Bhai Jaan

Composing Team
  • Content count

    380
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

Bhai Jaan last won the day on April 10

Bhai Jaan had the most liked content!

Community Reputation

28 Excellent

About Bhai Jaan

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 07/15/1985

Contact Methods

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    karachi

Previous Fields

  • Madhab
    Hanafi

Recent Profile Visitors

407 profile views
  1. جزاک اللہ محمد علی صاحب مگر کسی نے کہا ہے کہ نبیط بن شریط کو امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں جھوٹا کہا ہے اس حوالے سے بھی کچھ فرما دیں تو مہربانی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔
  2. کنز العمال شریف میں یہ حدیث شریف ہے اس حدیث شریف کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ حدیث موضوع ہے ؟؟؟ عن نبيط بن شريط قال : لما فرغ علي من قتال أهل النهر قال : اقلبوا القتلى فقلبناهم حتى خرج في آخرهم رجل أسود على كتفه مثل حلمة الثدي فقال علي : الله أكبر والله ما كذبت ولا كذبت كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم وقد قسم فيئا فجاء هذا فقال : يا محمد اعدل فوالله ما عدلت منذ اليوم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ثكلتك أمك ومن يعدل عليك إذا لم أعدل فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله ألا أقتله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا دعه فإن له من يقتله فقال : صدق الله ورسوله یعنی کہ جب فارغ ہوئے علی اَہلِ نہروان کے قتل سے کہا کہ لاشوں میں اُس شخص کو تلاش کرو جب ہم نے خوب ڈھونڈھا تو سب کے آخر میں ایک شخص سیاہ فام نکلا جس کے شانہ پر ایک گوشت پارہ مثل پستان کے تھا یہ دیکھتے ہی حضرت علی نے کہااَللَّہُ أَکْبَرُقسم ہے خدا کی نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی نہ میں اُس کا مرتکب ہوا ۔ ایک بار ہم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کا مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہا اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم عدل کیجئے کہ آج آپ نے عدل نہیں کیا ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے جب میں عدل نہ کروں تو پھر کون عدل کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو قتل نہ کروں فرمایا نہیں اِس کو چھوڑدو اِس کو قتل کرنے والا کوئی اور شخص ہے ۔ حضرت علی نے یہ کہہ کر کہا ’’صَدَقَ اللَّہُ‘‘اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا ہوا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فلہذا اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی بات نہیں۔
  3. حدیث شریف کی سند کا حوالہ اور اسکین درکار ہے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْفِرُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ اس حدیث کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی سند یوں بیان فرمائی اخبرنا ابراھیم بن یعقوب حدثنا ابن ابی مریم ،اخبر نا ابو غسان حدثنی زیدبن اسلم عن عاصم بن عمر بن قتادہ عن محمود بن لبید عن رجال من قومہ من الانصار ان رسول اﷲﷺ نیز اس کا حوالہ بھی درکار ہے نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ کو دراز قرأت سے منع فرمادیا تھا کہ اُن کے مقتدیوںپر بوجھ ہوتی تھی جس چیز سے جماعت کم ہوجائے اُس سے پرہیز کرنا بہتر ہے جو جماعت کی زیادتی کا سبب ہو وہ بہتر ہے اندھیرا جماعت کی کمی کا سبب ہے ۔ اسفار جماعت کی زیادتی اور مسلمانوں کی آسانی کا ذریعہ لہٰذا اسفار بہترہے نیز اندھیرے میں مسلمانوں کو مسجد میں آنا دشوار ہوگا۔ اوجیالے میں آسان چنانچہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو جب اندھیرے میں عین نماز کی حالت میں شہید کیا گیا تو صحابہ کرام نے فجر میں بہت اوجیالا کرنے کا اہتمام کیا جیساکہ طحاوی شریف میں ہے ۔
  4. عالمگیری میں ہے کہ بدمذہب کو بڑے لقب دینا گمراہی ہے اس کا اسکین درکار ہے
  5. جزاک اللہ خیرا Like this
  6. M Afzal Razvi حضور میں حضرت نہیں ہوں آپ کو لنک بھیج دیا ہے پرسنل میں چیک کرلیں جزاک اللہ
  7. السلام علیکم فتاوی ستاریہ کی ایک جلد موجود ہے انٹرنیٹ پر اس کا لنک پرسنل میں آپ کو دیتا ہوں
  8. وعلیکم السلام ملفوظات اعلی حضرت ایک ہی جلد میں چار حصہ ہیں یہاں پر اپلوڈ کردی ہے آپ ڈاونلوڈ کرلیں۔ جزاک اللہ Malfozat Alahazrat.pdf
  9. السلام علیکم اس کا جواب تفصیلی چاہیے بڑی مہربانی ہوگی جزاک اللہ
  10. السلام علیکم اس کا جواب تفصیلی چاہیے بڑی مہربانی ہوگی جزاک اللہ
  11. اس عبارت کا مکمل حوالہ درکار ہے عینہ شرح ہدایہ میں ہے المراد بالذکر المتعدی بعلی ذکر باللسان کما تقرر یعنی ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ برائے مہربانی اسکین یا مکمل حوالہ عنایت فرما دیں ۔ جزاک اللہ
  12. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: قَالَ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلٰی بَـلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَايَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22/ 320، الرقم/ 807، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 218، الرقم/ 200، والديلمي في مسند الفردوس، 3/ 169، الرقم/ 4449، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 21/ 60، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 7/ 207. ایک روایت میں حضرت ابو ہند الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص میرے فیصلے پر راضی نہیں اور میری آزمائش پر صابر نہیں، تو اُسے چاہیے کہ وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔ اِسے امام طبرانی، بیہقی، دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
  13. پارہ ۲۸،سورۃ التحریم، آیت۵،۴
  14. وعلیکم السلام فقیر کیا کرسکتا ہے ؟؟؟ حکم فرمائیں پارہ ۲۸،سورۃ الطلاق، آیت ۶