Jump to content
IslamiMehfil

بنت عبد السمیع

Members
  • Content Count

    16
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

1 Neutral

About بنت عبد السمیع

  • Rank
    Member
  1. السلام علیکم۔ بریلوی ھو، اور بنا گالیوں کے بات کرتا ھو، ایسا ممکن بھلا کیسے ھوسکتا ھے۔ بحرحال ، اک بات طے ھے۔ رانا اسد فرحان، حکمتِ چین وحجت بنگال والا پرانا بریلوی فارمولا یہاں آزما رھے ھیں۔ بھلا لفظ امام، فقیہ، وغیرہ جیسے الفاظ بھی توثیق کے زمرے میں آتے ھیں؟ کہیں اعلاء السنن پڑھ کر تو اصول الحدیث نہیں سیکھی؟ یہ ھوائی اٹکل پچو یہاں نہیں چلنے والے۔ رہی بات جرح مفسر وغیر مفسر کی، یہ بحث تو تب ھو، جب سامنے سے توثیق بھی منقول ھو۔ جبکہ حسن زیاد عند المحدثین، کذاب خبیث متروک ضعیف ھے، بحرحال کچھ اور حوالے پیشِ خدمت ھیں۔ أخبرنا القاضي أبو العلاء محمد بن علي الواسطي، قال: أخبرنا أبو مسلم عبد الرحم
  2. أخبرنا القاضي أبو عبد الله الحسين بن علي بن محمد الصيمري، قال: أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ، قال: حدثنا مكرم بن أحمد، قال: حدثنا عمر بن إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا علي بن ميمون، قال: سمعت الشافعي، يقول: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره في كل يوم، يعني زائرا، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين، وجئت إلى قبره وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى.[تاريخ بغداد : ج1 ص335]-ترجمعہ : أبو عبد الله الصیمری نے کہا مجھ سے بیان کیا عمر بن إبراھیم نے، کہا مجھ سے بیان مکرم بن احمد نے، کہا مجھ سے بیان عمر بن إسحاق بن إبراھیم (مجھول) نے، کہا مجھے سے بیان کیا علی بن میمون نے ، کہا ، میں نے امام ش
  3. انا للہ وانا الیہ راجعون !!! یہ ’’امام‘‘ توثیق کا صیغہ کب سے ہوگیا۔ اگر لفظ’’امام‘‘ توثیق کا صیغہ ہے تو پھر مقلد رانا صاحب کو طوالت کی ضرورت ہی نہ تھی ، ان کے لئے توبس اتنا ہی کافی تھا کہ میری ہی کسی تحریر سے ایسےتمام جملے نقل کردیتے جس میں ، میں نے ابوحنیفہ یا حسن بن زیاد کے نام ساتھ ’’امام‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہو ، اور کہتے کہ جب آپ انہیں ’’امام‘‘ مان رہی ہیں تو ان کے ثقہ ہونے کا انکار کیا معنی رکھتاہے؟ قارئین انصاف کریں لفظ ’’امام‘‘ سے توثیق ثابت کرنا ، اس سے بھی فضول بات کوئی ہوسکتی ہے؟؟؟؟؟ ’’تذكرة الحفاظ‘‘ میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی شرط نہیں اپنائی ہے کہ اس میں وہ صرف ثقہ لوگ
  4. آلِ بریلویہ کو ڈوب کے مر جانا چاہییے۔ جس قسم کی گندی زبان یہ بریلوی استعمال کر رہا ھے۔ ھھھھھھ ویسے اس کی حالت جو میں نے ایسی کردی ھے ۔ تو ایسی گندی زبان تو اب نکلے گی ہی۔ بحرحال۔ مقلد اسد فرحان۔ حافظ ذھبی کا منھج تم جانتے بھی ھو؟ یا عسقلانی کی کاپی پیسٹ سے کام چلا لوگے؟؟؟؟؟؟ المغنی میں حافظ نے اپنا منھج کیا بتایا ھے اسد مقلد؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ . ھھھھھھ بولتا ھے جرح سند کے ساتھ دکھاؤ۔ مقلد جی، سندوں کی بھرمار کر رکھی ھے۔ کوفی چشمہ اتارو تو سہی ایکبار۔ کوفی چشمے کے ساتھ جرحیں ہی کیا۔ حق بھی نہیں دکھتا۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  5. السلام علیکم۔ وہ کہتے ہیں نہ حکمت چین وحجت بنگال۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسد کے ساتھ بھی ھے۔ ایک خبیث کذاب ، قوم لوط والے عمل کے دلدادہ راوی کو، فقط للفظ "امام" سے ثقة ثابت کر رہا ھے۔ جبکہ لفظ امام امام سے توثیق والا کھیل کھیلوگے تو حنفیت کیا پورا اسلام ہی اجڑ جائے گا۔ اور حنفی تو چاہتے ہی یہی ھیں کہ اسلام اجڑ جائے۔ ۔ بحرحال جرح مفسر وہ بھی شدید ترین، پیش کی جاری ھیں۔۔ عقل کا ڈھکنا اور کوفی چشمہ اتار کے پڑھیں۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk حسن بن زیاد پر امام ذھبی کی تحقیق؟؟؟؟ تم ذھبی کی کون سی تحقیق مانتے ھو؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ذھبی نے تو حسن بن زیاد پر کذاب کی جرحیں نقل کی ھیں۔ اور دیوان الضعفاء می
  6. ٤٣٣- ١٥/ ٨- محمد بن أبي يعقوب إسحاق بن حرب الحافظ الإمام أبو عبد الله البلخي اللؤلؤي [تذکرة الحفاظ للذهبي : ج2، ص212] ٧١٩٩ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي. عن مالك، وخارجة ابن مصعب. وعنه ابن أبي الدنيا، والحسين بن أبي الاحوص، وجماعة. وكان أحد الحفاظ إلا أن صالح بن محمد جزرة قال: كذاب. [ميزان الاعتدال للذهبي ، ج3، ص375] تمھارے اصول سے علامہ ذھبی نے محمد بن اسحاق بن حرب پر کذاب کی جرح نقل کی۔ لیکن لفظ امام سے توثیق بھی ہوئی؟ یعنی علامہ ذھبی کا دماغ تمھارے حساب سٹیا گیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پھر اسی راوی کو ذھبی نے اپنی ضعفاء میں درج کرکے کذاب کی جرح نقل کی۔ ٥٢٧٤ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي
  7. ٤٣٣- ١٥/ ٨- محمد بن أبي يعقوب إسحاق بن حرب الحافظ الإمام أبو عبد الله البلخي اللؤلؤي [تذکرة الحفاظ للذهبي : ج2، ص212] ٧١٩٩ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي. عن مالك، وخارجة ابن مصعب. وعنه ابن أبي الدنيا، والحسين بن أبي الاحوص، وجماعة. وكان أحد الحفاظ إلا أن صالح بن محمد جزرة قال: كذاب. [ميزان الاعتدال للذهبي ، ج3، ص375] تمھارے اصول سے علامہ ذھبی نے محمد بن اسحاق بن حرب پر کذاب کی جرح نقل کی۔ لیکن لفظ امام سے توثیق بھی ہوئی؟ یعنی علامہ ذھبی کا دماغ تمھارے حساب سٹیا گیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  8. الكتب : السنة لعبدالله بن احمد بن حنبل إسناد الكتاب: روي هذا الكتاب عن مؤلفه بعدة طرق، وهي على النَّحو الآتي: الإسناد الأول: الذي طبع عليه الكتاب، وهو في نسخة واحدة (الظاهرية فقط)، ينتهي إلى: أبي الوقت عبدالأول بن عيسى بن شعيب الهروي، عن شيخ الإسلام أبي إسماعيل عبدالله بن محمد الهروي، قال: أنبأنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن محمد القراب، أنبأنا أبو النضر محمد بن الحسن بن سليمان السمسار، حدثنا أبو عبدالله محمد بن إبراهيم بن خالد الهروي، حدثنا أبو عبدالرحمن عبدالله بن أحمد بن محمد بن حنبل[19]. تراجم الإسناد: - أبو عبدالله محمد بن إبراهيم بن خالد الهروي: شيخ لابن حبان في "الثقات" (7/33). - أب
  9. پھر بھی اگر تم اھل الاھواء ھونے کا ثبوت دیتے ھوئے۔ ابومطیع کو ضعیف تسلیم نہ کرو۔ تو بھی تم غلاظت کے ڈھیر میں ہی پڑے رھوگے۔ کیونکہ ابومطیع تمھیں بھی ٹیکہ لگاتے ھوئے معتزلی بنا گیا ھے۔ “الفقہ الاکبر” جو ابو مطیع کی سند سے امام ابوحنیفہ سے منسوب ھے۔ میں لکھا ہوا ہے کہ : “فما ذکر اللہ تعالیٰ فی القرآن من ذکر الوجہ والید والنفس فھو صفات بلا کیف ولا بقال: أن یدہ قدرتہ و نعمتہ لأفیہ ابطال الصفۃ وھو قول اھل القدر والإعتزال ولکن یدہ صفتہ بلا کیف” پس اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وجہ (چہرہ) ید (ہاتھ) اور نفس (جان) کا جو ذکر کیا ہے وہ اس کی بلا کیف صفتیں ہیں اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اس کا ہاتھ اس کی قدرت ا
  10. أخبرني محمد بن عبد الملك، قال: أخبرنا أحمد بن محمد بن الحسين الرازي، قال: حدثنا علي بن أحمد الفارسي، قال: حدثنا محمد بن فضيل، قال: سمعت حاتما السقطي، قال: سمعت ابن المبارك، يقول: أبو مطيع له المنة على جميع أهل الدنيا. [تاریخ بغداد] امام ابن مبارک کا یہ قول جو ابو مطیع بلخی پر فٹ کیا ھے تم نے، اسے ثابت کون کرے گا؟؟؟؟؟؟ پیش کرو ان تمام رواہ کے تراجم مع تعدیل۔ میں کہتی ہوں۔ قیامت آسکتی ھے لیکن ابن مبارک سے ابومطیع کی تعریف تم نہیں دکھا سکتے۔ دوسری بات : ابن مبارک کے اسی غیر ثابت قول کے نیچے لکھا ھے۔ قال محمد بن فضيل وقال حاتم قال مالك بن أنس لرجل: من أين أنت؟ قال من بلخ، قال: قاضيكم أبو مطيع
  11. السلام علیکم۔ جی اس کا کوئی جواب ھو بھی کیسے سکتا ھے۔ یہ تو حقیقت ھے Sent from my XT1609 using Tapatalk اسی کمیٹی کے ایک ممبر عبد اللہ بن المبارک بھی ہیں۔ ۔ ٢٣٣ - حدثني أبو الفضل الخراساني، حدثني إبراهيم بن شماس السمرقندي، قال [ص: ١٨٢] قال رجل لابن المبارك ونحن عنده «إن أبا حنيفة كان مرجئا يرى السيف»، فلم ينكر عليه ذلك ابن المبارك امام ابراھیم بن شماس فرماتے ہیں۔ کہ ہم امام عبد اللہ بن مبارک کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص نے کہا۔ ابوحنیفہ مرجی تھے جو سلطان وقت کے خلاف تلوار نکالنا جائز سمجھتے تھے۔ تو امام عبد اللہ بن مبارک نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی". [کتاب السنة لعبد ا
×
×
  • Create New...