Jump to content
IslamiMehfil

اسد الطحاوی

Members
  • Content Count

    24
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    20

اسد الطحاوی last won the day on August 26 2019

اسد الطحاوی had the most liked content!

Community Reputation

5 Neutral

2 Followers

About اسد الطحاوی

  • Rank
    Member

Recent Profile Visitors

322 profile views
  1. وبا میں اذان کی حسن لغیرہ روایت پر غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی طرف سے کیے گئے باطل اعتراضات کا مدلل رد (بقلم:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی ) کسی کی طرف سے ہم کو غیر مقلد غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی تحریر موصول ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسکا رد کر دیں تو ان تک میری تحریر بھیج دی جائے گی تو ہم امن پوری صاحب کے روایات پر ناقص نقد اور خطاوں کو ظاہر کرتے ہوئے انکے محققین کے منہج پر اس روایت کو حسن لغیرہ ثابت کرینگے جن میں البانی صاحب اور اثری صاحب پیش پیش ہیں اختصار کے لیے ہم اثری صاحب کا یہ حصہ نقل کرتے ہیں: محدثین نے راویان کی ثقاہت اور دیگر
  2. *فن حدیث میں احمد رضا کا مقام اور اعلی ٰ حضرت پردیوبندیوں کے ایک اعتراض کا علمی و تحقیقی جائزہ * *بقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی * ایک مجہولیہ دیوبندی نے اعلیٰ حضرت پر ایک روایت پر حکم تصحیح پر جہالت بھری ایک تحریر لکھی جس پر دیوبندیوں کے ساجد نقلدبندی بھی ایک ٹانگ پر اچھل رہا تھا کہ اس مضمون میں اسکی تحریر سے اقتباس مطابقت رکھتے ہیں تو یہ اسکا بھی رد ہے مجہولیا دیوبندی لکھتا ہے : احمد رضاخان فاضل بریلوی کو رضاخانیت میں امیر المؤمنین فی الحدیث سمجھا جاتا ہے *(المیزان احمد رضا نمبر ص 247)* اور نعیم الدین رضاخانی تو مبالغہ آرائی کرتے ہوئے یہاں
  3. ایک جاہل منکر الحدیث بنام عاطف کی طرف سے مصنف عبدالرزاق پرکیے گئے اعتراضات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (بقلم: اسد الطحاوی الحنفی بریلوی ) ہم سب سے پہلے اس جاہل میاں کے اعتراضات نقل کرتے ہیں پھر بلترتیب اسکا رد کرتے جائیں گے جیسا کہ یہ لکھتا ہے : مطبوعہ مصنف عبد الرزاق تین راویوں سے مجموعہ ہے۔ یعنی تین راویوں سے جمع کردہ ہے : ۱۔ محمد بن یوسف حُذاقی: => اس سے اھل الکِتابَین مروی ہے ۔ ۲۔ محمد بن علی النجّار: => اس سے کتاب البیوع اور اھل الکتاب مروی ہے ۔ ۳۔ باقی ماندہ کتاب اسحاق بن ابراہیم الدَبَری سے مروی ہے ۔ ان تینوں رواۃ کا ف
  4. حضرت عمر ؓ سے مروی ترک رفع الیدین پر امام ابوزرعہؒ، امام حاکمؒ (الشافعی)اورامام بیھقیؒ (الشافعی)کی طرف سے وارد اعتراضات کا رد ہم نے پچھلی پوسٹ میں امام شعبیٰ سے مروی اثر کو بیان کیا تھا کہ وہ کبیر تابعی تھے اور ترک رفع الیدین کے مذہب پر تھے اور اس مسلے میں محدثین کا اختلاف بھی نہیں ہے کہ امام شعبی ترک رفع الیدین کے قائل تھے جیسا کہ امام بغوی السنہ میں فرماتے ہیں : وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلا عِنْدَ الافْتِتَاحِ، يُرْوَى ذَلِكَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَصْحَابُ الرَّأْيِ
  5. *تابعی الکبیر امام شعبیٰ عاعمر بن شرحیل جنکے بارے معروف ہے کہ انہون نےتقریبا ۵۰۰ صحابہ کرام کی ذیارت کی وہ ترک رفع الیدین کے قائل تھے اور یہ امام ابی حنیفہ کے اکبر شیخ تھے* امام شعبی کا تعارف: 113 - الشعبي عامر بن شراحيل بن عبد بن ذي كبار وذو كبار: قيل من أقيال اليمن، الإمام، علامة العصر، أبو عمرو الهمداني، ثم الشعبي. مولده: في إمرة عمر بن الخطاب، لست سنين خلت منها، فهذه رواية. وعن أحمد بن يونس: ولد الشعبي سنة ثمان وعشرين وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان. قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه. وسمع من: عدة من كبراء الصحابة.
  6. جی قبلہ ہم نے سند پر نہیں متن میں نکارت کا ثبوت دیاتھا اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو ابن الحکم کے متن مین نکارت ابھی موجود ہے الفاظ کے ساتھ اور یونس بن عبدالاعلیٰ کے الفاظ تبدیل ہیں اور ابن عبدالحکم کی الانتفاء میں انہی سے مروی واقعے میں وہ الفاظ موجود نہیں ہیں اس پر امام ذھبی کا فیصلہ صحیح ہے جو سیر اعلام میں نقل کیا ہے ۔۔۔ اور جو آپ نے متابعت پیش کی ہے اس سے مفہوما نکارت ختم ہو جاتی ہے
  7. *مروان کا علی پر سَبّ و شَتم ایک ضعیف روایت کا رد * راوی عمیر بن اسحاق کی توثیق کے دلائل کا علمی جائزہ: تحقیق: دعا گو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی ابن سعد کی روایت ہے: أخْبَرَنا إسمَاعِيل بن إبراهِيم (ابن عُلَيّة)، عَنْ عَبد الله بن عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بنِ إِسْحَاقَ قال: كَانَ مَرْوَانُ أَمِيْرًا عَلَيْنَا سِتَّ سِنِيْنَ، فَكَانَ يَسُبُّ عَلِيًّا كُلُّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، ..... ترجمہ: عُمیر بن اسحاق کہتے ہین: مروان چھ سال تک ہم پر (معاویہ کی طرف سے) گورنر رہا، وہ ہر جمعے کو منبر پر حضرت علیؓ پر سَبّ و شَتم کرتا تھا، پھر سعید بن العاص ؓ گو
  8. جناب نے دو متابعت بیان کی ہے وہ تو بالکل اسکے متن کے برعکس اور حقیقت کے بالکل منافی ہے جیسا کہ اس سے متن میں اضطراب پیدا ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے پچھلے راوی کو بھی ضعیف نہیں کہا تھا فقط اسکی نکارت کی طر ف نظر کی تھی لیکن اسکی متابعت آپ نے پیش کی ہے لیکن سند میں بہت ہی زیادہ باطل الفاظ موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے راویوں نے اپنے من پسند الفاظ ملا کر واقعے کو چٹخارے دار بنانے کی کوشش کی ہے اور مناظرے اور مخالف کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا محدثین کے ہاں عام بات تھی کیونکہ وہ ان واقعات کو بیان کرنے میں روایت حدیث جیسی احتیاط نہیں برتتے تھے ۔۔۔ اب آتے ہیں آپکے پیش کیے
  9. جناب اس پوسٹ میں مجھ سے غلطی ہوئی تھی سند پڑھتے ہوئے مجھ سے خطاء ہو گئی تھی جو کہ میں یہاں تصحیح کر دیتا ہوں اپنے فیسبک پیج کمنٹس میں تصحیح کی تھی لیکن یہاں تصحیح کرنا بھول گیا تھا آپ نے آج ٹیگ کیا تو بیان کر دیتا ہوں امام عقیلی نے الضعفاء الکبیر میں جو امام شعبہ سے لعنت کی جرح کی سند لکھی ہے وہ پچھلی سند جرح جو کہ انہوں نے امام مالک سے نقل کی تھی جس میں ولید بن مسلم تھا سند وہاں سے متصل ہے جیسا کہ امام عقیلی نے پہلے امام ابو حنیفہ پر اپنی سند جو کہ متصل ہے اس سے امام ابو حنیفہ پر جرح نقل کی ہےجسکی سند و متن کچھ یوں ہے (جو دارالکتب العلمة کا ہے) حدثنا عبد الله بن أحمد قال:
  10. *شمشادنامی غیر کے مقلد کی کا دعویٰ کہ امام اعظم اما م مالک سے ہر علم میں کم تھے اور اسکی پیش کردہ دلیل پر تحقیقی نظر* غیر کا مقلد پہلے ایک روایت جو کہ امام شافعی سے منسوب ہے اسکو نقل کرنے سے پہلے ایک پھکی بنا کر لکھتا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول فقہ کا بانی سمجھا جاتاہے اب اس بانی اصول الفقہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہوتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں: امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال سمعت الشافعي قال لي محمد بن الحسن: أيهما أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ يعن
  11. جناب آپکی طر ف سے تفصیل دینے کا شکریہ۔ لیکن امام احمد اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت لیتے ہیں یہ بات مطلق طور پر بالکل صحیح نہین بلکہ انہوں نے ضعیف راویان سے بھی روایتیں لی ہیں اپنی مسند میں اور کچھ پر انکی خود کی بھی جرح ہیں۔۔۔ اور یہ کلیہ ہے کہ عام طور پر امام احمد ثقہ سے لیتے ہیں لیکن ضرور ثقہ سے لیتے ہیں ایسی بات نہیں ۔ جیسا کہ امام شعبہ تھے
  12. حسن لغیرہ پر امام ابن حجر عسقلانی کا موقف
  13. باقی جو یہ حدیث ہے : 1133 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ» . اس میں وہی الحسن بن علی البصری راوی ہے
×
×
  • Create New...