Zeeshan Raza

Members
  • Content count

    33
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

1 Follower

About Zeeshan Raza

  • Rank
    Member
  • Birthday July 7

Profile Information

  • Gender
  • Location
    India
  • Interests
    Debate and Research

Previous Fields

  • Madhab
  • Sheikh
    Huzur Tajushshariah

Recent Profile Visitors

65 profile views
  1. Bhai Jaan Mera suwal Hadees ke Shan e Nuzul Per tha Or uska jwab bhi mne Lga diya hai ek kitab ke scan ke sath Aur apka link dene ke lye shukriya...!!!
  2. بیوی یا لونڈی کے پچھلے مقام میں وطی کرنا {1}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو کسی مرد سے بدفعلی کرے یا بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ جامع الترمذی،ابواب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ إتیان النساء فی أدبارہن، الحدیث:۱۱۶۵،ص۱۷۶۶۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے عورت کی دبرمیں وطی کی تحقیق اس نے(حکمِ شریعت کا)انکار کیا۔ المعجم الاوسط،الحدیث:۹۱۷۹،ج۶،ص۳۹۳۔ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو اپنی بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ ) …سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن ،الحدیث:۱۹۲۳،ص۲۵۹۲۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے اپنی بیوی سے اس کے پچھلے مقام میں وطی کی وہ ملعون ہے۔ سنن ابی داود ،کتاب النکاح ،باب فی جامع النکاح ،الحدیث:۲۱۶۲،ص۱۳۸۲۔ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظم ہے:’’جس نے حائضہ سے یا بیوی کی دبر میں وطی کی یا کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل فرمائی سنن ابی داود ،کتاب النکاح ،باب فی جامع النکاح ،الحدیث:۲۱۶۲،ص۱۳۸۲۔ …حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ لواطت ِ صُغریٰ ہے۔‘‘ یعنی آدمی کااپنی بیوی کی دبر میں وطی کرنا …المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبد اﷲ بن عمرو بن العاص،الحدیث:۶۷۱۸،ج۲،ص۶۰۲۔ رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’شرم وحیا اختیار کرو، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّحق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا۔ عورتوں کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔ …المعجم الکبیر ،الحدیث:۳۷۳۳،ج۴،ص۸۸۔ حضرت سیِّدُنا خزیمہ بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا(پھر ارشاد فرمایا)عورتوں سے ان کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔‘‘ …سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن ،الحدیث:۱۹۲۴،ص۲۵۹۲۔ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا کرو، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا، عورتوں سے ان کی دبر میں جماع کرنا حلال نہیں۔ سنن الدار قطنی،کتاب النکاح،باب المہر، الحدیث:۳۷۰۸،ج۳،ص۳۴۱، دون قولہ:من اﷲ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں سے ان کے پچھلے مقام میں جماع کرتے ہیں ۔ …المعجم الاسط ،الحدیث:۱۹۳۱،ج۱،ص۵۲۴۔
  3. ہاہاہاہاہا بلکل صحیح کہا قادری بھائ ان جناب کے پاس آنکھ ہوتی اور کاش یہ سمجھ پاتے، بغض میں اتنا ڈوب چکے ہے کہ سوائے اپنی پوسٹ کے علاوہ ہمارے جواب کو دیکھ ہی نہیں رہے ہے۔۔۔۔۔
  4. جناب عدیل وہابی صاحب اگر کوپی پیسٹ کہ علاوہ اور کچھ آتا ہے تو سرے سے ہر سوال کا با ترتیب جواب دو اور جواب لو یا پھر اپنے علماء کی تقلید کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے فورم کے لوگوں کو یہاں بلا لائوں یا مدد کہہ کر کیونکہ وہابی دھرم کی لنک لگانا یہاں رولس کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
  5. سبحان اللہ ماشاء اللہ واہ قادری صاحب بہت خوب۔۔۔۔!!! ہر مسئلہ پر خوب جواب عنایت فرمایا۔۔۔۔۔
  6. "التحیات" کا لفظ اس وقت استعمال کیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کیلیے آسمان پر تشریف لے گئے اور جس وقت آپ سدرۃ المنتہی پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ" کہا ۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" پھر فرشتوں نے کہا: " اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" اس روایت کی دلیل۔۔۔ اور اہل سنت کا کیا معاملہ ہے اس روایت اور التحیات کا پس منظر کے بارے میں جلد از جلد معلومات عنایت کی جائے۔۔۔۔۔
  7. تو امام مالک سے مروی درج بالاروایات میں’’ کیف ‘‘کی باقاعدہ نفی ہے۔ اشکال : جب اللہ تعالیٰ مشابہات ِمخلوق سے پاک ہیں تو قرآن و حدیث میں ایسے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے جو انسان کو وہم میں ڈال دیتے ہیں ؟ جواب: علامہ ابن جوزی ؒ نے ’’دفع شبہ التشبیہ‘‘ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی طبیعت پر محسوسات اتنے غالب ہو گئے تھے کہ لوگ محسوسات کے بغیر اپنے الٰہ کو سمجھتے نہیں تھے ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے عرض کیا تھا: اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰہً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ (سورہ اعراف 138) کہ ہمارے لئے بھی معبود بنائیے جس طرح ان کے معبود ہیں‘ اور مشرکین کے سوال ’’اللہ تعالیٰ کیا ہے ؟‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ؁کہہ دیجئے! اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ۔ اگر اس وقت ان کلمات کو ذکر کئے بغیر کہا جاتا:’’اَللّٰہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِنَ الْجِھَاتِ السِّتَّۃِ۔‘‘(اللہ تعالی نہ جسم ہے ، نہ جوہر، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کر ان کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کرسکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہات ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ) تو عام آدمی سمجھ نہ سکتا۔ (دفع شبہ التشبیہ للامام ابن الجوزی: ص 107)
  8. غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام مالک ؒنے استواء ثابت کرکے مجہول الکیفیت قرار دیاہے لہذا صفات باری کے حقیقی معنی مراد لے کر مجہول الکیفیت قراردینا درست ہے۔ جواب: یہ مقولہ امام مالکؒ سے ثابت ہی نہیں۔ (التعلیق علی کتاب الاسماء والصفات ج2ص151) امام بیہقیؒ نے کتا ب الاسماء والصفات ج2ص150 اور حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری ج13ص498 باب و کان عرشہ علی الماء میں بسند جید امام مالکؒ کا صحیح قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن وھبؒ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک ؒکے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور امام مالک ؒسے کہنے لگا: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ ! اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ ‘کَیْفَ اسْتِوَائُ ہٗ؟ اے ابوعبداللہ!رحمن عرش پر مستوی ہے ‘ اس کا استواء کیسے ہے؟ ابن وہب ؒفرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کو پسینہ آگیا۔ پھر آپ نے سراٹھایا اور فرمایا: اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ کَمَا وَصَفَ نَفْسَہٗ ‘لَا یُقَالُ کَیْفَ؟ وَکَیْفَ عَنْہٗ مَرْفُوْعٌ رحمن عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس نے خود بیان کیاہے ‘یہ نہ کہا جائے کہ کیسے؟(یعنی کیفیت کی نفی کی جائے)اور اللہ سے کیفیت مرفوع ہے(یعنی کیفیت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بولا جاتا) اسی طرح امام ابوبکر بیھقیؒ اور علامہ ابن حجر عسقلانی ؒنے ولید بن مسلم کے طریق سے نقل کیاہے کہ امام اوزعی ؒ ‘امام مالک ؒ ‘امام سفیان ثوری ؒ اور امام لیث بن سعد ؒسے ان احادیث سے متعلق سوال کیا گیا جن میں اللہ کی صفات کا بیان ہے تو انہوں نے فرمایا: اَمِرُّ وْھَاکَمَا جَائَ تْ بِلَاکَیْفِیَّۃٍ ترجمہ:یہ احادیث جیسے آ ئی ہیں ویسے بیان کرو کیفیت کے بغیر۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص198،فتح الباری لابن حجر ج13 ص498 باب و کان عرشہ علی الماء )
  9. وہی فتویٰ ہوگا جو ڈاکٹرطاہر پر ہے Kuch Ulma ka Kufar Ka hai To Kuch ka Gumrah Ka Us shaks ke upar kya Hukm ayega ? 1 Gumrah 2 Kufar علیحدہ فتوٰی کی ضرورت ہی نہیں۔ کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے فتوٰی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا Fatwa Ki Sehat Per Kalam hi nhi hai Balke Zaid Ke Amal ke upar Fatwa Chahye Agr ye fatwa Pauhchaya jaye shaid Uski Islah Ho Jaye...!!!!
  10. Asslama Alaikum Jaisa ki Mashoor Hai Dr. Tahir ul Padri gumrah hai or Bhut se ulma ne us per hukm e kufar ka Fatwa Diya Hai Sawal Bargah me ye pesh Hai Jin Wajuhaat ke bina per usper hukm e Kufar lgaya gya h wo wajuhat ko jaan kr Zaid uski beja Taweel kr k use bade bade Alqabat se nawzta hai....!!! Or wo mureed Hazrat Ilyas Attar Qadri Sahab Se hai Or Dawate Islami Ke Fatwo ko is masle me nhi manta Hai Baki kuch kuch masail me Dawate Islami wa marakz e Bareily shareef ke fatawo ko manta Hai... Kya ye whabi sifat nhi ...? Puri trah se Kisi bhi bahazir hayat aqabir ulma ko nhi mante hai ksi ka kuch lena to kisi ka kuch lena.... To Aise Shaks Ke Upar Sharah Ka Kya Hukm hai Or usse Salam dua krna Sath Khana pina wagairah krna kaisa Hai...? Tahreeri Fatwa jald az jald Inayat Farmaye Jisse zaid tak Pauhchaya Ja Saken... Jazak Allah...!!!
  11. Is Kitab Ke Phle Baab Me Shaikh Hasan Ash-Shati Al-Hanbli Ne Kufar Aur Shirk Nez Shirk-e-Jali Or Shirk-e-Khafi Dono Per Bahes Ki Hai Aur Farmaya Hai Ke Jaise Ibn Adbul Wahab Najdi Ne Shirk Ke Fatwe Jaari Kiye The To Wo Darasal Shirk Ke Mayne Wa Mafhoom Se Bhi Na'ashna Tha...!!! Jin Aamal Ko Hajat Rawayi Kha Jata Hai Or TAWASSUL Yaani Ambiya Auliya Saleheen Zindah Ya Fout Shudah Se Madad Mangne Ko Shirk Kehna Bilkul Galat Hai...!!! (لایصح) (لا کفر) Yaani Yeh Kufar Nhi Hai Kyuke Yeh Asbab Hai Jis Ke Sabab Hum Is Aalam E Asbab Me Allah Ki Taraf Waseela Ukhrawi Or Dunyawi Mamlat Me Dhoondte Hai...!!! Aur Kyuke Allah Hi In Asbab Ka Khaliq Bhi Hai Aur (والمسبب) Bhi Hai Lehaza Aisa Aiteqad (Yaani Waseela Madad Magna) Hargiz Kufar Nhi Phir Allama Ne Mazeed Is Baat Per Ek Bab Tahreer Kiya Hai Aur Is Masla Per Ibn e Taimiya Ke Or Ibne Wahab Najdi Ke Gumrah Khayalat Ka Pardah Salaf o Saleheen Ke Hawalo Se Chaak Kiya Hai Aur Saaf Saaf Likha Hai Ke Ye Aine Deen Islam Hai Aur Is Per Ijma e Ummat Hai....!!!
  12. ❣Tawassul/Istegasa/Waseela❣ Sheikh Yusuf bin Ismail bin Muhammad Nasir Al-Din An-Nabhani Apni Kitab Me Istegase Per Ek Baab Bandhkar Likhte Hai...!!! Imam Taqi ud Deen Subki Apni Kitab شفاء السقام في زيارة خيرالانام Me Frmate Hai...!!! Jaan Lo....!!! ALLAH Ta'ula ki Bargaah Me Nabi Kareem ﷺ Ka Waseela Pesh Krna, Istighasa Krna Aur Shafa'at Talab Krna Jaiz Or Mustahsan (Umda) Hai.....!!! Iska Jaiz Or Umda Hona Har Deen Daar Shakhs Ke Ilm Me Hai Ambiya o Mursaleen Ke Amal, Salf o Saliheen Ki Seerat, Ulama or Musalman Awam Se Ma'roof o Mash'hoor Hai....!!!! Imam Ibn e Hajar Haismi Iman Nawwi Ki *Manasik*Ke Hashye Me Farmaty Hai...!!! Nabi Kareem ﷺ or Apke Alawah Ambiya Or Isitrah Auliya Se Tawassul, Istighasa, Shafa'at Or Inki Taraf Mutawaja Hone Me Koi Farq Nhi Hai....!!!! Kiyun Ke.... Aamal Ka Waseela Peshh Karna Jub (Hadees Me) Warid Hua Hai To Yeh Faazil (Muazziz) Hastiyan Ziyada Afzal Ha ( Ke Inka Waseela Kiya Jaye)..... Jaisa ke Hazrat Umar رضي ألله عنه Ne Hazrat Abbas رضي ألله عنہ Ka Barish Ke Liye Waseela Pesh Kiya or Kisi Ne Unhe Mana Nhi Kia.... Or Nabi Kareem ﷺ Se Tawassul Krne Ka Matlab In Se Dua Talab Krna Hai Kiyun Ke Wo Zinda Hai or Suwal Karne Wale Ke Suwal Ko Janty Hai Ek Taweel Hadees Me Hai Ke Log Hazrat Umar رضي الله عنه Ke Zamany Me Qahet Me Mubtela Hue To Ek Shakhs Nabi Kareem ﷺ Ki Qabr e Mubarak Per Aaya Or Arz Ki.... Ya Rasulallah ﷺ Apni Ummat Ke Liye Barish Ki Dua Kijye Pas Aap ﷺ Uske Khawb Me Tashreef Laye Or Use Bataya Ke Unhen Barish Se Seraab Kiya Jayga Pas Isi Trah Huwa......!!!! ( Yani Barish Hui)