Jump to content
IslamiMehfil

Adeel Khan

Members
  • Content Count

    90
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

1 Neutral

About Adeel Khan

  • Rank
    Ajmeri Member

Previous Fields

  • Shia
  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یہ اعتراض پہلے ہی ایک بھائی نے محدث فورم پر کیا تھا جس کو اس نام نہاد محقق نے کاپی پیسٹ کیا ہے اور رد بلیغ پر سارے مقلد بغلیں بجا ریے ہیں جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو اور دوسری بات یہ اعتراض بے جان ہے اس اعتراض میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے کہ اسکا جواب دیا جاسکے ہر مبتدی حدیث کا طالب علم اس طرح کے اعتراض کو سمجھ سکتا ہے کہ کتنی نا اہلی ہے ان مقلدوں میں اور اس نام نہاد محقق سے گذارش ہے کہ ہمارے فورم سے کاپی پیسٹ نہ کرے بلکہ اپنی عقل شریف اور مطالعہ سے کام لے والسلام
  2. عجیب استدلال ہے اپنی روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جزء الرفع الیدین جز القراء کی سند کا اصوال دے رہے ہو اور ایک طرف انہی کتابوں کی سند پر اعتراضات؟ والسلام ایڈمن بھائی
  3. واہ جناب کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا اور جزء الرفع الیدین کو اب تو مان گئے پہلے ہی کہا تھا یہ اعتراضات ان دو کتابوں پر آپ کے بے سود ہیں لیکن اب خود ہی مان گئے اصول پہلے ہی آپ کے نام نہاد محقق نے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ کی اس عبارت کو نہیں مانا تھا اور اسی فورم پر اس نے یہ اعتراض کیا تھا ایک طرف آپکا نام نہاد محقق اس عبارت کو مان نہیں رہا اور آپ ہو کے وہی حوالے دے کر اپنے نام نہاد محقق کو رگڑ رہے ہو؟ اپنے رضا محقق کو دکھاؤ اپنی یہ پوسٹ ویسے اپنا اور ہمارا وقت صرف آپ اور آپ کے نام نہاد محقق نے ضائع کیا ہے
  4. ایڈن بھیا بار بار یہ نہ لگاؤ اسکا جواب دیا تھا پہلے شاید آپ لوگوں نے پڑھا نہیں یا پڑھ کر گول کر گئے خیر آپ کے ان حوالوں کا رد پھر سے دے دیتا ہوں حذف نہیں کرنا مالک دار کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے اور اسے معروف بتایا ہے ، ابن سعد کے حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کو مجہول ہی نقل کیا ہے اور جہاں تک (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے تو اس سے مالک دار کی ثقاہت اور ضبط وعدل اور معروف ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسے بہت سے راوی ہیں جن کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من ال
  5. شکریہ جناب دوبارہ لاگ ان کروانے کا اوپر جو روایت کا ضعف ہے اسکا جواب کب دینگے؟ اور محترم بھائیوں جو حجت ہے وہ بتادیا آپ کا اسکین لگانا بے سود ہے جناب اب اور جناب کاپی پیسٹ کا اپنا یہ قول ذرا اپنے ایڈمن اور محقق کو پر بھی منطبق کرو کیا آپ کے یہ نام نہاد عالم خود لکھتے ہیں عربی اور اردو یہ سوال پہلے بھی کیا تھا تو جواب بدزبانی سے دیا گیا آپ لوگوں کی طرف سے خیر بہر حال سوال وہیں کا وہیں ہے دوبارہ کر دیتا ہوں جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے اس کے جوابات درکار ہی
  6. جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے اس کے جوابات درکار ہیں مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے باقی محدث فورم پر یہی پوسٹ ہے شاید کسی نے غور سے پڑھا نہیں کہ حجت کیا ہے اور کیا نہیں
  7. کیا خوب فارم ہے انقطاع کا جواب نہیں رجل کا جواب نہیں ہے مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے چلو لگاؤ اب جوابات
  8. وہابی جی کاپی پیسٹ بند کرو جب تک پوائنٹ وائز جواب نہ دو گے آپ کی پوسٹس کو ایڈٹ کیا جائے گا یا مان لو کہ لا جواب ہو چکے ہو
  9. يقال: إن أبا صالح سمع مالك الدار هذا الحديث , والباقون أرسلوه (الارشاد: ص 314)
  10. فجاء رجل إلى قبر النبي یہ رجل کون ہے اس روایت میں؟ قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: وروى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار ، وكان خازنَ عمر ، قال: أصاب الناسَ قحط في زمن عمر ، فجاء رجل إلى قبر النبيﷺ، فقال: يا رسول الله استسق لامتك فإنهم قد هلكوا ، فأُتي الرجل في المنام ، فقيل له: ائت عمر .. الحديث ، وقد روى سيف ، في الفتوح ، أن الذي رأى المنام المذكور ، هو بلال بن الحارث المزني ، أحد الصحابة.
  11. جب اس عبارت کو اپنی دلیل بنا رہے ہو سوائے ان اساتذہ کے جن سے انہوں (الاعمش) نے کثرت سے روایت بیان کی ہے جیسے ابراہیم(النخعی)،ابو وائل(شقیق بن سلمہ)اور ابو صالح السمان تو اس قسم والوں سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہیں۔‘‘ [میزان الاعتدال:ج۲ ص۲۲۴]​ تو اس روایت کے بارے میں کیا خیال ہے سیدنا حذیفہؓ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کو منافق قرار دیا ۔دیکھئے تاریخ یعقوب بن سفیان الفارسی(ج۲ص۷۷۱) اس روایت کی سند میں اعمش ہیں جو مدلس ہیں اور شقیق (ابو وائل) سے معنعن روایت کر رہے ہیں جو حضرات جمہور محدثین کے خلاف امام نوویؒ کے مرجوح قاعدے کے مطابق اعمش کی ابو وائل یا ابو صالح سے معنع
  12. کیا سجھیں اب ہم جناب محترم افضل بھیا؟ امام نوویؒ کا ایک حوالہ پیش کر دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’سوائے ان اساتذہ کے جن سے انہوں (الاعمش) نے کثرت سے روایت بیان کی ہے جیسے ابراہیم(النخعی)،ابو وائل(شقیق بن سلمہ)اور ابو صالح السمان تو اس قسم والوں سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہیں۔‘‘ [میزان الاعتدال:ج۲ ص۲۲۴]​ امام سفیان الثوریؒ نے ایک روایت کے بارے میں فرمایا: ’’اعمش کی ابو صالح سے الامام ضامن والی حدیث،میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اسے ابو صالح سے سنا ہے۔‘‘ [تقدمہ الجرح و التعدیل:ص۸۲]​ امام سفیان ثوری ؒ نے اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت پر ایک اور جگہ بھی ج
  13. ارے جناب ذرا میرے مراسلات پر بھی غور کریں ان شاء اللہ رد ہمارا پھر بھی مستند ہی رہے گا ابھی تو اعمش سے جان نہیں چھوٹ رہی باقی علتیں اس روایت کی وہیں ہیں
  14. افسوس کی بات ہے اپنے امام کا گلا گھونٹ کر چلیں ہیں رد کرنے اور نشاندہی کرنے؟ یہاں بھی روشنی ڈال لو افضل بھیا فرقہ بریلویہ کے بانی احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں: ’’اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمدمیں مردود و نا مستند ہے۔‘‘ [فتاویٰ رضویہ:ج۵ص۲۴۵]​ فرقہ دیوبند کے امام اہل سنت سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں: ’’مدلس راوی عن سے روایت کرے تو حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا کوئی اس کا ثقہ متابع موجود ہو۔‘‘ [خزائن السنن:ج۱ص۱] عباس رضوی بریلوی ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ایک راوی امام اعمش ہیں جو اگرچہ بہت بڑے امام ہیں
  15. اور قادری بھیا ذرا آپ نے جو لکھا ہے معذرت جو کاپی پیسٹ کیا ہے ذرا یہ عبداللہ بھائی اور ذیشان بھائی کو بھی بتاو کہ لکھا خود سے یا کاپی پیسٹ کیا ہے
×
×
  • Create New...