Jump to content
اسلامی محفل

Bhai Jaan

Composing Team
  • Content Count

    390
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    14

Posts posted by Bhai Jaan


  1. اس حدیث کا حوالہ اور اسکین درکار ہے ۔ مہربانی کرکے جلد از جلد عنایت فرما دیں ۔ جزاک اللہ

     

    رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہیں یہ بات بھلی لگے کہ تمہاری نماز عنداللہ مقبول ہو توتمہارے علماء تمہارے امام ہونے چاہئیں کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان

    سفیر ہوتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ تمہارے بہترین لوگ ہی تمہارے امام ہونے چاہئیں 


  2.  مجھےتفریح الخاطر عربی کا اسکین درکار  ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ والا واقعہ ہے انٹرنیٹ پر مصر کے نسخہ میں وہ صفحہ صحیح نہیں ہے حروف مٹے ہوئے

    ہیں لہٰذاکسی کے پاس اگر وہ اسکین ہو تو جلداز جلد عنایت فرمادیں ارجنٹ ضرورت ہے 

    جزاک اللہ


  3.     حدیث شریف میں حضور سرورِ عالمﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے میں قیامت میں اس کے میزان پر کھڑاہوں گا اگر نیکیاں غالب ہیں تو الحمدللہ ورنہ میں اس کی شفاعت کرونگا۔(مدراج)

    اوپر لکھی گئی حدیث شریف کا اسکین مدارج النبوۃ سے درکار ہے اگر کسی کے پاس ہو تو عنایت فرما دیں چاہے اردو ہو یا فارسی۔ جزاک اللہ


  4. (۲)امام احمد وابن حبان و....... وابو نعیم بسند صحیح حضرت جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا
    اتیت مفاتیح الدنیا علی فرس ابلق جاء نی بھاجبرائیل علیہ السلام علیہ قطفۃ من سندس۔
                                            (جواہر البیان جلد۱ صفحہ ۳۹۶)

     جواہر البیان حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان صاحب کے علاوہ کن کی ہے جو جلدوں کی صورت میں ہے ۔ برائے مہربانی جلداز جلد جواب عنایت فرمائیں جزاک اللہ

     


  5. سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانے میں کچھ عورتوں نے اتفاق کرکے چار چرب زبان عورتوں کو اپنا نما ئندہ منتخب کیا کہ وہ جاکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے دریافت کریں کہ امیر المؤمنین جب ایک وقت میں ایک مرد چار عورتیں رکھ سکتا ہے تو ایک عورت چار مرد کیوں نہیں رکھ سکتی۔اسلام ایک عادل مذہب ہے کیا یہ عورتوں پر ظلم نہیں کرتا۔حضرت علی  کرم اللہ وجہہ الکریم نے ان کی شرارت کو بھانپ لیا اور آپ ص نے زبانی کلامی جواب دینے کے بجائے ایک صاف شیشی منگوائی اور چار عورتوں کو الگ الگ پانی دے کر فرمایا :’’اپنا اپنا پانی اس میں ڈالو۔‘‘جب وہ تعمیلِ ارشاد کرچکیں تو آپ صنے ارشاد فرمایا’’اپنا اپنا پانی پہچانو!‘‘انہوں نے اچنبھے سے کہا :
    ’’یا امیرالمؤمنین!پانی کی ہیئت تو ایک ہی طرح ہے اور اس کی ماہیئت بھی ایک تو اس کا پہچاننا کیوں کر ممکن ہوگا؟‘‘
        حضرت علی صنے فرمایا’’بس یہیں ٹھہر جائو‘‘مادہ منویہ کی ہیئت بھی ایک ہی طرح کی ہوتی ہے اور اس کی ماہیئت بھی ایک،ایسا نہیں کہ کالے مرد کا مادہ تولید کالا اور گورے مرد کا مادہ سفید ہو تو جس طرح ایک شیشی میں اپنے اپنے پانیوں کی شناخت (کرنا) محال ہے اسی طرح جب ایک رحم کے اندر متعدد آدمیوں کی منی جمع ہوگی جس سے استقرار حمل ہوگا پھر جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کی پہچان بھی ناممکن اور اس کی نسبت کا تعین محل ہوجائے گا۔بات معقول تھی سب عورتوں کی سمجھ میں آگئی اور وہ خوش خوش لوٹ گئیں۔

     


  6. اس روایت کا اسکین درکار ہے

     

        حضورسرورِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پانچویں صدی کے قریب میری امّت پر آفت کی ایک چکّی چلے گی اگر اس سے بچ نکلی تو پھر کچھ مدت کے لئے اسے استقامت حاصل ہوجائے گی۔ (تعلیقات فیض الباری از انور کشمیری)


  7. ایک صحابی رسول رات کو اپنے گھر میں آرام فرماتھے .اور انہیں پیاس لگی تو انہوں نے اہلیہ سے پانی مانگا ،ان کی اہلیہ صحابیہ عورت تھی

     

     

    وہ پانی لے کرآئی تو وہ صحابی دوبارہ سو چکے تھے وہ عورت اتنی خدمت گزار تھی کہ پانی لے کر کھڑی ہوگئی ،جب رات کا کافی حصہ گزر گیا تو صحابی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی وفادار بیوی پانی لے کر کھڑی ہے ،پوچھا :تم کب سے کھڑی ہو؟اس صحابیہ عورت نے جواب دیا کہ جب آپ نے پانی مانگا تھامیں پانی لے کر آئی تو آپ آرام فرماچکے تھے اس لئے میں نے آپ کو جگاکر آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور سونا بھی گوارا نہ کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے پھر آپ کی آنکھ کھلےکی آنکھ کھلے اور آپ کو پانی کی طلب ہو اور کوئی پانی دینے والا نہ ہو ، کہیں خدمت گزاری اور وفا شعاری میں کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے میں ساری رات پانی لے کر کھڑی رہی ۔ جب اس عورت نے یہ کہا کہ میں ساری رات کھڑی رہی تو اس صحابی کی حیرت کی انتہانہ رہی وہ فوراًاٹھ کر بیٹھ گیا اور عجیب خوشی کی کیفیت میں اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ تم نے خدمت کی انتہا کردی ،اب میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ آج تم مجھ سے جو مانگو گی میں دوں گا، صحابیہ نے کہا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم راضی اور خوش رہو ،لیکن جب صحابی نے بار بار اصرار کیا تو عورت نے کہا اگر ضرور میرا مطالبہ پورا کرنا ہے تو مہربانی کرکے مجھے طلاق دے دو، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اس صحابی کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو

    ،وہ ہکا بکا اور حیران رہ کر اپنی بیوی کا منہ دیکھنے لگا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔اس نے کہا اتنی خدمت گزار بیوی آج مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہو ،اس نے کہا چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے تیرا مطالبہ تو پورا کروں گا لیکن پہلے چلتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ،آپ سے مشورہ کے بعد جو فیصلہ ہوگا اسی پر عمل کروں گا ۔چنانچہ صبح صادق کا وقت ہوچکا تھا یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر سے نکل کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کی طرف روانہ ہوگئے ،راستے میں ایک گڑھے میں صحابی کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے ،اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر صحابی کو اٹھایا اور کہا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی ، صحابی نے کہا: اور تو کچھ نہیں البتہ پاؤں میں تکلیف ہے ۔ صحابیہ عورت نے فرمایا: چلو واپس گھر چلیں ،صحابی نے کہا اب تو قریب آچکے ہیں ، صحابیہ کہنے لگیں ،نہیں واپس چلو، چنانچہ جب واپس گھر آئے تو صحابی نے پوچھا کہ مجھے توسمجھ نہیں آئی کہ ساراماجرا کیا ہے،صحابیہ نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ جسے ساری زندگی میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے ایمان میں شک ہے کیونکہ جو بھی ایمان دار ہوتا ہے وہ ضرور تکلیف میںآزمایا جاتا ہے ،مجھے تو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ۱۵ سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آپ کو کبھی سر میں بھی درد نہیں ہوا ،اس لئے مجھے شک ہوگیا اور میں نے سوچا کہ ایسے آدمی کے نکاح میں رہنے کاکیا فائدہ ہے جس کا ایمان مشکوک ہے ،اس لئے میں نے طلاق مانگی لیکن جب راستے میں آپ کے پاؤں میں چوٹ آئی تو میرا شک رفع ہوگیا کہ الحمد للہ آپ تکلیف میں آزمائے گئے اور آپ نے اس تکلیف پر صبر کیا ۔


  8. کنز العمال شریف میں یہ حدیث شریف ہے اس حدیث شریف کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ حدیث موضوع ہے ؟؟؟

    عن نبيط بن شريط قال : لما فرغ علي من قتال أهل النهر قال : اقلبوا القتلى فقلبناهم حتى خرج في آخرهم رجل أسود على كتفه مثل حلمة الثدي فقال علي : الله أكبر والله ما كذبت ولا كذبت كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم وقد قسم فيئا فجاء هذا فقال : يا محمد اعدل فوالله ما عدلت منذ اليوم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ثكلتك أمك ومن يعدل عليك إذا لم أعدل فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله ألا أقتله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا دعه فإن له من يقتله فقال : صدق الله ورسوله 

    یعنی کہ جب فارغ ہوئے علی اَہلِ نہروان کے قتل سے کہا کہ لاشوں میں اُس شخص کو تلاش کرو جب ہم نے خوب ڈھونڈھا تو سب کے آخر میں ایک شخص سیاہ فام نکلا جس کے شانہ پر ایک گوشت پارہ مثل پستان کے تھا یہ دیکھتے ہی حضرت علی نے کہااَللَّہُ أَکْبَرُقسم ہے خدا کی نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی نہ میں اُس کا مرتکب ہوا ۔ ایک بار ہم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کا مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہا اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم عدل کیجئے کہ آج آپ نے عدل نہیں کیا ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے جب میں عدل نہ کروں تو پھر کون عدل کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو قتل نہ کروں فرمایا نہیں اِس کو چھوڑدو اِس کو قتل کرنے والا کوئی اور شخص ہے ۔ حضرت علی نے یہ کہہ کر کہا ’’صَدَقَ اللَّہُ‘‘اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔
    یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا ہوا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فلہذا اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی بات نہیں۔
     


  9. حدیث شریف کی سند کا حوالہ اور اسکین درکار ہے 

    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْفِرُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ
    اس حدیث کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے  اپنی سند یوں بیان فرمائی

    اخبرنا ابراھیم بن یعقوب حدثنا ابن ابی مریم ،اخبر نا ابو غسان حدثنی زیدبن اسلم عن عاصم بن عمر بن قتادہ عن محمود بن لبید عن رجال من قومہ من الانصار ان رسول اﷲﷺ

    نیز اس کا حوالہ بھی درکار ہے

     نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ کو دراز قرأت سے منع فرمادیا تھا کہ اُن کے مقتدیوںپر بوجھ ہوتی تھی جس چیز سے جماعت کم ہوجائے اُس سے پرہیز کرنا بہتر ہے جو جماعت کی زیادتی کا سبب ہو وہ بہتر ہے اندھیرا جماعت کی کمی کا سبب ہے ۔ اسفار جماعت کی زیادتی اور مسلمانوں کی آسانی کا ذریعہ لہٰذا اسفار بہترہے نیز اندھیرے میں مسلمانوں کو مسجد میں آنا دشوار ہوگا۔ اوجیالے میں آسان چنانچہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کو جب اندھیرے میں عین نماز کی حالت میں شہید کیا گیا تو صحابہ کرام نے فجر میں بہت اوجیالا کرنے کا اہتمام کیا جیساکہ طحاوی شریف میں ہے ۔


  10. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: قَالَ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلٰی بَـلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَايَ.

    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

    أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22/ 320، الرقم/ 807، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 218، الرقم/ 200، والديلمي في مسند الفردوس، 3/ 169، الرقم/ 4449، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 21/ 60، وذکره الهيثمي في مجمع الزوائد، 7/ 207.

    ایک روایت میں حضرت ابو ہند الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص میرے فیصلے پر راضی نہیں اور میری آزمائش پر صابر نہیں، تو اُسے چاہیے کہ وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔

    اِسے امام طبرانی، بیہقی، دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

×
×
  • Create New...