umar ali salfi

Members
  • Content count

    22
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About umar ali salfi

  • Rank
    Member
  1. میں تو یہ سوچ کرآیا تھا کہ آپ لوگوں کے دلائل دیکھو۔ اور مکالمہ ہوتھوڑا سمجھ آئے۔یہاں ہانکنا اندھے ہو یہ ہے وہ ہے سے بات کی جاتی ہے۔ تمیز سیکھیں پہلے بنیاد ہے دین کی پھر توسل نور اور غیب پر بھی بات کریں۔ ان عقائد کو ظنی عقائد کہتے ہو۔ لیکن تمیز تو بنیاد ہے۔ والسلام۔ آپ سے بات نہیں ہوسکتی دیکھ لیا Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  2. اندھے ہو میرا خیال۔ سوال پہلے میں نے پوچھے جسکا جواب ابھی نہیں آیا۔ اندھا کہیں کا۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk بات کرنے کی تمیز نہیں اور چلے ہیں دین کی تبلیغ کرنے۔ اسلئے آج تک کوئی اہل حدیث کبھی پلٹ کر بریلوی نہیں ہوا جس نے بھی چھوڑا آپ کو۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  3. آپ کے پاس صرف خوش فہمیاں ہیں جناب۔ خوش فمہی سے جنت واجب نہیں ہوتی۔ انسان کو اور بھی بہت کام ہوتے ہیں اس پر روشنی ڈال دوگا۔ تسلی رکھیں۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  4. ہانکنا؟ یہ تمیز ہے آپ لوگوں کو بات کرنے کی۔ آپ کا بندہ سند تو ثابت نا کرسکا۔ موضوع سند ثابت کرنا ہے اس واقعہ کی وہ موضوع سے غیر وابستہ پوسٹ نواب صاحب کی لگاتا ہے وہ آپ سے ڈیلیٹ کیوں نہیں ہوتی۔ قیامت دور نہیں۔ کچھ شرم کریں۔مسلک پرستی کی بجائے حق پرستی کریں۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  5. ٹاپک سے بالکل این ریلیٹڈ نہیں ہے پوسٹ جب ایک انسان سمجھنا نہیں چاہتا کہ سند اور دلیل کیا ہوتی اسکی کیا اہمیت ہے تو اسکو سمجھنے کا بہت آسان راستہ تھا وہ۔ اس سے ہی اسکو عقل آنی تھی کہ ہر نقل کردہ بات دلیل کے طور پر نقل نہیں ہوتی۔ اور ہر نقل کردہ بات سند کے ساتھ ہوتب بھی قابل قبول نہیں تو بنا سند کیسے قابل قبول۔؟ یہ جو راگ الاپ رہیں پے کہ نووی نے کیوں لکھا۔ نووی نے تو شرح صحیح مسلم میں بہت کچھ لکھا اور دلیل کے ساتھ لکھا۔ تسلیم کرے گے وہ سب؟ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑواکڑوا تھوتھو۔ کمال ہے۔ کیوں اصول ہیں آپ کے؟ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  6. [emoji279] امام ابن حبان رحمہ اللہ اور قبر سے توسل کا الزام[emoji279] [emoji118] امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ ایک نیک ولی کی قبر کے پاس جا کر دعا کیا کرتے تھے، انہیں لگتا تھا کہ وہاں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ [emoji16] بعض بدعتیوں نے اپنی مطلب برآری کے لیے اس واقعہ میں قبر سے توسل کی بات خود گھڑ کر داخل کر دی ہے، عربی متن میں یہ الفاظ قطعا نہیں ہیں۔۔۔ [emoji260] رہا امام صاحب کا قبر کے پاس دعا کرنا تو وہ سمجھتے تھے کہ نیک لوگوں کی قبر پر چوں کہ رحمت الہی نازل ہوتی ہے، لہذا رحمت الہی کے نزول کی جگہ دعا کی جائے تو زیادہ قبول ہو گی، جیسے بازار کی نسبت مسجد میں زیادہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ [emoji27] اگرچہ ہم اس نظریے سے بھی اتفاق نہیں رکھتے، لیکن اسے گھسیٹ کر قبر سے توسل بنا دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔۔۔۔! [emoji118] ہم اولیاء کی قبروں سے توسل کے بھی قائل نہیں اور وہاں خصوصی طور پر جا کر اپنے لیے دعا کرنے کے بھی، کیوں کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر دعا نہیں کیا کرتے تھے، صحابہ کرام کا طرز عمل تو بالکل مختلف تھا، صحیح بخاری میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بعد از وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر دعا کرنے کی بجائے میدان میں نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرانا معمول تھا اور اس میں قبولیت بھی ہوتی تھی۔ [emoji272] صحیح بخاری کی اس حدیث میں ان لوگوں کی بدعت کا بھی رد موجود ہے جو بعد از وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانے کے لیے قرآن کریم میں تحریف معنوی کے مرتکب ہوتے ہیں، قرآن کریم کی تفسیر صحابہ کرام سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔ [emoji272] امام ابن حبان رحمہ اللہ کا یہ طریقہ بھی ان اہل بدعت کے بھی خلاف ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اولیاء قبروں میں فریادیں سنتے ہیں اور مانگنے والوں کے لیے اللہ سے سفارش کرتے ہیں، کیوں کہ امام صاحب قبر پر جا کر اللہ سے دعا کرتے تھے، مردے سے کراتے نہیں تھے! [emoji260] اہل بدعت کو اللہ سے ڈر جانا چاہیے، بات جو ہو وہی بیان کرنی چاہیے، یہ لوگ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  7. اگر بلاسند کسی کی بات آپ کے لئے حجت ہے تو سند کے ساتھ تو لازمی حجت ہوگی۔ کیا کہیں گے ان روایات کے بارے میں پھر۔ خبرنا محمد بن الحسين بن الفضل القطان , قال أخبرنا عبد اللہ بن جعفر بن درستويہ , قال حدثنا يعقوب بن سفيان , قال حدثني علي بن عثمان بن نفيل , قال حدثنا أبو مسهر , قال حدثنا يحيى بن حمزة , وسعيد يسمع , أن أبا حنيفة قال : لو أن رجلا عبد هذه النعل يتقرب بها إلى الله , لم أر بذلك بأسا , فقال سعيد : هذا الكفر صراحا ترجمہ: يحيى بن حمزہ نے سعيد کے سامنے يہ بات بيان کي کہ أبو حنيفہ نے کہاہے: اگر کوئي شخص اس جوتے کي عبادت کرے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کي نيت سے تو ميں اس ميں کوئي حرج نہيں سمجھتا ۔تو سعيد (بن عبد العزيز التنوخي ) نے (يہ سن کر ) کہا : يہ تو صريح کفر ہے۔ (المعرفۃ والتاریخ للفسوی ص 368، وتاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 372 وغیرہ) Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  8. میرے بھائی اس کو اپنی دلیل ہونا تو ثابت کرو۔ سند تو اس کے بعد دیکھ لیں گے۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  9. علامہ برکوی حنفی متوفی 981 ہجری اور ممنوع وسیلہ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  10. احناف کے امام کا قول دیکھ لیا اب بریلویت کے امام کو فتوہ بھی ہے کہ اصل کراہت تحریم ہے اسکو تنزیہ کی طرف پھیرنا محتاج دلیل ہے۔ دیکھیں فتاوی رضویہ ص 178 ج 1 طبع مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی 1989 Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  11. علامہ ابن نجیم حنفی متوفی 970 ہجری جنکے متعلق حنفی علماء الامام ابوحنیفہ ثانی القاب استعمال کرتے ہیں کنزالدقائق کی شرح میں تحریر کرتے ہیں۔ "یعنی معلوم ہوناچاہئے کہ جب فقہاکرام مطلق مکروہ کا لفظ اپنے کلام میں استعمال کرتے ہیں تو اس سے انکی مراد تحریم (حرام) ہوتا ہے مگر یہ کہ وہ کراہت تنزیہ کی صراحت کردیں۔ تحقیق مصنف نے المتصفی میں کہا ہے کہ کراہت کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے انکی مراد تحریم (حرام ہونا ہے) قاضی ابویوسف کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوحنیفہ سے کہا کہ جب آپ کسی چیز کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ میں اسے مکروہ جانتا ہوں تو اس سے آپ کا کیا مقصود ہوتا ہے تو انہوں نے کہا تحریم (حرام) ہوتا ہے۔ البحرالرائق ص 131 ج 1 طبع المکتبہ الماجدیہ کوئٹہ۔ یہ ہی عبارت علامہ ابن عابدین نے درمختار کی شرح میں مکروہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے البحر سے نقل کرکے سکوت کیا ہے۔ فتاوی شامی ص 224 ج 1 طبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی امید ہے آپ اپنا بے مقصد تنز واپس لیں گیں۔ اور تسلیم کریں گے کہ اوپر جو بیان ہوا تھا وہ الفاظ حرام ہیں۔ اب تو امام صاحب کا بیاں بھی آگیا۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk علامہ جلال الدین الخوارزمی حنفی ھدایہ کی شرح میں فرماتے ہیں یعنی امام محمد نے المبسوط میں بیان کیا ہے کہ قاضی ابویوسف نے امام ابوحنیفہ سے کہا کہ جب آپ کسی چیز کے متعلق مکروہ کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے اپ کی کیا مراد ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ تحریم ہوتا ہے۔ الکفایہ ص 440 ج 8 Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  12. آپ کو ان الفاظ سے وسیلہ کا مکروہ ہونا تسلیم ہے کیا؟ بتائیں پھر دیکھیں گے کہ اس مکروہ سے کون سا مکروہ مراد ہے۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  13. جناب آپ پوچھ رہیں ہیں لیکن اس سے پہلے ہم نے بھی کچھ پوچھا ہے۔ عرض ہے یہ کس طرح دلیل بن رہی آپکی واضح کریں Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  14. احناف اور وسیلہ احناف کی مذکورہ آٹھ کتابوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ یہ عبارت منقول ہے۔ جس سے وسیلے کی حرمت وکراہت ثابت ہوتی ہے۔ يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ فِي دُعَائِهِ بِحَقِّ فُلَانٍ، وَكَذَا بِحَقِّ أَنْبِيَائِك، وَأَوْلِيَائِك أَوْ بِحَقِّ رُسُلِك أَوْ بِحَقِّ الْبَيْتِ أَوْ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ؛ لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مفہوم عبارت: یہ مکروہ عمل ہے کہ کوئی شخص اپنی دعامیں یہ کہے کہ ’’(اے اللہ میری دعا قبول فرما)فلاں شخص کے واسطے سے،اور(اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کہے کہ) اپنے انبیا کے وسیلے سے اور اولیا کے واسطے یا اپنے رسولوں کے واسطے سے یا بیت اللہ کے واسطے سے،مشعر حرام کے واسطے سے،کیونکہ مخلوق کو خالق پر اس طرح کا کوئی حق نہیں۔ ١۔تبین الحقائق شرح کنز الدقائق:کتاب الکراہیہ،فصل فی البیع،ج٦ص٣١ ٢۔بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع:ج٥ص١٢٦ ٣۔الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی:ج٤ص٣٨٠ ٤۔متن بدایۃ المبتدی فی فقہ الامام ابی حنیفہ:ج١ص٢٤٨ ٥۔العنایۃ شرح الھدایۃ:ج١٠ص٦٤،ج١٢ص٢٤٨ ٦۔درر الحکام شرح غرر الاحکام:ج١ص٣٢١ ٧۔رد المحتار على الدر المختار:ج٦ص٣٩٧ ٨بحر الرائق شرح کنز الدقائق:ج٨ص٢٣٥ حنفیوں کو چاہیے کہ کم از کم حنفی ہی بن جائیں۔ Sent from my SM-G925F using Tapatalk
  15. آپ کے لئے شعروشاعری ہی دلیل ہے تو عرض کریں آپ لوگوں کے شعر پیش کردیتا ہو جو صاف آپ کے کفر کو ثابت کرتے ہیں۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ یہ کوئی علمی دلائل نہیں بس چکربازیاں ہیں۔ دلیل قرآن و سنت ہے کسی کا فعل و قول نہیں۔ مفہوم ہے کہ 6عبداللہ بن عباس سے جب کہاں کہ ابوبکروعمر یہ کہتے تھے تو انھوں کے کہا کہ میں اللہ رسول کی بات پیش کررہا ہو اورتم کہتے کہ ابوبکر عمر نےکہا یہ نا ہو کہ آسمان سے پتھر برس پڑے۔ یہ کام آپ لوگ کرتے ہو قرآن و سنت اور فہم سلف سے دلائل دو تو فلان نے یہ کیوں کہا۔ فلان پر فتوہ لگاو۔ لوگ قیامت کو آپ کا گریبان پکڑیں گے کہ اس نے چکردیا ہمیں Sent from my SM-G925F using Tapatalk