Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,069
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    250

Everything posted by Saeedi

  1. جناب قاسم صاحب! میں نے پوری بحث کی کلید پیش کی تھی جس کا آپ جواب دینے کی بجائے سائیڈ سے گزر گئے۔ میں بات کا رنگ بدل کر پھر پیش کر رہا ہوں۔ جواب ضرور دینا:۔ کیا عمار کو قتل کرنے سے قاتل فاسق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر عمار کا قاتل ہونے سے بندہ فاسق ہوجاتاہے تو اُس کا صحابی ہونا اور قاتل ِ عمار ہونا بھی تو اُسی کے قول سے ہی ثابت ہوتا ہے تو وہ دونوں باتیں بھی ایک فاسق کا بیان ہونے کی وجہ سے غیرمعتبر ہو گئیں یا نہیں؟
  2. جناب آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امیر معاویہ بھی آپ کی طرح مروان کو طلحہ رضی اللہ عنہ کا قاتل سمجھتے تھے اوروہ کسی نامعلوم تیر انداز کو قاتل نہیں سمجھتے تھے ورنہ آپ کا اعتراض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر نہیں ہو سکے گا جو آپ کا مطلوب ہے ۔
  3. جناب آپ نے جس روایت کی سند مانگی ھے اس پر میرا استدلال موقوف نہیں تھا، میرا استدلال اس سے پہلے مکمل ھو چکا تھا ۔ یہ روایت تو میں نے بطور تائید مزید پیش کی تھی اور تمہارے اصول کے مطابق(جس کے تحت تم نے وہابیوں کے حوالے میرے خلاف پیش کئے) تمہارے ھم مسلک کی کتاب (الصحیح من سیرۃ علی) سے روایت پیش کی جس نے صحیح مان کر کتاب میں لکھی تھی ۔ میں نے ابوالغادیہ کے قاتل ھونے کے دعوے کو اُس کے زعم کے ساتھ مقید بتایا ہے اور اس کو ایک ناکام قاتلانہ حملہ کہا ہے تمہارے موقف کے مطابق تو ابوالغادیہ حقیقت میں ایک قاتل و ظالم و فاسق شخص ھے۔ تو ایسے شخص کا بیان از روئے قرآن معتبر ھی نہیں ھے۔ پس تمہارا استدلال اپنے ھی اصول سے بے بنیاد ھو گیا ہے ۔
  4. منہاج القرآن والوں (بشمول قاسم علی غلام احمد)سے ایک سوال ہے کہ امیرمعاویہ ؓکے ایمان،صحابیت،اجتہاد اور مغفرت کے متعلق آپ حضرات کا جماعتی مؤقف کیا ہے؟
  5. کیا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ پر اعتراضات کرنے سے تمہارے شیخ الاسلام کا دفاع ھو جائے گا؟
  6. یہ جھوٹ کیوں بولا؟حالانکہ دونوں میں سے ہر ایک نے اقرار کیا۔ "یقول کل واحد منھما انا قتلتُہ(ان میں سے ھر ایک کہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے)" ۔ آپ تو فیضی کی بیان کردہ روایت پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ۔ باقی فیضی مجھ پر حجت نہیں ،وہ آپ کا اور آپ اُس کے،ہم اُس کو کچھ نہیں جانتے۔ ہاں!اِس صحیح روایت کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔اس کے معارض روایت کو قبول کرنا اور اِسے ترک کرنا سینہ زوری ہے۔ یہاں تعارض کاعلمی حل تطبیق ِ روایات ہی ہے۔اور تطبیق وہی ہے کہ ایک(ابوالغادیہ) نے قاتلانہ حملہ کرکے جناب عمارؓ کو زخمی کیا مگر اپنے گمان میں سمجھا کہ میں نے قتل کیا ہے۔مگر قتل بعد والے (ابن حوی سکسکی )نے کیا اور سر بھی اُسی کے قبضہ میں تھا اور بیانِ نزعی کا گواہ بھی وہی تھا ۔ بعض اوقات قتل کرنے کے مدعی کی بات بھی مغالطہ پر مبنی ہو سکتی ہے،مثلا: سورۃ النساء:157(وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ)۔(اور اُن یہود کے اس کہنے پر کہ:ہم نے قتل کیا مسیح ابن مریم کو۔اور اُنہوں نے اُس کو قتل نہ کیا اور نہ اُسے سولی دی،بلکہ اُن کو اشتباہ میں ڈال دیا گیا)۔ پس لازم نہیں کہ ہر مدعی قتل حقیقت میں بھی قاتل ہو۔ اِس حدیث کو پڑھیں :۔ لا تمس النار مسلما رآني أو رأى من رآني ترمذی، مشکوۃ جس مسلم نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا تو اُسے دوزخ نہیں چھوئے گی۔ آپ کے اتھارٹی البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہنے کے بعد تراجعات البانی میں رجوع کرتے ہوئے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اس حدیث کے علاوہ خود قرآن پاک میں (وکلا وعداللہ الحسنیٰ )۔ جس میں فتح مکہ سے پہلے والے اور بعد والے (طلقاء)صحابہ سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اِس آیت اور حدیث کو سامنے رکھیں تو ہماری بیان کردہ تطبیق ہی ماننی پڑے گی۔اور ابوالغادیہ کو صحابی ماننے والے اُسے بیعت رضوان میں شامل مانتے ہیں۔اور اصحاب الشجرۃ کو جنتی کہا گیا ہے(لا یدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرۃ)۔ اور تم شیعوں کی کتاب الصحیح من سیرۃ علی میں لکھی حدیث سے نتیجہ نکلتا ھے کہ عمار کو کوئی صحابی قتل نہیں کر سکے گا : الصحيح من سيرة أنه (صلى الله عليه وآله) قال لعمار: "لا يقتلك أصحابي، ولكن تقتلك الفئة الباغية"(1). 1- السيرة النبوية لابن هشام ج2 ص142 و (ط مكتبة محمد علي صبيح) ج2 ص345 وتاريخ الخميس ج1 ص344 والأعلاق النفيسة ووفاء الوفاء ج1 ص329 والسيرة الحلبية ج2 ص72 و (ط دار المعرفة) ج2 ص262 وقاموس الرجال (الطبعة الأولى) ج7 ص118 وجواهر المطالب لابن الدمشقي ج2 ص43 وبحـار الأنوار ج30 ص238 وراجع ج33 ص12 وخـلاصـة عبقات الأنوار ج3 ص39 و 50 والدرجات الرفيعة ص259 وعن العقد الفريـد ج2 ص289 وسبل الهدى والرشاد ج3 ص336 والمسترشد ص658 وغوالي اللآلي ج1 ص113 وكشف الغمة ج1 ص260. وراجع: الغديـر ج9 ص21 و 22 و 27 عن مصادر كثيرة.
  7. یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس لئے کہ یہ روایت آپ کی روایت کے لئے متعارض تھی ۔ قتل کرنے کے دو دعویٰ دار صحیح سند سے ھم نے پیش کئے ہیں ، آپ ایک کا دعویٰ پیش کر رہے ہیں ۔ جبکہ ھم نے دو کے دعوے پیش کئے تھے۔ اذا تعارضا تساقطا(جب دو دعوے متعارض ھوں تو دونوں ساقط) سے کیا مراد ھے؟
  8. جناب آپ پہلے ایک جھوٹ ایجاد کرتے ہیں پھر اسے میری طرف منسوب کرتے ہوئے مجھ سے اس کا ثبوت مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میں نے محمد بن ابوبکرؓ کو حضرت عثمان کا قاتل نہیں کہا بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے اسے قاتلوں کا لانے والا بتایا تھا ۔ منقول ھے کہ آپ کے بیٹے قاسم بن محمد بن ابوبکرؓ دعا مانگتے تھے کہ : اللہم اغفر لابی ذنبہ فی عثمان(اے اللہ میرے باپ کا حضرت عثمان والا گناہ بخش دے)۔ اور منقول ہے کہ امام حسن علیہ السلام جناب محمد بن ابوبکرؓ کو فاسق کہا کرتے تھے ۔ آپ لوگوں کے مطابق ایسے فاسق کو مصر کا گورنر بنانے سے جناب علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ خاصہ پر سوالیہ نشان لگتا ہے!!
  9. میرے مکرم! میں نے مروان کو بے گناہ ڈیکلیئر نہیں کیا جو آپ کا یہ مطالبہ درست ھو۔ میرا مقصد یہ تھا کہ اس بات میں دو قول ملتے ہیں کہ حضرت طلحہ کو مروان کا تیر لگا تھا یا نامعلوم شخص کا تیر لگا تھا۔ جب قول دو ھوں گے تو دونوں قول بیان کرنے والے مصنفین کو آپ ناصبی کیسے اور کیوں کہ رھے ھیں، کیا علامہ بدرالدین عینی بھی جناب کے معیار کے مطابق ناصبی ھے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک حضرت طلحہ کو مروان کے تیر مارنے کا قول پہنچا تھا اور سہم غرب (نامعلوم تیر) کا قول نہ پہنچا تھا؟
  10. آل طلحہ کی FIR کا آپ سے اس لئے کہا تھا کہ آپ آج مروان کو یقین کے ساتھ تیر انداز نامزد کر رہے ہیں مگر آل طلحہ کو یہ یقین نہیں تھا ۔ ابن کثیر نے مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا تو جناب نے اسے ناصبی قرار دے دیا ۔ کیا اور جس جس نے بھی مروان کے علاوہ نامعلوم تیر انداز کا قول لکھا ھے، وہ سب بھی ناصبی ھیں؟
  11. میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔ اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟
  12. آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ دونوں کے اقراری دعوے نہ ھوتے تو فیضی کی روایت میں یہ کیوں لکھا ھوتا کہ "یقول کل واحد منھما انا قتلتُہ(ان میں سے ھر ایک کہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے" ۔ آپ تو فیضی پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ۔ آپ ایک طرف ابوالغادیہ کا دعویٰ بلا دلیل مان رہے ہیں اور دوسری طرف سکسکی کا دعویٰ بلا دلیل مسترد کر رہے ہیں ۔ بلکہ مرنے سے عین پہلے کے الفاظ اور کوئی نہ بتا سکا اور جس نے بتائے تو اس کی بات آپ بلا دلیل ٹھکرا رھے ھیں اور فیضی نے یہ روایت قبول کرتے ہوئے لکھی تھی اور اس کو مسترد نہ کر سکا تھا ۔ اور ھم ابوالغادیہ کے الفاظ اُس کے گمان پر محمول کرتے ہیں اور ابن حوی سکسکی کے دعویٰ کو مدلل ھونے کی وجہ سے حقیقت پر ۔ 1۔ سر قلم کر کے لانے والا وھی ھے۔2۔ بیان نزعیdying declaration کا گواہ وھی ھے۔ 3۔ "میرے صحابی اے عمار تجھے قتل نہ کریں گے" کی روایت کے موافق ھے۔4۔ قرآن میں سب صحابہ کے لئے الحسنیٰ اور حدیث میں سب صحابہ کے لئے طوبیٰ کی خوشخبری کا بھی یہی مقتضیٰ ھے۔ اور بھی دلائل ہیں مگر "اَینٹی صحابہ " کے لئے فی الحال یہی کافی ہیں ۔
  13. اس مقدمہ میں آپ کا موقف روافض والا ہے، کیا میں آپ کے مقابلے میں اُن کے حوالے پیش کروں تو وہ آپ پر حُجت ھوں گے؟ آپ کو رافضی حوالے پیش کرتے ہیں، اس لئے آپ کا اپنا مطالعہ نہیں ہے ورنہ سارا مقدمہ پڑھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ مولا علی مرتضیٰ چل کر عثمان رضی اللہ عنہ کے وارث سے اس کا بیان لینے آئے تھے یا نہیں؟ اور محمد بن ابوبکرؓ نے تسلیمی بیان کیا دیا؟ اور زوجہ عثمان نے اسے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا؟ آپ آل طلحہ کی مروان کے خلاف FIR پیش کریں اور میں یہ حوالہ جناب کے حوالے کر دوں گا ۔
  14. جناب آپ نے طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی وارث سے مروان کو الزام علیہ بنائے بغیر اُسے گورنر بنانے کے فعل کو خلافت عادلہ کی نفی کی بنیاد بنایا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے جناب کے بارے مسلمہ قاعدہ کلیہ کو الزاما جناب پر لوٹایا ھے ۔ ۔ ۔ میرا وہ مسلک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا مسلک آپ کو مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جناب مرتضیٰ مشکل کشا کو جو FIR پیش ھوئی اُسے پڑھو۔ ۔ ۔ وارثان طلحہ کی ایف آئی آر کی سند پیش کرو تو آپ کو آپ کی مطلوبہ سند بھی پیش کر دیں گے انشاءاللہ ۔
  15. جناب والا جب ثقہ راویوں سے مروی ھے کہ دو بندے حضرت عمارؓ کے قتل کے بزعم خویش مدعی ہیں۔ (شرح خصائص علی از ظہور فیضی: رقم حدیث:159)۔ تو ثابت کریں کہ کس کے قاتلانہ حملے سے حضرت عمار کی فی الواقع موت واقع ھوئی؟ ابھی لاش کے ٹھنڈے ھو جانے والی دلیل آپ کی غلط ھو چکی ۔ آپ کے ساتھی ظہور فیضی اپنی اسی کتاب کے صفحہ888 پر ابوالغادیہ کی بجائے ابن جوی کے دعویٰ کے ثابت ھونے کی روایت پیش کر کے اُسے برقرار رکھتے ہیں ۔
  16. آپ کا اپنا نشان زدہ حصہ(میں نے اسے ایسی تلوار ماری کہ ٹھنڈے ہوگئے) آپ کی روایت کی سچائی پر بہت بڑاسوالیہ نشان(؟) ہے۔کیونکہ طب قانونی کی کتابوں میں پوسٹ مارٹم کے باب میں لکھا ہوا ملتاہے کہ( مرنے کے ساتھ ہی جسمانی درجہ حرارت 1.6 ڈگری فیرن ہائیٹ (0.89 ڈگری سینٹی گریڈ) فی گھنٹہ کی شرح سے کم ہونے لگتا ہےیہاں تک کہ وہ ارد گرد کے درجہ حرارت جتنا ہوجاتا ہے۔ )تلوار مارتے ہی ٹھنڈے ہو جانے کے الفاظ ہرگز صحیح نہیں ہو سکتے۔
  17. اس کا اصولی جواب تو میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ آپ کی روایت میں قتل سے مراد قاتلانہ حملہ ہے اور ابوالغادیہ سے قتل کی کوشش تو منقول ہے۔عمار کی موت کی تصدیق کرنا ابوالغادیہ سے منقول نہیں۔اورکوئی بھی شخص مرکر گرتے ہی فوری طور پرٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔ کیاآپ کے نزدیک ابوالغادیہ کے صحابی ہونے پر اجماع ہے؟ کیا آپ کے نزدیک ابوالغادیہ کے قاتل عمارؓ ہونے پر اجماع ہے؟ آپ اقوال رجال اور ضعیف حدیث میں اختلاف کے وقت کس کو ترجیح دیتے ہیں؟
  18. قتلِ عثمان کی ایف آئی آر ہوچکی اور قاتلوں کا شریکِ کار بھی تسلیمی بیان دے چکا۔ اب حضرت علی مرتضیٰ نے عثمان کے خون کاقصاص کیوں نہ لیا؟ اگر یہ خود ہی قصاص لے لیتے تو جمل وصفین کی جنگوں کا موقع ہی پیش نہ آتا۔ آپ جن جنگوں کو دھوکہ پر مبنی قرار دے رہے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ان جنگوں کو تاویلِ قرآن پر مبنی بتایا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ اجتہادی جنگیں ہیں اوران کو دھوکہ پر مبنی بتانا حدیث کے خلاف ہے۔ اور نواب صدیق حسن بھوپالی کا حوالہ کسی غیرمقلد کے سامنے پیش کرنا ،میں اس کو کچھ نہیں جانتا۔
  19. بات یہ ہے کہ تاریخ الخلفاء کے عربی الفاظ (وتسمى بالخلافة)کا ترجمہ مترجم نے درست نہ کیا تھا، (اورخلافت سے موسوم کیا گیا )کی بجائے (اپنے آپ کو خلیفہ سے موسوم کیا) کے ترجمہ سے جو غلط فہمی پیدا ہو رہی تھی وہ میں نے طبری کی روایت سے کلیئر کی اگرچہ آپ کے اوپر سے گزر گئی ہے۔ ابن کثیر نے دوسرا قول لکھا ہے کہ مروان کے علاوہ حضرت طلحہ کوکسی اور کا تیر لگاتھا۔اور ابن کثیر نے اُسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔اگر معاملہ اتنا واضح ہوتا تو حضرت طلحہ کے وارث کسی کو قصاص کے لئے نامزدکرتے۔ اگر حضرت معاویہ کے سامنے حضرت طلحہ کے کسی وارث نے مروان کو قصاص کے لئے نامزد کیا ہو اور حضرت معاویہ نے اس کے بعد مروان کو گورنر بنایا ہوتو ثبوت پیش کرو۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟
  20. مکرمی جناب قاسم صاحب! آپ کا یہ مطالبہ غلط ہے کیونکہ حضرت عمار کے قاتل کا صحابی نہ ہونا حضرت عمار کے لئے بھی فضیلت ہے اور صحابہ کرام کے لئے بھی فضیلت ہے۔اور فضیلت کے لئے روایت کا صحیح ہونا لازمی نہیں بلکہ ضعیف روایت بھی کافی ہے۔ اگرچہ اس سے ارادہ قتل یا قاتلانہ حملہ کی نفی نہیں ہوتی۔
  21. پہلے آپ نے قصاص عثمان کے مطالبہ کے غلط ھونے کی وجہ بتائی تھی : حضرت علی کو حضرت عثمان کے قتل میں شریک جاننا۔ اب آپ مطالبہ قصاص عثمان کے غلط ھونے کی پہلی وجہ کو باطل کرتے ہیں اور وجہ بتاتے ہیں وارثوں کا ایف آئی آر درج نہ کرانا۔ اس سلسلے ميں عرض ھے کہ مدینہ شریف میں دشمنانِ عثمان رضی اللہ عنہ دندناتے پھر رھے تھے اور پسرانِ عثمان اپنی جان بچاتے اور چھپتے پھررہے تھے ۔ سترہ بندوں نے رات کو نماز جنازہ ادا کی ۔ F. I. R درج کرانے والے کا کیا حشر ھوتا۔ بہرحال جنابِ عدالت مآب حضرتِ اقضیٰ مولا علی مرتضیٰ خود ھی حضرت نائلہ زوجہ عثمان کا بیان لینے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا؟ جواب آیا کہ میں نہیں جانتی وہ دو شخص تھے اُن کے ساتھ محمد بن ابوبکرؓ تھا ۔ ۔ ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکرؓ کو بلایا، اس نے تصدیق کی ۔ پھر حضرت نائلہ نے کہا کہ قاتلوں کو یہی اندر لایا تھا ۔ اب فرمایا جائے کہ وارث کی طرف سے FIR بھی ھو گئی اور گواہ بھی گزر چکا تو اب تو عثمان کے خون کا قصاص دلوانے کا مطالبہ کرنے میں ھر شہری حق بجانب تھا۔
  22. 1 مستدرک حاکم اور طبقات کبریٰ میں حضرت عمارؓ کے بیک وقت تین قاتل ہونے کی روایت موجود ہے۔(عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَتِسْعِينَ سَنَةً، وَكَانَ أَقْدَمَ فِي الْبِلَادِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَارِثِ الْخَوْلَانِيُّ، وَشَرِيكُ بْنُ سَلَمَةَ فَانْتَهُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا وَهُوَ، يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتُمُونَا حَتَّى تَبْلُغُوا بِنَا سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى الْحَقِّ وَأَنْتُمْ عَلَى الْبَاطِلِ» ، فَحَمَلُوا عَلَيْهِ جَمِيعًا فَقَتَلُوهُ)۔تینوں نے عمار ؓ پر بیک وقت حملہ کرکے اُسے قتل کر دیا۔ ان تین میں ابوالغادیہ کا نام نہیں ہے۔ 2 البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں پہلے یہ لکھا ہے:۔فَأَمَّا أَبُو الْغَادِيَةِ فَطَعَنَهُ، وأما ابن جوى فَاحْتَزَّ رَأْسَهُ۔ ابوالغادیہ نے نیزہ مارا،ابن حوی نے سر قلم کیا۔ البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں بعد میں یہ بھی لکھا ہے۔(وَكَانَ لَا يَزَالُ يَجِيءُ رَجُلٌ فَيَقُولُ لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرٍو: أَنَا قَتَلْتُ عَمَّارًا. فَيَقُولُ لَهُ عَمْرٌو: فَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ فَيَخْلِطُونَ فِيمَا يُخْبِرُونَ، حَتَّى جَاءَ ابْنُ جَوْی فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةْ ... مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ ۔فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: صَدَقْتَ أَنْتَ، إِنَّكَ صَاحِبُهُ)۔یعنی جو بھی معاویہ اور عمرو کے پاس آکرکہتا کہ میں نے عمارؓ کو قتل کیا ہے تو عمرو اُس سے پوچھتا کہ جب تونے اُسے قتل کیا تو تُو نے اُسے کیا کہتے سنا؟تو وہ خلط ملط کرنے لگتے(بوکھلا جاتے) ،یہاں تک کہ ابن حوی (سکسکی) آیا تو اُس نے کہا۔ اُسوقت میں نے اُسے یہ کہتے سنا کہ:۔ آج ہم اپنے پیاروں سے ملیں گے۔احمد سے اور آپ کے یاروں سے ملیں گے۔ پس عمرو نے اُس کو کہا: تو سچ کہہ رہا ہے اورتو ہی اُس کا قتل کرنے والا صاحب ہے۔ اس روایت سے پتہ چلا کہ ابوالغادیہ کاقاتل ِ عمار ؓہونے کا دعویٰ ابوالغادیہ کا اندازہ تھا اور عمارؓ تو ابھی زندہ تھے اور کلامِ محبت فرما رہے تھے کہ ابن حوی سکسکی نے سرکاٹ کراُنہیں قتل کیا۔ 3 حافظ ابن حجر عسقلانی نے ابویعلیٰ کے حوالہ سے روایت لکھی ہے کہ ابوالغادیہ اور ابن حوی دونوں اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔الاتحاف الخیرہ اور المطالب العالیہ میں ابن حجرعسقلانی نے ابوالغادیہ کی زبان سےروایت یوں نقل فرمائی ہے کہ(7386 / 5 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ وَلَفْظُهُ: عَنْ أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: "حَمَلْتُ عَلَى عَمَّارِ بْنِ ياسر يوم صفين، فَأَلْقَيْتُهُ عَنْ فَرَسِهِ وَسَبَقَنِي إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أهل الشام فاجتز رَأْسَهُ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي الرَّأْسِ، وَوَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، كِلَانَا يَدَّعِي قَتْلَهُ، وَكِلَانَا يَطْلُبُ الْجَائِزَةَ عَلَى رَأْسِهِ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رسولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ: تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، بَشِّرْ قاتل عمار بالنار. فتركته مِنْ يَدَي، فَقُلْتُ: لَمْ أَقْتُلْهُ، وَتَرَكَهُ صَاحِبِي مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: لَمْ أَقْتُلْهُ)۔ اب ابوالغادیہ کے قاتلانہ حملہ کے بعد عمارؓ کے زندہ ہونے اور کلام کرنے کا ثبوت سننے کے بعد ابوالغادیہ کا یہ کہنا کہ (میں نے اسے قتل نہیں کیا) درست ہو گیا مگر ابن حوی سکسکی کا اپنے بیان سے منحرف ہونا جھوٹ کہا جا سکتا ہے۔
  23. منہاج القرآن کی جتنی مسجدیں ہیں سب میں عیسائیوں کو بلاکرہرسال کرسمس مناؤ اور اُن کی مشرکانہ عبادت کراؤ تاکہ تمہاری منہاجی سنت کا مسلمانوں کو پتہ چلے اور اُن کو بتاؤ کہ یہودونصاریٰ کوبھی کافروں میں شمار نہ کرو۔ یہ بھی بیلیورزہیں اور یہ نان بیلیورز نہیں۔
  24. ۔۱۔ فضائل بشمول معجزات وکرامات کے لئے ضعیف یا مجروح ومطعون راوی کی روایت مقبول ہوتی ہے مگر مطاعن یا افضلیت کے اثبات کے لئے نہیں ہوتی۔اور اگر فضائل کے باب میں ایسی روایت آ جائے جس میں طعن کی بات نظر آئے تو طعن والے مقام میں علماء تاویل کرتے ہیں۔ شیعہ کا لفظ کئی معنوں میں آیا ہے مگر جب اسے الزام کا نام دیں تو معنی کوئی اچھا تو نہیں لیا جائے گا ورنہ خوبی کو تو کوئی الزام نہیں کہتا۔ باقی ایسے الزام علیہ کی وہ روایات جو الزام پروری کریں وہ کیونکر معتبر مانی جا سکتی ہیں؟ ۔۲۔ سلیمان علیہ السلام کے صحابہ کرام تو چیونٹی پر بھی جان بوجھ کر ظلم نہیں کرتے تھے۔سورۃ النمل:۱۸۔قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ۔(بڑی چیونٹی بولی: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ،سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں) کیا ہمارے نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام کی تربیت اُتنی بھی نہ کر سکے جتنی سلیمان علیہ السلام نے اپنے صحابہ کرام کی تربیت کی تھی؟صحابہ کرام سے لاشعوری طور پر ،اجتہادی وتاویلی طور پر سرزد ہونے والے افعال میں بھی زیادتی کی صورت نظر آئے گی ۔ ۔۳۔ کیا آپ نے بحوالہ قرطبی یہ تسلیم نہیں کیا کہ حضرت عثمان کا بیٹا ابان جنگ جمل میں حضرت عائشہ وطلحہ وزبیر کے ساتھ تھا۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کی تھی۔ اب بیعتِ علی کے بعد وہ دونوں پسرِ عثمان کے ساتھ قصاصِ عثمان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کی بیان کردہ دونوں باتیں(بیعت علی کریں، عثمان کا بیٹا قصاص کا طالب ہو) یہاں پائی جاتی ہیں ،اب آپ بتائیں کہ قصاص عثمان کا مطالبہ اب کیونکر ناجائز ہوگا؟