Jump to content
IslamiMehfil

Raza Asqalani

Members
  • Content Count

    356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    51

Everything posted by Raza Asqalani

  1. اس سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر راوی کو ساقط کر دیا گیا ہے جب کہ امام بخاری دوسری سند میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام ذکر کیا ہے لگتا ہے کتابت یا پرنٹ کی غلطی ہے جب کہ دوسری سند میں پوری وضاحت ہے جو یہ ہے: حدثنا عبد الله حدثنا محمد حدثنا قتيبة ثنا مرثد بن عامر العنائي حدثني كلثوم بن جبر قال «كنت بواسط القصب في منزل عنبسة بن سعد القرشي وفينا عبد الأعلى بن عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر القرشي فدخل أبوغادية قاتل عمار بصفين» (تاریخ الاوسط للبخاری ج 1 ص 38) اس کے علاوہ یہی روایت المعجم الکبیر لطبرانی میں ہے جس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کا نام موجود ہے جس
  2. ارے جناب امام بخاری نے اس میں کہاں توثیق کی ہے ذرا ہمیں تو دیکھائیں؟؟ اس لیے سکرین شارٹ دینے سے پہلے تحقیق کرلیا کرو ورنہ ہر بار شرمندگی اٹھاؤ گے
  3. ارے میاں پھر شعیب الارنووط اور بشار عواد کی کتاب کے حوالے ۔ ارے میں سلفیوں کی کتب سے ہم سے بہتر کون جانتا ہے اس لئے یہ دھوکے کسی اور کو دینا۔ اس میں بھی بھی شعیب الارنووط اور بشار عواد نے توثیق کی دلیل کسی امام سے نہیں دی بلکہ وہی امام ابن حبان کی تقلید کی ہے جو خود توثیق میں متساہل ہیں اس لئے ایسی توثیق تو اصولا درست نہیں ہے۔ اس لئے جناب کو جناب کے پوسٹر کی حقیقت بتاتے ہیں۔
  4. جناب نے مفت میں پوسٹر لگا دیئے ہیں جناب کو امام ابن حجر عسقلانی کے منہج کا پتہ نہیں ۔ میاں تمہارے سارے پوسٹر مقبول لفظ پر ہیں تو اس لئے ایک ہی جواب دیتا ہوں خود امام عسقلانی سے کہ جب وہ مقبول لفظ لکھتے ہیں تو ان کے نزدیک کیا بات ہو تی ہے اس لئے امام عسقلانی تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:السادسۃ : من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث. رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہو، ایسے راوی کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ ا
  5. یہ توثیق کا کون سا درجہ ہے ذرا حوالہ تو دو ائمہ حدیث کی کتب سے ؟ ویسے اس کتاب میں کوئی توثیق کا لفظ موجود نہیں ہے۔ امام ابن حبان مجہولین کی توثیق میں متساہل مشہور ہیں ائمہ حدیث کے نزدیک اس لئے جن راوی کی توثیق کے بارے میں وہ منفرد ہوں تو اس وقت ان کی توثیق حجت نہیں ہوتی یہ جناب کے علم میں بھی ہے پھر بھی حوالے دیئے جا رہے ہیں حیرت ہے۔
  6. جناب نے مفت میں پوسٹر لگا دیئے ہیں جناب کو امام ابن حجر عسقلانی کے منہج کا پتہ نہیں ۔ میاں تمہارے سارے پوسٹر مقبول لفظ پر ہیں تو اس لئے ایک ہی جواب دیتا ہوں خود امام عسقلانی سے کہ جب وہ مقبول لفظ لکھتے ہیں تو ان کے نزدیک کیا بات ہو تی ہے اس لئے امام عسقلانی تقریب التہذیب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:السادسۃ : من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث. رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہو، ایسے راوی کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ ا
  7. ارے میاں فن اسماء الرجال کی گہرائی ہم نے جناب کی دیکھ لی ہے اس لئے بہتر ہے اس پر بات نہ کریں کیونکہ جناب کو پتہ نہیں چلتا ائمہ حدیث کے منہج کا۔ باقی امام ہیثمی امام ابن حبان کے منہج پر چلتے ہیں اس لئے امام ابن حجر نے تو اپنے استاد امام ہیثمی کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اس لیے تو تقریب التہذیب میں ثقہ نہیں کہا بلکہ مقبول کہا ہے۔ اور مقبول وہ راوی ہوتا ہے جس کی روایات بنا متابعت کے ضعیف سمجھی جاتی ہیں ۔ باقی امام ہیثمی کے اس طرح کے تسامحات پر ایک کتاب لکھی گی اس میں دیکھ لینا انہوں کتنے ضعیف و متروک رواۃ کی سند کو صحیح و حسن قرار دیا ہے ۔ اس لئے جب دلائل نہیں ہوتے تو ہر بن
  8. ارے میاں ہمیں اللہ عزوجل کا خوف اور قبر کی شام کی وجہ سے تو بنا دلیل کے کسی پر قتل کا الزام نہیں لگا رہے جب گواہ اور ثبوت اور دلائل مضبوط نہ ہو تو ہم ایسے کسی کو قتل کا الزام لگا دیں تو اس کا جواب تو ہم سے اللہ لے گا نا کیوں کہ ہم سے سوال کیا جائے گا کہ جب تمہارے پاس مضبوط دلائل نہیں تھے تو الزام کیوں لگایا؟؟؟ اس لئے بھئی ہم اپنی انا کی ضدی میں نہیں آتے بلکہ ہر خبر پر خود تحقیق کرتے ہیں پھر جا کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ بات درست ہے یا نہیں۔ باقی امام داقطنی کا جواب امام شعبہ اور امام ابن مبارک کے قول سے دے دیا تھا لیکن جناب نے ہمت نہیں کی اس کے جواب دینے کی۔ باقی امام بن عبدالبر
  9. ارے جناب اس میں کیا نئی بات تھی وہی پرانی روایات تھیں جن کا پہلے جواب دے دیا اب کی بار صرف کتابیں بدل رہے ہو جب کہ روایات تو ہی ہیں پھر فائدہ ایسے حوالے دینے کا؟؟ جن کے اقوال پیش کیے ہیں ان کا رد بھی ائمہ حدیث سے اور خود انہی ائمہ سے کیا ہے پھر ایسے اقوال پیش کرنے کا فائدہ؟؟ ارے میاں آپ نے کوئی صحیح روایت پیش کرنی تھی جو ابھی تک ناکام ہو پیش کرنے میں۔ اور اس کے علاوہ جس بات کا ہم رد کرتے ہیں ان کا ایک بھی جواب نہیں دیا ابھی تک !!! اس لیے جناب کے پاس کوئی دلائل ہوتے نہیں بس وہی پرانی روایات پیش کرتے رہتے ہو کتابیں بدل بدل کے جن کا ہم تحقیقی اور اصولی کئی بار جواب دے چ
  10. (اول) ابن کثیر 700 ہجری میں پیدا ہوا اور جنگ صفین 37 ہجری میں ہوئی یا 663 سال کا فاصلہ ہے اور اس قول کی کوئی سند یا دلیل بھی پیش نہیں کی گی۔ (دوم) ایسی بے دلیل باتوں اور بے سند باتوں کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) (سوم) ابن کثیر کا خود عمل اس بات کے خلاف ہے ابن کثیر لکھتا ہے: والصحابة كلهم عدول عند أهل السن
  11. ہم نے جناب سے امام عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل مانگی تھی جناب نے دلیل نہیں اور ان کا بے دلیل قول پوسٹ کر دیا۔ (اول) اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ امام عبدالبر اندلسی 37 ہجری میں جنگ صفین میں نہیں تھے اس لئے وہ عینی گواہ نہیں ہیں۔ (دوم) اسے بے دلیل و بے سند قول کے بارے میں امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقلہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاستملاء ص13،المدخل فی اصول الحدیث للحاکم، ص17الکامل فی ضعفاءالرجال ج 1 ص 107) (سوم) امام ابن عبدا
  12. مجھے تو بہت ہنسی آ رہی ہے جناب کی علمی قابلیت پر ارے جناب کیا سوچ کر یہ صفحات پوسٹ کیے ہیں کبھی احادیث کے علل کا پتہ بھی کیا ہوتے ہیں؟؟ ارے میاں امام ابوحاتم اس میں یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کی سند کو صرف حسن بن دینار نے روایت کیا ہے یہ اور میں کوئی تصحیح نہیں کی اور حسن بن دینار متروک اور متہم بالکذب راوی ہے اس بات کا حوالہ پیچھے دے چکا ہوں۔ یہ کتاب جناب کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے ۔ باقی اس کا حاشیہ وہابی کا ہے اس میں موجود روایات کا پہلے جواب دے چکا ہوں۔
  13. میاں یہ حاشیہ وہابیوں کا ہے جسے نشان لگایا ہوا ہے یہ امام ابن ابی حاتم کا نہیں ہے اور جو حاشیہ میں وہابی نے جتنی روایات لکھی ہوئی ہیں ان کا جواب ہم پہلے جناب کو دے چکے ہیں جس کا جواب ابھی تک جناب نے نہیں دیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وہی پرانی روایات ہیں جس کا پہلے جواب ہو چکا ہے بس تم کتابیں بدل بدل کے وہی پرانی بات دوہرا رہے ہو اور کچھ بھی اس میں نیا نہیں ہے۔
  14. اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں لیکن سند منقطع ہے کیونکہ اس سند میں کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمروبن العاص سے ثابت نہیں ہے اس امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں منقطع قرار دیا ہے۔ جس کی عبارت اور صفحہ اوپر دے چکا ہوں۔ یہ بھی وہی پرانی روایت ہے جس کا پہلے کئی بار جواب دے چکا ہوں اسے بس کتاب بدل بدل کر پوسٹ کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں ہے بس
  15. پہلی بات یہ ہے یہاں امام ہیثمی نے سند کی تصحیح نہیں کی بس یہ کہا ہے اس کے رجال الصحیح (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کے ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر یہ مجہول راوی ہے اور یہاں امام ہیثمی نے امام ابن حبان کی وجہ سے ایسا کہا ہے کیونکہ امام ہیثمی کا منہج بھی امام ابن حبان والا ہے کیونکہ امام ابن حبان اس راوی کو ثقات میں درج کیا ہے لیکن امام حبان جمہور محدثین کے نزدیک مجہولین راویوں کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں اس لئے ان کا کسی راوی کی توثیق میں منفرد ہونا قبول نہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے اصولی طور پر کیونکہ اس میں ایک مجہول راوی ہے۔ اس روایت کا جواب پہلے دے
  16. ہم نے جناب سے کلثوم بن جبر کی توثیق نہیں مانگی تھی بلکہ حضرت عمرو بن العاص سے سماع کی تحقیق پوچھی تھی جس کا جناب نے جواب نہیں دیا اور مزے کی بات جناب نے اوپر الجرح والتعدیل کی عبارت پیش کی ہے اس میں بھی کلثوم بن جبر کے شیوخ میں حضرت عمرو بن العاص کا نام نہیں ہے اور وہ عبارت یہ ہے: 926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الر
  17. ارے جناب ہم نے کہیں بھی کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا ہی نہیں تو یہ حوالے دینے کا فائدہ؟؟ اگر کہیں کلثوم بن جبر کو ضعیف کہا تو اس کا ثبوت پیش کرو؟؟ ہم نے صرف یہ کہا ہے کلثوم بن جبر کا سماع حضرت عمرو بن العاص سے ثابت نہی ہے جسے جناب نے ابھی تک ثابت نہیں کیا اور مفت میں کلثوم بن جبر کی توثیق کے حوالے دے ڈالے جن کا کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس بات سے۔
  18. امام ذہبی کے قول کا رد خود انہی کی کتاب سیر اعلام النبلاء سے دیکھا چکے ہیں اس لیے اس پر بات کرنے کا فائدہ نہیں میاں۔ باقی آپ نے جناب کو امام دارقطنی کا قول کا جواب دے دیا پھر اسے پوسٹ کر دیا کیونکہ امام دارقطنی نے اپنے قول کی دلیل کی کوئی متصل سند بیان نہیں کیونکہ امام دارقطنی جنگ صفین میں عینی گواہ موجود نہیں اس لیے اس بات کے جناب کے امام شعبہ قول کا پیش کرتے ہیں: امام شعبہ فرماتے ہیں: کل حدیث لیس فیہ حدثنا او اخبرنا فھو خل و بقل ہر ایسی روایت جس میں حدثنا یا اخبرنا ( یعنی ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی یا خبر دی) نہ ہو تو وہ کچرے ہوئے گھاس کی طرح بیکار ہے۔ (ادب الاملاء والاست
  19. ارے جناب امام ذہبی کا آخری موقف و رجوع ان کی آخری کتاب سیر اعلام النبلاء سے کئی بار دیکھا چکا ہوں جناب نے اس بات کا جواب دینا تو دور پھر وہی میزان الاعتدال کے پوسٹر کو بار بار چپکا رہے ہیں ارے جناب میزان الاعتدال امام ذہبی کی آخری کتاب نہیں ہے بلکہ سیر اعلام النبلاء ہی آخری کتاب ہے اس لئے سیر اعلام النبلاء نے امام ذہبی نے سند کو منقطع قرار دیا پھر اس کے بعد اپنی پرانی عبارت بھی نہیں لکھی جس سے واضح ہوتا ہے انہوں نے رجوع کر لیا تھا ورنہ آخری کتاب میں اپنی میزان الاعتدال والی بات لکھتے لیکن انہوں نے نہیں لکھی۔ باقی سیر اعلام النبلاء کی عبارت اور صفحہ پیچھے دے چکا ہوں اس لئے اس کا جواب ابھ
  20. سرکار ﷺ زنا کرنے کی کتنی تحقیق فرماتے تھے اس حدیث سے دیکھ لو اور یہ جناب ہیں کہ بے دلیل قول لئے پھر رہے ہیں قاتل ثابت کرنے کے لئے۔ عن أبي ھریرة أنه قال أتی رجل من المسلمین رسول اﷲ ﷺ وھو في المسجد فناداہ فقال یا رسول اﷲ! إني زنیت فأعرض عنه فتنحّٰی تلقاء وجھه۔ فقال له یارسول اﷲ! إني زنیتُ فأعرض عنه حتی ثنی ذلك علیه أربع مرات۔فلما شھد علی نفسه أربع شهادات دعاہ رسول اﷲ ﷺ فقال: (أبك جنون؟) قال: لا۔قال: (فھل أحصنت؟) قال: نعم۔ فقال رسول اﷲ ﷺ :(اذھبوا به فارجموہ) ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس شخص نے آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ ! میں ز
  21. ارے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس جواب نہیں دیا؟ امام ذہبی کے قول کا جواب دیا گیا جناب نے اس کا بھی جواب نہیں دیا؟؟ ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔ علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔ نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔ اس لئے خدا را تحقیق سے کام لیں ہمیں بتائیں شریعت میں قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنے گواہ رکھے ہیں کیا آپ
  22. پہلے تو یہ حوالہ وہابی سلفی کا ہے جو ہمارے لئے حجت نہیں اور دوسری بات یہ ہے اس میں وہی پرانی روایات ہیں جن کا ہم کئی بار رد کر چکے ہیں۔ ارے بھائی کتب بدل بدل کر وہی پرانی روایات کیوں پیش کر رہے ہو جن کا ہم کئی بار رد کر آئے ہیں؟؟ اگر پیش کرنی ہے تو کوئی نئی روایت پیش کرو ورنہ لاجواب ہونا تو ثابت ہو چکا ہے جناب پر۔
  23. ان سب حوالہ جات کا ہم اصولی اور تحقیقی رد پیش کر چکے ہیں یا تو ہمارے اس رد کا جواب دیں یا مہربانی فرما کر ان کو دوبارا پوسٹ نہ کیا کریں کیونکہ جس کا جواب ہو گیا ہو اسے پھر پوسٹ کرنا بے وقوفانہ کام ہے اور کچھ نہیں۔
  24. آپ کی پیش کردہ تحریر میں کوئی حوالہ نہیں ہے دیکھ سکتے ہیں جب کہ ہماری تحریر میں ہم نے دو حوالے دیئے ہیں زئی کی کتب کے۔ اس لیے جناب ہم تصدیق کر کے ہی کسی کی تحریر پوسٹ کرتے ہیں کیونکہ حوالہ کی ذمہ داری حوالہ دینے والے پر ہوتی ہے۔ باقی میں نے یہ دعوی کیا نہیں کہ یہ میری خود کی لکھی ہوئی تحریر ہے میں تو اس تحریر کی اصل کتب سے تصدیق کر کے ہی اسے پوسٹ کیا ہے تاکہ حوالہ مانگنے پر اصل کتاب دیکھائی جا سکے۔ میں نے اوپر والے کمنٹ کو ایڈٹ کر کے اصل کتب کے صفحات لکھا دیئے ہیں تاکہ دیکھنے میں جناب کو آسانی ہو۔
  25. ارے جناب اس تحریر کی تصدیق کر کے ہی پوسٹ کی ہے کیونکہ اس تحریر میں زئی کا کوئی حوالہ نہیں لکھا ہوا جب کہ خود ہم نے اس تحریر کو زئی کی دو کتب میں پایا پھر اس تحریر کو موازنہ کیا کہ اس میں کوئی کم بیشی تو نہیں ہے جب سب تصدیق ہو گی تو پھر میں نے اسے پوسٹ کیا ورنہ میں آپ کی طرح نہیں کیونکہ ہم ہر حوالہ لگانے کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔ باقی اتنی بڑی تحریر جب زئی کی مل گی تو مجھے خود سے ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں تھی باقی میں نے یہ تحریر آپ کی پیش کردہ سائٹ سے نہیں لی بلکہ زئی علی زئی کے حوالے سے ایک آفیشل سائٹ ہے وہاں سے لی ہے۔جس کا سکرین شاٹ یہ ہے۔ باقی آپ نے جو روایات پیش کی تھی زئی ان
×
×
  • Create New...