Adeel Khan

Members
  • Content count

    90
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

1 Neutral

About Adeel Khan

  • Rank
    Ajmeri Member

Previous Fields

  • Madhab
    Shia
  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یہ اعتراض پہلے ہی ایک بھائی نے محدث فورم پر کیا تھا جس کو اس نام نہاد محقق نے کاپی پیسٹ کیا ہے اور رد بلیغ پر سارے مقلد بغلیں بجا ریے ہیں جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو اور دوسری بات یہ اعتراض بے جان ہے اس اعتراض میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے کہ اسکا جواب دیا جاسکے ہر مبتدی حدیث کا طالب علم اس طرح کے اعتراض کو سمجھ سکتا ہے کہ کتنی نا اہلی ہے ان مقلدوں میں اور اس نام نہاد محقق سے گذارش ہے کہ ہمارے فورم سے کاپی پیسٹ نہ کرے بلکہ اپنی عقل شریف اور مطالعہ سے کام لے والسلام
  2. عجیب استدلال ہے اپنی روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جزء الرفع الیدین جز القراء کی سند کا اصوال دے رہے ہو اور ایک طرف انہی کتابوں کی سند پر اعتراضات؟ والسلام ایڈمن بھائی
  3. واہ جناب کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا اور جزء الرفع الیدین کو اب تو مان گئے پہلے ہی کہا تھا یہ اعتراضات ان دو کتابوں پر آپ کے بے سود ہیں لیکن اب خود ہی مان گئے اصول پہلے ہی آپ کے نام نہاد محقق نے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ کی اس عبارت کو نہیں مانا تھا اور اسی فورم پر اس نے یہ اعتراض کیا تھا ایک طرف آپکا نام نہاد محقق اس عبارت کو مان نہیں رہا اور آپ ہو کے وہی حوالے دے کر اپنے نام نہاد محقق کو رگڑ رہے ہو؟ اپنے رضا محقق کو دکھاؤ اپنی یہ پوسٹ ویسے اپنا اور ہمارا وقت صرف آپ اور آپ کے نام نہاد محقق نے ضائع کیا ہے
  4. ایڈن بھیا بار بار یہ نہ لگاؤ اسکا جواب دیا تھا پہلے شاید آپ لوگوں نے پڑھا نہیں یا پڑھ کر گول کر گئے خیر آپ کے ان حوالوں کا رد پھر سے دے دیتا ہوں حذف نہیں کرنا مالک دار کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے اور اسے معروف بتایا ہے ، ابن سعد کے حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کو مجہول ہی نقل کیا ہے اور جہاں تک (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے تو اس سے مالک دار کی ثقاہت اور ضبط وعدل اور معروف ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسے بہت سے راوی ہیں جن کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے مگران کے ضبط و اتقان کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور ان پر سکوت اختیار کیا ہے مثلا: (١)ابن سعد نے اسلم کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے اور یہ عمر کے غلام تھے۔(طبقات ابن سعد جلد5 ص10 )اس کی کوئی صراحت موجودنہیں (ii ) ابن سعد نے ھُنَیّ کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے مگر اس کے بابت بھی کوئی حکم نہیں لگایا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے نہیں ہے یا معروف ہے اور یہ بھی عمر کے غلام تھے ۔ان دونوں کے بارے میں ابن سعد نے کوئی حکم نہیں لگایا ہے مگر مالک دار کے بارے میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ معروف نہیں ہے اور جب ان کو کسی روای کے بارے میں علم ہوتا تو اس کو بیان کر دیتے تھے اور ذیل میں ہم اس کی مثال نقل کر رہے ہیں : (i ) ابن سعد نے ابو قُرةکو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں اور یہ عبدالرحمن بن الحارث کے غلام تھے ۔ (ii ) ابن سعد نے ابن مرسا کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں۔ (٢) ایک راوی صہیب ہیں جو حضرت عباس کے غلام تھے جیسا مالک دار حضرت عمر کے غلام تھے صہیب کے بارے میں محدثین کیا فرماتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں: (i )امام حاتم نے صہیب کے مجہول ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیاہے ۔(الجرح و التعدیل ابن ابی حاتم جلد 4 ص413 ) (ii )تحریر تھذیب التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تھذیب التھذیب جلد2 ص144 ) (iii )امام ذہبی نے کہا کہ میں اسے نہیں جانتا ۔(الجرح التعدیل جلد1ص236،میزان الاعتدال جلد2ص247 ) ان راویوں کو آپ کے سامنے رکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اگر کسی راوی کو اول مدینہ کے تابعین میں ابن سعد نے نقل کیا ہے اور اس کو معروف یااس کے ضبط اوراتقان کو نقل نہیں کیاتو محض ابن سعد کے(الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کر دینے سے وہ راوی ثقہ یا معروف نہیں ہوجاتا ہے ابن سعد نے اہل مدینہ کے اول طبقے میں بہت سے راویوں کو نقل کیا ہے اور ان کی ثقاہت کے بارے میں بیان بھی کیا ہے مگر مالک دار کو بیان کرکے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اور ایسے متعدد راوی ہیں کہ جن کے بارے میں ابن سعد کو علم نہیں ہوا ان کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا ہے اور اس کی مثالیں ہم نے اوپر پیش کیں ہیں۔ دوسرے راوی صہیب سے ابو صالح سمان نے ہی روایت کیا ہے جیسا کہ مالک دار سے روایت کیا ہے مگر محدثین نے صہیب کو مجہول قرار دیا ہے اس تمام بحث کا حصول یہی ہے کہ نیک ہونے کے ساتھ روای کی ثقاہت اور اس کا ضبط حدیث ثابت ہونا ضروری ہے نہ کہ یہ ثابت ہو کہ اس نے کس سے روایت کی ہے اور اس نے کون سا زمانہ پایا اگرنیک ہونے کے ساتھ حفظ و اتقان ہے تو راوی قابل قبول ہے وگرنہ کتنا ہی نیک ہو اس سے روایت قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ: '' ابی الزناد قال ادرکت بالمدینة مائة کلھم مامون مایوخذ عنھم الحدیث یقال لیس من اھلہ'' (مقدمہ صحیح مسلم ص 33 ) '' ابو الزناد (حدیث کے امام تھے) نے کہا میں نے مدینہ میں سولوگوں کو پایا سب کے سب نیک تھے مگر ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی لوگ کہتے تھے وہ اس کے اہل نہیں ہیں ۔'' اس کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ دیندار تھے مگر حدیث کے مقبول ہونے کے لئے اور شرطیں بھی ضروری ہیںجیسے حفظ واتقان اور معرفت فقط زہدوریاضت کافی نہیںاس لئے ان سے روایت نہیں کرتے تھے(ایضاََ) اور امام یحیی بن سعید القطان فرماتے ہیں کہ میں ایک لاکھ دینار کے لئے جس آدمی کو صحیح سمجھتا ہوں ایک حدیث کیلئے اسے امین نہیں سمجھتا ہوں ۔(الکفایہ فی علم الروایہ) اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ صرف روای کی سوانح حال سے یا اس کے خزانچی ہونے سے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو مالک دار کی سوانح حال کو بیان کرنے والے اس کی توثیق خود کرتے اور اسے ثقہ اور معروف بتاتے ۔ اس کے بعد اس نقطہ کی جانب آتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کے بارے میں کہا کہ یہ معروف ہے یہ ایک غلط قول ہے ابن سعد نے مالک دار کو معروف نہیں کہا بلکہ ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے ابن سعد کا یہ قول ہم یہاں نقل کیے دیتے: ''وروی مالک الدار عن ابن بکر الصدیق وعمررضی اللہ عنہما روی عنہ ابو صالح السمان وکان معروفاََ'' ( طبقات ابن سعد جلد 5 ص12 ) '' اور روایت کیا مالک دار نے ابو بکر صدیق و عمر سے اور روایت کیا اس سے ابو صالح سمان نے اور وہ معروف ہے ۔'' ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کیونکہ اگر یہاں مالک دار کو معروف کہا گیا ہے تو حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں ابن ابی شعبہ کی روایت کو متصل مالک دار سے بیان کرتے مگر انہوں نے اسے ابو صالح سمان تک ہی صحیح کہا ہے کیونکہ وہ مالک دار کو نہیں پہچانتے جیسا ہم نے پہلی دلیل کے رد میں اسے بیان کیا ہے کیونکہ حافظ عسقلانی نے ابن سعد کا یہ قول اپنی کتاب التمیزفی صحابہ میں نقل کیا ہے اگر ابن سعد نے مالک دار کو معروف کہا ہوتا تو حافظ ابن حجر اس روایت کو صحیح مان لیتے کیونکہ وہ یہ قول اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں مگر انہوں نے اس روایت کو صحیح نہیں مانا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کہا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ مالک دار کے حوالے سے تاریخ ابن عساکر سے جو باتیں نقل کی گئی ہیں اور جو واقعہ عبیدہ بن جراح سے نقل کیا گیا ہے یہ واقعہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں نقل کیا ہے اور اس میں مالک دار کو مجہول بتایا ہےتو یہ واقعہ ویسے ہی اعتبارکے قابل نہیں ہے۔(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) اور امام خیثمہ نے مالک دار کی سوانح حال بیان کیا مگر اس کے بارے میں کوئی توثیق نہیں کی ہے بلکہ امام ابن حاتم ہی کا الجرح التعدیل کا قول نقل کر دیا ہے تو اس سے بھی مالک دار کی کوئی توثیق نہیں ہوتی کہ وہ معروف ہے امام بخاری نے جو مالک دار سے روایت نقل کی ہے تاریخ الکبیر میں ہے اور اس میں بھی امام بخاری نے فقط یہی الفاظ نقل کیے ہیں: '' فی زمانہ قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ ''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 ) اگر امام بخاری اس واقعہ کو مستند مانتے تو اسے مکمل نقل کرتے مگر انہوں نے اس واقعہ کو مختصر نقل کیا ہے اور اس کی وجوہات ہم ذیل میں نقل کیے دیتے ہیں: (i ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ یہ واقعہ مستند نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ الفتاح الکبیر میں بھی نقل ہوا ہےمگر اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمرتمیمی بلاتفاق محدثین ضعیف ہے ۔ (تہذیب التھذیب جلد3 ص583 ) اسی و جہ سے امام بخاری نے اس واقعہ کو نقل نہیں کیا ہے ۔ (ii ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے بھی نقل نہیں کیا ہے کہ ان کی نظر میں یہ واقعہ اس حد تک بھی صحیح نہیں ہے کہ اسے اپنی صحیح کے علاوہ کسی اور کتاب میں بھی درج کریں امام بخاری نے صرف اپنی صحیح کے لئے ہی یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں تمام صحیح روایات کو جمع کریں گے۔ ( فتح الباری جلد 1ص8-10 ) امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں صرف صحیح احادیث نقل کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کتاب کے لئے یہ شرط نہیں رکھی ہے تو اس واقعہ کو امام بخاری نے اس حد تک بھی قبول نہیں کیا کہ اسے اپنی دوسری کتب میں نقل کر تے تو امام بخاری کے نزدیک بھی یہ واقعہ کوئی مستند نہیں ہے جس سے حجت لی جا سکے ۔ (iii ) امام بخاری نے اپنی تاریخ الکبیر میں اس واقعہ کے جس حصے کو نقل کیا ہے اس کی سند کو بھی ایک علت کے ساتھ بیان کیا ہے پہلے ہم اس روایت کو نقل کیے دے دیتے ہیں اس کے بعداس کی علت کی نشاندہی کریں گے جس کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے: ''مالک بن عیاض الدار ان عمر قال فی قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ قالہ علی (ابن المدینی) عن محمد بن خازم عن ابی الصالح عن مالک الدار''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 ) اس روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ اس روایت میں نہ الاعمش کو محدثین نے اس کی تدلیس کے باعث حجت مانا ہے اور نہ مالک دار کے بارے میں کوئی توثیق ملتی کہ وہ ایک معروف راوی اور ضبط اور اتقان میں محدثین کے اصولوں پر پورا اترے مالک دار کے بارے میں جو یہ کہا گیا کہ امام بخاری ،ابن سعد ،ابن المدینی، حافظ ابن حجر اور دوسرے محدثین اس کو جانتے تھے اس کلام کا باطل ہونا ہم نے اوپر دلائل سے ثابت کیا ہے حافظ ابن حجر نے اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اس پر سکوت اختیار کیا ہے جس سے محدثین کی مراد یہی ہوتی ہے کہ ان کو اس روای کے عدل و ضبط اور اس کے حالات کا علم نہیں ہوا ہے اور ابن سعد نے بھی اس کو معروف نہیں کہا ہے جیسا اوپر اس کے بارے میں باطل دلیل دی جارہی تھی اور ابن المدینی کے حوالے سے جو بیان کیا گیا ہے کہ ابن المدینی نے مالک دار کو خازن بتایا ہے تو یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ہے یہ بات تواس روایت کے شروع میں ہی موجود ہے کہ عمر کے خازن نے یہ واقعہ بیان کیا ہے ابن المدینی نے یہ بیان کرنے کے باوجود کہ مالک دار عمر کے خازن ہیں اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں کیا کہ یہ روای معروف ہے یا ثقہ کسی راوی کا خازن ہونا اور بات ہے اور حدیث میں ثقہ ، معروف اور عدل وضبط میں پورا اترنا دوسری بات ہے جیسا کہ ہم نے اوپر امام مسلم اورامام یحیی بن سعید القطان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ صرف نیک ہونا راوی کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے اگرایساکوئی محدثین کا اصول ہو تاتو وہ اس اصول کی روشنی میں مالک دار کی ثقاہت کو مانتے اور اس کی تصدیق ضرور کر تے مگر جیسا ہم نے اوپر بھی بیان کیا ہے کہ ایسا کوئی اصول محدثین نے مرتب نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ عمرکے خازن ہونے کہ باوجود ابن المدینی نے مالک دار کی توثیق نہیں کی بلکہ آخر میں ابن حاتم ہی کا قول نقل کر دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امام بخاری نے اس کی سند سے روایت تو لی ہے اور اس میں بھی الاعمش کی وجہ سے انقطاع بیان کیا ہے اور دوسرے اس واقعہ کو بیان ہی نہیں کیا ہے جو سب سے بڑھ کر اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین میں سے کسی نے مالک دار سے یہ واقعہ قبول نہیں کیا ہے اور ان محدثین کے اقوال ہمارے موقف کی تائیدمیں ہیں اور امام ہیثمی نے اس سے ایک روایت بیان کرنے کہ بعد یہ کہا کہ: ومالک دار لم اعرفہ و بقیہ رجال ثقات(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) ترجمہ:''اور مالک دار کو میں نہیں جانتا او ر باقی رجال ثقہ ہیں ''َ اور ابن ابی حاتم نے بھی فقط اتنا ہی بیان کیا ہے کہ مالک دار سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیا ہے اور یہ امام ابن حاتم کا اسلوب ہے جو راوی مجہول ہوتا ہے اس کے بارے میں ابن ابی حاتم فقط اتنا فرما کر سکوت اختیار کر لیتے ہیں کہ یہ اس روای سے روایت کرنے والا منفرد ہے جس سے وہ یہ باور کراتے ہیں کہ یہ روای معروف نہیں ہے اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں ہم چند پیش کیے دیتے ہیں : (i ) صہیب غلام تھا حضرت عباس کا اور ابن ابی حاتم نے اس کے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ فقط ابو صالح سمان نے اس سے روایت کی ہے۔(الجرح و التعدیل جلد4 ص413 ) اورجیسا کہ تقریب التھذیب میں بیان ہوا ہےکہ صہیب مجہول ہے۔(تحریر تقریب والتھذیب جلد 2ص144 ) اورمحدثین کی یہ لم اعرفہ کی اصطلاح بھی بہت معروف ہے جب محدثین یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے جانتے نہیں ہے جیسا اوپر اس روایت کو صحیح کرنے کی دلیل میں بیان کیا گیا ہے بلکہ محدثین سے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے مثلا جیسا امام ذہبی نے صہیب کے بابت یہ کہا ہے کہ لم اعرفہ میں اسے نہیں جانتا تو اس کے معنی یہی ہے کہ وہ معروف نہیں ہے وہ مجہول ہے جیسا تحریر تقریب و التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تقریب و التھذیب جلد 2 ص144 ) اور دوسری مثال ام ابان جو ایک مجہولہ راویہ ہے اس کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں کہ: '' مجھول تفرد بروایة عبدا لرحمن بن الاعنق''(میزان الاعتدال جلد4 ص439 ) ''یہ راویہ مجھولہ ہے اور عبدالرحمن بن الاعنق اس سے روایت کرنے میں منفرد ہے '' ۔ اس میں اس راویہ کو مجہول کہہ کر امام ذہبی بھی وہی بات کہہ رہے ہیں کہ اس سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن الاعنق منفرد ہے اور یہی بات امام ابن حاتم کہتے ہیں جب کوئی راوی ان کی نظر میں مجھول ہوتا ہے کہ یہ راوی اس سے روایت میں منفرد ہے ۔ تو محدثین جب کسی کو لم اعرفہ کہتے ہیں یا روایت کرنے والے کو منفرد کہتے ہیں تو اس سے وہ یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ راوی مجہول ہے اور مالک دار کے بارے میں بھی امام ہیثمی اور امام ابن حاتم نے یہی اصطلاح استعمال کی ہے اور کسی بھی محدث نے اس واقعہ کو مستند نہیں مانا ہے جن کا ذکر کر کے صاحب کتاب نے اس واقعہ کوصحیح کرنے کی کوشش کی ہے ۔
  5. شکریہ جناب دوبارہ لاگ ان کروانے کا اوپر جو روایت کا ضعف ہے اسکا جواب کب دینگے؟ اور محترم بھائیوں جو حجت ہے وہ بتادیا آپ کا اسکین لگانا بے سود ہے جناب اب اور جناب کاپی پیسٹ کا اپنا یہ قول ذرا اپنے ایڈمن اور محقق کو پر بھی منطبق کرو کیا آپ کے یہ نام نہاد عالم خود لکھتے ہیں عربی اور اردو یہ سوال پہلے بھی کیا تھا تو جواب بدزبانی سے دیا گیا آپ لوگوں کی طرف سے خیر بہر حال سوال وہیں کا وہیں ہے دوبارہ کر دیتا ہوں جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے اس کے جوابات درکار ہیں مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے باقی محدث فورم پر یہی پوسٹ ہے شاید کسی نے غور سے پڑھا نہیں کہ حجت کیا ہے اور کیا نہیں
  6. جناب محترم یہ آخری پوسٹ کے جوابات درکار ہیں اور اگر جواب دے دئے ہیں تو وہ پوسٹ دوبارہ لگادو مجھے موبائل میں تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے اس کے جوابات درکار ہیں مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے باقی محدث فورم پر یہی پوسٹ ہے شاید کسی نے غور سے پڑھا نہیں کہ حجت کیا ہے اور کیا نہیں
  7. کیا خوب فارم ہے انقطاع کا جواب نہیں رجل کا جواب نہیں ہے مقالات راشدیہ حجت نہیں ہے جناب جمہور محدثین کے حوالوں کے سامنے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے شیخ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ نے اس کے جوابات دئے ہیں اور اسکا رد نہیں آیا ہے باقی رجل کون ہے یہ اعتراض اور روایت میں انقطاع ہے چلو لگاؤ اب جوابات
  8. وہابی جی کاپی پیسٹ بند کرو جب تک پوائنٹ وائز جواب نہ دو گے آپ کی پوسٹس کو ایڈٹ کیا جائے گا یا مان لو کہ لا جواب ہو چکے ہو
  9. يقال: إن أبا صالح سمع مالك الدار هذا الحديث , والباقون أرسلوه (الارشاد: ص 314)
  10. فجاء رجل إلى قبر النبي یہ رجل کون ہے اس روایت میں؟ قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: وروى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار ، وكان خازنَ عمر ، قال: أصاب الناسَ قحط في زمن عمر ، فجاء رجل إلى قبر النبيﷺ، فقال: يا رسول الله استسق لامتك فإنهم قد هلكوا ، فأُتي الرجل في المنام ، فقيل له: ائت عمر .. الحديث ، وقد روى سيف ، في الفتوح ، أن الذي رأى المنام المذكور ، هو بلال بن الحارث المزني ، أحد الصحابة.
  11. جب اس عبارت کو اپنی دلیل بنا رہے ہو سوائے ان اساتذہ کے جن سے انہوں (الاعمش) نے کثرت سے روایت بیان کی ہے جیسے ابراہیم(النخعی)،ابو وائل(شقیق بن سلمہ)اور ابو صالح السمان تو اس قسم والوں سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہیں۔‘‘ [میزان الاعتدال:ج۲ ص۲۲۴]​ تو اس روایت کے بارے میں کیا خیال ہے سیدنا حذیفہؓ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کو منافق قرار دیا ۔دیکھئے تاریخ یعقوب بن سفیان الفارسی(ج۲ص۷۷۱) اس روایت کی سند میں اعمش ہیں جو مدلس ہیں اور شقیق (ابو وائل) سے معنعن روایت کر رہے ہیں جو حضرات جمہور محدثین کے خلاف امام نوویؒ کے مرجوح قاعدے کے مطابق اعمش کی ابو وائل یا ابو صالح سے معنعن روایت کو سماع پر محمول کرتے ہوئے صحیح سمجھتے ہیں وہ اس روایت کے مطابق صحابی رسول سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ پر کیا حکم لگاتے ہیں۔۔۔؟ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عائشہ ؓ نے مشہور صحابی رسول عمرو بن العاصؓ کی شدید تکذیب اور ان پر شدید جرح کی۔ دیکھئے المستدرک حاکم (ج۴ص۱۳ح۶۸۲۲) اس روایت کی سند بھی میں اعمش ہیں جو مدلس ہیں اور شقیق (ابو وائل) سے معنعن روایت کر رہے ہیں اسکا جواب بھی درکار ہے
  12. کیا سجھیں اب ہم جناب محترم افضل بھیا؟ امام نوویؒ کا ایک حوالہ پیش کر دیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’سوائے ان اساتذہ کے جن سے انہوں (الاعمش) نے کثرت سے روایت بیان کی ہے جیسے ابراہیم(النخعی)،ابو وائل(شقیق بن سلمہ)اور ابو صالح السمان تو اس قسم والوں سے ان کی روایت اتصال پر محمول ہیں۔‘‘ [میزان الاعتدال:ج۲ ص۲۲۴]​ امام سفیان الثوریؒ نے ایک روایت کے بارے میں فرمایا: ’’اعمش کی ابو صالح سے الامام ضامن والی حدیث،میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اسے ابو صالح سے سنا ہے۔‘‘ [تقدمہ الجرح و التعدیل:ص۸۲]​ امام سفیان ثوری ؒ نے اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت پر ایک اور جگہ بھی جرح کر رکھی ہے ۔دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی (ج۳ص۱۲۷) ۲)امام حاکم نیشا پوریؒ نے اعمش کی ابو صالح سے ایک معنعن روایت پر اعتراض کیا اور سماع پر محمول ہونے کا انکار کرتے ہوئے کہا: ’’اعمش نے یہ حدیث ابو صالح سے نہیں سنی۔‘‘ [معرفۃ علوم الحدیث:ص۳۵]​ اسی طرح امام بیہقی نے ایک روایت کے متعلق فرمایا: ’’اور یہ حدیث اعمش نے یقینا ابو صالح سے نہیں سنی۔‘‘ [السنن الکبریٰ:ج۱ص۴۳۰]​ ۴)اعمش عن ابی صالح والی سند پرجرح کرتے ہوئے امام ابو الفضل محمد الہروی الشہید(متوفی۳۱۷ھ) نے کہا: ’’اعمش تدلیس کرنے والے تھے، وہ بعض اوقات غیر ثقہ سے روایت لیتے تھے۔‘‘ [علل الاحادیث فی کتاب الصحیحلمسلم:ص۱۳۸]​ حافظ ابن القطان الفاسیؒنے اعمش عن ابی صالح کی سند والی روایت کے بارے میں فرمایا: ’’اور اعمش کی عن والی روایت انقطاع کا نشانہ ہے کیونکہ وہ مدلس تھے۔‘‘ [بیان الوہم و الایہام:ج۲ ص۴۳۵]​ اعمش عن ابی صالح کی سند والی روایت کے بارے میں حافظ ابن الجوزیؒ نے کہا: ’’یہ حدیث صحیح نہیں۔‘‘ [العلل المتناہیہ:ج۱ص۴۳۷]​ ۷)مشہور محدث بزارؒ نے اعمش عن ابی صالح کی سندوالی روایت کے بارے میں فرمایا: ’’اور ہو سکتا ہے کہ اعمش نے اسے غیر ثقہ سے لے کر تدلیس کر دی ہو تو سند بظاہر صحیح بن گئی اور میرے نزدیک اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔‘‘ [فتح الباری:ج۸ص۴۶۲]
  13. ارے جناب ذرا میرے مراسلات پر بھی غور کریں ان شاء اللہ رد ہمارا پھر بھی مستند ہی رہے گا ابھی تو اعمش سے جان نہیں چھوٹ رہی باقی علتیں اس روایت کی وہیں ہیں
  14. افسوس کی بات ہے اپنے امام کا گلا گھونٹ کر چلیں ہیں رد کرنے اور نشاندہی کرنے؟ یہاں بھی روشنی ڈال لو افضل بھیا فرقہ بریلویہ کے بانی احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں: ’’اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمدمیں مردود و نا مستند ہے۔‘‘ [فتاویٰ رضویہ:ج۵ص۲۴۵]​ فرقہ دیوبند کے امام اہل سنت سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں: ’’مدلس راوی عن سے روایت کرے تو حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا کوئی اس کا ثقہ متابع موجود ہو۔‘‘ [خزائن السنن:ج۱ص۱] عباس رضوی بریلوی ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ایک راوی امام اعمش ہیں جو اگرچہ بہت بڑے امام ہیں لیکن مدلس ہیں اور مدلس راوی جب عن سے روایت کرے تو اس کی روایت بالاتفاق مردود ہو گی۔‘‘ [آپ زندہ ہیں واللہ:ص۲۵۱]​ عباس رضوی بریلوی کے متعلق مشہور بریلوی عالم و محقق عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: ’’وسیع النظرعدیم النظیر فاضل محدث‘‘ [آپ زندہ ہیں واللہ:ص۲۵]
  15. اور قادری بھیا ذرا آپ نے جو لکھا ہے معذرت جو کاپی پیسٹ کیا ہے ذرا یہ عبداللہ بھائی اور ذیشان بھائی کو بھی بتاو کہ لکھا خود سے یا کاپی پیسٹ کیا ہے