Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,070
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    250

Everything posted by Saeedi

  1. ۔۱۔ فضائل بشمول معجزات وکرامات کے لئے ضعیف یا مجروح ومطعون راوی کی روایت مقبول ہوتی ہے مگر مطاعن یا افضلیت کے اثبات کے لئے نہیں ہوتی۔اور اگر فضائل کے باب میں ایسی روایت آ جائے جس میں طعن کی بات نظر آئے تو طعن والے مقام میں علماء تاویل کرتے ہیں۔ شیعہ کا لفظ کئی معنوں میں آیا ہے مگر جب اسے الزام کا نام دیں تو معنی کوئی اچھا تو نہیں لیا جائے گا ورنہ خوبی کو تو کوئی الزام نہیں کہتا۔ باقی ایسے الزام علیہ کی وہ روایات جو الزام پروری کریں وہ کیونکر معتبر مانی جا سکتی ہیں؟ ۔۲۔ سلیمان علیہ السلام کے صحابہ کرام تو چیونٹی پر بھی جان بوجھ کر ظلم نہیں کرتے تھے۔سورۃ النمل:۱۸۔قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ۔(بڑی چیونٹی بولی: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ،سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں) کیا ہمارے نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام کی تربیت اُتنی بھی نہ کر سکے جتنی سلیمان علیہ السلام نے اپنے صحابہ کرام کی تربیت کی تھی؟صحابہ کرام سے لاشعوری طور پر ،اجتہادی وتاویلی طور پر سرزد ہونے والے افعال میں بھی زیادتی کی صورت نظر آئے گی ۔ ۔۳۔ کیا آپ نے بحوالہ قرطبی یہ تسلیم نہیں کیا کہ حضرت عثمان کا بیٹا ابان جنگ جمل میں حضرت عائشہ وطلحہ وزبیر کے ساتھ تھا۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کی تھی۔ اب بیعتِ علی کے بعد وہ دونوں پسرِ عثمان کے ساتھ قصاصِ عثمان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کی بیان کردہ دونوں باتیں(بیعت علی کریں، عثمان کا بیٹا قصاص کا طالب ہو) یہاں پائی جاتی ہیں ،اب آپ بتائیں کہ قصاص عثمان کا مطالبہ اب کیونکر ناجائز ہوگا؟
  2. جناب ابوالغادیہ کے علاوہ اور لوگ بھی آپ کے پیش کردہ حوالہ میں موجود تھے،وہ سب کہاں چلےگئے؟ پھر ابوالغادیہ سے قاتلانہ حملہ کرکے زخم پہنچنا اور گرنا آپ کے حوالہ میں تھا، سر قلم کرکے موت کے گھاٹ اتارنا دوسرے بندے کا کام لکھا تھا۔ آپ کا پیش کردہ مفصل حوالہ موجود ہے جو اجمالی حوالوں کی تٖفصیل کرے گا اور (لا یقتلک اصحابی) کی ضعیف روایت کی تائید کرتا رہے گا۔ قاتلانہ حملہ کرنا اور سر قلم کرکے موت کے گھاٹ اتارنا میں بہرحال فرق ہے۔
  3. جناب والا! یہ درست بات نہیں کہ معاویہ نے خود حکمین کے فیصلہ کے بعد کوخود کو خلیفہ سے موسوم کیا ۔ہاں ! یہ درست ہے کہ تاریخ طبری وغیرہ میں لکھا ہے کہ عمرو اوراہل شام حکمین کےفیصلے سے واپس معاویہ کے پاس پہنچے تو(سَلَّمُوا عَلَيْهِ بالخلافة) اُنہوں نے اُس کو خلیفہ کہہ کر سلام کیا۔تاہم طبری نے اس سند یوں(قَالَ أَبُو مخنف: حَدَّثَنِي أَبُو جناب الكلبي أن عمرا وأبا مُوسَى) بیان کی۔اور ابومخنف کی بات پر ہمیں کتنا بھروسہ ہے، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ پھر ہماری گفتگو مطلق لفظِ خلیفہ میں نہیں تھی(جو بمعنی حاکم ہے) بلکہ عادل وراشد خلیفہ ہونے کے متعلق تھی ۔ رہا صلحِ حسن سے پہلے کا معاملہ تو وہ تاویل(اجتہاد) کی خطا ہے،اور اُس وقت جناب معاویہ اپنے اجتہاد وتاویل میں خطا کے باعث بغاوت کے مرتکب تھے۔
  4. جی قاسم علی صاحب! اِتنی دھاندلی نہ کریں۔آپ نے خود ہی جو ریفرنس دیا ہے،وہ بھی دیکھ لیں۔ پھر آپ کا حوالہ اُنہیں زخمی کنندہ بتا رہا ہے ، سر کو بدن سے جدا کرکے قتل کرنے والا کسی اور بتا رہا ہے۔ پھر اگر اسی ملزم کو ہی مجرم قرار دینے کی ضد ہےتو جان لو کہ اس کے صحابی ہونے میں بھی اختلاف ہے چنانچہ ابن عساکر نے لکھا ہے کہ:۔ [10113] يسار بن سبع أبو الغادية- بالغين المعجمة- المزني، ويقال: الجهني:۔ .له صحبة، وقيل: لا صحبة له اورآپ جانتے ہی ہوں گے کہ احتمال آ جائے تو استدلال کا کیا بنتا ہے؟
  5. حضرت ابن عباس ؓ نے مولا علی علیہ السلام سے کہا کہ قسم بخدا ابوسفیان کا بیٹا معاویہ تم پر غالب آ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو ناحق (ظلما) مارا جائے تو بے شک ہم نے اس (مظلوم مقتول)کے وارث کو قابو دیا۔ یہ مظلوم مقتول کے وارث کو قابو دینا :اگر مطالبہ قصاص سے متعلقہ نہیں تو آپ ہی عقدہ کشائی فرمائیں کہ قابو دینے سے کیا مراد ہے؟ حضرت علی علیہ السلام (بحیثیت حاکم )سے قتلِ عثمان کے قصاص کا ہی نہیں بلکہ ہر مقتول مظلوم کے قصاص کا حق دلانے کا مطالبہ کیا جا سکتا تھا۔اس مطالبہ کو غلط کہنا ہی غلط ہے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو حضرت علی کے نمائندے جناب قعقاع نے (بلوائیوں کا زور ٹوٹنے تک) تعجیلِ قصاص کی بجائے تاخیرِ قصاص کے لئے قائل کر لیا تھا۔ جس روایت میں حضرت زبیر کو حضرت علی کے متعلق(تقاتلہ و انت لہ ظالم) فرمایا گیا،اُس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عبدالملک الرقاشی ہے۔جو جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔پھراس کا استاد عبدالملک بن اعین کوفی ہے وہ بھی شیعی ہے۔ ضعیف روایت ہے تو اس سے کیا ثابت کرو گے؟ ضعیف روایت ہے ،نیزخون ناحق کے قصاص دِلوانے کے مطالبہ کو ظلم کہنا ہرگز درست نہیں۔ مشکل الآثارمیں امام طحاوی نے حدیث شریف لکھی جس میں ہے کہ: ان رسول اللہ ﷺ لما بلغہ ان عثمان قد قتل، فکانت بیعۃ الرضوان۔یعنی جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ تحقیق عثمان شہید ہوگئے تو پھر بیعتِ رضوان منعقد ہوئی۔ جس عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام سے لڑنے مرنے کی بیعت لی اور اللہ نے رضامندی کا پروانہ دیا،آج کے کلمہ گو کے نزدیک اُس عثمان کے خون کے قصاص کا مطالبہ ہی غلط ہو،کیا یہی اسلام ہے؟!!
  6. یسار بن سبع کو قاتل عمار کا ثبوت تو پہلے دیں پھر آگے چلتے ھیں۔ صحیح روایت میں ھے کہ دو بندے جھگڑ رھے تھے اور دونوں میں سے ھر ایک یہ دعویٰ کرتا تھا کہ عمار کو میں نے قتل کیا ہے ۔ تو آپ نے یسار بن سبع کو کیسے متعین کیا؟ لا یقتلک اصحابی (اے عمار تجھے میرے اصحاب قتل نہیں کریں گے)کے الفاظ کو العقدالفرید میں کمزور سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ۔ مگر یسار بن سبع کو قاتل عمار متعین کرنا تو اُس صحیح و اِس ضعیف دونوں کے خلاف ھے۔
  7. حضرت علی سے قاتلین عثمان کو الگ کرکے برائے قصاص سپرد کرنے کے مطالبے سے اُلٹا نتیجہ مت نکالو۔ کیا امیرمعاویہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اے علی! ہم نے تمہیں قصاص عثمان میں قتل کرنا ہے، اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو۔ جب حضرت علی نے فرمایا کہ میرا عثمان کے قتل میں کوئی ہاتھ نہیں تو حضرت معاویہ نے فرمایا کہ ہم علی کی بات کی تردید نہیں کرتے۔ آپ جس کے مطالبہ کو 100%غلط سمجھتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ:۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَايْمُ اللَّهِ لَيَظْهَرَنَّ عَلَيْكُم ُ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً تفسیر کبیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے مولا علی علیہ السلام سے کہا کہ قسم بخدا ابوسفیان کا بیٹا معاویہ تم پر غالب آ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو ناحق (ظلما) مارا جائے تو بے شک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا۔(سورۃ الاسراء:۳۳)۔ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ توحضرت عثمان کے قتل کو ظلم بھی مان رہے ہیں،معاویہ کو آپ کا ولی بھی مان رہے ہیں،اور معاویہ کو اللہ کی طرف سے قوت وغلبہ ملنا بھی مان رہے ہیں۔ یہ روایت جامع معمر بن راشد میں موجود ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔عن ایوب عن ابی قلابہ عن زہدم۔
  8. کیا منہاج القرآن والے اپنی مساجد کی تطہیر کے لئے کرسمس مناتے اور پادریوں کو بلا کر اپنی مساجد میں نمازِ خاص پڑھواتے ہیں۔یہ تطہیر شیخ منہاج کا تجدیدی کارنامہ ہے۔
  9. میں نے حضرت علی کی خلافت کے دوران یا حضرت حسن کی خلافت کبھی بھی امیرمعاویہ کو خلیفہ نہیں بتلایا تو مجھ سے آپ کا یہ سوال کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ یا تو میرا جواب ہی نہیں پڑھتے یا دھوکہ دہی کے لئےجان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ۔
  10. ابن تیمیہ نے وضع احادیث کے فتنہ کا ذکر کیا ہے اور اس حد تک ہم اس سے متفق ہیں اور ناصبیوں نے امویوں کے فضائل میں اور رافضیوں نے اہل بیت کے فضائل میں روایات گھڑی ہیں۔ ابن تیمیہ کے شاگرد ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا کہ فضائل معاویہ کے لئے میں نے صحیح و حسن حدیثیں بیان کر دی ہیں اور ہمیں موضوع روایات کی حاجت ہی نہیں ہے۔ وَاكْتَفَيْنَا بِمَا أَوْرَدْنَاهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الصحاح والحسان والمستجادات عما سواها من الموضوعات وَالْمُنْكَرَاتِ. رہ گیا بعض صحابہ سے لغزش یا گناہ ہونا تو وہ ممکن بلکہ واقع ہے اور ہم ان کو معصوم نہیں مانتے۔ عبدالرحمٰن بن عُدَیس البلوی مخالفین عثمان ؓ میں تھا،دنیا میں ہی بدلہ دے گیا۔ یسار بن سبع حضرت عمار کا قاتل تھاتو صحابی نہ ہوگا اور اگرصحابی تھا تو عمار کا قاتل کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ حدیث منقول ہے کہ عمار تجھے میرے صحابی قتل نہیں کریں گے بلکہ باغی گروہ قتل کرے گا۔
  11. کہانی اور بحث کا فرق کرو، پھر یہ ارشاد سنانا۔ میں نے ابوعبداللہ الجدلی کے متعلق ابن حجر عسقلانی کا فیصلہ پہلے تقریب التہذیب کے حوالے سے لکھا تھا (رمی بالتشیع) بعد کی پوسٹ میں اس دعویٰ کی دلیل میں (کان شدید التشیع) کا قول پیش کیا جو ابن حجر ھی نے لکھا اور ابن سعد کے حوالے سے لکھا۔ آپ کو بات سمجھ نہیں آتی یا دھوکہ دہی کے جذبہ نے آپ کو نا سمجھ کر دیا ہے ۔ کیا آپ کو پہلے ابن سعد اور پھر ابن حجر کے الفاظ میرے کلام میں نظر نہیں آتے؟
  12. آپ کے عقیدے میں کیا حضرت علی مرتضیٰ کے نزدیک حضرت عثمان کے خون کا قصاص نہیں بنتا تھا؟
  13. 1-کیا ابن حجر عسقلانی نے ابن سعد والی شدید التشیع کی جرح لکھی یا نہیں؟ 2- کیا اسی جرح کی بنیاد پر رمی بالتشیع کا فیصلہ لکھا یا نہیں؟ 3-رمی بالتشیع ھونے کے بعد اس کی تشیع پرور روایت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
  14. محترم میں نے خلافتِ حسن علیہ السلام کے بعد، خلافتِ معاویہ کو حق کہا ہے۔ لیکن آپ نے حق قبول نہیں کرنا اگرچہ حسنین کریمین کا فیصلہ ہو۔
  15. تم جھوٹ کے بغیر چل نہیں سکتے۔اور نہ ہی تم پوری بات پڑھتے ہو۔ ایک جگہ اجمال پکڑتے ہو اور دوسری جگہ تفصیل ہو،وہ تم چھوڑ دیتے ہو۔ یہ کوئی تحقیق نہیں۔
  16. قصاص کا مطالبہ تو حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کے نزدیک حق تھا۔ اختلاف یہ تھا کہ حضرت معاویہ کہتے تھے:پہلے عثمان کا قصاص پھر علی کی بیعت۔ مگرحضرت علی فرماتے تھے : پہلے علی کی بیعت پھرعثمان کا قصاص۔ اسی سے تمہاری دونوں باتوں کا جواب ہو جاتا ہے کہ قصاص کا مطالبہ درست تھا یا نہیں؟ اور حضرت علی کو قاتلین عثمان میں وہ داخل مانتے تھے یا خارج مانتے تھے۔ ندویوں کے متعلق ہمارا موقف کوئی اچھا نہیں ہے۔ انوار اللہ فاروقی نے مقاصدالاسلام میں جو کچھ لکھا،بغیر ثبوت کے لکھا،اور اس کی حیثیت الزام سے زیادہ نہیں۔ تاہم اُس نے جس بات کو خیال لکھا تھا،تم نے اُسے اُس کا عقیدہ لکھ کر اُس پر بھی جھوٹ بولا ہے۔
  17. جناب قاسم صاحب آپ نے میرا مؤقف پڑھا ہوتا تومجھ پرجھوٹ نہ بولتے۔ شدیدالتشیع کے الفاظ پہلے ابن سعد نے لکھے پھراُن سے علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھے اور فیصلہ رمی بالتشیع کا دیا اور ہمارا استدلال اس کے فیصلہ سے تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 7 sept حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت کا مدار ابو عبداللہ الجدلی پر ہے اور ابن حجر عسقلانی نے اس کے متعلق لکھا : رمی بالتشیع محمد بن سعد نے اسے شدید التشیع قرار دیا۔ ایسے الزام علیہ کی ایسی روایت جس سے وہ اپنے مذہب کی تائید کر رہا ہو،حجت نہیں ہوتی۔ 8 sep ابوعبداللہ الجدلی پر الزام بتانے والا مولانا محمد علی رضوی نہیں بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن سعد ہیں۔ 9 sep ابوعبداللہ الجدلی کو طبقات ابن سعد میں پھر تہذیب التہذیب عسقلانی میں " کان شدید التشیع" لکھا ھے۔ پھر تقریب التہذیب عسقلانی میں " رمی بالتشیع" لکھا گیا ھے۔ حافظ ذھبی نے میزان الاعتدال میں اسے بغض رکھنے والا شیعہ(شیعی بغیض) کہا ھے۔ ابن قتیبہ نے المعارف میں اس کا شمار غالی رافضیوں میں کیا ھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اگر خوف ِ خدا ہے تو جھوٹ بولنے سے باز آؤ۔
  18. قاسم صاحب میں نے کہا تھا کہ جس ثقہ راوی پر بدعتی عقیدےکا الزام ہے تو ایسے الزام علیہ کی ایسی روایت جس سے وہ اپنے مذہب کی تائید کر رہا ہو،حجت نہیں ہوتی۔ 1 آپ بتائیں کہ یہ اصول آپ مانتے ہیں یا نہیں؟ 2 آپ بتائیں کہ زیرِبحث راوی ، الزام علیہ ہے یا نہیں؟ 3 خلافِ اصول،کسی روایت کی تصحیح حجت ہوگی یا تسامح؟ 4 برسبیل تسلیم، (سب) سے مراد (تخطئہ)کیوں نہیں لیا جا سکتا جیسا کہ شارحین ِ حدیث نے لیا؟
  19. 1 جناب معاویہؓ کا حضرت علی ؓ سے قاتلوں کو سپرد کرنے یا قصاص لینے کے مطالبہ سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ معاویہ ؓکے نزدیک قاتل اور ہیں مگر مولاعلی ؓاور ہے۔سند اس کی علامہ ابن حجر عسقلانی کے نزدیک بھی معتبر ہے۔ اس کے مقابلے پر چند بے سند حوالے پیش کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ 2 قاتلوں سے علیؓ کے الگ ہونے کے اس دعویٰ کی تائید ہم نے معجم طبرانی سے پیش کی تھی کہ حضرت معاویہؓ کے نزدیک حضرت علیؓ پر لعنت بھیجنے والے پر لعنت بھیجنا درست ہے جبکہ قاتلین ِ عثمان ؓپر لعنت بھیجنے کے وہ قائل ہیں، پس ثابت ہوا کہ حضرت معاویہؓ کے نزدیک حضرت علی ؓقاتلین ِ عثمانؓ سے خارج ہے۔ 3 اب ہم مزید تائید تمہارے معتبر راوی ابومخنف لوط بن یحییٰ کے بیان سے پیش کرتے ہیں:۔ فذكر هشام ابن مُحَمَّدٍ، عن أبي مخنف الأَزْدِيّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سعد أَبُو المجاهد الطَّائِيّ، عن المحل بن خليفة الطَّائِيّ، ۔۔۔۔ وصاحبكم يزعم أنه لم يقتله، فنحن لا نرد ذَلِكَ عَلَيْه (تمہارے معتبر راوی ابومخنف کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑاکہ امیر معاویہؓ نے کہا ):۔ اور تمہارے صاحب(علیؓ) کا کہنا ہے کہ اُس نے عثمانؓ کو قتل نہیں کیا ہے،پس ہم بھی (اب) اُس کی بات کی تردیدنہیں کرتے۔ (متعدد کتب)
  20. جناب جب خلافتِ امام حسن کے بعد ھم نے معاویہ کو عادل خلیفہ کہا تو کس عقلمند کو ابھی تک سمجھانے کی ضرورت باقی رہ جاتی ھے؟
  21. پانچ کتابوں کو پیش کیا، سند ایک میں بھی نہیں مل سکی۔ کتاب کے مصنف سے لے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک سند ھی پیش نہیں کر سکتے، سند کا صحیح یا حسن ھونا تو بعد کی بات ہے ۔ پانچ نہیں بلکہ پانچ سو کتابوں کی ورق گردانی کرو۔ الزام تو مل سکتا ھے مگر ثبوت وسند نہیں ملیں گے ۔ -------------------------------------------- امیر معاویہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر لعنت بھیجنے والے پر بھی لعنت کے قائل تھے۔(حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے) ۔ پس ثابت ھوا کہ وہ حضرت علی کو قاتلین عثمان میں کسی طرح بھی شمار نہیں کرتے تھے ۔
  22. جناب قاسم علی صاحب 1۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے متعلق فرمایا کہ (فاتوا علیا فقولوا لہ یدفع لنا قتلۃ عثمان) علی کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عثمان کے قاتلوں کو ھمارے سپرد کرے۔ فتح الباری میں ابن حجر عسقلانی نے اسے بسند جید لکھا ھے۔ اس کے مقابلے میں آپ کے حوالوں میں سند جید تو کیا ملنا تھا، سرے سے سند ھی نہیں ملتی۔ اس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک قاتلین عثمان اور ہیں ،اور علی اور ھے۔ 2۔ حجر بن عدی کے دعوی اور عمل میں فرق موجود ہے جو اُن کے دعویٰ پر سوالیہ نشان ھے۔ 3۔ بغاوت کی چوتھی قسم لکھا تھا، آپ نہ پڑھیں تو میں کیا کروں؟ 4۔ ایک روایت کے مجہول راوی کی جہالت تو دور کر نہ سکے، اُلٹا اور بے سند روایات پیش کر دیں ۔ چلو شاباش! اب مصنفین سے لے کر معاویہ تک ھر ایک روایت کی سند تلاش کرو اور پیش کرو۔ ایک بات ایک اخبار کی بجائے دس اخباروں میں چھپ جائے مگر اس خبر پر کسی کو سزا نہیں ہو سکتی، اس کے لئے (اسناد صحیحہ والی )گواھیاں درکار ھوتی ھیں ۔
  23. آپ میرا جواب دوبارہ پڑھیں اور غور سے پڑھیں،ان سب باتوں پر کلام ہوچکا ہے۔
  24. جناب والا خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔ جناب والا خلفائے راشدین کے بعد امام حسن کا نام اور پھر امیرمعاویہ کا نام لکھا نظر آ رہا ہوگا۔اسی میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا تھا۔یہ بات الصواعق المحرقہ،تاریخ الخلفاء،فیض القدیرمناوی میں دیکھیں۔خلافت راشدہ خاصہ میں قطبیتِ کبریٰ بھی شامل تھی۔ اب وہ الگ ہوگئی اور خلافتِ راشدہ عامہ رہ گئی جسے خلافتِ حقہ یا عادلہ یا مملکتِ عادلہ بھی کہا جاتا ہے۔