Jump to content
اسلامی محفل

غلام محمد

Members
  • Content Count

    36
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

غلام محمد last won the day on June 7

غلام محمد had the most liked content!

Community Reputation

3 Neutral

About غلام محمد

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Hanafi

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. فضول میں وقت برباد نہ کر میرا ۔فقہ حنفی کا حوالہ اب تم۔کو نظر آگیا ؟ اس سے موقف درست ثابت ہوتا ہے نگرکھے کا بند کمزور ہوگیا ہوگا ٹوٹ گیا جیسے بعض اوقات قمیض کے بٹن وغیرہ کمزور ٹانکےکی وجہ سے ٹوٹ جاتے اس میں بڑی بات کیا بند لٹک گیا جیسا اوپر تصویر میں "سدل " ہوا گھر گے بند صحیح کروایا نماز پڑھ لیں دوبارہ اس کیا بات ؟ بٹن یا ٹانکہ وغیرہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے کمزور ہونے کی وجہ کیا دیوبندیوں کےنذدیک بٹن وغیرہ صرف خاص حالت میں ٹوٹتے ہیں ؟ جنبش جسم ہوئئ جیسے بعض اوقات "کمبنی " وغیرہ آتی ہے یا گہرا سانس لیا ہوگا کمزور بند ٹوٹ گیا اس میں کیا بات ہے فضول کے سوالات کر کے ٹائم مت برباد کر
  2. جواب سب سے اوپر والی پوسٹ میں ہےجو یہاں شئیر ہوئی غور سے ساری پڑھ لو فضول میں وقت مت برباد ک اس کا بند گردن کے پاس ہوتا تو وہیں سے ٹوٹنا ہےاگر تو دیوبندی کسی اور قسم کا انگرکھا پہنتے ہیں جس کا بند کہیں اور ہوتا ہے تو بتا دو پروف پک کے ساتھ کیسے ٹوٹا ؟ بٹن لگا ہوگا یا گرہ ہوگی یا فیتہ وغیرہ جو کمزور ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا یا کھل گیا جسم ہلنے کی وجہ سے ایسےایک سائیڈ کو کھلتا ہےانگرکھے کا بند نمازیوں نے نہیں دیکھا کیا ؟ بند گردن کے پاس ہوتا ہے اور جاہل انسان امام کا رخ دوسری طرف ہوتا کیا جاہلانہ سوال کرتے ہو ۔بٹن ٹوٹ گیا ہوگا اور سدل ہوگیا یعنی اوپر کی انگرکھے تصویر کے مطابق اوپر والا بٹن۔ کھلے تو وہ سائیڈ کو لٹک جاے گا اوپر فقہ حنفی سے حوالہ موجود ہے توفیق ہو تو پڑھ لینا کہاں تک ٹوٹے تو نماز رپیٹ کرنی پڑتی؟ فقہ حنفی کا حوالہ اوپر موجود ہے اگر توفیق تو پڑھ لینا ۔۔۔۔۔۔۔ اب کوئی کام کا سوال کرنا ہو تو کرنا ۔پر اس سے پہلے اوپر والی پوسٹ پڑھ لینا غور سے
  3. تم نےکوئی ڈیمانڈ۔نہیں کی تو کیوں فضول میں بول رہے جاؤ کام کرو اپنا ایک مشورہ ہے اس موضع پر بولنے سے پہلے کسی درزی سے انگرکھے معلومات کے آنا اور لینا اس کا بند کہاں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سب سے اوپر والی پوسٹ کا پوائنٹ کے ساتھ جواب لکھنا پھر ہی ڈیپلائی کرنا انگرکھے کی تصویر کے ساتھ
  4. جب مرضی بات کرلینا تمہاری کتابوں میں (شرمگاہ)ستر آٹھ جوڑ ۔بہشتی زیور میں نفس کے نسخے اور ران بھی شرمگاہ ہے یہ سب حوالے ہیں جب دل کرے نیا ٹاپک سٹارٹ کرلینا بہت حوالے ہیں یہ حسرت بھی پوری کر لینا
  5. عقل کے اندھے دیوبندی یہ الزامی جواب ہے نفس کا جو معنی مولوی ایوب دیوبندی کرتا اس معنی کو تھانوی کی عبارت پر فٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر تجھ کو اعتراض ہےتو جا کر ایوب دیوبندی سے پوچھ اس نے یہ معنی کیوں کیا میرا وقت نہ برباد کر حقیقیت میں تھانوی کی اس عبارت کا کچھ اور مطلب بھی ہوسکتا ہے میں نیچے لکھا اس طرح کے قول دوسرے علماء سے بھی منقول ہوسکتے ہیں کیوں ایوب دیوبندی نے "نفس" کا من پسند معنی کر کے امام احمد رضا طعن کیا تو اس کا جواب دیا گیا اس کے معنی کو تھانوی کی عبارت پر فٹ کر کے اصلی میں تھانوی کی اس عبارت پر کوئی اعتراض نہیں ہےامرد پسندی سے بچنے کا ہی حکم ہے ۔۔۔۔
  6. یہ رونا دھونا کسی اور کو سناؤ اس نے جواب نہیں دیا اس نے جواب نہیں دیا جب وہ فارغ ہوگئیں دے دیں گئیں تم نے کونسا شہکار لکھا ہے جس کا جواب نہیں دے سکتا کوئی اپنے بدفہم ہونے کا ثبوت مت دے اور ثبوت دے انگرکھے کی تصویر لگا اور بتا اس کا بند کہاں ہوتا ہے یا پھر اپنے مولویوں کو .... مار جنہوں نے قمیض (انگرکھے)کو تہبند یا شلوار سمجھا ۔۔۔۔ تو مر جاے گا مگر انگرکھا کی تصاویر نہیں لگا سکتا اور نہ ہی بتا سکتا ہے ہے کہ اس کا بند کہاں تھا دیوبندیوں کا منہ اوپر والی پوسٹ سے بند کردیا ہے فیس بک پر دیوبندی ماتم کر رہے ہیں اور سوچ رہے اپنے مولویوں کو جوتے ماریں یا نہیں اوپر والی پوسٹ میں فقہ حنفی سے دوبارہ نماز بھی ثابت کی اب تجھ میں ذرا سی غیرت باقی ہے تو ابوعیوب یا گھمن کے پاس جا اور اس سے انگرکھا کی تصویر لے کر اور بند کی نشاندھی کر یہاں بند ہوتا پھر۔ میں تجھ کو بتاؤں گا کے بند کیسے ٹوٹا تمہارے مولوی خود انگرکھا پہنتے تھے جاؤ ان سے ہی انگرکھے کی تصویر لے کو ؟ اب اپنے مولویوں کو سچا ثابت کرنے کے لیے ثبوت کے ساتھ آنا کیوں کےاعتراض تم۔کو پھر بحث کریں گئیں کے بند کیوں ٹوٹا فضول کمنٹ کا اب میں ڈیپلائی نہیں کروں گا اور بھی بہت کام ہے
  7. نوٹ یہاں بات تھانوی کی ہو رہی ہے اس لیے ایسا تبصرہ ہوا الزامی طور پر اگر کسی اور بزرگ سے منقول ایسا قول ہوگا وہاں تبصرہ دیوبندی معنوں میں نہیں ہوگا
  8. میں نے امکان ظاہر کیا دھاگہ کمزور ہونے کی وجہ سے بھی بند ٹوٹ سکتا ہے یا کرتا ذرا تنگ بھی ہوسکتا شاید اس لیے وغیرہ۔۔ میں نے شلوار وغیرہ کا ذکر نہیں وہ تو گدھے کے عضو خاص کے عقیدے والے شخص تیرے ذہن میں آیا خود اوپر والی پوسٹ کو پڑھو وہاں فقہ حنفی سے ہی جواب دیا گیا ہے کہ نماز دوبارہ کیوں پڑھی ۔۔۔پہلے پوری پوسٹ پڑھا کر جاہل انسان پہلے تم میرے چیلنج کا جواب دو لباس کی تصویر دوانگرکھا کرتا شلوار تنگ کھلی کا جواب بعد میں ہوگا ۔کیوں اعتراض تم لوگوں کو ہے۔ لباس بھی تم نے ثابت کرنا ویسے دیوبندی انگرکھے کو شلوار کی جگہ رکھ رہے تبھی نفس کے اپنے پسندیدہ مطلب سے اس کے بند کھول رہے ہیں تھانوی کے ماموں جی تم نے مجھے دیوکا بندہ سمجھا ہے جو تمہاری باتوں میں آجاؤں اور تمہاری فضول بک بک کا جواب دوں تو پہلے انگرکھے کی تصویر دے پھر اس پر بحث کرتے ہیں کے بند کیسے ٹوٹا میرے مطالبے پر اوپر والی مین پوسٹ پڑھ کر جواب دے تسلی ایڈمن اس نے تھانوی کے ماموں والی حرکتیں کی تو اس کی پوسٹ ڈیلیٹ کر دینا بچے یہ داوپیچ کسی اور کے ساتھ کھیلنا تم جیسے دوسری باتوں میں الجھا اصل ٹاپک سے جان چھڑاتے ہیں
  9. انگرکھے کا بند گردن کے قریب ہوتا بعض اوقات جسم میں حرکت ہوتی غیر اردای طور پر جیسے "کمبنی"یا کپکپی" وغیرہ آتی ہے تو بند کمزوری کی وجہ سے کھل گیا یا ٹوٹ گیا کمزور ہونے کی وجہ سے بعض اوقات کوئی پوشاک تنگ ہوتی ہے تو بٹن کمزور ہوجاتے یہ سٹائل والا کرتا ہوتا انگرکھے کا گردن کے قریب بند ہوتا بعض اوقات ایک یا دو بھی ہوتے بٹن بھی ہوتے ہیں جو کھل گیا اور سدل ہوا اور آپ گھر گے صیحح کیا اور نماز دوبارہ لوٹائی ساری تفصیل پوسٹ میں ہے چیلنج اب تم وہ والے انگرکھے کی تصویر اپ لوڈ کرو جس میں نفس کا ترجمہ معا دیوبندیوں کے ذہن میں جو آتا ہے اس کی حرکت سے دیوبندی انگرکھے کا بند ٹوٹ سکتا ہو اب فضول کمنٹ کر کے اپنےجاہل ہونے کا ثبوت نہ دینا انٹرنیٹ تمہارے پاس ہے انگرکھے لکھ کر سرچ کر۔۔ چیلنج پورا کرکے ہی کمنٹ کرنا
  10. مجھے تو لگتا ہے تمہاری اردو کمزور ہے "خان صاحب پر علماے دیوبند کی تکفیر فرض تھی " یہ بات لکھ امام احمد رضا کے ایمان دار ہونے کا اقرار کیا گیا "اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہو جاتے " یہ ان ایمانداری کا ثبوت ہے۔ اور اقرار ہے اس کے بعد تم جیسوں کا شور مچانا فضول ہے احسان الحرمین موجود ہے تم۔خود پڑھ لو ۔۔۔۔ اوپر والا فتوی جعلی ہے
  11. لگتا ہے حنفی گروپ کو کم دیکھتا ہے حنفی گروپ تم یہاں انگرکھے کی تصویر آپ لوڈ کر دو سب کو پتہ چل جاے گا کے انگرکھا کسے کہتے اور اس کا بند کدھر ہوتا ہے چیلنج فار یو
  12. یہ فیک ہے تمہارے ہی مولوی کہتے ہیں وہ ان عبارات پر کفر کا فتویٰ نہ لگاتے تو خود کافر ہو جاتے ۔۔۔۔۔ اس کا مطلب ہوا کے تمہارے مولوی گستاخانہ عباراتوں کا طوق گلے میں ڈالے اس دنیا سے گے
  13. اعلیٰ حضرت خود اپنی اور اپنے ہم مسلک علماء کی عبارات اور فتاویٰ جات کی روشنی میں کافر ہیں۔ اس دعویٰ پہ ہماری چند معروضات پیش خدمت ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ عرض ہے کہ دیوبندی حضرات کے اس دعویٰ کی تنقیح ضروری ہے ،منیر احمد منور لکھتے ہیں:۔ پہلے موضوع کی تنقیح ہو پھر مناظرہ کیا جائے (روئیداد مناظرہ حیات الانبیاءص14) منظور احمد چنیوٹی لکھتا ہے :۔ اس موضوع پہ گفتگو کرنے سے پہلے یہ لازم ہے کہ دعویٰ اور مستدل کی تنقیح کر لی جائے (رد مرزائیت کے زریںاصول ص171) لہذا ،سب سے پہلے تو اس موضوع کی تنقیح ضروری ہے ۔پہلی بات تو یہ کہ دیوبندی حضرات کا یہ دعوی ان کے اکابر سے ثابت نہیں،امین صفدر کہتا ہے :۔ یہ کہ دعویٰ ہمیشہ مستند اور مسلمہ کتاب کے حوالے سے لکھا اور لکھوایا جائے ،تاکہ وہ جماعتی دعویٰ کہلائے نہ کہ ذاتی(انوارات صفدر ص 406) لہذا دیوبندی حضرات کو سب سے پہلے تو یہ چاہیے کہ اپنے دعویٰ کو اجتماعی ثابت کریں،مگر ہم بتلا چکے کہ آج تک دیوبندی حضرات نے امام اہلسنت کی تکفیر نہیں ،بلکہ ان کے ایمان اور عشق رسول کی گواہیاں دی ہیں۔لہذا جب ان کا یہ دعویٰ اجتماعی نہیں،اس لئے وہ اپنے اصول سے اسے پیش نہیں کر سکتے ۔ پھر یہ دعویٰ سرے سے ہی درست نہیں، اس قسم کےالزامی دعوے کے متعلق جناب مولوی فاضل صاحب لکھتے ہیں:۔ ’’نتیجہ اولی۔مولوی احمد رضا کے فتوے کی رو سے مولوی نقی علی صاحب کافر قرار پائے۔۔۔ اگر کافر بنانے کا یہ طریقہ آپ کو پسند ہے تو پھر میں آپ اور آپ کے تمام بزرگوں کو کافر ثابت کر سکتا ہوں مگر یہ طریقہ آپ جیسے کوڑ مغز اور کوربین،کمبخت اور اسلام سے انا آشنا احمق تو اپنا سکتا ہے۔اہل خرد اور صاحب بصیرت کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔۔۔۔۔ اگر ان تمام امور کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور آپ کی طرح ایک ہی چشم سے دیکھا جائے تو پھر آپ کے کفر کے فتوے سے دنیا کی کوئی شخصیت بھی محفوظ نہیں رہ دکتی اس لیے ماننا پڑے گا کہ آپ کی سوچ کا رخ غلط ہے اور میرا انداز اور طرز تحریر صرف بھونکنے والے کتے کے منہ پر پتھر مارنے کے مترادف ہے۔‘‘ (پاگلوں کی کہانی، ص ۷۰) جناب فاضل صاحب نے دیوبندی دعوٰ کو صریح طور پہ نہ صرف غلط قرار دیا بلکہ ایسے دعویٰ کے مدعی کو احمق ،بے بصیرت،کوڑ مغز ،کمبخت اور اسلام سے ناآشنا قرار دیا۔مزید سنئیے!جانب طاہر گیاوی صاحب لکھتے ہیں:۔ ’’شریعت اسلامی میں اس بات کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ایک ہی چیز ایک لحاظ سے عین اسلام ہو اور وہی چیز دوسرے لحاظ سے خالص کفر ہوجائے،اگر ہاشمی صاحب اپنی ناوافقیت سے اس کی مثالیں تلاش کرنے سے عاجز ہوں تو ایک مثال اس موقع پر میں ہی پیش کیے دیتا ہوںاما ابو حنیفہ کا ارشاد ہے کہ ’’میں نے خواب میں اللہ تعالیٰ کو ننانوے مرتبہ دیکھا ہے۔‘‘۔۔۔۔اس بات کو پڑھنے کے بعداب فقہ حنفی کی مشہور کتا ب فتاویٰ قاضی خان کے حوالہ سے امام متکلمین شیخ ابو منصور ماتریدی کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں ’’اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا ہے تو اہل سنت کے پیشوا ابو منصور ماتریدی فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ایسا شخص بت پوجنے والے سے بدتر ہے۔‘‘ اب ہاشمی صاحب ارشاد فرمائیں کہ عقائد اہل سنت بالخصوص حنفیوں کے پیشوا الشیخ ابو منصور ماتریدی علیہ الرحمہ کے اس قول کی روشنی میں ہم حنفیوں کے امام و مقتدا امام اعظم ابو حنیفہ پر کیا حکم لگتا ہے ؟‘‘ (بریلویت کا شیش محل ص۸۰۔۸۱) گیاوی صاحب کی شہادت سے بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک ہی وقت کوئی چیز ایک عالم کے نزدیک ایک پہلو سے کفر جبکہ دوسرے کے نزدیک عین اسلام ہو سکتی ہے ،مگر اس سے کسی پہ فتویٰ نہیں لگتا۔اب ہم گھمن صاحب کا بیان بھی پیش کرتے ہیں،جناب رقم طراز ہیں:۔ اگر کسی مسلک کے عالم کے فتووں میں ہی تعارض ہو تو جو فتویٰ آخری دور کاہوگا اور اس کے مذہب کے مطابق ہوگا وہ قابل عمل ہوگا دوسرا شاذ سمجھا جائے گا (جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے ص22) جناب گھمن صاحب کے بیان سے اس بات کی بھی وضاحت ہو گئی کہ اگر ایک شخص کے فتاویٰ جات میں بالفرض تعارض ہو بھی تو اس سے اس کی تکفیر نہیں ہوتی ،بلکہ آخری دور کا فتویٰ قابل عمل سمجھا جاتا ہے ،لہذا دیوبندی حضرات کا دعویٰ غلط ہے ۔ اب یہ بات براہین قاطعہ سے ثابت ہو چکی کہ دیوبندی دعویٰ درست نہیں ،تو خالد محمود صاحب کا بیان بھی ملاحظہ فرمالیں،وہ لکھتے ہیں:۔ پس اصولا ہمارے ذمے مرزائیوں کے کسی استدلال کا جواب نہ تھا۔کیونکہ مدعی اپنے دعوے ہی کو صحیح صورت پیش نہ کر سکے ۔(عقیدۃالامت فی معنی ختم النبوت ص109) اس لئے قاسمی صاحب کے پیش کردہ دلائل کا جواب دینے کہ ہم پابند نہیں،
×
×
  • Create New...