Zeeshan Raza

Members
  • Content count

    42
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Zeeshan Raza last won the day on November 19 2017

Zeeshan Raza had the most liked content!

Community Reputation

2 Neutral

2 Followers

About Zeeshan Raza

  • Rank
    Member
  • Birthday July 7

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    India
  • Interests
    Debate and Research

Previous Fields

  • Madhab
  • Sheikh
    Huzur Tajushshariah

Recent Profile Visitors

355 profile views
  1. بندہ منہاجی ہو اور بدزبان نا ہو ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔!!! اس بار بجائے کوئ نئی کہانی لکھنے کے جواب لے آنا ورنا آپ کی تو تڑاک سننے کا وقت نہیں کسی کے پاس۔۔۔!!!
  2. بنت عبد السمیع اتنی لمبی پوسٹ تحریر کر کے کوئ کمال نہیں کیا ہے اس کا جواب پہلے ہی اوپر لگا دیا گیا ہے۔۔ بجائے کوپی پیسٹ کرنے کے پہلے اوپر دیکھ تو لیا کرے۔۔۔
  3. اس کتاب کا سکین چاہئے آپ کو؟
  4. امام ذہبی کی کتاب "میزان الاعتدال" میں ایک خیانت امام ذہبی کی کتاب "میزان الاعتدال" میں امام اعظم ابو حنیفہ کا تعارف الحاقی ہے۔وہ تعارف امام ذہبی کی طرف منسوب تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ انھوں نے نہیں لکھا۔ اس مسئلہ کے پسِ منظر کو سمجھنے کے لئے چند باتیں ملاحضہ فرمائیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ثقاہت و فقاہت اور ان کے علمی مرتبہ سے کون واقف نہیں لیکن موجودہ زمانہ کے کچھ غیر مقلدین وہابی نجدی خبثاء امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بکواسات کرتے ہیں۔ اور بعض اوقات وہ میزان الاعتدال کی ایک عبارت جو کچھ یوں ہے۔ 9092 - النعمان بن ثابت بن زوطى، أبو حنيفة الكوفي. إمام أهل الرأى.ضعفه النسائي من جهة حفظه، وابن عدي، وآخرون.وترجم له الخطيب في فصلين من تاريخه، واستوفى كلام الفريقين معدليه ومضعفيه. یہ حوالہ پیش کر کے کہتے ہیں دیکھو امام ذہبی نے امامِ اعظم کو ضعیف لکھا ہے اپنی کتاب میں۔جب اس کتاب میزان الاعتدال کے اس تعارف کی تحقیق کی گئی تو بہت ساری باتیں ظاہر ہوئی جن سے اظھر من الشمس یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عبارت امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے نہیں لکھی بلکہ ان کی کتاب میں یہ الحاق کر دی گئی اور منسوب امام ذہبی کی طرف کر دیا گیا جو بہت بڑی خیانت ہے۔اس تحقیق کو خود بھی پڑھیں اس کی دو قسطیں ترتیب وار ماہنامہ اشرفیہ میں شائع ہوئی ہیں دونوں کو یکجا کر کے اپلوڈ کر دیا گیا ہے۔
  5. ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﻗﺮﺁﻥ تھے ﭼﻨﺎﭼﮧ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﮨﺸﺎﻡ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ! ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﯾﺠﺌﮯ ؟ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : '' ﮐﺎﻥ ﺧﻠﻘﮧ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ '' ﯾﻌﻨﯽ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺧﻠﻖ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﮭﺎ ۔ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ نہیں کیا- ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﻭَِﻧَّﮏَ ﻟَﻌَﻠٰﯽ ﺧُﻠُﻖٍ ﻋَﻈِﯿْﻢٍ ‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻘﻠﻢ ﺁﯾﺖ 4 ‏) '' ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺗﻢ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﺮ ﮨﻮ '' ۔ ‏ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﻠﺪ 6 ﺻﻔﺤﮧ 91 ، ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺟﻠﺪ 4 ﺹ 402
  6. میت کا منہ دیکھنے کے لیے عورتوں کا جنازے کے ساتھ قبرستان جانا کیسا..؟ کوئی عورت دیر سے پہنچی تو اس کو اپنے باپ یا بھائی کی میت کا منہ دیکھنے کے لیے قبرستان جانے کی اجازت ہے..؟
  7. عورتوں کا مزارات پہ جانا کیسا ؟؟؟؟کیا عورت مزار پہ جا سکتی ہے یا نہیں؟؟؟اس فتوی کو ضرور پڑھیں اور ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں عورت کا قبرستان جانا منع ہے۔ حضرت صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی "فتاوی رضویہ" کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ''اوراسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقا منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبورکی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اورصالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔'' (بہارشریعت،جلد1،حصہ 4،ص89،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) والله اعلم بالصواب
  8. صوفی وجد و رقص. ..... اکابرین اہل سنت کی چند شان دار چشم کشا تحریروں کے حوالے سے ......... محترم قارئین کرام ! اہل سنت و جماعت کی عوام میں بہت سے غلط باتیں مشہور کر دی گئی ہیں اس لیے عوام ِ اہل سنت آپس میں دست و گریبان ہیں ۔ محترم سنی بھائیو ! اگر آپ غور کرو تو آپ جان لوگے کہ اس انتشار و افتراق کی سب سے بڑی وجہ فروعی مسائل میں شدت ہے اگر عوام کو فروعی مسائل کا بتا دیا جائے اور انہیں با خبر کر دیا جائے کہ فروعی مسائل میں شدت کرنا صحیح نہیں ہے تو کافی حد تک اس انتشار و افتراق پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ انہی فروعی مسائل میں آج ہم ایک مسئلہ"قوالی مع مزامیر یعنی آلات موسیقی کے ساتھ قوالی" پر کلام کریں گے اور آپ سب کے سامنے ان حقائق کو لائیں گے جن سے بہت سے حضرات بے خبر ہیں ۔ قوالی بالمزامیر اور اختلافِ علما قارئین کرام اس مسئلہ میں علما کے دوطبقات ہیں ایک وہ ہیں جو اس کے ناجائز و حرام ہونے کے قائل ہیں اور دوسرے وہ جو اس کے جائز ہونے کے قائل ہیں۔ طبقہ اول: حرام کہنے والوں میں سب سے معروف و مشہور نام اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کا ہے ۔آپ کے نزدیک قوالی بالمزامیرحرام و ناجائز ہے۔اور برصغیر میں علما کا بہت بڑا طبقہ اسی فتوی پر عامل ہے اور اسی فتوی کی اشاعت کرتا ہے ۔ (لیکن اعلی حضرت اس مسئلہ کو فروعی سمجھتے ہیں اس لیے مخالف موقف والوں کو فاسق وغیرہ نہیں کہتے ۔) دوسرا طبقہ: حضرت عارف باللہ شیخ علامہ عبدالغنی نقش بندی قادری نابلسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ اعلی ٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ سے بھی پہلے کے بزرگ ہیں اور اعلیٰ حضرت ان کو محققین علما میں شمار کرتے ہیں اور اس ہستی کا نام اکابرین اسلام میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے ۔ لہذا بہت سے علما برصغیر پاک و ہند اور عرب دنیا کی اکثریت سماع بالمزامیر کے جواز کے قائل ہیں۔ حضرت عارف باللہ علیہ رحمۃ کی کتاب کا نام "ایضاح الدلالات فی سماع الالات" ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے ۔ یہاں تک تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ یہ مسئلہ اختلافی مسائل میں سے ہی ہے ۔جس میں دونوں طرف اکابرین اہل سنت ہیں ۔ عقل مند تو اپنے آپ کو اسی وقت محتاط کر لیتا ہے کہ کوئی ایسا لفظ بھی ادا نہ ہو جس سے کسی بھی موقف کے علما کی توہین ہو۔ لیکن کچھ لوگ جنہوں نے صرف چند کتابیں اردو کی پڑھی ہوتی ہیں وہ پھر مفتی اسلام بن کر علماےء اسلام کے پیچھے لٹھ لے کے بھاگ نکلتے ہیں۔جی ہاں ہم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قوالی بالمزامیر کے مسئلہ میں جواز کے قائل علما کی توہین و تنقیص کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ان کو فاسق و فاجر ،مردود الشہادۃ ،ڈبہ پیر جیسے الفاظ ادا کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے۔ اللہ ان بھائیوں کو سمجھ دے ان ہی بھائیوں کی اصلاح کے جذبہ کے تحت ان ہی کے معتمد و مستند علما (جو کہ ہمارے بھی ہیں)کےفتاوی و افعال پیش کر رہا ہوں کہ خدا را ! اس فروی مسئلہ اور دیگر اختلافی مسائل میں شدت سے باز آئیں۔ سب سے پہلے تو اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کے صاحب زادے مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی ٰ رضا خان علیہ الرحمۃ کا فتوی پیش کرتا ہوں۔تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی تربیت اپنی اولاد کو کیا ہے ۔ آپ لکھتے ہیں کہ "قوالی مع مزامیر ہمارے نزدیک ضرور حرام و ناجائز و گناہ ہے اور سجدہ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ان دونوں مسئلہ میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے اگرچہ وہ لائق التفات نہیں۔مگر اس(اختلاف)نے ان مبتلاؤں کو حکم فسق سے بچا دیا ہے ۔جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں اگرچہ شرعاً ان پر اب دہرا الزام ہے ایک ارتکاب حرام دوسرا اسے جائز سمجھنے خلاف قول صحیح جمہور چلنے کا۔" (فتاوی مصطفویہ صفحہ 456) اس عبارت کو غور سے پڑھیے اور بار بار پڑھیئے کہ باوجود قوالی بالمزامیر کی حرمت کے قائل ہونے کے قوالی بالمزامیر سننے والوں پر حکم فسق(یعنی فاسق کہنے ) نہیں دیا ۔یہ ان کے اختلاف کا احترام ہی تو تھا۔اب آخری جملہ بھی قابل توجہ ہے جس میں دہرے الزام کا ذکر ہے ۔دیکھئے مفتی اعظم ہند علیہ رحمۃ نے صرف الزام کہا ہے یہ نہیں کہا کہ ان پر حرام کاری ثابت ہوگئی۔کیوں کہ الزام وہیں ہوتا ہے جہاں یقین نہ ہو ۔اسی لئے مجرم جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم ہی کہلاتا ہے مجرم نہیں کیونکہ ثبوت سے پہلے اس پرصرف الزام تھا ۔تو یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ علمائے اہل سنت کا جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو یقینی بات کوئی نہیں کی جا سکتی کہ میں ہی حق پر ہوں کیوں کہ ہو سکتا ہے ہمارا مد مقابل حق پر ہو اور ہم خطا پر۔اسی لیے شہزادہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے صرف الزام کہا ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی ویڈیو کو حرام کہنے والے مفتی ِ اہل سنت جیسا کہ تاج الشریعہ دامت برکاتھم العالیہ یہ کہیں کہ ویڈیو بنانا حرام ہے جو اسے جائز کہے اس پر دہرا الزام ہے ایک تو مرتکب حرام ہونا اور دوسرا حرام کو جائز کہنا۔۔۔۔۔اسی طرح یہ مثال ہر اختلافی مسئلہ میں لی جا سکتی ہے ۔حرمت کے قائل کا الزام ہی ہوگا جواز کے قائل پر چاہے وہ قوالی بالمزامیر کا مسئلہ ہو یاویڈیو کا یا لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے ہونے یا نہ ہونے کا۔ اب تھوڑی سی سمجھ والے کے لئے اتنا مضمون بھی کافی ہے لیکن کچھ بھائیوں پر مزید اتمام حجت کرنے کے لئے فعل اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ بھی پیش کر دیتا ہوں تاکہ کہیں شیطان ان بھائیوں کو بہکا نہ دے کیونکہ ہو سکتا ہے شیطان دل میں وسوسہ ڈال دے کے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کا موقف درست ہے ان کے بیٹے ان کی راہ سے ان کے موقف سے ہٹ گئے(معاذ اللہ)لہذا ذرا فعل اعلیٰ حضرت پر معتبر گواہی بھی سن لیجئے ۔گواہی تبھی قبول کی جاتی ہے جب گواہ مستند ہو ثقہ ہو لہذا پہلے گواہ کا بھی تھوڑا تعارف سن لیجئے تاکہ کسی قسم کا کوئی شبہ نہ رہے ۔ نائب مفتی اعظم ہند علامہ شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ : حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہندوستان کے بہت بڑے عالم و مفتی تهے ۔آپ اکابرین اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں ۔اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ کے بعد آپ کے فتاوی کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔صاحب بہار شریعت خلیفہ اعلیٰ حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اور شہزادہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضاخاں علیہ رحمۃ کو اعلیٰ حضرت نے اپنے زندگی میں ہی قاضی اسلام و مفتی اسلام قرار دیا تھا۔ان دونوں بزرگوں سے فیض یافتہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہیں۔14 ماہ تک صاحب بہار شریعت علیہ الرحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی دیئے اور 11 سال تک آپ نے شہزادہ اعلیٰ حضرت حضرت مصطفی رضا خاں علیہ رحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی نویسی کی مشق کی۔حضرت مفتی صاحب نے 50 ہزار فتاوی بریلی میں رہ کر دیئے جن میں سے 20 ہزار پر تصدیق حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ کی ہے اسی وجہ سے علامہ صاحب کو نائب مفتی اعظم ہند کہا جاتا ہے ۔امید ہے کہ گواہ کا یہ مختصر تعارف کافی ہوگا اب کوئی ان کی گواہی کو رد کرنے سے پہلے شدید شدت مند بھی ضرور سوچے گا۔ بہرحال اب کلام مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ پڑھیں: "اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اعلیٰ فاضل بریلوی قدس سرہ نے مزامیر کے بارے میں یہی فتویٰ دیا ہے کہ یہ حرام ہے اور اس میں کوئی رعایت نہیں برتی ہے بحمدہ تبارک وتعالیٰ اس خادم کا بھی یہی فتوی ہے (یعنی مفتی شریف الحق امجدی بھی قوالی بالمزامیر کو حرام قرار دیتے ہیں)اور دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہی حق ہے ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ہمارے حضرات کچھوچھہ مقدسہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں۔شیخ المشائخ شبیہ غوث اعظم مولانا سید شاہ علی حسین صاحب اور ان کے فرزند ارجمند محبوب المشائخ حضرت مولانا سید احمد اشرف صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما بھی مزامیر کے ساتھ قوالیاں سنتے تھے اوریہ بات فاضل بریلوی کے علم میں تھی اس کے باوجود ان دونوں بزرگوں کی فاضل بریلوی غایت درجہ تعظیم و تکریم فرماتے تھے ان دونوں کے لئے قیام تعظیمی فرماتے اور ان دونوں کی دست بوسی فرماتے ۔بلکہ ثانی الذکر کو اپنی خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ اعلی حضرت کے دونوں صاحبزادگان حضرت حجۃ الاسلام ،حضرت مفتی اعظم ہند رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی یہی طریقہ تھا میں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ حضرت مفتی اعظم ہند،حضرت محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچهوچهوی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے قیام تعظیمی فرماتے اور آپ کی دست بوسی فرماتے،اپنے یہاں جلسوں میں مدعو فرماتے ،ان کے ساتھ اسٹیج پر تقریر کراتے ،عرس رضوی میں یہی حال ہوتا۔ (فتاویٰ شارح بخاری جلد 2 صفحہ 277) اللہ اکبر ! کیا نفیس کلام ہے یہ کلام تو واقعی چشم کشا ہے۔ذرا دیکھئے کتنی پیاری سیرت ہے ہمارے اکابرین کی- نا جانے فروعی مسائل میں شدت کرنے والے خود کو زیادہ خدا خوفی والا سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت تو ان علما کے اختلاف کا احترام کریں اور ان کی انتہا درجہ کی تعظیم کریں ان کے لئے کھڑے ہوں ان کی دست بوسی کریں اور آج کے شدت پسند انہی بزرگوں کو فاسق و فاجر کہیں۔ العیاذ باللہ تعالیٰ ۔ اگر قوالی بالمزامیر سننے والا پیر نہ بن سکتا تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کبھی بھی قوالی بالمزامیر سننے والے کو خلافت نہ دیتے ۔ اگر یہ قوالی سننے والے علما و مشائخ فاسق ہوتے تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کبھی بھی فاسق کی تعظیم نہ کرتے ۔ کلام آگے ہی بہت طویل ہوگیا ہے لہذا میں اپنی بات کو یہی ختم کرتا ہوں اور تمام سنی حضرات سے گزارش ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کے اس چھپے ہوئے پہلو کو بھی عام کریں ورنہ انتشار و افتراق ہی یہ آگ ختم نہ ہوگی ۔آپ تمام حضرات ہمارے اس مشن میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ اہل سنت و جماعت دوہبارہ پھر شیر و شکر ہو جائیں اور متحد ہو کر بد مذہبوں اور کافروں کا رد کریں۔ اللہ تعالی ٰ سے دعاہے کہ اگر مجھ سے لکھنے میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو میں اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرتا ہوں اہل علم اگر میرے کلام میں کہیں غلطی پائیں تو میری اصلاح فرمائیں ،جزاکم اللہ خیرا،آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
  9. Bhai Jaan Mera suwal Hadees ke Shan e Nuzul Per tha Or uska jwab bhi mne Lga diya hai ek kitab ke scan ke sath Aur apka link dene ke lye shukriya...!!!
  10. بیوی یا لونڈی کے پچھلے مقام میں وطی کرنا {1}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو کسی مرد سے بدفعلی کرے یا بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ جامع الترمذی،ابواب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ إتیان النساء فی أدبارہن، الحدیث:۱۱۶۵،ص۱۷۶۶۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے عورت کی دبرمیں وطی کی تحقیق اس نے(حکمِ شریعت کا)انکار کیا۔ المعجم الاوسط،الحدیث:۹۱۷۹،ج۶،ص۳۹۳۔ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو اپنی بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ ) …سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن ،الحدیث:۱۹۲۳،ص۲۵۹۲۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے اپنی بیوی سے اس کے پچھلے مقام میں وطی کی وہ ملعون ہے۔ سنن ابی داود ،کتاب النکاح ،باب فی جامع النکاح ،الحدیث:۲۱۶۲،ص۱۳۸۲۔ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظم ہے:’’جس نے حائضہ سے یا بیوی کی دبر میں وطی کی یا کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل فرمائی سنن ابی داود ،کتاب النکاح ،باب فی جامع النکاح ،الحدیث:۲۱۶۲،ص۱۳۸۲۔ …حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ لواطت ِ صُغریٰ ہے۔‘‘ یعنی آدمی کااپنی بیوی کی دبر میں وطی کرنا …المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبد اﷲ بن عمرو بن العاص،الحدیث:۶۷۱۸،ج۲،ص۶۰۲۔ رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’شرم وحیا اختیار کرو، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّحق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا۔ عورتوں کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔ …المعجم الکبیر ،الحدیث:۳۷۳۳،ج۴،ص۸۸۔ حضرت سیِّدُنا خزیمہ بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا(پھر ارشاد فرمایا)عورتوں سے ان کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔‘‘ …سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن ،الحدیث:۱۹۲۴،ص۲۵۹۲۔ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا کرو، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا، عورتوں سے ان کی دبر میں جماع کرنا حلال نہیں۔ سنن الدار قطنی،کتاب النکاح،باب المہر، الحدیث:۳۷۰۸،ج۳،ص۳۴۱، دون قولہ:من اﷲ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں سے ان کے پچھلے مقام میں جماع کرتے ہیں ۔ …المعجم الاسط ،الحدیث:۱۹۳۱،ج۱،ص۵۲۴۔
  11. ہاہاہاہاہا بلکل صحیح کہا قادری بھائ ان جناب کے پاس آنکھ ہوتی اور کاش یہ سمجھ پاتے، بغض میں اتنا ڈوب چکے ہے کہ سوائے اپنی پوسٹ کے علاوہ ہمارے جواب کو دیکھ ہی نہیں رہے ہے۔۔۔۔۔
  12. جناب عدیل وہابی صاحب اگر کوپی پیسٹ کہ علاوہ اور کچھ آتا ہے تو سرے سے ہر سوال کا با ترتیب جواب دو اور جواب لو یا پھر اپنے علماء کی تقلید کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے فورم کے لوگوں کو یہاں بلا لائوں یا مدد کہہ کر کیونکہ وہابی دھرم کی لنک لگانا یہاں رولس کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
  13. سبحان اللہ ماشاء اللہ واہ قادری صاحب بہت خوب۔۔۔۔!!! ہر مسئلہ پر خوب جواب عنایت فرمایا۔۔۔۔۔