Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,069
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    250

Everything posted by Saeedi

  1. طاھر القادری کے زیرِبحث حوالہ سے ظاھر ھے کہ اہل سنت کے تمام امام امیر معاویہ کو مجتہد مانتے ھوئے ان کی اجتہادی خطاؤں کے قائل ہیں۔ باقی وصیت کرنے والا اپنے آپ کو حق پر سمجھے تو اس سے ھادی مہدی بننے کی دعائے مستجاب اور سنت و عدل برقرار رھنے کی پیشگوئی کو نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا۔
  2. جناب علامہ ابن حجر عسقلانی کی ایک کتاب سے رمی بالتشیع اور دوسری کتاب سے کان شدید التشیع کے حوالے دے چکا ہوں۔ اور یہاں عدالتِ صحابہ کے برعکس مطاعنِ صحابہ ہیں تو اہلِ مطاعن کی ایسی طعن والی بات قبول نہیں ہو سکتی۔ اور سب کے الفاظ کی تفصیل آپ نے لعنت سے کی تھی، وہ پیش کریں۔
  3. جناب یہی جائز وناجائز ہی تو لکھا ہے اور میں کوئی افسانہ تو نہیں لکھ رہا۔
  4. آپ کے قائد طاہرالقادری نے حضرت امیرمعاویہ کا مجتہد ہونا جمیع ائمہ اہل سنت کے نزدیک تسلیم کیا ہے۔ تو آپ امیر معاویہ کے حجربن عدی کو بغاوت کے جرم میں قتل کرنے کو خطائے اجتہادی کا نام کیوں نہیں دیتے؟
  5. جناب قاسم صاحب !۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث میں مبتدع کی روایت کے متعلق لکھا ہے کہ:۔ تُقْبَلُ رِوَايَتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ دَاعِيَةً، وَلَا تُقْبَلُ إِذَا كَانَ دَاعِيَةً وَهَذَا مَذْهَبُ الْكَثِيرِ أَوِ الْأَكْثَرِ مِنَ الْعُلَمَاءِ. اُس کی روایت قبول کی جاتی ہے جب وہ اُس کا داعیہ (مدعیٰ) نہ ہو اور اُس کی روایت مقبول نہیں جب اُس کا داعیہ ہو۔ اور کثیر واکثر علماء کا یہی مذہب ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے تقریب التہذیب:۸۲۰۷ میں رمی بالتشیع لکھا اور تہذیب التہذیب:۷۰۵ میں کان شدید التشیع لکھا ہے۔
  6. بارہ خلفاء والی حدیث کے متعلق ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ قیامت تک بارہ پورے ہونے ہیں اور اُن کا یکے بعد دیگرے ہونا لازمی نہیں۔وہ عادل خلفاء ہوں گے۔ الصواعق المحرقہ اور تاریخ الخلفاء میں یہ قول موجود ہے۔اور عینی و عسقلانی وغیرہ نے بھی یہ قول دیا ہے۔ ابن حجر ہیتمی کی الصواعق المحرقہ سے پیش کرتا ہوں:۔ وَقيل المُرَاد وجود اثْنَي عشر خَليفَة فِي جَمِيع مُدَّة الْإِسْلَام إِلَى الْقِيَامَة يعْملُونَ بِالْحَقِّ وَإِن لم يتوالوا وَيُؤَيِّدهُ قَول أبي الْجلد كلهم يعْمل بِالْهدى وَدين الْحق مِنْهُم رجلَانِ من أهل بَيت مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَعَلَيهِ المُرَاد بالهرج الْفِتَن الْكِبَار كالدجال وَمَا بعده وبالاثني عشر الْخُلَفَاء الْأَرْبَعَة وَالْحسن وَمُعَاوِيَة وَابْن الزبير وَعمر بن عبد الْعَزِيز قيل وَيحْتَمل أَن يضم إِلَيْهِم الْمهْدي العباسي لِأَنَّهُ فِي العباسيين كعمر بن عبد الْعَزِيز فِي الأمويين والطاهر العباسي أَيْضا لما أوتيه من الْعدْل وَيبقى الِاثْنَان المنتظران أَحدهمَا الْمهْدي لِأَنَّهُ من آل بَيت مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
  7. میرے ہوش وحواس کی بات نہ کرو۔آپ نے اپنے تبصرہ میں امام حسن کا نام لکھا تھا کہ انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم حجر حجت قائم کر گیا۔اب جب میں متوجہ کیا کہ امام حسن تو اس واقعہ سے کافی پہلے دنیا سے رخصت ہوچکے تھے تو آپ مجھے نیچے والی عبارت پڑھنے کا کہہ رہے ہیں جو محض ایک احتمال کے طور پر لکھی گئی تھی۔ چلئے آپ یہی ثبوت سندمعتبر کے ساتھ دے دیں کہ یہ الفاظ امام حسین نے کہے تھے۔ یہ حجر بن عدی وہی ہے جو حسنین کریمین کی صلح معاویہ کی وجہ سے ان پر راضی نہ تھا۔
  8. حدیث پاک (من کنت مولاہ) کے لفظ (مولا) کا ترجمہ (آقا )سے کرنا یا تومحض خطا ہے یا پھر کفروضلالت ہے۔ اس پرایک ہی حکم نہیں لگتا جس طرح روزہ کی حالت میں بھول کر (خطاء ) کھانا اور حکم رکھتا ہے اور عمدا ایسا کرنا اور حکم رکھتا ہے۔ حضرت علی مرتضیٰ اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے مولا ہونے کا دائرہ کار ایک ہے مگر آقا ہونے (سیادت) کا دائرہ کار ایک نہیں ۔ جو اُن کا آقا ہونے میں ایک ہی دائرہ کار مانتا ہے ،وہ حضرت علی کا آقا ہونے کا دائرہ بڑھاتا ہے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آقا ہونے کا دائرہ کم کرتا ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔
  9. یہ حوالہ دیتے وقت اتنا تو سوچ لیتے کہ واقعہ ۵۱ھجری کا ہے اور امام حسن علیہ السلام ۴۹ھجری میں وفات پا چکے تھے
  10. جناب قاسم صاحب حضرت معاویہ خلیفہ تھے اور بارہ خلیفہ والی حدیث کے تحت علماء نے بیان کیا ہے۔ حضرت معاویہ کے دور میں سنت وعدل تبدیل نہ ہونا حدیثوں میں ہے اور طاہرالقادری صاحب بھی عدل برقرار رہنے والی حدیث لکھ چکے ہیں جس کا عکس دیا جا چکا ہے۔ اور خلیفہ عادل کو آپ خود ہی خلیفہ راشد مان چکے ہیں۔ باقی آپ کی مرضی ہے ورنہ آپ کا گھر تو پورا ہوچکا ہے۔
  11. جناب قاسم صاحب آپ بے اصولی بات کر رہے ہیں۔ جس ثقہ راوی پر بدعتی عقیدےکا الزام ہے تو ایسے الزام علیہ کی ایسی روایت جس سے وہ اپنے مذہب کی تائید کر رہا ہو،حجت نہیں ہوتی۔ اور ابوعبداللہ الجدلی پر الزام بتانے والا مولانا محمد علی رضوی نہیں بلکہ حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن سعد ہیں۔
  12. بس ہو گئی اپنے مطالبے پورے ہوگئے پھربھی بحث جاری ہے۔ کمال ہے۔ تیرا قائد اس دور میں عدل برقرار مانتا ہے۔
  13. تفسیر الماوردی م۴۵۰ھ سورۃ النور:۵۵۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ کے تحت لکھا ہے کہ:۔ هذه الآية في الخلفاء الأربعة: أبو بكر , وعمر , وعثمان , وعلي رضي الله عنهم وهم الأئمة المهديون , وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: (الخِلاَفَةُ بَعْدِي ثَلاَثونَ سَنَةً) امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا:۔ أَنَّ الْمُرَادَ فِي حَدِيثِ الخلافة ثلاثون سنة خلافة النبوة وقد جاءمفسرا فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا امام ابن حجر ہیتمی نے الصواعق المحرقہ میں لکھا:۔ أخرج أَبُو يعلى فِي مُسْنده بِسَنَد لكنه ضَعِيف عَن أبي عُبَيْدَة قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لَا يزَال أَمر أمتِي قَائِما بِالْقِسْطِ حَتَّى يكون أول من يثلمه رجل من بني أُميَّة يُقَال لَهُ يزِيد وَأخرج الرَّوْيَانِيّ فِي مُسْنده عَن أبي ذَر قَالَ سَمِعت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يَقُول أول من يُبدل سنتي رجل من بني أُميَّة يُقَال لَهُ يزِيد وَفِي هذَيْن الْحَدِيثين دَلِيل أَي دَلِيل لما قَدمته أَن مُعَاوِيَة كَانَت خِلَافَته لَيست كخلافة من بعده من بني أُميَّة فَإِنَّهُ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أخبر أَن أول من يثلم أَمر أمته ويبدل سنته يزِيد فَافْهَم أَن مُعَاوِيَة لم يثلم وَلم يُبدل وَهُوَ كَذَلِك لما مر أَنه مُجْتَهد ان حوالہ جات سے واضح ہو گیا کہ حضرت معاویہ کی خلافت یا بادشاہت پہلے والوں کی خلافت جیسی نہیں تھی بلکہ سخت گیر عادلانہ اور مجتہدانہ تھی ، اور بعد والوں کی ملوکیت جیسی بھی نہ تھی۔پہلا سنت بدلنے والا اموی یزید ہے اور پہلا عدل میں گڑبڑ کرنے ولا اموی بھی یزید ہے۔ یہ حدیث پیرنصیر اورشیخ منہاج بھی لکھ چکے ہیں۔ اسی معنی میں امیرمعاویہ کے ہدایت یافتہ و ہدایت دہندہ بننے کی دعا بھی موجود ہے۔
  14. ابوزہرہ مصری(۱۸۹۸۔۱۹۷۴ء) اورعقدالفرید والے کی باتیں بے سند ہیں۔ اُن کی سند پیش کرو۔ انوار علی والا بھی ابوزہرہ مصری کے کندھے پر بندوق چلا رہا ہے۔ رہ گئی البانی کی روایت تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت کا مدار ابو عبداللہ الجدلی پر ہے اور ابن حجر عسقلانی نے اس کے متعلق لکھا : رمی بالتشیع محمد بن سعد نے اسے شدید التشیع قرار دیا۔ ایسے الزام علیہ کی ایسی روایت جس سے وہ اپنے مذہب کی تائید کر رہا ہو،حجت نہیں ہوتی۔ مجمع البحار اور نووی شرح مسلم میں سب کا مطلب تخطئہ موجود ہے۔ اب لعنت والی روایات مع سند پیش کریں۔
  15. جناب علمائے اہل سنت کی اکثریت جناب کے منتخب معنی کو اس مقام پر مسترد کر چکے ہیں اور علمائے روافض یہاں آپ کے موافق ہیں ۔ اسی تھریڈ میں اوپر میں جمہور علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کر چکا ہوں۔
  16. سب کا معنی تخطئہ بھی لیا گیا ھے ، اس لئے لعنت بھیجنے والی روایات کی سندیں پیش کریں۔
  17. سورۃ التحریم میں ھے کہ جبریل اور صالح المومنین() مولا ھیں ھمارے نبی کریم کے ۔ تو جب نبی الانبیاء کے مولا شیخین ھو سکتے ھیں تو مولا علی دیگر انبیاء کرام کے مولا کیوں نہیں ھو سکتے؟
  18. امام حسن علیہ السلام کے دور میں تیس سال والی خلافت ختم ھوئی جو خلافت علیٰ منہاج نبوت ھے۔ جس کا سورۃ النور میں حاضر مسلمانوں سے وعدہ ھوا تھا۔ حضرت حسن نے جو خلافت حضرت معاویہ کو دی تھی تو وہ بھی خلافتِ حقہ تھی ، اُسے خلافت راشدہ خاصہ سے کمتر ظاھر کرنے کیلئے عامہ کہنا ایک اصطلاح ھے۔ حدیث ابن عباس میں اس کو رحمت کہا گیا ھے۔ حضرت معاویہ کے دور کے بعد سنت تبدیل کرنے والا اور نظام عدل میں رخنہ اندازی کرنے والا آیا۔ اس سے پہلے اگر کچھ بظاھر خلافِ سنت یا خلافِ عدل ملے تو اجتہادی خطا یا غلط اطلاع ھے۔
  19. اب آپ کا موقف یہ ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے مولا نہیں ہیں۔ تو کیا آپ کے نزدیک نبی الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن انبیائے کرام کے مولا نہیں؟
  20. اب آپ نے سب کرنے سے لعنت کرنا متعین کر لیا ہے ، اب صحیح سند کے ساتھ اس الزام کو ثابت کریں۔ مجھے آپ کے باغی والے ٹاپک کا علم نہیں،میں نے ابھی وہ نہیں پڑھا۔
  21. حضرت امام حسن علیہ السلام نے خلافتِ راشدہ ھی امیرمعاویہ کے سپرد کی تھی جو خاصوں کے ہاتھ سے نکلی اور عاموں کے ہاتھ میں آ گئی۔
  22. سب کا لفظ احتمالات رکھتا ھے۔ یہ لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے بھی ملتا ھے جبکہ یہ ظاھر بات ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے سے معصوم اور پاک تھے۔ کسی کے خلاف سخت کلامی اور تغلیط کو بھی سب سے تعبیر کیا جا سکتا ھے۔ اسی لئے ھم یہ مطالبہ کر رھے ھیں کہ "وہ الفاظ پیش کئے جائیں جن کے ساتھ حضرت معاویہ نے مولا علی کو سب کیا ھے"۔ ابوزھرہ مصری نے اگر معاویہ کا علی پر لعنت بھیجنا لکھا ھے تو ابوزھرہ سے معاویہ تک درمیان کی تیرہ صدیوں کی سند کون پیش کرے گا۔ یہ تحقیق کا میدان ھے ، کوئی مجلس ماتم نہیں جہاں "آواز آندا اے" والی روایت بھی چل جاتی ھے۔ ایک سوال آپ پر اور بھی ھے کہ کسی حدیث میں ھے کہ میری سنت تبدیل کرنے والےاور نظام عدل میں رخنہ ڈالنے والے پہلے اُموی شخص کا نام معاویہ ھو گا نہ کہ یزید؟
  23. میرے محترم آپ نے پھر غور نہیں فرمایا۔ اختر فتحپوری نے الصواعق المحرقہ کا ترجمہ کیا ھے۔ اس نے ترجمہ میں یہاں خطا کی۔ اسی ترجمہ میں 203 پر باب سوم پوری امت میں حضرت ابوبکر صدیق کے افضل ھونے پر موجود ھے۔ آپ نے ایک لفظی خطا پکڑ لی اور پورا باب خاطر میں نہ لائے۔ تحقیق یوں تو نہیں ھوتی۔ آپ نے امیر علی شاہ کا حوالہ پیش کیا ھے۔ مگر یہ نہیں دیکھا کہ وہ "تمام سلاسل" کے ساتھ بھی " تقریباً " کا لفظ لگا کر اپنی بات کو مقید کر رھے ھیں۔ آپ کے طاھرالقادری صاحب مولا کا ترجمہ آقا کرتے ہیں تو کتاب کی ابتدا میں اپنا نظریہ پہلے لکھ چکے ہیں اور ترجمہ اس کے مطابق کرتے ہیں۔ آپ کے سوال کا جواب یہ ھے کہ حدیث میں جہاں شیخین کریمین کو سیدا کہول اھل الجنۃ فرمایا گیا ھے وہیں انبیاء و مرسلین کا استثناء بھی کیا گیا ھے۔ ملاحظہ ھو طاھرالقادری کی کتاب منہاج السوی:حدیث نمبر 694۔ اس سوال سے پتہ چلتا ھے کہ آپ حضرت علی کو انبیاء کرام کا مولا نہیں مانتے ،اس لئے استثناء کے متمنی و متلاشی ہیں۔ ورنہ وجہ بتائیں؟ جب کہ آپ کے پسندیدہ اختر فتحپوری نے اُسی الصواعق المحرقہ کے صفحہ 232 پر حضرت جبریل اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مولا مانا ھے۔ اور آپ دیگر نبیوں کے لئے بھی مولا علی کو مولا نہیں مان رھے۔ اس کی وجہ یہی ھے کہ آپ مولا کا معنی غلط کر رھے ھیں جو آپ کے لئے مولا علی کو مولائے کائنات سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ھے۔