Jump to content
IslamiMehfil

فیصل خان رضوی

Members
  • Content Count

    11
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    4

فیصل خان رضوی last won the day on February 6

فیصل خان رضوی had the most liked content!

Community Reputation

8 Neutral

1 Follower

About فیصل خان رضوی

  • Rank
    Newbie

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. قاری ظہور احمدفیضی کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اور ان کا علمی محاسبہ تحریر:علامہ مولانا ظفر القادری بکھروی (1)اسلام میں مسلم خواتین کو لونڈی بنانا اور انہیں بازار برائے فروخت کھڑا کرنا جواب:ان روایات میں موسیٰ بن عبیدۃ ضعیف ،متروک اور منکر الحدیث راوی ہےاور یہ روایت منقطع بھی ہےتفصیل کے لیے پہلے الزام کا جواب کتاب الاحادیث الراویۃ لمدح الامیر معاویۃ:ص293سے 299تک ملاحظہ کریں ۔ (2)مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور یمن وغیرہ مقامات پر افعال قبیحہ کا ارتکاب جواب:اس میں محمد بن عمر الواقدی متروک وضعیف راوی ہے اس کے علاوہ دائود بن جبیرہ مجہول راوی اور اس کا سماع عطا
  2. شیعہ بدعتی راوی کی روایت اور اہل سنت کا اس سے احتجاج کا تحقیقی جائزہ عرب تفضیلی محقق احمد غماری صاحب فتح الملک العلی مترجم ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں: محدثین نے اس شرط [داعی الی بدعت]کا اعتبار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے تصرفات میں اسے زینہ بنایا ہے بلکہ ثقہ شیعہ راویوں نے اپنے مذہب کی تائید میں جو بیان کی ہیں ان سے حجت پکڑی ہے۔حضرت امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے شیعہ راویوں سے حضرت علی ؓ کے فضائل میں روایت نقل کیں ہیں۔ جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵) اس حدیث کو امام بخاری نے عبیداللہ ب
  3. شیعہ بدعتی کی روایت کے قابل قبول کے لیے غیر داعی کی شرط کا تحقیقی جائزہ سید احمد غماری صاحب فتح الملک العلی مترجم ص۲۵۹ پر لکھتے ہیں: اسی طرح بدعتی کی روایت کے قابل قبول ہونے کے لیے محدثین نے جو یہ شرط لگائی ہے کہ وہ اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو فی نفسہ باطل ہے اور ان کے لیے اپنے تصرف کے خلاف ہے۔ پھر ص ۲۶۰ پر لکھتے ہیں:حالانکہ امام بخاری،امام مسلم اور جمہور جن کے بارے میںابن حبان او رامام حاکم نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے ،نے ان بدعتیوں کی روایت کردہ احادیث سے حجت پکڑی ہے جو اپنی بدعت کے داعی ہیں جیسے حریز بن عثمان،عمران بن حطان،شبانہ بن سوار، عبدالحمید الحمانی اور ان جیسے بہت سا
  4. کیا متقدمین حب اہل بیت پر تشیع کا اطلاق کرتے تھے؟ تشیع کی اصطلاحی تعریف کچھ لوگ اپنا مدعا ثابت کرنے کے لیے عوام الناس کے سامنے ایسی روایات پیش کرتے ہیں جس میں شیعہ راوی موجود ہوتے ہیں۔جب ان کو ایسے رایوں کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے تو انہوں نے رٹا رٹایا ہوا ایک اصول پیش کرنے کی عادت ہے کہ متقدمین تشیع سے مراد حب اہل بیت لیتےتھے۔مگر ان لوگوں کی یہ بات علی الاطلاق غلط اور خلافِ اصول ہے۔اس لیے اس بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔ علامہ ذہبی نے تشیع کے اقسام کی ہیں۔ 1-تشیع معتدل 2- تشیع غالی علامہ ذہبی کی تحقیق: علامہ ذہبی کے مطابق سلف کے نزدیک غالی شیعہ وہ ہ
  5. انجینئر محمد علی مرزا کے مضمون" [ اندھا دھند پیروی کا انجام] "کا علمی وتحقیقی جائزہ قارئین کرام! کچھ عرصہ قبل موبائل کے ذریعے میسج ملا کہ جہلم میں ایک انجینئر محمد علی مرزا صاحب نے چند مضامین "ریسرچ پیپر" کے نام سے لکھے ہیں ۔ اور ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب کے مضمون کا جواب آج تک کوئی بڑے سے بڑا مناظر اور عالم بھی نہیں دے سکا، ۔مجھے چند دوست احباب، جن کا تعلق جہلم سے ہے، انہوں نے اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ اہل سنت کے عوام الناس کو مرزا صاحب یہ کہہ کر بھکاتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی مسلک سے نہیں، بلکہ ان کا اختلاف بریلوی،دیوبندی اور غیر مقلدین حضرات سےبھی ہے۔یہ بات سن کر تھوڑی حیرانی
  6. سید زاہد حسین شاہ صاحب صفحہ کتاب غایۃ التبجیل مصنفہ شیخ سعید محمود ممدوح مترجم کے ابتداء ص۲۱ پر لکھتے ہیں: ’’امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خانؒ سید کی تعظیم و توقیرکے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ سید تفضیلی ہو، تب بھی اس کی تکریم و احترام لازمی اور ضروری ہے۔‘‘ سید زاہد حسین شاہ صاحب صفحہ ۲۲ پر مزید اعلیٰ حضرتؒ کا فتویٰ نقل کرتے ہیں: ’’سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں، اُن اعمال کے سبب اُس سے تنفر نہ کیا جائے نفس اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ حدِ کفر تک نہ پہنچے جیسے تفضیل تو اُس حالت میں بھی اُس کی تع
  7. مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ علیہ پر حدیث " لحمک لحمی،دمک دمی،انت مثلی" کے متعلق غلط الفاظ استعمال کرنے کا الزام اعتراض:ایک صاحب نے مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب پرمعترض ہو کر کہا کہ دیکھو ان کی تفسیر نعیمی ص772 سورۃ الانعام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو بکواس کہا ہے۔ مفتی صاحب کی کتاب سے جو عبارت پیش کی وہ ملاحظہ کریں۔ تم نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مثل ناممکن ہے مگر حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا جسمک جسمی،لحمک لحمی،دمک دمی،انت مثلی ۔۔۔۔۔۔۔تم بالکل میری مثل ہو۔معلوم ہوا کہ حضرت علی حضور صلی اللہ ع
  8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِزْوَدِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وما ظَهْرَ فِيهِ بِبَرَكَةِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آثَارِ النُّبُوَّةِ. أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الإسفرائيني الفقيه، أنبأنا بشر ابن أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ مَوْلَى آلِ أَبِي بَكَرَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَات
  9. تحقیق مسئلہ: اولیا ءکرام کا پانی پر چلنا مرزا محمد علی جہلمی صاحب کا اولیاء کرام کی کرامات پر ٹھٹھہ بازی تحریر:خادم اہل سنت و جماعت فیصل خان رضوی بسم اللہ الرحمن الرحیم اولیاء کرام کی عظمت و شان کی وجہ تقوی اورشریعت پر پابندی ہوتی ہے۔اہل سنت و جماعت اللہ کا ولیوں سے محبت ان کی کرامات کی وجہ سے نہیں بلکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہے۔اولیاء سے محبت صرف اللہ او ر اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اور اسی کا شریعت مطاہرہ نے درس بھی دیا۔ Ø ایک دوست نے جناب مرزا محمد علی صاحب کی ایک ویڈیو بھیجی ،جس م
  10. 20 رکعت تراویح پرحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کا تحقیقی جائزہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ
  11. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رمضان میں 8 رکعت والی روایت کا تحقیقی جائزہ کفایت اللہ سنابلی کی پیش کردہ پہلی حدیث کفایت اللہ سنابلی اپنی کتاب انوار التوضیح ص21 تا 106 پہلی حدیث پیش کر کے بحث کرتےہیں۔ امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ ر
×
×
  • Create New...