو۔ ایک کتاب ایک موضوع پر لکھی گئی ، اس میں اقوال کےکفر اور عدم کفر کی بات ہے تو اس میں جو مذکور ہوا وہ کفر ہی ہوگا،یہ جاہلانہ اصول کس کتاب میں لکھا ہے۔ کیا موضوعات کی کتاب میں صحیح یا ضعیف حدیث کا ذکر کرنے سے وہ حدیث بھی موضوع شمار ہوگی؟ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!!۔
  10. جناب! میں نے بھی اصل بنیاد تقریب التہذیب کی عبارت کو بنایا تھا اور الزام علیہ ھونے کی بنیاد پر روایت پر جرح کی تھی۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا کہ: "ما لم یکن داعیۃ او کان وتاب او اعتضدت روایتہ بمتابع، و ھٰذا بیان ما رموا بہ"۔ الزام علیہ لوگوں کی وہ روایت لی جائے گی جو اُن کی الزام کی طرف نہ بلا رھی ھو۔ ۔ ۔الخ جی قاسم جی! حافظ کی بات سمجھ آ گئی یا نہیں؟ اور ہاں جی آپ طبقات ابن سعد، میزان الاعتدال ذھبی، معارف ابن قتیبہ کے الفاظ پی گئے ھیں، اُن کا جواب کون دے گا؟
  11. کتاب اس لئے لکھی گئی تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ عام بولے جانے والے کلمات میں کیا کفر ھے اور کیا نہیں ھے۔
  12. ابو مخنف میرے نزدیک غیر معتبر ھے مگر آپ تو اُسے بہت معتبر مانتے ہیں۔ اس لئے اُس کی بات مجھ پر نہیں بلکہ آپ پر حجت ھے۔ شہادتوں کا لیٹر لے جانے والے حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب بھی شاھد تھے تو ان کی شہادت تو اسلامی قانون کے مطابق تھی۔ اور ان کی شہادتوں میں بھی( جمع جموع+ شتم معاویہ + دعوت الی حرب+ آل ابو طالب کو ھی حکمرانی کا حق ھے) کے عناصر موجود ھیں بلکہ معاویہ کے عامل کا شہر سے اخراج بھی بیان شدہ ھے۔ باغی کی تعریف بھی آپ اپنی من پسند پیش کریں اور اپنے اسی ابومخنف کی روایات کے مطابق پرکھ لیں۔ اس سب کے باوجود جنابِ حجر کا اپنی بیعت پر قائم رھنے کا دعوٰی کیا وزن رکھتا ھے؟ ہاں وہ تجدید بیعت کرتے تو اور بات ھوتی۔ اور اگر مخالف شہادت پر نقصان پہنچنے کی بات ھے تو قاضی شریح کا کسی نے کیا بگاڑا؟ اگر قاضی کی شہادت میں اس کا اپنا مشاھدہ تھا اور دوسروں کے مشاھدہ کی نفی نہیں تھی۔ اخبارالطوال والے دینوری کو تنقیح المقال والے نے شیعہ لکھا ھے، اور جناب اس کی تردید کے گراؤنڈز پیش کریں۔ قاتلینِ عثمان پر لعنت کو حضرت علی پر لعنت و سب وشتم قرار دینے والے مہربانوں کا پتہ بھی چل گیا۔ اور حضرت علی پر معاویہ کی سب وشتم اور لعنت بھیجنے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی۔
  13. قاسم علی صاحب آپ نے (علیہ السلام) کے متعلق جھوٹ بولا ھے، الیاس قادری صاحب نے اسے منع کیا ھے، کفر نہیں کہا۔ آپ بتائیں کہ کتاب میں کس جگہ اسے کفر لکھا ھے؟ حضرات حسنین کریمین کے بہنوئی حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے ایک بیٹے کا نام ( معاویہ) رکھا اور امیر معاویہ کو خوش کیا۔ یہ معاویہ جناب عون و محمد کے سوتیلے بھائی اور حضرت زینب بنت فاطمۃ الزھراء کے سوتیلے بیٹے ھیں۔ پس امیر معاویہ کی رضا جوئی کے لئے یہ نام رکھنا بھی آل ابو طالب کی سنت ھے۔
  14. محترم!جھوٹ جب تک نہ بولو تمہارا کام نہیں چلتا۔ میں نے بارہ خلفاء والی روایت کے متعلق تین اقوال میں سے صرف ایک قول سے استدلال پیش کیا ہے۔ جی میں نے کب اس معنی والا قول لیا ہے،جو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ(آپ کے بارہ مسلسل خلفائے راشدین یا عادلین کی تعداد پوری ہوگئی)۔علی کا نام لے کربھی کیا یہی دیانت تمہیں ملی؟ میں نے تیسرا قول پیش کیا جس میں مسلسل کی بات ہی نہیں تھی اورسب کا عمل ہدایت اور دین حق پر لکھا ہے۔ اور ان میں حضرت معاویہ کا نام ہے۔اور ان کو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد خلافت راشدہ عادلہ عامہ حاصل ہے۔
  15. آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ کہنے لگے ۔ خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔ کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ آپ کی نقل کردہ تحریر سے پتہ چلا کہ حجر بن عدی حضرت عثمان کے قاتلوں کے خلاف بددعا برداشت نہیں کرتا تھا۔ اور اسی کو حبِ علی کا تقاضا سمجھتا تھا۔ظاہر ہے کہ جوشخص حضرت عثمان کے قاتلوں کے لئے بددعا برداشت نہیں کرتا وہ امیرمعاویہ کی حکومت کیونکر تسلیم کر سکتا ہے؟ آپ نے خود ہی نقل کیا ہے کہ حجر بن عدی حکمرانی کا حق صرف آل ابوطالب کیلئے مانتا تھا،اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خلفاء ثلاثہ سے بھی بغاوت رکھتا تھا۔ شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے کہ اس نے صلح حسن پر امام حسن کو شرم دلائی تھی ،پھر امام حسین کے پاس گیا وہاں سے بھی جواب ملا۔پس وہ حسنین کریمین کی صلح کا بھی باغی تھا۔ علی کی شتم و ذم نہ چھوڑنا کی روایت آپ نے جہاں سے لی ہے وہیں لوط بن یحییٰ کی شخصیت بطورراوی جلوہ گرہے،اور وہ جلا بھنا شیعہ ہے۔ آپ نے ام المومنین کا قول پیش کیا مگر سند صحیح نہ بتا سکے ۔ فتنے ختم ہونے کے بعد ام المومنین عائشہ صدیقہ نے فرمایا میں لوگوں کا معاملہ فتنے کے دور میں دیکھتی رہی یہاں تک کہ میری تمنا یہ ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میری عمر بھی معاویہ کو دے ۔(طبقات ابن عروبہ)۔
  16. آپ کی شہادتوں سے یہ ثابت نہیں ھوتا کہ حجر بن عدی امیر معاویہ کی حکومت کو نہ مانتا تھا اور اس کا باغی تھا؟
  17. مجھے جھٹلانے کے لئے اب تہذیب التہذیب کے متعلقہ مقام کا عکس آپ کے ذمہ پڑ چکا ھے۔ آپ عکس دیں اور دکھائیں کہ ابن حجر نے کان شدید التشیع کے الفاظ نہیں لکھے اور سعیدی جھوٹ بول رہا ھے۔
  18. جناب کا ترجمہ منجر بکفر ھونے کی وجہ سے ناجائز ھے۔
  19. کیا(یعمل بالھدیٰ و دین الحق) سے آپ کو جواب نہ ملا تھا؟
  20. تمہاری اب تک کی باتوں سے بھی یہی ثابت ھوتا ھے کہ حجر بن عدی معاویہ کی حکومت کا باغی تھا۔
  21. مجھے جھٹلانے سے آپ اپنے جھوٹ میں اضافہ کریں گے۔ اگر مجھے جھوٹا کہنےکا شوق ھے تو تہذیب التہذیب سے ابو عبداللہ الجدلی کی بحث پڑھ لیں۔ میری بات نہ ملے تو مجھے جھٹلائیں۔ ورنہ آپ خود ھی جھوٹے بنیں گے۔ شاباش ھمت ھے تو مجھے جھوٹا ثابت کرو۔
  22. جناب والا ابوعبداللہ الجدلی کو طبقات ابن سعد میں پھر تہذیب التہذیب عسقلانی میں " کان شدید التشیع" لکھا ھے۔ پھر تقریب التہذیب عسقلانی میں " رمی بالتشیع" لکھا گیا ھے۔ حافظ ذھبی نے میزان الاعتدال میں اسے بغض رکھنے والا شیعہ(شیعی بغیض) کہا ھے۔ ابن قتیبہ نے المعارف میں اس کا شمار غالی رافضیوں میں کیا ھے۔ ایسے شخص کی "شیعہ پرور روایت" کا کیا بھروسہ؟ پھر سب کی یہاں تفصیل آپ نے لعنت بھیجنے کی تھی، اس کے متعلق کوئی ثبوت؟
  23. یہاں سے بھی پسپا ہوگئے ؟ محترم آپ کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ فردِ جرم اور شہادتوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ اجتہاد ہے۔ کیا سمجھے؟؟