Jump to content
IslamiMehfil

Raza Asqalani

Members
  • Content Count

    356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Everything posted by Raza Asqalani

  1. ارے میاں ہم نے محققین اہل سنت کے طریقے پر جناب کی ہر بات کو علمی اور تحقیقی رد کیا ہے جس کا جناب نے ایک بھی جواب نہیں دیا اور جس کا جناب نے دعوی کیا تھا کہ یہ صحیح یا حسن سند ہے جب ہم نے اس کا اصولی اور تحقیقی رد کیا اس کا بھی جناب سے جواب نہ بن پایا۔ ارے میاں تم ہی اپنے غیر تحقیقی پوسٹرز سے عوام کو گمراہ کرتے ہو الحمدللہ ہم نے تیرے ایک ایک پوسٹر کا علمی اور تحقیقی جواب دیا ہے جس کا جواب تم ابھی تک بن نہیں پایا۔ افسوس یہ ہے تم گمراہ ہو گے ساتھ اوروں کو کرو گے لیکن ہماری ان باتوں سے اہل سنت کے ہر اہل علم کو فائدہ ہو گا تاکہ آئیندہ تم جیسے پوسٹری حضرات کا علمی اور تحقیقی رد کر سکی
  2. اہاہاہاہاہا ضرور کریں ہم تو انتظار میں تاکہ جناب کی علمی قابلیت کا پتہ چل سکے ہیں ہماری ہی بات کو ثابت کیا ہے پھر ہمیں ہی کہہ رہے ہیں آپ نے صحیح نہیں کہا۔ جن کو بھی مینشن کریں گے وہی کہہ گا کہ جناب پہلے پاگل خانے سے اپنا علاج کروا پھر ہمیں مینشن کرنا کیونکہ رضاءالعسقلانی نے وہی بات کی تھی جسے تم نے اپنے پوسٹرز میں دیکھا ہے تو پھر غلطی کس کی ہے تمہارے سمجھنے کی یا کسی اور کی۔ حقیقت تو یہ ہے جناب علم حدیث سے فارغ ہیں کیونکہ جناب کو ہماری بات کی سمجھ ہی نہیں آئی اگر سمجھ آتی تو ہمارے حق میں پوسٹرز نہ لگاتا بلکہ اسے چھپانے کی کوشش کرتا۔
  3. اس پوسٹر میں بھی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کی ہم نے پہلے وضاحت کی تھی۔ ارے پاگل ہم نے تو تمام اسناد جمع کر کے کہا تھا اس کے سند میں ایک راوی ساقط ہے اور وہ ہے عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جب کہ اور اسناد میں یہی راوی موجود ہے۔ جس کتاب کا پوسٹر دیا ہے اس کا حوالہ اور سند مع متن پہلے ہی پیش کر چکا ہوں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کے ثبوت کے لئے پیچھے جا کر پھر پڑھو۔ جب ہماری بات ثابت ہو گی ہے کہ اس کی سند میں واقعی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر موجود ہے تو پھر میری تحقیق جعلی اور من گھڑت کیسے ہوئی؟؟ اس لئے علم حدیث میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام نہیں
  4. ارے میاں ہماری یہ من گھڑت تحقیق نہیں ہے جناب کی جہالت ہے کیونکہ ہم نے جو کہا تھا وہ تو جناب کو سمجھ ہی نہیں آئی ہم نے کہا تھا کہ اس سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ساقط ہے لیکن اور سند میں موجود ہے اور اس کے ثبوت کے لیے ہم نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا جس کا جناب نے پوسٹر بنایا ہوا ہے۔ جب جناب تسلیم کر چکے ہیں امام بخاری کی سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی ہے تو پھر اعتراض بنتا ہی نہیں ہے کیونکہ ہمارا بھی یہ استدلال تھا کہ اس ایک سند میں ساقط ہے دوسری سند میں موجود ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کتابت یا پرنٹنگ کی غلطی ہے لیکن جناب نے یہ حوالے دے کر ہماری بات کو ثابت کر دیا
  5. ہاہاہاہاہا یہ بات میرے خلاف نہیں ہے ہم تو پہلے کہا تھا کہ اس سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ساقط ہے لیکن جناب نہیں مان رہے تھے جب خود ہی پوسٹر لگا رہے ہیں اور عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔ اسے کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا۔ جناب خود مان چکے ہیں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر اس میں موجود ہے ہماری بات تحقیقا درست ثابت ہوئی الحمدللہ۔ لیکن میں حیران ہوں جناب کی لاعلمی پر کہ ہمارے خلاف بات کر رہے لیکن ثابت ہماری ہی بات کررہے ہیں ۔ہاہاہا قربان جائیں ایسے محکک پر۔
  6. اس روایت کی مکمل اسنادی تحقیق پیش کی تھی جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ جناب اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہماری بات کے ثبوت کے لئے پوسٹر لگا دیے ۔اس کی نشان دہی نیچے جا کر کروں گا پہلے اس پوسٹر کا جواب سن لو۔ یہی راویت امام بخاری نے اور سند سے بیان کی ہے اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ہے جو اوپر اولی سند میں ساقط ہو گیا تھا جس کا ثبوت یہ ہے حدثنا عبد الله حدثنا محمد حدثنا قتيبة ثنا مرثد بن عامر العنائي حدثني كلثوم بن جبر قال «كنت بواسط القصب في منزل عنبسة بن سعد القرشي وفينا عبد الأعلى بن عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر القرشي فدخل أبوغادية قاتل عمار بصفين» (تاریخ الاوسط ل
  7. اس بات میں میں نے واضح لکھا ہوا ہے کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی ساقط اور کے ثبوت کے لیے خود امام بخاری اور دوسری کتب سے حوالے دیے کہ ان میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر ہی میں نے فیصلہ کیا کہ لگتا ہے اس میں کتابت یا پرنٹنگ کی غلطی ہے لیکن جناب نے میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے ثبوت کے طور پر کچھ نہیں دیا بلکہ جو بھی پوسٹرز لگائے ان سب میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی موجود ہے۔ ہم جناب کے نیچے پوسٹرز کے اندر نشان دہی کر دیتے ہیں تاکہ جناب کی علمی قابلیت سب کے سامنے آ جائے۔
  8. پہلے تو لیٹ جواب دینے کے لئے معذرت کیونکہ میرا وی پی این ایکپائر ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی محفل کی ویب سائٹ اوپن نہیں ہورہی تھی۔ ہمارا اب جواب اس طرح ہے: ارے جناب جب آپ کو کتب کی تحقیقات کا پتہ نہیں چلتا تو کیوں مفٹ میں اس میں ٹانگیں آڑاتے ہیں۔ ہم نے تمام اسناد جمع کر کے واضح طور پر بتاتا تھا کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ساقط ہے کیونکہ یہی روایت اور کتب میں ہے تو اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام موجود ہے اس لئے ہم نے تحقیقا کہا تھا اس روایت میں ایک راوی کا نام رہ گیا ہے اور ہم نے اس کے اوپر حوالہ جات بھی دیے اپنی بات کے ثبوت کے لئے لیکن جناب نے د
  9. جناب بے سند اور بے دلیل اقوال کو بڑا پیش کرتے ہیں اب ہم جناب کو الزامی طور پر ایسے بے سند اور بے دلیل اقوال پیش کرتے ہیں اب جناب یہاں مانتے ہیں یا نہیں ؟؟ پہلا قول امام ابوحاتم کا سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) (جناب اس قول کو اپنے اصول کے مطابق مانیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی معاذاللہ صحابیت کا انکار کریں۔) دوسری بات: عبد المغیث بن زہیر علوی حربی نے یزید ملعون کے فضائل میں پوری کتاب لکھی جس کے بارے میں امام ذہبی تذکرہ کرتے ہیں: صنف جزءا فی فضائل یزید ، اتی فیہ بالموضوعات اس (عبد
  10. ارے جناب ہم نے جو اقوال لگائے تھے ان کا جواب نے جناب دیا نہیں اور جناب خوش ہو رہے ہیں یہ جناب کے فائدہ کے لیے ہیں جب کے یہ جناب کے رد کے لئے ہیں۔ حضرت امیر معاویہ کی صلح اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا بیعت کرنا ہی کافی ہے اگر حضرت امیر معاویہ صلح کے بعد معاذاللہ شرعی باغی بنتے ہیں تو سیدنا امام حسن بھی معاذاللہ باغی کی رعایہ بنتے ہے اس لئے سوچ سمجھ کر بات کرو۔ رافضی و ناصبیوں کو جہنم کا کتا کہنا یہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ کا ذاتی قول ہے اور انہوں نے یہاں اپنے سے پہلے سو یا دو سو سال گزرے لوگوں کے بارے میں اپنی بات نہیں کی جس کی سند کی تحقیق کی جائے۔ اور قاضی عیاض علیہ ال
  11. ارے جناب امام عسقلانی کہاں کلثوم بن جبر والی قاتل والی روایت کی تصدیق کی ہے؟؟ ذرا تصدیق دیکھنا تصحیح و تحسین کی صورت میں؟؟ باقی امام عسقلانی نے احادیث کے اطراف جمع کیے مسانید کے اگر اطراف جمع کرنا تصدیق ہے تو اس میں تو کئی ضعیف اور موضوع روایات ہیں تو کسی امام نے اس بات کی تصریح نہیں کہ یہ تمام اطراف امام عسقلانی کے نزدیک صحیح الاسناد ہیں؟؟ اطراف جمع کرنا اور ہوتا ہے تصحیح و تحسین کرنا اور ہوتا ہے میاں ذرا اصول حدیث پڑھو۔
  12. ارے میاں پوسٹ چپکانے سے پہلے غور سے پڑھ لیا کرو۔ اس کتاب میں امام عسقلانی نے کوئی قاتل نہیں لکھا بلکہ یہ حاشیہ بھی کسی اور کا ہے امام عسقلانی کا نہیں ہے اور اس کے علاوہ اس میں تو امام عسقلانی نے احادیث اطراف جمع کیے ہیں۔ اس لئے قاتل والی بات کو امام عسقلانی کی کتاب إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة کی طرف منسوب کرنا باطل ہے۔ اس لئے تحقیق سے کام لیا کرو اندھا دھند پوسٹ نہ چپکایا کرو۔ ہاہاہاہا ارے میاں میں کلثوم بن جبر کو ضعیف پہلے کہاں کہا ہے پہلے یہ تو ثابت کرو پھر ایسی بات کرنا میں نے جو بات کی تھی جو یہ کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کلثوم بن ج
  13. اس روایت کی امام ابن حجر نے تصحیح نہیں کی ہے امام ابن حجر نے بس روایت نقل کر دی ہے۔ باقی یہ حاشیہ امام ابن حجر کا نہیں ہے لہذا امام ابن حجر سے اسے منسوب کرنا باطل ہے۔ باقی یہ وہی پرانی روایت ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر ایک مجہول راوی ہے جس کی نشان دہی ہم کئی بار کر چکے ہیں لیکن جناب اسے کتب بدل بدل کر پوسٹ کرتے رہتے ہیں جب کہ روایت ایک ہی ہے۔ اس کی پہلی سند میں وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری سند کو امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار چکے ہیں اس کا حوالہ بھی ہم پہلے دے چکے ہیں جس کا جناب نے کوئی جواب ن
  14. کسی کو قاتل ثابت کرنے کے لئے شریعت میں عینی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ دو سو سال بعد یا تین سال بعد کے بے سند قول یا بے دلائل اقوال سے کچھ ثابت نہیں ہوتا ورنہ تو ایسے قول تو معاذاللہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہیں کہ وہ یزید کی بیعت اور امیرالمومنین کہنے کو تیار تھے یہی باتیں بھی امام ذہبی وغیرہ نے لکھی ہیں۔ کوئی بات کو درج کرنے سے وہ بات ان کے نزدیک حجت نہیں ہوتی جب تک وہ ان قول کی تصحیح نہ کر دیں ورنہ امام ذہبی اور امام بن حجر نے بے شمار بے سند باتیں اور ضعیف روایات کو اپنی کتب میں درج کر دی ہیں جو خود ان کے اصول کے مطابق صحیح نہیں ہیں۔ اصل بات اصول کی ہوتی ہے
  15. ارے میاں پہلے بھی سمجھایا ہے امام ابن معین جنگ صفین میں نہیں تھے اور جب جنگ صفین میں نہیں تھے تو یہ بات کن سے سنی ہے اس کی کوئی سند ہے یا نہیں جناب کے پاس؟؟ اگر صرف اقوال مان لینا ہے تو ایسے بے دلیل اقوال کافی زیادہ ہیں ان میں ایک جناب کو ہم پیش کر دیتے ہیں امام ابوحاتم الرازی کا: سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) چلو اب یہاں اپنے اصول کے مطابق امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی مانو بنا کسی چاں چوں کیے کیونکہ تم بھی امام ابن معین کا قول بھی بنا تحقیق کے مان رہے ؟ اگر اس قول کو ماننے سے انکار کرتے ہو تو پھ
  16. ارے میاں ہم تو ائمہ حدیث کے اصولوں پر بات کرتے ہیں ورنہ جناب کی طرح ایسی باتوں سے استدلا ل شروع کر دیں تو فساد برپا ہو جائے گا کیونکہ ثقہ محدثین سے ایسے عجیب و غریب قول ہیں جیسے امام ابوحاتم نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کر دیا ہے امام ابن ابی حاتم اپنے والد سے لکھتے ہیں: سمعت ابی یقول: حسین بن ابی طالب رضوان اللہ علیھما لیست لہ صحبۃ (المراسیل لابن ابی حاتم ص 27 رقم 43) لو جیسے امام ابن معین کا قول بنا دلیل کے مان رہے تو اب یہاں بھی امام ابوحاتم الرازی کا قول بھی بنا دلیل کے مان لو کیونکہ یہی جناب کی واردات چل رہی ہے اس قول کو مان کر سیدنا حسین رضی اللہ عن
  17. بے شک ان ائمہ نے صحابہ کرام کے حالات پر کتب لکھیں تو کوئی نہ کوئی دلائل سے لکھا ہو گا نا یا خود سے ایسے لکھی دی کیا یہ ائمہ صحابہ کے زمانے میں تھے؟؟ اگر نہیں تھے تو سند بیان کی ہوگی اور ان ائمہ نے خود سند سے بیان نہیں کیا تو اور ائمہ نے سند سے بیان کیا ہو گا کیونکہ یہ ائمہ خود ناقل ہیں یہ خود روایت نہیں کرتے اس لیے جو انہوں اس بات کی سند لکھی ہے تو جناب پر فرض ہے وہ پیش کریں ورنہ امام شعبہ کا قول صحیح سند کے ساتھ قول دیکھ لیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی حدیث جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح
  18. ارے جناب تعجب تو جناب پر ہے ایک ہی ضعیف روایت کو 8 کتابوں سے دیکھایا تو کون سا تیر مار دیا ہے روایت تو ایک ہی ہے سند بھی ایک ہی تو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا فائدہ؟؟ باقی جناب نے جو دعوی کیا صحیح و حسن اسناد کا ہم اوپر ان کا کی اسناد کا پوسٹ مارٹم کر آئے ہیں ان میں ایک کا بھی جواب نہیں دیا ۔ یزیدی مان چکے ہیں ہم تو ان کو تحقیقی طور پر ضعیف ثابت کر چکے ہیں اگر یزیدی سلفی ہی جناب کے نزدیک محدث اور محقق ہیں تو جناب کو مبارک ہوں ورنہ ہم تو ایسے لوگوں کی باتیں نہیں مانتے۔
  19. وہی پرانے اقوال پھر پوسٹ کر دیے جن کا ہم کئی بار اصول حدیث کے قوانین سے جواب دے چکے ہیں حیرت کا مقام ہے جناب پر۔ ارے میاں ایسے بے سند اقوال تو معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی شان اقدس کے خلاف بھی موجود ہیں تو کیا کوئی خبیث ایسے اقوال سے انبیاء کرام اور اہل بیت عظام کی شان مجروح کر سکتا ہے کیا؟؟ ہرگز نہیں اگر کرے گا تو اصول حدیث کی روشنی میں اس کا منہ توڑ دیا جائے گا۔ اس لئے یہ ائمہ بے شک اہل سنت کے ائمہ میں سے ہیں لیکن انہی ائمہ کا خود کا بنایا ہوا اصول ہے کہ کوئی بھی بات بنا سند اور بنا دلیل تسلیم نہیں کرنی ۔ اس لئے ہم ان ائمہ کا احترام ک
  20. اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں امام ذہبی کے حوالے سے لیکن جناب نے یہاں وہابی تحقیق پیش کی ہے تو جواب بھی وہابی سے دیتے ہیں۔ زئی اس روایت کے کہتا ہے: أبو حفص و كلثوم عن أبى غادية قال… . فقيل قتلت عمار بن ياسر و أخبر عمرو بن العاص فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أن قاتله و سالبه فى النار“إلخ [طبقات ابن سعد 261/3 و اللفظ له، مسند احمد 198/4، الصحيحة 19/5 ]اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا:وهٰذا إسناد صحيح، رجاله ثقات رجال مسلم… .عر ض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قاتله و سالبه فى النار والی روایت بھی صحیح ہے۔ابوالغادیہ رضی
  21. اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔ امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔
  22. امام مسلم کا جواب دے دیا ہے امام شعبہ اور امام بن مبارک کے اقوال سے جناب دیکھ لیں۔ باقی مقبول راوی کے بارے میں میں نے کسی وہابی کی بات پیش نہیں کی بلکہ خود امام ابن حجر عسقلانی کا منہج دیکھایا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھا ہے۔ جب اصل مصنف سے بات ثابت ہو جائے تو پھر اور لوگوں کی رائے کا کچھ فائدہ نہیں۔ باقی محدث فورم ہم بھی موجود ہیں جو ہمارا وہابیوں کے ساتھ ٹکڑا ہوتا رہتا ہے اس لئے اس طرح کی باتوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایک وہابی نے یہ تحریر بھی پوسٹ کی تھی اس لیے اصل بات وہی ہے جو امام ابن حجر عسقلانی نے کتاب تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھی ہ
  23. ارے جناب ہم نے دیکھ لیے ہیں جناب کے محققین حضرات کو ارے جناب جب ہم تمہارے محققین حضرات کی تحقیق کے نقص نکالتے ہیں تو ان کے جوابات دینے کے بجائے پھر وہی روایت اور وہی بے سند اور بے دلیل اقوال کتب بدل بدل کر پیش کرتے رہتے ہو حیرت ہے۔ اس لئے اب کی بات ہمت کرو کرکے کوئی نئی بات لے آئے ہو جب کہ یہ سب پرانی باتیں ہو گی ہیں اس لئے اب ہم بھی وہی پرانے جواب پوسٹ کر دیتے ہیں جناب کی پرانی پوسٹرز پر کیونکہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ایک بات کا باربار جواب دیتے رہیں۔ شکریہ
  24. پہلےتو اس کتاب پر مصنف کا نام صالح یوسف معتوف لکھا ہوا ہے تو امام عینی کیسے؟؟ اگر جناب کہیں گے کہ امام عینی کی کتاب مغانی الاخیار سے نقل کی گی تو جناب کو غور سے پڑھ لینا تھا کیونکہ امام عینی نے ذاتی بات نہیں کی ہے بلکہ امام ابن عبدالبر اندلسی کی عبارت نقل کی ہے قال ابوعمرو کہہ کر اور جناب نے امام ابن عبدالبر اندلسی کی عبارت کو امام عینی کی عبارت بنا دی حیرت ہے۔ باقی امام ابن عبدالبر اندلسی کا موقف پہلے بھی بیان کر دیا تھا اب پھر بیان کر دیتے ہیں۔ امام ابن عبدالبر اندلسی کا قول تمام صحابہ کرام کے لئے یہ ہے: "أجمع أھل الحق من المسلمین و ھم اھل سنۃ والجماعۃ علی أن الصحابة كل
  25. امام مسلم 200 ہجری کے بعد پیدا ہوئے اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی ہے تو تقریبا 167 سال کا فاصلہ درمیان کا اور امام مسلم نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل کے طور پر سند بیان نہیں کی اس لئے ایسے اقوال کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل ہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) اور امام ابن مبارک فرماتے ہیں : مثل الذی یطلب امر دینہ بلا اسناد کمثل الذی یر
×
×
  • Create New...