Jump to content
اسلامی محفل

بنت عبد السمیع

Members
  • Content Count

    16
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About بنت عبد السمیع

  • Rank
    Member
  1. السلام علیکم۔ بریلوی ھو، اور بنا گالیوں کے بات کرتا ھو، ایسا ممکن بھلا کیسے ھوسکتا ھے۔ بحرحال ، اک بات طے ھے۔ رانا اسد فرحان، حکمتِ چین وحجت بنگال والا پرانا بریلوی فارمولا یہاں آزما رھے ھیں۔ بھلا لفظ امام، فقیہ، وغیرہ جیسے الفاظ بھی توثیق کے زمرے میں آتے ھیں؟ کہیں اعلاء السنن پڑھ کر تو اصول الحدیث نہیں سیکھی؟ یہ ھوائی اٹکل پچو یہاں نہیں چلنے والے۔ رہی بات جرح مفسر وغیر مفسر کی، یہ بحث تو تب ھو، جب سامنے سے توثیق بھی منقول ھو۔ جبکہ حسن زیاد عند المحدثین، کذاب خبیث متروک ضعیف ھے، بحرحال کچھ اور حوالے پیشِ خدمت ھیں۔ أخبرنا القاضي أبو العلاء محمد بن علي الواسطي، قال: أخبرنا أبو مسلم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن مهران، قال: أخبرنا عبد المؤمن بن خلف النسفي، قال: سألت أبا علي صالح بن محمد، عن الحسن بن زياد اللؤلؤي، فقال: ليس بشيء لا هو محمود عند أصحابنا، ولا عندهم. فقلت: بأي شيء كان يتهم؟ فقال: بداء سوء، وليس هو في الحديث بشيء [تاريخ بغداد ج8 ، ص275]-وسنده صحیح۔ یہ ھے جرح مفسر۔ وأخبرنا عبيد الله بن عمر الواعظ، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا عبد الله بن محمد البغوي، قالا: حدثنا محمود بن غيلان، قال: قلت ليزيد بن هارون: ما تقول في الحسن بن زياد اللؤلؤي؟ قال: أو مسلم هو [تاريخ بغداد ، ج8، ص275]-وسندہ صحیح۔ أخبرنا أحمد بن أبي جعفر، قال: أخبرنا يوسف بن أحمد الصيدلاني، بمكة، قال: حدثنا محمد بن عمرو العقيلي، قال: حدثني إدريس بن عبد الكريم، قال: حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: كنا عند وكيع، فقيل له إن السنة مجدبة، فقال: وكيف لا تجدب وحسن اللؤلؤي قاض، وحماد بن أبي حنيفة". [تاريخ بغداد ، ج8، ص275]-وسندہ صحیح۔ ٨٢١ - الحسن بن زياد اللؤلؤي الكوفي يروي عن أبي حنيفة ضعفه أحمد وقال يحيى كذوب ليس بشيء وقال مرة كذاب خبيث وكذلك قال النسائي وقال لا يكتب حديثه وقال أبو داود كذاب غير ثقة وقال أبو حاتم الرازي ضعيف ليس بثقة ولا مامون وقال الدارقطني ضعيف متروك [الضعفاء والمتروكون لابن الجوزي : ج1، ص202] قال الجوزجاني في احوال الرجال ٩٦ - أسد بن عمرو - وأبو يوسف - ومحمد بن الحسن - واللؤلؤي قد فرغ الله منهم [احوال الرجال : ص99] قال الإمام ذھبي قلت: لم يخرجوا له في الكتب الستة لضعفه حسن زیاد اللؤلؤی کے ضعیف ھونے کی وجہ سے محدثین نے اس سے کتب ستہ میں روایت نہیں لی"۔ [العبر في خبر من غبر : ج1، ص270]- أبو على الحسن بن زياد اللؤلؤي، صاحب أبى حنيفة رحمه الله. وكان الناس تكلموا فيه وليس في الحديث بشيء [الأنساب للسمعاني ج11، ص230] وقال ابن شاهين: ١١٨- الحسن بن زياد. فقال: أو مسلم هو ... ؟ وقال ابن معين: حسن اللؤلؤي. كذاب٣. [تاريخ اسماء الضعفاء والكذابين :ج1، ص72] ٣ التاريخ لابن معين ٢/١١٤, الضعفاء للعقيلي ١/٢٧. وقال الهيثمي : رواه الطبراني في الأوسط، وفيه الحسن بن زياد اللؤلؤي، وهو متروك [مجمع الزوائد : ج2، ص262] اس قدر حوالہ جات کے بعد ، امید ھے کہ رانا صاحب اب ، امام ، یا فقیہ یا حافظ ، جیسے الفاظ پیش کرکے توثیق والی گاری کو بریک دینگے۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  2. أخبرنا القاضي أبو عبد الله الحسين بن علي بن محمد الصيمري، قال: أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ، قال: حدثنا مكرم بن أحمد، قال: حدثنا عمر بن إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا علي بن ميمون، قال: سمعت الشافعي، يقول: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره في كل يوم، يعني زائرا، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين، وجئت إلى قبره وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى.[تاريخ بغداد : ج1 ص335]-ترجمعہ : أبو عبد الله الصیمری نے کہا مجھ سے بیان کیا عمر بن إبراھیم نے، کہا مجھ سے بیان مکرم بن احمد نے، کہا مجھ سے بیان عمر بن إسحاق بن إبراھیم (مجھول) نے، کہا مجھے سے بیان کیا علی بن میمون نے ، کہا ، میں نے امام شافعی سے سنا ،انہوں نے کہا : میں ابوحنیفہ کے ساتھ برکت حاصل کرتا اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لئے آتا ۔ جب مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتا اور ان کی قبر پر جاتا اور وہاں اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا تو جلد ہی میری ضرورت پوری ہوجاتی".الجواب : یہ قصہ تین وجوہات کی بناء پر باطل ھے۔1- مکرم بن احمد اس کی سند میں مکرم بن احمد [ثقة صدوق] ھیں. لیکن اِن کے بارے امام دار القطنی کہتے ھیں۔حدثني أبو القاسم الأزهري، قال: سئل أبو الحسن علي بن عمر الدارقطني، وأنا أسمع عن جمع مكرم بن أحمد فضائل أبي حنيفة،فقال: موضوع كله كذب، وضعه أحمد بن المغلس الحماني، قرابة جبارة، وكان في الشرقية".[تاريخ بغداد ،ج5، ص338، وانظر ترجمة : أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحماني في " لسان الميزان " 1/269 ، وينظر أيضا : تعليق العلامة المعلمي على كلام الدارقطني في: " التنكيل " 1/59] مکرم بن احمد سے روایت کرنے والے2- عمر بن إسحاق بن إبراهيم، یہ راوی مجهول ھے۔3- علي ابن ميمون الرقي العطار٤٨٠٥- علي ابن ميمون الرقي العطار ثقة من العاشرة مات سنة ست وأربعين س ق[تقريب التهذيب : ص405]ان کے اور امام شافعی کے درمیان سماع پر کوئی دلیل نہیں۔ والله اعلم
  3. انا للہ وانا الیہ راجعون !!! یہ ’’امام‘‘ توثیق کا صیغہ کب سے ہوگیا۔ اگر لفظ’’امام‘‘ توثیق کا صیغہ ہے تو پھر مقلد رانا صاحب کو طوالت کی ضرورت ہی نہ تھی ، ان کے لئے توبس اتنا ہی کافی تھا کہ میری ہی کسی تحریر سے ایسےتمام جملے نقل کردیتے جس میں ، میں نے ابوحنیفہ یا حسن بن زیاد کے نام ساتھ ’’امام‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہو ، اور کہتے کہ جب آپ انہیں ’’امام‘‘ مان رہی ہیں تو ان کے ثقہ ہونے کا انکار کیا معنی رکھتاہے؟ قارئین انصاف کریں لفظ ’’امام‘‘ سے توثیق ثابت کرنا ، اس سے بھی فضول بات کوئی ہوسکتی ہے؟؟؟؟؟ ’’تذكرة الحفاظ‘‘ میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی شرط نہیں اپنائی ہے کہ اس میں وہ صرف ثقہ لوگوں کا ہی تذکرہ کریں گے بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں ثقہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کو شہرت حاصل رہی ہے خواہ وہ ضعیف یا متروک حتی کہ کذاب ہی کیوں نہ ہوں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں: ١:أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي: امام ذہبی نے اپنی اسی کتاب ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي کا تذکرہ کیا ہے جو کہ کذاب ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسی کتاب میں اس کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کذاب بھی کہا ہے ، لکھتے ہیں: المصعبي الحافظ الأوحد أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي الفقيه إلا أنه كذاب[تذكرة الحفاظ: 3/ 18]۔ آگے اسی کتاب میں اسی کذاب کو وضاع حدیث بتلاتے ہوئے دیگر ناقدین کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قال الدارقطني: كان حافظًا عذب اللسان مجردًا في السنة والرد على المبتدعة لكنه يضع الحديث . وقال ابن حبان: وكان ممن يضع المتون ويقلب الأسانيد [تذكرة الحفاظ:/ 18]۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں: أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب يكنى أبا بشر و كان من الحفاظ لكنه متهم بوضع الحديث [نتائج الافکار:1 / 264]۔ فائدہ: امام دارقطنی ،حافظ ذہبی اورحافظ ابن حجررحمہااللہ کے کلام سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کوئی راوی ’’حافظ ‘‘ہونے کے باوجود ’’کذاب ومجروح‘‘ ہوسکتاہے ، کیونکہ تینوں اماموں نے مذکورۃ الصد راوی کو ’’کذاب‘‘ کہنے کے ساتھ ساتھ ’’حافظ‘‘ بھی کہاہے۔ واضح رہے کہ امام ذہبی نے بہت سے کذاب اورمجروحین کو ان کے کذب اور ضعف کے باوجود بھی اس قابل سمجھا کہ انہیں ’’حافظ‘‘ سے متصف کیا لیکن امام صاحب کو کہیں ’’حافظ‘‘ کہا ہو یہ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود بھی نہیں ملا۔ تاہم کہیں مل بھی جائے تو اس محض ’’حافظ‘‘ کی حقیقت واضح کی جاچکی ہے۔ ٢: إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الفقيه المحدث أبو إسحاق الأسلمي المدني۔ امام ذہبی اپنی اسی کتاب میں اس راوی کا تذکرہ کرتے ہوئے اہل فن سے ناقل ہیں: وقال يحيى القطان: سألت مالكا عنه أكان ثقة في الحديث قال: لا، ولا في دينه. وقال أحمد بن حنبل: قدري جهمي كلا بلاء فيه ترك الناس حديثه. وقال ابن معين وأبو داود: رافضي كذاب. وقال البخاري: قدري جهمي تركه ابن المبارك والناس.[تذكرة الحفاظ: 1/ 181]۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي أبو إسحاق المدني متروك [تقريب التهذيب:رقم 1/ 17]۔ ٣:محمد بن عمر بن واقد الأسلمي۔ امام ذہبی اپنی اسی کتاب میں اس کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الواقدي هو محمد بن عمر بن واقد الأسلمي مولاهم أبو عبد الله المدني الحافظ البحر [تذكرة الحفاظ:1/ 254]۔ یہ اس قدر ضعیف راوی ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کا مکمل ترجمہ بھی نقل نہیں کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: محمد بن عمر بن واقد الأسلمي الواقدي المدني القاضي نزيل بغداد متروك مع سعة علمه [تقريب التهذيب:رقم 1/ 412]۔ ٤: أبو العباس محمد بن يونس بن موسى القرشي السامي البصري۔ امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی اس کتاب میں اس کا بھی تذکرہ کیا ہے اورساتھ ہی میں اس پرشدید جرح بھی کی ہے ، لکھتے ہیں: الكديمي الحافظ المكثر المعمر أبو العباس محمد بن يونس بن موسى القرشي السامي البصري محدث البصرة وهو واه [تذكرة الحفاظ:2/ 144]۔ امام ذہبی آگے چل کراس کے بارے میں اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قال ابن عدي: اتهم الكديمي بوضع الحديث وقال ابن حبان: لعله قد وضع أكثر من ألف حديث, وقال ابن عدي: ترك عامة مشايخنا الرواية عنه ورماه أبو داود بالكذب, وقال موسى بن هارون وهو متعلق بأستار الكعبة: اللهم إني أشهدك أن الكديمي كذاب يضع الحديث. وقال قاسم المطرز: أنا أجافي الكديمي كذاب يضع الحديث. وقال قاسم المطرز: أنا أجافي الكديمي بين يدي الله وأقول يكذب على نبيك وقال الدارقطني: يتهم بالوضع [تذكرة الحفاظ: 2/ 145]۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: محمد بن يونس بن موسى بن سليمان الكديمي بالتصغير أبو العباس السامي بالمهملة البصري ضعيف ولم يثبت أن أبا داود روى عنه[تقريب التهذيب: رقم 1/ 429]۔ ٥: أبو معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي۔ امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی اسی کتاب میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: أبو معشر السندي المدني الفقيه صاحب المغازي، هو نجيح بن عبد الرحمن[تذكرة الحفاظ:1/ 172]۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نجيح بن عبد الرحمن السندي بكسر المهملة وسكون النون المدني أبو معشر مولى بني هاشم مشهور بكنيته ضعيف[تقريب التهذيب موافق: 1/ 473]۔ واضح رہے کہ ابومعشر کا تذکرہ امام ذہبی نے اسی طبقہ میں کیا ہے جس میں ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اسی ابوحنیفہ رحمہ اللہ والے طبقہ میں ابن لھیعہ رحمہ اللہ کا بھی تذکرہ ہے جن کے ضعیف ہونے کے بارے میں حدیث کے معمولی طالب علم بھی جانتے ہیں۔ یہ صرف پانچ نام ہیں جو بطور مثال نقل کئے گئے ہیں ، ان کے علاوہ اسی کتاب میں کذابین وضاعین اور متروکین کی اچھی خاصی تعدا د موجود ہے ،ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہم یہ جذباتی سوال کرسکتے ہیں کہ ان کذابین یا ضعفاء کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے تذکرۃ الحفاظ میں کیوں ذکر کیا ؟؟؟ میرے خیال سے اتنی وضاحت اہل نظر کے لئے کافی ہے۔ لیکن کوفی ھاضمہ ہمیشہ سے خراب رہا ہے۔ جاری ہے۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  4. آلِ بریلویہ کو ڈوب کے مر جانا چاہییے۔ جس قسم کی گندی زبان یہ بریلوی استعمال کر رہا ھے۔ ھھھھھھ ویسے اس کی حالت جو میں نے ایسی کردی ھے ۔ تو ایسی گندی زبان تو اب نکلے گی ہی۔ بحرحال۔ مقلد اسد فرحان۔ حافظ ذھبی کا منھج تم جانتے بھی ھو؟ یا عسقلانی کی کاپی پیسٹ سے کام چلا لوگے؟؟؟؟؟؟ المغنی میں حافظ نے اپنا منھج کیا بتایا ھے اسد مقلد؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ . ھھھھھھ بولتا ھے جرح سند کے ساتھ دکھاؤ۔ مقلد جی، سندوں کی بھرمار کر رکھی ھے۔ کوفی چشمہ اتارو تو سہی ایکبار۔ کوفی چشمے کے ساتھ جرحیں ہی کیا۔ حق بھی نہیں دکھتا۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  5. السلام علیکم۔ وہ کہتے ہیں نہ حکمت چین وحجت بنگال۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسد کے ساتھ بھی ھے۔ ایک خبیث کذاب ، قوم لوط والے عمل کے دلدادہ راوی کو، فقط للفظ "امام" سے ثقة ثابت کر رہا ھے۔ جبکہ لفظ امام امام سے توثیق والا کھیل کھیلوگے تو حنفیت کیا پورا اسلام ہی اجڑ جائے گا۔ اور حنفی تو چاہتے ہی یہی ھیں کہ اسلام اجڑ جائے۔ ۔ بحرحال جرح مفسر وہ بھی شدید ترین، پیش کی جاری ھیں۔۔ عقل کا ڈھکنا اور کوفی چشمہ اتار کے پڑھیں۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk حسن بن زیاد پر امام ذھبی کی تحقیق؟؟؟؟ تم ذھبی کی کون سی تحقیق مانتے ھو؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ذھبی نے تو حسن بن زیاد پر کذاب کی جرحیں نقل کی ھیں۔ اور دیوان الضعفاء میں بھی درج کیا اس حسن بن زیاد کو۔ اور وہاں بھی کذاب کی جرح نقل کی۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  6. ٤٣٣- ١٥/ ٨- محمد بن أبي يعقوب إسحاق بن حرب الحافظ الإمام أبو عبد الله البلخي اللؤلؤي [تذکرة الحفاظ للذهبي : ج2، ص212] ٧١٩٩ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي. عن مالك، وخارجة ابن مصعب. وعنه ابن أبي الدنيا، والحسين بن أبي الاحوص، وجماعة. وكان أحد الحفاظ إلا أن صالح بن محمد جزرة قال: كذاب. [ميزان الاعتدال للذهبي ، ج3، ص375] تمھارے اصول سے علامہ ذھبی نے محمد بن اسحاق بن حرب پر کذاب کی جرح نقل کی۔ لیکن لفظ امام سے توثیق بھی ہوئی؟ یعنی علامہ ذھبی کا دماغ تمھارے حساب سٹیا گیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پھر اسی راوی کو ذھبی نے اپنی ضعفاء میں درج کرکے کذاب کی جرح نقل کی۔ ٥٢٧٤ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي عن مالك قال صالح جزرة كذاب [المغني في الضعفاء للذهبي ، ج2 ص552] اسی راوی کو علامہ ذھبی نے اپنی "دیوان الضعفاء میں بھی درج کرکے کذاب کی جرح کی، ٣٥٩٠ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي:عن مالك، قال صالح جزرة: كذاب. [دیوان الضعفاء ، ج1 ص341] Sent from my XT1609 using Tapatalk ٤٣٣- ١٥/ ٨- محمد بن أبي يعقوب إسحاق بن حرب الحافظ الإمام أبو عبد الله البلخي اللؤلؤي [تذکرة الحفاظ للذهبي : ج2، ص212] ٧١٩٩ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي. عن مالك، وخارجة ابن مصعب. وعنه ابن أبي الدنيا، والحسين بن أبي الاحوص، وجماعة. وكان أحد الحفاظ إلا أن صالح بن محمد جزرة قال: كذاب. [ميزان الاعتدال للذهبي ، ج3، ص375] تمھارے اصول سے علامہ ذھبی نے محمد بن اسحاق بن حرب پر کذاب کی جرح نقل کی۔ لیکن لفظ امام سے توثیق بھی ہوئی؟ یعنی علامہ ذھبی کا دماغ تمھارے حساب سٹیا گیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پھر اسی راوی کو ذھبی نے اپنی ضعفاء میں درج کرکے کذاب کی جرح نقل کی۔ ٥٢٧٤ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي عن مالك قال صالح جزرة كذاب [المغني في الضعفاء للذهبي ، ج2 ص552] اسی راوی کو علامہ ذھبی نے اپنی "دیوان الضعفاء میں بھی درج کرکے کذاب کی جرح کی، ٣٥٩٠ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي:عن مالك، قال صالح جزرة: كذاب. [دیوان الضعفاء ، ج1 ص341] Sent from my XT1609 using Tapatalk
  7. ٤٣٣- ١٥/ ٨- محمد بن أبي يعقوب إسحاق بن حرب الحافظ الإمام أبو عبد الله البلخي اللؤلؤي [تذکرة الحفاظ للذهبي : ج2، ص212] ٧١٩٩ - محمد بن إسحاق بن حرب اللؤلؤي البلخي. عن مالك، وخارجة ابن مصعب. وعنه ابن أبي الدنيا، والحسين بن أبي الاحوص، وجماعة. وكان أحد الحفاظ إلا أن صالح بن محمد جزرة قال: كذاب. [ميزان الاعتدال للذهبي ، ج3، ص375] تمھارے اصول سے علامہ ذھبی نے محمد بن اسحاق بن حرب پر کذاب کی جرح نقل کی۔ لیکن لفظ امام سے توثیق بھی ہوئی؟ یعنی علامہ ذھبی کا دماغ تمھارے حساب سٹیا گیا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ Sent from my XT1609 using Tapatalk
  8. الكتب : السنة لعبدالله بن احمد بن حنبل إسناد الكتاب: روي هذا الكتاب عن مؤلفه بعدة طرق، وهي على النَّحو الآتي: الإسناد الأول: الذي طبع عليه الكتاب، وهو في نسخة واحدة (الظاهرية فقط)، ينتهي إلى: أبي الوقت عبدالأول بن عيسى بن شعيب الهروي، عن شيخ الإسلام أبي إسماعيل عبدالله بن محمد الهروي، قال: أنبأنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن محمد القراب، أنبأنا أبو النضر محمد بن الحسن بن سليمان السمسار، حدثنا أبو عبدالله محمد بن إبراهيم بن خالد الهروي، حدثنا أبو عبدالرحمن عبدالله بن أحمد بن محمد بن حنبل[19]. تراجم الإسناد: - أبو عبدالله محمد بن إبراهيم بن خالد الهروي: شيخ لابن حبان في "الثقات" (7/33). - أبو النضر محمد بن الحسن بن سليمان السمسار: أحد شيوخ أبي يعقوب القراب في كتابه "فضائل الرمي في سبيل الله"، ومكثرٌ عنه في الرواية. - أبو يعقوب إسحاق بن أبي إسحاق الهروي القراب: محدث هراة، قال عبدالغافر: الحافظ، العدل، من الحفاظ بهراة، كتب الكثير، وجمع وسافر، وصنف الأبواب والتواريخ، وقال الذهبي: الشيخ الإمام، الحافظ الكبير، مات سنة 429هـ[20]. - أبو إسماعيل عبدالله بن محمد بن الهروي: قال إسماعيل الحافظ: إمام حافظ، وقال الذهبي: وقد كان هذا سيفًا مسْلولاً على المتكلِّمين، وسيفًا مسلولاً على المخالفِين، مات سنة 481هـ[21]. - عبدالأول بن عيسى السجزي، الهروي: قال السمعاني: شيخ صالح، حسن السمت والأخلاق، وقال ابن الجوزي: كان صبورًا على القراءة، وكان صالحًا، وقال ابن النجار: وكان شيخًا صدوقًا أمينًا، مات سنة 553هـ[22]. ومن هذا الطريق روى أبو إسماعيل الهروي في كتابه "ذم الكلام وأهله" عن شيخه أبي يعقوب القراب[23]. الإسناد الثاني: من طريق أحمد بن محمد بن عمر بن أبان اللُّنباني العبدي. أ- روى من طريقه الحافظ ابن منده في "الرد على الجهمية"[24]، و"الإيمان"[25]، و"التوحيد"[26]، قال: أخبرنا أحمد بن محمد بن عمر بن أبان، عن عبدالله، فذكره، ومن طريق ابنه عبدالوهاب يروي الحافظ قوام السنة في "الحجة"[27]. ب- والحافظ أبو الشيخ الأصبهاني، كما نقله قوام السنة عن أبي الشيخ عنه[28]. ج- ومن الطريق نفسه يروي الحافظ الدشتي في كتابه "إثبات الحد" بإسناده إلى أحمد بن محمد بن عمر[29]. الإسناد الثالث: طريق أبي بكر أحمد بن محمد بن هارون الخلال، فقد روى عن كتاب عبدالله كتابه "السنة"، ونقل منه نصوصًا كثيرة جدًّا في مسائل متنوعة، وأكثر جدًّا في كتاب "السنة"[30]. الإسناد الرابع: طريق أحمد بن سلمان النجاد، فقد روى في كتابه: "الرد على من يقول: القرآن مخلوق" ما يزيد على نصف الكتاب عن شيخه الإمام عبدالله بن أحمد، وعنه: الدارقطني في كتاب الرؤية[31]، وابن بطة في "الإبانة"[32]، وابن شاهين في "الكتاب اللطيف"[33]. وبواسطة أحمد بن سلمان يرويه الخطيب في "التاريخ"[34]، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" وأكثر عنه[35]، والبيهقي في "الأسماء"[36]، وأبو يعلى في "إبطال التأويلات"[37]، وابن البنا في "المختار في أصول السنة"[38]. الإسناد الخامس: طريق موسى بن عبيدالله بن يحيى الخاقاني، روى هذا الطريق أبو يعلى في "إبطال التأويلات"[39]. الإسناد السادس: طريق إسماعيل بن علي بن إسماعيل الخطبي البغدادي، روى هذا الطريق أبو علي بن البنا في كتابه "المختار في أصول السنة"[40]. تراجم الرواة عن عبدالله: 1- أحمد بن محمد بن عمر الأصبهاني اللُّنباني، قال السمعاني: ثقة معروف مكثر، وقال أبو الشيخ: عنده كتب ابن أبي الدنيا، ومسند أحمد بن حنبل، وقال الذهبي: سمعه من ابن الإمام أحمد، مات سنة 332هـ[41]. 2- أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون الخلال: شيخ الحنابلة وعالمهم، قال الخطيب: وكان ممن صرف عنايته إلى جَمْع علوم أحمد بن حنبل وطلبها وسافَرَ لأجْلِها، وقال ابن أبي يعلى: له التصانيف الدائرة، والكُتُب السائرة، مات سنة 311هـ[42]. 3- أحمد بن سلمان بن الحسن النجاد: قال ابن أبي يعلى: العالم الناسك الورع، وقال الخطيب: وهو ممن اتسعتْ رواياته، وانتشرت أحاديثه، وكان صدوقًا عارفًا، مات سنة 348هـ[43]. 4- موسى بن عبيدالله بن يحيى الخاقاني: قال الخطيب: وكان ثقةً ديِّنًا من أهل السنة، وقال الذهبي: وجمع وصنف، مات سنة 325هـ[44]. 5- إسماعيل بن علي بن إسماعيل الخُطَبي: قال الخطيب: وكان فاضِلاً فهمًا، عارفًا بأيام الناس وأخبار الخلفاء، وقال الذهبي: الإمام العلامة الخطيب الأديب، مات سنة 350هـ[45]. توثيق نسبة الكتاب: رواية أسانيد الكتاب كما تقدَّم، وبعضها متقدم جدًّا؛ مثل: الخلال، والنجاد، والمحدث اللُّنباني، وغيرهم ممن تقدَّم من المصنفين. ذكر العلماء المترجمين له: النقول الصريحة: النقول الصريحة منه من علماء المسلمين، مثل: نقل قوام السنة في "الحجة" فصولاً منه (2/494)، وانظر (1/242). ومن ذلك إشارة أهل العلم للكتاب؛ مثل ما ذكر أبو نصر السجزي (مات سنة 444هـ) في كتابه: "الرد على من أنكر الحرف والصوت"[46]. وابن قدامة في "الصراط المستقيم"[47]، "والمناظرة"[48]، و"البرهان"[49]، والخطيب في "التاريخ"[50]، وابن الجوزي في "العلل المتناهية"[51]، وشيخ الإسلام في كتبه[52]، وابن القيم[53]، والذهبي[54]، وابن كثير[55]، وابن حجر[56]، وغيرهم. ومن شكَّك في نسْبته، أو بدَّل اسمه إلى "الزيغ"، فلم يأتِ بحُجة علمية ليرد عليه. ........................ ہاں جب حنفیت لڑھک رہی ہو۔ تو کتابوں کا ہی انکار کردو۔ ویسے اگر اس کتاب کا حنفی اقرار کرلیں۔ تو حنفیت کی تو موت واقع ھوجائے۔ بحرحال ابن مبارک 118ھ کو پیدا ھوئے۔ اور حنفی قانون ساز کمیٹی 120ھ کو وجود میں آئی۔ (بقول مولانا شبلی نعمانی) رانا اسد فیس بُک سے ان بلاک کرکے ، مجھے بتاؤ زرا ، کہ 2 سال کا بچہ کسی بھی کمیٹی کا رکن کیسے بن گیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور آئیں زرا آپ کو ہم ابن مبارک ہی سے ابوحنیفہ کی مزید تعریفات دکھاتے ہیں۔ (اس کتاب کے علاوہ کسی اور کتاب سے، تاکہ مزید رونے کا موقع نہ ملے آپکو) أخبرنا محمد بن عبدالله الحنائی اخبرنا محمد بن عبدالله الشافعي حدثنا محمد بن اسماعیل السلمي حدثنا ابو توبة الربیع بن نافع حدثنا عبدالله بن مبارك قال من نطر فی کتاب الحیل لابي حنیفة احل ماحرم الله وحرم ما احل الله (اسنادہ صحیح) [الخطیب فی تاریخ بغدادی جلد 13 ص 426] ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا ابو حنیفہ کی کتاب الحیل کو جو بھی دیکھےگا۔ (وہ پائےگا) کے حلال قرار دیا ہے (ابو حنیفہ نے) اس چیز کو جس کو اللہ نے حرام کہا ہے اور حرام قرار دیا ہے (ابو حنیفہ نے ) اس چیز کو جس کو اللہ نے حلال کہا ہے۔ سند کی تحقیق: 1۔ محمد بن عبدالله الحنائی: ثقۃ مامون زاھد (تاریخ بغداد جلد 2 ص 336) 2۔ محمد بن عبداللہ الشافعی: امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن عبداللہ بغداد کے رہنے والے حجت،حافظ حدیث اور محدث عراق تھے۔ امام خطیب نے کہا آپ قابل اعتماد اور پختہ کار تھے۔ امام دارقطنی نے ان کے متعلق پوچھا گیا تو کہا ثقہ اور مامون تھے اپنے زمانہ میں ان سے زیادہ قابل اعتماد کوئی نہیں تھا (تذکرۃ الحفاظ جلد 2 ص 606) 3۔ ابوتوبۃ : ھو ربیع بن نافع ابو توبۃ الحلبی نزیل طرسوس ثقۃ حجۃ عابد (تقريب التهذيب ص 101) ****** أخبرنا العتيقي، قال: أخبرنا يوسف بن أحمد الصيدلاني، قال: حدثنا محمد بن عمرو العقيلي، قال: حدثنا محمد بن إبراهيم بن جناد، قال: حدثنا أبو بكر الأعين، قال: حدثنا إبراهيم بن شماس، قال: سعت ابن المبارك، يقول: اضربوا على حديث أبي حنيفة". ابراھیم بن شماس کہتے ہیں : میں امام ابن المبارک سے سنا۔ انہوں نے کہا، ابوحنیفہ کی حدیث پھینک (چھوڑ) دو". [تاریخ بغداد ، ج15، ص573 وسندہ صحیح] اور کتاب السنة میں اتنا مزید ھے۔ کہ ابراھیم بن شماس نے کہا : قال قبل أن يموت ابن المبارك ببضعة عشر يوما امام ابراھیم بن شماسؒ نے کہا یہ بات امام عبداللہ بن مبارکؒ نے اپنی وفات سے چند دن پہلے کی۔ [کتاب السنة جلد اول ص 214] یہی بات امام ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں بسند متصل بیان کی۔ ١٢٢٨٨ - إبراهيم بن شماس السمرقندي أبو إسحاق يروى عن بن المبارك روى عنه محمدبن علي بن الحسن بن شقيق وأهل بلده وكان متقنا قتل يوم الإثنين ودفن يوم الأربعاء سنة إحدى وعشرين ومائتين قتله الترك سمعت عمرو بن محمد البجيري يقول سمعت محمد بن سهل بن عسكر يقول سمعت إبراهيم بن شماس يقول رأيت بن المبارك يقرأ كتابا على الناس في الثغر وكلما مر على ذكر أبي حنيفة قال اضربوا عليه وهو آخر كتب قرأ على الناس ثم مات۔ ابراہیم بن شماس فرماتے ہیں میں نے امام ابن مبارک کو ثغر کے مقام میں دیکھا کہ وہ کتاب لوگوں پر پڑھ رہے تھے جب امام ابوحنیفہ کا ذکر آتا تو فرماتے اضربو ا علیہ ۔اس پر نشان لگا لو ۔اور یہ آخری کتاب تھی جوانھوں نے لوگوں کو سنائی تھی [الثقات لابن حبان :ج8، ص70] اور یہ قول ابراھیم بن شماس سے مختلف اسانید کے ساتھ تاریخ بغداد ص٤١٤ج١٣ اور المجروحین لابن حبان ص٧١ج٣ ، العلل و معرفة الرجال ج٢ص٢٤٢ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے امام ابن عبدالبر بسند متصل معلی بن اسد سے نقل کرتے ہیں قلت لابن المبارک کان الناس یقولون انک تذہبن الی قول ابی حنیفٰۃ قال لیس کل ما یقول الناس یصیبونم فیہ قد کنا ناتیہ زمانا و نحن لا نعرفہ فلما عرفناہ ترکناہ . یعنی میں نے ابن مبارک سے کہا لوگ کہتے ہیں کہ تم ابو حنیفہ کے قول کی اقتدا کرتے ہو تو انھوں نے جواب دیا لوگوں کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی ۔ہم ایک زمانہ تک ان کے پاس جاتے تھے مگر انھین پہچانتے نہ تھے لیکن جب ہمیں معلوم ہو گیا تو انھیں چھوڑ دیا ۔ [الانتقاء لابن عبد البر ص١٥١] أخبرني الحسن بن أبي طالب، قال: أخبرنا أحمد بن محمد بن يوسف، قال: حدثنا محمد بن جعفر المطيري، قال: حدثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي، قال: حدثنا الحميدي، قال: سمعت ابن المبارك، يقول: صليت خلف أبي حنيفة صلاة، وفي نفسي منها شيء قال: وسمعت ابن المبارك، يقول: كتبت عن أبي حنيفة أربع مائة حديث، إذا رجعت إلى العراق إن شاء الله محوتها. خلاصہ : امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے چار سو حدیثیں نقل کی ہیں ۔جب میں واپس عرق جاوں گا توانھیں مسخ کر دوں گا۔[تاريخ بغداد : ج13، ص414] مسئلہ رفع الیدین پر امام عبداللہ بن المبارک کی امام ابوحنیفہ سے گفتگو ! ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا : ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر ” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “ امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا : ان کنت انت تطیر فی الاولیٰ فانی اطیر فیما سواھا اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔ امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔ ( کتاب السنۃ لعبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص : 59 ، تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبی ، ص : 66 ، سنن بیہقی ، ج : 2 ، ص :82 ، ثقات ابن حبان ، ج : 4 ، ص : 17، تاریخ خطیب ، ج : 13 ، ص :406 ، تمھید لابن عبدالبرج :5 ، ص :66 ، جزءرفع الیدین للبخاری مع جلاءص : 125,123 اس واقعے سے امام ابو حنیفہ کا مقام ابن مبارک کے نزدیک کیا ہے باکل واضح ہو جاتا ہے۔ أخبرنا ابن دوما، قال: أخبرنا ابن سلم، قال: حدثنا الأبار، قال: حدثنا علي بن خشرم، عن علي بن إسحاق الترمذي، قال: قال ابن المبارك: كان أبو حنيفة يتيما في الحديث. خلاصہ : امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کان ابو احنیفة یتیما فی الحدیث کہ امام ابو حنیفہ حدیث میں یتیم ہیں. [قیام اللیل ص١٢٣ ،بغدادی ص٤١٥ج١٣،الضعفائ لابن حبان ص٧١ج٣] بعض حضرات نے تفنن طبع کا ثبوت دیتے ہوئے ’’یتیماً کے معنی یکتا زمانہ ‘‘کے کئے ہیں مگر کیا کیا جائے جب کہ اب کے یہ الفاظ بھی ہیں کان ابوحنیفٰة مسکینا فی الحدیث [الجرح والتعدیال ص٤٥٠ج٤،ق١] کہ وہ حدیث میں مسکین تھے ۔ ٢٠٦٢ - النعمان بن ثابت أبو حنيفة مولى بني تيم الله [بن ثعلبة - ٤] روى عن عطاء ونافع وأبي جعفر محمد بن علي وقتادة وسماك بن حرب وحماد بن أبي سليمان روى عنه هشيم وعباد بن العوام وابن المبارك ووكيع وعبد الرزاق وابو نعيم، ثم تركه ابن المبارك بأخرة سمعت أبي يقول ذلك. امام ابن ابی حاتم ابوحنیفہ کے ترجمعے میں لکھتے ہیں : ترکة ابن امبارک بآخرہ ۔کہ ابن مبارک نے بالآخر ابوحنیفہ کو چھوڑ دیا تھا۔ [الجرح وتعدیل لابن أبي حاتم : ج8 ص889] Sent from my XT1609 using Tapatalk
  9. پھر بھی اگر تم اھل الاھواء ھونے کا ثبوت دیتے ھوئے۔ ابومطیع کو ضعیف تسلیم نہ کرو۔ تو بھی تم غلاظت کے ڈھیر میں ہی پڑے رھوگے۔ کیونکہ ابومطیع تمھیں بھی ٹیکہ لگاتے ھوئے معتزلی بنا گیا ھے۔ “الفقہ الاکبر” جو ابو مطیع کی سند سے امام ابوحنیفہ سے منسوب ھے۔ میں لکھا ہوا ہے کہ : “فما ذکر اللہ تعالیٰ فی القرآن من ذکر الوجہ والید والنفس فھو صفات بلا کیف ولا بقال: أن یدہ قدرتہ و نعمتہ لأفیہ ابطال الصفۃ وھو قول اھل القدر والإعتزال ولکن یدہ صفتہ بلا کیف” پس اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وجہ (چہرہ) ید (ہاتھ) اور نفس (جان) کا جو ذکر کیا ہے وہ اس کی بلا کیف صفتیں ہیں اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اس کا ہاتھ اس کی قدرت اور نعمت ہے کیونکہ اس (کہنے) میں صفت کا ابطال ہے اور یہ قول قدریوں اور معتزلہ کا ہے، لیکن (کہنا یہ چاہئے کہ ) اس (اللہ) کا ہاتھ اس کی صفت ہے بلاکیف۔ [ص۱۹ ومع شرح القاری ص ۳۷،۳۶] پھر اسی ابو مطیع البلخی نے کہا : ابو مطیع نے اِمام أبو حنیفہ رحمہُ اللہ سے پوچھا : جو یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرا رب زمین پر ہے یا آسمان پر تو ایسا کہنے والا کے بارے میں کیا حُکم ہے ؟؟؟؟؟ أبو حنیفہ نے فرمایا: تو اُس نے کفر کیا کیونکہ اللہ کہتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى الرحمٰن عرش پر قائم ہوا۔ اور اُسکا عرش ساتوں آسمانوں کے اُوپر ہے ابو مطیع کہتا ھے : میں نے پھر پوچھا : اگر وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ کا عرش آسمان پر یا زمین پر ہے (تو پھر اُسکا کیا حُکم ہے )؟ تو ابوحنیفہ نے فرمایا: ایسا کہنے والا کافر ہے کیونکہ اُس نے اِس بات سے اِنکار کیا کہ اللہ کا عرش آسمانوں کے اُوپر ہے اور جو اِس بات سے اِنکار کرے وہ کافر ہے". [الفقه الأكبر : ج1 ص135] اس کے جواب میں ، ملا علی قاری حنفی نے، ابومطیع کو ہی کذاب قرار دے دیا۔ ھھھھھھھھھھھھھھھ یہ کیا چکر ھے، جب ابومطیع تمہیں دال پانی فراھم کرے تو تب امام حافظ جیسے الفاظ سے بھی توثیق نکال کر لے آتے ھو۔ اور ابومطیع کو انبیاء کے قائم مقام بنا دیتے ھو۔ اور جب یہی ابو مطیع تمہیں عقیدے کی تعلیم دیتا ھے۔ تو عقیدے میں تم ابومطیع پر لعنت بھیج دیتے ھو۔ ارے کوئی دین ایمان بھی ھے تم لوگوں کا یا کہ نہیں؟ ملا علی القاریؒ لکھتے ہیں ولا شک ان ابن عبدالسلام من اجل العلماء واو ثقھم ، فیجب الاعتماد علی نقلہ لا علی ما نقلہ الشارح ، مع ان ابا مطیع رجل وضاع عند اھل الحدیث کما صرح بہ غیر واحد اس میں کوئی شک نہیں کہ امام ابن عبدالسلام ایک جلیل القدر اور ثقہ عالم ہیں ان کی نقل پر اعتماد لازم ہے اور جو بات شارح نے نقل کی ہے وہ قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ابو مطیع بلخی سے بات نقل کی ہے اور ابو مطیع بلخی کے بارے میں علماء محدثین نے صراحت کی ہے کہ وہ بہت بڑا جھوٹا انسان ھے". Sent from my XT1609 using Tapatalk
  10. أخبرني محمد بن عبد الملك، قال: أخبرنا أحمد بن محمد بن الحسين الرازي، قال: حدثنا علي بن أحمد الفارسي، قال: حدثنا محمد بن فضيل، قال: سمعت حاتما السقطي، قال: سمعت ابن المبارك، يقول: أبو مطيع له المنة على جميع أهل الدنيا. [تاریخ بغداد] امام ابن مبارک کا یہ قول جو ابو مطیع بلخی پر فٹ کیا ھے تم نے، اسے ثابت کون کرے گا؟؟؟؟؟؟ پیش کرو ان تمام رواہ کے تراجم مع تعدیل۔ میں کہتی ہوں۔ قیامت آسکتی ھے لیکن ابن مبارک سے ابومطیع کی تعریف تم نہیں دکھا سکتے۔ دوسری بات : ابن مبارک کے اسی غیر ثابت قول کے نیچے لکھا ھے۔ قال محمد بن فضيل وقال حاتم قال مالك بن أنس لرجل: من أين أنت؟ قال من بلخ، قال: قاضيكم أبو مطيع قام مقام الأنبياء امام مالک بن انس نے کہا : بلخ کا قاضی انبیاء کے قائم مقام ھے". یہ قول بھی امام مالک پر نرا جھوٹ ھے۔۔ کوئی حنفی کوشش کرے قیامت کی صبح تک اور قول کو امام مالک سے ثابت کرے!! تیسری بات۔ تم مفسر جروحات کو چھوڑ کر، لفظ امام، اور لفظ فقیہ سے توثیق ثابت کر رھے ھو؟ تم بچے ھو یا یہ حنفیوں کا پرانا دجل ھے؟ محدثین نے واشگاف الفاظ میں بیان کردیا ہے کہ امام، حافظ وغیرہ کے الفاظ کسی ضعیف راوی کے لئے توثیق نہیں ہوتے! ملاحظہ فرمائیں؛ (الْأُولَى): قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: " إِذَا قِيلَ لِلْوَاحِدِ إِنَّهُ " ثِقَةٌ أَوْ مُتْقِنٌ " فَهُوَ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ". قُلْتُ: وَكَذَا إِذَا قِيلَ " ثَبْتٌ أَوْ حُجَّةٌ "، وَكَذَا إِذَا قِيلَ فِي الْعَدْلِ إِنَّهُ " حَافِظٌ أَوْ ضَابِطٌ "، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. ملاحظہ فرمائیں:صفحه 122 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار الفكر، دمشق ملاحظہ فرمائیں:صفحه 242 - 243 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار الكتب العلمية، بيروت ملاحظہ فرمائیں:صفحه 307 - 308 جلد 01 معرفة أنواع علوم الحديث، (مقدمة ابن الصلاح) - عثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح - دار المعارف، القاهرة كَأَنْ يُقَالَ فِيهِ: حَافِظٌ أَوْ ضَابِطٌ ; إِذْ مُجَرَّدُ الْوَصْفِ بِكُلٍّ مِنْهُمَا غَيْرُ كَافٍ فِي التَّوْثِيقِ، بَلْ بَيْنَ [الْعَدْلِ وَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ ; لِأَنَّهُ يُوجَدُ بِدُونِهِمَا، وَيُوجَدَانِ بِدُونِهِ، وَتُوجَدُ الثَّلَاثَةُ] . وَيَدُلُّ لِذَلِكَ أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ سَأَلَ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ رَجُلٍ، فَقَالَ: " حَافِظٌ، فَقَالَ لَهُ: أَهُوَ صَدُوقٌ؟ " وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ مِنَ الْحُفَّاظِ الْكِبَارِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُتَّهَمُ بِشُرْبِ النَّبِيذِ وَبِالْوَضْعِ، حَتَّى قَالَ الْبُخَارِيُّ: هُوَ أَضْعَفُ عِنْدِي مِنْ كُلِّ ضَعِيفٍ. ملاحظہ فرمائیں: صفحه 280 – جلد 02 فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي - شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن السخاوي - مكتبة دار المنهاج، الرياض عمر بن هارون الحافظ الإمام المكثر عالم خراسان أبو حفص الثقفي مولاهم البلخي: من أوعية العلم على ضعف فيه. ۔۔۔۔۔۔۔۔ قلت: كذبه ابن معين جاء ذلك من وجهين عنه، وقال مرة: ليس بشيء. وقال أبو داود: ليس بثقة. وقال النسائي وجماعة. متروك. قلت لا ريب في ضعفه. ملاحظہ فرمائیں:صفحه 340 - 341 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت ملاحظہ فرمائیں:صفحه 311 – 312 جلد 01 - تذكرة الحفاظ - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي -دائرة المعارف النظامية ، حيدرآباد، دكن عمر بن ہارون کا امام الذہبیؒ نے ''الحافظ'' بھی کہا ''امام'' بھی کہا '' من أوعية العلم'' بھی قرار دیا، اور ان تمام القابات کے باوجود فرمایا: قلت لا ريب في ضعفه میں کہتا ہوں اس کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں!! امام ابن حجر العسقلانی ؒنے تقريب التهذيب میں عمر بن هارون کو متروک قرار دیا، اور اس کے ساتھ یہ بتلایا کہ وہ نویں طبقہ کے حافظ ہیں۔ لہٰذا ''حافظ'' "امام" وغیرہ۔ ایسے کلمے توثیق نہیں۔ اگر یہ کلمہ توثیق ہوتا تو امام ابن حجر العسقلانی، اسی جملہ میں عمر بن هارون کو متروك قرار نہ دیتے۔ عمر ابن هارون ابن يزيد الثقفي مولاهم البلخي متروك وكان حافظا من كبار التاسعة مات سنة أربع وتسعين [ومائة] ت ق ملاحظہ فرمائیں:صفحه 417 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار الرشيد – سوريا ملاحظہ فرمائیں:صفحه 728 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - دار العاصمة ملاحظہ فرمائیں:صفحه 459 جلد 01 - تقريب التهذيب - ابن حجر العسقلاني - بيت الأفكار الدولية آیئے ہم آپ کو اس کے مزید ثبوت پیش کرتے ہیں: امام الذہبیؒ سير أعلام النبلاء میں ابن خراش کا تعارف یوں فرماتےہیں: ابن خِراش:الحَافِظُ، النَّاقِد، البَارع أَبُو مُحَمَّدٍ عبد الرَّحْمَن بن يُوْسُف بن سَعِيْدِ بن خِرَاش المَرْوَزِيّ، ثم البغدادي. ملاحظہ فرمائیں: صفحه 508 جلد 13 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - مؤسسة الرسالة – بيروت ملاحظہ فرمائیں:صفحه 2250 - سير أعلام النبلاء - شمس الدين أبو عبد الله الذهبي - بيت الافكار الدولية اسی ابن خراش کے متعلق امام الذہبیؒ ميزان الاعتدال میں موسى بن إسماعيل، أبو سلمة المنقرى التبوذكى البصري الحافظ الحجة، أحد الاعلام. کے ترجمہ میں رقم فرماتے ہیں: قلت: لم أذكر أبا سلمة للين فيه، لكن لقول ابن خراش فيه: صدوق، وتكلم الناس فيه. قلت: نعم تكلموا فيه بأنه ثقة ثبت يا رافضي. میں(الذہبی) کہتا ہوں : ابو سلمہ کو لین ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ابن خراش کا قول ہے کہ ابو سلمہ صدوق ہیں اور لوگوں نے ان پر کلام کیا ہے۔ میں (الذہبی) کہتا ہوں: جی ہاں ابو سلمہ کے بارے میں لوگوں نے یہ کلام کیا ہے کہ ابو سلمہ ثقہ ثبت ہیں، اے(ابن خراش) رافضی! ملاحظہ فرمائیں:صفحه 200 جلد 04 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت ملاحظہ فرمائیں:صفحه 536 جلد 06 - ميزان الاعتدال في نقد الرجال - امام الذهبي - دار الكتب العلمية، بيروت ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے مطالبہ کیا تھا اسکین ، تو یہ حاضر ھیں اسکین تمام۔ اب لفظ امام اور حافظ کو نکال دو۔ تو ابومطیع تو گیا بھاڑ میں۔ پھر اس پر متضاد یہ کہ۔ علامہ الذھبی نے اسی ابو مطیع البخی کو اپنی کتاب "المغنی فی الضعفاء". میں درج کر رکھا ھے". نیز اس پر جروحات کی ایک نہ ختم ھونے والی لائن ھے۔ ۔۔۔۔ پھر بھی اگر تم اھل الاھواء ھونے کا ثبوت دیتے ھوئے۔ ابومطیع کو ضعیف تسلیم نہ کرو۔ تو بھی تم غلاظت کے ڈھیر میں ہی پڑے رھوگے۔ کیونکہ ابومطیع تمھیں بھی ٹیکہ لگاتے ھوئے معتزلی بنا گیا ھے۔ “الفقہ الاکبر” جو ابو مطیع کی سند سے امام ابوحنیفہ سے منسوب ھے۔ میں لکھا ہوا ہے کہ : “فما ذکر اللہ تعالیٰ فی القرآن من ذکر الوجہ والید والنفس فھو صفات بلا کیف ولا بقال: أن یدہ قدرتہ و نعمتہ لأفیہ ابطال الصفۃ وھو قول اھل القدر والإعتزال ولکن یدہ صفتہ بلا کیف” پس اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وجہ (چہرہ) ید (ہاتھ) اور نفس (جان) کا جو ذکر کیا ہے وہ اس کی بلا کیف صفتیں ہیں اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اس کا ہاتھ اس کی قدرت اور نعمت ہے کیونکہ اس (کہنے) میں صفت کا ابطال ہے اور یہ قول قدریوں اور معتزلہ کا ہے، لیکن (کہنا یہ چاہئے کہ ) اس (اللہ) کا ہاتھ اس کی صفت ہے بلاکیف۔ [ص۱۹ ومع شرح القاری ص ۳۷،۳۶] پھر اسی ابو مطیع البلخی نے کہا : ابو مطیع نے اِمام أبو حنیفہ رحمہُ اللہ سے پوچھا : جو یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرا رب زمین پر ہے یا آسمان پر تو ایسا کہنے والا کے بارے میں کیا حُکم ہے ؟؟؟؟؟ أبو حنیفہ نے فرمایا: تو اُس نے کفر کیا کیونکہ اللہ کہتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى الرحمٰن عرش پر قائم ہوا۔ اور اُسکا عرش ساتوں آسمانوں کے اُوپر ہے ابو مطیع کہتا ھے : میں نے پھر پوچھا : اگر وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ کا عرش آسمان پر یا زمین پر ہے (تو پھر اُسکا کیا حُکم ہے )؟ تو ابوحنیفہ نے فرمایا: ایسا کہنے والا کافر ہے کیونکہ اُس نے اِس بات سے اِنکار کیا کہ اللہ کا عرش آسمانوں کے اُوپر ہے اور جو اِس بات سے اِنکار کرے وہ کافر ہے". [الفقه الأكبر : ج1 ص135] اس کے جواب میں ، ملا علی قاری حنفی نے، ابومطیع کو ہی کذاب قرار دے دیا۔ ھھھھھھھھھھھھھھھ یہ کیا چکر ھے، جب ابومطیع تمہیں دال پانی فراھم کرے تو تب امام حافظ جیسے الفاظ سے بھی توثیق نکال کر لے آتے ھو۔ اور ابومطیع کو انبیاء کے قائم مقام بنا دیتے ھو۔ اور جب یہی ابو مطیع تمہیں عقیدے کی تعلیم دیتا ھے۔ تو عقیدے میں تم ابومطیع پر لعنت بھیج دیتے ھو۔ ارے کوئی دین ایمان بھی ھے تم لوگوں کا یا کہ نہیں؟ ملا علی القاریؒ لکھتے ہیں ولا شک ان ابن عبدالسلام من اجل العلماء واو ثقھم ، فیجب الاعتماد علی نقلہ لا علی ما نقلہ الشارح ، مع ان ابا مطیع رجل وضاع عند اھل الحدیث کما صرح بہ غیر واحد اس میں کوئی شک نہیں کہ امام ابن عبدالسلام ایک جلیل القدر اور ثقہ عالم ہیں ان کی نقل پر اعتماد لازم ہے اور جو بات شارح نے نقل کی ہے وہ قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ابو مطیع بلخی سے بات نقل کی ہے اور ابو مطیع بلخی کے بارے میں علماء محدثین نے صراحت کی ہے کہ وہ بہت بڑا جھوٹا انسان ھے". Sent from my XT1609 using Tapatalk
  11. السلام علیکم۔ جی اس کا کوئی جواب ھو بھی کیسے سکتا ھے۔ یہ تو حقیقت ھے Sent from my XT1609 using Tapatalk اسی کمیٹی کے ایک ممبر عبد اللہ بن المبارک بھی ہیں۔ ۔ ٢٣٣ - حدثني أبو الفضل الخراساني، حدثني إبراهيم بن شماس السمرقندي، قال [ص: ١٨٢] قال رجل لابن المبارك ونحن عنده «إن أبا حنيفة كان مرجئا يرى السيف»، فلم ينكر عليه ذلك ابن المبارك امام ابراھیم بن شماس فرماتے ہیں۔ کہ ہم امام عبد اللہ بن مبارک کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص نے کہا۔ ابوحنیفہ مرجی تھے جو سلطان وقت کے خلاف تلوار نکالنا جائز سمجھتے تھے۔ تو امام عبد اللہ بن مبارک نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی". [کتاب السنة لعبد الله بن احمد بن حنبل : 233] Sent from my XT1609 using Tapatalk السلام علیکم اسی کمیٹی کے ایک میمبر ھیں اسد بن عمرو کوفی جن کی وفات 190ھ ھے۔ لیکن نہ تو ان کی ولادت کا کوئی پتہ چل سکا۔ اور نہ ہی ان کے وہ فقہی مسائل ملے جو اس کمیٹی میں شامل ھوکر انہوں نے بیان کیئے۔ (یعنی یہ بھی ایک جھوٹ ھے) بحرحال یہ اسد بن عمرو ھیں کون ہیں۔ آئیں ہم آپ کو بتائیں۔ اما أبو حاتم الرازي : ضعيف الحديث ۔ یہ ضعیف ھے حدیث میں۔ أبو حاتم بن حبان البستي : يسوي الحديث على مذهب الحنفية " امام ابوحنیفہ کے مذھب کے مطابق حدیثیں بنا لیا کرتا تھا". [میزان اعتدال ص206 ، لسان المیزان ص 383] أبو عبد الله الحاكم النيسابوري : ليس بالقوي عندهم۔ "یہ ہمارے نزدیک قوی نہیں". ایضاً أبو نعيم الأصبهاني : لا يكتب حديثه۔ "اس کی حدیث نہ لکھ جائیں". ایضاً أحمد بن حنبل : أصحاب أبي حنيفة ينبغي أن لا يروى عنهم شيء۔ " ابوحنیفہ کے اصحاب اس لائق نہیں کہ ان سے روایت لی جائے". [الضعفاء للعقیلی :444، الکامل :389] أحمد بن شعيب النسائي : صاحب أبي حنيفة ليس بالقوي، وقال مرة: ليس بثقة۔ "ابوحنیفہ کے اصحاب قوی نہیں، یہ ثقہ نہیں ھے". امام جوزجانی فرماتے ہیں : الله تعالی اس سے فارغ ھوشکا ھے". [احوال الرجال : 76] امام بخاری : اسد ضعیف ھے محدثین کے نزدیک کچھ بھی نہیں". [الضعفاء للبخاری : ص275] عثمان بن أبي شيبة العبسي : لما سئل عنه قال هو والريح سواء لا شيء في الحديث۔ محدثین کے نزدیک اسد اور ھوا دونوں برابر ھیں". [لسان المیزان :384] عمرو بن علي الفلاس : صاحب الرأي ضعيف الحديث۔ یہ صاحب الرائے ھے اور حدیث میں ضعیف ھے". يزيد بن هارون الأيلي : لا تحل الرواية عنه، ولا يحل الأخذ عنه". امام صاحب کے شاگرد یزید بن ھارون کہتے ھیں۔ اسد بن عمرو کوفی سے روایت لینا حلال نہیں ھے". [میزان اعتدال : 206] Sent from my XT1609 using Tapatalk اسی کمیٹی کے ایک رکن ھیں۔ الحسن بن زياد اللؤلؤي جن کے بار حافظ ذھبی المیزان میں اور ابن حجر لسان میں لکھتے ھیں: ١٨٤٩ - الحسن بن زياد اللؤلؤي الكوفي. عن ابن جريج وغيره، وتفقه على أبي حنيفة. روى أحمد بن أبي مريم، وعباس الدوري، عن يحيى بن معين: كذاب /. وقال محمد بن عبد الله بن نمير: يكذب على ابن جريج، وكذا كذبه أبو داود، فقال: كذاب غير ثقة. وقال ابن المديني: لا يكتب حديثه. وقال أبو حاتم: ليس بثقة ولا مأمون. وقال الدارقطني: ضعيف متروك. وقال محمد بن حميد الرازي: ما رأيت أسوأ صلاة منه. البويطي، سمعت الشافعي يقول: قال لي الفضل بن الربيع: أنا أشتهى مناظرتك واللؤلؤي. فقلت: ليس هناك. فقال: أنا أشتهى ذلك. قال: أنا أشتهى ذلك. قال: فأحضرنا وأتينا بطعام. فأكلنا. فقال رجل معي له: ما تقول في رجل قذف محصنة في الصلاة؟ قال: بطلت صلاته. قال (٢) : وطهارته؟ قال: بحالها. فقال له: قذف المحصنات أيسر (٣) من الضحك في الصلاة؟ قال: فأخذ اللؤلؤي نعليه وقام. فقلت للفضل: قد قلت لك: إنه ليس هناك . وقال محمد بن رافع النيسابوري: كان الحسنبن زياد يرفع رأسه قبل الامام ويسجد قبله. مات سنة أربع ومائتين [میزان اعتدال : 491 ، لسان المیزان ، ج2، ص208، الجرح وتعديل لابن أبي حاتم ، ج3 ص15] یہی حسن بن زیاد کہتا ھے۔ حدثنا ابن أبي عصمة، حدثنا أحمد بن الفرات، قال: سمعت الحسن بن زياد اللؤلؤى يقول: سمعت أبا حنيفة يقول لا بأس ان تفتح الصلاة بالفارسية. میں نے سنا ابوحنیفہ نے کہا۔ کوئی حرج نہیں اگر نماز فارسی زبان میں شروع کی جائے۔ [الکامل فی الضعفاء الرجال : ج8، ص237] Sent from my XT1609 using Tapatalk اسی کمیٹی کے ایک اور میمبر جو حنفی بنا دلیل بتاتے ھیں وہ ھیں۔ امام حفص بن غیاث۔ (المتوفیٰ 118ھ-194ھ) جب حنفیوں کی یہ کمیٹی امام ابوحنیفہ کی صدارت میں وجود میں آئی تھی۔ تب امام حفص بن غیاث کی عمر 3 سال تھی۔ جبکہ حنفیوں کا کہنا ھے کہ اس کمیٹی میں علم الحدیث کے ماہر محدثین اور فقہ کے ماہر شامل تھے۔ سوال یہ ھے کہ تین سال کا بچہ آخر کس چیز میں ماہر ھوسکتا ھے؟؟؟ البتہ ایک چیز ثابت ھے۔ اور وہ یہ کہ امام حفص بن غیاث جب بڑے ھوئے تو ان کا آنا جانا امام ابوحنیفہ کی مجلس میں ھوا کرتا تھا۔ اور پھر جب امام حفص بن غیاث کو ادراک ھوا۔ تو انہوں نے امام ابوحنیفہ کے فتوووں کو جانچا اور پرکھا۔ اور پھر اس نتیجے پر پہنچے۔ کہ امام صاحب کو خود اپنے فتووں کے صحیح ھونے کا یقین اور اُن پر اعتماد نہیں ھے۔ تو ہمیں ان سے کیا فائدہ پہنچتا ھے۔ لہذا امام حفص بن غیاث خود فرماتے ھیں کہ ٣٧٨ - حدثني هارون بن سفيان، نا طلق بن غنام، ثنا حفص بن غياث، يقول: «جلست إلى أبي حنيفة فقال في مسألة بعشرة أقاويل لا ندري بأيها نأخذ» ٣٧٦ - حدثني عبد الرحمن بن صالح، ثنا طلق بن غنام، قال: قلت لحفص بن غياث وأبطأ في قضية فقال: «إنما هو رأي ليس بكتاب ولا سنة وإنما أحزه في لحمي قد رأيت أبا حنيفة يقول في شيء عشرة أقوال ثم يرجع فما عجلتي؟» ٣١٦ - حدثني إبراهيم، سمعت عمر بن حفصبن غياث، يحدث عن أبيه، قال: «كنت أجلس إلى أبي حنيفة فأسمعه يفتي في المسألة الواحدة بخمسة أقاويل في اليوم الواحد، فلما رأيت ذلك تركته وأقبلت على الحديث» خلاصہ یہ کہ : امام حفص بن غیاث کہتے ہیں۔ میری امام ابوحنیفہ سے مجلس تھی۔ وہ ایک ایک مسئلے میں دس دس فتوے دیتے تھے۔ ہم نہیں جان سکتے تھے کہ ان میں سے کس فتوے پر عمل کریں۔ اور امام ابوحنیفہ خود بھی اُن سے رجوع کرلیتے تھے۔ (ایک مجلس میں ایسا بھی ھوا) کہ انہوں نے ایک ہی مسئلے میں پانچ فتوے دیئے۔ تو میں نے جب ان کی یہ حالت وکیفیت دیکھی، تو ان ترک کردیا۔ اور حدیث کی طرف متوجہ ھوگیا". [کتاب السنة لعبدالله بن احمد بن حنبل : ج1 ،ص205] خلاصہ : 1- امام حفص کا اس کمیٹی کا میمبر ھونا قطعاً ثابت نہیں۔ 2- جب کمیٹی وجود میں آئی تب امام حفص 3 سال کے بچے تھے۔ اور اس عمر میں کسی بھی کمیٹی کی رکنیت ناممکن اور محال ھے۔ 3- امام حفص محدثین کے مذھب کے پیروکار تھے۔ 4- امام حفص امام ابوحنیفہ کے فتوؤں پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے، اُن سے الگ راستہ اختیار کرچکے تھے". Sent from my XT1609 using Tapatalk اسی فرضی کمیٹی کے ایک رکن ھیں الحكم بن عبد الله، أبو مطيع البلخي جن کےبارے میں علامہ الذھبی میزان اعتدال میں اور ابن حجر لسان المیزان لکھتے ھیں۔ ٢١٨١ - الحكم بن عبد الله، أبو مطيع البلخي الفقيه، صاحب أبي حنيفة، عن ابن عون، وهشام بن حسان. وعنه أحمد بن منيع، وخلاد بن سالم الصفار، وجماعة. تفقه به أهل تلك الديار، وكان يصيرا بالرأى علامة كبير الشأن، ولكنه واه في ضبط الاثر. وكان ابن المبارك / يعظمه ويجله لدينه وعلمه. قال ابن معين: ليس بشئ. وقال - مرة: ضعيف. وقال البخاري: ضعيف صاحب رأى. وقال النسائي: ضعيف. وقال ابن الجوزي - في الضعفاء: الحكم بنعبد الله بن مسلمة أبو مطيع الخراساني القاضي يروي عن إبراهيم بن طهمان، وأبي حنيفة، ومالك. قال أحمد: لا ينبغي أن يروى عنه شئ. وقال أبو داود: تركوا حديثه، وكان جهميا. وقال ابن عدي: هو بين الضعف، عامة ما يرويه لا يتابع علية. وقال ابن حبان: كان من رؤساء المرجئة ممن يبغض السنن ومنتحليها. وقال العقيلي: حدثنا عبد الله بن أحمد، سألت أبي عن أبي مطيع البلخي فقال: لا ينبغي أن يروي عنه. حكوا عنه أنه يقول: الجنة والنار خلقتا فستفنيان. وهذا كلام جهم. [میزان اعتدال : ج1 ، ص574، لسان المیزان، ج2، ص334] ایک حدیث کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا : ”فھذا وضعه أبو مطیع علی حماد”. اسے ابومطیع نے حماد (بن سلمہ) پر گھڑا ہے۔ [میزان الاعتدال :۴۲/۳ ت ۵۵۲۳] یعنی ابو مطیع وضاع حدیثیں گھڑنے والا تھا. امام ذھبی اور ابن حجر رحمه الله نے ابو مطیع البلخي کی گھڑی ہوئی ایک روایت کو بطور مثال بھی زکر کرکے ثابت کیا۔ کہ یہ ایک کذاب مرجی انسان تھا۔ جو ابوحنیفہ کے مذھب کے مطابق حدیظیں گھڑتا تھا۔ عن حماد بن سلمة، عن أبي المهزم، عن أبي هريرة - أن وفد ثقيف سألوا النبي صلى الله عليه وسلم عن الايمان هل يزيد أو ينقص؟ فقال: لا، زيادته كفر ونقصانه شرك". [میزان اعتدال : 574، لسان المیزان ج2 ص224] اس مثال سے معلوم ھوا یہ ایک کذاب تھا۔ اور اپنے مذھب کی خاطر حدیثیں گھڑنے کا دھندہ کرتا تھا۔ اور یہ روایت خود اس کے اور امام ابوحنیفہ کے مذھب کی وضاحت کرتی ھے۔ کہ یہ مرجی مذھب کا پیروکار تھا۔ اسی لیئے اس نے یہ روایت گھڑی۔ کہ "ایمان میں زیادتی کفر، اور ایمان میں کمی شرک ھے". محدثین اکرام کی متفقہ تحقیق میں یہ مرجی بلکہ مرجیوں کا سردار اور سرغنہ تھا". امام ابن سعد فرماتے ھیں : مرجی تھا امام ابن حبان فرماتے ھیں : مرجیوں کا سردار۔ محدثین اور سنت سے بغض رکھتا تھا". امام جوزقانی فرماتے ھیں : مرجیوں کا سردار تھا". امام ابو حاتم فرماتے ھیں۔ مرجی اور کذاب تھا". [لسان المیزان ،ج2، ص335-336] ۔۔۔۔ Sent from my XT1609 using Tapatalk
×
×
  • Create New...