Rana Asad Farhan

Members
  • Content count

    64
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    12

Rana Asad Farhan last won the day on February 15

Rana Asad Farhan had the most liked content!

Community Reputation

18 Good

About Rana Asad Farhan

  • Rank
    Member
  • Birthday 03/15/1994

Profile Information

  • Gender
    Male

Previous Fields

  • Madhab
    Hanafi
  • Sheikh
    امام احمد رضا خان

Recent Profile Visitors

360 profile views
  1. جس کتاب سے تم جرح مبھم پیش کر رہی تھی ۔ زرہ امام ذھبی کا موقف پڑھ لو امام الحسن بن زیاد کے ترجمے کے بارے میں امام ذھبی نے کیا کہا ہے تاریخ بغداد کے مطلق امام ذھبی کہتے ہیں کہ خطیب بغدادی نے الحسن بن زیاد اللولوی حنفی فقیہ ہیں انکے ترجمے میں ایسی باتیں لکھی جو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ۔ ۔ اس وہابین کی ساری جرح جو بے تکی تھی اسکا رد کر دیا امام زھبی نے ۔
  2. یہ اما م ذھبی کے بقول اسکو کذاب ثابت کرنے آئی تھی۔ اور مان بھی رہی ہے کہ امام ذھبی نے انکار زکر امام کے لفظ سے کیا اور اسکو کذاب ثابت بھی ساتھ کر رہی ہے ۔ اور عبارت بھی آدھی لکھی ۔امام ذھبی نے اس پر کتاب ستہ میں روایت نہ لینے کی وجہ اسکا ضعف دوسروں کی طرف نسبت کرتے ہوئے بتائی ۔ لیکن امام ذھبی نے خود انکو ضعیف نہیں کہا ۔ بلکہ کہا وہ تو فقہ کے سردار تھے ۔ اور امام کے ساتھ زکر کیا۔ کذاب راوی کو امام نہیں کہا جاتا ۔۔۔۔۔ جرح نقل کرنے سے بالکل یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اسکے نزدیک ضعیف ہے ۔ کیوں کہ جرح و تعدیل میں امام بعض کتب میں جرح و تعدیل دونوں زکر کرتےہیں مقدمے میں مقصد لکھ دیا جاتا ہے۔ لیکن بعض کتب میں صرف تعدیل نقل کر کے اپنا موقف بیان کر دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ امام ذھبی نے سیر اعلام النبلاء میں صرف تعدیل نقل کر کے اپنا موقف بیان کیاامام الحسن کے ترجمے میں ۔ اور یہ اندھی مشین کہہ رہی ہیں کہ اس راوی پر تعدیل تو ہے نہیں ۔ ۔ اب جس کو تعدیل نظر ہی نہ آئے اپنے مولویوں کی اندھی عینک اتار کر دیکھو تو نہ۔۔۔ جس کا منہ چاہے اندھی کاپی پیسٹ اٹھا کر اسماءالرجال پر بات کرنے آجاتا ہے ۔ ۔ ۔جبکہ بنیادی اصولوں کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ مانتا ہوں کہ میں بھی کوئی عالم یا فاضل نہیں لیکن کم از کم بنیادی اصول تو پتہ ہونا چاہئے بندے کو جرح و تعدیل پر بات کرنے کے لیے ۔ ۔ یہاں کاپی پیسٹ سے گزارا نہیں کیا جا سکتا بی بی
  3. اب بندہ بولے تو کیا بولے
  4. ارے کم عقل کم فہم جاہل کفایت اللہ سنابلی یزیدی کی ساری کاپی پیسٹ کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے. . .جاہل سیر اعلامالنبلاء کا مقدمہ یہاں پوسٹ کر کہ امام ذھبی نے اس کتاب کو لکھنے کا مقصد اور اس میں کن کو شامل کیا. . . وہ مقدمہ بھیج. اس جاہل کو الضعفا کا حوالہ دیا کہ امام ذھبی نے اس میں امام بخاری کو شامل کیا اور مقدمہ بھی. چل ویسے اب تم سیر اعلان النبلا کا مقدمہ بھیجو. . . کوئی کاپی پیسٹ پھر ماری تو تم کوجواب دینا وقت کا ضیاع ہوگا
  5. یہ تعصب بھرے غلیض خارجی اس قابل نہیں کے ان سے بات کی جائے ۔ ۔ انکے چیلے چپاٹے یہاں سے زلیل ہو کہ جاتے ہیں اور پھر انکے نئے چیلے شیطان یہاں آجاتے ہیں انکے زبیر کزاب زئی کی اندھی تقلید میں منہ اٹھا کر۔ اس چاہل النسل کو یہ نہیں پتہ کہ جرح کا سبب اور سند بیان کیے بغیر کسی پر کوئی ضعف نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے صحیح اسناد سے الحنس بن زیاد کی توثیق پیش کی ۔ اس جاہلہ کو با سند جرح اور سبب پیش کرنا چاہیے کہ کزاب کی جرح کیوں ہے ثبوت پیش کرے ۔ ۔ یہ لے اپنے ماموں کی کتاب سے جرح و تعدیل کے بنیادی اصول پڑھ
  6. اتنی تعدیل انکھیں کھول کے پڑھو۔ ۔ ۔جاہل زبیر زئی کی کاپی پر کاپی ماری جا رہی ہے نہ سند پیش کر رہی ہے نہ جرح کا سبب پیش کر رہی ہے ارے جاہل المغنی کا مقدمہ مجھے معلوم ہے ۔ تم جا کی سیر اعلام النبلا کامقدہ مجھے پڑھ کے سنانا۔ ۔۔ المغنی کا الزامی جواب تجھے دیا تھا ۔ ۔ اب ہضم نہیں ہوا تا بیوہ عورتوں کی طرح رونے لگ گئی ۔ ۔ جاکہ دیکھ سیر اعلام النبلا میں امام زھبی نے کیوں الحسن بن زیاد کی صرف تعدیل نقل کی اور کوئی جرح نقل کیوں نہ کی ؟چل اب جا کہ سیر اعلام النبلاء کا مقدمہ بھیج ترجمے کے ساتھ کہ اس کتاب کو لکھنے کا کیا مقصد تھا اور اس میں کس قسم کے راوی ہیں امام ذھبی کے نزدیک
  7. ارے جاہل ایسی جرح تو محمد بن اسحاق پر بھی ہے کزاب ، کی ضعیف کی ۔ ۔، ۔ لیکن وجہ کزب بیان نہیں اور نہ ہی تم نے کسی ایک جرح کی سند بیان کی ہے ؟؟؟؟ کاپی پیسٹ کی اولاد۔ ۔ ۔ تم کو میں نے کہا تھا کہ امام زھبی نے امام بخاری کو الضعفا المغنی میں درج کیا ہے اور ان کو مدلس بھی قرار دیا دیا ۔ ۔ تو کیا ضفا کتاب میں درج کردینا اور جرح نقل کر دینا امام کا موقف ہوتا ہے جاہل بچی؟ چل جو جو تم نے جرح پیش کی ہے سب کی اسناد لکھو ۔ ۔ اور جرح کا سبب ساتھ ہو ۔بغیر سند کے ساری جرح مردود ہوگی شابش بھجو۔ سند کے ساتھ جرح ہر ایک
  8. جرح مبھم یا مفسر کا پتہ بھی ہے تم کو؟ ایسی جرح نعیم بن حماد پر بھی ہے جو امام بخاری کا استاد تھا. اور محمد بن اسحاق بن یسار پر بھی ہے. اور اس سے زیادہ غلیظ جرح ہے. لیکن یہ دونوں ثقہ یا کم سے کم حسن الحدیث درجے کے ہیں. تو اسی طرح تم جاہل جاو اپنے چیلوں کے پاس ان سے ابو مطیع پر جرمفسر لے آو جس میں ضعف کی وجہ یا کزب کا ثبوت ہو امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ایک تحریف شدہ قول اور اس کی حقیقت کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہm سے پوچھا گیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ آسمان میں ہے یا زمین میں تو امام صاحب نے فرمایا وہ شخص کافر ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ عرش پر مستوی ہوا۔۔۔۔ الخ حالانکہ امام ابو حنیفہ mکی طرف منسوب یہ قول تحریف شدہ ہے اور صریح طور پر ان پر جھوٹ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اصل قول یہ ہے کہ : [قال ابو حنيفة من قال لا اعرف ربي في السماء او في الأرض فقد كفر وكذا من قال إنه على العرش ولا ادري العرش أفي السماء او في الأرض] ترجمہ:ابومطيع بلخی کہتے ہیں کہ امام ابوحنيفہ رحمہ اللہ نے فرمايا جس نے کہا کہ مجھے يہ معلوم نہيں کہ ميرا رب آسمان پر ہے يا زمين پر تو اس نے کفر کيا، اسی طرح جو کہتا ہے کہ اللہ عرش پر ہے ليکن مجھے پتہ نہیں ہے کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پر تو يہ بھی کافر ہے۔ ( الشرح الميسر علی الفقہين الأبسط والاکبر المنسوبين لأبی حنيفۃ:ص135بتحقیق محمد بن عبدالرحمن خميس) ابومطيع کی کتاب کے يہ الفاظ امام بياضی الحنفی رحمہ اللہ کے نسخے ميں صرف اس قدر ہيں اور امام فقيہ ابوالليث سمرقندی کے نسخے ميں يہ الفاظ ہيں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الرحمن علی العرش استوی، پھر اگر وہ شخص کہے ميں اس آيت کو مانتا ہوں ليکن مجھے پتہ نہيں کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پرتو اس بات سے بھی اس نے کفر کيا،، اور دونوں نسخوں کے متنوں ميں وجہ کفر بيان نہيں کيا گيا کہ ايسا شخص کيوں کافر ہے،تو امام بياضی اور فقيہ ابوالليث سمرقندی رحمھم اللہ دونوں نے اس کا بيان کرديا کہ دراصل اس دوسری بات کا مرجع بھی پہلی بات کی طرف ہے کيونکہ جب وہ اللہ کو عرش پر مان کر کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہيں کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پر تو اس کا بھی وہی مطلب ہوا جو پہلی عبارت کا ہے کہ اللہ آسمان پر ہے يا زمين پر تب ايسے شخص نے اللہ کے ليے مکان کا عقيدہ رکھا اور اللہ کو مکان سے پاک قرار نہیں ديا،اور ايسا کہنے والااللہ کو اگرآسمان پر مانتا ہے تو زمين پر نفی کرتا ہے اور زمين پر مانتا ہے تو آسمان پر نفی کرتا ہے اور يہ بات اللہ کے ليے حد کو بھی مستلزم ہے اور اسی طرح فقيہ ابوالليث سمرقندی اور بحوالہ ملا علی قاری رحمہ اللہ حل الرموز ميں ملک العلماءشيخ عزالدين بن عبدالسلام الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ يہ قول اللہ جل جلالہ کے ليے مکان ثابت کرنے کا وہم ديتا ہے تو اس بات سے يہ شخص مشرک ہوگيايعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو ازل سے ہے اگر اللہ کے وجود کے ليےمکان لازم ہے تو يقينا يہ مکان ازل سے ماننا پڑے گا اور اس طرح ايک سے زائد قديم ذات ماننا پڑیں گے جو کہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ اور امام ابو حنیفہ m کا جو قول تھا اس سے کچھ آگے چل کے وہ خود ہی اس بات کا جواب دیتے ہیں: امام ابوحنیفہ mفرماتے ہیں کہ: [قلت أرأيت لو قيل أين الله تعالى فقال يقال له كان الله تعالى ولا مكان قبل ان يخلق الخلق وكان الله تعالى ولم يكن أين ولا خلق كل شيء] ترجمہ:” جب تم سے کوئی پوچھے کہ اللہ (کی ذات )کہاں ہے تو اسے کہو کہ (اللہ وہیں ہے جہاں) مخلوق کی تخلیق سے پہلے جب کوئی جگہ و مکان نہیں تھا صرف اللہ موجود تھا۔ اوروہی اس وقت موجود تھا جب مکان مخلوق نا م کی کوئی شے ہی نہیں تھی“ (1)الشرح الميسر علی الفقہين الأبسط والاکبر المنسوبين لأبی حنيفۃ :ص161 (2)العالم والمتعالم :ص57 لہذا آج کل جو غيرمقلدین امام صاحب کے اس قول ميں الفاظ کے ملاوٹ کے ساتھ معنی ميں بھی تحریف کرکے اس کا مطلب اپنی طرف موڑتے ہیںوہ بالکل غلط اور امام صاحب کی اپنی تصريحات کے خلاف ہےاور جس ملاوٹ اور لفظی تحريف کی بات ہم نے کی اس کی تفصيل يہاں ذکر کرتے ہیں اوپر امام صاحب کا قول ابومطيع کی روایت سے ہم نے بيان کرديا کہ وہ کس قدر الفاظ کے ساتھ مروی ہے اور اس کی تشريح فقيہ ابوالليث اور امام عزالدين بن عبدالسلام کے ارشادات کے مطابق بلا غبار واضح نظر آتی ہے ليکن غيرمقلدين ميں ايک شخص جن کو يہ لوگ شيخ الاسلام ابواسماعيل الھروی الانصار ی صاحب الفاروق کے نام سے جانتے ہيں اور ان کی کتابوں ميں الفاروق فی الصفات اور ذم الکلام شامل ہيں جن ميں يہ جناب اشاعرہ کومسلم بلکہ اہل کتاب بھی نہيں سمجھتے اور ان کے ذبيحے حرام اور ان سے نکاح بھی حرام کہتے ہيں اور يہ فقيہ ابوالليث سمرقندی رحمہ اللہ کے وفات سنہ 373ھ کے سو سال بعد آئے ہيں اور انہوں نےاسی روايت ميں اپنی طرف جو الفاظ چاہے اپنی طرف سے بڑھاديے حتیٰ کہ ساری بات کا مفہوم ہی بگاڑديا اور کلام کا رخ اپنے مطلب کی طرف پھيرديا چنانچہ ان جناب نے اس عبارت کو اس طرح روايت کيا [قَالَ سَأَلت أَبَا حنيفَة عَمَّن يَقُول لَا أعرف رَبِّي فِي السَّمَاء أَوفِي الأَرْض فَقَالَ قد كفر لِأَن الله تَعَالٰی يَقُول {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} وعرشه فَوق سمواته :فَقلت إِنَّه يَقُول أَقُول على الْعَرْش اسْتَوَى وَلَكِن قَالَ لَا يدْرِي الْعَرْش فِي السَّمَاء أَو فِي الأَرْض قَالَ إِذا أنكر أَنه فِي السَّمَاء فقد كفر] کيا،،، اس عبارت ميں انہوں نے لان اللہ يقول الرحمن علی العرش استوی وعرشہ فوق سموتہ کی تعليل [یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں کہ رحمن نے عرش پر استواء کرليا، اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے] اور يہ الفاظ فاذا انکر انہ في السماء فقد کفر کي تعليل [يعنی جب اس شخص نے انکار کرليا کہ وہ آسمان پر ہے تو اس نے کفر کيا] يہ دونوں باتوں کو انہوں نے اس عبارت ميں اپنی طرف سے بڑھاديں جس کی وجہ سے مفھوم بظاہر تجسمی معنی کی طرف مائل ہوتا نظر آرہا ہے حالانکہ اصلی عبارت اور امام صاحب کی ديگر تصريحات سے امام صاحب کا مسلک اہل سنت کا ہي مسلک ہونے ميں واضح ہے، تو يہاں پر کفر کي وجہ يہ نہيں ہے کہ اس شخص نے اللہ کو آسمان پر ماننے سے انکار کرديا اس ليے کافر ہے،،بلکہ يہ الفاظ تو الھروی نے اپنی طرف سے بڑھادیے اور ان الفاظ کا کوئی وجود ہی نہيں ہے اصل عبارت ميں، اور کفر کی وجہ وہی ہے جو امام ابوالليث نے الھروی سے سو سال پہلے بيان کيا اور امام عزالدين بن عبدالسلام نے بھی بيان کيا کہ دراصل يہ بات اللہ کے ليے مکان و جگہ ثابت کررہا ہے اس ليے يہ کفر ہے اور تعجب يہ ہے کہ يہ شخص ابواسماعيل الھروی ان حضرات کے ہاں بہت بڑے پائے کے ہيں جبکہ ان کے اپنے ہی شيخ الاسلام ابن تيميہ ان کا مسلک اپنے مجموع الفتاوی ميں کلام الٰہی کے بارے ميں يہ نقل کرتے ہيں کہ ان کے ہاں اللہ کا کلام نازل ہوکر مصحف ميں حلول ہوگيا والعياذباللہ اور ساتھ ميں جناب کی يہ عجيب منطق بھی نقل فرمائی ہے کہ يہ وہ والی حلول نہيں جو ممنوع و مضر ہے [وَطَائِفَةٌ أَطْلَقَتْ الْقَوْلَ بِأَنَّ كَلَامَ اللّهِ حَالٌّ فِي الْمُصْحَفِ كَأَبِي إسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ الهروي الْمُلَقَّبِ بِشَيْخِ الْإِسْلَامِ وَغَيْرِهِ وَقَالُوا: لَيْسَ هٰذَا هُوَ الْحُلُولُ الْمَحْذُورُ الَّذِي نَفَيْنَاهُ. بَلْ نُطْلِقُ الْقَوْلَ بِأَنَّ الْكَلَامَ فِي الصَّحِيفَةِ وَلَا يُقَالُ بِأَنَّ اللّهَ فِي الصَّحِيفَةِ أَوْ فِي صَدْرِ الْإِنْسَانِ كَذَالِكَ نُطْلِقُ الْقَوْلَ بِأَنَّ كَلَامَهُ حَالٌّ فِي ذَالِكَ دُونَ حُلُولِ ذَاتِهٖ] ترجمہ: ابن تیميہ کہتے ہيں کہ ايک گروہ نے يہ بات بھی کہی ہے کہ اللہ کا کلام مصحف ميں حلول ہوگيا ہے جيسا کہ ابواسماعيل الھروی جو کہ شيخ الاسلام کے لقب سے جانے جاتے ہیں وغيرہ، يہ لوگ کہتے ہيں کہ يہ وہ حلول نہیں ہے جو محذور ہے اور جسے ہم نے نفی کيا ہے بلکہ ہم يہ کہتے ہيں کہ اللہ کا کلام صحيفہ ميں ہے اور يہ نہيں کہا جائے گا کہ اللہ صحيفہ ميں ہے يا انسان کے سينے ميں ہے اسی طرح ہم کہتے ہيں کہ اس کا کلام اس ميں [يعنی مصحف يا صحيفے ميں] حلول ہوگيا ہے ليکن اللہ کی ذات حلول نہيں ہوئی (مجموع الفتاوٰی: 12/ 294) سبحان اللہ اگر يہی کلام کوئی بھی اہل سنت کا معتقد خدانخواستہ کہ دیتا تو کيا اس کو کوئی شيخ الاسلام کے لقب سے ملقب کرتا؟ تو خلاصہ کلام يہ ہوا کہ ابومطيع سے امام صاحب کی اس بات کی روایت کو اگر ابواسماعيل الھروی کی من گھڑت زيادتی کے بغیر نقل کيا جائے تو اس ميں کوئی خرابی نہیں اور کلام کا مفہوم مکان کی نفی ميں واضح ہے خصوصًاجب امام صاحب کے باقی ارشادات کی روشنی ميں اس کو قوی قرائن مل جاتے ہيں اور اسی کلام کو ابن قیم نے ان الفاظ کی زيادتی سے نقل کيا ہے[لانہ انکر ان يکون في السماء لانہ تعالٰي في اعلي عليين]يعنی يہ شخص اس ليے کافر ہے کہ اس نے اللہ کو آسمان پر ماننے سے انکار کرديا، کيونکہ اللہ اعلیٰ عليين ميں ہے حالانکہ قرآن وسنت ميں کہیں بھی اللہ کو اعلیٰ عليين ميں نہیں کہا گيا تو يہ سب تصرفات جناب ابواسماعيل الھروی کی تحریف کرد ہ ہیں اور ان سے امام ذہبی رحمہ اللہ نے [العلو] ميں اور امام ابن قيم نے[ اجتماع الجيوش الاسلاميہ:ص267] ميں ان کو اسی طرح نقل کر لیااسی طرح اسماعیل الہروی کے بعد آنے لوگوں نے اسی کا حوالہ دے کر اسی قول کو نقل کیا ہے جب بنیاد ہی اس قول کی درست نہیں تو اس من گھڑت قول کی بناء پر کسی کو مطعون کرنا درست نہیں ،حالانکہ یہ اسماعیل الہروی خود اللہ تعالیٰ کے کلام کے حوالے مطعون ہے جیسا کہ اوپر ہم نے حوالے کے ساتھ بتایا اس تما م بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس من گھڑت بات کی بنا پر ابو مطیع کو مطعون کرنا صرف تعصب ہے اور تعصب کی جرح مردود ہےاسی طرح محدثین بلا تحقیق اس بات کو نقل کرتے رہے اور ابو مطیع کو ضعیف قرار دیتے رہے ہم نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے ایک انصاف پسند آدمی کے لئے بات واضح ہوگئی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد اس کو قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین
  9. قُلْتُ: لَيَّنَهُ ابْنُ المَدِيْنِيِّ، وَطَوَّلَ تَرْجَمَتَه الخَطِيْبُ (1) .مَاتَ: سَنَةَ أَرْبَعٍ وَمائَتَيْنِ -رَحِمَهُ اللهُ-. ایک تو تم بچی ہے کاپی پیسٹ والی. باقی جو اسکین ہیں یہ ابو حمزہ وہابی جو میرے ساتھ مناظرے سے بھاگا ہوا ہے. . .. اسکے لیے آئی . . الضعفا المغنی میں جرح لکھنےسے اگر کوئی واقعی ضعیف ثابت ہوتا ہے تو بچی یہ لو امام بخاری کا نام اسی کتاب میں ہے. اور امام بخاری کو امام ذھبی نے مدلس بھی ثابت کیا ہے اپنی کتاب میں.
  10. اور الحسن بن زیاد اللؤلؤی پر امام ذھبی کی تحقیق انہوں نے اسکو سیر اعلا البلاء میں انکا شمار طبقہ عشرہ میں کیا.... الحسن بن زياد العلامة فقيه العراق ، أبو علي الأنصاري ، مولاهم الكوفي اللؤلؤي ، صاحب أبي حنيفة . نزل بغداد ، وصنف وتصدر للفقه . الحسن بن زياد [ ص: 544 ] أخذ عنه محمد بن شجاع الثلجي ، وشعيب بن أيوب الصيريفيني . وكان أحد الأذكياء البارعين في الرأي ، ولي القضاء بعد حفص بن غياث ، ثم عزل نفسه . قال محمد بن سماعة : سمعته يقول : كتبت عن ابن جريج اثني عشر ألف حديث ، كلها يحتاج إليها الفقيه . وقال أحمد بن عبد الحميد الحارثي : ما رأيت أحسن خلقا منالحسن اللؤلؤي ، وكان يكسو مماليكه كما يكسو نفسه .
  11. یہ ابو مطع البلخی پر مبھم جرح کا جواب ۔ ۔ ۔ اور اب جب آنا اسکین پیجیز کے ساتھ آنا ۔ ۔ کاپی پیسٹ میں تمہاری اکثر باتوں کی سند ہی نہیں ۔ اور جس کی بیان کی وہ کتاب السنہ سے ہے اور وہ خود مجھول راویوں سے ہے ۔ جتنے بھی قول با سند پیش کیے تم نے اسکا جواب دے رہا ہوں باقی اور اسلامی بھائی جواب دینگے
  12. کتاب السنة لعبد الله بن احمد بن حنبل یہ جس کتاب سے آپ نے حوالہ دیا ہے پہلے اسکی صحیح سند ثابت کرو بی بی ۔ ۔ ایسے منہ اٹھا کے مجھول راویوں والی کتاب جو صحیح سند سے ثابت نہیں وہاں سے امام اعظم کو مرجئ ثابت کرنے آگئی ہو؟
  13. مسند احمد کا عکس محقق غیر مقلد شعیب الارنوط
  14. جو مسند احمد کی روایت پیش کی گئی ہے اس کی سند میں سمیہ مجھولہ راوی موجود ہے ۔ ۔ جس کا ترجمہ اسماءالرجال کی کتب میں نہیں لہذا ایسی مجھول راویوں کی روایت سے دلیل پکڑنا باطل ہے دوسری روایت جو مستدرک الحاکم سے پیش کی گئی ہے اسکی سند منقطع ہے ۔ ۔ اس میں زربن حبیش کا سماع حضرت انس سے ثابت نہین تو ایسی روایت سے دلیل پکڑنا مردود ہے