Bhai Jaan

Composing Team
  • Content count

    382
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    11

Bhai Jaan last won the day on April 10 2017

Bhai Jaan had the most liked content!

Community Reputation

28 Excellent

About Bhai Jaan

  • Rank
    Baghdadi Member
  • Birthday 07/15/1985

Contact Methods

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location
    karachi

Previous Fields

  • Madhab
    Hanafi

Recent Profile Visitors

490 profile views
  1. اس روایت کا اسکین درکار ہے حضورسرورِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پانچویں صدی کے قریب میری امّت پر آفت کی ایک چکّی چلے گی اگر اس سے بچ نکلی تو پھر کچھ مدت کے لئے اسے استقامت حاصل ہوجائے گی۔ (تعلیقات فیض الباری از انور کشمیری)
  2. ایک صحابی رسول رات کو اپنے گھر میں آرام فرماتھے .اور انہیں پیاس لگی تو انہوں نے اہلیہ سے پانی مانگا ،ان کی اہلیہ صحابیہ عورت تھی وہ پانی لے کرآئی تو وہ صحابی دوبارہ سو چکے تھے وہ عورت اتنی خدمت گزار تھی کہ پانی لے کر کھڑی ہوگئی ،جب رات کا کافی حصہ گزر گیا تو صحابی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی وفادار بیوی پانی لے کر کھڑی ہے ،پوچھا :تم کب سے کھڑی ہو؟اس صحابیہ عورت نے جواب دیا کہ جب آپ نے پانی مانگا تھامیں پانی لے کر آئی تو آپ آرام فرماچکے تھے اس لئے میں نے آپ کو جگاکر آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور سونا بھی گوارا نہ کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے پھر آپ کی آنکھ کھلےکی آنکھ کھلے اور آپ کو پانی کی طلب ہو اور کوئی پانی دینے والا نہ ہو ، کہیں خدمت گزاری اور وفا شعاری میں کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے میں ساری رات پانی لے کر کھڑی رہی ۔ جب اس عورت نے یہ کہا کہ میں ساری رات کھڑی رہی تو اس صحابی کی حیرت کی انتہانہ رہی وہ فوراًاٹھ کر بیٹھ گیا اور عجیب خوشی کی کیفیت میں اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ تم نے خدمت کی انتہا کردی ،اب میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ آج تم مجھ سے جو مانگو گی میں دوں گا، صحابیہ نے کہا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم راضی اور خوش رہو ،لیکن جب صحابی نے بار بار اصرار کیا تو عورت نے کہا اگر ضرور میرا مطالبہ پورا کرنا ہے تو مہربانی کرکے مجھے طلاق دے دو، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اس صحابی کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو ،وہ ہکا بکا اور حیران رہ کر اپنی بیوی کا منہ دیکھنے لگا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔اس نے کہا اتنی خدمت گزار بیوی آج مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہو ،اس نے کہا چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے تیرا مطالبہ تو پورا کروں گا لیکن پہلے چلتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ،آپ سے مشورہ کے بعد جو فیصلہ ہوگا اسی پر عمل کروں گا ۔چنانچہ صبح صادق کا وقت ہوچکا تھا یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر سے نکل کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کی طرف روانہ ہوگئے ،راستے میں ایک گڑھے میں صحابی کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے ،اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر صحابی کو اٹھایا اور کہا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی ، صحابی نے کہا: اور تو کچھ نہیں البتہ پاؤں میں تکلیف ہے ۔ صحابیہ عورت نے فرمایا: چلو واپس گھر چلیں ،صحابی نے کہا اب تو قریب آچکے ہیں ، صحابیہ کہنے لگیں ،نہیں واپس چلو، چنانچہ جب واپس گھر آئے تو صحابی نے پوچھا کہ مجھے توسمجھ نہیں آئی کہ ساراماجرا کیا ہے،صحابیہ نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ جسے ساری زندگی میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے ایمان میں شک ہے کیونکہ جو بھی ایمان دار ہوتا ہے وہ ضرور تکلیف میںآزمایا جاتا ہے ،مجھے تو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ۱۵ سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آپ کو کبھی سر میں بھی درد نہیں ہوا ،اس لئے مجھے شک ہوگیا اور میں نے سوچا کہ ایسے آدمی کے نکاح میں رہنے کاکیا فائدہ ہے جس کا ایمان مشکوک ہے ،اس لئے میں نے طلاق مانگی لیکن جب راستے میں آپ کے پاؤں میں چوٹ آئی تو میرا شک رفع ہوگیا کہ الحمد للہ آپ تکلیف میں آزمائے گئے اور آپ نے اس تکلیف پر صبر کیا ۔
  3. جزاک اللہ محمد علی صاحب مگر کسی نے کہا ہے کہ نبیط بن شریط کو امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں جھوٹا کہا ہے اس حوالے سے بھی کچھ فرما دیں تو مہربانی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔
  4. کنز العمال شریف میں یہ حدیث شریف ہے اس حدیث شریف کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ حدیث موضوع ہے ؟؟؟ عن نبيط بن شريط قال : لما فرغ علي من قتال أهل النهر قال : اقلبوا القتلى فقلبناهم حتى خرج في آخرهم رجل أسود على كتفه مثل حلمة الثدي فقال علي : الله أكبر والله ما كذبت ولا كذبت كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم وقد قسم فيئا فجاء هذا فقال : يا محمد اعدل فوالله ما عدلت منذ اليوم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ثكلتك أمك ومن يعدل عليك إذا لم أعدل فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله ألا أقتله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا دعه فإن له من يقتله فقال : صدق الله ورسوله یعنی کہ جب فارغ ہوئے علی اَہلِ نہروان کے قتل سے کہا کہ لاشوں میں اُس شخص کو تلاش کرو جب ہم نے خوب ڈھونڈھا تو سب کے آخر میں ایک شخص سیاہ فام نکلا جس کے شانہ پر ایک گوشت پارہ مثل پستان کے تھا یہ دیکھتے ہی حضرت علی نے کہااَللَّہُ أَکْبَرُقسم ہے خدا کی نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی نہ میں اُس کا مرتکب ہوا ۔ ایک بار ہم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کا مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہا اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم عدل کیجئے کہ آج آپ نے عدل نہیں کیا ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے جب میں عدل نہ کروں تو پھر کون عدل کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو قتل نہ کروں فرمایا نہیں اِس کو چھوڑدو اِس کو قتل کرنے والا کوئی اور شخص ہے ۔ حضرت علی نے یہ کہہ کر کہا ’’صَدَقَ اللَّہُ‘‘اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا ہوا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فلہذا اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی بات نہیں۔
  5. حدیث شریف کی سند کا حوالہ اور اسکین درکار ہے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْفِرُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ اس حدیث کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی سند یوں بیان فرمائی اخبرنا ابراھیم بن یعقوب حدثنا ابن ابی مریم ،اخبر نا ابو غسان حدثنی زیدبن اسلم عن عاصم بن عمر بن قتادہ عن محمود بن لبید عن رجال من قومہ من الانصار ان رسول اﷲﷺ نیز اس کا حوالہ بھی درکار ہے نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ کو دراز قرأت سے منع فرمادیا تھا کہ اُن کے مقتدیوںپر بوجھ ہوتی تھی جس چیز سے جماعت کم ہوجائے اُس سے پرہیز کرنا بہتر ہے جو جماعت کی زیادتی کا سبب ہو وہ بہتر ہے اندھیرا جماعت کی کمی کا سبب ہے ۔ اسفار جماعت کی زیادتی اور مسلمانوں کی آسانی کا ذریعہ لہٰذا اسفار بہترہے نیز اندھیرے میں مسلمانوں کو مسجد میں آنا دشوار ہوگا۔ اوجیالے میں آسان چنانچہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو جب اندھیرے میں عین نماز کی حالت میں شہید کیا گیا تو صحابہ کرام نے فجر میں بہت اوجیالا کرنے کا اہتمام کیا جیساکہ طحاوی شریف میں ہے ۔
  6. عالمگیری میں ہے کہ بدمذہب کو بڑے لقب دینا گمراہی ہے اس کا اسکین درکار ہے
  7. جزاک اللہ خیرا Like this
  8. M Afzal Razvi حضور میں حضرت نہیں ہوں آپ کو لنک بھیج دیا ہے پرسنل میں چیک کرلیں جزاک اللہ
  9. السلام علیکم فتاوی ستاریہ کی ایک جلد موجود ہے انٹرنیٹ پر اس کا لنک پرسنل میں آپ کو دیتا ہوں
  10. وعلیکم السلام ملفوظات اعلی حضرت ایک ہی جلد میں چار حصہ ہیں یہاں پر اپلوڈ کردی ہے آپ ڈاونلوڈ کرلیں۔ جزاک اللہ Malfozat Alahazrat.pdf
  11. السلام علیکم اس کا جواب تفصیلی چاہیے بڑی مہربانی ہوگی جزاک اللہ
  12. السلام علیکم اس کا جواب تفصیلی چاہیے بڑی مہربانی ہوگی جزاک اللہ
  13. اس عبارت کا مکمل حوالہ درکار ہے عینہ شرح ہدایہ میں ہے المراد بالذکر المتعدی بعلی ذکر باللسان کما تقرر یعنی ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ برائے مہربانی اسکین یا مکمل حوالہ عنایت فرما دیں ۔ جزاک اللہ
  14. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: قَالَ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلٰی بَـلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَايَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22/ 320، الرقم/ 807، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 218، الرقم/ 200، والديلمي في مسند الفردوس، 3/ 169، الرقم/ 4449، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 21/ 60، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 7/ 207. ایک روایت میں حضرت ابو ہند الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص میرے فیصلے پر راضی نہیں اور میری آزمائش پر صابر نہیں، تو اُسے چاہیے کہ وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔ اِسے امام طبرانی، بیہقی، دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔