Qadri student

Members
  • Content count

    44
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Qadri student last won the day on December 11 2009

Qadri student had the most liked content!

Community Reputation

15 Good

About Qadri student

  • Rank
    Member

Profile Information

  • Gender
    Male

Previous Fields

  • Madhab

Recent Profile Visitors

282 profile views
  1. Masha ALLAH !
  2. JazakhALLAH ,
  3. یہ دو ایسے نوجوانوں کا قصہ ہے جو مدینہ منورہ سے ترکی سیر سپاٹے کیلئے گئے۔ ان کا مقصد اپنے جیسے دوسرے نوجوانوں کی طرح شراب و شباب کے مزے لینا اور مستیاں کرنا استنبول پہنچتے ہی ندیدوں کی طرح انہوں نے سب سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ اپنا مدعا اول شراب کی بوتلیں خریدیں اور ٹیکسی پر بیٹھ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ ہوٹل انہوں نے شہر کے مضافات میں جا کر ایسا پسند کیا جہاں انہیں کوئی جاننے پہچاننے والا نا دیکھ سکے۔ کاؤنٹر پر رجسٹریشن کراتے ہوئے کلرک کو جیسے ہی پتہ چلا یہ دونوں مدینہ شریف سے آئے ہیں تو اس نے عام کمرے کے ریٹ میں ان کو ایک سوئٹ کھلوا کر دیدیا۔ اہل مدینہ چل کر اس کے ہوٹل میں آ گئے ہیں اس کی خوشی دیدنی تھی۔ دونوں کمرے میں پہنچے اور بس بوتلیں کھول کر معدے میں انڈیلنے بیٹھنے بیٹھ گئے۔ ایک تو کم ظرف نکلا کچھ ہی دیر میں نشے سے دھت بے سدھ سو گیا جبکہ دوسرا نیم مدہوش باقی کی بوتلوں کو کل کیلئے چھوڑ کر سو گیا۔ ان کو سوتے کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ صبح کے ساڑھے چار بجے تھے، ایک نے غنودگی میں اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے کاؤنٹر کلرک کھڑا تھا۔ کہنے لگا کہ ہمارے امام مسجد نے یہ جان کر کہ ہوٹل میں مدینہ شریف سے دو آدمی آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہہ کر نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ ایسی بے ادبی ہرگز نہیں کر سکتا۔ ہم لوگ آپ کا مسجد میں انتظار کر رہے ہیں، آپ جلدی سے تیار ہو کر آ جائیں۔ اس جوان کو یہ بات سن کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا، اس نے جلدی سے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا کر بتایا کہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے۔ کیا تجھے کچھ قرآن شریف یاد ہے؟ دوسرے ساتھی نے کہا ہاں گزارے لائق قرآن شریف تو یاد ہے مگر لوگوں کی امامت کراؤں، ایسا نا سوچا ہے اور نا ہی کراؤں گا۔ دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور لگے سوچنے کہ اس گلے آن پڑی مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں۔ اس اثناء میں ایک بار پھر دورازہ کھٹکا؛ کاؤنٹر کلرک کہہ رہا تھا بھائیو جلدی کرو کرو ہم لوگ مسجد میں آپ کے منتظر ہیں، کہیں نماز میں دیر نا ہو جائے۔ ایک کے بعد دوسرے نے بھاگ کر غسل کیا، جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا تھا نماز فجر کیلئے نہیں لوگ مدینہ شریف کے شہزادوں کی اقتداء میں جمعہ کی نماز کیلئے اھتمام سے بیٹھے ہوں۔ ایک جوان کہتا ہے، میں مصلے پر چڑھا، اللہ اکبر کہہ کر لڑکھڑاتی زبان سے الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين پڑھا۔ نمازیوں میں سے کسی کی اس تصور سے کہ مدینے کا مکیں، دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا ہوا اور مسجد رسول کا ہمسایہ انہیں نماز پڑھا رہا ہے کی سسکاری نکل گئی۔ پھر کیا تھا کئیوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹے۔ کہتا ہے نمازیوں کے رونے سے میری ندامت کیا بڑھی کہ میں بھی رو پڑا۔ سورۃ الفاتحہ کے بعد میں نے پڑھی تو محض سورۃ الاخلاص ہی، مگر اپنے پورے اخلاص کے ساتھ۔ نماز ختم ہوئی، نمازی میرے ساتھ مصافحہ کرنے کیلئے امڈ پڑے اور کئی ایک تو فرط محبت سے مجھے گلے بھی لگا رہے تھے۔ میں سر جھکائے کھڑا اپنا محاسبہ کر رہا تھا۔ اللہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا اور یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا۔ (آپ کیلئے منقول اور مترجم کیا گیا)
  4. بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمَنِ الْرَّحِيمِ (((نماز کی نیت کے مسائل))) نیت کا مطلب ہے "کسی کام کا دلی عزم اور ارادہ کرنا"۔ نیت کی موجودگی) اور درست طور پر موجودگی( کوتمام عبادات میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى[1] "بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی" صحیح البخاری کتاب البدء الوحی، حدیث نمبر1 اعمال کی قبولیت کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ عمل خالص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیے کیا جائے، اور دوسری یہ کہ وہ عمل صحیح ثابت شدہ سُنت مُبارکہ کے مطابق ہو۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو وہ عمل قبولیت کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔۔ کسی بھی نیک عمل یا کسی بھی عبادت کا مقصد اگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے دکھاوا ہو ، یا کوئی بھی اور مقصد ہو تو ایسا نیک کام ، یا عبادت اللہ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتا ، اور آخرت میں کسی فائدے کے بجائے نقصان کے اسباب میں سے بن جاتا ہے ،پس کوئی بھی نیک عمل کرنے سے پہلے ، کوئی بھی عبادت کرنے سے پہلے ہمیں اپنے دِلوں میں اپنی نیت اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے لیے خالص کر لینا چاہیے ، تا کہ وہ عمل ثواب کی بجائے عذاب کا سبب ہی نہ بن جائے۔ نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی: نیت نماز کے ارکان (اور بعض علماء کے نزدیک شروط) میں سے ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ نیت میں کن چیزوں کا تعین ضروری ہے: نیت تکبیر تحریمہ کہتے وقت کی جانی چاہیے اور اس میں ذیل امور کا تعین ہونا چاہیے: نماز کا وقت (ظہر، عصر وغیرہ) فرض، سنت (وتر) یا نفل میں سے کون سی نماز ہے اس کی رکعات کتنی ہیں نیت کی روح: نیت کا مقصد یہ ہے کہ نمازی اللہ رب العالمین کے دربار میں پیش ہونے سے پہلےپوری طرح متوجہ ہو اور اس بات کو اپنے ذہن میں اچھی طرح تازہ کر لے کہ "اے اللہ، میں صرف تجھے خوش کرنے کے لیے، تیری رضا کی طلب میں، تیرے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق یہ فلاں فلاں وقت کی نماز (فرض یا نفل)، اتنی اور اتنی رکعات ادا کرنے لگا ہوں، تو اپنی رحمت سے اسے قبول فرما لے"۔ زبان سے نیت کے کلمات کہنا درست نہیں: نیت دِل میں کیے گئے عزم و ارادے کا نام ہے ، لہٰذازبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زبانی نیت کے جو کلمات مشہور ہیں کہ "نیت کی میں نے اس نماز کی، خاص واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف ۔ ۔ ۔ "یہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سکھائے ہیں، نہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ نے اس کی کوئی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا ہے ،اور نہ ہی ائمہ امت میں سے کسی نے انہیں کہنے کی ترغیب دی ہے۔ اسےبعد کے زمانوں میں کچھ علماء نے یہ کہتے ہوئے رواج دیا ہے کہ اس سے نیت کی پختگی اور توجہ حاصل ہوتی ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت کی کسی کیفیت اور طریقے کواپنی مرضی سے بدل دیناجائز نہیں ہے۔ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت پر اکتفاء کرنا چاہیے کیونکہ سب سے اچھی بات اللہ تعالیٰ کی بات ہے اور سب سے بہترین طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا سکھایا ہوا طریقہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دین میں نئی نئی چیزیں نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے: كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ (جہنم) میں ہے" سنن النسائی الصغریٰ کتاب صلاۃ العیدین باب کیف الخطبہ، صحیح سنن نسائی حدیث نمبر 157
  5. JazakhALLAH , apki post prh k bht si batun ka ileem hoa jin ka sahi pta nahi tha, ALLaH iski jaza day apko bhai..aameeen..
  6. SubhanALLAH !
  7. JazakhALLAH !
  8. SubhanALLAH ! Sachay aashiq Hazrat Bilal habashi raziALLAH Anhu..
  9. بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمَنِ الْرَّحِيمِ Kya Ummat Muhammdia SUL ALLAH ALIHE WA ALEHE WASLAM mien Shirk mojood hay ? Dleel Hazrat Soban se rwayt hay k Rsool SULALLAH ALIHE WASLAM ne frmaya ! Uss waqt tak Qyaamat nehein aay gee jabb tak k meri ummat kay Qbayl Mushrkeen kay saath mill na jaain aor jabb takk k, Meri ummat ky Qbayl Osaan ki abaadat na krnay lagg jain.________sanad sehi. Osaan !!!!!!! iss hadees main Lafz Osaan aaya hay ye Wasan ki jma hay wsan se murad her wo cheez hay jiss ki ALLAH kay ilaawa abaadat ki jaay khwah wo moorti ho ya pathar , darakht o Jhunda ho ya Qabar ya phir koi aor cheez jiasa k Rsool ki hadees hay ! Aap ne frmaya! Aey Allah ! Meri Qabar ko wasan na bnana (k jiss ki abaadat ki jay) Allah aisi Qoam per laanat frmay jiss ne apnay Anbia A.S ki Qabron ko abadat gaah bna liaa. (Musnid Ahmad #1031 nuskha akhyraa ,1025 sanad hasan hay) Ghuor kijieay Aaj Nabi kreem ki umat kiss terha awaam main maroof naik logon ki qabron aor mzaaron per ghomti nazar aati hay aor kittenay he darkht astaanay hain chilla gaahin hain jinnhien muqaddas samajj ker wehaan Qurbanaan ki jaati hian kitteni Qabron kay samnay sajjday ho rehay hian ? Twaaf ho rehay hain ? aor kittenay he pathar hain jinhin nafa nuqsan k LIe kaar aamad samajja ja reha hay ? ye sub,,,, Osaan ,,,, ki abaadat kay manzr hian. gharz ye k sabit hooa iss hadees se k meri ummat ,OSAAN ki abaadat krnay lgay gee aor osaan ki abaadat ka shirk hona yqeeni hay. (Ab Dowd #4252 Sanad bilul sehi hay ) Quran Majeed hamain Btlaata hay k Yehood o NIsaara ne apnay Ulmma or drwaishon ko apna Rubb bna lia tha. (sure Toaba #31) Iss Ummate Muhamdia SulALLAH ALIHE Waslam mian be kittenay hi aisay Log hain jo Ulmma aor drwaishon ko Rabb bnaay baithhay hain issi terha Sayda Aaysha frmaati hain k Seyda Ume Salma ne RSOOL se ser zmeen Habsha kay aik Kneesa ka tazkra frmaya aor JO kuchh wehaan unnhon ne Tsaweer daikhien un ka ziker frmaya to Rsool SULALLAH ALIHE WASALAM ne frmaya ! Ye Yehoodo NIsaara aisi qoam hay k Jabb in mian se koi naik shakhs foat ho jaata to wo iss ki Qabar per Masjjid (abadat gaah) bna laitay aor iss main iss qisam ki tsaweer bna laitay yh Log ALLAH kay nazdeek bad,dtreen Makhlooq hain. (Sehi Bukhari #434) Aaj kittenay hi log hain jinn ki Qabrain hain k jinn per masjdain bni hoee hain aor kitteni he Qabrain hain jo abadat gaahon ka darja ikhtyaar ker chuki hain JInn per Log khusho o khzoo kay saath khray nazar aain gay koi sajjda raiz hain to koi Twaaf main masroof hain, Koi nazranay paish ker rehay hain to koi janwar zibah ker rehay hain Koi haath uthhay unn Qabar walon se maang rehay hain fryaad ker rehay hain algharz abaadat kay kittenay hi mzahir aap ko Qabron per nazar aain gay Or Nabi ki in ahadees ko janenay waala koi shakhs ye tasleem kiay bghair na rehay gaa k iss ummat kay bohat se log hoo behoo Yehoodo Nisaara ky Treeqon ko apnay huay hain , JIss Terha Log naik buzgron ki mohabbat main ghulve ka shakar ho ker Shirk jaise moozee bemari main mubtla ho gay thay issi terha iss ummat kay be bohat se LOg shirk ki Daldal mian phans chukay hain.
  10. (Peace and blessings of Allah be upon him) To the kings beyond Arabia Late in the six year A.H., on his return from Hudaibiyah, the Prophet Muhammad , decided to send messages to the kings beyond Arabia calling them to Islam. In order to authenticate the credentials of his envoys, a silver seal was made in which were graven the words: "Muhammad the Messenger of Allâh" [sahih Al-Bukhari 2/872,873]...... Letter to the Vicegerent of Egypt, called Muqawqas, The Prophet wrote to Juraij bin Matta [Rahmat-al-lil'alameen 1/178; Dr. Hamidullah said that his name was Binyamin], called Muqawqas, vicegerent of Egypt and Alexandria saying: "In the Name of Allâh, the Most Beneficent, the Most Merciful. From Muhammad slave of Allâh and His Messenger to Muqawqas, vicegerent of Egypt. Peace be upon him who follows true guidance. Thereafter, I invite you to accept Islam. Therefore, if you want security, accept Islam. If you accept Islam, Allâh, the Sublime, The Envoy to Caesar, King of Rome Al-Bukhari gave a long narration of the contents of the letter sent by the Prophet to Hercules, king of the Byzantines: "In the Name of Allâh, the Most Beneficent, the Most Merciful. From Muhammad, the slave of Allâh and His Messenger to Hercules, king of the Byzantines. Blessed are those who follow true guidance. I invite you to embrace Islam so that you may live in security. If you come.... The letters of the prophet Muhammad 11 and gave birth to his son Ibrahîm; the other Sirin, was given to Hassan bin Thabit Al-Ansari. 3-A Letter to Chosroes, Emperor of Persia "In the Name of Allâh, the Most Beneficent, the Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allâh to Chosroes, king of Persia. Peace be upon him who follows true guidance, believes in Allâh and His Messenger and testifies that there is no god but Allâh Alone with no associate, and that Muhammad is His slave and Messenger. I invite you to accept the religion of Allâh. I am the Messenger of Allâh sent to all people in order that I may infuse fear of Allâh in every living person, and that the charge may be proved against those who reject the Truth. Accept Islam...
  11. بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمَنِ الْرَّحِيمِ اس پوسٹ کو ایک بار ضرور مکمل پڑھئیے پلیز ، کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ضرور ملے گا ان شاء الل ! شمعون اور حسن بصری کا واقعہ: --------------------------------------- شمعون نامی مشہور آتش پرست خواجہ حسن بصری رحمتہ الله علیہ کا پڑوسی تھا۔ وہ ستر برس تک آتش پرستی میں مشغول رہا۔ آخری عمر میں بیمار پڑ گیا۔ کئی روز گزر گئے۔ عمدہ علاج اور تدابیر بھی اسے صحت یاب نہ کرسکیں تو ایک روز خواجہ حسن بصری رحمتہ الله علیہ اس کی عیادت کو گئے۔ عیادت کے بعد آپ نے اس کو نصیحت کی ۔ تم نے ایک عمر کفروشرک میں گزار دی ہے۔ اب تم اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو تو اسلام لے آؤ ۔ شاید خدا تم پر مہربان ہو جائے۔ شمعون نے جواب دیا خواجہ صاحب! مجھے مسلمانوں کی تین عادات سخت ناپسند ہیں۔ ان کی بدولت میں اسلام سے دور رہاہوں اور اب بھی مجھے اس میں کوئی کشش نہیں محسوس ہوتی۔ خواجہ صاحب نے فرمایا تو بیان کر وہ کونسی ناپسندیدہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے تو اسلام کا منکر ہے اس نے جواب دیا اول یہ کہ مسلمان دنیا کو برا کہتے ہیں،جب شب و روز دنیا کے متلاشی اور متوالے ہیں، دوئم و ،موت پر یقین کامل رکھتے ہوئے بھی موت کیلئے کوئی عملی سامان تیار نہیں کرتے۔ سوم یہ کہ خدا کے دیدار اور خدا کو حاصل کرنے کے بھی متمنی رہتے ہیں اور ہر وہ کام بھی کرتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں۔ خواجہ حسن بصری رحمتہ الله علیہ نے جواب دیا تمہاری گفتگو بڑی اچھی ہے اس میں حق شناسی کی دلیلیں ہیں مگر یہ بتا کہ تو نے صرف ان باتوں کی وجہ سے ستر برس آتش پرستی میں برباد کر دیئے جبکہ ایک مسلمان اور کچھ نہ کرے کم ازکم خدا کی وحدانیت پر یقین تو رکھتا ہے اس بات سے اس کو خدا کا قرب تو ملے گا۔ تیرا خیال کیا ہے تو نے آتش کو پوجا ہے تو آگے جا کر آگ سے محفوظ رہے گا اور ہم لوگوں نے آتش پرستی نہیں کی تو ہمیں آگ جلادے گی؟ یہ کہہ کر خواجہ صاحب نے فرمایا ایک آگ جلائی جائے میں اور شمعون دونوں اپنا ہاتھ آگ میں رکھ دیں گے۔ دیکھتے ہیں آگ آتش پرست کو جلاتی ہے یا خدا پرست کو؟ یہ کہہ کر جلتی آگ میں خواجہ صاحب نے اپنا ہاتھ رکھ دیا مگر خدا کے فضل سے آگ نے آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچایا۔ شمعون نے یہ روح پرور منظر دیکھا تو اس کا دل ہدایت الٰہی سے منور ہوگیا اور فوراً خواجہ حسن بصری رحمتہ الله علیہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولا۔ حضرت! اسی وقت کلمہ پڑھائیے۔ کفر و شرک میں ایک عمر بسر کی ہے۔ چندسانس باقی ہیں، کیا خبر یہ گھڑی پھر نصیب ہو کہ نہ ہو۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ اگر میں خدا پر ایمان لے آؤں تو کیا آپ مجھے گارنٹی دے سکتے ہیں کہ میں عذاب الٰہی سے بچ جاؤں گا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کیوں نہیں۔ میں تمہیں لکھ کر دیتا ہوں کہ اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو خدا تمہیں ضرور بخشش دے گا۔ چنانچہ ایک اقرار نامہ تیار کیا گیا جس پر خواجہ حسن بصری رحمتہ الله علیہ اور دیگر عادل حضرات کے دستخط بطور گواہ کے رقم کئے گئے پھر شمعون نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔ ادھر وہ مسلمان ہوا ادھر اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ خواجہ صاحب نے اس کو غسل دیا،کفن پہنایا اور عہد نامہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتار دیا۔ رات کو خواجہ صاحب کو ایک پل کیلئے بھی نیند نہ آئی۔ ساری رات نوافل میں ادا کی اور خدا کے آگے عرض کرتے رہے، اے رب کریم! میں تو خود ایک گنہگار آدمی ہوں۔ میں کسی کی بخشش کی کیا ضمانت دے سکتا ہوں۔ میں نے ایک دعویٰ کر دیا ہے اب تو میری لاج رکھنے والا ہے ورنہ قیامت کے روز میں اس شخص کوکیا منہ دکھائوں گا جس نے میری ضمانت پر کلمہ پڑھا۔ اسی بے کلی میں خواجہ صاحب کی آنکھ لگ گئی، خواب نظر آیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ شمعون کے سر پر تاج ہے اور وہ مکلف لباس میں ملبوس جنت کے باغات میں سیر کر رہا ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا اے شمعون سنا تیرا کیا حال ہے؟ شمعون بولا اے حسن بصری! میں بتانے کیلئے وہ الفاظ اور زبان نہیں رکھتا کہ خدا نے مجھ پر کیا کیا مہربانیاں کی ہیں۔ مجھے میرے گناہوں کی معافی دی۔ مجھے بہشت کے محلات میں اتارا، مجھے اپنا دیدار کروایا اور وہ انعامات دیئے کہ بس میں کچھ بھی بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ پھر اس نے وہ عہد نامہ حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو واپس کر دیا اور کہا اب آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں آپ ہر ضمانت سے سبکدوش ہیں۔ جب خواجہ حسن بصریؒ کی آنکھ کھلی تو حیران رہ گئے کہ وہ اقرار نامہ آپ کے ہاتھ میں تھا جو آپ شمعون کے ہاتھ میں دے کر قبر میں اتار آئے تھے۔ آپ فوراً سجدے میں گر گئے اورعرض کی اے مالک کون و مکان! تیری ذات کتنی مہربان اور غفور الرحیم ہے۔ ایک آتش پرست کو جس نے ستر سال تیری نافرمانی کی اور فقط ایک مرتبہ کلمہ پڑھا، تو نے اتنی نافرمانیوں کو بے معنی کردیا اور اس کو نہ صرف بخشش دیا بلکہ اس کو بلندوبالا درجات بھی عطا فرمائے۔
  12. SubhanALLAH , HAQ NABI .. اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
  13. SubhanALLAH ,