Saeedi

Star Member
  • Content count

    1,069
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    250

Everything posted by Saeedi

  1. خلافت راشدہ خاصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیس سال تک تھی خلافتِ راشدہ موعودہ بھی اسے کہا گیا ھے۔ پھر جس کی خلافت کو راشدہ کہا گیا وہ خلافت راشدہ عامہ ھے۔
  2. میں نے صرف اور صرف یہ پوچھا تھا کہ حضرت معاویہ کے وہ الفاظ بتا دو جنہیں حضرت علی مرتضیٰ کو "سبّ" دینے کا نام دیا گیا۔ جواب نہیں آیا۔
  3. اگر کسی کی تحریر میں ایک جگہ اجمال ھو اور دوسری جگہ تفصیل ھو تو اسے تضاد یا دستبرداری کا نام نہیں دیا جاتا۔آپ کے قائد نے جو تفصیل جاری کی ھے وہ ترجمہ کے اجمال کی وضاحت کر رھی ھے۔ آپ سے ایک سوال کہ شیعہ اس روایت کا وہی ترجمہ کرتے ہیں جس ترجمہ پر تمہیں اصرار ھے۔اور اس کی بنیاد پر حضرت علی کو انبیاء کرام کا آقا اور سردار مانتے ہیں۔ اپنے اس ترجمے پر رھتے ھوئے روافض کے اس اعتراض کا آپ کے پاس کیا جواب ھے؟
  4. محترم آپ مفصل بات پڑھ کر بھی ضد کر رھے ھیں۔ جن کے ترجمے پیش کئے وہ تفضیلی نہیں تو ان سے خطاً ایسا ھؤا۔ مگر تفضیلی ایسا عمداً کرتا ھے اور اس ترجمہ پر ضد کرنے والا بھی عمداً ایسا کرتا ھے۔ کوئی بھی فتوی ھو وہ عمداً پر لگتا ھے نہ کہ خطاً پر۔ آپ ایک سوال کا جواب دے دیں کہ آپ کے ترجمے کی رو سے مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ انبیائے کرام کے بھی آقا بنتے ہیں یا نہیں؟اگر نہیں تو کیسے؟اور اگر ہاں تو آپ لوگ شیخین کریمین سے ھٹ کر سیدھا انبیاء کرام سے ھی حضرت علی کو افضل کیوں نہیں مانتے؟ جبکہ روافض زمانہ اس دلیل سے ان کو انبیائے کرام سے بھی افضل مانتے ہیں۔ در کفر ھم ثابت نہ ای زنار را رسوا مکن
  5. میرے محترم ترجمہ کرنے والوں میں اگر کوئی حضرت علی کو انبیاء کرام سے افضل مانتے ھوئے (جس جس کا میں آقا ھوں علی بھی اس اس کا آقا ھے ) کے الفاظ سے ترجمہِ حدیث کرتا ھے تو وہ کفر کرتا ھے اور اگر کوئی حضرت علی کو حضرات شیخین سے افضل ماننے کے لئے یہ ترجمہ کرتا ھے تو بدعت و ضلالت کا مرتکب ھے۔ اور اگر کوئی اوپر والے بیان کردہ دونوں عقیدے نہیں رکھتا اوراس سے یہ ترجمہ ھو گیا ھے تو یہ اس کی خطا ھے۔ آپ اندھے کی لاٹھی نہ چلائیں۔ اور ھر شق کے الگ الگ حکم کا فرق سمجھیں۔
  6. میرے محترم میں نے یہ پوچھا تھا کہ امیر معاویہ نے مولاعلی کو کن کن الفاظ کے ساتھ "سبّ" کیا؟ ممکن ھے کہ جن الفاظ کو راوی نے "سبّ" سے تعبیر کیا ھے وہ سبّ نہ ھوں۔
  7. جی محترم حدیثِ مولا کے سلسلے ميں محض ترجمہ کرتے ھوئے مولا بمعنی آقا لکھ جانا خطا ھے۔ مگر اس ترجمہ کو عقیدہ کا درجہ دیتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو انبیائے کرام کا آقا ماننا کفر ھے اور شیخین کریمین کا آقا ماننا بدعت و ضلالت ھے اور حضرت علی کی نظر میں لائقِ سزا ھے۔ جی محترم آپ کی بات کا جواب ھو گیا ۔اب آئیں میرے سوال کی طرف کہ سورۃ التحریم میں جن جن کو رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کا مولا قرار دیا گیا ہے تم اُن سب کو آپ صلی الله عليه وسلم کا مولا بمعنی آقا لینا کیسا سمجھتے ہو؟
  8. محترم میں نے الفاظ" سب" کی تفصیل پوچھی تھی وہ بتائیں تو بات کا جواب دیا جائے ۔
  9. غلام احمد /قاسم علی صاحب! کہاں گئے کے پیچھے آپ بھاگ پڑے اور میرا اصل سوال چھوڑ گئے ۔ میں نے پوچھا تھا کہ سورۃ التحریم میں رسول اللہ کے جو جو مولا بتائے گئے ہیں ، وہاں بھی مولا کا معنی آقا لیتے ھو؟ تمام تر حوالہ پیشی کے باوجود یہ سوال وہیں کا وہیں رہا ۔ باقی لزومی فتوے اور التزامی فتوے میں فرق ھوتا ھے ۔ لزوم سے التزام تک پہنچنے میں کئی مراحل ہیں ۔
  10. میرے محترم میں نے ایک اصولی بات کی ھے کہ الفاظ سب کی تفصیل درکار ہے ۔ اور وہ حضرت معاویہ کی ذات تک ۔ باقی بنوامیہ کی بات میں نے نہیں کی ۔ کتاب سرالعالمین امام غزالی کی طرف منسوب ھے اوراس نسبت پر کلام موجود ھے۔
  11. صحیح سند کے ساتھ یہ بتا دو کہ امیر معاویہ نے کن الفاظ کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو" سب" کیا؟ کیونکہ بعض لوگوں کی نظر میں آپ کو "ابوتُراب"کہنا بھی "سب"تھا (بخاری) ۔ اور بعض لوگوں کی نظر میں قاتلینِ عثمان پر لعنت بھیجنا بھی "سبِ علی" شمار ھوتا ھے اور یونہی حضرت علی سے سیاسی اختلاف اور تغلیط بھی سبِ علی شمار کی گئی ہے ۔ اس لئے جب تک معاویہ رضی اللہ عنہ کے وہ الفاظ سامنے نہ لائے جائیں تو سبِ علی کا الزام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ۔۔
  12. نبی کریم صلی الله عليه وسلم تمام عالمین کے بشمول تمام انبیائے کرام کے مولا ہیں اور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تمام عالمین کے مولا ھیں۔ علی کو کیسے میں مولائے کائنات کہوں یہ کائنات ھے چھوٹی، بڑا ھے نامِ علی اور شیخین کریمین (صالح المؤمنین) سیدالعالمین صلی الله عليه وسلم کے مولا ہیں ۔
  13. فان الله هو مولاه و جبريل و صالح المومنين بے شک الله اور جبریل اور صالح المومنین آپ صلی الله عليه وسلم کے مولا ہیں ۔ صالح المومنین سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر مراد ہیں ۔ جبریل امین اور شیخین کریمین کو آپ صلی الله عليه وسلم کا مولا کہا گیا ہے ۔ کہاں گئے (مولا) کا معنی( آقا) کے حوالے تلاش کرنے والے، وہ بتائیں کہ کیا جبریل امین اور شیخین کریمین کو وہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کا مولا مانتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر مانتے ہیں اور ماننا پڑے گا تو مولا بمعنی آقا ماننے کا شوق اور ضد ابھی باقی ہے یا ختم ھو چکی ہے؟
  14. حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  15. تذکرہ غوثیہ کے خلاف فتویٰ فتاویٰ رضویہ میں موجود ہے۔ زیرِبحث کلمہ ہمارے نزدیک مستی کی حالت کاکلام ہے اورمرفوع القلم پر فتویٰ نہیں لگتا۔ البتہ وہابیوں دیوبندیوں کے بزرگ اشرفعلی تھانوی نے کہا ہے کہ یہ کلام کفر نہیں ہے کیونکہ اس میں تاول ہوسکتی ہے،(السنۃ الجلیۃ )۔
  16. شطحیات صوفیہ مستوں کاکلام ہیں ،مستی کی حالت کےکلام والا مرفوع القلم ہے۔ جس سے فرشتے کلام اُٹھاچکے ہیں،شیطان اُنہیں کے خلاف قلم چلاتا ہے۔
  17. عام قبروں کے احکام اورہیں۔ نبی اور وارثِ نبی کی قبرکا مکان کے اندر جائز ہونے پر صحابہ کرام کااجماع ہے۔
  18. یہ اجمالی جواب ہے کہ میں سیدنا عبدالقادر جیلانی کا ہم عقیدہ ہوں۔ جلیل القدر محدث امام سیوطی نے شرح الصدور میں لکھاہے کہ:۔ 64 - وَقَالَ الشَّيْخ عبد الْغفار القوصي فِي التَّوْحِيد كنت عِنْد بَيت الشَّيْخ نَاصِر الدّين وَالشَّيْخ بهاء الدّين الأخميمي قد ورد فَأخذت فروته على كَتِفي فَأَخْبرنِي أَن خَادِم الشَّيْخ أبي يزِيد كَانَ يحمل فروته على كتفه وَكَانَ رجلا صَالحا فَجرى الحَدِيث فِي مساءلة مُنكر وَنَكِير فِي الْقَبْر فَقَالَ ذَلِك الْفَقِير وَكَانَ مغربيا وَالله إِن سألاني لأقولن لَهما فَقَالُوا لَهُ وَمن يعلم ذَلِك فَقَالَ أقعدوا على قَبْرِي حَتَّى تسمعوا فَلَمَّا مَاتَ المغربي جَلَسُوا على قَبره فَسَمِعُوا المساءلة وسمعوه يَقُول أتسألاني وَقد حملت فَرْوَة أبي يزِيد على عنقِي فَمَضَوْا وتركوه ایک میت نے نکیرین سے کہا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہوحالانکہ میں تو بایزید کا فروہ بردار ہوں،تونکیرین اُسے چھوڑکرچلے گئے۔ امام سیوطی پرزبان چلاؤ۔
  19. جناب ! جب مقتضی موجود ہو اورمانع مفقود ہو تووہ محض ترک ِفعل نہیں بلکہ فعل سے رُکے رہنا ہے۔وہ رُکا رہنا بھی دلیل ہے۔
  20. ابن تیمیہ کے متعلق اختلاف کی وجہ ابن تیمیہ کے اقوال پر اطلاع ملنے یا نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔
  21. عبدالباری فرنگی محلی کی بحث مذکورہ لنک میں دیکھی جائے۔
  22. صراط الذین انعمت علیہم سے وظائف لیا کریں تو بہتر ہوگا۔
  23. پہلے ادخال السنان کے 292سوالوں کے جواب دیں۔جوامام احمدرضا کے بیٹے نے لکھے تھے اورامام احمدرضا کی وفات سے نودس سال پہلے شائع ہوئے ۔تھانوی پر قرض ہے۔اس کے وارث مناظر ادا کریں۔ امام احمدرضا کی وفات کے دوسال بعدتھانوی نے تغییرالعنوان لکھی اس سے کئی مزیدکفریات کا ارتکاب کیا جو مولانا حشمت علی خان نے قہرواجددیان میں لکھے۔مناظرصاحب ان کا جواب دیں۔ ادخال السنان.pdf ابوحنظلہ کے لئے حنظل (تمہ) کھانا آسان ہے۔مگر جواب دینا مشکل ۔
  24. جان برادر تجربات کے لئے سند نہیں مانگی جاتی۔ابلیس جیسا چور بھی آیت الکرسی کی فضیلت بیان کرے تو صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو بھی کریڈٹ دیتے ہیں۔مشکوٰۃ فضائل القرآن میں ہے۔ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
  25. اگر مولا کامعنی زیربحث حدیث میں آقا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس جس کے سید وسردار وآقا ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس اس کے سید وسردار وآقا ہوتے۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور علی کی مولائیت کا دائرہ تو ایک ہی رکھا مگر سیادت کادائرہ ایک نہیں رکھا بلکہ اس میں فرق رکھا۔ آپ فرما سکتے تھے کہ جس کا میں سید(آقا)ہوں ، علی بھی اس کا سید (آقا)ہے۔ آپ ﷺنے خود کو تمام انسانوں کا اورتمام جہانوں کا سید قرار دیا مگر حضرت علی کو سیدالعرب قراردے کر فرق رکھا۔ جواب نہ آیا۔ آپ کے شیخ الاسلام نے امام اعظم کی کتنا عرصہ شاگردی کی۔15 ، 20سال شاگرد رہے یا 9سال شاگرد رہے۔کونسا عرصہ درست ہے اور کونسا بیان جھوٹ ہے؟ جواب درکار ہے۔