Bhai Jaan

Composing Team
  • Content count

    370
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

Bhai Jaan last won the day on April 10

Bhai Jaan had the most liked content!

Community Reputation

27 Excellent

About Bhai Jaan

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 07/15/1985

Contact Methods

  • Website URL
    [email protected]
  • ICQ
    0

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    karachi

Previous Fields

  • Madhab
    Hanafi

Recent Profile Visitors

242 profile views
  1. اس عبارت کا مکمل حوالہ درکار ہے عینہ شرح ہدایہ میں ہے المراد بالذکر المتعدی بعلی ذکر باللسان کما تقرر یعنی ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ برائے مہربانی اسکین یا مکمل حوالہ عنایت فرما دیں ۔ جزاک اللہ
  2. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: قَالَ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلٰی بَـلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَايَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22/ 320، الرقم/ 807، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 218، الرقم/ 200، والديلمي في مسند الفردوس، 3/ 169، الرقم/ 4449، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 21/ 60، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 7/ 207. ایک روایت میں حضرت ابو ہند الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص میرے فیصلے پر راضی نہیں اور میری آزمائش پر صابر نہیں، تو اُسے چاہیے کہ وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔ اِسے امام طبرانی، بیہقی، دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
  3. پارہ ۲۸،سورۃ التحریم، آیت۵،۴
  4. وعلیکم السلام فقیر کیا کرسکتا ہے ؟؟؟ حکم فرمائیں پارہ ۲۸،سورۃ الطلاق، آیت ۶
  5. علامہ ابن عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا حوالہ درکار ہے کسی کے پاس ہو تو برائے مہربانی عنایت فرما دیں۔ جزاک اللہ علامہ ابن عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لکھا کہ نیند بھی ایک آفت ہےجس کی وجہ سے نفس کو جو اقلیم بدن پر حکومت حاصل ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو اس سے محفوظ رکھا ہے ، آپ کی آنکھوں پر نیند طاری ہوتی قلبِ اقدس ہمیشہ بیدار رہتا
  6. السلام علیکم حضرت علامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ کی عبارت کا اسکین اور حوالہ درکار ہے کہ کس کتاب میں آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے حضرت علامہ عبدالغنی نابلسی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس زمانہ میں مختلف وضع قطع و ڈیزائن کے ملبوسات ، کھانے پینے اوررہنے کے نئے نئے انداز اور طریقے شرعاً بدعت نہیں قرار پاتے۔
  7. حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیّدعالم سرورِ کائنات ﷺ کے دیدارِ پُرانوار کے شوق سے جہاں میرا غالب خیال تھا پہنچا مگر نہ پایا۔ پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوا مگر یہاں بھی آپ کے دیدار سے مشرف نہ ہوسکا اچانک میری نظر محراب کی طرف اُٹھی توآفتاب حق نما محراب میں جلوہ گر نظر آئے ۔ آپ کے چاروں طرف انوار کی بارش ہورہی تھی ، میں آگے بڑھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب بیٹھ گیا تومعاً ایک دلپذیر آواز سنائی دی جو نفیس ترین نغمہ سے بھی زیادہ مرغوب و محبوب تھی ۔ اسی اثناء میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’طوبیٰ لہ‘‘ پھر آپ کے جواب میں آواز آئی’’طوبیٰ لک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ولمن صام رمضان‘‘پھر معمولی وقفہ کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ارشاد فرمایا ’’یا علی من معک‘‘ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عرض کی عبداللہ بن مسعود، آپ نے فرمایا آگے آیئے ۔ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے توآپ کی نورانی پیشانی اس طرح چمک رہی تھی جس طرح چودہویں رات کا چاند مسجد کے محراب میں اتر آیا ہو ، نورِ خدا مجسم ہوکر دیدار دکھا رہا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں میں نے نہایت انکساری سے اس پاکیزہ نغمہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے عرض کیا ، آپ نے فرمایا تلک نعمۃ جبرئیل علیہ السلام وہ جبرئیل علیہ السلام کا نغمہ تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام کی حکایت بیان کررہے تھے کہ یارسول اللہﷺ میں آپ کی ملاقات کے لئے آرہا تھا کہ راستے میں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی اور ہماری گفتگو کا موضوع آپ کی ذات والا صفات تھی، اسی دوران میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے لعل وجواہرات اور موتیوں سے مرصع ومزین تخت کو اپنی پشت پر اُٹھایا ہواہے اور اس پر ایک بندہ خدا جلوہ افروز ذکر خدا میں محو ہے ۔ میں نے فرشتے سے اس کا حال دریافت کیا اس نے کہا یہ بندہِ حق دو ہزار سال جنگلوں میں مصروف عبادت اور پھر اس نے سمندروں میں عبادت کرنے کے شوق سے بارگاہِ الٰہی میں التجا کی جو منظور ہوئی اور مجھے اس کی خدمت کے لئے احکم الحاکمین کی طرف سے آرڈر نافذ ہوا اوراب اسے سمندروں کی سیر وتفریح سے محظوظ کررہا ہوں اور یہ اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہیں۔ جب جبرئیل امین نے بیان کیا تو حضورﷺ فرماتے ہیں میں نے کہا ’’طوبیٰ لہ‘‘توجبرئیل علیہ السلام نے کہا ’’طوبیٰ لک ولامتک‘‘ آپ کو اور آپ کی امت کو خوشخبری ہو ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میری امت میںبھی کوئی ایسا خوش نصیب ہے؟حضرت جبرئیل نے عرض کیا یارسول اللہﷺ ، اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان شہر پیدا فرمایاہے جس کے طول وعرض کو خالقِ حقیقی ہی جانتا ہے ، اس میں بیشمار فرشتے رہتے ہیں ، ہر ایک کے ہاتھ میں سفید جھنڈا ہے جس پر ’’لااِلٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘لکھا ہوا ہے ، اِن فرشتوں کی عبادت آپ کی امت کے روزہ داروں کے لئے دعائے مغفرت ہے یارسول اللہﷺ جب ماہِ رمضان تشریف لاتاہے توفرشتوں کی دوسری جماعت کو حکم ہوتاہے کہ اس شہر میں جاکر اسی دعائے مغفرت میں مشغول ہوجائیں اور پہلے فرشتے عرش پر چلے جاتے ہیں یہ دولتِ عظیمہ انہیں آپ کی خدمت اور امت مرحومہ کی طلبِ مغفرت کی بدولت میسر ہوئی اور ہرماہِ رمضان کی آمد پر فرشتوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔(انوار الصوم
  8. جزاک اللہ فتاوی ستاریہ جلد دوم مکمل اسکین ہو تو عنایت فرما دیں
  9. فتاوی ستاریہ کا اسکین درکار ہے جس میں ہے لکھا ہے کہ اگر کسی میں استطاعت نہ ہو تو وہ مرغی کے انڈا کی قربانی ادا کرے ۔ مطبوعہ کے ساتھ عنایت فرما دیں مہربانی ہوگی