اسد الطحاوی

Members
  • Content count

    12
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    20

Everything posted by اسد الطحاوی

  1. *شمشادنامی غیر کے مقلد کی کا دعویٰ کہ امام اعظم اما م مالک سے ہر علم میں کم تھے اور اسکی پیش کردہ دلیل پر تحقیقی نظر* غیر کا مقلد پہلے ایک روایت جو کہ امام شافعی سے منسوب ہے اسکو نقل کرنے سے پہلے ایک پھکی بنا کر لکھتا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا اصول فقہ کا بانی سمجھا جاتاہے اب اس بانی اصول الفقہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ کون ہوتا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں: امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال سمعت الشافعي قال لي محمد بن الحسن: أيهما أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ يعني أبا حنيفة ومالك بن أنس، قلت: على الإنصاف؟ قال: نعم، قلت: فأنشدك الله من أعلم بالقرآن صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم يعني مالكاً، قلت: فمن أعلم بالسنة؟ صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: اللهم صاحبكم. قلت : فأنشدك بالله من أعلم بأقاويل أصحاب محمد صلى الله عليه وعلى آله وسلم صاحبنا أو صاحبكم؟ قال: صاحبكم، قلت: فلم يبق إلا القياس والقياس لا يكون إلا على هذه الأشياء فمن لم يعرف الأصول فعلى أي شيء يقيس؟!!!! [الجرح والتعديل موافق 1/ 12 واسنادہ صحیح] ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟ محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔ امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟ محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔ اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں قران وحدیث ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص (ابوحنیفہ) اصول یعنی قران و حدیث سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟؟؟ گھوپو پھر روایت پر اپنا خلاصہ بھی لکھتا ہے کہ : اس پورے کام میں غورکریں گے توصاف معلوم ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا فقیہ وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ حدیث (نصوص کتاب وسنت) کا جانکار ہوگا، اسی لئے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قران و حدیث میں کم علم کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی امام مالک رحمہ اللہ سے کمزور بتلایا ہے الجواب: اس غیر کے مقلد شمشاد نامی کو چاہیے تھا کہ یہ کہتاکے امام الحسن بن شیبانی ؒ جو خود حنفی ہیں وہ امام اعظم کو امام مالک سے ہر علم میں کم سمجھ رہے ہیں جبکہ متن میں بھی اقرار تو امام محمد بن حسن کر رہےہین امام شافعی نے تو اپنے منہ سے کچھ نہ بولا لیکن اس جاہل کو متن سمجھنے کی بھی تمیز نہیں اور اگر ہوگی بھی تو اس نے بات امام شافعی کی طرف لٹا دی ہے خیر اب ہم اسکا تحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اس روایت کا متن ہی اس روایت کو باطل بنانے کے لیے کافی ہے امام محمد بن الحسن الشیبانی جو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے شاگرد بنے پھر مدینہ امام مالکؒ کے پاس ۳ سال تک رہے اور انکی الموطا یاد کی ہے پھر وہ امام اعظمؒ کی شاگردی اختیار کی واپس آکر اور اپنی وفات تک فقہ حنفی کی تدوین کرتے رہے انہوں نے فقہ حنفی کی تائید اور تدوین میں سب سے زیادہ کتب تصنیف کی ہیں وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام اعظم معاذاللہ قرآن کا علم بھی حدیث کا علم اور اثار کا علم بھی نہیں رکھتے تو اللہ انکو امت کا سب سے بڑا فقیہ امام کیسے بنا دیا ؟ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی جو خود موطا روایت کرتے ہیں امام مالک سے وہ بھی نیچے امام ابو حنیفہ ؓ سے مروی اثار لکھ کر کہتے ہیں ہمارا اس پر عمل ہے وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک ہر علم میں امام اعظم سے مقدم ہیں ؟ نیز امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو امام مالک کے رد پر مکمل کتاب تصنیف کی ہے جسکا نام انہوں نے الرد علی اہل مدینہ کے نام سے لکھی اگر وہ انکو ہر علم میں مقدم سمجھتے تو امام اعظم کی تائید اور دفاع میں امام مالک کے خلاف کتاب کیسے لکھتے ؟؟ امام شافعی کا فیصلہ! امام شافعی ؒ تو خود اپنے تما م تمام شیوخ جن میں امام مالک بھی شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر فقہ کے باب میں سب سے زیادہ احسان امام محمد بن الحسن الشیبانی الحنفیؒ نے کیا ہے (تاریخ اسلام و سند صحیح ) امام شافعی تو امام محمدبن الحسن کو اما م مالک پر فوقیت دیتے تھے وہ کس طرح یہ سمجھتے ہوں کہ : امام ابو حنیفہ امام مالک سے ہر علم میں کم ہیں نیز پھر اما م محمد بن الحسن کا بھی یہی کہنا ہو؟ نیز اسکو امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب آداب مناقب میں نقل کیاہے اور اس میں امام ابن ابی حاتم نے تعصب کی وجہ سے امام شافعی سے انکی زندگی کے آغاز میں امام اعظم اور صاحبین کے خلاف کہے گئے اقوال زیادہ نقل کیے اور اما م شافعی کی طرف سے امام اعظم کی مداح و ثناء میں اقوال نہ ہونے کے برابر لکھے ہیں اور اسی کتاب میں سند صحیح کےساتھ موجود ہے کہ امام شافعی کہتے ہیں رائے یعنی قیاس کوئی چیز ہے تو اس میں تمام لوگ اہل عراق (یعنی امام اعظم و صاحبین ) کے سب بچے ہیں پھر اپنی زندگی کے آخری حصے میں تھے تو کہتے تھے کہ : فقہ میں تما م لوگ بال بچے ہیں اہل اعراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) کے امام اعظم تو فقہ کے باب مین سب کو امام اعظم و صاحبین کے بال بچے سمجھتے تھے وہ کیسے امام مالک کو مقدم کر سکتے تھے فقہ میں امام ابو حنیفہ پر ؟ جبکہ انکے نزدیک تو امام محمد بن الحسن الشیبانی بھی اما م مالک سے مقدم تھے فقہ کے باب میں اوردوسری بات امام مالک خود امام ابو حنیفہ کو بے نظیر فقیہ مانتے تھے اسی کتاب آداب الشافعی میں امام ابن ابی حاتم با سند صحیح سے لکھتے ہیں کہ : امام شافعی نے اما م مالک سے پوچھا کہ آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہوا ہے ؟ تو امام مالک نے کہا بیشک میں نے اسے دیکھا ہوا اسکے پاس دلائل کا اتنا انبار ہوتا ہے وہ ایک مٹی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہے تو کئی دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں امام مالک کا امام عظم کے بارے یہ مشہور قول بھی ابن ابی حاتم نے ہضم نہ ہوا اور پیٹ میں مروڑ اٹھے جسکے بائث انہوں نے لکھا کہ امام مالک کی مراد تھی کہ امام ابو حنیفہ غلط ہونے پربھی ڈٹے رہتے (معاذاللہ استغفار) جبکہ امام اعظم کا اپنا قول صحیح سند سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں اے ابو یوسف: تم میرے منہ سے نکلی ہر بات نا لکھ لی کروکیونکہ میں اکثر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتا ہوں صبح ایک فیصلہ ہوتا ہے تو رات کو رجوع کر چکا ہوتاہوں نتیجہ: اس سے معلوم ہوا کہ اما م اعظم بہت محتاط اور دلائل پر گہری نظر رکھنے والے امام تھے کہ انکو اپنے اجتیہاد کے خلاف کوئی روایت مل جاتی تو فورا اپنا قیاس رد کر دیتے اور روایت کو قبول کر لیتے اور دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اما م اعظم اپنے تمام شاگردوں کو اپنی اجازت سے لکھواتے تھے بغیر اجازت امام ابو یوسف کو بھی لکھنے سے منع فرما دیتے یہی وجہ ہے کہ امام اعظم اپنے کسی بھی فیصلے پر جب مدلل تحقیق کر چکے ہوتے تو تب لکھواتے یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی میں باقی فقہ کی طرح اقوال میں تکرار نہیں ہے اب آتے ہیں اسکی سند کی طرف: اسکی سند بظاہر صحیح ہے لیکن بظاہر ہر سند صحیح ہونے سے متن صحیح نہیں ہو جاتا ہے اہل علم جو اصول حدیث جانتے ہیں وہ یہ بات خوب سمجھتے ہیں تو ہم اس روایت کی سند میں متعدد علتیں پیش کرتے ہیں : ۱۔یہ واقعہ جو مناظرے کا ہے امام شافعی اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کا اسکو بیان کرنے والا فقط ایک راوی ہے جس پر اس قصے کا دارومدار ہے اور اسکا نام ہے محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم یہ خود امام مالک کے مذہب پر تھا اور امام شافعی کے بھی اور متشدد بھی تھا اسکا ترجمہ بیان کرتےہوئے امام ابن ایبک الصفدی (المتوفیٰ ۷۶۴ھ) کیا فرماتے ہیں دیکھتے ہیں : ابن عبد الحكم الشافعي محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن أعين بن ليث الإمام أبو عبد الله المصري الفقيه أخو عبد الرحمن وسعد لزم الشافعي مدة وتفقه به وبأبيه عبد الله وغيرهما روى عنه النسائي وابن خزيمة وثقه النسائي وقال مرة لا بأس به وكان الشافعي معجبا به لذكايه وحرضه على الفقه وحمل في محنة القرآن إلى بغداذ ولم يجب ورد إلى مصر وانتهت إليه رياسة العلم في مصر له تصانيف منها أحكام القرآن والرد على الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة والرد على أهل العراق وأدب القضاة توفى سنة ثمان وستين (الكتاب: الوافي بالوفيات ،المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك الصفدي (المتوفى: 764هـ) امام ابن ایبک نے انکے بارے میں فرماتے ہیں : کہ ابن عبدالحکم یہ فقیہ تھے ان سے امام نسائی ، ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے امام نسائی کہتے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے پھر امام ابن ایبک آگے لکھتے ہیں انہوں نے کافی تصانیف بھی لکھی ہیں اور انہوں نے بنام احکام القرآن لکھی ہے ۲۔اور انہوں نے خود اما م شافعیؒ کے رد میں کتاب لکھی ہے جسکا نام تھا الرد علی الشافعي فيما خالف فيه الكتاب والسنة یعنی امام شافعی پر ان مسائل میں رد جس میں انہوں نے قرآن اور سنت کی مخالفت کی ہے (استغفار ) یہ ہے وہابیہ کی منافقت کیا یہ اب بقول اس راوی کے امام شافعی کو قرآن و حدیث کا مخالف سمجھیں گے ؟؟ چونکہ پہلے دور میں کیا ہوتا تھا محدثین جب کسی مجتہد کے فتوے کو سمجھ نہ پاتے اور انکے فتوے کو بظاہر ایک روایت کے خلاف سمجھ لیتے تو فورا یہ فتویٰ ٹھوک دیتے تے یہ تو قرآن و حدیث کے خلاف ہے بجائے ان سے یہ پوچھنے یا تحقیق کرنے کے کہ : مخالف کی دلیل کیا ہے اور جو روایت انکے پاس ہے کیا وہ مخالف کے منہج کے مطابق قابل قبول ہے بھی یا نہیں خیر آگے چلتے ہیں اما م ابن ایبک آگے لکھتے ہیں : ۳۔ انہوں نے ایک اور کتاب لکھی تھی الرد علی اہل العراق (یعنی امام اعظم و صاحبین) تو ایسے راوی جو اتنا متعصب ہو جو خود امام شافعی اور امام اعظم و صاحبین کے رد میں کتب لکھ چکا ہوتو ایسے متعصب راوی کی روایت پر کون یقین کر سکتا ہے ؟ کیونکہ ایسا متعصب راوی جس سے عداوت رکھتا ہے وہ ضرورالفاظ ایسے بیان کرتا ہے جس سے متن پورا کا پورا تبدیل ہو جاتا ہے اسکا ایک ثبوت اسی راوی ہی سے پیش کرتے ہیں جو کہ اس نے امام شافعی سے ایک ایسی بات بیان کی جسکی وجہ سے امام ربیع بن سلیمان جو امام شافعی کے کبیر شاگرد تھے انہوں نے اس راوی کو کذاب قرار دیتے ہوئے اما م شافعی پر اسکا بہتان لگانے کا اقرار کیا اوراسی وجہ سے امام ابن الجوزی بھی اسکو کذاب مانتے تھے امام ربیع بن سلیمان کی جرح کی وجہ سے لیکن چونکہ یہ جمہور محدثین کے نزدیک متفقہ ثقہ ہے تو محدثین نےتصریح کی ہے کہ یہ اس سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی نقل کرنے یا بیان کرنے میں کیونکہ امام ابن خزیمہ نے اسکے حفظ پر کلام کیا ہے کہ اسناد میں اسکا ضبط اچھا نہ تھا جیسا کہ آگے بیان ہوگا اس وجہ سے امام نسائی نے بھی اسکے مطلق فتویٰ دیا کے اس کےبارے میں جھوٹ کا اقرار نہیں کی جا سکتا ہے امام ذھبیؒ نے تزکرہ الحفاظ میں بھی اس راوی یعنی محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم کو شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت له كتب كثيرة منها الرد على الشافعي وكتاب أحكام القرآن ورد على فقهاء العراق وغير ذلك مات في سنة ثمان وستين ومائتين رحمه الله تعالى. (الكتاب: تذكرة الحفاظ المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) میں کہتا ہوں اس نے کافی کتب لکھی تھیں جن میں ایک الرد علی الشافعی وکتاب احکام القرآن اوردوسری ورد علی فقہا العراق لکھی (نوٹ: یہ متصب اور مخالف پرست ہونے کی نشانی ہے ) اب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اس راوی نے امام شافعی سے کونسی ایسی روایت بیان کی ہے جس پر امام ربیع بن سلیمان نے اسکو قسم کھا کر کذاب قرار دیا تھا : چناچہ امام ابن حجر عسقلانیؒ تہذیب التہذیب میں اس راوی کے ترجمے میں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ : وقال الذهبي في الميزان قال ابن الجوزي كذبه الربيع ورده الذهبي بأنه صدوق ثم نقل كلام النسائي وغيره فيه انتهى وابن الجوزي نقل ذلك من كلام الحاكم حيث نقل في علوم الحديث عن طريق بن عبد الحكم قصة مناظرة الشافعي مع محمد بن الحسن في ما يناسب إلى أهل المدينة من تجويز إتيان المرأة في الدبر وهي قصة مشهورة فيها احتجاج الشافعي لمن يقول بالجواز قال فقال الربيع لما بلغه ذلك كذب محمد والله الذي لا إله إلا هو لقد نص الشافعي على تحريمه في ستة كتب وقد أوضحت في مواضع أخر أنه لا تنافي بين القولين فالأول كان الشافعي حاكيا عن غيره حكما واستدلالا ولو كان بعض ذلك من تصرفه فالباحث قد يرتكب غير الراجح بخلاف ما نقله الربيع فإنه في تلك المواضع يذكر معتقده نعم في آخر الحكاية قال والقياس أنه حلال وقد حكى الذهبي ذلك أيضا وتعقبه التحريم كذا قال ولم يفهم المراد فإن في الحكاية عمن قال بالتحريم أن الحجة قول الله تعالى فمن ابتغى وراء ذلك الآية فدل على الحصر في الإتيان في الفرج فأورد عليه لو أخذته أو جعله تحت إبطها أو بين فخذيها حتى انزل لكان حلالا بالاتفاق فلم يصح الحصر ووجه القياس أنه عضو مباح من امرأة حلال فأشبه الوطء بين الفخذين وأما قياسه على دبر الغلام فيعكر عليه أنه حرام بالاتفاق فكيف يصح ثم قال الذهبي وقد حكى الطحاوي هذه الحكاية عن بن الحكم عن الشافعي فأخطأ في نقله ذلك عنه وحاشاه من تعمد الكذب وقد تقدم الجواب عن هذا أيضا (تہذیب التہذیب) امام ذھبی نے میزان میں کہا ہے کہ ابن جوزی نے یہ امام حاکم کے کلام سے نقل کیا ہے جیسے کہ امام حاکم نے علوم الحديث میں طریق بن عبد الحکم سے ایک مناظرے کا قصہ امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے بارے میں نقل کیا ہے جو کہ اہل مدینہ کی طرف منسوب ہے عورتوں کے پیچھے حصے سے جماع کرنے کے بارے میں مشھور قصہ ہےا س میں امام شافعی کا ان لوگوں کے بارے میں احتجاج ہے جو جواز کے قائل ہیں جب ربیع کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا اس محمد(بن عبداللہ الحکم) نامی شخص نے جھوٹ بولا ہے للہ کی قسم جسکے سوا کوئی معبود نہیں امام شافعی کا اسکو حرام کہنے پر 6 کتب میں نص موجود ہےاور یقینا میں نے واضح کیا ہے کئی جگہوں پر کہ اپ ان اقوال کو ایک دوسرے کے متنافی نا کہے ایک تو امام شافعی اسے دلیل پکڑنے میں (مستدل بنانے میں) اور حکم لگانے میں دوسرے سے حکایت نقل کر رہے ہیں ناکہ خود سے بتا رہے ہیں اگرچہ بعض باتیں انکی تصرف سے ہیں پس بحث کرنے والا غیر راجح قول کا ارتکاب کرتا ہے بخلاف ربیع کے نقل کےکیونکہ وہ ان جگہوں پر معتقد ہو کر بھی نقل کررہا ہے تو آپ نے دیکھ سکتے ہیں کہ اس راوی جو کہ ثقہ توتھا فقیہ بھی تھا لیکن یہ اسناد یا متن میں کچھ ایسی گڑبڑ کر دیتا تھا کہ روایت کا مکمل متن اور مطلب تبدیل کر کے رکھ دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسکی یہ باتوں کو محدثین نے تسامع میں درج کیا ہے نہ کہ اسکو کذاب قرار دیا اسی طرح خود امام ذھبی میزان کے بارے یہی روایت امام شافعی نے نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ روایت منکر ہے (نوٹ: جس طرح اما م ذھبی نے اسکا اما م شافعی سے عجیب و غریب متن کے ساتھ روایت کرنے کو متن قرار دیا ہے ویسے ہی ہم اوپر اسکا بیان کردہ امام شافعی سے امام محمد بن الحسن کے ساتھ ایک اور مناظرے کا قصہ متن کے لحاظ سے منکر ثابت کر آئے ہیں ) لیکن محدثین نے بھی اس واقعے پر اپنا کلام ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ بات حقیقت کے منافی ہے جیسا کہ امام ذھبیؒ ہی نے خود سیر اعلام میں اس واقعے کا تعقب کیا ہے اور اسکو رد کرتےہوئے اپنا خوبصورت فیصلہ بیان کیا ہے : امام ذھبی سیر اعلام میں ابن الحکم سے اس واقعے کا کچھ حصہ ذکر کرکے اسکا تعقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قلت: وعلى الإنصاف؟ لو قال قائل: بل هما سواء في علم الكتاب، والأول أعلم بالقياس، والثاني أعلم بالسنة، وعنده علم جم من أقوال كثير من الصحابة، كما أن الأول أعلم بأقاويل علي، وابن مسعود، وطائفة ممن كان بالكوفة من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فرضي الله عن الإمامين، فقد صرنا في وقت لا يقدر الشخص على النطق بالإنصاف - نسأل الله السلامة -. (سیر اعلام النبلاء جلد ۸ ،ص ۱۱۲) میں کہتا ہوں ! انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتاب اللہ کا علم ہونے کے حوالے سے یہ دونوں حضرات برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ، پہلے والے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ)قیاس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں اور دوسرے صاحب (یعنی امام مالک )سنت کا زیادہ علم رکھتے ہیں انکے پاس صحابہ کے اقوال کا بہت سارا ذخیرہ ہے اور جیسا کہ پہلے صاحب (یعنی امام ابو حنیفہ) کے پاس حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور کفہ میں موجود صحابہ کرام کے اقوال کے بارے میں زیادہ علم موجود ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں اماموں سے راضی ہو۔ ہم ایک ایسے وقت میں آگئے ہیں جس میں آدمی انصاف کے ساتھ برنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں تو امام ذھبی ؒ نے خود اس بات کارد کرتے ہوئے انصاف کا دمن پکڑتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے کہ : امام مالک اور امام اعظم ابو حنیفہ علم قران میں برابر تھے یہ کہا جائے گا اور اجتیہاد اور مسائل میں امام اعظم کو مقدم کیا امام ذھبی نے اور احادیث کے مختلف طریق اور اقوال پر امام مالک کو مقدم کیا لیکن اس بھی تخصیص کرتے ہوئےامام اعظم کے بارے میں فرمایا کہ : امام ابو حنیفہ حضرت علی ، حضرت ابن مسعود اور اہل کوفی کی جماعت کے اقوال اور روایات کے حافظ تھے کیا وہابی ہر رویت میں امام ذھبی کاحکم پیش کرتے ہیں کیا اس بات پر امام ذھبی سے اتفاق کریں گے ؟ یا ان پر بھی بدعتی اور حنفی ہونے کا الزام لگائیں گے ؟ جبکہ امام ذھبی نے علم حدیث کی بنیاد کرنےوالے حضرات میں امام ابو حنیفہ کو بھی شامل کیا ہے اللہ ہم کو غیر مقلدین کے فتنے سے محفوظ رکھے اور ہم سلف اور صالحین محدثین اور فقہا کا دفاع ان گندے انڈے غیر مقلدین سے کرتے رہیں گے ا *دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی*
  2. جناب آپکی طر ف سے تفصیل دینے کا شکریہ۔ لیکن امام احمد اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت لیتے ہیں یہ بات مطلق طور پر بالکل صحیح نہین بلکہ انہوں نے ضعیف راویان سے بھی روایتیں لی ہیں اپنی مسند میں اور کچھ پر انکی خود کی بھی جرح ہیں۔۔۔ اور یہ کلیہ ہے کہ عام طور پر امام احمد ثقہ سے لیتے ہیں لیکن ضرور ثقہ سے لیتے ہیں ایسی بات نہیں ۔ جیسا کہ امام شعبہ تھے
  3. حسن لغیرہ پر امام ابن حجر عسقلانی کا موقف
  4. باقی جو یہ حدیث ہے : 1133 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الزَّهْرَانِيُّ قثنا أَبِي قثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا، فَتَزَحْزَحَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ أَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسُرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ: «أَهْلُ الْفَضْلِ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَلَا يَعْرِفُ لِأَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلَهُمْ إِلَّا أَهْلُ الْفَضْلِ» . اس میں وہی الحسن بن علی البصری راوی ہے ضعیف اس سے اگلی روایت 1134 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ الْأُبُلِّيُّ بِالْأُبُلَّةِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ النَّهْدِيُّ الْكُوفِيُّ قثنا كَادِحُ بْنُ رَحْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّ اور 1135 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، قثنا كَادِحٌ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «عَلِيٌّ أَخِي، وَصَاحِبُ لِوَائِي» ان دونوں روایات کا مرکزی راوی ابو یعلی حمزہ بن ابی داود ہے جو کہ متروک ہے اسکی کوئی تعدیل نہیں سوائے جرح کے 1107 - حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم، أبو يعلى المؤدب. • قال السهمي: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن حمزة بن داود بن سليمان بن الحكم بن الحجاج بن يوسف المؤدب، أبي يعلى بالأبلة؟ فقال: ذاك لا شيء. (278) . (میزان الاعتدال)
  5. 1140 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ قثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ، نا أَشْعَثُ ابْنُ عَمِّ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَيْهِ، نا مِسْعَرٌ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ، قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ السَّمَاوَاتُ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ ". آپ نے یہ روایت پیش کی ہے یہ بھی سخت ضعیف ہے روایت اس میں ایک راوی زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي جو کہ متروک و ضعیف ہے 211 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي مَتْرُوك الحَدِيث ضَعِيف (الضعفاء والمتروكون النسائی) 238 - زكريا بن يحيى الكسائي، الكوفي عن يحيى بن سالم الأسدي، متروك أيضا. (: الضعفاء الضعفاء والمتروكون الردارقطنی) یہ متروک ہونے کے ساتھ ساتھ غالی شیعہ یعنی رافضی بھی تھا ایک روایت کو امام ابن عدی بیان کر کے کہتے ہیں اسکے رراوی بشمول زکریا بن یحییٰ الکسائی سمیت غالی شیعہ تھے اہل کوفہ کے! حدثنا أبو يعلى، حدثنا زكريا بن يحيى الكسائي، حدثنا علي بن القاسم، عن معلى بن عرفان عن شقيق عن عبد الله، قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بيد علي، وهو يقول الله وليي وأنا وليك ومعاد من عاداك ومسالم من سالمك. قال الشيخ: وهذان الحديثان غير محفوظين بهذا الإسناد ورواة هذا الحديث تهمون المعلى بن عرفان، وعلي بن القاسم وزكريا بن يحيى الكسائي كلهم غالين من متشيعي أهل الكوفة ولمعلى بن عرفان غير ما ذكرت. (الکامل فی الضعفاء امام ابن عددی ، برقم ۱۸۵۱) نیزامام ذھبیؒ خود اسکو المغنی فی الضعفا میں درج کر کے راٖفضی لکھتے ہیں 2203 - زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي عَن مُحَمَّد بن فُضَيْل رَافِضِي هَالك (المغني في الضعفاء
  6. امام خطیب بغدادی نے اسکا تعارف کرواتے ہوئے اسکے شاگردوں کے نام لکھیں اس میں سے ایک نام کامل بن طلحہ کا ہے 3863- الحسن بن علي بن زكريا بن صالح بن عاصم بن زفر بن العلاء بن أسلم أبو سعيد العدوي البصري سكن بغداد، وحدث بها عن عمرو بن مرزوق، وعروة بن سعيد، ومسدد بن مسرهد، وهدبة بن خالد، وطالوت بن عباد، ’’’’’وكامل بن طلحة‘‘‘‘‘‘، وحوثرة بن أشرس، وعبد الله بن معاوية الجمحي، وشيبان بن فروخ، وجبارة بن مغلس، وخراش بن عبد الله، وغيرهم.ش (تاریخ بغداد) اور امام احمد نے اپنی اسی کتاب میں الحسن سے کامل بن طلحہ کے طریق سے روایت لکھی ہے جس سے حتمی کہنا اب صحیح ہے کہ محقق نے بھی حاشیے میں اس روایت میں اس راوی کا صحیح تعین کیا ہے امام احمد سے الحسن بن علی البصری کی کامل بن طلحہ سے مروی روایت یون ہے 693 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثَمَانِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لِمَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ثَمَانُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَلْعَنُونَ مَنْ أَبْغَضَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ» . (فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل )
  7. یہ روایت موضوع ہے اس میں ایک کذاب راوی الحسن بن علی بن البصری ہے ویسے تو یہ عمر میں امام احمد بن حنبل سے چھوٹاہے لیکن حضرت احمد کا ان سے سماع ممکن ہے امام دارقطنی اور امام ابن عدی نے اسکو متہم قرار دیا ہے اور امام ذھبی نے اسی متن سے مروی اسکی روایت ابن عساکر سے بیان کی ہے ۔۔۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعین صحیح ہے اور یہی راوی ہی ہے سند میں اور اس کتاب کے محقق نے بھی یہی تعین کیا ہے اور مین نے تسلی سے تقیق کے بعد اسکی موافقت کی ہے 474- الحسن بن علي بن صالح بن زكريا بن يحيى بن صالح بن عاصم بن زفر أبو سعيد العدوي البصري. يضع الحديث، ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ويحدث عن قوم لا يعرفون، وهو متهم فيهم ان الله لم يخلقهم (الکامل فی الضعفاء الرجال ، امام ابن عدی )
  8. میں نے اب یہ سوال پڑھا ہے تحقیق کر کے اس پر آپکو یہی ریپلے کر دونگا ۔ جتنے بھی احادیث کے تعلق سے ، رجال کے تعلق سے سوال ہوں تو مجھے ٹیگ کر دیا کریں شکریہ
  9. الامام شعبہ بن حجاجؓ سے امام ابو حنیفہؓ نعمان بن ثابت کی مداح و تعدیل اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق کچھ وہابیہ امام شعبہ بن الحجاجؒ سے امام ابو حنیفہ پر ضعیف اور کذاب راویوں سے جروحات پیش کرتے ہیں تو ہم پیش کرتے ہیں کہ امام شعبہؒ اور امام ابو حنیفہ ؓ دونوں نا صرف بہت اچھے دوست تھے بلکہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہتے تھے پہلے ہم وہابیہ کی طرف سے امام شعبہؒ سے امام ابو حنیفہ پر طعن پیش کیا گیا جبکہ یہ سند میں علت ہے اور یہ متن بھی منکر ہے امام عقیلی ( جو کہ متشدد اور متعصب تھا احناف سے ) اس نے اپنی کتاب الضعفاء میں امام ابو حنیفہؒ پر تمام غلط جروحات نقل کی ہیں انکا تعصب اور پھر اس تعصب نے انکے جید شاگرد امام اصیدلانی جو کہ محدث مکہ تھے انکو اپنے استاذ عقیلی کے رد میں کتاب لکھنی پڑی سیرت ابی حنیفہؓ جس میں انہوں نے وہ تعدیل اور مداح نقل کی ہے محدثین سے جسکو جانتے ہوئے بھی امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے رکے رہے جسکی تفصیل آگے آئے گی خیر وہ اپنی سند سے امام شعبہؒ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں : ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑن مسلم ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ ﻳﻠﻌﻦ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ امام عقیلی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حماد بن سلمہ اور اما م شعبہؒ امام ابو حنیفہ پر طعن کرتے تھے یہ بالکل امام شعبہؒ پر بہتان ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی الولید بن مسلم جو کہ ویسے تو صدوق درجے کا راوی ہے لیکن یہ صاحب مناکیر تھے اور یہ تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا جسکی وجہ سے یہ کذاب راویوں سے جھوٹی روایتیں بیان کر دیتا تھا اور اس پر یہ بھی جرح ہے کہ اس نے امام مالک سے ۱۰ احادیث بیان کی جسکی کوئی اصل ہی نہیں اور منکر اور جھوٹی روایاتیں بیان کرنے میں مشہور تھا اس پر ہم جروحات پیش کرتے ہیں جسکے نتیجے میں اس سے مروی یہ روایت منکر اور ضعیف ہے کیونکہ اس نے ثقہ محدث امام ابن معین اور امام شبابہ کی مخالفت کرتے ہوئے امام شعبہ سے جرح بیان کی ہے جبکہ امام ابن معین اور شبابہ امام شعبہ سے تعدیل اور مدح نقل کرتے ہیں الولید بن مسلم پر محدثین کا کلام ! ۱۔ وَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدِيثَ عُمَرَ كِلُوهُ إِلَى خَالِقِهِ فَقَالَ هَذَا كَذِبٌ ثُمّ قَالَ هَذَا كَتَبْنَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ هَذَا كَذِبٌ امام احمد بن حنبل الولید بن مسلم کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کذب یعنی جھوٹ ہے اور اسکو میں نے ولید سے نقل کیا من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال امام ذھبی نے اسکی مناکیر اور باطل روایتوں کو بیان کرنے کے بارے میں میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں : وقال أبو عبيد الآجري: سألت أبا داود عن صدقة بن خالد، فقال: هو أثبت من الوليد بن مسلم، الوليد روى عن مالك عشرة أحاديث ليس لها أصل، منها عن نافع أربعة. قلت: ومن أنكر ما أتى حديث حفظ القرآن، رواه الترمذي، وحديثه عن ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قعد على فراش مغيبة قيض الله له يوم القيامة ثعبانين. قال أبو حاتم: هذا حديث باطل. قلت: إذا قال الوليد عن ابن جريج أو عن الأوزاعي فليس بمعتمد، لانه يدلس عن كذابين، فإذا قال: حدثنا فهو حجة. ابو مسہر کہتے ہیں : ولید تدلیس کرتا تھا اور بعض اوقات یہ کذاب راویوں کے حوالے سے بھی تدلیس کر لیتا تھا ۔ ولید بن مسلم نے امام مالک کے حوالے سے دس ایسی روایات نقل کی ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے ان میں سے چار روایات نافع کے حوالے سے منقول ہیں امام ذھبی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر روایت وہ ہے جو اس نے قرآن حفظ کرنے کابرے میں روایت کی ہے جس کو امام ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن قتادہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کیا ہے ان رسول ﷺ قال: من قعد علی فراش مغیبة قیص اللہ له یوم القیامة ثعبانا امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ روایت جھوٹی ہے یہ راوی صدوق ہونے کے باوجود بھی مناکیر اور جھوٹی روایتین بیان کرتا تھا لیکن جب یہ سماع کی تصریح کرے تو حجت ہوتا ہے لیکن روایات میں انکی نکارت تو ہوتی ہے جیسا کہ ہم یہاں ثابت کرینگے اور محدثین کا منہج ہے جو راوی ثقہ کےخلاف کوئی بات بیان کرے تو انکی روایت منکر کہہ کر رد کردی جاتی ہے جیسا کہ امام الدولابی پر نعیم بن حماد کی جرح کو امام ذھبی نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ صاحب مناکیر تھے جبکے اسکے مقابلے میں امام شعبہ سے مداح اور توثیق روایت ہے جو کہ ہم پیش کرتےہیں امام ابن عبدالبر المالکی اپنی مشہور کتاب الانتقاء میں اپنے شیخ الشیخ کی کتاب سے امام ابو حنیفہؓ کی توثیق امام ابن معین اور امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں جسکی سند یہ ہے حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة ترجمہ: امام ابن عبدالبر کہتے ہیں ہم سے بیان کیا حکم بن منذر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابو یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا احمد بن الحسن الحافظ نے نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن احمد بن ابراھیم الدروقی نے وہ کہتے ہیں سائل نے یحییٰ بن معین سے ابو حنیفہ سے سماع کے بارے میں پوچھا ؟ تو امام ابن معین کہتے ہیں ہیں کہ امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں نوٹ: یہ یاد رہے کہ امام ابن عبدالبر کے پاس انکے شیخ الشیخ یعنی امام ابو یعقوب یوسف الصیدلانی کی تصنیف جو کہ سیرت امام ابی حنیفہ و اخبار پر لکھی گئی تھی وہ انکے پاس موجود تھی اور یہ اس کتاب سے با اسناد روایات نقل کرتے تھے اور امام ابن عبدالبر کو وہ کتاب امام حکم بن منذر نے بیان کی تھی کیونکہ امام حکم بن منذر شاگرد ہیں امام یعقوب یوسف الصیدلانی کے ! انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہین ہے ویسے کیونکہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام ابو یعقوب الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی جسکی تصریح انہوں نے اپنی کتاب الانتقاء میں کر دی ہے اسکی سند بالکل صحیح ہے جس پر پہلے ہی پوسٹ تحقیقی لگا چکے ہیں ہم اب ایک اور تعدیل امام شعبہ سے جو امام ابن عدی نے بیان کی ہے ثنا ابن حماد قال: و حدثنی ابو باکر الاعین حدثنی یعقوب بن شیبہ عن الحسن الحوانی سعت شبابة یقول : کان شعبة حسن الرائ فی ابی حنیفة یعنی امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں اچھی خیر کی رائے رکھتے تھے اور امام ابن معین سے انکا حدیث لینا بھی بیان کیا ہے اور یہ بات غیر مقلدین کو بھی معلوم ہےکہ امام شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت کرتے ہین تو جب ولید بن مسلم سے ذیادہ ثقہ و ثبت راویوں نے امام شعبہ سے توثیق و مداح نقل کی ہے جسکے نتیجے میں اسکی بیان کردہ روایت منکر ٹھہرے گی اور امام ابن معین جو امام شعبہ کے نزدیک ترین زمانے کے تھے انکو امام شعبہ کی ابو حنیفہ پر کوئی جرح نہ معلوم تھی بلکہ وہ تو اسکا مطلق انکار کرتے ہیں کہ انکے زمانے میں کوئی بھی امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں کرتا تھا اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے! ایک دوسری سند بھی امام عقیلی نے بیان کی ہے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہ پر جرح کے حوالے سے وہ کچھ یوں ہے ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﺠﻤﺎﻝ [ 282] - ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻒ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ اسکی سند باطل ہے کیونکہ اس میں ایک راوی محمد بن یونس جو کہ امام ابن عدی کے نزدیک متہم تھا اور یہ روایات چوری کرتا تھا امام ابن عدی الکامل میں فرماتے ہیں : محمد بن يونس الجمال فرواه، عن ابن عيينة وسرقه من حسين الجعفي. کہ الجمال ابن عینیہ سے روایت کرتا ہے اور حسین الجعفی سے یہ روایت چوری کی ہے پھر آگے لکھتے ہیں : وهو ممن يسرق أحاديث الناس کہ یہ لوگوں سے روایت چوری کرتا تھا (الکامل فی الضعفاء جلد ۷ ، ص ۷۵۳) معلوم ہوا یہ سند بھی کسی کام کی نہیں نیز امام ابن حجر عسقلانی بھی اسکو ضعیف مانتے ہیں اور اسکے متلق یہ بھی کہا گیا ہے امام مسلم نے اس سے روایت کی ہے لیکن اسکا رد بھی امام ابن حجر عسقلانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں امام مسلم کا اس سے روایت کرنا ثابت ہی نہیں ہے 6420- محمد ابن يونس الجمال بالجيم البغدادي ضعيف ولم يثبت أن مسلما روى عنه من العاشرة م (تقریب التہذیب) آگے مزید ہم ایک اور روایت بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ اوپر امام ابن معین سے بیان کہ کہ اما م شعبہ امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے تھے کہ وہ انکو احادیث بیان کریں اور کوئی نئےاحکامات دیں اب ہم امام ابن معین ہی سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابن معین امام شعبہ کے خطوط حاصل کرتے تھے تو انکی نظر میں امام شعبہ کا کیا مقام تھا ؟ جس سے معلوم ہو کہ ان دونوں حضرات کے آپس میں کتنے خوبصورت تعلقات تھے امام یحییٰ بن معین کی کتاب معرفہ الرجال میں انکے شاگرد بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن معین سے: میں نے ابو قطن سے سنا فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہؒ نے ایک خط لکھا کہ یہ امام ابو حنیفہؓ کو دو جب میں وہاں گیا اور امام ابو حنیفہ کو دیا تو مجھے فرمانے لگے کہ ابو بسطام(یہ امام شعبہ کی کنیت تھی ) کیسا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ خیریت سے ہیں تو فرمایا (امام ابو حنیفہ نے) کہ وہ مصر کا بہترین شخص ہے یہی وہ واقعہ ہے جسکو امام ابن عبدالبر نے اپنی الانتقاء میں نقل کرتے ہوئے امام شعبہ کو امام ابو حنیفہ کے مداحین میں درج کرتے ہوئے اما م ابن معین سے نقل کیا کہ امام ابن معین کہتے ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کوئی امام ابو حنیفہ کو ضعیف کہتا ہو وہ ثقہ ہیں اور امام شعبہ جو انکو خطوط لکھتے تھے کہ ہمیں احادیث و احکامات لکھ دین پھر اس بات پر امام ابن معین الحنفیؒ ناز کرتے ہوئے فرماتے ہیں شعبہ تو شعبہ ہے پھر یعنی امام شعبہ جیسا ماہر رجال الناقد شخص امام ابو حنیفہ سے روایاتیں لینے کے لیے عرضی کر رہے ہیں خطوط میں اور احکامات بھی لے رہے ہیں تو پھر اور کون شخص ہوگا جو امام ابو حنیفہ پر جرح کرے ؟ خلاصہ کلام: امام شعبہ سے فقط توثیق ہی ثابت ہے اور مداح ثابت ہے اور اس پر امام ابن معین کی گواہی ثابت ہے اگر امام شعبہ امام ابو حنیفہ پر جرح کی ہوتی تو امام شعبہ ضرور اس بات کا زکر ر کرتے لیکن انہوں نے تو امام ابو حنیفہ پر اپنے وقت میں ایک خاص دور تک جرح کی نفی کی ہے لیکن جب بعد میں انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین پر بے تکی جروحات سنی تو انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا د فا ع کیا ہے جسکی تٖفصیل ہم نے پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے بیان کی ہے اور امام شعبہ سے جو ایک طعن والی روایت بیان کی گئی ہے وہ منکر ہے اور ضرور یہ راوی کی طرف سے امام شعبہ پر بہتان ہے اور ایسے صاحب مناکیر کی بات کو دوسرے ثقات راویان طرف سے کی گئی تعدیل کے مقابلے میں رد کیا جائے گا دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !
  10. الامام شعبہ بن حجاجؓ سے امام ابو حنیفہؓ نعمان بن ثابت کی مداح و تعدیل اور ان سے مروی جروحات کی اسنادی حیثیت پر تحقیق کچھ وہابیہ امام شعبہ بن الحجاجؒ سے امام ابو حنیفہ پر ضعیف اور کذاب راویوں سے جروحات پیش کرتے ہیں تو ہم پیش کرتے ہیں کہ امام شعبہؒ اور امام ابو حنیفہ ؓ دونوں نا صرف بہت اچھے دوست تھے بلکہ ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہتے تھے پہلے ہم وہابیہ کی طرف سے امام شعبہؒ سے امام ابو حنیفہ پر طعن پیش کیا گیا جبکہ یہ سند میں علت ہے اور یہ متن بھی منکر ہے امام عقیلی ( جو کہ متشدد اور متعصب تھا احناف سے ) اس نے اپنی کتاب الضعفاء میں امام ابو حنیفہؒ پر تمام غلط جروحات نقل کی ہیں انکا تعصب اور پھر اس تعصب نے انکے جید شاگرد امام اصیدلانی جو کہ محدث مکہ تھے انکو اپنے استاذ عقیلی کے رد میں کتاب لکھنی پڑی سیرت ابی حنیفہؓ جس میں انہوں نے وہ تعدیل اور مداح نقل کی ہے محدثین سے جسکو جانتے ہوئے بھی امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے رکے رہے جسکی تفصیل آگے آئے گی خیر وہ اپنی سند سے امام شعبہؒ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں : ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑن مسلم ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻷﻋﻴﻦ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ اﻟﺨﺰاﻋﻲ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ , ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ ﻳﻠﻌﻦ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ امام عقیلی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حماد بن سلمہ اور اما م شعبہؒ امام ابو حنیفہ پر طعن کرتے تھے یہ بالکل امام شعبہؒ پر بہتان ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی الولید بن مسلم جو کہ ویسے تو صدوق درجے کا راوی ہے لیکن یہ صاحب مناکیر تھے اور یہ تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا جسکی وجہ سے یہ کذاب راویوں سے جھوٹی روایتیں بیان کر دیتا تھا اور اس پر یہ بھی جرح ہے کہ اس نے امام مالک سے ۱۰ احادیث بیان کی جسکی کوئی اصل ہی نہیں اور منکر اور جھوٹی روایاتیں بیان کرنے میں مشہور تھا اس پر ہم جروحات پیش کرتے ہیں جسکے نتیجے میں اس سے مروی یہ روایت منکر اور ضعیف ہے کیونکہ اس نے ثقہ محدث امام ابن معین اور امام شبابہ کی مخالفت کرتے ہوئے امام شعبہ سے جرح بیان کی ہے جبکہ امام ابن معین اور شبابہ امام شعبہ سے تعدیل اور مدح نقل کرتے ہیں الولید بن مسلم پر محدثین کا کلام ! ۱۔ وَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ حَدَّثَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدِيثَ عُمَرَ كِلُوهُ إِلَى خَالِقِهِ فَقَالَ هَذَا كَذِبٌ ثُمّ قَالَ هَذَا كَتَبْنَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ هَذَا كَذِبٌ امام احمد بن حنبل الولید بن مسلم کی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ کذب یعنی جھوٹ ہے اور اسکو میں نے ولید سے نقل کیا من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال امام ذھبی نے اسکی مناکیر اور باطل روایتوں کو بیان کرنے کے بارے میں میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں : وقال أبو عبيد الآجري: سألت أبا داود عن صدقة بن خالد، فقال: هو أثبت من الوليد بن مسلم، الوليد روى عن مالك عشرة أحاديث ليس لها أصل، منها عن نافع أربعة. قلت: ومن أنكر ما أتى حديث حفظ القرآن، رواه الترمذي، وحديثه عن ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قعد على فراش مغيبة قيض الله له يوم القيامة ثعبانين. قال أبو حاتم: هذا حديث باطل. قلت: إذا قال الوليد عن ابن جريج أو عن الأوزاعي فليس بمعتمد، لانه يدلس عن كذابين، فإذا قال: حدثنا فهو حجة. ابو مسہر کہتے ہیں : ولید تدلیس کرتا تھا اور بعض اوقات یہ کذاب راویوں کے حوالے سے بھی تدلیس کر لیتا تھا ۔ ولید بن مسلم نے امام مالک کے حوالے سے دس ایسی روایات نقل کی ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے ان میں سے چار روایات نافع کے حوالے سے منقول ہیں امام ذھبی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر روایت وہ ہے جو اس نے قرآن حفظ کرنے کابرے میں روایت کی ہے جس کو امام ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن قتادہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کیا ہے ان رسول ﷺ قال: من قعد علی فراش مغیبة قیص اللہ له یوم القیامة ثعبانا امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ روایت جھوٹی ہے یہ راوی صدوق ہونے کے باوجود بھی مناکیر اور جھوٹی روایتین بیان کرتا تھا لیکن جب یہ سماع کی تصریح کرے تو حجت ہوتا ہے لیکن روایات میں انکی نکارت تو ہوتی ہے جیسا کہ ہم یہاں ثابت کرینگے اور محدثین کا منہج ہے جو راوی ثقہ کےخلاف کوئی بات بیان کرے تو انکی روایت منکر کہہ کر رد کردی جاتی ہے جیسا کہ امام الدولابی پر نعیم بن حماد کی جرح کو امام ذھبی نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ صاحب مناکیر تھے جبکے اسکے مقابلے میں امام شعبہ سے مداح اور توثیق روایت ہے جو کہ ہم پیش کرتےہیں امام ابن عبدالبر المالکی اپنی مشہور کتاب الانتقاء میں اپنے شیخ الشیخ کی کتاب سے امام ابو حنیفہؓ کی توثیق امام ابن معین اور امام شعبہ سے نقل کرتے ہیں جسکی سند یہ ہے حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة ترجمہ: امام ابن عبدالبر کہتے ہیں ہم سے بیان کیا حکم بن منذر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابو یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا احمد بن الحسن الحافظ نے نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن احمد بن ابراھیم الدروقی نے وہ کہتے ہیں سائل نے یحییٰ بن معین سے ابو حنیفہ سے سماع کے بارے میں پوچھا ؟ تو امام ابن معین کہتے ہیں ہیں کہ امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی نے امام ابو حنیفہؓ کو ضعیف کہا ہو اور یہ شعبہ ہیں جو ان کو خط لکھتے تھے کہ وہ حدیث بیان کریں اور انہیں کوئی حکم دیں اور شعبہ تو شعبہ ہیں نوٹ: یہ یاد رہے کہ امام ابن عبدالبر کے پاس انکے شیخ الشیخ یعنی امام ابو یعقوب یوسف الصیدلانی کی تصنیف جو کہ سیرت امام ابی حنیفہ و اخبار پر لکھی گئی تھی وہ انکے پاس موجود تھی اور یہ اس کتاب سے با اسناد روایات نقل کرتے تھے اور امام ابن عبدالبر کو وہ کتاب امام حکم بن منذر نے بیان کی تھی کیونکہ امام حکم بن منذر شاگرد ہیں امام یعقوب یوسف الصیدلانی کے ! انکی توثیق پیش کرنے کی ضرورت نہین ہے ویسے کیونکہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام ابو یعقوب الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی جسکی تصریح انہوں نے اپنی کتاب الانتقاء میں کر دی ہے اسکی سند بالکل صحیح ہے جس پر پہلے ہی پوسٹ تحقیقی لگا چکے ہیں ہم اب ایک اور تعدیل امام شعبہ سے جو امام ابن عدی نے بیان کی ہے ثنا ابن حماد قال: و حدثنی ابو باکر الاعین حدثنی یعقوب بن شیبہ عن الحسن الحوانی سعت شبابة یقول : کان شعبة حسن الرائ فی ابی حنیفة یعنی امام شعبہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں اچھی خیر کی رائے رکھتے تھے اور امام ابن معین سے انکا حدیث لینا بھی بیان کیا ہے اور یہ بات غیر مقلدین کو بھی معلوم ہےکہ امام شعبہ اپنے نزدیک صرف ثقہ ہی سے روایت کرتے ہین تو جب ولید بن مسلم سے ذیادہ ثقہ و ثبت راویوں نے امام شعبہ سے توثیق و مداح نقل کی ہے جسکے نتیجے میں اسکی بیان کردہ روایت منکر ٹھہرے گی اور امام ابن معین جو امام شعبہ کے نزدیک ترین زمانے کے تھے انکو امام شعبہ کی ابو حنیفہ پر کوئی جرح نہ معلوم تھی بلکہ وہ تو اسکا مطلق انکار کرتے ہیں کہ انکے زمانے میں کوئی بھی امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں کرتا تھا اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے! ایک دوسری سند بھی امام عقیلی نے بیان کی ہے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہ پر جرح کے حوالے سے وہ کچھ یوں ہے ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻠﻴﺚ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﺠﻤﺎﻝ [ 282] - ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺷﻌﺒﺔ، ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻒ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ اسکی سند باطل ہے کیونکہ اس میں ایک راوی محمد بن یونس جو کہ امام ابن عدی کے نزدیک متہم تھا اور یہ روایات چوری کرتا تھا امام ابن عدی الکامل میں فرماتے ہیں : محمد بن يونس الجمال فرواه، عن ابن عيينة وسرقه من حسين الجعفي. کہ الجمال ابن عینیہ سے روایت کرتا ہے اور حسین الجعفی سے یہ روایت چوری کی ہے پھر آگے لکھتے ہیں : وهو ممن يسرق أحاديث الناس کہ یہ لوگوں سے روایت چوری کرتا تھا (الکامل فی الضعفاء جلد ۷ ، ص ۷۵۳) معلوم ہوا یہ سند بھی کسی کام کی نہیں نیز امام ابن حجر عسقلانی بھی اسکو ضعیف مانتے ہیں اور اسکے متلق یہ بھی کہا گیا ہے امام مسلم نے اس سے روایت کی ہے لیکن اسکا رد بھی امام ابن حجر عسقلانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں امام مسلم کا اس سے روایت کرنا ثابت ہی نہیں ہے 6420- محمد ابن يونس الجمال بالجيم البغدادي ضعيف ولم يثبت أن مسلما روى عنه من العاشرة م (تقریب التہذیب) آگے مزید ہم ایک اور روایت بھی بیان کرتے ہیں جیسا کہ اوپر امام ابن معین سے بیان کہ کہ اما م شعبہ امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے تھے کہ وہ انکو احادیث بیان کریں اور کوئی نئےاحکامات دیں اب ہم امام ابن معین ہی سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابن معین امام شعبہ کے خطوط حاصل کرتے تھے تو انکی نظر میں امام شعبہ کا کیا مقام تھا ؟ جس سے معلوم ہو کہ ان دونوں حضرات کے آپس میں کتنے خوبصورت تعلقات تھے امام یحییٰ بن معین کی کتاب معرفہ الرجال میں انکے شاگرد بیان کرتے ہیں امام یحییٰ بن معین سے: میں نے ابو قطن سے سنا فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہؒ نے ایک خط لکھا کہ یہ امام ابو حنیفہؓ کو دو جب میں وہاں گیا اور امام ابو حنیفہ کو دیا تو مجھے فرمانے لگے کہ ابو بسطام(یہ امام شعبہ کی کنیت تھی ) کیسا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ خیریت سے ہیں تو فرمایا (امام ابو حنیفہ نے) کہ وہ مصر کا بہترین شخص ہے یہی وہ واقعہ ہے جسکو امام ابن عبدالبر نے اپنی الانتقاء میں نقل کرتے ہوئے امام شعبہ کو امام ابو حنیفہ کے مداحین میں درج کرتے ہوئے اما م ابن معین سے نقل کیا کہ امام ابن معین کہتے ہیں میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کوئی امام ابو حنیفہ کو ضعیف کہتا ہو وہ ثقہ ہیں اور امام شعبہ جو انکو خطوط لکھتے تھے کہ ہمیں احادیث و احکامات لکھ دین پھر اس بات پر امام ابن معین الحنفیؒ ناز کرتے ہوئے فرماتے ہیں شعبہ تو شعبہ ہے پھر یعنی امام شعبہ جیسا ماہر رجال الناقد شخص امام ابو حنیفہ سے روایاتیں لینے کے لیے عرضی کر رہے ہیں خطوط میں اور احکامات بھی لے رہے ہیں تو پھر اور کون شخص ہوگا جو امام ابو حنیفہ پر جرح کرے ؟ خلاصہ کلام: امام شعبہ سے فقط توثیق ہی ثابت ہے اور مداح ثابت ہے اور اس پر امام ابن معین کی گواہی ثابت ہے اگر امام شعبہ امام ابو حنیفہ پر جرح کی ہوتی تو امام شعبہ ضرور اس بات کا زکر ر کرتے لیکن انہوں نے تو امام ابو حنیفہ پر اپنے وقت میں ایک خاص دور تک جرح کی نفی کی ہے لیکن جب بعد میں انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین پر بے تکی جروحات سنی تو انہوں نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا د فا ع کیا ہے جسکی تٖفصیل ہم نے پچھلی پوسٹ میں تفصیل سے بیان کی ہے اور امام شعبہ سے جو ایک طعن والی روایت بیان کی گئی ہے وہ منکر ہے اور ضرور یہ راوی کی طرف سے امام شعبہ پر بہتان ہے اور ایسے صاحب مناکیر کی بات کو دوسرے ثقات راویان طرف سے کی گئی تعدیل کے مقابلے میں رد کیا جائے گا دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !
  11. نبی پاکﷺ اپنی قبر مبارک میں اپنی امت کے اعمال پر مطلع ہوتے ہیں اس مشہور روایت کی تحقیق! امام البزار اپنی مسند میں اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ [ص:309]، فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں اس روایت پر متعدد متفقہ جید محدثین کی توثیق درج ذیل ہے ۱۔امام ابن عراقیؒ اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتےہیں : وروی ابو بکر البزار فی مسندہ باسناد جید عن اب مسعود ؓقال رسولﷺ بلخ۔۔۔۔ (کتاب طرح التثریب فی شرح التقریب امام ین الدین ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین االعراق ، ص ۲۹۶) ۲۔ امام جلال الدین سیوطیؒ امام سیوطی اسی روایت کے بارے فرماتے ہیں اوخرج البزار بسند صحیح من حدیث ابن مسعود مثله (الخصائص الکبریٰ ص ۴۹۱) ۳۔ امام ہیثمیؒ امام الحافظ نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں : (باب مایحصل لا مته ﷺمن استغفار بعد وفاتة) یعنی نبی پاکﷺ کا بعد از وصال استغفار کرنا اپنی امت کے لیے پھر اس روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کر کے فرماتے ہیں رواہالبزار ورجالہ رجال الصحیح (مجمع الزوائد ص ۹۳) ۴۔امام سمہودیؒ امام سمہودی اس روایت کو نققل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں: الحدییث وللبزار برجال الصحیح عن ابن مسعود بلخ۔۔۔ (خلاصہ الوافا با خبار دارالمصطفیٰﷺ ص ۳۵۳) اتنے بڑے جید محدثین کی تائید حاصل ہونے پر اس روایت کے رجال کی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہم اس کی سند پر تحقیق پیش کر کے ان جید محدثین کی تائید کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی : يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، یہ امام بخاری سمیت صحاح ستہ کے اماموں کے شیخ ہیں امام ابن ابی حاتم انکا ترجمہ یوں نقل کرتے ہیں: 969 - يوسف بن موسى القطان الكوفى، وأصله اهوازي روى عن جرير بن عبد الحميد وحكام بن سلم ومهران بن ابى عمر العطار وأبي زهير عبد الرحمن بن مغراء وسلمة بن الفضل وعبد الله بن ادريس ومحمد بن فضيل ووكيع وعبد الله بن نمير روى عنه أبي وأبو زرعة. نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال: هو صدوق (الجرح والتعديل لا ابن ابی حاتم برقم ۹۶۹) امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ان سے میرے والد اور امام ابو زرعہؒ نے روایت کیا ہے اور میرے والد (امام ابی حاتمؒ) فرماتے ہیں یہ صدوق تھے امام خطیب بغدادیؒ انکے بارے میں فرماتے ہیں : وكان ثقة (تاریخ بغداد ج۱۶، ص ۴۵۴) مختصر یہ صحیح بخاری کا راوی ہے متفقہ ثقہ ہے سند کا دوسرا راوی: عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ 340 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد أبو عبد الحميد المكى مولى الازد روى عن معمر وابن جريج سمعت أبى يقول ذلك، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول ابن علية عرض كتب ابن جريج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فأصلحها له فقلت ليحيى ما كنت اظن ان عبد المجيد هكذا قال يحيى كان اعلم الناس بحديث ابن جريج ولكن لم يكن يبذل نفسه للحديث، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة (نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سئل يحيى بن معين وانا اسمع - عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة - 3) ليس به بأس نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال ليس بالقوى يكتب حديثه كان الحميدى يتكلم فيه. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم برقم ۳۴۰) امام ابن ابی حاتم امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالمجید صالح تھا پھر فرمایا دو مرتببہ اسکوثقہ کہہ کر توثیق کی ہے اسکے بعد ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کے میرے والد انکو لیس بالقوی قرار دیتے اور اسکی حدیث لکھی جائے اور اس میں کمزوری ہے یاد رہے امام ابن معین الحنفیؒ امام ابو حاتم وغیرہ سے بڑے محدث اور متشدد تھے تو انکی توثیق راجع قرار پائے گی 3435- عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه وابن جريج وأيمن بن نابل وعنه كثير بن عبيد والزبير بن بكار قال أحمد ثقة يغلو في الارجاء وقال أبو حاتم ليس بالقوي توفي 206 م (الکاشف امام ذھبی ) امام ذھبی فرماتے ہیں اسکو امام احمد نے ثقہ فرمایا اور یہ مرجئی تھا اور ابو حاتم نے اسکے قوی ہونے کی نفی کی ہے اسکے علاوہ امام ذھبی کے نزدیک یہ راوی معتبر اور صدوق ہے جیسا کہ وہ اس راوی کو اپنی کتاب : ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں زکر کیا ہے اور اس کتاب کے مقدمے مین انہوں نے لکھا ہے کہ اس میں ان راویان کے نام ہے جو صدوق اور حسن الحدیث ہیں لیکن ان پر جروحات بھی ہیں (لیکن راجع یہی ہے کہ وہ راوی صدوق و حسن الحدیث ہیں ) 220 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد المدني (م على) : ثقة مرجىء داعية غمزه ابن حبان نیز اسکے علاوہ امام ذھبی میزان الاعتدال میں بھی اسکی توثیق فرماتے ہوئے کھتے ہیں : 5183 - عبد المجيد بن عبد العزيز [م، عو] بن أبي رواد. صدوق مرجئ كابيه. کہ عبدالمجید صدوق ہے اور مرجئی ہے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اسکی توثیق فرمائی ہے لسان المیزان میں وہ صیغہ (هـ) استعمال کرتے ہوئے اسکی توثیق کی طرف فیصلہ دیاہے 1706 - م4 , (هـ) عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد (2: 648/ 5183). ========= [مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال] رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ): - (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة. - (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه. -ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف. (لسان المیزان برقم ۱۷۰۶) اسکے علاوہ امام ابن حجر نے تقریب میں بھی اسکو صدوق یخطی قرار دیا ہے اور ابن حبان کا اس پر جرح کرنے کو باطل قرار دیا ہے 4160- عبد المجيد ابن عبد العزيز ابن أبي رواد بفتح الراء وتشديد الواو صدوق يخطىء وكان مرجئا أفرط ابن حبان فقال متروك من التاسعة مات سنة ست ومائتين م (تقریب التہذیب بررقم ۵ؤ۴۱۶۰) یعنی عبدالمجید صدوق درجے کا ہے اور یخطی ہے اور ابن حبان نے اس پر متروک کی جرح کر کے حد سے تجاوز کیا اسکی توثیق مندرجہ زیل اماموں نے کی ہے ۱۔امام ابن معین (متشدد) ۲۔امام احمد بن حنبل ۳۔ امام نسائی (متشدد) ۴۔ امام ابو داود ۵۔ امام نسائی ۶۔ امام ذھبی ۷۔ امام ابن حجر نیز یہ راوی طبقہ ثالثہ کا مدلس راوی ہے جسکی روایت عن کے ساتھ ضعیف ہوتی ہے لیکن اسکی شاہد موجود ہے جسکو امام سیوطی نے الخصائص الکبرہ میں با سند صحیح نقل کیا ہے جو کہ مرسل ہے تو اسکی تدلیس والا اعتراض یہاں بےضرر ہے جیسا کہ اس روایت کی دوسری مرسل سند ایسے ہے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ . ترجمہ : حضرت بکر بن عبدللہ المزنی سے روایت ہے،رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 'میری حیات بهی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم حدیثیں بیان کرتے ہو اور تمہارے لئے حدیثیں (دین کے احکام)بیان کیے جاتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ، تمہارا جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر الله کا شکر ادا کرتا ہوں،اور اگر برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔ (الراوي : بكر بن عبد الله المزني المحدث : الألباني - المصدر: فضل الصلاة - صفحة 26 خلاصة الدرجة : جيدة رجالها رجال مسلم . المحدث : محمد ابن عبد الهادي - المصدر: الصارم المنكي صفحة 329 خلاصة الدرجة : مرسل إسناده صحيح ) السيوطي - المصدر: الخصائص الكبرى الصفحة أو الرقم: ٢/٤٩١ خلاصة الدرجة: إسناده صحيح ۔) امام ابن سعد نے بھی مرسل روایت کی ایک اور بے غبار سند بیان کی ہے أخبرنا يونس بن محمد المؤدب، أخبرنا حماد بن زيد، عن غالب، عن بكر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حياتي خير لكم، تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خيرا لكم، تعرض علي أعمالكم، فإذا رأيت خيرا حمدت الله، وإن رأيت شرا استغفرت الله لكم» (طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۴) امید ہے جناب کو اب تدلیس والے اعتراض کا کافی و شافی جواب مل گیا ہے سند کا تیسرا راوی :سفیان الثوری یہ متفقہ ثقہ اور امیر المومنین فی حدیث ہیں امام ذھبی انکا تعارف یوں کرواتے ہیں هو شيخ الإسلام، إمام الحفاظ، سيد العلماء العاملين في زمانه، أبو عبد الله الثوري، الكوفي، المجتهد، مصنف كتاب (الجامع) . (سیر اعلام النبلاء برقم 82) سند کا چوتھا راوی : عبداللہ بن سائب الکندی 303 - عبد الله بن السائب الكندي روى عن زاذان وعبد الله (6) ابن معقل وعبد الله بن قتادة المحاربي روى عنه الشيباني أبو إسحاق والأعمش وسفيان الثوري وأبو سنان [الشيباني - 7] سمعت أبي يقول ذلك. نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: عبد الله بن السائب ثقة. نا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول: عبد الله بن السائب الذي يروى عنه زاذان ثقة. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم ) 891 - عبد الله بن السَّائِب الكندى ثِقَة (الثقات امام عجلی ) الغرض یہ متفقہ ثقہ امام ہیں سند کا پانچواں راوی: زاذان أبو عمر1 450- زاذان أبو عمر1: سمع من عبد الله بن مسعود، ثقة. (الثقات عجلی ) 417 - زَاذَان ثِقَة كَانَ يتَغَنَّى ثمَّ تَابَ (تاریخ الثقات ابن شاھین) 1603- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم الضرير البزاز عن علي وابن مسعود ويقال سمع عمر وعنه عمرو بن مرة والمنهال بن عمرو ثقة توفي 82 م (امام ذھبی الکاشف) 4556- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم سمع: علي بن أبي طالب، وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمر. روى عنه: ذكوان أبو صالح، وعبد الله بن السائب، وعمرو بن مرة، وغيرهم. وكان ثقة (تاریخ بغداد امام خطیب) 1976- زاذان أبو عمر الكندي البزاز ويكنى أبا عبد الله أيضا صدوق يرسل وفيه شيعية من الثانية مات سنة اثنتين وثمانين بخ م 4 (تقریب التہذیب امام ابن حجر) اما م ابن حجر کہتے ہین کہ یہ صدوق ہے شیعت کا عنصر پایا جاتا تھا اس میں اور ارسال بھی کرتا تھا امام ذھبی انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں : 470- زاذان 1: "م، أبو عمر الكندي، مولاهم، الكوفي، البزاز، الضرير، أحد العلماء الكبار. ولد: في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وشهد خطبة عمر بالجابية. وكان ثقة، صادقا، روى جماعة أحاديث. (سیر اعلام النبلاء) زاذان یہ ابو عمر ہیں اور علماء میں سے تھے یہ نبی پاک کی زندگی میں پیدا ہوئے اور وہ ثقہ صدوق تھے سند کے پانچوے راوی خود صحابی رسولﷺ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں اس تحقیق سے معلووم ہوا کے اسکی سند صحیح ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے دعاگو: خادم الحدیث رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )
  12. امام ابن معین الحنفی اور امام احمد بن حنبل کے درمیان امام ابو حنیفہ و امام شافعی کی وجہ سے چپکش کا پس منظر بقلم اسد الطحاوی الحنفی البریلوی! أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم، قال: حدثنا محمد بن خلف بن جيان الخلال، قال: حدثني عمر بن الحسن، عن أبي القاسم بن منيع، قال: حدثني صالح بن أحمد بن حنبل، قال: مشى أبي مع بغلة الشافعي، فبعث إليه يحيى بن معين، فقال له: يا أبا عبد الله، أما رضيت إلا أن تمشي مع بغلته؟ فقال: يا أبا زكريا لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. (تاریخ بغداد ، سند صحیح ) صالح بن احمد بیان کرتے ہیں کہ میرے والد احمد بن حنبل کو امام شافعی کی سواری کے ساتھ جاتے ہوئے یحییٰ ابن معین نے دیکھا تو اُن کے پاس کہلا بھیجا کہ ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل کی کنیت ہے) آپ شافعی کی سواری کے ساتھ چلنے کو پسند کرتے ہیں؟ والد نے اُس کے جواب میں کہا کہ ابو زکریا! (یحییٰ ابن معین کی کنیت ہے) اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ اس واقعے کو امام القاضی عیاض مالکی نے بھی صالح بن احمد سے ان الفاظ سے نقل کیا ہے وقال ابن معين لصالح بن أحمد ابن حنبل: أما يستحي أبوك رأيته مع الشافعي، والشافعي راكب وهو راجل، ورأيته قد أخذ بركابه. قال صالح فقلت لأبي فقال لي: قل له إن أردت أن تتفقه، (الكتاب: ترتيب المدارك وتقريب المسالك ، المؤلف: أبو الفضل القاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) قیام بغداد میں آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ایک احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) ہیں۔ ایک مرتبہ یحییٰ ابن معین نے احمد بن حنبل کے صاحبزادے صال بن احمد سے کہا کہ آپ کے والد کو شرم نہیں آتی ہے؟ میں نے اُن کو شافعی کے ساتھ اِس حال میں دیکھا ہے کہ شافعی سواری پر چل رہے ہیں اور آپ کے والد رکاب تھامے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔ صالح بن احمد نے یہ بات اپنے والد احمد بن حنبل سے بیان کی تو اُنہوں نے کہا کہ اُن سے کہہ دو کہ اگر آپ فقیہ بننا چاہتے ہیں تو شافعی کی سواری کی دوسری رکاب کو آپ تھام لیں تاریخ بغداد کی روایت کی سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی ابو طالب عمر بن ابراھیم: 3979- الزهري الفقيه العلامة، أبو طالب؛ عمر بن إبراهيم بن سعيد، الزهري الوقاصي، من ذرية صاحب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سعد بن أبي وقاص، بغدادي من كبار الشافعية ببغداد، ويعرف بابن حمامة. مولده في سنة سبع وأربعين وثلاث مائة. كتب عن: أبي بكر القطيعي، وابن ماسي، وعيسى بن محمد الرخجي، وعدة. روى عنه: الخطيب ووثقه. توفي سنة أربع وثلاثين وأربع مائة. (سیر اعلام النبلاء) سند کا دوسرا راوی : محمد بن خلف 749- محمد بن خلف بن محمد بن جيان بالجيم بن الطيب بن زرعة أبو بكر الفقيه المقرئ الخلال سمع: عمر بن أيوب السقطي، وقاسم بن زكريا المطرز، وعبد العزيز بن محمد بن دينار الفارسي، وعلي بن إسحاق بن زاطيا، وأحمد بن سهل الأشناني، وأبا بكر بن المجدر، ومحمد بن يحيى العمي، وحامد بن شعيب البلخي، ومحمد بن بابشاذ البصري، وكان ثقة، سكن بستان أم جعفر. (تاریخ بغداد) سند کا تیسرا راوی : محمد بن عمر الحسن ابو عاصم 5908- عمر بن الحسن بن علي بن الجعد بن عبيد أبو عاصم الجوهري، وهو أخو سليمان، وعلي حدث، عن زيد بن أخزم، وأبي الأشعث العجلي، ويحيى بن محمد بن السكن البزار، وعباس الدوري. روى عنه أبو بكر بن شاذان، وابن شاهين، والمعافى بن زكريا، وابن الثلاج، وكان ثقة. 1466 - نَا عمرَان بن الْحسن بن عَليّ بن مَالك قَالَ سَأَلت مُوسَى بن هَارُون الْبَزَّاز عَن أبي الْقَاسِم بن منيع فَقَالَ ثِقَة صَدُوق (الثقات لا ابن شاھین) سند کا چوتھا راوی زہیر بن صالح جو کہ بیٹے ہیں امام احمد بن حنبل ؒ کے 138 - زهير بن صالح بن أحمد بن حنبل. [المتوفى: 303 هـ] عن: أبيه. وعنه: ابن أخيه محمد بن أحمد، وأبو بكر الخلال، وأبو بكر النجاد. وهو ثقة. (تاریخ الاسلام) اس واقعے کا پس منظر امام یحییٰ ابن معین ؒ اور امام احمد بن حنبل بہت اچھے دوست تھے اور امام احمد امام ابن معین سے احادیث بھی روایت کرتے تھے یعنی ایک طرح سے احمد بن معین شیخ بھی تھے امام احمد کے اور دوست بھی لیکن امام احمد بن حنبل جو کہ پہلے امام ابو یوسفؒ سے فقہ و علم حدیث سیکھتے تھے پھر انکا رجھان امام شافعی کی طرف ہوا یہ بات امام ابن معینؒ الحنفی کو اچھی نہیں لگتی تھی اور امام ابن معین امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے انکے اجتیہاد پر مثالیں دیتے امام ابن معین کا امام ابو حنیفہ پر فخر کرنے کا یہ عالم تھا کہ جب امام شعبہ امام ابو حنیفہ ؒ کو خط لکھتے اور احادیث اور احکامات (فقہ) کے لیے امام شعبہ کی امام ابو حنیفہؒ سے عر ض کرتے ہوئے پڑھتے تو فخریہ انداز میں کہتے کہ یہ امام شعبہ (جو علم رجال کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے ) جو امام ابو حنیفہ کو خط لکھتے ہیں اور ان سے احادیث اور مسائل کا حکم کے لیے عرض کرتے ہیں اور پھر شعبہ ؒ تو پھر شعبہ ہیں (یعنی رجال کی محارت پھر امام شعبہ پر ختم ہو جاتی ہے) اور اسی طرح دوسری طرف امام احمد بن حنبل تھے جو امام شافعی کی طرف رجھان رکھتے تھے اور انکے فضائل و مناقب بیان کرتے اور جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے امام ابن معین اور امام احمد کے درمیان فقہ حنفی و شافعی کی چپکلش کی وجہ سے امام احمد کی زبان سے امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے بارے مذمت کے کچھ الفاظ ملتے ہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے ان سب باتوں سے رجوع کر لیا تھا جیسا کہ ایک وقت میں انکا موقف تھا کہ امام ابو یوسف سے بیان نہ کیا جائے کیونکہ وہ ابو حنیفہ کی رائے پر عمل کرتے ہیں لیکن وہ صدوق ہیں لیکن پھر اس قول کے مخالف امام احمد نے اپنی مسند مین امام ابو حنیفہ سے روایت بیان کی ہے یعنی اگر کوئی پڑھنے والا امام احمد کے اس اعتراض کو پڑھے تو صاف جان جائے کہ یہاں امام احمد بن حنبل جو کہ امام ابو یوسف کو ثقہ جانتے ہوئے بھی فقط اس تعصب کی وجہ سے اسکی روایت کو بیان کرنے سے روکا کہ وہ اما م اعظم کی فقہ پر عمل پیرہ ہیں جو کے امام شافعی کی فقہ سے بالکل مختلف تھی یہی حسد تعصب جو امام احمد بن حنبل میں پایا جاتا تھا جسکی نشاندہی امام ابن معین نے کی اور امام احمد اور انکے ساتھ چند اور عداوت رکھنے والے حاسد و متعصب محدثین نے جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین پر ہاتھ صاف کیا تو امام ابن معین دفاع میں نکل آئے اور انہوں نے اپنی جماعت محدثین کو مخاطب کر کے کہا کہ : ہمارے ساتھی (یعنی محدثین کی جماعت) امام ابو حنیفہ ، اور صاحبین پر بے وجہ ، نا حق جرح کر کے حد سے تجاوز کرتے ہیں یعنی امام ابن معین نے امام ابو حنیفہ و صاحبین کا کو ان سب جروحات سے پاک قرار دیا جو کہ تعصب میں ان پر کی جاتی تھی جیسا کہ اما م ابن عبدالبر نے یہ تصریح کی ہے کہ امام ابن معین ابو حنیفہ و صاحبین کی تعدیل اور انکی تعریف کرتے لیکن اہل حدیث یعنی محدثین کی ایک جماعت اما م ابو حنیفہ اور صاحبین سے حسد بغض اور عداوت کی وجہ سے جرح کرتی ہے (الاتنقاءفی فضائل الثلاثہ) یہی وجہ ہے کہ امام ابن معین نے پھر امام احمد بن حنبل کو انکی زبان میں سبق سیکھایا کہ امام شافعی جنکو امام ابن معین بھی ثقہ و محدث حافظ مانتے تھے لیکن جب انہوں نے امام احمد کو امام شافعی کی سواری کی رکاب پکڑے پیدل چلتے دیکھا تو کہا : کیاتم یہ پسند کرتے ہو ؟ کہ امام شافعی کی رکاب پکڑ کر اب پیدل چلو گے ؟ اور یہ پیغام امام ابن معین کا امام احمد کو فقیہ ابو حنیفہ اور صاحبین پر اعتراض کی وجہ سے کہاگیا جسکی تائید امام احمد بن حنبل کے جواب سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امام احمد نے یہ پیغام سننے کے بعد یہ جواب دیا : لو مشيت من الجانب الآخر كان أنفع لك. یعنی امام احمد ابن معین کو فرماتے ہیں : اگر آپ اُس کے بائیں جانب چلتے تو زیادہ فائدہ میں رہتے۔ یعنی امام احمد کے بقول امام ابن معین چونکہ امام شافعی کی فقہ اور انکے اجتیہاد پر شدید جرح کرتے ہیں اس لیے امام احمد انکو جواب دیتے ہیں کہ اگر آپ امام شافعی کی طرف ہوتے تو زیادہ فائدہ مند ہوتے ۔۔ یعنی بقول امام احمد امام شافعی کی طرف نہ ہو کر کم فائدہ مند ہیں ؟ اور اسکی وجہ یہی ہے کہ امام ابن معین امام ابو حنیفہ کے مداح و ثنا کرنے والے تھے اس طرح ایسی اور کئی باتیں ہیں جنکی وجہ سے امام ذھبیؒ جو خود شافعی مسلک کے امام ہیں انکو یہ بات لکھنی پٖڑی کہ امام ابن معین جو کہ محدث تھے لیکن غالی حنفی تھے اور دوسری جگہ فرمایا کہ فروع میں حنفی مقلد تھے اور امام ذھبی کو امام شافعی کو الضعفاء میں د رج کیا اور امام ابن معین سے اما م شافعی کے بارے لکھا کہ وہ انکے بارے بری رائے رکھتے تھے اور غالی حنفی امام ذھبی نے اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ امام شافعی جیسے فقیہ کو بھی انکے اجتیہاد(مخالف امام ابو حنیفہ کی وجہ سے ) ایسی جرح کرتے کہ سوائے غالی حنفی اور کوئی نہیں کر سکتا لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ امام احمد نے رجھان امام شافعی کی طرف رکھنے کے باوجود بھی اپنی فقہ اور اسکے اصول امام احمد نہ اپنا سکے بلکہ امام محمد و امام ابو یوسف جنہوں نے اما م ابو حنیفہ کے اصول اور انکی فقہ کو پروان چڑھایا اسی کی پیروی کی اور اس طرح بقول ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کے اقوال کے سب سے زیادہ قریب ترین کوئی فقہ ہے تو وہ فقہ حنفی ہے یعنی امام ابو حنیفہ کے اصول اور اجتیہاد کے قریب کسی کے فتوے ہیں مجتہد ہوتے ہوئے تو وہ امام احمد بن حنبل ہیں دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی !
  13. امام زھیر بن معاویہ کا امام ابو حنیفہ کو خراج تحسین! امام ابن عبدالبرؒ اپنی مشہور تصنیف الانتقاء في فضائل الثلاثةمیں اپنے شیخ الشیخ امام ابو یعقوب الصیدلانی کی سند سے امام زہیر بن معاویہ ؒ کے امام ابو حنیفہؓ کے بارے میں بہت عمدہ مداح نقل کی ہے جسکی سند و متن یوں ہے قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ نَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ نَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ زُهَيْرٌ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ مِنْ عِنْدِ أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ زُهَيْرٌ إِنَّ ذَهَابَكَ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ يَوْمًا وَاحِدًا أَنْفَعُ لَكَ مِنْ مَجِيئِكَ إِلَيَّ شَهْرًا امام علی بن الجعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ زہیر بن معاویہ کے پاس موجود تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو زہیر نے اس سے دریافت کیا تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا امام ابو حنیفہؓ کے پاس سے ! تو زہیر نے فرمایا : تمہارا ایک دن امام ابو حنیفہ کے پاس جانا ، تمہارے لیے میرے پاس ایک ماہ آنے سے زیادہ نفع بخش ہے امام زہیر بن معاویہ ؒ کا تعارف! امام ذھبیؒ انکے بارے میں سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں : 26 - زهير بن معاوية بن حديج بن الرحيل الجعفي * (ع) الحافظ، الإمام، المجود، أبو خيثمة الجعفي، الكوفي، محدث الجزيرة، وهو أخو حديج، والرحيل. كان من أوعية العلم، صاحب حفظ وإتقان. (سیر اعلام النبلاء برقم ۲۶) یہ صحیحین کے راوی ہیں متفقہ اور علم کے سمند او ر اعلیٰ درجے کہ محدث الوقت تھے ! سند کے رجال کی تحقیق! اس سند کے پہلے راوی امام ابو یعقوب الصیدلانی المکی محدث ہیں جن کے بارے میں امام ذھبیؒ نے سیر اعلام میں مسند مکہ جیسے لقب استعمال کیے ہیں اور امام ابن عبدالبر نے اپنی دوسری تصنیف الاسذکار میں ان سے مروی ایک روایت کی توثیق تو تصحیح کی ہے یعنی امام ابن عبدالبر کے نزدیک یہ ثقہ ہیں اور امام ابو یعقوب الصیدلانی امام عقیلی کے شاگرد ہیں اور امام ابن عبدالبر کے شیخ الشیخ ہیں یعنی امام ابن عبدالبر کے شیخ امام حکم بن منذر ہیں اور اکے شیخ امام ابو یعقوب الصیدلانی ہیں یہ امام عقیلی کی کتاب الضعفا ء روایت کرنے والے مرکزی راوی ہیں اور اسی کتاب میں امام عقیلی نے امام ابو حنیفہ کے ترجمے میں فقط جرح اور طعن نقل کیا جسکے جواب میں امام ابو یعقوب الصیدلانیؒ نے اپنے شیخ کے اس تعصب کے جواب میں غیر حنفی ہوتے ہوئے امام ابو حنیفہؓ کے بارے میں جو مداح اور توثیق جنکو امام عقیلی نے اپنی کتاب میں لکھنے سے پرہیزکیا تو امام الصیدلانی نے انکو جمع کیا اور ایک مکمل کتاب تشکیل دی جسکا نام تھا فضائل ابو حنیفہ و اخبار یہ کتاب امام ابن عبدالبرؒ کے پاس موجود تھی تو یہ اعتراض کرنا کہ امام الصیدلانی اور امام ابن عبدالبر کے زمانے میں فرق ہے یہ بات صحیح نہیں کیونکہ امام ابن عبدالبر کے شیخ حکم بن منذر ؒ ہیں اور انکے شیخ الصیدلانی ہیں امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی محدث مکہ کی تصنیف کردہ کتاب تھی اسکا ثبوت بھی ہم امام ابن عبدالبر ہی سے اسی کتاب سے پیش کرتے ہیں چنانچہ ایک جگہ امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں ـ كُلُّ هَؤُلاءِ أَثَنَوْا عَلَيْهِ وَمَدَحُوهُ بِأَلْفَاظٍ مُخْتَلِفَةٍ ذَكَرَ ذَلِكَ كُلَّهُ أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ الْمَكِّيُّ فِي كِتَابِهِ الَّذِي جَمَعَهُ فِي فَضَائِلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَخْبَارِهِ حَدَّثَنَا بِهِ حَكَمُ بْنُ مُنْذر رَحِمَهُ اللَّهُ (الانتقاء في فضائل الثلاثة ،ص ۱۳۷ ترجمہ:امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : یہ سب وہ حضرات ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ کی تعریف کی ہے اور مختلف الفاظ کے زریعہ انکی تعریف بیان کی ہے ان سب کا تذکرہ امام ابو یعقوب یوسف بن احمد بن یوسف مکی نے اپنی کتاب میں کیا ہے جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے فضائل اور انکے حالات کے بارے میں مرتب کی ہے اس کے بارے میں حکم بن منذر نے ہمیں بیا نکیا ہے امام ابن عبدالبر کی اس تصریح سے یہ واضح ہوگیا کہ امام ابن عبدالبر کے پاس امام الصیدلانی کی تصنیف کردہ کتاب موجود تھی تو انقطاع کا اعتراض کرنا باطل ہے امام الصیدلانی کی توثیق: امام ابن عبدلابر نے ایک روایت کو نقل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ کا یہ قول عادل راویوں سے ثابت ہے اور پھر وہ جوحدیث رسول کی سند نقل کرتے ہیں ان میں امام الصیدلانی بھی موجود ہیں اور ان سے مروی حدیث کے بارے امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں یہ حدیث عادل راویوں سے ثابت ہے (الاستذکار برقم ۷۳ٌ) سند کا دوسرا راوی: امام ابو جعفر عقیلی ( صاحب الضعفاء ) امام عقیلی مشہور محدث و ناقد انکی تعارف کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی انکے بارے میں امام ذھبی کے الفاظ نقل کرتے ہیں سیر سے 93 - العقيلي أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى * الإمام، الحافظ، الناقد، أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد، العقيلي الحجازي، مصنف كتاب (الضعفاء) (سیر اعلام النبلاء برقم ۹۳) سند کا تیسرا راوی : ابو شعیب الحرانی امام ذھبی نے انکو العبر میں ثقہ فرمایا ہے وفيها أبو شعيب الحراني عبد الله الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الأموي الؤدب نزيل بغداد في ذي الحجة. روى عن يحيى البابلتي وعفان وعاش تسعين سنة وكان ثقة. (العبر في خبر من غبر، ص ۴۲۸) سند کا چوتھا راوی : امام علی بن الجعد ؒ یہ امام ابو یوسف کے اصحاب میں سے تھے اور متفقہ ثقہ محدثین احناف میں سے تھے انہوں نے امام ابو حنیفہ کی زیارت کی تھی اور یہ صحیحین کے مرکزی راویوں میں سے ہیں اور امام بخاری و امام ابو داود کے شیخ ہیں امام ذھبیؒ انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں : 152 - علي بن الجعد بن عبيد البغدادي * (خ، د) الإمام، الحافظ، الحجة، مسند بغداد، أبو الحسن البغدادي، (سیر اعلام النبلاء برقم ۱۵۲) اور یہ اصحاب امام زھیر بن معاویہؒ میں سے ہیں تمام حوالاجات کے اسکین موجود ہیں ((((((( دعاگو: رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی))))))