اسد الطحاوی

Members
  • Content count

    19
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    20

اسد الطحاوی last won the day on August 26

اسد الطحاوی had the most liked content!

Community Reputation

5 Neutral

1 Follower

About اسد الطحاوی

  • Rank
    Member
  1. *تابعی الکبیر امام شعبیٰ عاعمر بن شرحیل جنکے بارے معروف ہے کہ انہون نےتقریبا ۵۰۰ صحابہ کرام کی ذیارت کی وہ ترک رفع الیدین کے قائل تھے اور یہ امام ابی حنیفہ کے اکبر شیخ تھے* امام شعبی کا تعارف: 113 - الشعبي عامر بن شراحيل بن عبد بن ذي كبار وذو كبار: قيل من أقيال اليمن، الإمام، علامة العصر، أبو عمرو الهمداني، ثم الشعبي. مولده: في إمرة عمر بن الخطاب، لست سنين خلت منها، فهذه رواية. وعن أحمد بن يونس: ولد الشعبي سنة ثمان وعشرين وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان. قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه. وسمع من: عدة من كبراء الصحابة. وحدث عن: سعد بن أبي وقاص، وسعيد بن زيد، وأبي موسى الأشعري، وعدي بن حاتم، وأسامة بن زيد، وأبي مسعود البدري، وأبي هريرة، وأبي سعد، وعائشة، وجابر بن سمرة، وابن عمر، وعمران بن حصين، والمغيرة بن شعبة، وعبد الله بن عمرو، وجرير بن عبد الله، وابن عباس، وكعب بن عجرة، وعبد الرحمن بن سمرة، وسمرة بن جندب، والنعمان بن بشير، والبراء بن عازب، وزيد بن أرقم، وبريدة بن الحصيب، والحسن بن علي، وحبشي بن جنادة، والأشعث بن قيس الكندي، ووهب بن خنبش الطائي، وعروة بن مضرس، وجابر بن عبد الله، وعمرو بن حريث، وأبي سريحة الغفاري، وميمونة، وأم سلمة، وأسماء بنت عميس، وفاطمة بنت قيس، وأم هانئ، وأبي جحيفة السوائي، وعبد الله بن أبي أوفى، وعبد الله بن يزيد الأنصاري، وعبد الرحمن بن أبزى، وعبد الله بن الزبير، والمقدام بن معد يكرب، وعامر بن شهر، وعروة بن الجعد البارقي، وعوف بن مالك الأشجعي، وعبد الله بن مطيع بن الأسود العدوي، وأنس بن مالك، ومحمد بن صيفي، وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة امام شعبیٰ یہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ۲۱ ھ کو پیدا ہوئے اسکے بعد امام ذھبی کہتے ہیں : میں کہتا ہون انہوں نے حضرت علی کو پایا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور کئی عدد کبیر صحابہ سے سماع کیا ہے پھر اسکے بعد امام ذھبی کثیر صحابہ جو جلیل القدر اور مشہور و معروف صحابہ تھے اسکے بعد لھکتے ہیں وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة کہ یہ ۵۰ صحابہ کرام ہیں آگے امام ذھبی ابن عساکر کے حوالے سے سند کے ساتھ نقل کرتے ہین : روى: عقيل بن يحيى، حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن منصور الغداني، عن الشعبي، قال: أدركت خمس مائة صحابي، أو أكثر، يقولون: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي امام شعبیٰ فرماتے ہیں : کہ میں نے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی۔ اسکے بعد امام ذھبی الفسوی کے حوالے سے صحیح سند سے لکھتے ہیں : الفسوي في (تاريخه (4)) : حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شبرمة، سمعت الشعبي يقول: ما سمعت منذ عشرين سنة رجلا يحدث بحديث إلا أنا أعلم به منه، ولقد نسيت من العلم ما لو حفظه رجل لكان به عالما. امام حمیدی سفیان سے اور وہ امام شعبی سے سنا ہے کہ : امام شعبی کہتے کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں پھر امام ابن عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں قال ابن ابی لیلیٰ : كان إبراهيم صاحب قياس، والشعبي صاحب آثار امام ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے کہ ابراہیم النخعی صاحب قیاس یعنی مجتہد تھے اور امام شعبیٰ صاحب آثار یعنی آثار صحابہ کے بڑے عالم ہیں اور امام شعبیٰ کی وفات ا۱۰۳ سے ۱۰۹ ھ کے درمیان وفات ہوئی (سیر اعلام النبلاء) امام ذھبی انکا ذکر تذکرہ حفاظ میں یوں کرتے ہیں : 76- 11/ 3ع- الشعبي علامة التابعين أبو عمرو عامر بن شراحيل الهمداني الكوفى من شعب همدان: مولده في أثناء خلافة عمر في ما قيل كان إماما حافظا فقيها متفننا ثبتا متقنا وكان يقول: ما كتبت سوداء في بيضاء وروى عن علي فيقال مرسل وعن عمران بن حصين وجرير بن عبد الله وأبي هريرة وابن عباس وعائشة وعبد الله بن عمر وعدى بن حاتم والمغيرة بن شعبة وفاطمة بنت قيس وخلق وعنه إسماعيل بن أبي خالد وأشعث بن سوار وداود بن أبي هند وزكريا بن أبي زائدة ومجالد بن سعيد والأعمش وأبو حنيفة وهو أكبر شيخ لأبي حنيفة وابن عون ويونس بن أبي إسحاق والسرى بن يحيى وخلق قال أحمد العجلي مرسل الشعبي صحيح لا يكاد يرسل الا صحيحا. الشعبی تابعین میں علامہ تھے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ۲۱ھ کو پیدا ہوئے یہ امام حافظ فقیہ یعنی مجتہد متقن ثبت تھے انہوں نے حضرت علی ، عمران بن حصین، جریر بن عبداللہ ، ابی ھریرہ، ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عدی بن حاتم ، مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے والے امام ابی حنیفہ یہ اما م ابو حنیفہ کے بڑے کبیر شیخ تھے ، اور ابن عون ، یونس بن ابی اسحاق ، وغیرہ ہیں اور امام عجلی کہتے ہیں شعبی کی مراسل صحیح کے علاوہ روایت نہ کرتے (تذکرہ الحفظ امام ذھبی) امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں : 2444 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا» (مصنف ابن ابی شیبہ، برقم: ۲۴۴۴) امام عبداللہ بن مبارک الحنفیؒ فرماتے ہیں اشعت کے حوالے سے : امام شعبی (نماز) میں اول تکبیر میں رفع الیدین کرتے پھر نہ کرتے تھے سند کی تحقیق: سند کا پہلا راوی : امام ابن ابی شیبہ امام ابن ابی شیبہ متفقہ علیہ ثقہ ہیں سند کا دوسرا راوی: امام عبداللہ بن مبارک متفقہ علیہ ثقہ متقن سند کا تیسرا راوی : اشعت بن سوار یہ حسن الحدیث راوی ہے امام ذھبی کے نزدیک یہ لین ہے اور حسن الحدیث جبکہ امام ابن حجر کے نزدیک یہ ضعیف ہے لیکن اس پر کوئی خاص جرح مفسر نہین ہے اور امام ذھبی کا موقف صحیح ہے نیز اسکی متابعت بھی ثابت ہے جو کہ بعدمیں ذکر ہوگی پہلے اس پر توثیق پیش کرتے ہیں 1385 - أشعث بن سوار الكندي الكوفي، قاله مروان، وقال علي بن المديني هو مولى لثقيف، وهو الأثرم، سمع الشعبي ونافعا روى عنه الثوري، وقال لي ابن أبي الأسود سمعت عبد الرحمن بن مهدي قال سمعت سفيان يقول أشعث أثبت من مجالد ، قال شعبة حدثني أشعث الأفرق، قال أحمد: الأفرق النجار امام بخاری امام ابن مہدی کے حوالے سے اما م سفیان الثوری سے نقل کرتے ہیں کہ اشعت مجالد سے یہ ثبت ہے (التاریخ الکبیر ، امام بخاری) 440- أشعث بن سوار الكندي عن الشعبي وطائفة وعنه هشيم وابن نمير وخلق صدوق لينه أبو زرعة توفي 136 م ت س ق (امام ذھبی الکشف میں کہتے ہیں کہ صدوق ہے اور امام ابو زرعہ نے کمزور قرار دیا ہے (الکشف) 3 - (ابن سوار الكندي) أشعث بن سوار الكندي الكوفي الأفرق التوابيتي النجار روى عن عكرمة والشعبي وابن سيرين روى له مسلم تبعا وروى له الترمذي والنسائي وابن ماجة ضعفه النسائي وقواه غيره وقال ابن عدي لم أجد له حديثا منكرا وقال ابن خراش هو أضعف الأشاعثة وقال الدراقطني يعتبر به وتوفي سنة ست وثلاثين ومائة (الكتاب: الوافي بالوفيات امام ابن خلیل بن ایبک فرماتے ہیں : امام مسلم نے انکو متابعت میں لیا ہے ، امام ترمذی امام ابن ماجہ نے اور امام نسائی نے انکی تضعیف کی ہے اور قوی بھی اور امام ابن عدی کہتے ہیں مین اسکی کوئی بھی منکر روایت پر مطلع نہیں ہوسکا ابن خراش(رافضی ) نے تضعیف کی اور امام دارققطنی کہتے ہیں معتبر ہے المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (المتوفى: 764هـ) 57- قُلْت لأبي دَاوُد: "أشعث1 وإسماعيل بْن مُسْلم2 أيهما أعلَى؟ قَالَ: إِسْمَاعِيل دُونَ أشعث وأشعث ضعيف" . قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سمعت يَحْيَى بْن معين يَقُول: "كَانَ أَشْعَث بْن سَوَّار يرى القدر". امام ابی داود نے اشعت کو ضعیف قرار دیا ہے اور ابی داود کہتے ہین یحییٰ بن معین سے سنا ہے کہ اشعت بن سوار اس میں قدری خیالات تھے (سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود السجستاني في الجرح والتعديل) 951- أشعث بن سوار 1: "م, ت, س, ق" الكندي, الكوفي, النجار, التوابيتي, الأفرق. وهو الذي يقال له: صاحب التوابيت, وهو أشعث القاص. وهو مولى ثقيف, وهو الأثرم وهو قاضي الأهواز. روى له مسلم متابعة. وقد حدث عنه من شيوخه: أبو إسحاق السبيعي. وكان أحد العلماء على لين فيه. امام ذھبی فرماتے ہیں: اپنی آخری تصنیف سیر اعلام میں کہ امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے یہ علماء میں سے تھے لیکن ان میں کمزوری (معمولی) تھی (سير أعلام النبلاء) 41 - أشعث بن سوار الكندي (م ت س) : عن الشعبي وغيره حسن الحديث قال أبو زرعة لين وضعفه وقال النسائي امام ذھبی کہتے ہیں کہ اشعت یہ حسن الحدیث ہے اور ابو زرعہ نے انکو کمزور قرار دیا ہے اور امام نسائی نے تضعیف کی ہے (ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق، امام ذھبی) وأشعث بن سوار الكوفي، يعتبر به، وهو أضعفهم، روي عنه شعبة حديثًا واحدًا امام دارقطنی کہتے ہیں : کہ یہ معتبر ہے اور اس میں ضعف ہے موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله) وأشعث بن سوار قد روى عنه أبو إسحاق السبيعي، وشعبة وشريك ولم أجد لأشعث فيما يرويه متنا منكرا إنما في الأحايين يخلط في الإسناد ويخالف امام ابن عدی کہتے ہیں : مجھے اس کی کوئی منکر روایت نہیں ملی البتہ یہ اسناد بیان کرنے میں مخالفت کر جاتا (الکامل فی الضعفاء) رواه الطبراني في الأوسط، وفيه أشعث بن سوار، وهو ثقة، وفيه كلام. امام ہیثمی کہتے ہیں اشعت یہ ثقہ ہے لیکن اس پر کلام ہے (غیر مفسر) (مجمع الزوائد) 150) عن أشعث بن سوار عن ابن أشوع عن حنش. وهذا إسناد لا بأس به فى المتابعات , فإن حنش بن المعتمر صدوق له أوهام , وابن أشوع اسمه سعيد بن عمرو بن أشوع , وهو ثقة من رجال الشيخين. وأشعث بن سوار , فيه ضعف من قبل حفظه , وروى له مسلم متابعة. البانی اشعت سے مروی ایک روایت کے بارے کہتا ہے : اس سند میں کوئی حرج نہیں ہے متابعت میں اشعت بن سوار اس کے حافظے میں کمزوری ہے امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے یعنی البانی اسکو متابعت میں قبول کرتا ہے اور امام مسلم کا حوالہ بھی دیتا ہے (إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل) حدثنا ابن حماد، قال: حدثنا عباس ومعاوية، عن يحيى، قال: أشعث بن سوار ضعيف. حدثنا عبد الله بن أحمد الدورقي، قال: سمعت يحيى بن معين يقول أشعث بن سوار الأفرق كوفي ثقة. امام ابن عدی نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے کہ امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں اشعت ضعیف ہے (غیر مفسر جرح ) اور غالبا یہ انکے عقیدے قدری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابن معین سے قدری کی جرح امام ابی داود نے بیان کی ہے یحییٰ بن معین سے پھر امام ابن عدی صحیح سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام الدروقی کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے سنا کہ اشعت بن سوار یہ کوفی ثقہ ہے (الکامل فی الضعفاء) معلوم ہوا کہ یہ سند حسن سے بالکل کم درجے کی نہیں ہے اس پر جرح غیر مفسر ہے اور متشدد محدثین نے بھی اسکی توثیق کی ہے نیز جن سے جرح ہے انہی سے توثیق بھی مروی ہے معلوم ہوا اسکی تضعیف میں بہت حد تک اختلاف تھا اور امام ذھبی کی بات صحیح ہے کہ یہ حسن الحدیث ہے لیکن اس مین کمزوری ہے اور متابعت و شواہد میں تو اسکی روایت لینے میں بالکل حرج نہیں جیسا کہ البانی سے اوپر ثبوت پیش کیا ہے اب اسکی متابعت پیش کرتے ہیں : **************** 2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ» قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ» امام ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں مجھے یحییٰ بن آدم(ثقہ) نے حسن بن عیاش(ثقہ) سے اور وہ عبدالملک(ثقہ) سے اسکے بعد آگے مکمل سند بیان کر کے امام ابن ابی شیبہ ایک روایت بیان کرتے ہین ، اور روایت کے ختم کرکے امام عبدالملک کا قول نقل کرتے ہیں کہ امام عبدالملک کہتے ہیں : میں نے امام شعبی(کبیر تابعی) ، امام ابو اسحاق السبیعی(کبیر تابعی) اور ابراہیم النخعی(کبیر تابعی) تینوں کو دیکھا وہ صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ) اس روایت میں ہم نے حدیث کو دلیل نہیں بنایا بلکہ امام عبدالملک کے قول کو بیان کیا ہے کہ انہوں نے خود حضر ت امام شعبی سمیت امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا نماز مین صرف شروع میں رفع الیدین کرتے تو ہم سند بھی امام ابن ابی شیبہ سے امام عبدالملک تک کی تحقیق پیش کرتے ہیں سند کا پہلا راوی: یحییٰ بن آدم یہ امام ابن ابی شیبہ کا شیخ ہے 204 - يحيى بن آدم بن سليمان الأموي مولاهم * (ع) العلامة، الحافظ، المجود، أبو زكريا الأموي مولاهم، الكوفي، صاحب التصانيف، من موالي خالد بن عقبة بن أبي معيط. وثقه: يحيى بن معين، والنسائي. قال أبو عبيد الآجري: سئل أبو داود عن معاوية بن هشام، ويحيى بن آدم، فقال: يحيى واحد الناس (1) . وقال أبو حاتم: ثقة، كان يتفقه (2) . وقال يعقوب بن شيبة: ثقة، كثير الحديث، فقيه البدن، ولم يكن له سن متقدم، سمعت عليا يقول: يرحم الله يحيى بن آدم، أي علم كان عنده! وجعل علي يطريه. وسمعت عبيد بن يعيش، سمعت أبا أسامة يقول: ما رأيت يحيى بن آدم قط إلا ذكرت الشعبي - يريد: أنه كان جامعا للعلم امام ذھبی انکے بارے میں سیر اعلام میں کہتے ہیں : العلامہ ، حافظ صاحب تصانیف ہیں امام یحیٰ بن معین نے انکو ثقہ قرار دیا اور امام نسائی نے بھی ثقہ قرار دیا امام ابی حاتم نے انکو ثقہ قرار دیا وغیرہ (سیر اعلام النبلاء) دوسرا راوی :الحسن بن عیاش ہے 12795 - الحسن بن عياش مولى بنى أسد أخو أبي بكر بن عياش من أهل الكوفة يروي عن الثوري وزائدة روى عنه عبد الرحمن بن أبي حماد الكوفي ابن حبان نے ثقات میں درج کیا (الثقات ، ابن حبان) 304 - الْحسن بن عَيَّاش بن سَالم الْأَسدي ثِقَة امام عجلی نے ثقات میں درج کیا (الثقات ، عجلی) حدثنا عبد الرحمن أنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سمعت يحيى بن معين يقول: الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش ثقة. حدثنا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق [الهروي - 1] فيما كتب إلي قال نا عثمان بن سعيد [الدارمي - 1] قال قلت ليحيى [بن معين - 2] الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش كيف حديثه؟ فقال: ثقة. قلت هو أحب إليك [أو - 1] أبو بكر؟ فقال: هو ثقة وأبو بكر ثقة. قال عثمان [بن سعيد - 1] : أبو بكر والحسن ليسا بذاك في الحديث وهما من اهل الصدق والامانة. امام یحیٰ بن معین نے کہا الحسن بن عیاش یہ ابی بکر عیاش کا بھائی ہے اور ثقہ ہے پھر ابن معین سے دوسری توثٰیق الدارمی کہتا ہے کہ میں نے ابن معین سے پوچھا کہ الحسن بن عیاش کا حدیث مین کیا حال ہے ؟ فرمایا ثقہ (الجرح والتعدیل) تیسرا راوی : عبدالملک ہے : 905 - عبد الْملك بن أبجر ثِقَة قَالَه أَحْمد امام ابن شاہین نے ثقات میں درج کیا (الثقات ، ابن شاہین) 1025- عبد الملك بن أبجر5: كان عبد الملك بن أبجر "ثقة، ثبتًا في الحديث، صاحب سنة) امام ابن عجلی نے ثقات میں درج کیا (الثقات العجلی) نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن محمد - 1] بن حنبل فيما كتب إلى قال سألت أبي عن ابن ابجر فقال: بخ ثقة. [ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال: عبد الملك بن ابجر ثقة - 2] . نا عبد الرحمن قال سمعت أبي وأبا زرعة يقولان: ابن ابجر احب الينا من اسراءيل. امام ابن ابی حاتم اپنے والد ابی حاتم سے بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن ابحبر ثقہ ہے یحییٰ بن معین نے فرمایا ثقہ ہے اور یہی ابو زرعہ سے سنا کہ عبد الملک یہ مجھے اسرایل سے زیادہ محبوب ہے (الجرح والتعدیل) اس تمام تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام شعبیٰ جنہوں نے ۵۰۰ صحابہ کرام کی زیارت کی ہے وہ بھی ترک رفع الیدین کے قائل تھے تحقیق: دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی
  2. جی قبلہ ہم نے سند پر نہیں متن میں نکارت کا ثبوت دیاتھا اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو ابن الحکم کے متن مین نکارت ابھی موجود ہے الفاظ کے ساتھ اور یونس بن عبدالاعلیٰ کے الفاظ تبدیل ہیں اور ابن عبدالحکم کی الانتفاء میں انہی سے مروی واقعے میں وہ الفاظ موجود نہیں ہیں اس پر امام ذھبی کا فیصلہ صحیح ہے جو سیر اعلام میں نقل کیا ہے ۔۔۔ اور جو آپ نے متابعت پیش کی ہے اس سے مفہوما نکارت ختم ہو جاتی ہے
  3. *مروان کا علی پر سَبّ و شَتم ایک ضعیف روایت کا رد * راوی عمیر بن اسحاق کی توثیق کے دلائل کا علمی جائزہ: تحقیق: دعا گو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی ابن سعد کی روایت ہے: أخْبَرَنا إسمَاعِيل بن إبراهِيم (ابن عُلَيّة)، عَنْ عَبد الله بن عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بنِ إِسْحَاقَ قال: كَانَ مَرْوَانُ أَمِيْرًا عَلَيْنَا سِتَّ سِنِيْنَ، فَكَانَ يَسُبُّ عَلِيًّا كُلُّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، ..... ترجمہ: عُمیر بن اسحاق کہتے ہین: مروان چھ سال تک ہم پر (معاویہ کی طرف سے) گورنر رہا، وہ ہر جمعے کو منبر پر حضرت علیؓ پر سَبّ و شَتم کرتا تھا، پھر سعید بن العاص ؓ گورنر بنے، وہ دو سال تک گورنر رہے، وہ گالی گلوچ نہیں کرتے تھے، پھر انہیں معزول کرکے دوبارہ مروان کو گورنر بنایا گیا تو وہ پھر سبّ و شتم کیا کرتا تھا۔ حضرت حسنؓ جمعہ کے دن نبی کریمؐ کے حجرے میں آکر بیٹھے رہتے تھے، اور جب نماز کھڑی ہوتی تو آکر شامل ہوجاتے (تاکہ اپنے والد ماجد کی بدگوئی نہ سن سکیں)۔ مگر مروان اِس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اُس نے حضرت حسنؓ کے گھر میں قاصد کے ذریعے ان کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ اِن گالیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ: "تیری مثال میرے نزدیک خچر کی سی ہے کہ جب اُس سے پوچھا جائے کہ تیرا باپ کون ہے، تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے!" حضرت حسنؓ نے یہ سن کر قاصد سے کہا کہ تو اس کے پاس جا اور اس سے کہہ دے کہ: "خدا کی قسم، میں تجھے گالی دےکر تیرا گناہ ہلکا نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے ہاں ہوگی۔ اگر تُو سچا ہے تو اللہ تجھے تیرے سچ کی جزا دے، اور اگر تُو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بَلند ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو۔" قاصد نکلا تو حُسینؓ سے اس کی ملاقات ہوگئی اور انہیں بھی اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حُسینؓ نے فرمایا کہ تُو اسے یہ بھی کہنا کہ: "اے مروان، تُو ذرا اپنے باپ اور اُس کی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر۔ تیرا مجھ سے کیا سروکار، تو اپنے کندھوں پر اُس شخص کو اٹھاتا ہے جس پر رسولُ اللہؐ نے لعنت کی ہے۔" (یعنی تجھ پر رسولُ اللہؐ نے لعنت کی ہے) (الطبقات الكُبرٰى لِابن سعد: 1/ 399-400/ 370) ہم نے پچھلی پوسٹ میں اس روایت پر اپنی جو تحقیقات پیش کی تھیں انکے اہم نقطے یہاں بیان کرتے ہیں پہلے! ۱۔ اسکا بنیادی راوی عمیر بن اسحاق مجہول ہے ۲۔ امام ابن معین سے اسکی توثیق انکے ایک شاگرد جو قدیم نہیں وہ بیان کرتے ہیں ابن معین سے ۳۔جبکہ امام ابن معین کے قدیم اور امام ابن معین کی زیادہ صحبت پانے والے امام الدوری نے امام ابن معین سے اس راوی پر جرح ہی بیان کی ہے اور یہ بات متفقہ ہے کہ امام ابن معین کے اقوال میں اختلاف آجائے تو فوقیت امام الدوری سے مروی اقوال کو دی جاتی ہے یہ مسلہ متفقہ ہے اور باقی ہم نے تمام دلائل اسکے مجہول ہونے پر ثابت کیے تھے جسکےجواب میں کچھ لوگوں نے کمنٹس میں اسکی توثیق کے وہی غیر معتبر دلائل دے کر ایک ٹانگ پر اچھلنے لگ گئے ہم ان کے سب دلائل باری باری نقل کر کے تسلی بخش جواب دینگے (اللہ اور رسول ﷺ کے کرم سے) ۱۔ مخالفین سب سے پہلی توثیق جو پیش کرتے ہیں وہ امام نسائی (متشدد) سے کہ انہوں نے عمیر بن اسحاق کے بارے کہا کہ لا باس بہ اور انکی توثیق معتبر ہوگی کیونکہ وہ متشدد ہیں اور امام مزی نے یہ توثیق امام نسائی سے منسوب کر کے لکھی ہےنیز انہوں نے کتاب کے مقدمے میں دعویٰ کیا ہے کہ جب کسی ناقد کی طرف قول منسوب کر کے لکھیں گے تو انکے نزدیک اس قول کی سند محفوظ ہوگی الجواب : عرض ہے بعد والے جمہور محدثین نے امام مزیؒ کے اس دعوے پر کوئی اعتبار نہیں کیا ہےسوائے چند مقامات پر وہ بھی قرائن کے سہارے ورنہ بعدوالے امام ذھبی اورامام ابن حجرعسقلانی نے بھی اس کلیے کو تسلیم نہیں کیا ہے اندھی دھند جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے کیونکہ راوی کے مجہول یا ثقہ ہونے کا فیصلہ جب متاخرین محدثین ناقدین کے اقوال دیکھتے ہیں تو جمہور کی رائے دیکھتے ہیں اسکے مطابق اور تہذیب الکمال کے راویان کے بارے میں ایسے بے سند اقوال آجائیں تو تائید میں ہوں تو انکو قبول کرلیتے ہیں لیکن جب ایسا مجہول راوی جسکے بارے میں جمہور محدثین اسکے بارے میں جہالت کا فیصلہ دیں کہ یہ مجہول ہے اور تہذیب الکمال میں امام مزی بےشک کسی متشدد امام جیسا کہ امام نسائی یا امام دارقطنی سے کسی راوی کی توثیق لکھ دیں بے سند تو قول کو امام ابن حجر عسقلانی اور امام ذھبی اور دیگر ائمہ ناقدین بھی رد کر دیتے ہیں جسکی ایک مثال یہاں بیان کرتے ہیں: امام مزی تہذیب الکمال میں ایک راوی نافع بن محمود کے بارے لکھتے ہیں : 6369 - ر د س: نافع بن مَحْمُود بن الربيع ، ويُقال: ابن ربيعة الأَنْصارِيّ من أهل إيلياء. رَوَى عَن: عبادة بْن الصامت (ر د س) . رَوَى عَنه: حرام بن حكيم الدمشقي (ر س) ، ومكحول الشامي (رد) . ذكره ابنُ حِبَّان فِي كتاب "الثقات" (1) . روى له الْبُخَارِيّ فِي " القراءة خلف الإمام"، وفي أفعال العباد"، وأَبُو دَاوُدَ، والنَّسَائي.؎ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (2) عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ، فَوَافَقْنَاهُ فِيهِ بِعُلُوٍّ، وذَكَرَ فِيهِ قِصَّةً. ورَوَاهُ النَّسَائي (3) عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ، ولَمْ يَذْكُرْ مَكْحُولا فِي إِسْنَادِهِ. ورواه أبو داود (4) من وجه آخَرَ عَنْ مَكْحُولٍ وحْدَهُ، وذَكَرَ الْقِصَّةَ.؎ (تہذیب الکمال برقم:۶۳۶۹) اور امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں اس تفصیل میں مذید اور توثیق بھی شامل کی ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں اس راوی کے بارے میں کہ : ذكره بن حبان في الثقات وقال الدارقطني لما أخرج الحديث هذا حديث حسن ورجاله ثقات وقال ابن عبد البر نافع مجهول. (تہذیب التہذیب برقم : ۷۳۸) اب امام ابن حجر کے سامنے نافع بن محمود کی توثیق ابن حبان اور امام دارقطنی سے بھی ثابت تھی جس میں امام دارقطنی نے نافع کی منفرد روایت کو حسن اور اسکے سارے رجال کو ثقات قرار دای جس میں یہ راوی موجود تھا تو جتنی توثیق ثابت ہو رہی ہے امام ابن حبان اور امام دارقطنی سے نیز الکاشف میں امام ذھبی نے بھی اسی وجہ سےاسکو ثقہ قرار دیا اتنی توثیق دیکھنے کے بعد امام ابن حجر نے تب بھی نافع بن محمود کو حسن الحدیث درجے کا بھی راوی نہیں تسلیم کیا ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی تقریب میں اسی راوی کے بارے فیصلہ دیتے ہیں: 7082- نافع ابن محمود ابن الربيع ويقال اسم جده ربيعة الأنصاري المدني نزيل بيت المقدس مستور من الثالثة ر د س (تقریب التہذیب برقم ۷۰۸۲) جبکہ امام ابن حجر نے امام ذھبی ، امام دارقطنی اور امام ابن حبان ان سب کی توثیق کو غیر معتبر قرار دیا ہے کیونکہ اس راوی کے مجہول ہونے کی طرف زیادہ محدثین سے اور ابن حبان رجال میں متساہل تھے اور امام دارقطنی حدیث کی صحیح میں بعض اوقات متساہل ہیں تو امام ابن حجر نے یقین نہ کیا اسکے علاوہ اور بہت سی مثالیں ہیں جیسا کہ ھانی بن ھانی امام مزی تہذیب الکمال میں لکھتے ہیں : 6548 - بخ د ت ص ق: هانئ بن هانئ الهمداني الكوفي (1) . رَوَى عَن: علي بن أَبي طالب (بخ دت ص ق) . رَوَى عَنه: أبُو إسحاق السبيعي (بخ دت ص ق) ولم يرو عنه غيره. قال النَّسَائي: ليس به بأس. وذكره ابنُ حِبَّان في كتاب "الثقات" (2) . روى له الْبُخَارِيّ في "الأدب" والنَّسَائي في " خصائص علي"، وفي مسنده، والباقون سوى مسلم. امام مزی نے اسکی توثیق ابن حبان سے پیش ، اور امام نسائی سے لیس با س کی توثیق پیش کی نیز امام بخاوری کا اسکو الادب اور امام نسائی کا اسکو خصائص علی میں ان سےروایت لینے کے بارے ذکر کیا ہے لیکن اس میں بھی امام نسائی کی توثیق شامل ہے لیکن دیکھیے امام ابن حجر عسقلانی نے اس راوی کے بارے تقریب میں کیا فیصلہ دیا ہے 7264- هانئ ابن هانئ الهمداني بالسكون الكوفي مستور من الثالثة [الثانية] بخ 4 (تقریب التہذیب) امام ابن حجر نے نسائی اور ابن حبان اور امام نسائی اور امام بخاری سے اسکی روایت نقل کرنےکو بھی کوئی دلیل نہیں بنایا بلکہ اسکو مستور قرار دیا ہے نوت: امام ابن حجر عسقلانی نے جمہور محدثین سے ھانی بن ھانی کی توثیق ثابت ہونے پر اس مسلے سے رجوع کر لیا تھا لیکن امام مزی سے مروی اسکی توثیق پر اعتماد نہ کیا تھا بلکہ جمہور محدثین کی اپنی کتب سے جب تک ھانی کی توثیق ثابت نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہاں مسلہ یہ نہیں کہ امام نسائی کی توثیق نقل کر دی امام مزی نے تو بس یہ اٹل کلیہ بن گیا کہ یہ توثیق اب امام نسائی سے ثابت بھی ہو گئی اور وہ متشدد تھے تو بس اب مجہول نہیں ہو سکتا راوی جبکہ امام مزی کے نزدیک سند محفوظ ہے لیکن اور محدثین نے نہیں دیکھی تو اما م مزی کی بات پر یقین ہیں کیا جا سکتا الا اسکے کہ تائید میں امام مزی سے مروی اقوال پیش کیے جائیں کیونکہ محدثین کی محدث کی ایسی سند کو بھی ضعیف قرار دے دیتے ہیں جس میں محدث یہ کہے حدثنا ثقہ رجل ، یا حدثنا الشیخ الثقہ وغیرہ۔۔۔۔ کیونکہ راوی مجہول ہے لیکن کیا معلوم جو اسکے نزدیک ثقہ ہو لیکن اس پر کسی اور امام کی جرح مفسر ہو تو ایسی صورت میں راوی مجہول ہی رہے گا اور مجہول صیغے سے توثیق بھی مجہول رجل کی قبول نہ ہوگی اور یہی حال امام مزی کے قول کا ہے کہ انکی نظر میں محفوظ ہے لیکن ہم کو نہیں معلوم اور سب سے اہم نقطہ امام مزی نے جو عمیر بن اسحاق کی توثیق نقل کی ہے بغیر سند سے یہ امام نسائی کی کتب میں اس راوی کے بارے جو امام نسائی کی تصریح ہے اسکے بھی خلاف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اما م مزی کو یہ توثیق منسوب کرنے میں تسامع ہوا یا انکی سند میں ضرور خرابی ہوگی اب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں کہ امام نسائی نے اس راوی کے بارے میں اپنی لا علمی کا مکمل اظہار کیا ہے اپنی ایک نہیں تین تین کتب میں ۱۔امام نسائی السنن الکبریٰ میں اسکی روایت نقل کر کے فرماتے ہیں : 8695 - أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مَبْعَثًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «كَيْفَ وَجَدْتَ نَفْسَكَ؟» قَالَ: «مَا زِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَنْ مَعِي خَوَّلَ لِي، وَايْمُ اللهِ مَا أَعْمَلُ عَلَى رَجُلَيْنِ مَا دُمْتُ حَيًّا» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ هَذَا لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ ابْنِ عَوْنٍ، وَنُبَيْحٌ الْعَنَزِيُّ لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ (السنن الكبرى نسائی) امام نسائی عمیر بن اسحاق کی روایت بیان کر کے فرماتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ عمیر بن اسحاق سے سوائے ابن عون کے اور کوئی روایت کرتا ہو۔ اسی طرح امام نسائی نے اپنی دوسری تصنیف مجموعہ رسائل فی علوم الحدیث میں عمیر بن اسحاق کے بارے وہی اپنی لا علمی کا بیان کرتے ہوئے اسکے ترجمے میں لکھتے ہیں : 8 - عُمَيْر بن إِسْحَاق لَا نعلم أحدا روى عَنهُ غير عون (مجموعة رسائل في علوم الحديث) کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ عمیر بن اسحاق سے سوائے ابن عون کے کوئی روایت کرتا ہو اور پھر امام نسائی نے اپنی تیسری تصنیف جس میں انہوں نے اس راوی کو ان راویان میں شمار کیا جن سے سوائے ایک کہ اورکوئی روایت ہی نہیں کرتا اور وہاں بھی امام نسائی نےاسکے بارے میں وہی لا علمی کا اعلان کیا ہے عمير بن إسحاق لا نعلم أحدا روى عنه غير بن عون (تسمية من لم يرو عنه غير رجل واحد)۔ تو معلوم ہوا امام نسائی جو متشدد امام ہیں اورعلل میں امام مسلم کے درجے کے برابر کے امام ہیں جب وہ اس راوی کے بارے میں لاعلمی کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انکو سوائے اس سے ابن عون کے علاوہ کوئی اور روایت کرنے کا علم ہی نہیں اس سے وہ کیسے ایسے راوی کو لا باس بہ کہہ سکتے ہیں جبکہ انہوں نے اس سے مروی روایت کو نہ ہی اپنی السنن المتجبی میں داخل کی جن انہوں نے صحیح روایات کا التزام کیا تھا تو معلوم ہوا امام نسائی سے نہ ہی اسکی توثیق معتبر طریقے سے ثابت ہے اور بلکہ امام نسائی کی کتب سے اس راوی پر امام نسائی کی لا علمی ہی ثابت ہے اگلا اعتراض : کہ امام ابن حبان نے انکو ثقات میں درج کیا ہے اور اپنی صحیح میں بھی روایت کیا ہے تو عرض ہے امام ابن حبان نے اس راوی کو اپنی صحیح میں لیا ہے تو یہ ضمنی توثیق سے صرف اتنا ثابت ہوگا کہ یہ راوی متابعت و شواہد میں قبول ہے نہ کہ منفرد روایت میں جیسا کہ مسند احمد کے محقق شیخ شعیب الارنووط نے انکے بارے فیصلہ دیا ہے : علامہ شعیب نے صحیح ابن حبان کی تحقیق میں عمیر بن اسحاق سے مروی منفرد روایت کو اسی وجہ سے حسن الحدیث مانا ہے کہ امام ابن حبان نے ثقات میں درج کیا ہے اور امام نسائی نے لا باس بہ کہا ہے وغیرہ لیکن جب انہوں نے اپنی مدلل تحقیق کی اور جب جمہور متقدمین و متاخرین سے اس راوی کے بارے میں اقوال درج کیے تو اس طرف اپنا فیصلہ دیا ہے کہ روایت منفرد ہو تو اسکی روایت بالکل قبول نہ ہوگی چناچہ وہ مسند احمد کی روایت نمبر : ۷۴۶۲ کے حاشیے میں اسکی منفرد روایت کے بارے لکھتے ہیں : إسناده ضعيف، تفرد به عمير بن إسحاق اور اسکےبارے میں تمام اقوال نقل کرکے کہتے ہیں : والقول الفصل فيه أن حديثه يقبل في المتابعات والشواهد، وما انفرد به فضعيف، ولذا قال الحافظ في "التقريب": مقبول، أي: عند المتابعة، وإلا فلين الحديث. (مسند احمد جلد ۱۲، ص ۴۲۸) ترجمہ: ان قسم کے اقوال کا حاصل یہ ہے کہ اسکی(عمیر بن اسحاق) کی روایت قبول کی جائے گی متابعت اور شواہد میں اور جس میں اسکا تفرد ہوگا وہ ضعیف ہوگی یہی وجہ ہے کہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں اسکو مقبول قرار دیا ہے اور انکے نزدیک یہ متابعت میں قبول ہوتا ہے ورنہ لین الحدیث ہوتا ہے اگلا اعتراض : کہ امام ہیثمی نے اسکو مجمع الزوائد میں ثقہ قرار دیا ہے الجواب: تو عرض ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے ابن حبان اور امام مزی کی کتاب پر یقین کرتے ہوئے ثقہ قرار دیا ہے لیکن انہوں نے امام ابن معین سے عمیر بن اسحاق کی تضعیف کو بھی راجح مانتے ہوئے قبول کیا ہے جیسا کہ وہ ایک روایت پر حکم لگاتے ہوئے لکھتے ہیں : رواه الطبراني ورجاله رجال الصحيح خلا عمير بن إسحاق وثقه ابن حبان وغيره وضعفه ابن معين وغيره (مجمع الزوائد برقم:۹۰۲۵) یعنی اسکو روایت کیا ہے امام طبرانی نے اور اسکے رجال صحیح کے ہیں سوائے عمیر بن اسحاق کے جسکو ثقہ امام ابن حبان نے قرار دیا ہے اور ضعیف امام ابن معین وغیرہ نے اب ہم پیش کرتے ہیں وہ دلائل متقدمین و متاخرین سے کہ جمہور اس راوی سے بالکل نا واقف تھے امام خطیب بغدادی: عمیر بن اسحاق کی مثال عبد اللہ بن عون کے علاوہ ان سے کوئی روایت. نہیں کرتا اور انکے علاوہ جن خلق کثیر کا ذکر ہم نےجو کیا ہے. ان میں سے بہت کم ہی ایسے ہیں جن سے جھالت مرتفع ہوتی ہے جس سے ایک سے زیادہ دو راوی روایت کرے جو علم کے ساتھ مشھور ہو , ومثل عمير بن إسحاق لم يرو عنه سوى عبد الله بن عون , وغير من ذكرنا خلق كثير تتسع أسماؤهم , وأقل ما ترتفع به الجهالة أن يروي عن الرجل اثنان فصاعدا من المشهورين بالعلم كذلك (الكفاية في علم الرواية) امام عقیلی اور امام مالک بن انس : امام عقیلی فرماتے ہیں : کہ امام مالک بن انس سے پوچھا گیا کہ عمیر بن اسحاق کے بارے تو فرمایا کہ میں نہیں جانتا سوائے اسکے کہ ان سے روایت کیا گیا ہے سوائے ابن عون کے پھر امام ابن معین کے قدیم اور زیادہ صحبت والے شاگرد عباس الدوری فرماتے ہیں کہ عمیر بن اسحاق کسی قابل نہیں ہے لیکن اسکی روایت لکھی جائے (نوٹ: امام ابن معین کے اقوال پر بحث آخر میں ہوگی) 1333 - عمير بن إسحاق أبو محمد حدثنا زكريا بن يحيى قال: حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى قال: حدثني محمد بن عبد الله الأنصاري قال: حدثني رجل، قال: قلت لمالك بن أنس: من عمير بن إسحاق؟ قال: لا أدري، إلا أنه روى عنه، رجل لا نستطيع أن نقول، فيه شيئا، ابن عون. حدثنا محمد بن عيسى قال: حدثنا عباس قال: سمعت يحيى قال: عمير بن إسحاق لا يساوي شيئا، ولكنه يكتب حديثه (الكتاب: الضعفاء الكبير) المؤلف: أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد العقيلي المكي (المتوفى: 322هـ) امام احمد بن حنبل: امام عبداللہ بن احمد اپنے والد امام احمد سے پوچھتے ہیں عمیر ابن اسحاق کے بارے تو وہ کہتے ہیں ان سے ابن عون نے روایت کیا ہے تو میں نے کہا کہ ان سے کوئی اورحدیث ابن عون کےعلاوہ بھی کوئی روایت کرتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں پھر انہوں نے کہ کہ امام مالک سے بھی اسکے متلعق سوال ہو ا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو نہین جانتا ہوں اور پھرامام احمد نے فرمایا کہ وہ مدینی تھے (نوٹ:یہ بات بہت اہم ہے کہ عمیر بن اسحاق اہل مدینہ کا ہے اور امام مالک بن انس جیسا اپنے وقت کا محدث اعظم ان سے نا واقف تھے ) 4441 - سألته عن عمير بن إسحاق فقال حدث عنه بن عون فقلت له حدث عنه غير بن عون فقال لا ثم قال سألوا مالكا عنه فقال لا أعرفه قال أبي وهو مديني (الكتاب: العلل ومعرفة الرجال المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) امام ابن سعد : خود امام ابن سعد نے طبقات میں اس راوی کا ترجمہ بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں : کہ عمری بن اسحاق اہل مدینہ والوں میں سے تھے اور بصرہ بھی جاتے اور ان سے روایت کیا ہے بصریوں میں سے ابن عون وغیرہ نے اور ان سے اہل مدینہ میں سے کسی نے کچھ بھی روایت نہین جبکہ عمیر بن اسحاق حضرت ابو ھریرہ سے بیان کرتے ہیں (نوٹ: یہ بات اہم ہے کہ یہ اہل مدینہ سے تھے لیکن اہل مدینہ میں سے کوئی بھی اس سے کچھ بھی روایت نہیں کرتا تھا اس میں یہ شک بھی پیدا ہو تا ہے کہ کہیں یہ اہل تشیع میں سے نہ ہو یا رافضی ہو کہ اہل مدینہ جو اسکے علاقے کے تھے وہ اس سے اجتناب کرتے ) عمير بن إسحاق كان من أهل المدينة، فتحول إلى البصرة فنزلها، فروى عنه البصريون، ابن عون وغيره، ولم يرو عنه أحد من أهل المدينة شيئا، وقد روى عمير بن إسحاق عن أبي هريرة وغيره (الكتاب: الطبقات الكبرى المؤلف: أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع الهاشمي بالولاء، البصري، البغدادي المعروف بابن سعد (المتوفى: 230هـ) اب آتے ہیں اگلے اعتراض پر کہ امام ابن معین نے انکو ثقہ قرار دیا ہے امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں : نا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق فيما كتب إلى قال أنا عثمان بن سعيد قال قلت ليحيى بن معين عمير بن اسحاق كيف حديثه؟ فقال ثقة. کہ عثمان بن سعید الدارمی کہتے ہیں کہ : میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کہ عمیر بن اسحاق کا حدیث میں کیسا حال ہے ؟ فرمایا ثقہ ّ(الجرح والتعدیل ) الجواب: عرض یہ ہے کہ اما م ابن معین سے یہ قول امام ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے اور امام ابن ابی حاتم نے اپنے والد سے اسکے بارے میں لا علمی بیان کی ہے وہ لکھتے ہیں : 2074 - عمير بن اسحاق أبو محمد مولى بنى هاشم سمع ابا هريرة وعمرو ابن العاص والحسن بن علي روى عنه ابن عون ولا نعلم روى عنه غير ابن عون سمعت أبي يقول ذلك امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں :کہ ان سے سوائے ابن عون کے اور کوئی روایت نہیں کرتا اور بس اتنا سنا اپنے والد سے اب آتے ہیں امام ابن معین کے قول کی طرف : امام ابن معین سے عمیر کی توثیق بیان کرنے والے امام ابن معین کے غیر مستقل شاگرد امام عثمان بن سعید الدارمی ہیں اور امام ابن معین سے اس پرجرح بیان کرنے والے شاگرد قدیم اور زیادہ صحبت پانے والے مستقل شاگرد امام الدوری ہیں اور اس بات پر محدثین کا اتفاق ہے کہ امام ابن معین کے اقوال میں اختلاف کی صورت میں اما م الدوری کی طرف رجوع کیا جائےگا اور جو انہون نےروایت کیا ہوگا اسکو فوقیت ہوگی امام امام الدوری اپنی کتاب تاریخ ابن معین مین کیا لکھتے ہیں : 4209 - سَمِعت يحيى يَقُول كَانَ عُمَيْر بن إِسْحَاق لَا يُسَاوِي شَيْئا وَلَكِن يكْتب حَدِيثه قَالَ أَبُو الْفضل يَعْنِي يحيى بقوله إِنَّه لَيْسَ بِشَيْء يَقُول إِنَّه لَا يعرف وَلَكِن بن عون روى عَنهُ فَقلت ليحيى وَلَا يكْتب حَدِيثه قَالَ بلَى (تاریخ ابن معین روایہ الداوی) کہ مین نے امام ابن معین سے سنا کہ عمیر بن اسحاق کسی قابل نہیں ہے اسکی روایت لکھی جائے اور ابو فضل کہ جب وہ کسی کے بارے کہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے اسکا مطلب ہوتا ہے وہ انکو نہیں جانتے پہچانتے لیکن ان سے تو ابن عون روایت کرتے ہیں تو میں نے پوچھا ابن معین سے کہ کیا میں اسکی حدیث نہ لکھون ؟ تو فرمایا ہاں اب اس آخری عبارت سے یہ معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ امام ابن معین لکھنے کا کہہ رہے ہیں ہاں سے یا نہ لکھنے کا لیکن کیونکہ پچھلی عبارت موجود ہے تو یہاں امام ابن معین یکتب حدیثہ کے بارے میں ہاں کا جواب ہی دے رہے ہیں کہ اسکی روایت لکھی جائے اور جب کسی راوی کے بارے مین یکتب حدیثہ آجائے تو اسکی روایت متابعت و شواہد میں قبول ہوتی ہے یہ تو بالکل سیدھی سی بات ہے اور ثقہ کے الفاظ کیونکہ ابن معین کے غیر مستقل شاگرد نے بیان کیے ہیں اور معلوم نہیں کہ امام ابن معین کیسے ایک ایسے راوی کو ثقہ قرار دے سکتے ہیں ؟ جبکہ انکے ہم عصر امام احمد بن اسکو نہ جانتے ہوں ، خود انکا مستقل شاگرد بھی یہی بیان کرے ، اور امام مالک جو ان سے بہت پہلے کے ہین اور اہل مدینہ میں سے تھے وہ بھی اسکے بارے نہ جانتےتھے تو امام ابن معین تو قلیل الروایت والے کو ثقہ کہتے ہی نہیں بلکہ لیس بشئی کہہ دیتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ۲،۳ روایت والے کو ثقہ جیسی صریح توثیق کر دیں یہ امام ابن معین کے منہج کے خلاف عبارت معلوم ہو رہی ہے کیونکہ امام الدوری نے امام ابن معین سے اپنی کتاب میں ایک اور بات بھی بن عون کی عمیر بن اسحاق کے حوالے سےکہی ہے جو کہ ہے : 3353 - سَمِعت يحيى يَقُول قد حدث بن عون عَن قَوْلهم لم يحدث عَنْهُم غَيره عُمَيْر بن إِسْحَاق ومسكين الْكُوفِي وَأبي مُحَمَّد عبد الرَّحْمَن بن عبيد (تاریخ ابن معین روایت الدوری) میں نے یحی سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عون نے انکے اقوال سے وہ بیان نقل کیا ہے جو کہ دیگر نقل نہیں کرتے مطلب ابن عون ان تین حضرات سے تنہا روایت کرتے ہیں ان سے سب روایت کرنے کرنے میں منفرد ہیں جبکہ بقول ابن سعد اہل مدینہ نے عمیر سے کچھ بھی بیان کرنے سے توقف کیا ہے امام ابن عدی: وہ بھی انکو الضعفاء میں درج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اسکی روایت (متابعت و شواہد) میں لکھنی چاہیے وہ بھی سیرمیں وعمير بن إسحاق لا أعلم يروي عنه غير بن عون، وهو ممن يكتب حديثه وله من الحديث شيء يسير. (الکامل فی الضععفاء) اگلا اعتراض : کہ امام حاکم نے انکی روایت کو اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ سند صحیحین کی شرط پر صحیح ہے اور امام ذھبی نے موافقت کی ہے الجواب: پہلی بات یہ ہے کہ صحیحین کے شیخین نے اس سے کوئی روایت لی نہیں ہے اجتیہاد میں اور امام ذھبی نے بھی موافقت کر دی اس سے معلو م ہوا کہ امام ذھبی کو یہاں تسامع ہوئے ہیں جیساکہ انکے مستدرک میں تسامہات پر کتاب لکھی جا چکی ہے اورانہوں نے مستدرک کی تلخیص میں اپنے رجال کی کتب میں حکم کے خلاف باتیں لکھ دیں تو اس کے لیے دیکھنا پڑے گا کہ امام ذھبی کے نزدیک عمیر بن اسحاق کا کیا مقام ہے جس سے واضح ہو جائے گا کہ یہاں واقعی تسامع ہے امام ذھبی : المغنی فی الضعفاءمیں عمیر بن اسحاق کی توثیق کو وثق کے الفاظ سے غیر معتبر قرار دیا ہے جو کہ ہماری بات کی تائید ہے اور امام ابن معین سے بیان کیا ہے کہ یہ کسی قابل نہین ہے 4735 - س / عُمَيْر بن إِسْحَاق شيخ ابْن عون وثق وَقَالَ ابْن معِين لَا يسواي حَدِيثه شَيْئا (المغنی فی الضعفاء امام ذھبی) اور اسی طرح میزان الاعتدال میں بھی امام ذھبی نے عمیر بن اسحاق کی امام نسائی اور ابن حبان سے توثیق نقل کرتے ہوئے بھی اسکی توثیق کو غیر معتبر قرار دے دیا ہے جس بات پر مخالف ایک ٹانگ پر ناچ رہے تھے امام ذھبی نے بھی اس توثیق کو غیر معتبر قرار دے دیا ہے وہ میزان میں لکھتے ہیں : 6485 - عمير بن إسحاق [س] . وثق. ما حدث عنه سوى ابن عون. وقال يحيى بن معين: لا يساوى حديثه شيئا، لكن يكتب حديثه. هذه رواية عباس عنه. وأما عثمان فروى عن يحيى أنه ثقة. وقال النسائي وغيره: ليس به بأس. روى عن المقداد بن الأسود، وعمرو بن العاص، وجماعة. (میزان الاعتدال امام ذھبی) خلاصہ تحقیق: عمیر بن اسحاق کو ابن حبان (متساہل ) نے ثقات میں درج کیا اور روایت بھی لی اور امام حاکم (متساہل ) نے ضمنی توثیق کی اور امام مزی نے امام نسائی سے (غیر معتبر) توثیق منسوب کی ہے اور ہم نے ثابت کیا دلائل سے کہ امام ابن حبان متساہلین میں سے ہیں اور امام حاکم متفقہ تو انکی ضمنی توثیق کا کوئی فائدہ نہیں اور امام نسائی نے خود اپنی تین تصانیف میں عمیر بن اسحاق کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سوائے ابن عون کے اور کوئی روایت نہین کرتا اور باقی امام ابن معین سے مروی توثیق امام ابن معین کے مقدم شاگرد اور مستقل امام الدوری سے مروی قول کے خلاف ہونے کی وجہ سے شاز ہے کیونکہ مقدم اما م الدوری کا قول ہوگا محدثین کے تحت اور عمیر بن اسحاق کو مجہول کہنے والے مندرجہ ذیل امام ہیں ۱۔ امام مالک بن انس ۲۔ امام یحییٰ بن معین ۳۔ احمد بن حنبل ۴۔ امام عقیلی ۵۔امام ابی حاتم ۶۔ اما م ابن عدی ۷۔ امام خطیب بغدادی ۸۔امام ابن سعد ۹۔ امام ذھبی ۱۰۔امام ابن حجر عسقلانی ۱۱۔علامہ شیخ شعیب الارنووط تو اتنے جمہور محدثین تو متقدمین سے ایسے راوی سے انجان تھے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امام ابن معین جو کسی راوی کی توثیق آسانی سے نہیں دیتے وہ ایک دو روایت کرنے والے کو ثقہ کہہ دیں اور جمہور محدثین متقدمین سے متاخرین تک اس سے لا علم ہی رہے اور سوائے ابن عون سے اسکو کوئی بیان نہیں کرتا اور امام ابن معین کی تصریح ہے کہابن عون عمیر سے وہ روایت بیان کرتا ہے جو انکے علاوہ باقی سب توقف کرتے ہیں اور امام ابن سعد کا بھی یہی کہنا ہے تحقیق: دعا گو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
  4. جناب نے دو متابعت بیان کی ہے وہ تو بالکل اسکے متن کے برعکس اور حقیقت کے بالکل منافی ہے جیسا کہ اس سے متن میں اضطراب پیدا ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے پچھلے راوی کو بھی ضعیف نہیں کہا تھا فقط اسکی نکارت کی طر ف نظر کی تھی لیکن اسکی متابعت آپ نے پیش کی ہے لیکن سند میں بہت ہی زیادہ باطل الفاظ موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے راویوں نے اپنے من پسند الفاظ ملا کر واقعے کو چٹخارے دار بنانے کی کوشش کی ہے اور مناظرے اور مخالف کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا محدثین کے ہاں عام بات تھی کیونکہ وہ ان واقعات کو بیان کرنے میں روایت حدیث جیسی احتیاط نہیں برتتے تھے ۔۔۔ اب آتے ہیں آپکے پیش کیے گئے متن کی طرف آپکی پیش کی گئی سند صحیح میں امام شافعی امام محمد بن الحسن کے حوالے سے فرماتے ہیں : مَا كَانَ يَنْبَغِي لِصَاحِبِنَا أَنْ يَسْكُتَ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ: کہ ہمارے امام (ابی حنیفہ) خاموش نہیں ہوتے اور تمہارے امام (مالک) بولتے نہیں اسکے بعد آپکے پیش کیے گئے متن میں جو الفاظ خطرناک ہیں وہ یہ ہیں قُلْتُ: فَنَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَتَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَكَ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ، كَانَ جَاهِلا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: نَعَمْ:امام شافعی کہتے ہیں : میں نے کہا میں آپکو اللہ کا واسطہ دیکر پوچھتا ہوں کہ آپکے امام یعنی ابی حنیفہؓ کہ وہ کتاب اللہ یعنی قرآن قریم کے جاہل تھے؟ محمد بن حسن نے کہا : ہاں جبکہ امام ابی حنیفہ کو قرآن سے جاہل بتایا جا رہا ہے اس متن میں یہ متعصب راویان کا کمال نہیں تو کیا ہو سکتا ہے ؟ مزید آگے آپکی پیش کردہ متن میں ہے : قُلْتُ: وَكَانَ جَاهِلا بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاهِلا بِاخْتِلافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ، قَالَ: نَعَمْ. امام شافعی فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ آپکے امام (ابی حنیفہ) حدیث رسول سے جاہل تھے ؟ اوار اختلاف اصحاب رسولﷺ س ےجاہل تھے ؟ امام محمد نے فرمایا: جی ہاں اب کوئی انصاف پسند بندہ یہ واقعہ پڑھ کر بہت ہی آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ اس واقعے کا پہلے متن میں تو امام ابو حنیفہ کو امام مالک سے کم علم ثابت کیا لیکن اس متن میں تو پورا رگڑا لگا دیا امام اعظم پر انکو کتاب اللہ ، حدیث رسول اور اختلاف اصحاب یعنی آثار کا بھی جاہل بنا دیا اور ظلم یہ کہ یہ بات امام محمد بن الحسن الشیبانی سے قبول کروائی جا رہی ہے متن میں جنکی ساری عمر فقہ حنفی کی تدوین اور تصانیف اور اصول مدون بیان کرنے میں گزری اور جنہوں نے اپنی زندگی میں امام مالک کے رد پر کتب تصنیف کی وہ اگر امام ابو حنیفہ کو امام مالک کے سامنے جاہل مانتے تو انکی ساری دوسری کتب باطل ثابت ہوئیں جس میں وہ اثار اور احادیث بیان کر کے امام اعظم کے استدلال کو مقدم کرتے ہیں تو معلوم ہوا امام محمد کی کتب نہیں بلکہ یہ واقعہ ہی باطل ہیں اپنے موقف کو مذید پختہ کرنے کے لیے ہم آپکو یہ واقعی ایک اور سند سے عبدالحکم ہی سے بیان کرتے ہیں جس میں الفاظ بالکل مختلف اور متن بھی مختصر لیکن اس میں ایک ایسی چیز بیان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مناظرہ کی نوبت آئی ہی نہیں تھی بلکہ امام محمد نے سوال کیا بھی ہوگا تو امام محمد نے جب یہ کہا کہ ہمارے امام چپ نہیں رہتے اور آپکے امام بولتے نہیں (قیاس اور اجتیہاد نہیں کرتے) تو امام شافعی کی تصریح ہے کہ مجھے غصہ آگیا ، اور غصے میں کہے گئے الفاظ حق نہیں ہوتے ہیں نیز کوئی یہ کہے کہ انکی موافقت امام محمد نے کی ہے تو امام محمد نے انکے غصے کو ٹھنڈا کرنے یا واقعے کو مذید بڑھنے کے اجتناب کے لیے موافقت کی ہو چونکہ راویان جیسے جیسے اس واقعے کے تبدیل ہوتے متن سارا تبدیل ہوتا جاتا ہے لیجیے الانتفاء کا متن : أخبرنا خلف بن قاسم نا قاسم بن محمد قال نا خالد بن سعد قال نا عثمان بن عبد الرحمن قال نا إبراهيم بن نصر قال سمعت محمد بن عبد الله بن عبد الحكم يقول سمعت الشافعي يقول قال لي محمد بن الحسن صاحبنا أعلم من صاحبكم يعني أبا حنيفة ومالكا وما كان على صاحبكم أن يتكلم وما كان لصاحبنا أن يسكت قال فغضبت وقلت نشدتك الله من كان أعلم بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم مالك أو أبو حنيفة قال مالك لكن صاحبنا أقيس فقلت نعم ومالك أعلم بكتاب الله تعالى وناسخه ومنسوخه وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم من أبي حنيفة فمن كان أعلم بكتاب الله وسنة رسوله كان أولى بالكلام خلف بن قاسم بیان کرتے ہیں : امام شافعی کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک مرتبہ امام محمد نے مجھ سے کہا ہمارے استاد تمہارے استاد سے بڑے عالم تھے ، ان کی مراد امام ابو حنیفہؓ اور امام مالک تھے کیونکہ تمہارے استاد بولتے نہیں تھے اور ہمار ےاستاد خاموش نہیں ہوتے تھے ، امام شافعی کہتے ہیں : مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا : آپکو اللہ کا واسطہ دیکر پوچھتا ہوں سنتکا بڑا عالم کون تھا ، امام مالک یا امام ابو حنیفہؓ؟ تو امام محمد نے کہا : امام مالک پھر امام محمد نے کہا : لیکن ہمارے استاد زیادہ اجتیہاد و قیاس کرنے والے تھے میں (شافعی) نے کہا :ٹھیک ہے لیکن امام مالک اللی کیتا اور ناسخ و منسوخ ، اور رسول کی سنت (حدیث) میں امام ابو حنیفہ سے زیادہ بڑے امام تھے اور جو شخص اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کے بارے میں زیادہ علم رلکھتا ہے وہ کلام کرنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے اس واقعے کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ کچھ حقیقت کے نزدیک ہے اور اس میں امام محمد نے نہ ہی قرآن کی لا علمی اور ناسخ و منسوخ میں امام شافعی سے موافقت کی ہے اور امام شافعی نے چونکہ امام ابو حنیفہ کو کتاب اللہ اور حدیث رسول میں کم مانا امام مالک سے لیکن چونکہ امام شافعی امام ابو محمد سے اپنی زندگی کے ابتدائی دور جس میں انکی عمر ۲۰ سال بھی مشکل سے تھی تب ملے تھے اور امام شافعی نے جب امام محمد کی شاگردگی کے بعد انکی کتب جو کہ انکا بیان ہے ایک اونٹ برابر وزن کے لیا تھا جب انکو پڑھا پھر وہ اس بات کے قائل ہو گئے کہ تمام لوگ (سمیت امام مالک کے) فقہ میں اہل عراق(یعنی امام ابو حنیفہ و صاحبین) کے بچے ہین اور اہل عراق سے مراد صرف اور صرف فقیہ امام ابو حنیفہ ہی مشہور تھے اگر کوئی کہے سفیان الثوری تو اسکا انصاف سے جواب یہ ہے کہ وہ حدیث کے زیادہ بڑے ماہر تھے لیکن فقہ میں امام سفیان نے امام ابی حنیفہ کی ہی زیادہ تر موافقت کی ہے اور فقہ میں سفیان الثوری امام محمد و امام یوسف کے بھی ہم پلہ نہ تھے امید ہے جناب کو شوافع راویان کی بیان کردہ حکایات کا علم ہو گیا ہوگا۔۔۔۔ کہ کیسے کیسے الفاظ تبدیل کر کے اپنے شیخ اور پھر انکے شیخ کی عزت بڑھا دیتے لیکن اللہ انکو معاف کرے جب تعصب اور مقابلے بازی اور مناظرے کی بات آجائے تو دونوں طرف سے ایسا ہوتا ہے
  5. جناب اس پوسٹ میں مجھ سے غلطی ہوئی تھی سند پڑھتے ہوئے مجھ سے خطاء ہو گئی تھی جو کہ میں یہاں تصحیح کر دیتا ہوں اپنے فیسبک پیج کمنٹس میں تصحیح کی تھی لیکن یہاں تصحیح کرنا بھول گیا تھا آپ نے آج ٹیگ کیا تو بیان کر دیتا ہوں امام عقیلی نے الضعفاء الکبیر میں جو امام شعبہ سے لعنت کی جرح کی سند لکھی ہے وہ پچھلی سند جرح جو کہ انہوں نے امام مالک سے نقل کی تھی جس میں ولید بن مسلم تھا سند وہاں سے متصل ہے جیسا کہ امام عقیلی نے پہلے امام ابو حنیفہ پر اپنی سند جو کہ متصل ہے اس سے امام ابو حنیفہ پر جرح نقل کی ہےجسکی سند و متن کچھ یوں ہے (جو دارالکتب العلمة کا ہے) حدثنا عبد الله بن أحمد قال: حدثنا إبراهيم بن عبد الرحيم، حدثنا أبو معمر، حدثنا الوليد بن مسلم قال: قال لي مالك بن أنس: يذكر أبو حنيفة ببلدكم؟ قال: قلت: نعم , قال: ما ينبغي لبلدكم أن تسكن. اسکے بعد امام عقیلی امام شعبہ سے جو جرح نقل کی ہے اسکی سند یوں ہے : وقال: حدثنا أبو بكر الأعين قال: حدثنا منصور بن سلمة أبو سلمة الخزاعي قال: سمعت حماد بن سلمة , وسمعت شعبة يلعن أبا حنيفة. امام عقیلی نے اگلی سند قال کے صیغے سے لکھی ہے جسکی ضمیر امام عبداللہ بن احمد کی طرف تھی اور میں نے غلطی سے اسکو ولید بن مسلم پر لٹا دی جبکہ امام ولید بن مسلم امام عقیلی اور امام عبداللہ بن احمد سے بھی پہلے کہ محدث اور امام شافعی کے ہمعصر ہیں جبکہ یہ قال سے مراد امام عبداللہ بن احمد ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ الضعفاء کے نسخوں میں اختلاف ہے سند میں بھی اور متن میں بھی جیسا کہ الضعفا الکبیر کے ایک نسخے میں سند کچھ یوں ہے حدثنا محمد بن ابراہیم بن جناد ، قال حدثنا ابو بکر الاعین قال: حدثنا منصور بن سلمة ابو سلمة الخزاعی ، قال:سمعت حماد بن سلمة یلعن ابا حنیفة و سمعت شعبة یلعن ابا حنیفة یعنی ایک نسخے میں سند عبداللہ بن احمد سے شروع ہو رہی ہے اور وہ ابو بکر الاعین سے بیان کر رہے ہیں جبکہ دوسرے نسخے میں سند محمد بن ابراہیم جناد سے شروع ہو رہی ہے اور وہ ابو بکر الاعین سے بیان کر رہے ہیں اور یہاں تعین نہیں ہو سکتا ہے کہ اصل اور صحیح سند کونسی والی ہے ؟ لیکن چونکہ امام عبداللہ بن احمد ہی ابو بکر الاعین کے شاگرد خاص جیسا کہ وہ اکثر روایات اپنے شیخ ابو بکر الاعین سے بیان کرتے رہتے ہیں اور کتاب السنہ جس میں زم ابی حنیفہ کا باب کسی فاسق نے ڈال دیا جبکہ اسکے ۶ نسخے ہیں اور ۵ نسخوں میں زم ابی حنیفہ کا باب ہی نہیں ہے لیکن صرف ایک نسخے میں ابی حنیفہ پرجروحات کاباب باندھا گیا ہے ہم نے جب اس کتاب میں رجوع کیا کہ شاید اس میں یہ جرح موجود ہو کیونکہ امام عبداللہ بن احمد ابو بکر الاعین کے شاگرد ہیں اور کسی فاسق نے جب انکی کتاب میں ابی حنیفہ کے خلاف جروحات ڈال دی جو دوسری کتب میں موجود ہوتی ہیں تو یہ جرح بھی کتاب السنہ جو منسوب ہیں امام احمد کی طرف اس میں موجود ہے لیکن اسکے متن میں ایک ایسا بنیادی فرق ہے جو عیاں کرتا ہے کہ الضعفاء الکبری میں جو متن ہے وہ باطل ہے یا اسکے متن میں تحریف کی گئی ہے جیسا کہ الضعفاء کے کتاب کے محقق نے حاشیے میں تصریح کی ہے کتاب السنہ میں اسکی سند اور متن کچھ یوں ہے 345 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، «يَلْعَنُ أَبَا حَنِيفَةَ» ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَكَانَ شُعْبَةُ " يَلْعَنُ أَبَا حَنِيفَةَ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ یہاں عبداللہ بن احمد سے حدثنی سے ابو بکر الاعین ہے اور وہ منصور سے اور وہ حماد بن سلمہ سے منصور کا سننا بیان کر رہے ہیں کہ حماد بن سلمہ ابی حنیفہ پر طعن کرتے تھے اور آگے ہے کہ ابو سلمہ نے کہا کہ شعبہ بھی ابی حنیفہ پر طعن کرتے یہاں کان کا لفظ ہے سمعت کا نہیں اور چونکہ اس کتاب میں تحریف کی گئی دوسری کتب سے سند چوری کر کے اس کتاب میں لکھی گئی ہیں تو تحریف کرنے والے نے سند تو امام عبداللہ سے ویسی لکھی ہے اور متن بھی وہی لکھا جو کہ اسکو دوسری کتب میں ملا ہوگا جس سے ثابت ہو ا کہ الضعفاء والی کتاب میں متن میں غلطی ہے کہ سمعت شعبہ لکھا گیا ہے اور یہ غلطی اصولی طور پر بھی ثابت ہے کیونکہ منصور بن سلمہ کا سماع امام شعبہ سے ثابت ہی نہیں ہے کسی نے بھی انکے شیوخ میں امام شعبہ کا نام نہیں لکھا ہے جیسا کہ امام ابن حجر نے تہذیب میں انکے ترجمے میں لکھا ہے : 538- "خ م مد س - منصور" بن سلمة بن عبد العزيز بن صالح أبو سلمة الخزاعي الحافظ البغدادي روى عن عبد الله بن عمر العمري ويعقوب بن عبد الله العمي وعبد الرحمن بن أبي الموال ومالك وسليمان بن بلال والوليد بن المغيرة المعافري وحماد بن سلمة وعبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون وعبد الله بن جعفر المخرمي وخلاد بن سليمان وبكر بن مضر وغيرهم روى عنه أحمد بن حنبل ومحمد بن أحمد بن أبي خلف وحجاج بن الشاعر ومحمد بن إسحاق الصغاني ومحمد بن عبد الرحيم البزاز ومحمد بن عامر الأنطاكي أبو بكر بن أبي خيثمة وأبو أمية الطرسوسي وعباس بن محمد الدوري وغيرهم قال أبو بكر الأعين عن أحمد أبو سلمة الخزاعي من مثبتي أهل بغداد (تہذیب التہذیب) اس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کہیں بھی شعبہ کا ذکر نہیں ہے امام یحییٰ بن معین کا سماع نہیں ہے جو منصور بن سلمہ کی توثیق کرتے ہیں تو منصور بن سلمہ کا سماع امام شعبہ سے کیسے ثابت ہے جبکہ یہ اتنے بڑے اور مشہور امام ہیں کہ محدثین انکا نام منصور کے شیوخ میں لکھنے سے بالکل نہ چوکتے یہی وجہ ہے کہ امام شعبہ سے امام یحییٰ بن معین توثیق بیان کرتے تھے اور بڑا فخر کرتے تھے کیونکہ امام شعبہ اور امام ابو حنیفہ کے آپس میں بہت اچھے تعلقات تھے اور دونوں کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہتی تھی جسکا ذکر امام ابن معین کی کتب التاریخ میں بروایت الدوری ملتا ہے باقی رہا مسلہ یہ ہے کہ حماد بن سلمہ تو لعنت کرتے تھے ابی حنیفہ پر اور اما م شعبہ کا نام تو بیان کرتے ہیں تو اسکا جواب یہ ہے کہ حماد بن سلمہ اور امام ابی حنیفہ یہ دونوں امام حماد بن ابی سلیمان کے شاگرد تھے دونوں ہم عصر تھے اور حماد بن سلمہ امام ابی حنیفہ سے غضب کا تعصب بلکہ دشمنی رکھتا تھا اور امام ابی حنیفہ لوگوں کے سامنے طعن اور بدعائیں دیتا تھا ۔۔ اور امام ابن معین کو جب لوگ حماد بن سلمہ کی شکایات کرتے تو وہ حماد بن سلمہ کی مذمت کرتے تھے ۔۔۔ جیسا کہ سوالات ابن الجنید میں درج ہے : (181) قال أبو داود النحوي سليمان بن معبد ليحيى بن معين:حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: سمعت حماد بن سلمة يقول: أعض الله أبا حنيفة بكذا وكذا، لا يكني، فقال ابن معين: «أساء أساء» . سلیمان بن مبعد نے امام یحییٰ بن معین سے کہا : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے کہا انہوں نے حماد بن سلمہ کو کہتے ہوئے سنا : اللہ ابو حنیفہ کی فلاں فلاں چیز کاٹ دے اور یہ بات کنایتہ نہیں کہی گئی تو امام ابن معین فرماتے تھے اس نے برا کہا برا کہا جب ایسا غضب کا دشمن ابی حنیفہ پر طعن لعن کریگا تو اس میں کونسی حیرانگی ہے نیز امام شعبہ کے طرف یہ بات تعصب اور دشمنی میں منسوب کر سکتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے اسکی تائید الکامل ابن عدی کی روایت کردہ تعدیل سے ہوتی ہے جو انہوں نے باسند صحیح اپننی الکامل میں نقل کی ہے امام شعبہ سے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے لیے حسن الرائے کے قائل تھے اور یہ بات امام شعبہ سے انکا مستقل شاگرد شبابہ بیان کر رہے ہیں
  6. *شمشادنامی غیر کے مقلد کی کا دعویٰ کہ امام اعظم اما م مالک سے ہر علم میں کم تھے اور اسکی پیش کردہ دلیل پر تحقیقی نظر* غیر کا مقلد پہلے ایک روایت جو کہ امام شافعی سے منسوب ہے اسکو نقل کرنے سے پہلے ایک پھکی بنا کر لکھتا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول فقہ کا بانی سمجھا جاتاہے اب اس بانی اصول الفقہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہوتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں: امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال سمعت الشافعي قال لي محمد بن الحسن: أيهما أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ يعني أبا حنيفة ومالك بن أنس، قلت: على الإنصاف؟ قال: نعم، قلت: فأنشدك الله من أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم يعني مالكاً، قلت: فمن أعلم بالسنة؟ صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: اللهم صاحبكم. قلت : فأنشدك بالله من أعلم بأقاويل أصحاب محمد صلى الله عليه وعلى آله وسلم صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم، قلت: فلم يبق إلا القياس والقياس لا يكون إلا على هذه الأشياء فمن لم يعرف الأصول فعلى أي شيء يقيس؟!!!! [الجرح والتعديل موافق 1/ 12 واسنادہ صحیح] ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟ محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔ امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں قران وحدیث ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص (ابوحنیفہ) اصول یعنی قران و حدیث سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟؟؟ گھوپو پھر روایت پر اپنا خلاصہ بھی لکھتا ہے کہ : اس پورے کام میں غورکریں گے توصاف معلوم ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ حدیث (نصوص کتاب وسنت) کا جانکار ہوگا، اسی لئے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قران و حدیث میں کم علم کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی امام مالک رحمہ اللہ سے کمزور بتلایا ہے الجواب: اس غیر کے مقلد شمشاد نامی کو چاہیے تھا کہ یہ کہتاکے امام الحسن بن شیبانی ؒ جو خود حنفی ہیں وہ امام اعظم کو امام مالک سے ہر علم میں کم سمجھ رہے ہیں جبکہ متن میں بھی اقرار تو امام محمد بن حسن کر رہےہین امام شافعی نے تو اپنے منہ سے کچھ نہ بولا لیکن اس جاہل کو متن سمجھنے کی بھی تمیز نہیں اور اگر ہوگی بھی تو اس نے بات امام شافعی کی طرف لٹا دی ہے خیر اب ہم اسکا تحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اس روایت کا متن ہی اس روایت کو باطل بنانے کے لیے کافی ہے امام محمد بن الحسن الشیبانی جو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے شاگرد بنے پھر مدینہ امام مالکؒ کے پاس ۳ سال تک رہے اور انکی الموطا یاد کی ہے پھر وہ امام اعظمؒ کی شاگردی اختیار کی واپس آکر اور اپنی وفات تک فقہ حنفی کی تدوین کرتے رہے انہوں نے فقہ حنفی کی تائید اور تدوین میں سب سے زیادہ کتب تصنیف کی ہیں وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام اعظم معاذاللہ قرآن کا علم بھی حدیث کا علم اور اثار کا علم بھی نہیں رکھتے تو اللہ انکو امت کا سب سے بڑا فقیہ امام کیسے بنا دیا ؟ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی جو خود موطا روایت کرتے ہیں امام مالک سے وہ بھی نیچے امام ابو حنیفہ ؓ سے مروی اثار لکھ کر کہتے ہیں ہمارا اس پر عمل ہے وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک ہر علم میں امام اعظم سے مقدم ہیں ؟ نیز امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو امام مالک کے رد پر مکمل کتاب تصنیف کی ہے جسکا نام انہوں نے الرد علی اہل مدینہ کے نام سے لکھی اگر وہ انکو ہر علم میں مقدم سمجھتے تو امام اعظم کی تائید اور دفاع میں امام مالک کے خلاف کتاب کیسے لکھتے ؟؟ امام شافعی کا فیصلہ! امام شافعی ؒ تو خود اپنے تما م تمام شیوخ جن میں امام مالک بھی شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر فقہ کے باب میں سب سے زیادہ احسان امام محمد بن الحسن الشیبانی الحنفیؒ نے کیا ہے (تاریخ اسلام و سند صحیح ) امام شافعی تو امام محمدبن الحسن کو اما م مالک پر فوقیت دیتے تھے وہ کس طرح یہ سمجھتے ہوں کہ : امام ابو حنیفہ امام مالک سے ہر علم میں کم ہیں نیز پھر اما م محمد بن الحسن کا بھی یہی کہنا ہو؟ نیز اسکو امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب آداب مناقب میں نقل کیاہے اور اس میں امام ابن ابی حاتم نے تعصب کی وجہ سے امام شافعی سے انکی زندگی کے آغاز میں امام اعظم اور صاحبین کے خلاف کہے گئے اقوال زیادہ نقل کیے اور اما م شافعی کی طرف سے امام اعظم کی مداح و ثناء میں اقوال نہ ہونے کے برابر لکھے ہیں اور اسی کتاب میں سند صحیح کےساتھ موجود ہے کہ امام شافعی کہتے ہیں رائے یعنی قیاس کوئی چیز ہے تو اس میں تمام لوگ اہل عراق (یعنی امام اعظم و صاحبین ) کے سب بچے ہیں پھر اپنی زندگی کے آخری حصے میں تھے تو کہتے تھے کہ : فقہ میں تما م لوگ بال بچے ہیں اہل اعراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) کے امام اعظم تو فقہ کے باب مین سب کو امام اعظم و صاحبین کے بال بچے سمجھتے تھے وہ کیسے امام مالک کو مقدم کر سکتے تھے فقہ میں امام ابو حنیفہ پر ؟ جبکہ انکے نزدیک تو امام محمد بن الحسن الشیبانی بھی اما م مالک سے مقدم تھے فقہ کے باب میں اوردوسری بات امام مالک خود امام ابو حنیفہ کو بے نظیر فقیہ مانتے تھے اسی کتاب آداب الشافعی میں امام ابن ابی حاتم با سند صحیح سے لکھتے ہیں کہ : امام شافعی نے اما م مالک سے پوچھا کہ آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہوا ہے ؟ تو امام مالک نے کہا بیشک میں نے اسے دیکھا ہوا اسکے پاس دلائل کا اتنا انبار ہوتا ہے وہ ایک مٹی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہے تو کئی دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں امام مالک کا امام عظم کے بارے یہ مشہور قول بھی ابن ابی حاتم نے ہضم نہ ہوا اور پیٹ میں مروڑ اٹھے جسکے بائث انہوں نے لکھا کہ امام مالک کی مراد تھی کہ امام ابو حنیفہ غلط ہونے پربھی ڈٹے رہتے (معاذاللہ استغفار) جبکہ امام اعظم کا اپنا قول صحیح سند سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں اے ابو یوسف: تم میرے منہ سے نکلی ہر بات نا لکھ لی کروکیونکہ میں اکثر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتا ہوں صبح ایک فیصلہ ہوتا ہے تو رات کو رجوع کر چکا ہوتاہوں نتیجہ: اس سے معلوم ہوا کہ اما م اعظم بہت محتاط اور دلائل پر گہری نظر رکھنے والے امام تھے کہ انکو اپنے اجتیہاد کے خلاف کوئی روایت مل جاتی تو فورا اپنا قیاس رد کر دیتے اور روایت کو قبول کر لیتے اور دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اما م اعظم اپنے تمام شاگردوں کو اپنی اجازت سے لکھواتے تھے بغیر اجازت امام ابو یوسف کو بھی لکھنے سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام اعظم اپنے کسی بھی فیصلے پر جب مدلل تحقیق کر چکے ہوتے تو تب لکھواتے یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں باقی فقہ کی طرح اقوال میں تکرار نہیں ہے اب آتے ہیں اسکی سند کی طرف: اسکی سند بظاہر صحیح ہے لیکن بظاہر ہر سند صحیح ہونے سے متن صحیح نہیں ہو جاتا ہے اہل علم جو اصول حدیث جانتے ہیں وہ یہ بات خوب سمجھتے ہیں تو ہم اس روایت کی سند میں متعدد علتیں پیش کرتے ہیں : ۱۔یہ واقعہ جو مناظرے کا ہے امام شافعی اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کا اسکو بیان کرنے والا فقط ایک راوی ہے جس پر اس قصے کا دارومدار ہے اور اسکا نام ہے محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم یہ خود امام مالک کے مذہب پر تھا اور امام شافعی کے بھی اور متشدد بھی تھا اسکا ترجمہ بیان کرتےہوئے امام ابن ایبک الصفدی (المتوفیٰ ۷۶۴ھ) کیا فرماتے ہیں دیکھتے ہیں : ابن عبد الحكم الشافعي محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن أعين بن ليث الإمام أبو عبد الله المصري الفقيه أخو عبد الرحمن وسعد لزم الشافعي مدة وتفقه به وبأبيه عبد الله وغيرهما روى عنه النسائي وابن خزيمة وثقه النسائي وقال مرة لا بأس به وكان الشافعي معجبا به لذكايه وحرضه على الفقه وحمل في محنة القرآن إلى بغداذ ولم يجب ورد إلى مصر وانتهت إليه رياسة العلم في مصر له تصانيف منها أحكام القرآن والرد على الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة والرد على أهل العراق وأدب القضاة توفى سنة ثمان وستين (الكتاب: الوافي بالوفيات ،المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك الصفدي (المتوفى: 764هـ) امام ابن ایبک نے انکے بارے میں فرماتے ہیں : کہ ابن عبدالحکم یہ فقیہ تھے ان سے امام نسائی ، ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے امام نسائی کہتے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے پھر امام ابن ایبک آگے لکھتے ہیں انہوں نے کافی تصانیف بھی لکھی ہیں اور انہوں نے بنام احکام القرآن لکھی ہے ۲۔اور انہوں نے خود اما م شافعیؒ کے رد میں کتاب لکھی ہے جسکا نام تھا الرد علی الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة یعنی امام شافعی پر ان مسائل میں رد جس میں انہوں نے قرآن اور سنت کی مخالفت کی ہے (استغفار ) یہ ہے وہابیہ کی منافقت کیا یہ اب بقول اس راوی کے امام شافعی کو قرآن و حدیث کا مخالف سمجھیں گے ؟؟ چونکہ پہلے دور میں کیا ہوتا تھا محدثین جب کسی مجتہد کے فتوے کو سمجھ نہ پاتے اور انکے فتوے کو بظاہر ایک روایت کے خلاف سمجھ لیتے تو فورا یہ فتویٰ ٹھوک دیتے تے یہ تو قرآن و حدیث کے خلاف ہے بجائے ان سے یہ پوچھنے یا تحقیق کرنے کے کہ : مخالف کی دلیل کیا ہے اور جو روایت انکے پاس ہے کیا وہ مخالف کے منہج کے مطابق قابل قبول ہے بھی یا نہیں خیر آگے چلتے ہیں اما م ابن ایبک آگے لکھتے ہیں : ۳۔ انہوں نے ایک اور کتاب لکھی تھی الرد علی اہل العراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) تو ایسے راوی جو اتنا متعصب ہو جو خود امام شافعی اور امام اعظم و صاحبین کے رد میں کتب لکھ چکا ہوتو ایسے متعصب راوی کی روایت پر کون یقین کر سکتا ہے ؟ کیونکہ ایسا متعصب راوی جس سے عداوت رکھتا ہے وہ ضرورالفاظ ایسے بیان کرتا ہے جس سے متن پورا کا پورا تبدیل ہو جاتا ہے اسکا ایک ثبوت اسی راوی ہی سے پیش کرتے ہیں جو کہ اس نے امام شافعی سے ایک ایسی بات بیان کی جسکی وجہ سے امام ربیع بن سلیمان جو امام شافعی کے کبیر شاگرد تھے انہوں نے اس راوی کو کذاب قرار دیتے ہوئے اما م شافعی پر اسکا بہتان لگانے کا اقرار کیا اوراسی وجہ سے امام ابن الجوزی بھی اسکو کذاب مانتے تھے امام ربیع بن سلیمان کی جرح کی وجہ سے لیکن چونکہ یہ جمہور محدثین کے نزدیک متفقہ ثقہ ہے تو محدثین نےتصریح کی ہے کہ یہ اس سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی نقل کرنے یا بیان کرنے میں کیونکہ امام ابن خزیمہ نے اسکے حفظ پر کلام کیا ہے کہ اسناد میں اسکا ضبط اچھا نہ تھا جیسا کہ آگے بیان ہوگا اس وجہ سے امام نسائی نے بھی اسکے مطلق فتویٰ دیا کے اس کےبارے میں جھوٹ کا اقرار نہیں کی جا سکتا ہے امام ذھبیؒ نے تزکرہ الحفاظ میں بھی اس راوی یعنی محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کو شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت له كتب كثيرة منها الرد على الشافعي وكتاب أحكام القرآن ورد على فقهاء العراق وغير ذلك مات في سنة ثمان وستين ومائتين رحمه الله تعالى. (الكتاب: تذكرة الحفاظ المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) میں کہتا ہوں اس نے کافی کتب لکھی تھیں جن میں ایک الرد علی الشافعی وکتاب احکام القرآن اوردوسری ورد علی فقہا العراق لکھی (نوٹ: یہ متصب اور مخالف پرست ہونے کی نشانی ہے ) اب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اس راوی نے امام شافعی سے کونسی ایسی روایت بیان کی ہے جس پر امام ربیع بن سلیمان نے اسکو قسم کھا کر کذاب قرار دیا تھا : چناچہ امام ابن حجر عسقلانیؒ تہذیب التہذیب میں اس راوی کے ترجمے میں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ : وقال الذهبي في الميزان قال ابن الجوزي كذبه الربيع ورده الذهبي بأنه صدوق ثم نقل كلام النسائي وغيره فيه انتهى وابن الجوزي نقل ذلك من كلام الحاكم حيث نقل في علوم الحديث عن طريق بن عبد الحكم قصة مناظرة الشافعي مع محمد بن الحسن في ما يناسب إلى أهل المدينة من تجويز إتيان المرأة في الدبر وهي قصة مشهورة فيها احتجاج الشافعي لمن يقول بالجواز قال فقال الربيع لما بلغه ذلك كذب محمد والله الذي لا إله إلا هو لقد نص الشافعي على تحريمه في ستة كتب وقد أوضحت في مواضع أخر أنه لا تنافي بين القولين فالأول كان الشافعي حاكيا عن غيره حكما واستدلالا ولو كان بعض ذلك من تصرفه فالباحث قد يرتكب غير الراجح بخلاف ما نقله الربيع فإنه في تلك المواضع يذكر معتقده نعم في آخر الحكاية قال والقياس أنه حلال وقد حكى الذهبي ذلك أيضا وتعقبه التحريم كذا قال ولم يفهم المراد فإن في الحكاية عمن قال بالتحريم أن الحجة قول الله تعالى فمن ابتغى وراء ذلك الآية فدل على الحصر في الإتيان في الفرج فأورد عليه لو أخذته أو جعله تحت إبطها أو بين فخذيها حتى انزل لكان حلالا بالاتفاق فلم يصح الحصر ووجه القياس أنه عضو مباح من امرأة حلال فأشبه الوطء بين الفخذين وأما قياسه على دبر الغلام فيعكر عليه أنه حرام بالاتفاق فكيف يصح ثم قال الذهبي وقد حكى الطحاوي هذه الحكاية عن بن الحكم عن الشافعي فأخطأ في نقله ذلك عنه وحاشاه من تعمد الكذب وقد تقدم الجواب عن هذا أيضا (تہذیب التہذیب) امام ذھبی نے میزان میں کہا ہے کہ ابن جوزی نے یہ امام حاکم کے کلام سے نقل کیا ہے جیسے کہ امام حاکم نے علوم الحديث میں طریق بن عبد الحکم سے ایک مناظرے کا قصہ امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے بارے میں نقل کیا ہے جو کہ اہل مدینہ کی طرف منسوب ہے عورتوں کے پیچھے حصے سے جماع کرنے کے بارے میں مشھور قصہ ہےا س میں امام شافعی کا ان لوگوں کے بارے میں احتجاج ہے جو جواز کے قائل ہیں جب ربیع کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا اس محمد(بن عبداللہ الحکم) نامی شخص نے جھوٹ بولا ہے للہ کی قسم جسکے سوا کوئی معبود نہیں امام شافعی کا اسکو حرام کہنے پر 6 کتب میں نص موجود ہےاور یقینا میں نے واضح کیا ہے کئی جگہوں پر کہ اپ ان اقوال کو ایک دوسرے کے متنافی نا کہے ایک تو امام شافعی اسے دلیل پکڑنے میں (مستدل بنانے میں) اور حکم لگانے میں دوسرے سے حکایت نقل کر رہے ہیں ناکہ خود سے بتا رہے ہیں اگرچہ بعض باتیں انکی تصرف سے ہیں پس بحث کرنے والا غیر راجح قول کا ارتکاب کرتا ہے بخلاف ربیع کے نقل کےکیونکہ وہ ان جگہوں پر معتقد ہو کر بھی نقل کررہا ہے تو آپ نے دیکھ سکتے ہیں کہ اس راوی جو کہ ثقہ توتھا فقیہ بھی تھا لیکن یہ اسناد یا متن میں کچھ ایسی گڑبڑ کر دیتا تھا کہ روایت کا مکمل متن اور مطلب تبدیل کر کے رکھ دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسکی یہ باتوں کو محدثین نے تسامع میں درج کیا ہے نہ کہ اسکو کذاب قرار دیا اسی طرح خود امام ذھبی میزان کے بارے یہی روایت امام شافعی نے نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ روایت منکر ہے (نوٹ: جس طرح اما م ذھبی نے اسکا اما م شافعی سے عجیب و غریب متن کے ساتھ روایت کرنے کو متن قرار دیا ہے ویسے ہی ہم اوپر اسکا بیان کردہ امام شافعی سے امام محمد بن الحسن کے ساتھ ایک اور مناظرے کا قصہ متن کے لحاظ سے منکر ثابت کر آئے ہیں ) لیکن محدثین نے بھی اس واقعے پر اپنا کلام ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات حقیقت کے منافی ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ ہی نے خود سیر اعلام میں اس واقعے کا تعقب کیا ہے اور اسکو رد کرتےہوئے اپنا خوبصورت فیصلہ بیان کیا ہے : امام ذھبی سیر اعلام میں ابن الحکم سے اس واقعے کا کچھ حصہ ذکر کرکے اسکا تعقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت: وعلى الإنصاف؟ لو قال قائل: بل هما سواء في علم الكتاب، والأول أعلم بالقياس، والثاني أعلم بالسنة، وعنده علم جم من أقوال كثير من الصحابة، كما أن الأول أعلم بأقاويل علي، وابن مسعود، وطائفة ممن كان بالكوفة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرضي الله عن الإمامين، فقد صرنا في وقت لا يقدر الشخص على النطق بالإنصاف - نسأل الله السلامة -. (سیر اعلام النبلاء جلد ۸ ،ص ۱۱۲) میں کہتا ہوں ! انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتاب اللہ کا علم ہونے کے حوالے سے یہ دونوں حضرات برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ، پہلے والے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ)قیاس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں اور دوسرے صاحب (یعنی امام مالک )سنت کا زیادہ علم رکھتے ہیں انکے پاس صحابہ کے اقوال کا بہت سارا ذخیرہ ہے اور جیسا کہ پہلے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ) کے پاس حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور کفہ میں موجود صحابہ کرام کے اقوال کے بارے میں زیادہ علم موجود ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں اماموں سے راضی ہو۔ ہم ایک ایسے وقت میں آگئے ہیں جس میں آدمی انصاف کے ساتھ برنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں تو امام ذھبی ؒ نے خود اس بات کارد کرتے ہوئے انصاف کا دمن پکڑتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے کہ : امام مالک اور امام اعظم ابو حنیفہ علم قران میں برابر تھے یہ کہا جائے گا اور اجتیہاد اور مسائل میں امام اعظم کو مقدم کیا امام ذھبی نے اور احادیث کے مختلف طریق اور اقوال پر امام مالک کو مقدم کیا لیکن اس بھی تخصیص کرتے ہوئےامام اعظم کے بارے میں فرمایا کہ : امام ابو حنیفہ حضرت علی ، حضرت ابن مسعود اور اہل کوفی کی جماعت کے اقوال اور روایات کے حافظ تھے کیا وہابی ہر رویت میں امام ذھبی کاحکم پیش کرتے ہیں کیا اس بات پر امام ذھبی سے اتفاق کریں گے ؟ یا ان پر بھی بدعتی اور حنفی ہونے کا الزام لگائیں گے ؟ جبکہ امام ذھبی نے علم حدیث کی بنیاد کرنےوالے حضرات میں امام ابو حنیفہ کو بھی شامل کیا ہے اللہ ہم کو غیر مقلدین کے فتنے سے محفوظ رکھے اور ہم سلف اور صالحین محدثین اور فقہا کا دفاع ان گندے انڈے غیر مقلدین سے کرتے رہیں گے ا *دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی*
  7. جناب آپکی طر ف سے تفصیل دینے کا شکریہ۔ لیکن امام احمد اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت لیتے ہیں یہ بات مطلق طور پر بالکل صحیح نہین بلکہ انہوں نے ضعیف راویان سے بھی روایتیں لی ہیں اپنی مسند میں اور کچھ پر انکی خود کی بھی جرح ہیں۔۔۔ اور یہ کلیہ ہے کہ عام طور پر امام احمد ثقہ سے لیتے ہیں لیکن ضرور ثقہ سے لیتے ہیں ایسی بات نہیں ۔ جیسا کہ امام شعبہ تھے
  8. حسن لغیرہ پر امام ابن حجر عسقلانی کا موقف
  9. باقی جو یہ حدیث ہے : 1133 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ» . اس میں وہی الحسن بن علی البصری راوی ہے ضعیف اس سے اگلی روایت 1134 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ الْأُبُلِّيُّ بِالْأُبُلَّةِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ النَّهْدِيُّ الْكُوفِيُّ قثنا كَادِحُ بْنُ رَحْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّ اور 1135 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قثنا كَادِحٌ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «عَلِيٌّ أَخِي، وَصَاحِبُ لِوَائِي» ان دونوں روایات کا مرکزی راوی ابو یعلی حمزہ بن ابی داود ہے جو کہ متروک ہے اسکی کوئی تعدیل نہیں سوائے جرح کے 1107 - حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم، أبو يعلى المؤدب. • قال السهمي: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم بن الحجاج بن يوسف المؤدب، أبي يعلى بالأبلة؟ فقال: ذاك لا شيء. (278) . (میزان الاعتدال)
  10. 1140 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ قثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ، نا أَشْعَثُ ابْنُ عَمِّ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَيْهِ، نا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ، قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ السَّمَاوَاتُ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ ". آپ نے یہ روایت پیش کی ہے یہ بھی سخت ضعیف ہے روایت اس میں ایک راوی زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي جو کہ متروک و ضعیف ہے 211 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي مَتْرُوك الحَدِيث ضَعِيف (الضعفاء والمتروكون النسائی) 238 - زكريا بن يحيى الكسائي، الكوفي عن يحيى بن سالم الأسدي، متروك أيضا. (: الضعفاء الضعفاء والمتروكون الردارقطنی) یہ متروک ہونے کے ساتھ ساتھ غالی شیعہ یعنی رافضی بھی تھا ایک روایت کو امام ابن عدی بیان کر کے کہتے ہیں اسکے رراوی بشمول زکریا بن یحییٰ الکسائی سمیت غالی شیعہ تھے اہل کوفہ کے! حدثنا أبو يعلى، حدثنا زكريا بن يحيى الكسائي، حدثنا علي بن القاسم، عن معلى بن عرفان عن شقيق عن عبد الله، قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بيد علي، وهو يقول الله وليي وأنا وليك ومعاد من عاداك ومسالم من سالمك. قال الشيخ: وهذان الحديثان غير محفوظين بهذا الإسناد ورواة هذا الحديث تهمون المعلى بن عرفان، وعلي بن القاسم وزكريا بن يحيى الكسائي كلهم غالين من متشيعي أهل الكوفة ولمعلى بن عرفان غير ما ذكرت. (الکامل فی الضعفاء امام ابن عددی ، برقم ۱۸۵۱) نیزامام ذھبیؒ خود اسکو المغنی فی الضعفا میں درج کر کے راٖفضی لکھتے ہیں 2203 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي عَن مُحَمَّد بن فُضَيْل رَافِضِي هَالك (المغني في الضعفاء
  11. امام خطیب بغدادی نے اسکا تعارف کرواتے ہوئے اسکے شاگردوں کے نام لکھیں اس میں سے ایک نام کامل بن طلحہ کا ہے 3863- الحسن بن علي بن زكريا بن صالح بن عاصم بن زفر بن العلاء بن أسلم أبو سعيد العدوي البصري سكن بغداد، وحدث بها عن عمرو بن مرزوق، وعروة بن سعيد، ومسدد بن مسرهد، وهدبة بن خالد، وطالوت بن عباد، ’’’’’وكامل بن طلحة‘‘‘‘‘‘، وحوثرة بن أشرس، وعبد الله بن معاوية الجمحي، وشيبان بن فروخ، وجبارة بن مغلس، وخراش بن عبد الله، وغيرهم.ش (تاریخ بغداد) اور امام احمد نے اپنی اسی کتاب میں الحسن سے کامل بن طلحہ کے طریق سے روایت لکھی ہے جس سے حتمی کہنا اب صحیح ہے کہ محقق نے بھی حاشیے میں اس روایت میں اس راوی کا صحیح تعین کیا ہے امام احمد سے الحسن بن علی البصری کی کامل بن طلحہ سے مروی روایت یون ہے 693 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثَمَانِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لِمَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ثَمَانُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَلْعَنُونَ مَنْ أَبْغَضَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ» . (فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل )
  12. یہ روایت موضوع ہے اس میں ایک کذاب راوی الحسن بن علی بن البصری ہے ویسے تو یہ عمر میں امام احمد بن حنبل سے چھوٹاہے لیکن حضرت احمد کا ان سے سماع ممکن ہے امام دارقطنی اور امام ابن عدی نے اسکو متہم قرار دیا ہے اور امام ذھبی نے اسی متن سے مروی اسکی روایت ابن عساکر سے بیان کی ہے ۔۔۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعین صحیح ہے اور یہی راوی ہی ہے سند میں اور اس کتاب کے محقق نے بھی یہی تعین کیا ہے اور مین نے تسلی سے تقیق کے بعد اسکی موافقت کی ہے 474- الحسن بن علي بن صالح بن زكريا بن يحيى بن صالح بن عاصم بن زفر أبو سعيد العدوي البصري. يضع الحديث، ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ويحدث عن قوم لا يعرفون، وهو متهم فيهم ان الله لم يخلقهم (الکامل فی الضعفاء الرجال ، امام ابن عدی )
  13. میں نے اب یہ سوال پڑھا ہے تحقیق کر کے اس پر آپکو یہی ریپلے کر دونگا ۔ جتنے بھی احادیث کے تعلق سے ، رجال کے تعلق سے سوال ہوں تو مجھے ٹیگ کر دیا کریں شکریہ