Jump to content
اسلامی محفل

Tabeeb Zafarul Qadri

Members
  • Content Count

    1
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About Tabeeb Zafarul Qadri

  1. بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم مروجہ قسطوں کے کاروبار کی شرعی حیثیت تحریر وتحقیق:ابواسامہ ظفرالقادری بکھروی سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ آج کل قسطوں کا کاروبار عروج پر ہے مروجہ صورت یہ ہے کہ کوئی چیزنقد بالفرض (۵۰۰۰ )پانچ ہزارروپے کی ہے تو قسطوں میں (۵۵۰۰)پانچ ہزار پانچ سو روپے کی دیتے ہیں ان دونوں قیمتوں میں ایک قیمت طے کرلی جائے تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟غیرمقلدین اس کو ناجائز کہتے ہیںجیسا کہ’’ الحدیث شمارہ نمبر۴۰ستمبر۲۰۰۷ ص۲۵تا۴۴‘‘میں تحریر کیا گیا ہے مہربانی فرماکران کے دلائل کا جواب بھی مرحمت فرمائیے تاکہ اہل سنت وجماعت کے لوگوں کے ذہنوں میں کوئی ابہام نہ رہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عظیم عطاء فرمائے (سائل :راجہ خلیل احمد نقشبندی واہ کینٹ) الجواب: الحمد للّٰہ ربّ العالمین،والصّلوٰۃ والسّلام علیٰ سیّد الانبیاء والمرسلین،وعلیٰ اٰ لہٖ واصحابہٖ واہل بیتہٖ وازواجہٖ اجمعین:امابعد کاروبار میں اصل اباحت ہے یعنی اس کی اصل جواز پر ہے جب تک شریعت مطہرہ کاروبار کے کسی معاملے کو منع نہ کرے تو وہ حلال ہی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے [وَاَحَلَّ اللّٰہ ُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا] (البقرۃ ۲۷۵) ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے کاروبار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا جبکہ شریعت اسلامیہ نے واضح طور پر سود کی صورتیں بیان کردیں ہیںنقد وادھار کے فرق کو شریعت نے حرام یا سود قرار نہیں دیا ہے اس لئے یہ جائز ہے اور مروجہ کاروبار کی جوصورت بیان کی گئی ہے وہ جائز ہے ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں اس کا واضح بیان ہوگا اور غیر مقلدین کے دلائل جوکہ ’’ الحدیث شمارہ نمبر۴۰ستمبر۲۰۰۷ص۲۵تا۴۴‘‘ میں ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد نے دیے ہیں ان کا مکمل جواب بھی دیا جائے گا ان صاحب نے شریعت مطہرہ کے دلائل دیتے ہوئے جو کتر بیونت کی اس کی بھی وضاحت کردی جائے گی تاکہ حق کے متلاشی کو کوئی شک وشبہ نہ رہے اور حق واضح ہوجائے ،باطل بھی واضح ہوجائے اسلام ایک دین فطرت ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ہمیں ایک ایسا ضابطہ حیات دیا ہے جوانسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے صرف خلوص نیت کے ساتھ علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے حق بات طلب کرے تو اس کو اس کا حل مل جاتا ہے معاشی جدوجہد جو انسان کی بنیادی ضرورت ہے اس کے حوالے سے بھی اسلام نے جابجا راہنمائی فرمائی ہے اسلام نے کاروبارکوجائز و مباح اورحرام وممنوع قرار دے کر اس کی تقسیم کرکے ہرفرد کو معاشی استحصال سے محفوظ فرمایا ہے اس طرح اگر اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے تو لین دین یعنی کاروبار کے ہرقسم کے نقصان سے بچا جاسکتا ہے خریدار کا کوئی چیزخریدکر رقم قسطوں میں ادا کرنا کوئی نیا طریقہ یا نیا کاروبار نہیں بلکہ یہ’’ بیع تقسیط‘‘ ہے اور صرف اس دور میں اس کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ فقہ حنفی کے علماء نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور لوگ اس پر عمل کررہے ہیں لیکن غیر مقلدین فقہ حنفی کی مخالفت کی بنا ء پر اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں جبکہ فی الواقعہ یہ جائز ہے آئیے اس بات کا تحقیقی جائزہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے مروجہ قسطوں کا کاروبار جائز ہے کاروبار میں اصل اباحت ہے یعنی اس کی اصل جواز پر ہے جب تک شریعت مطہرہ کاروبار کے کسی معاملے کو منع نہ کرے تو وہ حلال ہی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے [وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا] (البقرۃ ۲۷۵) ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے کاروبار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے اسی بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباسhفرماتے ہیں [کَانَ اَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِیَاْکُلُوْنَ اَشْیَائَ وَیَتْرُکُوْنَ اَشْیَائَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللّٰہُ تَعَالیٰ نَبِیُّہٗ وَاَنْزَل کِتَابَہٗ وَاَحَلَّ حَلَالَہٗ وَحَرَّمَ حَرَامَہٗ فَمَااَحَلَّ فَہُوَ حَلَاَلٌوَمَا حَرَّمَ فَہُوَ حَرَامٌ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَہُوَ عَفْوٌ ۔۔۔۔الٓاخر ] ترجمہ:اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی اور حلال کو حلال ،اور حرام کو حرام قرار دیا ،تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا وہ حلال ہے اور جس کو اس نے حرام قرار دیا وہ حرام ہے اور جس سے اس نے خاموشی اختیار کی وہ معاف(جائز) ہے (۱)سنن ابوداؤد تحقیق محمد محی الدین عبدالحمید: ۲/۲۸۲رقم۳۸۰۰قال الالبانی صحیح الاسناد (۲)المستدرک علی الصحیحین للحاکم:۴/۱۱۵رقم۷۱۱۳قال الحاکم صحیح الاسناد (۳)شرح مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۲۲۸رقم۷۵۴ (۴)الاحادیث المختارۃ للضیاء المقدسی: ۴/۶۱رقم۵۰۴ (۵)فتح الباری ابن حجر عسقلانی: ۹/۶۵۵ (۷)شرح صحیح بخاری لابن بطال: ۵/۴۴۰ (۸)جامع العلوم والحکم لابن رجب: ص۲۷۷ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدیm کا فتوٰی فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدیm’’فتاوٰی فیض الرسول‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں [کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقدقیمت فورًااداکرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے ،سود نہیں ہے ،نقد اور ادھار کاالگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے ۔یہ جائز نہیں کہ تین سو روپیہ میں فروخت کردیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے ،ایسا کرے گا تو سود ہوگا۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم ] (فتاوٰی فیض الرسول : ۲/۳۸۱،۳۸۰مطبوعہ لاہور) غیرمقلدین کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرانی : غیرمقلدین کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرانی اس بارے میں لکھتے ہیں: ’’ابن تیمیہ حرانی سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے ایک ایسے تاجر کی احتیاج ہوئی جس کے پاس ایک کپڑا تھا اس نے کہا کہ یہ کپڑا مجھے دے دو تاجر کہنے لگا اس کی موجودہ قیمت تو تیس ہے لیکن میں اسے ادھار پر پچاس میں بیچوں گا یہ معاملہ جائز ہوگا یا نہیں ؟ ابن تیمیہ صاحب نے جواب دیا [اَلْمُشْتَرِیْ عَلیٰ ثَلَاثَۃِ اَنْوَاعٍ ،اَحَدُھَا :اَنْ یَّکُوْنَ مَقْصُوْدَہُ السِّلْعَۃَ یَنْتَفِعُ بِہَا لِلْاَکْلِ وَالشُّرْبِ وَاللُّبْسِ وَالرُّکُوْبِ وَغَیْرِ ذَالِکَ: والثَّانِیْ : اَنْ یَّکُوْنَ مَقْصُوْدَہُ التِّجَارَۃَ فِیْہَا فَہَذَانِ نَوْعَانِ جَائِزَانِ بِالْکِتَابِ وَالسُّنۃِ وَالْاِجْمَاعِ،کَمَا تَعَالیٰ (وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ)۔۔۔۔۔فَاِنَّ الْأَجَلَ یَأْخُذُ قِسْطًا مِنَ الثَّمَنِ ] ترجمہ: خریدار تین قسم کا ہوسکتا ہے ایک وہ جس کا مقصود چیز کو لے کر کھانے ،پینے ،پہننے اور سواری کا فائدہ حاصل کرناہو ۔دوسرا وہ جس کا مقصود چیز حاصل کرکے اس میں تجارت کرنا ہو ،مذکورہ صورت میں یہ دونوں قسم کے معاملے کتاب وسنت اور اجماع (امت) کی روشنی میں جائز ہیں۔۔۔۔بلا شُبہ مدت ،قیمت میں اپنا حصہ رکھتی ہے (مجموع الفتاوٰی ابن تیمیہ: ۲۹/۴۹۹ ) بیع سلم اور مروجہ قسطوں کا کاروبار اس بیع میں خریدار معینہ مدت ،جو کئی دفعہ کئی سال پر محیط ہوتی ہے پہلے ہی قیمت ادا کردیتا ہے اور بعد میں چیز حاصل کرتا ہے اس طرح خریدار کو موجودہ قیمت سے کم معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے اگر اسے یہ چیز ابھی اسی قیمت پر میسر ہو تو وہ بعدمیں اسے کیوں لے گا؟ اسی طرح اگر بعد میں بھی وہ چیز اسی قیمت پر ملے گی تو وہ پیشگی قیمت ادا کیوں کرے گا ؟یہ بیع یعنی کاروبار سب کے نزدیک جائز ہے اس میں خریدار کو فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر قسطوں کی بیع میں تاجر کو فائدہ ہو تو یہ ناجائز کیوں ؟جب ادھر بھی معاملہ بیع سلم والا ہی ہے یہ بیع زمانہ نبوی میں بھی موجود تھی اسے بیع سلف بھی کہتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عباس hبیان فرماتے ہیں [قَدِمَ النَّبِیُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَھُمْ یُسْلِفُوْنَ بِالتَّمْرِالسَّنَتَیْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فِیْ شَیْئٍ،فَفِیْ کَیْلٍ مَّعْلُوْمٍ ،وَوِزَنٍ مَعْلُوْمٍ،اِلٰی أَجَلٍ مَعْلُوْمٍ ] ترجمہ: حضور نبی کریم ﷺ جب(ہجرت فرماکر)مدینہ منورہ تشریف لائے،تو وہاں کے لوگ کجھوروں میںدو ،تین سال تک کی بیع سلف کرتے تھے ،آپ ﷺ نے فرمایا جو کوئی کسی چیز میں بیع سلف کرنا چاہتا ہے ،وہ طے شدہ ماپ،وزن کی طے شدہ مدت تک بیع کرے (۱)صحیح بخاری: ۳/۱۱۱رقم۲۲۴۰باب السلم فی وزن معلوم (۲)صحیح مسلم: ۵/۵۵رقم۴۲۰۲ اس روایت سے یہ بات واضح ہوئی کہ اگر مدت کے حساب سے چیز کی مقدار اور قیمت مقرر کرکے کوئی معاملہ طے کرلیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہی معاملہ قسطوں کے کاروبار میں ہوتا ہے اگر اس طریق سے معاملہ طے کیا جائے تو شرعًا جائز ہے کیونکہ اگر خریدار پیشگی ادائیگی کرکے فائدہ حاصل کرسکتا ہے تو دوکاندار یا تاجرپیشگی مال یاچیزدے کر زیادہ قیمت لینے کا مستحق کیوں نہیں ہوسکتا ؟بعض لوگوں کا یہ باور کروانا کہ قسطوں میں چیز دے کر زیادہ قیمت لینا سود ہے تو پیشگی ادائیگی کرکے سستے داموں یا زیادہ مقدار میں مال یا چیز لینا کیا ہے؟ ایک کو جائز ایک کو ناجائز کہنا ،خریدار کو فائدہ جائز اور دکا ندار کو فائدہ ناجائز جبکہ دونوں ہی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دونوں کو فائدہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے بیع سلم میں چیز کی حوالگی کی مدت کے کم وبیش سے قیمت میں کمی بیشی ہوتی ہے بیع سلم میں قیمت مدت کے تعین کے حوالے سے طے ہوتی ہے اگر مدت کم وبیش ہوتو قیمت بھی گھٹتی بڑھتی ہے اور یہ ہی چیزاس بیع میں لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہے جتنی چیز جلدی ملتی ہے اتنی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور جتنی دیر سے چیز ملتی ہے اتنی قیمت کم ہوتی ہے اور یہی چیز قسطوں کی بیع میں ہے کہ چیز جتنی کم مدت پر خریدیں گے اتنی کم قیمت ہوگی اور اگر مدت زیادہ ہو گی تو قیمت بھی بڑھ جائے گی اس حوالے سے امام شافعی mفرماتے ہیں [قَالَ الشَّافَعِیُّ:وَلَا یَجُوزُ أَنْ یُّسَلِّفَہٗ مِائَۃَ دِیْنَارٍ فِیْ عَشْرَۃِ أَکْرَارٍ: خَمْسَۃٌ مِنْہَا فِیْ وَقْتِ کَذَا ،وَخَمْسَۃٌ فِیْ وَقْتِ کَذَا،لِوَقْتٍ بَعْدَہٗ،لَمْ یَجُزِالسَّلَفُ، لِأَنَّ قِیْمَۃَ الْخَمْسَۃِ الْأَکْرَارِالْمُؤَخَّرَۃِ أَقَلُّ مِنْ قِیْمَۃِالْأَکْرَارِ الْمُقَدَّمَۃِ ،فَتَقَعُ الصَّفْقَۃُ،لَا یُعْرَفُ کَمْ حِصَّۃُکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِّنَ الْخَمْسَتَیْنِ مِنَ الذَّہَبِ، فَوَقَعَ بِہٖ مَجْہُوْلًا ،وَہُوَ لَا یَجُوزُ مَجْہُوْلًا ] ترجمہ:امام شافعیmنے فرمایا: سودینار کے بدلے دس اکرار(عراقی پیمانہ ہے )غلے کی بیع سلف اس صورت میں ناجائز ہے کہ پانچ اکرار ایک وقت میں اور پانچ اس کے بعد کسی وقت میں ملیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد میں ملنے والے پانچ اکرار کی قیمت پہلے ملنے والے اکرارسے کم ہوگی سودا تو طے ہوجائے گا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکے گا کہ مقررہ قیمت میں پہلے اور بعد والے اکرار کا حصہ کتنا کتنا ہے یوں دونوں کی قیمت نامعلوم ہوگی اس صورت میں بیع سلف جائز نہیں ہوتی ( کتاب الام للشافعی : ۳/۹۸ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت) بیع سلم ہو یا قسطوں کی بیع اس میں قیمت، چیز یا مدت مجہول ہو تو ناجائز ہے اگر سب کچھ طے ہو یعنی چیز، قیمت اور مدت طے ہو تو شرعًا جائز ہے کاروبار یعنی بیع میں اصل اباحت ہے شریعت نے نقد و ادھار کے فرق کو سود نہیں قرار دیا یہ صرف منع کرنے والوں کی بھول ہے اللہ انہیں ہدایت عطاء فرمائے اس میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں کہ سود حرام ہے لیکن ہر معاملہ کو سود کہنا بھی جرم عظیم ہے جیسا کہ ان حضرات کی عادت ہے کہ ہر چیز کو شرک و بدعت کہنا جب کہ ہر مسلمان شرک و بدعت کو برا ہی سمجھتا ہے لیکن ہرچیز کو شرک وبدعت کہنا بھی جرم عظیم ہے آ ئیے ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد کے ممانعت کے دلائل کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیتے ہیں ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدکے دلائل اور ان کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد [الحدیث:شمارہ۴۰ص۲۸]پر لکھتے ہیں ،ادھار کے بدلے زیادہ قیمت جائز نہیں ،پھر اس کے تحت حضرت ابوہریرہhکی روایت کردہ دو حدیثیں لکھتے ہیں (۱)[نہی رسول اللہ ﷺ عن بیعتین فی بیعۃ] ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ایک چیز کی دو قیمتیں مقرر کرنے سے منع کیا ہے(ترمذی:۱۲۳۱،واسنادہ حسن ،نسائی:۴۶۳۶،وصححہ ابن الجارود:۶۰۰،وابن حبان:۴۹۵۲) (۲)حضرت ابوہریرہhکی ایک دوسری مرفوع روایت نقل کی[من باع بیعتین فی بیعۃ فلہ أو کسہما أو الربا]جو شخص کسی چیز کی دو قیمتیں مقرر کرے گا یا تو وہ کم قیمت لے گا یا پھر وہ سود ہوگا۔(سنن ابوداؤد:۳۴۶۱،واسنادہ حسن وصححہ ابن حبان:۱۱۱۰،والحاکم:۲/۴۵،ووافقہ الذہبی) اس کے بعد چند محدثین کے نامکمل اقوال لکھے ان اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی یہ بات کہے کہ نقد اتنے میں اور ادھار اتنے میں ہے تو یہ اس حدیث کا مفہوم ہے کہ اس طرح دو بیع کرنا ناجائز ہے وغیرہ الجواب بعون الوہاب:سب سے پہلے حضرت ابوہریرہh کی روایت کردہ حدیث کا فہم سلف صالحین فقہاء ومحدثین سے ملاحظہ فرمائیں ’بیعتین فی بیعۃ‘‘فقہا ء ومحدثین کی نظر میں (۱)امام عطاء بن ابی رباح mکا مؤقف: مشہور زمانہ ،عظیم تابعی ،امام حضرت عطاء بن ابی رباحm فرماتے ہیں [حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ ،عَنْ سُفْیَانَ ،عَنْ لَیْثٍ ،عَنْ طَاوُوسٍ ،وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرِوالْأَوْزَاعِی ،عَنْ عَطَائٍ، قَالَا : لَا بَأْسَ أَنْ یَقُوْلَ : ہٰذَا الثَّوْبُ بِا لنَّقْدِ بِکَذَا ، وَبِا لنَّسِئَۃِ بِکَذَا ،وَیَذْہَبُ بِہٖ عَلٰی أَحَدِہِمَا ] ترجمہ:کو ئی کہے کہ یہ کپڑا نقد اتنے کا اور ادھار اتنے کا ہے اور خریدار اسے کسی ایک قیمت پر لے جائے ،تو اس میں کوئی حرج نہیں (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۷/۱۵۴،۱۵۳ رقم ۲۰۸۱۹ وسندہٗ صحیح) اسی کتاب کے اسی صفحہ پر دوسرا قول بھی موجود ہے ملاحظہ فرمائیے[حَدَّثَنَایَحْیٰی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ،عَنْ عَطَائٍ، فِی رَجُلٍ اشْتَرَی بَیْعًا ،ثُمَّ قَالَ : لَیْسَ عِنْدِی ہٰذَا ، أَشْتَرِیہِ بِالنَّسِئَۃ؟ِ ، قَالَ : اِذَا تَتَا رَکًا الْبَیْعَ اشْتَرَاہُ اِنْ شَائَ۔ ] ترجمہ:ایک دفعہ امام عطاءmسے ایک آدمی کے بارے میں پوچھاجو ایک چیز خریدتا ہے ،پھرکہتا ہے کہ میرے پاس اس کی نقد قیمت نہیں ہے میں اسے(زیادہ قیمت پر)ادھار خرید سکتا ہوں کیا یہ بیع درست ہے؟ تو آپ نے فرمایاجب یہ معاملہ بیع کی طرح ہو(یعنی بائع کہے کہ ادھار کی قیمت یہ ہے )تو اسے خرید سکتا ہے (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۷/۱۵۴ رقم ۲۰۸۲۰ وسندہٗ صحیح) (۲)امام شہاب الزہری تابعی اور امام قتادہ بن دعامہ تابعیo کا مؤقف: مشہور محدث تبع تابعی ،امام معمر بن راشدmفرماتے ہیں کہ [أَبِیْعُکَ بِعَشَرَۃِ دَنَانِیْرَ نَقْدًا، أَوْبِخَمْسِۃَ عَشْرَ اِلٰی أَجَلٍ ، قَالَ مَعْمَرٌ وَکَانَ الزُّہْرِیُّ وَقَتَادَۃَ لا یَرَیَانِ بِذَالِکَ بَأْسًا ، اِذَا فَارَقَہٗ عَلٰی أَحَدِہِمَا ۔ ) ترجمہ:(بائع اگر مشتری کو کہے کہ یہ چیز ) میں تجھے نقد پر دس دینار میں اور مقرر مدت کے ادھار پر پندرہ میں فروخت کرتا ہوں،تو امام معمرmفرماتے ہیں کہ امام زہریmاورامام قتادہmاس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اگر وہ نقد و ادھار میں کسی ایک قیمت کے طے ہونے پر جُدا ہوں (مصنف عبدالرزاق : ۸/۱۳۷رقم ۱۴۶۳۰وسندہٗ صحیح) (۳)عظیم تابعی سعید بن المسیبmکا مؤقفـ: [أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزََّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ،وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِیْہِ ،وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنْ ابنِ الْمُسَیِّبِ : قَالُوْا لَا بَأْسَ بِأََنْ یَّقُوْلَ : أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ بِعَشَرَۃٍ اِلٰی شَہْرٍ، أَوْ بِعِشْرِیْنَ اِلٰی شَہْرَیْنِ ،فَبَاعَہٗ عَلٰی أَحَدِہِمَا قَبْلَ أَنْ یُّفَا رِقَہٗ ،فَلَا بَأْسَ بِہٖ ] ترجمہ:امام زہری ،امام طاؤس اور ابن المسیبnفرماتے ہیں ،یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں تجھے یہ کپڑا مہینے کے ادھار پر دس میں اور دو مہینے کے ادھار پر بیس میں فروخت کرتا ہوں اور پھر جُدا ہونے سے پہلے اسے کسی ایک معین قیمت پر فروخت کردے ،تو اس میں کوئی حرج نہیں (مصنف عبدالرزاق : ۸/۱۳۶،۱۳۷رقم ۱۴۶۲۶مطبوعہ بیروت سندہٗ صحیح) (۴)عظیم تابعی امام ابراہیم نخعی ،حکم بن عتیبہ ،حماد بن ابو سلیمان تابعیnکا مؤقف: امیر المومنین فی الحدیث ،امام شعبہ بن حجاج mبیان کرتے ہیں [حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ : وَحَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ الشَّیْئَ فَیَقُوْلُ : اِنْ کَانَ بِنَقْدٍ فَبِکَذَا ، وَاِنْ کَانَ اِلٰی أَجَلٍ فَبِکَذَا ، قَالَ: لَا بَأْسَ اِذَا انْصَرَفَ عَلٰی أَحَدِہِمَا قَالَ :شُعْبَۃُ ، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِمُغِیْرَۃَ فَقَالَ: کَانَ اِبْرَاہِیْمُ لَا یَرٰی بِذَالِکَ بَأْ سًا اِذَا تَفَرَّقَ عَلٰی أَحَدِہِمَا ۔ ] ترجمہ: کہ میں نے امام حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابو سلیمان oسے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو کسی سے کوئی چیز خریدتا ہے ،توبیچنے والا کہتا ہے نقدا تنے میں اور اتنی مدت کے ادھار پر اتنے میں ،ان دونوں نے فرمایا جب وہ نقد وادھار میں سے کسی ایک معاملے پر جُدا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ، امام شعبہmفرماتے ہیں میں نے یہ بات مغیرہ بن مقسمmسے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ ابراہیم نخعیmبھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اگر بیچنے والا اور خریدار نقد وادھار میں سے کسی ایک معاملے پر جُدا ہوتے (مصنف ابن ابی شیبۃ بتحقیق محمد عوامہ: ۱۰/۵۹۵،۵۹۴رقم۲۰۸۳۶ سندہٗ صحیح) (۵)امام اعظم نعمان بن ثابت ابو حنیفہm(م۱۵۰ھ)کا مؤقف: علامہ ابن عبدالبرm’’بیعتین فی بیعۃ‘‘کی تفسیر میںلکھتے ہیں [وقال أبو حنیفۃ وأصحابہ اذا اشتری الرجل بیعا من رجل الٰی أجلین فتفرقا علیٰ ذالک ،فلا یجوز : وذالک أنہ لا یکون الٰی أجلین الا عن ثمنین ،فان قال : ہو بالنقد بکذا ، وبالنسیئۃ بکذا ثم افترقا علی قطع أحد البیعتین فہو جائز ] یعنی امام ابو حنیفہmاور ان کے اصحاب فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص ایک بیع میں دو سودے کرتا ہے اور پھر اسی پر جُدا ہوجاتا ہے تو یہ جائز نہیں،اوراگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں نقد اتنے میں اور ادھار اتنے میں بیچتا ہوں پھر ان دو قیمتوں میں سے ایک قیمت پر بیع کرکے جُدا ہوتا ہے تو یہ جائز ہے (الاستذکار الجامع لمذاہب فقہاء الأمصار: ۶/۴۵۲ مطبوعہ بیروت) علامہ ابن رشدmلکھتے ہیں ’’کہ اگر وہ کسی ایک صورت کو متعین کیے بغیر جدا ہوگیا توامام ابوحنیفہmاور امام شافعیmکے نزدیک اب بیع درست نہ ہوگی کیونکہ وہ دونوں غیر معلوم ثمن پر جدا ہوئے اور یہ بیع جہالت ثمن کی وجہ سے ممنوع ہوگی(یعنی اگر کسی ایک صورت کو متعین کیا تو پھر جائز ہے‘‘ (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد: ۲/۱۵۴ کتاب البیوع مطبوعہ مصر) (۶)امام مدینہ ،امام مالکm (م۱۷۹ھ)کا مؤقف: امام مالک mنے اس حدیث کی تین تفسیریں بیان کی ہیں ،موطاء کی شرح کرتے ہوئے علامہ ابن عبدالبرmنے امام مالکmکا مؤقف لکھا ،لکھتے ہیں [وَقَدْفَسَّر مَالِکٌ مَذْہَبَہٗ فِی مَعْنَی النَّہْیِ عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، وَأَنَّ ذَالِکَ عِنْدِہٗ عَلٰی ثَلَاثَۃِ أَوْ جُہٍ ،أَحَدُہَا الْعِیْنَۃُ ، وَالثَّانِی أَنَّہٗ یَدْخُلُہٗ مَعَ الطَّعَامِ مِنْ جِنْسٍ وَّاحِدٍ مُتَفَاضِلًا ، وَالثَّالِثُ أَنَّہٗ مِنْ بُیُوْعِ الْغَرَرِ ۔ ] ترجمہ:امام مالکmنے ایک بیع میں دو سودے کرنے کی ممانعت والی حدیث کے معنٰی و مفہوم میں اپنا مؤقف واضح کردیا ہے ،ان کے نزدیک اس کی تین صورتیں ہیں ،ایک صورت بیع عینہ(کسی سے زیادہ قیمت میں ادھار خرید کر اسی کو کم قیمت میں نقد بیچ دینا )،دوسری صورت ایک قسم کے غلے کا کمی وبیشی کے تبادلہ کرنا ،اور تیسری صورت بیع غرر(دھوکے کی بیع) ہے (الاستذکار الجامع لمذاہب فقہاء الأمصار: ۶/۴۰۳) نقد وادھار کا فرق صرف ان تینوں قسموں میں سے صرف بیع غرر پر منطبق ہوتا ہے،بیع غرر اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دھوکہ ہو یعنی کوئی چیز چھپی ہوئی ہو ،جس بیع میں ابہام ہو یا چیز نامعلوم ہو یا پھر قیمت نامعلوم ہو یہ سب معاملات بیع غرر ہی میں آتے ہیں لیکن جب قیمت یا چیز کا تعین ہو یا مدت کا تعین ہو تو وہ بیع غرر نہیں ہوتی ،معلوم ہوا کہ امام مالکmبھی جمہور محدثین کی طرح کسی ایک قیمت کے تعین پر اس بیع کو ناجائز نہیں سمجھتے جیسا کہ اس عبارت سے بات واضح ہے (۷)امام شافعیm(م۲۰۴ھ)کا مؤقف: امام شافعیm بھی ایسی بیع کو ناجائز کہتے ہیں جس میں عدم تعین ہو ،قیمت مقرر نہ ہو یا دھوکہ ہو، امام شافعیmلکھتے ہیں [وَ نَہَی النَّبِیُّ ﷺ عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ ، وَ مِنْہُ أَنْ أَقُوْلَ : سِلْعَتِی ہٰذِہٖ لَکَ بِعَشَرَۃٍ نَقْدًا، أَوْ بِخَمْسَۃَ عَشَرَ اِلٰی أَجَلٍ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ بِأَحَدِ الثَّمَنَیْنِ، لِأَنَّ الْبَیْعَ لَمْ یَنْعَقِدْ بِشَیْئٍ مَّعْلُوْمٍ۔] (کتاب الأم للشافعی : ۷/۲۹۱ مطبوعہ بیروت) ترجمہ: حضورنبی ﷺ نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے اس کی ایک قسم یہ ہے کہ میں کہوں میرا یہ سامان تیرے لیے نقد میں دس کا اور ایک مدت کے ادھار میں پندرہ کا ہے یوں خریدار پر یہ بیع دو قیمتوں میں سے ایک (نامعلوم) قیمت پر پکی ہوگی ،لیکن یہ کسی معین چیز پر بیع طے نہیں ہوئی معلوم ہوا کہ امام شافعیmکے نزدیک عدم تعین کی وجہ سے بیع ناجائز ہے نہ کہ وہ اس کو سود فرما رہے ہیں جیسا کہ ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدنے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۱ نمبر۹ ] کے تحت امام شافعی mکی طرف یہ منسوب کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس کو سود قراردیتے ہیں ،جو صرف ان کی کتر بیونت اور غلط ملط ترجمے کا کرشمہ ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ،اہل علم محققین عدم تعین کی وجہ سے اس کو ناجائز قرار دیتے ہیںنہ کہ اضافے کو سود قرار دے کے ناجائز کہتے ہیں ،بلکہ تعین کی صورت میں اس بیع کو جائز کہتے ہیں جیسا کہ علماء محدثین کے فیصلے آپ کے سامنے ہیں امام شافعیm کی دوسری عبارت ملاحظہ فرمائیے [بَابُ الْبَیْعِ بِالثَّمَنِ الْمجْہُوْلِ۔۔۔(قَالَ الشَّافِعِیُّ) :۔۔۔۔۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَہٰی عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ، (قَالَ الشَّافِعِیُّ): وَہُمَا وَجْہَان، أَحَدُہُمَا أَنْ یَّقُوْلَ : قَدْ بِعْتُکَ ہٰذَا الْعَبْدَ بِأَلْفِ نَقْدًا أَوْ بِأَلْفَیْنِ اِلٰی سَنَۃٍ ، قَدْ وَجَبَ لَکَ بِأَیِّہِمَا شِئْتُ أَنَا وَشِئْتَ أَنْتَ، فَہٰذَا بَیْعُ الثَّمَنِ ، فَہُوَ مَجْہُوْلٌ ] (مختصر المزنی من علم الشافعی : ۱/۸۸ مطبوعہ بیروت) ترجمہ:’’نامعلوم قیمت والی بیع کا بیان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام شافعیmفرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہhسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا۔امام شافعیmفرماتے ہیں ،اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ بیچنے والا کہے ،میں تجھے یہ غلام نقد قیمت پر ایک ہزار میں ،جبکہ سال کے ادھار پر دو ہزار میں فروخت کرتا ہوں ۔ان میں جو میں چاہوں اور جو تو چاہے اس پر تیرے لئے معاملہ واجب ہوگیا یہ قیمت والا معاملہ ہے لیکن اس میں قیمت نامعلوم ہے (اس لئے یہ بیع فاسد ہے )‘‘ (۸)امام احمد بن حنبل m(م۲۴۱ھ)کا مؤقف: امام احمد بن حنبلmسے ان کے بیٹے ابو الفضل صالح نے پوچھا[اَلرَّجُلُ یَبِیْعُ الْمَتَاعَ ، فَیَقُوْلُ : أَبِیْعُکَ بِا لنَّقْدِ بِأَلْفٍ ، وَاِلٰی شَہْرٍ بِأَلْفٍ وَمِائَۃٍ ،وَاِلٰی شَہْرَیْنِ بِأَلْفٍ وَّ مِائَتَیْنِ ،قَالَ ہٰذَا مَکْرُوہٌ اِلٰی أَنْ یُّفَارِقَہٗ عَلٰی أَحَدِ الْبُیُوْعِ۔ ] ترجمہ:ایک شخص اپنا سامان یہ کہہ کر فروخت کرتا ہے کہ میں تجھے یہ سامان نقد میں ایک ہزار کا ،اور ایک مہینے کے ادھار پر ایک ہزارایک سو ،اور دو مہینے کے ادھار پر ایک ہزار دو سو کا بیچتا ہوں (تو اس بیع کا حکم کیا ہے؟)امام احمد بن حنبلmنے فرمایا یہ مکروہ ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا بیچنے والے سے کسی ایک معاملہ کو طے کرکے جُدا ہو (تو جائز ہے) (مسائل الامام احمد روایۃ ابنہ أبی الفضل صالح : ۱/۳۷۸رقم المسئلۃ۳۵۳مطبوعہ الہند ) (۹)امام ابو عیسٰی ترمذیm(م۲۷۹ھ)کا مؤقف: امام ابو عیسٰیm ترمذی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں [حَدِیْثُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ حَدِیْثُ حَسَنٌ صَحَیْحٌ،وَالْعَمَلُ عَلٰی ہٰذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ : وقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ ،قَالُوْا:بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ أَنْ یَقُوْلَ: أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشَرَۃٍ:وَنَسِیْئَۃً بِعِشْرِیْنَ،وَلَا یُفَارِقَہٗ عَلٰی أحَدِ الْبَیْعَیْنِ، فَاِذَا فَارَقَہُ عَلٰی أَحَدِہِمَا فَلَا بَأْسَ] ترجمہ:حضرت ابو ہریرہhکی حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے اور اس حدیث کی تفسیر میں بعض اہل علم نے کہا کہ ایک چیز میں دو بیعوں کا معنی یہ ہے کہ آدمی کہے : میں تجھے یہ کپڑا نقد دس کا اور ادھار بیس کا بیچتا ہوں اور اگر وہ اس میں کسی ایک صورت کو طے کرکے جدا نہیں ہوا تو ناجائز ہے ،لیکن اگر وہ ان میں کسی ایک صورت کو طے کرکے جدا ہوا تو اس میں کوئی حرج نہیں (یعنی جائز ہے)(جامع ترمذی : ۳/۵۳۳تحت رقم الحدیث ۱۲۳۱مطبوعہ بیروت) جبکہ ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدنے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۲،۳۱ نمبر۱۰ ]کے تحت امام ابو عیسٰی ترمذیmکا نامکمل قول جامع ترمذی سے نقل کیااور اس سے اپنا مطلب کشید کرنے کی کوشش کی، ہم نے اسی قول کو مکمل لکھ دیاہے جس سے بات واضح ہوجاتی ہے (۱۰)امام الحسین بن مسعود البغویm(م۵۱۶ھ)کا مؤقف: [وَفَسَّـرُوا الْبَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ عَلٰی وَجْہَیْنِ، أَحدُہُمَا أَنْ یَّقُوْلَ: بِعْتُکَ ہٰذَاالثَّوْبَ بِعَشْرَۃٍ نَقْدًا،أوْ بِعِشْرِیْنَ نَسِیئَۃً اِلٰی شَہْرٍ ، فَہُوَ فَاسِدٌ عِنْدَ أَکْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ ،لِأَنَّہٗ لَا یُدْرٰی أَیُّہُمَا الثَّمَنُ ، وَجَہَالَۃُ الثَّمَنِ تَمْنَعُ صِحَّۃَ الْعَقْدِ ، وَقَالَ طَاوُوسٌ : لَا بَأْسَ بِہٖ ، فَیَذْہَبُ بِہٖ عَلٰی أَحَدِہِمَا ، وَبِہٖ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ ،وَالْحَکَمُ ، وَحَمَّادٌ ،وَقَالَ الْأَوْزَاعِیُّ : لَا بَأْسَ بِہٖ، وَلٰکِنْ لَّا یُفَارِقُہٗ حَتّٰی یُبَاتَّہٗ بِأَحَدِہِمَا ، فَاِنْ فَارَقَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ ،فَہُوَ لَہٗ بِأَقَلِّ الثَّمَنَیْنِ اِلٰی أَبْعَدِ الْأَجَلَیْنِ ، أَمّا اِذَا بَاتَّہٗ عَلٰی أَحَدِ الْأِمْرَیْنِ فِی الْمَجْلِسِ ، فَہُوَ صَحِیْحٌ بِہٖ ، لَا خِلَافَ فِیْہِ ] ٍٍ (شرح السنۃ للبغوی : ۸/۱۴۳مطبوعہ دمشق) ترجمہ:’’بیعتین فی بیعۃ کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ایک آدمی یہ کہے کہ میں یہ کپڑا نقد ادائیگی پر دس میں اور ادھار ادائیگی پر بیس میں بیچتا ہوں ،یہ صورت اکثر اہل علم کے نزدیک فاسد ہے کیونکہ اس میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اصل قیمت کون سی ہے ؟ قیمت کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ صحیح نہیں ، امام طاؤس mفرماتے ہیں کہ نقد و ادھار میںسے کسی ایک معاملے کو طے کر لیا جائے ،تو اس میں کوئی حرج نہیں ،امام ابراہیم نخعیm،حکم m اور حمادmبھی یہی فرماتے ہیں ،امام اوزاعی mفرماتے ہیں ،نقد وادھار کی قیمت میں فرق جائز ہے لیکن خریدنے والا اس وقت تک بیچنے والے سے جُدا نہ ہو،جب تک نقد و اُدھار میں کوئی ایک معاملہ طَے نہ ہوجائے ،اگر اس سے پہلے جُدا ہوگیا ،تو پھر کم قیمت اور زیادہ مدت پر معاملہ طے ہوگا ،البتہ اگر نقدو اُدھار میں سے کسی ایک معاملے کو اسی مجلس میں طے کر لیا جائے ،تواس کے دُرست ہونے میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں‘‘ امام بغویm کی اس عبار ت سے ان کامؤقف واضح ہے کہ نقد و اُدھار میں سے کسی ایک صورت کو طے کرلیا جائے تو یہ بیع درست ہے بلکہ اس پر اہل علم کا اتفاق نقل کرہے ہیں جبکہ ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۲نمبر۱۱]کے تحت امام بغوی mکی ایک عبارت سے اپنا مفہوم کشید کرتے ہوئے اس بیع کو ناجائز ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت عطاء فرمائے (۱۱)راوی حدیث سماک بن حربmکا مؤقف: علامہ شوکانی غیر مقلد جو غیر مقلدین کے بڑے بزرگوں میں سے ہیں وہ لکھتے ہیں [فَسَّرَہٗ سِمَاکٌ بِمَا رَوَاہُ الْمُصَنِّفِ عَنْ أَحْمَدَ عَنْہُ ،وَقَدْ وَافَقَہٗ عَلٰی مِثْلِ ذَالِکَ الشَّافِعِیُّ : فَقَالَ بِأَنْ یَّقُوْلَ : بِعْتُکَ بِأَلْفٍ نَقْدًا أَوْ أَلْفَیْنِ اِلٰی سَنَۃٍ ، فَخُذْ أَیُّہُمَا شِئْتَ أَنْتَ وَشِئْتُ أَنَا ،وَنَقَلَ ابْنُ الرِّفْعَۃِ عَنِ الْقَاضِی اِنَّ الْمَسْأَلَۃَ مَفْرُوْضَۃٌ عَلٰی أَنَّہٗ قَبِلَ عَلَی الْاِبْہَامِ ،أَمَّا لَوْ قَالَ : قَبِلْتُ بِأَلْفٍ نَقْدًا ،بِأَلْفَیْنِ بِالنَّسِیْئَۃِ صَحَّ ذَالِکَ ] ترجمہ:اس کی تفسیر سماک بن حربmنے وہ کی ہے جو صاحب کتاب(منتقی الاخبار)نے امام احمد mکی روایت سے ذکر کی ہے ،امام شافعیmنے بھی اس سلسلے میں ان کی مواقت کی ہے ،وہ فرماتے ہیں (ناجائز یہ ہے کہ)وہ کہے : میں نے یہ چیز نقد ایک ہزار کی اور سال کے ادھار پر دو ہزار کی بیچی ،ان دونوں صورتوں میں جو تمہیں اور مجھے پسند ہے اسے لے لو ،ابن رفعہ (احمد بن محمد شافعیm) نے قاضی(عیاض مالکیm) سے نقل کیا ہے کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے ،جب وہ اسی ابہام و عدمِ تعین پر بیع کو قبول کرلے اگر وہ یہ کہہ دے کہ میں نے یہ چیز ایک ہزار میں نقد یا دو ہزار میں ادھار لی ،تو یہ بالکل درست ہے (نیل الاوطار للشوکانی : ۵/۲۱۴) اسی طرح شمس الحق عظیم آبادی غیر مقلد نے بھی سماک بن حرب mکا یہی مؤقف بیان کیا ہے(عون المعبود فی شرح سنن ابوداؤد: ۹/۲۳۸) عبدالرحمن مبارک پوری غیر مقلد نے بھی سماک بن حرب mکی اسی تفسیر کو نقل کیا ہے (تحفۃ الأحوذی: ۴/۳۵۸) لہٰذا اس کے برعکس سماک بن حرب کا مؤقف کشید کرنا درست نہیں نہ ہی ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد نے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۰ نمبر۳ ]کے تحت کوئی سماک بن حرب کا قول نقل کیا ہے بس اتنا لکھ دیا ہے کہ مسند احمد میں سماک بن حرب کا یہی قول ہے جو کہ ایک مجہول بات ہے (۱۲)عظیم تابعی امام طاؤسmکا صحیح مؤقف: امام طاؤسmکا صحیح مؤقف کیا ہے ملاحظہ فرمائیے: [أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ،وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِیْہِ ،وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنْ ابنِ الْمُسَیِّبِ : قَالُوْا لَا بَأْسَ بِاَنْ یَّقُوْلَ : أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ بِعَشَرَۃٍ اِلٰی شَہْرٍ، أَوْ بِعِشْرِیْنَ اِلٰی شَہْرَیْنِ ،فَبَاعَہٗ عَلٰی أَحَدِہِمَا قَبْلَ أَنْ یُّفَا رِقَہٗ ،فَلَا بَأْسَ بِہٖ ] ترجمہ:امام زہری ،امام طاؤس اور ابن المسیبnفرماتے ہیں ،یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں تجھے یہ کپڑا مہینے کے ادھار پر دس میں اور دو مہینے کے ادھار پر بیس میں فروخت کرتا ہوں اور پھر جُدا ہونے سے پہلے اسے کسی ایک معین قیمت پر فروخت کردے ،تو اس میں کوئی حرج نہیں (مصنف عبدالرزاق : ۸/۱۳۶،۱۳۷رقم ۱۴۶۲۶مطبوعہ بیروت سندہٗ صحیح) ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدنے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۰ نمبر۶ ]کے جو کچھ امام طاؤس mسے نقل کیا ہے وہ ان کے مؤقف کی بات ہی نہیں صرف نمبر بڑھانے کے ان کا ایک قول نقل کردیا ہے اسی طرح ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدنے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۰ نمبر۷ ]کے تحت امام نسائیmکا قول نقل کیا جوکہ سنن نسائی کے باب [بیعتین فی بیعۃ] کے تحت تھا وہ بھی ایک نامکمل قول ہے جس میں ان کا کوئی مؤقف واضح نہیں اور اگر اس قول کا مفہوم دیگر محدثین کے اقوال کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کا مؤقف یہ بنتا ہے کہ قیمت مجہول ہونے کی بنا ء پر یہ ناجائز ہے جو کہ ہمارے مؤقف کی ہی تائید ہے ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلدنے [الحدیث:شمارہ۴۰ص ۳۱ نمبر۸ ] کے تحت حافظ ابن حبان کا ایک قول لکھا [کسی چیز کو ادھار سو دینار اور نقد نوے دینار میں بیچنے پر زجرو توبیخ کا بیان]جس سے یہ مطلب کشید کیا کہ قسطوں کا کاروبار ناجائز ،جبکہ یہ قول بیع مجہول کی ممانعت کا ہے جب لین واضح ہو اور کسی ایک بات پر معاملہ طے ہو جائے تو جائز ہے جیسا کہ محدثین کے صریح اقوال سے بات واضح ہے (۱۳)حافظ ابو سلیمان أحمد بن محمد الخطابی البستیm(م۲۸۸ھ)کا مؤقف: آپ سنن ابو داؤد کی شرح’’معالم السنن‘‘ میں فرماتے ہیں [وَتَفْسِیْرُ مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَہٍ عَلٰی وَجْہَیْنِ ، أَحَدَہُمَا أِنْ یَّقُوْلَ بِعْتُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشْرَۃٍ وَنَسِیئَۃً بِخَمْسَۃَ عَشَرَ ،فَہٰذَا لَا یَجُوزُ لِأَنَّہٗ لَا یُدْرٰی أَیُّہُمَا الثَّمَنُ الَّذِی یَخْتَارُہٗ مِنْہُمَا ، فَیَقَعُ بِہِ الْعَقْدُ ، وَاِذَا جُہِلَ الثَّمَنُ بَطَلَ الْبَیْعُ ] (معالم السنن للخطابی: ۳/۱۲۳مطبوعہ حلب) ترجمہ:ایک بیع میں دو سودے کرنے والی حدیث کی دو تفسیریں کی گئی ہیں ،ایک تو یہ کہ بیچنے والا یوں کہے کہ میں تجھے یہ کپڑا نقد قیمت پر دس میں اور ادھار پر پندرہ میں دوں گا ،یہ صورت جائز نہیں ،کیونکہ اس صورت میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خریدنے والا کون سی قیمت منتخب کرے گا اسی طرح ہی سودا طے ہو جاتا ہے ،لیکن جب قیمت نامعلوم ہو تو بیع باطل ہو تی ہے تھوڑا آگے جا کے اسی جلد اور اسی صفحہ پر لکھتے ہیں [وَحَکی عَنْ طَاوٗسٍ أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أنْ یَّقُوْلَ لَہٗ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشَرَۃٍ وَاِلٰی شَہْرَ بِخَمْسَۃٍ عَشَرَ ،فَیَذْہَبُ بِہٖ اِلٰی أَحَدِہِمَا ، وَقَالَ الْحَکَمَ وَحَمَّاد ، لَا بَأْسَ بِہٖ ، مَا لَمْ یفْتَرقا ] ترجمہ: یعنی امام طاؤس mکے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں کوئی کہے کہ یہ کپڑا میں نقد دس میں اور ایک مہینہ کے ادھار پر پندرہ میں بیچتا ہوں جبکہ وہ ان میں سے کسی ایک معاملہ پرطے کرکے جُدا ہوں ،اور امام حکم اور امام حماد oبھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اگر وہ جُدا ہونے سے پہلے طے کرلیں (معالم السنن للخطابی: ۳/۱۲۳مطبوعہ حلب) (۱۴)امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃ بن عبدالملک بن سلمۃ الازدی الحجر المصری المعروف بالطحاویm(م۳۲۱ھ)کا مؤقف: امام طحاویm اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘ میں فرماتے ہیں [اَنْ یَّقَعَ الْبَیْعُ عَلٰی اَلَفِ دِرْہَمٍ حَالٍ أَوْ عَلٰی مِائَۃِ دِیْنَارٍ اِلٰی سَنَۃٍ فَیَقَعُ الْبَیْعُ عَلٰی أَنْ یُّعْطِیَہُ الْمُشْتَرِیْ أَیُّہُمَا شَآئَ ، فَا لْبَیْعُ فَاسِدٌ : لِأَنَّہٗ وَقَعَ بِثَمَنٍ مَّجْہُوْلٍ۔] ترجمہ: اگر نقد لے تو ایک ہزار درہم دے،اور اگر ایک سال بعد دے تو ایک سو دینار دے تو اس طرح سودا اس بات پر واقع ہوگا کہ خریدنے والا جو چاہے دے ،تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ مجہول قیمت پر ہے (شرح معانی الآثار: ۴/۴۷تحت رقم ۵۶۶۱) (۱۵)امام ابو عبید قاسم بن سلامm(م۲۲۴ھ)کا مؤقف: امام ابو عبیدقاسم بن سلا م mحضرت عبدللہ بن مسعود hکی روایت [صَفْقَتَانِ فِی صَفْقَۃٍ رِبَا]کی شرح میں فرماتے ہیں [مَعْنَاہُ أَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ : أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ بِالنَّقْدِ بِکَذَا ،وَبِالتَّأْخِیْرِ بِکَذَا ،ثُمَّ یَفْتَرِقَانِ عَلٰی ہٰذَا الشَّرْطِ ،وَ مِنْہُ حَدِیْثُ النَّبِیِّ ﷺ اِنَّہٗ نَہٰی عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ،فَاِذَا فَارَقَہٗ عَلٰی أَحَدِ الشَّرْطَیْنِ بِعَیْنِہٖ ، فَلَیْسَ بِبَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ۔]ترجمہ:اس کا معنیٰ یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار سے کہے : میں تجھے یہ کپڑا نقد اتنے میں اور ادھار پر اتنے میں بیچتا ہوں پھر وہ دونوں اسی (مبہم)شرط پر جُدا ہوجائیں ،نبی ﷺ کے اس فرمان کابھی یہی ہے مطلب ہے ،جس میں آپ ﷺ نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے ،اگر خریدار بیچنے والے سے نقد و ادھار میں سے کسی ایک خاص شرط پر جُدا ہو ،تو یہ معاملہ ایک بیع میں دو سودوں والا ہے ہی نہیں(غریب الحدیث لأبی عبید ابن سلام: ۴/۱۱۰مطبوعہ حیدرآباد دکن الہند) (۱۶) ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبیm(م۵۹۵ھ)کا مؤقف: علامہ ابن رشدmلکھتے ہیں [کہ اگر وہ کسی ایک صورت کو متعین کیے بغیر جدا ہوگیا توامام ابوحنیفہmاور امام شافعیmکے نزدیک اب بیع درست نہ ہوگی کیونکہ وہ دونوں غیر معلوم ثمن پر جدا ہوئے اور یہ بیع جہالت ثمن کی وجہ سے ممنوع ہوگی(یعنی اگر کسی ایک صورت کو متعین کیا تو پھر جائز ہے) (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد: ۲/۱۵۴ کتاب البیوع مطبوعہ مصر) (۱۷)امام أبی بکر محمد بن ابراہیم بن المنذرالنیشاپوری m(م۳۱۹ھ)کا مؤقف: امام ابن المنذرm نے اپنی کتاب[الاشراف علی مذاہب العلماء] میں حدیث ’’بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃ‘‘کی تفسیر میں امام طاؤس،امام حکم اور امام حمادnکا قول ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں [وقد روینا عن طاووس ،والحکم ،و حماد أنہم قالوا: لابأس بأن یقول : أبیعک بالنقد بکذا، وبالنسیئۃ بکذا ،فیذہب بہ علٰی أحدہما ، وقال الحکم ،وحماد مالم یفترقا] یعنی اس میں کوئی حرج نہیں اگر کوئی یہ کہے کہ میں نقد میں اتنے کا بیچتا ہوں اور ادھار میں اتنے کا ، اگر بیچنے والا اور لینے والا جُدا ہونے سے پہلے نقد و ادھار میں کسی ایک قیمت کو طے کرلے (الاشراف علی مذاہب العلماء : ۶/۴۲ مطبوعہ متحدہ عرب امارات) (۱۸)علامہ جمال الدین ابو محمد عبداللہ بن یوسف بن محمد الزیلعیm(م۷۶۲ھ)کا مؤقف: علامہ زیلعیmاپنی مشہور زمانہ کتاب ’’نصب الرایۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ [وَفَسَرَّہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ : أَنْ یَقُوْلَ الرَّجُل ُ: أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشَرَۃٍ:وَنَسِیْئَۃً بِعِشْرِیْنَ،وَلَا یُفَارِقَہٗ عَلٰی أحَدِ الْبَیْعَیْنِ، فَاِذَا فَارَقَہُ عَلٰی أَحَدِہِمَافَلَا بَأْسَ ] ترجمہ:اور بعض اہل علم اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ یہ کپڑا مَیں نقد دس میں دوں گا اور ادھار بیس میں ،اگر وہ ان میں سے کسی ایک سودے کو طے کرکے جدا ہوئے تو اس میں کوئی حرج نہیں یعنی جائز ہے (نصب الرایۃ: ۴/۲۰) (۱۹)علامہ یوسف بن عبداللہ، ابن عبدالبر mمالکی (م۴۶۳ھ)کا مؤقف: آپ ’’بیعتین فی بیعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں [وَمِمَّا نَہٰی عَنْہُ : بَیْعَتَانِ فِی بَیْعِۃٍ ، وَذَالِکَ أَنْ یَّبِیْعَ الرَّجُلُ سِلْعَۃً بِخَمْسَۃٍ نَقْدًا : أَقْ عَشْرَۃٍ اِلٰی أَجَلٍ ، قَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ بِأَحَدِ الثَّمَنَیْنِ ، وَالْبَائِعُ بِالْخِیَارِ بِأَیِّ الثَّمَنَیْنِ شَائَ أَوْ جَبَ بِہٖ لِلْمُشْتَرِی ، فَہٰذَا بَیْعٌ فَاسِدٌ ۔۔۔۔فَاِنْ کَانَ الْبَیْعُ عَلٰی أَنَّ الْمُشْتَرِیَ بِالْخِیَارِ فِیْہِمَا جَمِیْعًا ،بَیْنَ أَنْ یَأْخُذَ بِأَیَّتِہِمَا شَائَ ، وَبَیْنَ أَنْ یُّرَدَّہُمَا جَمِیْعًا ،فِذٰلِکَ جَائِزٌ ، وَلَیْسَ مِنْ بَابِ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ، لِأَنَّ الْبَیْعَ ہٰہُنَا نَافِذٌ ، وَقَعَ عَلٰی شَیئٍ بِعَیْنِہٖ ، یَخْتَارُہٗ مِنْ شَیْئَیْنِ مَعْلُوْمَیْنِ لَہُ الْخِیَارُ فِی أَحَدِہِمَا وَ السِّلْعَۃُ الْأُولٰی لَمْ یَقَعْ شِرَاؤُہَا عَلٰی شَیئٍ بِعَیْنِہٖ بِقَطْعٍ أَوْ خِیَارٍ۔ ] ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے جن بیوع سے منع فرمایا ہے ،ان میں وہ ایک بیع ہے جن میں دو سودے کیے گئے ہوں اس کی ایک صورت یہ ہے کہ بیچنے والا نقد میں پانچ کا اور ادھار میں دس کا بیچ رہا ہو ،تو ان دونوں میں سے کسی ایک(نامعلوم)قیمت پر سودا ہوگا اور بیچنے والے کو اختیار ہوگا کہ وہ جو قیمت چاہے گا ،خریدنے والے کے ذمے لگائے گا یہ بیع فاسد ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اگر یہ بیع اس طرح ہو کہ خریدار کو نقد یا ادھا ر میں سے کوئی ایک قیمت منتخب کرنے یا دونوں کو رد کرنے کا اختیار ہو ،تو یہ جائز ہے اور ایک بیع میں دو سودوں کے زمرے میں نہیں آتی اس کی وجہ یہ کہ یہاں بیع ایسے معین معاملے پر طے ہوئی ہے جسے خریدار دو صورتوں میں پسند کرے گا اور اس کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے منتخب کرنے کا مکمل اختیار ہے اس کے برعکس پہلے بیان کی گئی صورت میں چیز کی بیع کسی ایک طے شدہ معاملے یا خریدار کے اختیار پر واقع نہیں ہوئی تھی (الکافی فی فقہ أہل المدینۃ المالکی : ۲/۷۴۰،۷۳۹مطبوعہ الریاض سعودی عرب) (۲۰)ابواسحاق ابراہیم بن علی بن یوسف الشیرازیm(م۴۷۶ھ)کا مؤقف: ’ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ‘‘ کی تفسیر میں علامہ شیرازیmفرماتے ہیں [نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ، فَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ الْمُرَادُ بِہٖ أَنْ یَّقُوْلَ : بِعْتُکَ ہٰذَا بِأَلْفٍ نَقْدًا أَوْ بِأَلْفَیْنِ نَسِیئَۃً ، فَلَا یَجُوزُ لِلْخَبْرِ ، وَلِأنَّہٗ لَمْ یَعْقِدْ عَلٰی ثَمَنٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ ](المہذب فی فقہ الامام الشافعی: ۱/۲۶۷ ) ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے اس کی ایک مراد یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی کہے میں تجھے یہ چیز نقدایک ہزار میں،اور دو ہزار میں ایک سال کے ادھار پر بیچتا ہوںمذکورہ حدیث کی وجہ سے یہ ناجائز ہے اس لئے اس نے کسی معین قیمت پر معاملہ طے نہیں کیا (۲۱)شمس ا الأئمہ ابو بکرمحمد بن أحمد بن أبی سہل السرخسیm(م۴۸۳ھ)کا مؤقفـ : علامہ سرخسیmلکھتے ہیں [وَاِذَا عَقَدَ الْعَقْدَ عَلٰی أَنَّہٗ اِ لٰی أَجَلِ کَذَا بِکَذَا ،وَبِا لنَّقْدِ بِکَذَا ،أَوْ قَالَ اِلٰی شَھْرٍ بِکَذَا ،وَ اِلٰی شَھْرَیْن بِکَذَا ،فَہُوَ فَاسِدٌ : لَأَنَّہٗ لَمْ یُعَاطِہٖ عَلٰی ثَمَنٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ ] ترجمہ: جب کوئی اس صورت میں معاملہ کرے کہ اتنی مدت کے ادھار پر اتنی قیمت میں یا ایک مہینے کے ادھار پر اتنی قیمت میں اور دو مہینے کے ادھار پر اتنی قیمت میں ،تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ اس نے کسی معین قیمت پر معاملہ طے نہیں کیا۔(المبسوط للسرخسی: ۱۳/۱۳مطبوعہ بیروت) (۲۲)علامہ ابوبکر بن مسعودبن احمد الکا سانیm(م۵۸۷ھ)کا مؤقف: علامہ ابوبکر بن مسعودبن احمد الکا سانیm اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں [وَقَدْ رُوِیَ أِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَہٰی عَنْ بَیْعَیْنِ فِی بَیْعٍ ، وَکَذَا اِذَا قَالَ : بِعْتُکَ ہٰذَا الْعَبْدَ بِا َٔلْفِ دِرْہَمٍ اِلٰی سَنَۃٍ ، أَوْ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَۃٍ اِلٰی سَنَتَیْنِ ، لِأَنَّ الثَّمَنَ مَجْہُوْلٌ ۔ ] ترجمہ: اور تحقیق رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا گیا کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا ایک بیع میں دو سودے کرنے سے،اسی طرح (یہ بیع بھی فاسد ہے)جب کوئی کہے : میں تجھے یہ غلام سال کے ادھار پر ایک ہزار درہم میں یا دو سال کے ادھار پر پندرہ سو درہم میں بیچا ،کیونکہ قیمت مجہول (معین نہیں )ہے ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع : ۱۱/۱۶۴) (۲۳)ابو محمد موفق الدین عبد اللہ ،الشہیربابن قدامۃ المقدسیm(م۶۲۰ھ)کا مؤقف: علامہ ابن قدامہ حنبلیm اس حدیث کی تفسیر میں لکھتے ہیں [ہَکَذَا فَسَّرَہٗ ،مَالِکٌ ،وَالثَّوْرِیُّ ،وَاِسْحَاقُ وَہُوَ أَیْضًابِاطِلٌ وَ ہُوَ قَوْلُ الْجُمْہُوْرِ ،لِأَنَّہٗ لَمْ یَجْزِمْ لَہٗ بِبَیْعٍ وَاحَدٍ ، فَأَشْبَہَ مَا لَوْ قَالَ : بِعْتُکَ ہٰذَا أَوْ ہٰذَا ،وَلِأَنَّ الثَّمَنَ مَجْہُوْلٌ ،فَلَمْ یَصِحَّ ، کَا لْبَیْعِ بِالرَّقَمِ الْمَجْہُوْلِ ۔۔۔۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ طَاوٗسٍ وَالْحَکَمِ وَ حَمَّادٍ أَنَّہُمْ قَالُوْا : لَا بَأْسَ أَنْ یَقُوْلَ : أَبِیْعُکَ بِا لنَّقَدِ بِکَذَا ،وَبِا لنَّسِئَۃِ بِکَذَا ،فَیَذْہَبُ عَلٰی أَحَدِہِمَا ،وَہٰذَا مَحْمُوْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ جَرٰی بَیْنَہُمَا بَعْدَ مَا یَجْرِی فِی الْعَقْدِ ،فَکَأَنَّ الْمُشْتَرِیَ قَالَ : أَنَا آخُذُہٗ بِالنَّسِئَۃِ بِکَذَا ، فَقَالَ : خُذْہُ ،أَوْ قَدْ رَضِیْتُ ،وَنَحْوَ ذٰلِکَ ،فَیَکُوْنُ عَقْدًا کَافِیًا ۔] ترجمہ: جیسا کہ اس کی تفسیر میں امام مالک،امام سفیان ثوری اور امام اسحاق nکہتے ہیں کہ یہ بیع بھی باطل ہے جمہور بھی یہی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کسی ایک معاملے کو طے نہیں کیا گیا ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے میں تمہیں یہ یا یہ چیز بیچتا ہوں یہ اس لئے بھی باطل ہے کہ قیمت معین نہیں اور ایسے ہی ہے جیسے نامعلوم قیمت پر بیع کی جارہی ہو ۔۔۔۔۔۔امام طاوس ،امام حکم اور امام حمادnسے منقول ہے کہ انہوں نے کہا اگر کوئی کہے :میں تجھے نقد اتنے میں ،جبکہ ادھار اتنے میں دوں گا اور خریدار کسی ایک قیمت پر معاملہ طے کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ،اس کا مطلب یہ ہے کہ سودا کرتے وقت بائع اور مشتری میں جو بحث و تکرار ہوتی ہے ،اسی میں مشتری نے کہہ دیا کہ میں اسے اتنے میں ادھار لیتا ہوں اور بائع نے کہہ دیا : لے لو یا میں راضی ہوں ،تو یہ سودا مکمل ہوجائے گا ۔ (المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشیبانی: ۴/۳۱۳مطبوعہ بیروت ) (۲۴)ابو السعادات المبارک بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیرm(م۶۰۶ھ)کا مؤقف: امام ابن اثیرmفرماتے ہیں [نَہٰی عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ، ہُوَ أنْ یَّقُوْلَ : بِعْتُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشَرَۃٍ وَّ نَسِیئَۃً بِخَمْسَۃَ عَشَرَ ، فَلَا یَجُوزُ ، لِأَنَّہٗ لَا یَدْرِیْ أَیُّہُمَا الثَّمَنُ الَّذِی یَخْتَارُہٗ لِیَقَعَ عَلَیہِ الْعَقْدُ ](النہایۃ فی غریب الأثر لابن الاثیر: ۱/۴۵۲مطبوعہ بیروت) ترجمہ:نبی ﷺ نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ بیچنے والا کہے ، میں نے تجھے یہ کپڑا نقددس کا اور ادھار پندرہ کا بیچا ،یہ صورت جائز نہیں ،کیونکہ یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی قیمت منتخب کر رہا ہے تاکہ اس پر معاملہ طے ہو (۲۵)محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصریm(م۷۱۱ھ)کا مؤقف: علامہ منظور اپنی مشہور زمانہ کتا ب’’لسان العرب‘‘ میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں [نَہٰی عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ ، ہُوَ أنْ یَّقُوْلَ : بِعْتُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ نَقْدًا بِعَشَرَۃٍ وَّ نَسِیئَۃً بِخَمْسَۃَ عَشَرَ ، فَلَا یَجُوزُ ، لِأَنَّہٗ لَا یَدْرِیْ أَیُّہُمَا الثَّمَنُ الَّذِی یَخْتَارُہٗ لِیَقَعَ عَلَیہِ الْعَقْدُ ] (لسان العرب لابن منظور: ۸/۲۳ مطبوعہ بیروت) ترجمہ:نبی ﷺ نے ایک بیع میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ بیچنے والا کہے ، میں نے تجھے یہ کپڑا نقددس کا اور ادھار پندرہ کا بیچا ،یہ صورت جائز نہیں ،کیونکہ یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی قیمت منتخب کر رہا ہے تاکہ اس پر معاملہ طے ہو (۲۶)حافظ ،یحییٰ بن شرف نوویm(م۶۷۶ھ)کامؤقف: امام نوویmکا بھی یہی مؤقف ہے کہ یہ بیع باطل ہے قیمت کے معین نہ ہونے کی وجہ سے دیکھئے (المجموع شرح المہذب: ۹/۳۱۴) (۲۷)محمدبن أحمد، خطیب شربینیm(م۹۷۷ھ) کا مؤقف: امام شربینیmنے اس حدیث کی تفسیرمیں لکھا [وَہُوَ بَاطِلٌ لِلْجَہَالَۃِ] ترجمہ: یہ بیع( قیمت کے )عدم تعین کی بناء پر باطل ہے(مغنی المحتاج الٰی معرفۃ ألفاظ المنہاج: ۶/۳۶۲) (۲۸)محمد بن احمد الدسوقی مالکیm(م۱۲۳۰ھ)کا مؤقف: علامہ دسوقیmلکھتے ہیں[وَاِنَّمَا مُنِعَ لِلْجَہْلِ بِالثَّمَنِ حَالَ الْبَیْعِ ] ترجمہ:یہ معاملہ اس لئے منع کیا گیا کہ بیع کے وقت قیمت معلوم نہیں ہوتی (حاشیہ الدسوقی علی الشرح الکبیر : ۱۱/۲۲۹) (۲۹)علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری غیرمقلد (م۱۳۵۳ھ)کا مؤقف: علامہ عبدالرحمن مبارک پور ی صاحب حدیث ’’بیعتین فی بیعۃ‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں [قَالَ الْبَا ئِعُ : أَبِیْعُکَ ہٰذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَۃٍٍ وَ بِنَسِیئَۃٍ بِعِشْرِیْنَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِی : اشْتَرَیْتُہٗ بِنَقْدٍ بِعَشَرَۃٍ ، ثُمَّ نَقَدَ عَشْرَۃَ دَرَاہِمَ ، فَقَدْ صَحَّ ہٰذَا الْبَیْعُ ، وَکَذَالِکَ اِذَا قَالَ الْمُشْتَرِی اشْتَرَیْتُہٗ بِنَسِیئَۃٍ بِعِشْرِیْنَ ، وَفَارَقَ الْبَائِعَ عَلٰی ہٰذَا ،صَحَّ الْبَیْعُ ،لِأنَّہٗ لَمْ یُفَارِقْہُ عَلیٰ اِیْہَامٍ وَّ عَدَمِ اسْتِقْرَارِ الثَّمَنِ ، بَلْ فَارَقَہٗ عَلٰی وَاحِدٍ مُّعَیَّنٍ مِّنْہُمَا ۔ ] ترجمہ:جب بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں تجھے یہ کپڑا نقد قیمت پر دس میں اور اور ادھار پر بیس میں بیچتا ہوں اور خریدار یہ کہہ دے کہ میں اسے نقد دس میں خریدتا ہوں پھر دس درہم نقد دے بھی دے تو یہ بیع درست ہو گی اسی طرح جب خریدار کہے کہ میں اس کپڑے کو ادھار پر بیس درہم میں خریدتا ہوں اور اسی معاملے پر وہ بیچنے والے سے جُدا ہو جائے ،تو یہ بیع بھی درست ہو گی کیونکہ وہ کسی وہمی معاملے اور قیمت کے عدم تعین پر جُدا نہیں ہوا بلکہ ایک معین معاملے پر جُدا ہوا ہے (تحفۃ الأحوذی: ۳/۳۳۰تحت رقم الحدیث۱۱۵۲) (۳۰)نواب صدیق حسن قنوجی غیر مقلد(م۱۳۰۷ھ)کا مؤقف: نواب صدیق حسن قنوجی غیر مقلداس حدیث کے تحت لکھتے ہیں [وَأمَّا بَیْعُ الشَّی ئِ بِأَکْثَرَ مِنْ سِعْرِ یَوْمِہٖ مُؤَجَّلًا؛ فَأَقُولُ : الزِّیَادَۃُ عَلٰی سِعْرِ یَوْمِ الْبَیْعِ لَیْسَتْ مِنَ الرِّبَا ئِ فِی وَرْدٍ وَلَا صَدْرٍ ؛ لِأِنَّ الرِّبَا زِیَادَۃُ أَحَدِ الْمُتَسَاوِیَیْنِ عَلَی الْآخَرِ ، وَلَا تَسَاوِی بَیْنَ الشَیئِ وَ ثَمَنِہٖ ، مَعَ اخْتِلَافِ جِنْسِہِمَافَلَا یَصِحُّ أَنْ یَکُوْنَ تَحْرِیْمُ ہٰذِہِ الصُّوْرَۃِ لِکَونِہَا رِبًا] ترجمہ: رہا کسی چیز کو ایک مدت موجودہ قیمت سے زیادہ قیمت پر بیچنا ،تو میں کہتا ہوں کہ یہ کسی دور میں سود نہیں کہلایا ،کیونکہ دو برابر کی چیزوں میں سے ایک کا دوسرے سے زائد ہونا سود کہلاتا ہے یہاں چیز اور قیمت میں کوئی برابری نہیں ہوتی ،مزید یہ کہ ان کی جنس بھی ایک نہیں ہوتی لہٰذا اس صورت کو سود ہونے کی بنا ء پر حرام قرار دینا درست نہیں (الروضۃ الندیّۃ شرح الدررالبہیّۃ : ۲/۱۰۶مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) (۳۱)شیخ الکل نذیر حسین دہلوی غیر مقلدکا مؤقف: ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں [اگر بائع نقد کی صورت یا ادھار کی صورت کو متعین کرکے فروخت کرے تو بیع حلال وجائز ہے]جبکہ اسی صفحہ پر اسی حدیث کی شرح بھی نقل کی ہے ان کا اس مسئلہ پر ایک رسالہ بھی موجود ہے جس کا نام ہے ’’شفاء الغلل فی حکم زیادۃ الثمن لمجرد الاجل‘‘ (فتاوٰی نذیریہ: ۲/۱۶۳) (۳۲)ثناء اللہ امرتسری غیر مقلدکا مؤقف: ایک سوال کے جواب میںلکھتے ہیں [بائع نقد کی صورت یا ادھار کی صورت کو متعین کرکے فروخت (صحیح بخاری:۲۱۷۸،۲۱۷۹،صحیح مسلم:۵۹۶،دار السلام:۴۰۸۸،۴۰۸۹،۴۰۹۰)دیکھئے الحدیث شمارہ۴۰ص۲۸،۲۷ الجواب: یہ ابو الحسن کا پیش کردہ مفہوم غلط ہے صحیح مفہوم ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری میں امام بخاریmنے اس حدیث پر با ب باندھا ہے [بَابُ بَیْعِ الدِّیْنَارِ بِالدِّیْنَارِ نَسَائً]دینار کی دینار کے ساتھ ادھار بیع کا بیان (صحیح بخاری : ۳/۹۷مطبوعہ قاہرہ) صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدریhکی روایت کے الفاظ یہ ہیں [أَلدِّیْنَارُ بِالدِّیْنَارِ ،وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ ،مِثْلًا بِمِثْلٍ ،مَنْ زَادَ أَوِزْدَادَ ،فَقَدْ أَرْبٰی ]دینار کی دینار کے ساتھ درہم کی درہم کے ساتھ بیع برابر ہوگی جو شخص زیادہ دے یا زیادہ طلب کرے وہ سودی معاملہ کرے گا (صحیح مسلم: ۵/۴۹رقم۴۱۷۲مطبوعہ بیروت) اس حدیث کا تعلق ربوی اجناس سے ہے جن میں سونا چاندی اور غلے کی مخصوص چیزیں شامل ہیں اور اہل علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر ایک ہی جنس کا باہم تبادلہ کرنا ہو تو اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہوتی نہ ادھار میں نہ نقد میں،لیکن اگر جنس مختلف ہو تو اس میں کمی و بیشی ہوسکتی ہے لیکن ادھار جائز نہیں ہوتا ان میں ادھار ہی سود ہوتا ہے جسے ’’ربا النسیئہ‘‘کہا جاتا ہے مذکورہ فرمان نبوی میں اسی سود کا ذکر ہے حضور ﷺ نے ایک سوال کے جواب یہ بات ارشاد فرمائی (کہ مختلف جنسوں کے تبادلے میں) سود ادھار میں ہے جیسا کہ اہل علم نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے امام شافعیm کی وضاحت: امام شافعیmفرماتے ہیں [قَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ یُسْأَلُ عَنِ الرِّبَا فِی صِنْفَیْنِ مُخْتَلِفَیْنِ ،ذَہْبٍ بِفِضَّۃٍ، وَتَمْرٍ بِحِنْطَۃٍ ، فَقَالَ : اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیئَۃِ ، فَحَفِظَہٗ ،فَأَدّٰی قَوْلَ النَّبِیِّ ، وَلَمْ یُؤَدِّ مَسْأَلَۃَ السَّائِلِ ، ترجمہ: ممکن ہے کہ(حضرت اسامہ بن زیدh)نے سنا ہو کہ رسول اللہ ﷺ سے دو مختلف جنسوں سونے کی ،چاندی اور کھجور کی گندم کے ساتھ بیع میں (مقدار میں اضافے کی وجہ سے )سود کے بارے میں سوال کیا گیا ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ،سود تو ادھار میں ہوتا ہے (حضرت اسامہ بن زیدhنے)نبی ﷺ کے یہ الفاظ یاد کرکے آگے بیان کر دیے ہوں لیکن سائل کا سوال ذکر نہ کیا ہو (اختلاف الحدیث للشافعی : ص۵۳۱مطبوعہ بیروت) علامہ ابن عبدالبر مالکیmکی وضاحت: علامہ ابن عبدالبرm’’الاستذکا ر‘‘میںحدیث[اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیئَۃِ] کے تحت فرماتے ہیں[علماء کرام کے نزدیک اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کسی سائل کے جواب میں وارد ہوئی ہے جس نے سونے کی چاندی کے ساتھ یا گندم کی کھجور کے ساتھ بیع یا اسی طرح کی دو جنسوں کی آپس کی بیع کے بارے میں سوال کیا تھا اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (ان چیزوں میں )سود(مقدار میں اضافے سے نہیں بلکہ)ادھار میں ہوتا ہے ،حضرت اسامہ بن زیدhنے رسول اللہ ﷺ کا کلام سنا لیکن سائل کا سوال ذکرنہیں فرمایا۔واللہ أعلم] (الاستذکار الجامع لمذاہب فقہاء الامصار: ۶/۳۱۱) علامہ ابو الفرج ،عبدالرحمن ابن الجوزیmکی وضاحت: اس حدیث کے علامہ ابن الجوزیmفرماتے ہیں [ہٰذَا الْحَدِیثُ مَحْمُوْلٌ عَلٰی أَنَّ أُسَامَۃَ سَمِعَ بَعْضَ الْحَدِیْثِ ،کَأِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ سُئِلَ عَنْ بَیْعِ بَعْضَ الْأَعْیَانِ الرِّبْوِیَّۃِ بِبَعْضٍ ، کَالتَّمْرِ بِالشَّعِیْرِ ،وَالذَّہَبِ بِالْفِضَّۃِ مُتَفَاضِلًا، فَقَالَ : اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیئَۃِ، وَاِنَّمَا حَمَلْنَاہُ عَلٰی ہٰذَا لِاِجْمَاعِ الْأُمَّۃِ عَلٰی خِلَافِہٖ ، وِاِلٰی ہٰذَا الْمَعْنٰی ذَہَبَ اَبُوْبَکَرٍ الْأَثْرَمُ ] ترجمہ: اس حدیث کو یوں محمول کیا جائے گا کہ حضرت اسامہ بن زیدhنے حدیث کا کچھ حصہ سنا آپ ﷺ سے ربوی اجناس میں سے ایک کی دوسرے کے ساتھ کمی و بیشی کی بیع کے بارے میں پوچھاگیا جیسے کھجور کی جَو کے ساتھ اور سونے کی چاندی کے ساتھ ۔اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اس صورت میں )سود تو ادھار ہی میں ہوتا ہے ،ہمارے اس حدیث کو اس معنیٰ پر محمول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے (ظاہری معنٰی کے) خلاف امت مسلمہ کا اجماع ہے یہی معنٰی ابو بکر اثرمmنے بھی لئے ہیں (کشف المشکل من حدیث الصحیحین: ۴/۱۵) پچھلے صفحات میںجتنے امت کے علماء نے ادھار میں قیمت کے اضافے کو جائز قرار دیا ان کے سامنے یہ حدیث بھی موجود تھی لیکن ان لوگوں نے اس کا جو معنٰی لیا وہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کیونکہ اس نبوی فرمان کوغیر ربوی اجناس میں ادھار سے جوڑنا بالکل غلط ہے کیونکہ سلف صالحین میں سے کسی نے اس کو غیر ربوی اجناس میں ادھار کے ساتھ نہیں جوڑا،اور نہ غیر ربوی اجناس میں ادھار کو سود قرار دیا ہے جیسا کہ اس پر اجماع امت ہے قرض پر نفع سود ہے ابو الحسن غیر مقلد لکھتے ہیں ’’سیدنا فضالہ بن عبید hنے فرمایا : ’’کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ الربا ‘‘ہر قرض جو نفع کھینچے وہ سود کی وجوہ میں سے ایک وجہ (قسم)ہے (السنن الکبرٰی للبیہقی ۵/۳۵۰ وسندہٗ صحیح واخطأ من ضعفہ)(الحدیث شمارہ:۴۰ ص ۲۸) الجواب:یہ بھی ابو الحسن غیرمقلد کی سخت غلطی ہے کیونکہ قرض اور بیع میں فرق ہے اسی فرق کو یہ صاحب نہ سمجھ سکے اور قسطوں کی بیع کو بھی سود سمجھ گئے جب کہ بیع اور چیز ہے ،قرض سے نفع لینا جائز نہیں جیسا کہ یہ صحابی کا قول بتا رہا ہے مگر بیع تو کی ہی جاتی اس لئے ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو جب اس میں نفع ہی سود بن جائے تو بیع کا مقصد ہی باطل ہوجائے اللہ تعالیٰ عقل سلیم عطاء فرمائے لہٰذا اس صورت میں اس اثر سے استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے ان کا یہ استدلال غلط ہے علماء امت نے اس اثر کا مفہوم جو پیش کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں اس اثر میں علماء امت کا فہم متقدمیں علماء امت کے پاس یہ اثر پہنچا انہوں نے اس اثر کی بناء پر بیع میں ادھار کو سود نہیں قرار دیا انہوں نے اس کی جو تفسیر بیان کی وہ ملاحظہ فرمائیں امام ابن سیرینm،اورامام قتادہ بن دعامہmکا فہم: امام ابن سیرین اور امام قتادہoفرماتے ہیں [کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً ،فَہُوَ مَکْرُوْہٌ :قَالَ مَعْمَروَقَالَہ قَتَادَۃَ](مصنف عبدالرزاق : ۸/۱۴۵رقم ۱۴۶۵۷مطبوعہ بیروت وسندہٗ صحیح )ترجمہ:ہر وہ قرض جو نفع حاصل کرے وہ مکروہ ہے امام ابراہیم نخعیmکا فہم : امام ابراہیم mفرماتے ہیں [کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً ،فَلَا خَیْرَ فِیْہِ] ترجمہ: ہر قرض جو نفع کھینچے اس میں خیر نہیں (مصنف عبدالرزاق : ۸/۱۴۵رقم ۱۴۶۵۹مطبوعہ بیروت وسندہٗ صحیح ) جب کہ امام ابراہیم نخعی اور امام قتادہ o نقدوادھار کی صورت میں اگر ادھار طے ہوجائے تو زیادہ قیمت لینا جائز سمجھتے ہیں جیسا کہ پچھلے صفحات میں آپ نے ان کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کیا ان کو صحیح معنٰی معلوم تھا یا ابو الحسن غیر مقلد ؟ امام احمد بن حنبلmکا فہم: امام احمد بن حنبلmسے ان بیٹے ابو الفضل صالحmاپنے باپ امام احمد بن حنبلmسے پوچھتے ہیں [ہر وہ قرض جو نفع حاصل کرے حرام ہے اس کا کیا معنٰی ہے؟تو امام صاحب نے جواب دیا ،اس کی صور ت یہ ہے کہ ایک شخص کا گھر ہو اور کوئی اس میں رہنے کے لئے آئے تو وہ کہے مجھے پچاس درہم قرض دے دو تاکہ میں تمہیں رہنے کی اجازت دے دوں ۔وہ قرض دے دیتا ہے اور اس کے گھر میں رہتا ہے ،یا کوئی اس کو قرض دیتا ہے اور وہ اس کے لئے تحائف لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے تحفہ نہیں دیتا تھا ،یا کوئی اسے قرض دیتا ہے تو اسے عامل مقرر کردیتا ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کو عامل نہیں بناتا تھا ان سب صورتوں میں قرض نے نفع حاصل کیا اور یہ سود کی ایک قسم ہے کیونکہ اس شخص نے اپنا دیا ہوا قرض بھی واپس لے لیا اور ساتھ زائد میں چیز بھی حاصل کی (مسائل الاحمد روایۃ ابنہ ابی الفضل صالح : ۱/۳۲۰رقم المسئلۃ:۲۷۱مطبوعہ الہند) جبکہ یہی امام احمد بن حنبلmبیع میں ادھار ونقد میں کسی ایک معاملے کو طے کر لیا جائے تو جائز سمجھتے ہیں دیکھئے سابقہ صفحات امام ابن المنذرmکا فہم: امام منذرmنے بھی اس قول کو ’’اشراف علیٰ مذاہب العلماء : ۶/۱۴۲‘‘ میں نقل کیا لیکن اس کے باوجود وہ نقد وادھار میں سے ایک کو طے کرلیا جائے تو اس کو جائز سمجھتے ہیں صرف ادھار والامعاملہ کیوں منع ہے [من باع بیعتین فی بیعۃ فلہ أو کسہما أو الربا]جو شخص کسی چیز کی دو قیمتیں مقرر کرے گا یا تو وہ کم قیمت لے گا یا پھر وہ سود ہوگا،کے تحت صرف ادھار کو بھی سود قرار دیتے ہیںجو کہ درست نہیں اس حدیث کے معنٰی محدثین سے ملاحظہ فرمائیں علامہ حافظ خطابی mکی تفسیر: امام بیہقیmاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں [میں نے ابو سلیمان(حافظ خطابی)mکی کتاب میں اس حدیث کی تفسیریہ پڑھی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو ایک دینار پیشگی دیا تاکہ مہینے بعد گندم کا ایک قفیز(ایک پیمانہ)لے سکے جب وقت آیا اور اس نے گندم کا مطالبہ کیا تو دوسرا شخص کہنے لگا تم مجھے وہ گندم بیچ دو جو مجھ سے لینی تھی اور اس کے بدلے دو مہینوں بعد دو قفیزلے لینا ۔یہ دوسرا سودا ہے جو پہلے سودے پر داخل ہوگیا یوں یہ ایک بیع میں دو سودے ہوگئے ان دونوں سودوں کو کم،جو کہ اصل(ایک )ہے،کی طرف لوٹایا جائے گا اگر وہ پہلا سودا ختم ہونے سے پہلے دوسرا سودا کرتا ہے تو سود والا معاملہ کریں گے] (۱)السنن الکبرٰی للبیہقی: ۵/۳۴۳تحت رقم۱۱۱۹۶ (۲)النہایۃ فی غریب الاثر لابن أثیر :۵/۴۹۲ (۳)لسان العرب لابن منظور: ۶/۲۵۷ (۴)جامع الاصول فی احادیث الرسول: ۱/۵۳۳ (۵)عون المعبود شرح ابی داؤد: ۹/۲۹۸ علامہ ابن قیم جوزی کی تفسیر: علامہ ابن قیم صاحب اس حدیث کی تفسیر میں لکھتے ہیں[اس حدیث کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے : میں تجھے یہ چیز ایک سال کے ادھار پر سو درہم میں بیچتا ہوں ،اس شرط پر کہ ابھی میں تم سے یہی چیز اسّی(۸۰)درہم میں خریدوں گااس(اضافی الفاظ والی )حدیث کا یہی معنٰی ہے ،اس کے علاوہ کوئی معنٰی نہیں اور یہی معنیٰ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق ہے کہ وہ کم قیمت پر فروخت کرے گا یا سود لے گا کیونکہ بیچنے والے کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ زائد قیمت لے جو کہ سود ہے یا پھر پہلی قیمت ،جو کہ کم ہے وہ لے یہی چیز ایک بیع میں دو سودوں والی ہے ،کیونکہ اس نے ایک بیع میں دو سودے جمع کرلئے دراصل وہ اس معاملے کے ذریعے وہ پیشگی درہموں کے بدلے تاخیر سے زیادہ درہم دینا چاہتا ہے ،حالانکہ وہ صرف اپنے سرمایہ کا مستحق ہے اور یہی دو سودوں میں سے کم قیمت والا سودا ہے اگر وہ زیادہ لینے پر ہی اصرار کرے گا تو پھر وہ سود ہی لے گا (تہذیب سنن ابی داؤد لابن قیم : ۲/۱۵۲) شارح ترمذی ابن رسلانmکی تفسیر : شارح ابن رسلانmنے بھی اس حدیث کا یہی معنٰی بیان کیا ہے دیکھئے (تحفۃ الأحوذی: ۳/۳۳۰) علامہ محمد بن علی بن محمد الشوکانی کی تفسیر: محمد بن علی بن محمد الشوکانی لکھتے ہیں [اس حدیث کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ اس صورت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے کہ بیچنے والا یہ کہے ،نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی ،جب وہ شروع ہی سے یہ کہے کہ میں ادھار دوں گا اور قیمت یہ ہوگی اور وہ قیمت موجودہ قیمت سے زیادہ ہو ،تو یہ صورت اس حدیث سے منع نہیں ہوتی ،لیکن اس حدیث سے دلیل لینے والے اس صورت کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ حدیث اس بات کی دلیل نہیں بنتی یوں ان کا دعوٰی عام ہے اور دلیل خاص] (نیل الاوطار للشوکانی: ۵/۲۱۴) ایک بیع میں دو قیمتوں کے ہوتے ہوئے صرف کم قیمت بھی جائز نہیں ابو الحسن مبشراحمد ربانی غیر مقلد لکھتا ہے[اس حدیث کی رو سے تو دو ہی صورتیں بنتی ہیںدکاندار یا بائع یا تو کم مقداروالی قیمت کے ساتھ اپنی چیز بیچے گا اور وہ نقد کی قیمت ہے یا پھر ادھار کی وجہ سے سودی اضافہ وصول کرے گا جس کی اس نے ادھار کی صورت میں شرط لگائی(الحدیث:شمارہ۴۰ص۳۳) الجواب:ان صاحب کے نزدیک اگر کم قیمت پر سودا ہوجائے تو جائز لیکن اہل علم محدثین کا اس بارے مؤقف اس کے خلاف ہے بعینہٖ اسی حدیث کے تحت امام طاوٗس mفرماتے ہیں [اِذَا قَالَ : ہُوَ بِکَذَا وَکَذَا اِلٰی کَذَا وَکَذَا،بِکَذَا وَکَذَا، اِلٰی کَذَا وَکَذَا،فَوَقَعَ الْبَیْعُ عِلٰی ہٰذَا ،فَہُوَ بِأَقَّلِ الثَّمَنَیْنِ اِلٰی أَبْعَدِ الْأَجَلَیْنِ ،قَالَ مَعْمَر،وَہٰذَا اِذَا کَانَ الْمُبْتَاعُ قَدِاسْتَہْلَکَہٗ ] ترجمہ: جب وہ یوں کہے فلاں چیز اتنی مدت تک اتنی قیمت میں ہے ،اوراتنی مدت تک اتنی قیمت میں ہے اور اسی پر بیع واقع ہو گئی ہو تو اس کے لئے دو قیمتوں میں کم قیمت ہو اور دور کی مدت ہوگی ،امام معمر mفرماتے ہیں یہ اس صورت میں ہوگا جب خریدی گئی چیز کو خریدار نے استعمال کرلیا ہو (مصنف عبدالرزاق: ۸/۱۳۷رقم۱۴۶۳۱وسندہٗ صحیح مطبوعہ بیروت) اسی طرح ’’مصنف عبدالرزاق: ۸/۱۳۸رقم۱۴۶۳۲مطبوعہ بیروت‘‘ میں امیر المؤمنین فی الحدیث،امام سفیان ثوریmکا فتوٰی بھی یہی ہے اسی حدیث کے بارے میں امام خطابیmفرماتے ہیں [لَا أعْلَمُ أِحِدًا مِّنَ الْفُقَہَائِ قَالَ بِظَاہِرِ ہٰذَا الحَدِیْثِ ، أوْ صَحَّحَ الْبَیْعَ بِأَوْکَسِ الثَّمَنَیْنِ ،اِلَّا شَیْئٌ یُّحْکی عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ :وَہُوَ مَذْہَبُ فَاسِدٌ ،وَذَالِکَ لِمَا یَتَضَمَّنَہٗ ہٰذَا الْعَقْدُ مِنَ الْغَرَرِوَالْجَہْلِ ]ترجمہ:میرے علم میں کوئی ایک بھی ایسا فقیہ نہیں ،جو اس حدیث کے ظاہری الفاظ کے مطابق فتوٰی دیتا ہو یا کم قیمت میں بیع کو درست قرار دیتا ہو، سوائے امام اوزاعی سے منقول ایک روایت کے (وہ بھی ثابت نہیں)،یہ مذہب فاسد ہے کیونکہ اس معاملے میں دھوکہ اور جہالت موجود ہے (معالم السنن للخطابی: ۳/۱۲۲تحت رقم الحدیث: ۹۳۶ مطبوعہ حلب) لہٰذا ان دلائل کی روشنی میں ائمہ سلف سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ قیمت کے عدم تعین کی صورت یہ بیع ناجائز ہوتی ہے اور ایسی صورت میں کم قیمت پر بھی بیع جائز نہیں ہوتی مگر یہ کہ خریدار وہ چیز استعمال کرچکا ہو تو پھر اوپر امام طاوٗس mکے قول کے مطابق فتوٰی ہوگا ورنہ جھگڑا اور فساد ہی ہوگا کیونکہ اس پر اگر عمل کیا جائے تو خریدار ایسا کم قیمت کی نیت سے کریں گے ،جبکہ بیچنے والے کے ذہن میں ہوگا کہ چونکہ یہ سودا اِبہام می طے ہوا ہے لہٰذا میں زیادہ قیمت لوں گا یو ں آپس میں تنازعات کھڑے ہوجائیں گے اگر نقدو ادھار میں ایک کا تعین ہوجائے تو کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ اس ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ مروجہ قسطوں کا کاروبار اگراس میں چیز ،مدت اور قیمت طے کر لی جائے تو شریعت کے اصولوں کے تحت جائز ہے ،لیکن اگر دو قیمتوں میں سے ایک قیمت طے نہیں کرتا یا مدت کا تعین نہیں کرتا تو پھر حدیث کی رو سے یہ بیع باطل ہے ، قسطوں کی وجہ سے زیادہ قیمت پر منع کی کوئی نص نہیں ،جبکہ اُدھار کی صورت میںقیمت کے اضافے پر اجماع اُمت ہے باقی ابوالحسن مبشراحمد ربانی غیر مقلد کی کتر بیونت ہے صرف اِبہام کی صورت میں ایسی بیع باطل ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد اس کو قبول کرنے کی تو فیق عطاء فرمائے اور اس تحریر کو مجھ ناچیز ،میرے والدین بہن بھائی ،میری بیوی اور بچوں میرے اساتذہ اور میرے معاونین کے لئے کل قیامت والے دن بخشش کا سبب بنائے ۔آمین وما تو فیقی الا باللّٰہ العلی العظیم ابو اسامہ ظفرالقادری بکھروی تائیدات ِمُفتیان ِکرام اہل سنت وجماعت (۱)مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب سوال : کیا قسطوںپراشیاء کی خرید وفروخت جائز ہے؟ جواب:مختلف افراد،کمپنیاں اور ادارے نئی الیکٹرانک اشیاء کی اقساط پر فروخت کا کاروبار کرتے ہیں ،فریقین میں قیمت ،جو ظاہر ہے رائج الوقت مارکیٹ ویلیو سے زیادہ ہوتی ہے ،طے ہوجاتی ہے اور یہ بھی طے ہوجاتا ہے کہ ماہانہ اقساط کی رقم کیا ہو گی اور ادائیگی کتنی مدت میں ہوگی اور مسلم فیہ یا مبیع (solid item)خریدار کے حوالے کرکے اس کی مِلک میں دے دیا جاتا ہے ،تو یہ عقد شرعًا صحیح ہے بشرطیکہ اس میں یہ شرط شامل نہ ہو کہ اگر خدانخواسطہ مقررہ مدت میں اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی تو ادائیگی کی اضافی مدت کے عوض قیمت میں کسی خاص شرح سے کوئی اضافہ ہو گا ۔اگر تاخیری مدت کے عوض قیمت میں اضافہ کردیا تو یہ سود ہے اور حرام ہے فی نفسہٖ حدودِ شرع کے اندر اقساط کی بیع جائز ہے۔ (تفہیم المسائل: ۲/۳۵۰) (۲)مفتی اہل سنت شیخ الحدیث مفتی سردار علی خان صاحب جواب درست ہے (حافظ سردار علی خان حال جامعہ رضویہ انوار العلوم 24/H واہ کینٹ) (۳)مفتی محمد ایوب ہزاروی جامعہ اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ [کوئی شیء نقد دس روپے میں اور ادھار گیارہ روپے میں فروخت کرنا جبکہ سودا کسی ایک قیمت پر طے ہوجائے بیعہ متعین ہو ،میعاد مقرر ہو اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں اور یہ کسی منصوص شرعی سے متصادم بھی نہیں، لہٰذا یہ بالکل جائز ہے (مفتی محمد ایوب ہزاروی جامعہ اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ) (۴)مفتی ابو الحسنین محمد عارف محمود خان قادری حنفی رضوی صاحب ابو الحسن مبشر احمد ربانی غیر مقلد کے مضمون ’’قسطوں کا کاروبا ر شریعت کی نظر میں ‘‘کی تردید اور نفس مسئلہ’’بیع تقسیط کا جواز‘‘ کے ثبوت پر برادر عزیزُ القدر حضرت علامہ ابواُسامہ ظفر القادری بکھروی مدظلہ العالی نے جو جاندار تحقیق پُرمغزدلائل سے رقم فرمائی ہے فقیر قادری کو اس سے مکمل اتفاق ہے ،عین ثواب اور قابل عمل ہے اس کے خلاف نظریہ رکھنا باطل ومردود ہے اقساط کے کاروبار کا پرانا طریقہ شرعًا بالکل جائز ہے آج کل نت نئی کمپنیوں کے اکثر وبیشتر کاروبار قمار کی وجہ سے ناجائز ہیں (ابو الحسنین محمد عارف محمود خان قادری حنفی رضوی غفرلہ ۱۱/ ۱۱/۱۴۳۵) (۵)علامہ محمد صدیق ہزاروی سعیدی ازہری استاذ الحدیث جامع ہجویریہ لاہور بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قسطوں کے کاروبار کے جواز پر اور عدم جواز کے قائلین کے استدلال کا علمی تحقیقی جواب فاضل جلیل حضرت ابواسامہ ظفرالقادری الحنفی زیدہ مجدہ نے نہایت مدلل انداز میں تحریر فرمایا درحقیقت غیرمقلدین احادیث کو سمجھنے کی طرف توجہ نہیں دیتے اسی لئے وہ ایک سودے میں دوسودوں اور قسطًا کاروبار میں فرق نہیں کرسکے اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطاء فرمائے راقم حضرت علامہ ظفرالقادری مدظلہ کے فتوٰی کی بھرپور تائید کرتا ہے محمد صدیق ہزاروی سعیدی استاذالحدیث جامعہ ہجویریہ لاہور(۲۴ذی قعدہ۱۴۳۵ھ) (۶)علامہ شیخ الحدیث ،رئیس الافتاء مفتی اسماعیل ضیائی صاحب ونائب مفتی ابو الانوار ندیم اقبال سعیدی صاحب دارالعلوم امجدیہ کراچی الجواب صحیح مفتی اسماعیل ضیائی شیخ الحدیث ،رئیس الافتاء دارالعلوم امجدیہ کراچی الجواب صحیح نائب مفتی ابو الانوار ندیم اقبال سعیدی صاحب دارالعلوم امجدیہ کراچی (۷)شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالسلام قادری رضوی صاحب الجواب صحیح قَدْ اَصَابَ مَااَجَابَ محمد عبدالسلام قادری رضوی دارالعلوم منظر اسلام خانقاہ مسکینیہ واہ کینٹ
×
×
  • Create New...