Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,020
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    231

Everything posted by Saeedi

  1. اگر حضرت معاویہ ، مولا علی کو حضرت عثمان سمجھتے تو یہ نہ کہتے کہ جب تک قاتلین عثمان کو قتل نہ کریں یا ھمارے سپرد نہ کریں اُس وقت تک ھم علی کی بیعت نہیں کرتے ؟ لہٰذا قاتلین عثمان پر لعنت بھیجنے کو حضرت علی پر سب و شتم کی بوچھاڑ کا نام دینا ھرگز درست نہیں ہو سکتا ۔ لکھی ھوئی گواھیوں کو ایک طرف رکھیں کیا حضرت وائل اور حضرت کثیر وغیرہ جو گواھی نامہ اٹھا کر گئے تھے یا حجر اور اس کے ساتھیوں کو لے کر گئے تھے تو انہوں نے اپنی گواھی یا اس گواھی نامہ کی تردید میں کچھ بولا تھا یا نہیں؟ جب حاکم کو سنگ زنی کر کے مسجد سے نکل کر کہیں چھپ کر جان بچانی پڑے تو بغاوت کی کوئی قسم ھے یا اطاعت کی؟ ابن ابی عاصم کی لعنت والی روایت میں خلف بن عبداللہ راوی مجہول ھے۔
  2. ابن حجر عسقلانی نے جو کچھ لکھا وہ میں نے تقریب و تہذیب سے لکھا تھا ۔ آپ اس میں ایک فضول بحث لے آئے جس سے اصل بات میں کوئی فرق نہ پڑا۔ ابن حجر نے اس راوی کو الزام علیہ تسلیم کیا ھے اور اسی بات سے ھم نے استدلال کیا تھا۔ باقی حوالے تبرعا تھے جن میں سے ذھبی، ابن سعد اور معارف کے حوالے آپ پر ادھار ہیں۔
  3. بات سمجھ نہیں آتی تو لکھنا چھوڑ دو۔ جھوٹ بول کر کیوں لعنت کے حق دار بنتے ہو۔ ایک کتاب ایک موضوع پر لکھی گئی ، اس میں اقوال کےکفر اور عدم کفر کی بات ہے تو اس میں جو مذکور ہوا وہ کفر ہی ہوگا،یہ جاہلانہ اصول کس کتاب میں لکھا ہے۔ کیا موضوعات کی کتاب میں صحیح یا ضعیف حدیث کا ذکر کرنے سے وہ حدیث بھی موضوع شمار ہوگی؟ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!!۔
  4. جناب! میں نے بھی اصل بنیاد تقریب التہذیب کی عبارت کو بنایا تھا اور الزام علیہ ھونے کی بنیاد پر روایت پر جرح کی تھی۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا کہ: "ما لم یکن داعیۃ او کان وتاب او اعتضدت روایتہ بمتابع، و ھٰذا بیان ما رموا بہ"۔ الزام علیہ لوگوں کی وہ روایت لی جائے گی جو اُن کی الزام کی طرف نہ بلا رھی ھو۔ ۔ ۔الخ جی قاسم جی! حافظ کی بات سمجھ آ گئی یا نہیں؟ اور ہاں جی آپ طبقات ابن سعد، میزان الاعتدال ذھبی، معارف ابن قتیبہ کے الفاظ پی گئے ھیں، اُن کا جواب کون دے گا؟
  5. کتاب اس لئے لکھی گئی تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ عام بولے جانے والے کلمات میں کیا کفر ھے اور کیا نہیں ھے۔
  6. ابو مخنف میرے نزدیک غیر معتبر ھے مگر آپ تو اُسے بہت معتبر مانتے ہیں۔ اس لئے اُس کی بات مجھ پر نہیں بلکہ آپ پر حجت ھے۔ شہادتوں کا لیٹر لے جانے والے حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب بھی شاھد تھے تو ان کی شہادت تو اسلامی قانون کے مطابق تھی۔ اور ان کی شہادتوں میں بھی( جمع جموع+ شتم معاویہ + دعوت الی حرب+ آل ابو طالب کو ھی حکمرانی کا حق ھے) کے عناصر موجود ھیں بلکہ معاویہ کے عامل کا شہر سے اخراج بھی بیان شدہ ھے۔ باغی کی تعریف بھی آپ اپنی من پسند پیش کریں اور اپنے اسی ابومخنف کی روایات کے مطابق پرکھ لیں۔ اس سب کے باوجود جنابِ حجر کا اپنی بیعت پر قائم رھنے کا دعوٰی کیا وزن رکھتا ھے؟ ہاں وہ تجدید بیعت کرتے تو اور بات ھوتی۔ اور اگر مخالف شہادت پر نقصان پہنچنے کی بات ھے تو قاضی شریح کا کسی نے کیا بگاڑا؟ اگر قاضی کی شہادت میں اس کا اپنا مشاھدہ تھا اور دوسروں کے مشاھدہ کی نفی نہیں تھی۔ اخبارالطوال والے دینوری کو تنقیح المقال والے نے شیعہ لکھا ھے، اور جناب اس کی تردید کے گراؤنڈز پیش کریں۔ قاتلینِ عثمان پر لعنت کو حضرت علی پر لعنت و سب وشتم قرار دینے والے مہربانوں کا پتہ بھی چل گیا۔ اور حضرت علی پر معاویہ کی سب وشتم اور لعنت بھیجنے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی۔
  7. قاسم علی صاحب آپ نے (علیہ السلام) کے متعلق جھوٹ بولا ھے، الیاس قادری صاحب نے اسے منع کیا ھے، کفر نہیں کہا۔ آپ بتائیں کہ کتاب میں کس جگہ اسے کفر لکھا ھے؟ حضرات حسنین کریمین کے بہنوئی حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے ایک بیٹے کا نام ( معاویہ) رکھا اور امیر معاویہ کو خوش کیا۔ یہ معاویہ جناب عون و محمد کے سوتیلے بھائی اور حضرت زینب بنت فاطمۃ الزھراء کے سوتیلے بیٹے ھیں۔ پس امیر معاویہ کی رضا جوئی کے لئے یہ نام رکھنا بھی آل ابو طالب کی سنت ھے۔
  8. محترم!جھوٹ جب تک نہ بولو تمہارا کام نہیں چلتا۔ میں نے بارہ خلفاء والی روایت کے متعلق تین اقوال میں سے صرف ایک قول سے استدلال پیش کیا ہے۔ جی میں نے کب اس معنی والا قول لیا ہے،جو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ(آپ کے بارہ مسلسل خلفائے راشدین یا عادلین کی تعداد پوری ہوگئی)۔علی کا نام لے کربھی کیا یہی دیانت تمہیں ملی؟ میں نے تیسرا قول پیش کیا جس میں مسلسل کی بات ہی نہیں تھی اورسب کا عمل ہدایت اور دین حق پر لکھا ہے۔ اور ان میں حضرت معاویہ کا نام ہے۔اور ان کو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بعد خلافت راشدہ عادلہ عامہ حاصل ہے۔
  9. آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ کہنے لگے ۔ خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔ کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ آپ کی نقل کردہ تحریر سے پتہ چلا کہ حجر بن عدی حضرت عثمان کے قاتلوں کے خلاف بددعا برداشت نہیں کرتا تھا۔ اور اسی کو حبِ علی کا تقاضا سمجھتا تھا۔ظاہر ہے کہ جوشخص حضرت عثمان کے قاتلوں کے لئے بددعا برداشت نہیں کرتا وہ امیرمعاویہ کی حکومت کیونکر تسلیم کر سکتا ہے؟ آپ نے خود ہی نقل کیا ہے کہ حجر بن عدی حکمرانی کا حق صرف آل ابوطالب کیلئے مانتا تھا،اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خلفاء ثلاثہ سے بھی بغاوت رکھتا تھا۔ شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے کہ اس نے صلح حسن پر امام حسن کو شرم دلائی تھی ،پھر امام حسین کے پاس گیا وہاں سے بھی جواب ملا۔پس وہ حسنین کریمین کی صلح کا بھی باغی تھا۔ علی کی شتم و ذم نہ چھوڑنا کی روایت آپ نے جہاں سے لی ہے وہیں لوط بن یحییٰ کی شخصیت بطورراوی جلوہ گرہے،اور وہ جلا بھنا شیعہ ہے۔ آپ نے ام المومنین کا قول پیش کیا مگر سند صحیح نہ بتا سکے ۔ فتنے ختم ہونے کے بعد ام المومنین عائشہ صدیقہ نے فرمایا میں لوگوں کا معاملہ فتنے کے دور میں دیکھتی رہی یہاں تک کہ میری تمنا یہ ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میری عمر بھی معاویہ کو دے ۔(طبقات ابن عروبہ)۔
  10. آپ کی شہادتوں سے یہ ثابت نہیں ھوتا کہ حجر بن عدی امیر معاویہ کی حکومت کو نہ مانتا تھا اور اس کا باغی تھا؟
  11. مجھے جھٹلانے کے لئے اب تہذیب التہذیب کے متعلقہ مقام کا عکس آپ کے ذمہ پڑ چکا ھے۔ آپ عکس دیں اور دکھائیں کہ ابن حجر نے کان شدید التشیع کے الفاظ نہیں لکھے اور سعیدی جھوٹ بول رہا ھے۔
  12. جناب کا ترجمہ منجر بکفر ھونے کی وجہ سے ناجائز ھے۔
  13. کیا(یعمل بالھدیٰ و دین الحق) سے آپ کو جواب نہ ملا تھا؟
  14. تمہاری اب تک کی باتوں سے بھی یہی ثابت ھوتا ھے کہ حجر بن عدی معاویہ کی حکومت کا باغی تھا۔
  15. مجھے جھٹلانے سے آپ اپنے جھوٹ میں اضافہ کریں گے۔ اگر مجھے جھوٹا کہنےکا شوق ھے تو تہذیب التہذیب سے ابو عبداللہ الجدلی کی بحث پڑھ لیں۔ میری بات نہ ملے تو مجھے جھٹلائیں۔ ورنہ آپ خود ھی جھوٹے بنیں گے۔ شاباش ھمت ھے تو مجھے جھوٹا ثابت کرو۔
  16. جناب والا ابوعبداللہ الجدلی کو طبقات ابن سعد میں پھر تہذیب التہذیب عسقلانی میں " کان شدید التشیع" لکھا ھے۔ پھر تقریب التہذیب عسقلانی میں " رمی بالتشیع" لکھا گیا ھے۔ حافظ ذھبی نے میزان الاعتدال میں اسے بغض رکھنے والا شیعہ(شیعی بغیض) کہا ھے۔ ابن قتیبہ نے المعارف میں اس کا شمار غالی رافضیوں میں کیا ھے۔ ایسے شخص کی "شیعہ پرور روایت" کا کیا بھروسہ؟ پھر سب کی یہاں تفصیل آپ نے لعنت بھیجنے کی تھی، اس کے متعلق کوئی ثبوت؟
  17. یہاں سے بھی پسپا ہوگئے ؟ محترم آپ کو شاید یہ علم ہی نہیں کہ فردِ جرم اور شہادتوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ اجتہاد ہے۔ کیا سمجھے؟؟
  18. آپ کو اتنا پڑھنے کے باوجود ابھی تک میرےموقف کا ہی پتہ نہیں چلا تو آپ نے جواب کیا دینا ہے!!۔
  19. منہاجی صاحب اللہ و رسول جس کے مولا ہیں ،تو علی بھی اُس کا مولا ہے۔ یہاںمولا کا معنی حبیب وناصر ہے،یارومددگار ہے۔ اور اگر مولا کا معنی سیدو آقا اور سردار لیتے ہو تو پھر حضرت علی کو باقی انبیاء کرام کا سید وآقا وسردار ماننا لازم آئے گااور یہ کفر ہے۔ حضور ﷺ عالمین کے مولا ہیں اور عالمین کے سید ہیں۔ مگر حضرت علی ؓ عالمین کے مولا ہیں مگر عالمین کے سید نہیں۔ کیا آپ لوگ اپنے موقف کے مطابق حضرت علیؓ کو عالمین کا مولا یعنی مولائے کائنات(آقائے کائنات) مانتے ہو یا نہیں؟
  20. جناب پہلے تو جناب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ حافظ حجر عسقلانی نہیں بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانی کے قول کی بات ہو رہی ہے،پہلے میں نے سمجھا کہ (ابن) کا لفظ سہوا چُوک گیا ہے۔ مگر ہر بار تو نہیں چوک سکتا ۔ اس سے آپ کی علمی حیثیت واضح ہو رہی ہے۔ جس بیچارے کو مصنف کا نام نہیں آتا،اُس نے اعتراض کیا خاک سمجھنا ہے!!۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں۔سکین کا مطالبہ سرِ دست پورا نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ متداول کتابیں ہیں، کوئی نایاب نہیں۔ حوالہ نہ ملے تو میں ذمہ دار ہوں۔
  21. جی محترم میں تو جناب کے محولہ بالا ریفرنسز سے ہی شہادتیں پیش کروں گا، مگر آپ تو بتائیں ناں کہ آپ نے حجر بن عدی کا مقدمہ امیرمعاویہ پر طعن کے لئے اٹھایا تھا تو صرف شہ سرخیوں پر اکتفاء کیوں کیا؟ امیرمعاویہ کی زیادتی اور حجر بن عدی کی مظلومی پیش کرنے کے لئے آپ نے فردِ جُرم اور شہادتوں کا تذکرہ کیوں ہضم کر لیا۔ ان کو پیش کئے بغیر آپ کا اعتراض ناتمام رہتا ہے۔ اپنے اعتراض کی تقریب تام کریں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اورآپ یہ ذمہ داری پوری کریں۔ یا تسلیم کریں کہ یہ آپ کے بس کا روگ نہیں اور آپ صرف مانگے تانگے کے حوالوں کو میک اپ کرکے پیش کرنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ پھر میں آپ کی محولہ بالا کتابوں سے یہ فردِ جرم اور شہادتیں پیش کروں گا۔اور تفصیل سے پیش کروں گا۔ وہ باقی آٹھ پوائنٹس پر خاموشی؟
  22. آپ باقی آٹھ پوائنٹس کے جواب سے عاجز ھیں، اس لئے باتیں بنا رھے ھیں۔ آپ نے حجر بن عدی کے کیس میں شہادتیں کیوں چھپائیں؟ آپ کا حق تھا کہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے۔
  23. میں نے 9 پوائنٹس سامنے رکھے تھے ،آپ نے تیسرے کے علاوہ کسی کو ہاتھ نہ لگایا۔ باقی آٹھ پوائنٹس کا جواب کون دے گا؟ باقی جہاں آپ کو حجر بن عدی کی داستان لکھی ملی ھے وہیں شہادتیں بھی مل جائیں گی، آپ اپنے مآخذ کو دوبارہ پڑھیں۔