Jump to content
اسلامی محفل

mianumair

Members
  • Content Count

    10
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0 Neutral

About mianumair

  • Rank
    Newbie
  • Birthday 01/01/2000

Previous Fields

  • Hanafi
  • mulana ilyas qadri

Profile Information

  • Male
  • mianumair
  • Interests
    nawankot khanpur
  1. ۔ *" مظلوم کی آہ سے ڈرو "* دنیا کا ظالم و وحشی ترین انسان ہلاکو خان اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھا ہوا تھا، چاروں طرف تاتاری افواج کی صفیں کھڑی تھی، سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا تھا، ہلاکو خان کے سامنے قیدی مسلمانوں کی تین صفیں کھڑی کی گئی تھیں، جنکو کو آج ہلاکو خان نے اپنے حکم پر قتل ہوتے دیکھنا تھا ، پھر وہ ظالم بولا، انکے سر قلم کردو! اور جلاد نے لوگوں کے سر کاٹنے شروع کردئیے، پہلی صف میں ایک کی گردن گئی دوسرے کی گردن گئی، تیسرے چوتھے کی، پہلی صف میں ایک بےقصور بوڑھا غریب قیدی جوکہ اپنے گھر کا واحد کفیل، بھی کھڑا تھا، وہ موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری صف میں چلا گیا، پہلی صف کا مکمل صفایا ہوگیا ، ہلاکو خان کی نظروں نے اس بوڑھے کو دیکھ لیا تھا کہ وہ موت کے خوف سے اپنی پہلی صف چھوڑ کر دوسرے صف میں چلا گیا تھا، ہلاکو خان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں طاقتور گرز لیے اچھال کر اس سے کھیل رہا تھا اور مسلمان عں کے قتل کا منظر دیکھ کر اس کھیل سے خود کو خوش کررہا تھا ، جلادوں نے دوسری صف پہ تلوار کے وار شروع کیے ، گردنیں آن کی آن میں گرنے لگیں ، جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گررہے تھے، اس بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر اس کی باری بہت جلد آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف میں کھڑا ہوگیا، ہلاکو خان کی نظریں بوڑھے پہ جمی ہوئی تھی کہ اب تو تیسری صف آخری ہے اسکے بعد یہ کہاں چھپنے کی کوشیش کرے گا ؟ اس بیوقوف بڈھے کو میری تلوار سے کون بچا سکتا ہے، میں نے لاکھوں انسان مار دیئے تو یہ کب تک بچے گا ؟ تیسری صف پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی، ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھی کہ کیسے وہ بے چین ہوکر موت کی وجہ سے بے قرار ہے، تیسری صف کے انسانوں کی گردنیں گررہی تھی، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو ہلاکو خان کی آواز گونجی ، رک جاو! اس کو ابھی کچھ نہ کہو ، بابا بتا پہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ آیا، جب وہ ختم ہوئی تو تو تیسری صف میں بھاگ آیا، بابا اب بتا، پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب تو بھاگ کی کہاں جائیگا، اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے پہلی صف کو اسلیے چھوڑا کہ شاید میں دوسرے میں بچ جاو، لیکن موت وہاں بھی پہنچی، پھر میں دوسری صف کو چھوڑ دیا، کہ شاید تیسری میں بچ جاؤں ، ہلاکو نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوے کہا بابا کیسی حام خیالی ہے یہ کیسی بہکی باتیں کررہے ہو بھلا تمہیں میری تلوار سے بھی کوئی بچا سکتا ہے؟ بوڑھے مسلمان نے زمین وآسمان کی ہر چیز کے مالک اس واحد لاشریک رب پر بےانتہا یقین کے ساتھ کہا، وہ اوپر والی ذات اگر چاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے ، کیسے بچا سکتا ہے؟ ہلاکو خان نے اتنے تکبر میں آکر کہا کہ اسکے ہاتھ سے گرز گر پڑا ، ہلاکو خان چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا، ہلاکو خان گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا کہ زمین پہ گرنے سے پہلے وہ اسے ہوا میں ہی پکڑ لے، اسی کوشیش میں ہلاکو خان کا ایک پاوں رکاب سے نکلا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آپڑا، جبکہ دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا ، ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ بھاگ نکلا، ہلاکو نے خود کو بچانے کی بڑی کوشیش کی، لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن گھوڑا اتنا طاقتور تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیا، وہ ہلاکو کو پتھروں میں گھسیٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا، یہاں تک کہ ہلاکو کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر اسقدر لہولہان ہوگیا کہ اس کی روح چند ہی منٹوں میں اپنے اس تکبر بھرے وجود کو چھوڑ کر جہنم رسید ہوگئی ، لشکر نے جب بےانتہا کوششوں کے بعد ہلاکو خان کے طاقتور گھوڑے کو قابو کیا تو اس وقت تک اسکا سر برے طریقے سے کچلا جاچکا تھا ، ہلاکو کا لشکر اس بوڑھے بزرگ سے اتنا خوفزداہ ہوگیا کہ لشکر نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا اور وہ بابا بڑے آرام وسکون سے پیدل ہی اپنے گھر کیطرف چل پڑا ٬ مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ جب وہ اللہ سے رجوع کرتا ہے تو قبولیت بہت دور سے اسکا استقبال کرنے آتی ہے! یہ تحریر تمام اہل ایمان خصوصاً قانون و انصاف کے رکھوالوں کے لئے ہے۔ *_اللّٰہُ اکبر_* _*سبحان اللّٰہِ وبحمدہ سبحان اللّٰہِ العَظِیم*_
  2. *92 islamic media* 🌱 لڑکیوں کے لیے 🌱 ایک بیٹی اپنی خالہ کے ساتھ میرے پاس آئی ، اس نے رو رو کے بُرا حال کیا ہوا تھا ۔ میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگی: ایک لڑکے نے مجھے propose کیاتھا ، میں نے اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دی ، لیکن اب اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے ۔ کہتا ہے: تم ٹھیک نہیں ہو ، تمھارے کسی اور کے ساتھ بھی تعلقات ہیں ۔ جب کہ میں قسم کھاتی ہوں ، میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں! آپ مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ وہ میرے ساتھ شادی کرلے ، مجھے اس طرح راستے میں نہ چھوڑے ۔ میں نے چاہا اس بیٹی کو تعویذ کے بجائے مشورہ دوں ، لیکن اس کی غمگین حالت دیکھ کر خاموش ہوگیا ۔ اگر میں اسے مشورہ دیتا تو وہ یہ ہوتا: ” آج کل لڑکے عموماً وقت گُزاری کے لیے دوستی کاڈھونگ رچاتے ہیں ، اور محبت کے نام پر لڑکیوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ جب جی بھر جاتا ہے تو الزام لگاکے ، بہانے بنا کے ، جھگڑا کرکے چھوڑ جاتے ہیں ۔ اس رویے سے ان کا نقصان ہو نہ ہو ، لڑکیوں کے لیے وقتی آزمائش ضرور بن جاتی ہے ۔ ایسے مطلبی لوگ جب ساتھ چھوڑ جائیں تو رونے دھونے کے بجائے شکرانے کے دو نفل ادا کرکے ، خوشی منانی چاہیے ؛ اور آئندہ ان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سلسلے میں مزید چند گزارشات ہیں: 1: کسی غیر محرم سے ہر گز دوستی نہ کریں ، چاہے وہ کتنے ہی لالچ دے ، کیسے ہی سٹائل بنائے ، اور کتنے ہی ڈائیلاگ مارے ۔ آپ کے رب نے ، آپ کو جس چیز سے منع فرمادیا ، اس میں کبھی خیر نہیں ہوسکتی ۔ 2: اپنی قدر پہچانیں! آپ کو دین اسلام نے شہزادیوں سے بڑھ کر مقام دیا ہے ۔ کسی غیر محرم کو اتنی بھی اجازت نہیں کہ بے حجاب آپ کو دیکھ سکے ، توآپ اس سے باتیں کر کے اپنی قدر کیوں گھٹاتی ہیں ۔ 3: اگر آپ کے دل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کسی کے متعلق جذبات پیدا ہوجائیں ، تو اُن کے پروان چڑھنے سے پہلے بلا جھجک گھر والوں ( ماں ، باپ ، بھائی یا بہن وغیرہ ) سے بات کریں ۔ یہ بالکل نہ سوچیں کہ وہ کیا کہیں گے ؛ وہ اس وقت جو بھی کہیں گے ، آپ کے لیے قابل برداشت اور قابلِ عمل ہوگا ؛ لیکن حد سے گزر جانے کے بعد انھیں معلوم ہوا تو پھر ان کا کچھ کہنا ، آپ کے لیے آزمائش بن جائے گا ۔ 4: محبت بہت پاکیزہ جذبہ ہے ، یہ ہمیشہ پاکیزہ لوگوں کے لیے ہی پیدا ہونا چاہیے ؛ گندے اور مطلبی لوگ اس کے حق دار نہیں ۔ بیٹی کی سب سے پہلی محبت اس کا باپ ہوتا ہے ، اپنی پہلی محبت کو کسی پر بھی قربان نہ ہونے دیں ۔ جس باپ نے ہمیشہ آپ سے وفا کی ، آپ کی خاطر تن من دھن ، چین سکون ، سب کچھ قربان کیا ، اس سے آپ بھی وفا کریں ؛ اس کی سفید چادر کو داغ دار نہ ہونے دیں ۔ وہ ہمیشہ کی طرح آپ کے مستقبل کا فیصلہ بھی آپ سے بہتر کرے گا ، اس پرپورا یقین رکھیں ۔ اللہ پاک ہر بہن اور بیٹی کو برے لوگوں سے محفوظ رکھے ، اور والدین کی اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطافرمائے!!
  3. *92 islamic media* 🎗️ *" علماء سے تعلق مضبوط رکھیں "*🎗️ کسی صاحب نے کہا کہ اذان نماز اور جنازہ کے سوا مولوی کی قابلیت کیا ہے؟ جواباً عرض کیا کہ بندوق چلانے کے علاوہ فوجی کی قابلیت کیا ہے؟ جہاز اڑانے کے علاوہ پائیلٹ کی قابلیت کیا ہے؟ پٹڑی بدلنے اور بریک لگانے کے علاوہ ٹرین ماسٹر کی قابلیت کیا ہے؟ سٹوڈنٹ کو پڑھانے کے علاوہ پروفیسر کی قابلیت کیا ہے سرجری کے علاوہ سرجن کی قابلیت کیا ہے؟ جو معاملہ باقی سب کا ہے وہی معاملہ مولوی کا ہے ظاہر بات ہے کہ متعلقہ کام میں ہی آدمی کی قابلیت ہوتی ہے اب ایک آدمی آل ان ون تو نہیں ہوسکتا ! ہر ایک بات واضح ہونے کے باوجود علماء سے خوامخواہ کا بغض و عناد جو کفّار کو مطلوب ہے تعصب کے سوا کچھ نہیں ہے لہذا اپنے ایمان کی حفاظت اور گمراہ ہونے سے بچنے کیلۓ علماء سے تعلق مضبوط رکھیں۔“ شکریہ
  4. • *" کھانے کے آداب "* 1۔کھانے کا مقصدجسم کو توانائی فراہم کرنا ہے تاکہ اللہ کے احکامات کی پیروی میں کارگر ہوسکے۔ (صحیح بخاری:1) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2۔کھانے میں حلال ،پاکیزہ اور عمدہ چیز کا انتخاب کرنا چاہیے۔ (البقرہ:168) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3۔ٹیک لگا کر کھانا درست نہیں ہے۔ (صحیح بخاری:5398) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4۔کھڑا ہو کر کھانا کھانے سے اللہ کے رسول ﷺنے منع کیا ہے۔ (صحیح مسلم:2024) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5۔کھانے کی نشست پر جب اہل علم اور بڑے موجود ہوں تو احتراما ان کے کھانا شروع کرنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ (سنن ابو داود:3766) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 6۔کھا نا ٹھنڈا کر کے کھانا باعث برکت ہے۔ ( سنن دارمی: 2211) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 7۔کھانے کے دوران ہڈیاں اور گٹھلیاں علیحدہ برتن میں رکھنی چاہیں۔ (صحیح مسلم:2042) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8۔کھانے والی چیزیں (انگور ،کھجوروغیرہ )اجزاء کی صورت میں ہو تو ایک وقت میں ایک ہی پیس اٹھانا چاہیے۔ ( صحیح بخاری:5446) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9۔کھانا اکھٹے ہو کر کھانا با عث برکت ہے۔ (مسند احمد:16078) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10۔کھانے کو ہاتھ سے توڑ کر کھانا چاہیے۔سخت ہونے کی صورت میں دانتوں سے نوچ کر کھانا بھی درست ہے ۔ ( صحیح بخاری:) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 11۔کھانے میں عیب نہیں نکالنا چاہیے ۔دل نہ مانے تو خاموشی سے چھوڑ دینا بہتر ہے۔ (صحیح بخاری:3563) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12۔اگر کھانے کا لقمہ نیچے گر جائے تو اٹھا کر صاف کر کے کھا لینا چاہیے۔ ( صحیح مسلم:2034) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 13۔اگرکوئی دوسرامسلمان بھائی کھانا کھلائے تو یہ دعاء دینی چاہیے: اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ (سنن ابو داود:3729) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 14۔کھانا کھاتے ہوئے دوسرے مسلمان بھائیوں کا درج ذیل امور میں خیال رکھنا چاہیے: (1)کھانے کے دوران میں نامناسب آواز یں نہیں نکالنی چاہیں کیونکہ یہ بعض طبیعتوں پر ناگوار ہو سکتی ہیں۔ (2)دوران کھانا کھانسی آنے کی صورت میں اٹھ کر ایک طرف ہو جانا چاہیے۔ (3)کھانے کے دوران ایسے موضوعات پر گفتگو نہ کریں جن سے انسان طبعا گھن محسوس کرتا ہے۔ کھا نا کھانے کا طریقہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1۔دسترخوان پر بیٹھنے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے۔ (سنن نسائی:256) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2۔کھانے کے برتن کو قریب کر لینا چاہیے۔ (جامع ترمذی: 1857) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3۔کھانے کی ابتداء بِسْمِ الله سے کرنی چاہیے۔ابتداءمیں بھول جانے پر درمیان میں یہ دعا پڑھنی چاہیے: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ (سنن ابو داود:3767) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4۔کھانادائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے۔ (صحیح مسلم:2021) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5۔کھانا اپنے سامنے سے کھانا چاہیے۔ ( صحیح مسلم:2022) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 6۔کھانا پلیٹ کے کناروں سے کھانا چاہیے اور درمیان سے نہیں کھانا چاہیے۔ ( سنن ابوداود:3773) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 7۔کھانا تین انگلیوں سے کھانا چاہیے۔اور آخر میں انگلیاںچاٹ لینی چا ہییں۔ ( صحیح مسلم:2034) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8۔کھانےسے فراغت پر ہاتھوں کو صاف کرنے سے پہلے چاٹ لینا چاہیے۔ (صحیح بخاری:5456) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9۔کھا ناکھا لینے کے بعد اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ دعا پڑھنی چاہیے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، (سنن ابو داود:4023) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10۔کھانے کے برتن کوانگلیوں سے صاف کرنا حکم نبویﷺکی پیروی ہے۔ (صحیح مسلم:2034) ٠ ·•☆☆•· ▁▁▂▃★━╯ ╰━★▃▂▁▁ • _*اردو تحاریر*_ ▁▁▂▃★▁ ▁▁ ▁★▃▂▁▁
  5. *اعتکاف کے مسائل سوال *معتکف کن حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے؟* *الجـــــــــــــواب: *معتکف درج ذیل دو حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے :* * حاجتِ شرعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ شریعت کی جانب سے ہو، جیسے نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جانا یا اذان کہنے کے لئے جانا وغیرہ.* *2۔ حاجتِ طبعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ طبیعت کی طرف سے ہو، اور وہ حاجت مسجد میں پوری نہ ہو سکتی ہو، جیسے پیشاب یا پاخانہ اور وضو کرنے کے لیے جانا، احتلام کی صورت میں فرض غسل کے لیے جانا وغیرہ.* *نوٹ :* *اگر وضو و غسل کے لئے مسجد میں جگہ بنی ہوئی ہو تو پھر باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔* *(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ،* *ســــــــــوال *کیا معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے؟* الجواب *جی ہاں:* *معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے کیونکہ محراب مسجد کا حصہ ہے لہذا مسجد کے حکم میں داخل ہے.* ردالمحتار علی الدرالمختار، ســــوال *کیا تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف کر سکتے ہیں؟* جـواب *تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف نہیں کرسکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.* *ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، سوال ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو کیا غیرِ مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے؟* جواب ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو غیر مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے کیونکہ اذان دینے کیلئے مسجد سے نکلنا حاجتِ شرعی میں داخل ہے.* *ردالمحتار علی الدالمالاعتکاف،ختار، کتاب الصوم، باب جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ بحوالہ سوال *کیا اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟* جواب *اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں ہے.* *(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 564 رضا فاؤنڈیشن لاہور)* سوال *کیا معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے ؟* جواب *معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ سب کام مسجد میں ممکن ہیں.* *(،ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 506 *نوٹ :* *مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط کرنا لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔* بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026 *سوال * *اگر کوئی مسجد میں کھانا لانے والا نہ ہو تو کیا معتکف اپنا کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے؟* جواب *اگر معتکف کیلئے مسجد میں کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو وہ کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے۔* *اعتکاف کے مسائل صفحہ 16، 17 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد دوم، *سوال * *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کیلئے گیا اور وہیں بیٹھ کر کھانا کھالیا تو کیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا جواب *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کے لئے گیا اور گھر پر ہی بیٹھ کر کھانا کھا لیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.* اعتکاف کے مسائل صفحہ 17 سوال *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟* *جواب * *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو اس کا اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا سوال * *کیا بیہوش ہونے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟* جواب *اگر اس طرح بے ہوش ہوا کہ بے ہوشی لمبی ہو گئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پایا یا بیہوشی کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا تو پھر اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا اور اگر بیہوشی کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹا یا روزہ نہیں چھوٹا تو پھر اعتکاف نہیں ٹوٹے گا.* *( عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فيز الاعتکاف، جلد اول صفحہ 213 مطبوعہ دارالفکر بیروت، بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026)* واللہ اعلم بالصواب
  6. *🌹99 اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اورانکےفضائل🌹* (ہر وِرْدکےاول وآخرایک بار درودشریف پڑھ لیجیے) *1-یَارَحْمٰنُ:* جوکوئی صبح کی نمازکےبعد 298بارڑھےگاخداعزوجل اس پربہت رحم کرےگا۔ *2- یَارَحِيْمُ:* جوکوئی ہرروز500بارپڑھےگا دولت پائےگا اورمخلوق اس پرمہربان اورشفیق ہوگی۔ *3-یَاْمَلِكُ:* 90بارجوغریب روزانہ پڑھےتو غربت سے نجات پائےگا۔ *4ْ۔یَاقُدُّوسُ:* جوسفرکےدوران وردکرتارہے تو تھکن سےمحفوظ رہےگا۔ *5-یَاسَلَامُ:* 111بارپڑھ کر بیمارپردم کرنے سے شفاحاصل ہوگی۔ *6- یَامُؤْمِنُ:* جوبیمار115بارپڑھ کراپنےاوپر دم کرےتوتندرستی پائےگا۔ *7-یَامُهَيْمِنُ:* 29بار روزانہ پڑھنےوالا ہرآفت وبلا سے محفوظ رہے گا۔ *8-یَاعَزِيزُ :* حاکم یاافسرکےپاس جانےسے قبل 41بارپڑھ لیجیےوہ مہربان ہوجائیں گے۔ *9-یَاجَبَّارُ:* اس کامسلسل وردرکھنےوالا غیبت سےبچارہےگاـ *10ْـیَامُتَكَبِّرُ :* ١ـسونےسےپہلے21بارپڑھنےسے ڈراؤنےخواب نہیں آئیں گے۔ ٢ـزوجہ سےملاپ سےپہلے 10بار پڑھ لینےسے نیک بیٹےکاباپ بنے گا۔ *11-یَاخَالِقُ :* جو300بارپڑھےگاتواس کادشمن مغلوب ہوگا ۔ *12ْـ یَابَارِئُ :* ہرجمعہ کو10بار پڑھنےوالے کو بیٹا عطا ہوگاـ *13ْـ یَامُصَوِّرُ :* جوبانجھ عورت 7روزے رکھے اور افطار کےوقت 21بار اَلْمُصَوِّرُ پڑھ کرپانی پردم کرکے پی لیا کرے اس کونیک بیٹاعطاہوگاـ *14-یَاغَفَّار:* اسکوہمیشہ پڑھنےوالا نفس کی بری خواہشات سےچھٹکاراپائے گا۔ *ُ15- یَاقَهَّارُ :* 100بارمصیبت آپڑنےپر پڑھنے سے مشکل آسان ہوگی۔ *16- یَاوَهَّابُ :* 7بار روزانہ پڑھنےسے ہردعا مقبول ہوا کرےگی ۔ *17َّیَارَزَّاقُ:* جوفجر کےفرض وسنت کے درمیان 41دن تک 550بارپڑھے گاتو دولتمند ہوگا۔ *18-یَافَتَّاحُ:* کسی بھی وقت دن میں روزانہ 7بار پڑھنےسےدل روشن ہوگا۔ *19-یَاعَلِيمُ:* اسکوبکثرت پڑھنےسے دین ودنیا کی معرفت عطاہوگی۔ *20- یَاقَابِضُ:* 30بارجوروزانہ پڑھےگادشمن پرفتح پائےگا۔ *21- یَابَاسِطُ :* 40بارڑھنےوالامخلوق سے بے پرواہ ہوگا *22ْیَاخَافِضُ :* جواس کو500بارپڑھ لےگادشمن سےاَمان میں رہےگا۔ *23-یَارَافِعُ:* روزانہ 20بارپڑھنےوالےکی مرادپوری ہوگی۔ *24- یَامُعِزُّ :* جوشبِ جمعہ (جمعہ اورجمعرات کی درمیانی رات) نمازِعشاءکےبعد140بار پڑھےگا،مخلوق کی نظرمیں اسکی عزت وحرمت اور ہیبت بڑھےگی ـ *25-یَامُذِلُّ :* جوکوئی75بارپڑھ کرسجدہ کرےاورکہے "یاالہٰی عزوجل فلاں ظالم کےشر سےمجھے محفوظ رکھ "تواللہ عزوجل اسےامان دےگااوراپنی حفاظت میں رکھےگا۔ (فلاں کی جگہ ظالم کانام لیاجائے) *26-یَاسَمِيْعُ :* جو100بارروزانہ پڑھ کر دعا مانگے گا تو دعا قبول ہوگی لیکن پڑھنےکےدوران گفتگونہ کرے ۔ *27-یَابَصِيرُ :* عصرکےابتدائی وقت سے لیکر غروبِ آفتاب تک جوروزانہ 7بار پڑھے گا تو اچانک موت سے محفوظ رہے گا۔ *28-یَاحَكَمُ :* ہرنمازکےبعد80بارپڑھنےوالا کسی کامحتاج نہ ہوگا۔ *29-یَاعَدْلُ:* جونمازِمغرب کےبعدہزاربار پڑھے گا آسمانی بلاؤں سےنجات پائےگا۔ *30- یَالطِيفُ:* جوروزانہ تَحِیَّةُ الْوُضُوکےبعد 100بار پڑھےگا توبیماریوں سے صحت ملےگی،مشکلات سے نَجات ملےگی،اور بیٹیوں کےنصیب کھلیں گے۔ *نوٹ:* وضوکےفورابعداعضاءخشک ہونےسےپہلےجودو نوافل اداکیئےجائیں انکوتحیةالوضو کہتےہیں ـ *31-یَاخَبِيرُ :* نفسِ امارہ(برائی کاحکم دینےوالا نفس) کے ہاتھوں گرفتار شخص اس کا وظیفہ کرے تو نجات پائے گا۔ *32-یَاحَلِيمُ :* اسکوکاغذپرلکھ کردھوکر کھیتی پرچھڑکنےسے زراعت ہرآفت سے محفوظ رہےگی ـ *33-یَاعَظِيمُ :* 7بارپانی پرپڑھ کردم کرکےپینے سےپیٹ دردسےحفاظت ہوگی۔ *34-یَاغَفُورُ :* جسےسردردہو یا بیماری ہو یا غم پیش ہو 3بار یاغفور کی مقطعات لکھ کرکھانےسےشفاء ہوگی۔ *نوٹ:* اسم پاک کو کاغذپرلکھ کر اسکی گیلی سیاہی پرروٹی کاٹکڑا لگائیں یہاں تک وہ نقش روٹی میں جذب کرلے اسکو مقطعات کہتےہیں۔ *35- یَاشَکُوْرُ :* 5ہزارباروزانہ پڑھنےوالا قیامت میں بلندمرتبہ پائےگا۔ *36-یَاعَلِيُّ :* 3بارپڑھ کرسوجن پردم کرنے سے شفا ہوگی۔ *37-یَاكَبِيرُ :* 9بارپڑھ کربیمارپردم کرنے سے شفاہوگی۔ *38-یَاحَفِيْظُ :* جوروزانہ 16بارپڑھےگاہرطرح سےبہادررہےگاـ *39-یَامُقِيْتُ :* جسکی آنکھ سرخ ہواوردرد کرےتو10بارپڑھ کردم کرنےسے شفاہوگی۔ *40-یَاحَسِيْبُ :* روزانہ 70بارپڑھنےوالاہرآفت سےمحفوظ رہےگا۔ *ُ41-یَاجَلِيلُ :* 10بارپڑھ کر مال و اسباب اوررقم وغیرہ دم کرنے سے چوری سےحفاظت ہوگی ـ *42-یَاكَرِيمُ :* بسترپرپڑھتےپڑھتےسوجانےسے فرشتے دعاکرتےہیں۔ *43-یَارَقِيْبُ :* پھوڑے پھنسی پر3بار پڑھ کرپھونک مارنے سےشفاہوگی۔ *44-یَامُجِيْبُ :* 3بارپڑھ کردم کرنےسردرد دور ہوگا۔ *45-یَاوَاسِعُ :* بچھوکاٹ لےتو70بارپڑھ کردم کرنےسےزہراثر نہ کرےگا۔ *46-یَاحَكِيْمُ :* ہرنمازکےبعد 80بارپڑھنےوالا کسی کامحتاج نہ ہوگا۔ *47-یَاوَدُوْدُ:* ایک ہزارپڑھ کرکسی کھانےپر دم کرکےکھلانےسےدشمنی ختم ہوگی۔ *48-یَامَجِيْدُ :* گرمیوں میں پڑھنےسےپیاس سےحفاظت ہوگی ـ *49-یَابَاعِثُ :* جوسات بارپڑھ کر اپنے اوپر پھونک کر حاکم وافسر کےپاس جائےتو حاکم وافسر مہربان ہوگا۔ *50-یَاشَهِيْدُ :* صبح سورج نکلنےسےپہلے نافرمان بچےیابچی کی پیشانی پرہاتھ رکھ کرآسمان کی طرف منہ کرکے21بارپڑھنےسے بچہ وبچی نیک بنیں گے *51-یَاحَقُّ :* قیدی آدھی رات ننگےسر 108بار پڑھےتو رہائی پائے گا۔ *52-یَاوَكِيْلُ :* عصرکےوقت سےلیکرغروب آفتاب تک 7بارپڑھنےوالا آفت سےپناہ پائےگا۔ *53-یَاقَوِيُّ :* جمعہ کی دوسری گھڑی میں پڑھنےسے بھولنےکامرض دور ہوگا۔ *54-یَامَتِيْنُ :* جس بچےکادودھ چھڑا دیا ہو اس کو کاغذ پر لکھ کر پلانے سے اسےسکون ملےگا، جس عورت کادودھ کم ہواسےلکھ کرپلانےسے دودھ زیادہ ہوگا۔ *55-یَاوَلِيُّ :* اسے زیادہ پڑھنے والےکی بیوی فرمانبردار ہوگی۔ *56-یَاحَمِيْدُ :* گندی باتوں کی عادت نہ جاتی ہو وہ 90بارپڑھ کرکسی خالی پیالےیاگلاس پردم کرکےاسی میں پانی پیاکریں،ایک بارکادم کیاہواپیالہ یا گلاس سالوں تک چلاسکتےہیں ۔ *57-یَامُحْیِيْ :* گیس ہو یا پیٹ یاکسی اور جگہ درد ہو یا کسی عضو کےضائع ہونے کاخوف ہوتو7بارپڑھ کر اپنےاوپردم کرنےسےفائدہ ہوگا۔ *58-یَامُمِيْتُ :* روزانہ 7بارپڑھ کراپنےاوپردم کرنےسےجادو اثرنہیں کرےگا۔ *59-یَاحَيُّ :* جوبیمارہزاربارپڑھےشفاپائےگا۔ *60-یَاقَيُّومُ :* صبح کوطلوعِ آفتاب سے پہلے زیادہ پڑھنےسےلوگ دوست رکھیں گے۔ *61- یَاوَاجِدُ :* ہرنوالےپرپڑھنےسےوہ نوالہ پیٹ میں نورہوگااور بیماری دور ہوگی۔ *ُ62-یامَاجِدُ :* جوکوئی 10بار پڑھ کر شربت وغیرہ پردم کرکےپی لےگابیمارنہ ہوگا۔ *63-یَاوَاحِدُ :* جسےڈرلگتاہووہ تنہائی میں 1001 (ایک ہزارایک)بارپڑھ لےتواسکاخوف جاتارہےگا۔ *64- یَاأَحَدُ :* 1-تنہائی میں 1000 (ہزار)بار پڑھنےوالانیک بن جائےگا۔ 2- 9بارپڑھ کرحاکم اورافسرکے پاس جانےوالا عزت اورسرفرازی پائےگا۔ *65- یَا صَمَدُ :* 1000 (ہزار)بارپڑھنےوالا دشمن پرفتح پائےگا۔ *66- یَانُوْرُ :* جو7بارسورة النور پڑھےپھر 1001 (ایک ہزارایک)بار اس کوپڑھےتواس کا دل روشن ہوگا۔ *67- یَامُؤَخِّرُ :* کسی بھی نمازکےبعد100بار پڑھنےسے دل اللہ عزوجل کی محبت اور یاد میں رہےگا۔ *68- یَااَللّٰہُ :* ہرنمازکےبعد100بارپڑھنے سے باطن کشادہ ہوگا۔ *69-یَاقَادِرُ :* 1-مشکل آپڑےتو41بارپڑھنےسے مشکل آسان ہوگی۔ 2-دوران وضو ہرعضودھوتے وقت پڑھنےسے دشمن (انسان ہویاجن)اغوانہیں کرسکےگا۔ *70-یَامُقْتَدِرُ :* 1- 20 بارروزانہ پڑھنےسے اللہ عزوجل کی رحمتوں کےسائے میں رہےگا۔ 2- نیندسےبیدارہوکر20بارپڑھنے سےہرکام میں اللہ عزوجل کی مددشامل رہےگی۔ *71-یَامُقَدِّمُ :* جنگ یاخوف کیادھات جگہ بےچینی کی حالت میں پڑھیں ۔ *72-یَامُؤَخِّرُ :* 100بارروزانہ پڑھنےسے سب کامنہ پورےہوں گے۔ *73-یَاأَوَّلُ :* 100بارروزانہ پڑھنےسےبیوی محبت کرےگی۔ *74-یَاآخِرُ :* جوکسی جگہ جائے اس کوپڑھ لےتووہاں عزت پائےگا۔ *75-یَاظَاهِرُ :* گھرکی دیوارپرلکھ لینےسے دیوار سلامتی رہےگی۔ *76-یَابَاطِنُ :* جوکسی کوامانت سونپےیازمین میں دفن کرےتواسمیں اَلْبَاطِنُ لکھ کررکھ دےتواسمیں خیانت نہ ہوگی۔ *77-یَاوَالِيْ :* کورےپیالےپرلکھ کر اسمیں پانی ڈال کرگھرکے درودیوار پر ڈالنے سے گھرآفتوں سےامن میں رہےگا۔ *78-یَامُتَعَالِی :* مشکل ترین کاموں میں اسکی کثرت مفیدہے۔ *79-یَابَرُّ :* 7بارپڑھ کربچےپردم کرکےاللہ عزوجل کے سپردکرنےسے بالغ ہونےتک وہاں بچہ بلاؤں سے محفوظ رہےگا۔ *80-یَاتَوَّابُ :* چاشت کی نمازکےبعد360بار پڑھنے والے کو خالص توبہ نصیب ہوگی۔ *81-یَامُنْتَقِمُ :* تین جمعہ تک اسکوکثرت سے پڑھنے سے دشمن دوست بن جائےگاـ *82-یَاعَفُوُّ :* گناہگاراسکی کثرت کرے تو اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ *83- یَارَءُوْفُ :* ظالم سےمظلوم کاپیچھاچھڑانے والا 10بار پڑھ کر ظالم سےبات کرے تو وہ اس کی سفارش قبول کرےگا۔ *84-یَامَالِكَ الْمُلْكِ :* اس کی کثرت سے خوشحالی نصیب ہوگی۔ *85-یَاذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ :* 1-اس کی کثرت سے خوشحالی نصیب ہوگی۔ 2-اس کی کثرت کرکے دعاکرنے سے دعاقبول ہوگی۔ *86-یَامُقْسِطُ :* شیطانی وسوں کییے100بار پڑھنامفیدہے۔ *87-یَاجَامِعُ :* چاشت کےوقت غسل کرکے آسمان کی طرف منہ کرکے 10بار پڑھیں اور ہربار میں ایک انگلی بندکرتےجائیں پھراپنے منہ پرہاتھ پھیرلیں توتھوڑے عرصہ میں جدا ہونے والے عزیزواقارب جمع ہوجائیں گے۔ *88-یَاغَنِيُّ :* چلتےپھرتے،اٹھتےبیٹھتے پڑھنے سے ریڑھ کی ہڈی، گھٹنوں ،جوڑوں کادرد یاجسم کےکسی حصےکابھی دردجاتارہےگا۔ *89-یَامُغْنِيُ :* ایک بارپڑھ کرہاتھوں پردم کرکےدردکی جگہ ملنےسے سکون ملےگا۔ *90-یَامَانِعُ :* شوہرناراض ہوتوبیوی اوربیوی ناراض ہوتوشوہرسونےسےپہلے بچھونےپربیٹھ کر20بار پڑھے توصلح ہوجائے گی۔ (تاحصولِ مراد) *91-یَاضَآرُّ :* جسےکوئی منصب وعہدہ ملےاور وہ اس پرقائم رہناچاہے تووہ ہرشبِ جمعہ(جمعہ اور جمعرات کی درمیانی رات) اور ایامِ بیض میں 100بارپڑھے۔ *نوٹ:* ہر اسلامی ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو ایامِ بیض کہتے ہیں ۔ *92-یَانَافِعُ :* کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے 20 بار پڑھنے سے وہ کام مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ *93-ھُوَاللّٰہُ الرَّحِیْمُ :* ہر نماز کے بعد7 بار پڑھنے سے شیطان کے شر سے حفاظت ہوگی اور خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ *94-یَاهَادِيُ :* جوآسمان کی طرف منہ کرکے ہاتھ اٹھاکراس کوکثرت سے پڑھےاوروہ ہاتھ اپنی آنکھوں اورمنہ پرمل لےتواہل معرفت کامرتبہ پائےگا۔ *95-یَابَدِيْعُ :* جسے سخت مہم درپیش ہو وہ 70000 (ستر ہزار) بار پڑھے تو کامیابی ہوگا۔ *96-یَابَاقِيُ :* جو سورج نکلنے سے پہلے 100 بار پڑھے گا دکھ سے محفوظ رہے گا۔ *97-یَاوَارِثُ :* اس کا ورد کرنے والے کی عمر لمبی ہوگی۔ *98-یارَشِيدُ :* جو شخص کسی کام کی تدبیر نہ جانتا ہو وہ مغرب و عشاء کے درمیان 1000(ہزار) بار پڑھے، اس کے پڑھنے سے دل میں صحیح تدبیر آجائے گی۔ *99-یاصَبُوْرُ:* درد، رنج اور مصیبت کےوقت 33 بار پڑھنے سے سکون ملے گا۔ *{مدنی پنج سورہ صفحہ 246تا259مُلَخَّصًاوُمُرَمَّمًا}* *واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم* *اعتکاف کے مسائل سوال *معتکف کن حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے؟* *الجـــــــــــــواب: *معتکف درج ذیل دو حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے :* * حاجتِ شرعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ شریعت کی جانب سے ہو، جیسے نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جانا یا اذان کہنے کے لئے جانا وغیرہ.* *2۔ حاجتِ طبعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ طبیعت کی طرف سے ہو، اور وہ حاجت مسجد میں پوری نہ ہو سکتی ہو، جیسے پیشاب یا پاخانہ اور وضو کرنے کے لیے جانا، احتلام کی صورت میں فرض غسل کے لیے جانا وغیرہ.* *نوٹ :* *اگر وضو و غسل کے لئے مسجد میں جگہ بنی ہوئی ہو تو پھر باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔* *(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ،* *ســــــــــوال *کیا معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے؟* الجواب *جی ہاں:* *معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے کیونکہ محراب مسجد کا حصہ ہے لہذا مسجد کے حکم میں داخل ہے.* ردالمحتار علی الدرالمختار، ســــوال *کیا تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف کر سکتے ہیں؟* جـواب *تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف نہیں کرسکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.* *ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، سوال ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو کیا غیرِ مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے؟* جواب ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو غیر مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے کیونکہ اذان دینے کیلئے مسجد سے نکلنا حاجتِ شرعی میں داخل ہے.* *ردالمحتار علی الدالمالاعتکاف،ختار، کتاب الصوم، باب جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ بحوالہ سوال *کیا اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟* جواب *اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں ہے.* *(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 564 رضا فاؤنڈیشن لاہور)* سوال *کیا معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے ؟* جواب *معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ سب کام مسجد میں ممکن ہیں.* *(،ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 506 *نوٹ :* *مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط کرنا لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔* بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026 *سوال * *اگر کوئی مسجد میں کھانا لانے والا نہ ہو تو کیا معتکف اپنا کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے؟* جواب *اگر معتکف کیلئے مسجد میں کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو وہ کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے۔* *اعتکاف کے مسائل صفحہ 16، 17 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد دوم، *سوال * *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کیلئے گیا اور وہیں بیٹھ کر کھانا کھالیا تو کیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا جواب *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کے لئے گیا اور گھر پر ہی بیٹھ کر کھانا کھا لیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.* اعتکاف کے مسائل صفحہ 17 سوال *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟* *جواب * *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو اس کا اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا سوال * *کیا بیہوش ہونے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟* جواب *اگر اس طرح بے ہوش ہوا کہ بے ہوشی لمبی ہو گئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پایا یا بیہوشی کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا تو پھر اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا اور اگر بیہوشی کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹا یا روزہ نہیں چھوٹا تو پھر اعتکاف نہیں ٹوٹے گا.* *( عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فيز الاعتکاف، جلد اول صفحہ 213 مطبوعہ دارالفکر بیروت، بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026)* واللہ اعلم بالصواب *اعتکاف کے مسائل سوال *معتکف کن حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے؟* *الجـــــــــــــواب: *معتکف درج ذیل دو حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے :* * حاجتِ شرعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ شریعت کی جانب سے ہو، جیسے نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جانا یا اذان کہنے کے لئے جانا وغیرہ.* *2۔ حاجتِ طبعی :* *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ طبیعت کی طرف سے ہو، اور وہ حاجت مسجد میں پوری نہ ہو سکتی ہو، جیسے پیشاب یا پاخانہ اور وضو کرنے کے لیے جانا، احتلام کی صورت میں فرض غسل کے لیے جانا وغیرہ.* *نوٹ :* *اگر وضو و غسل کے لئے مسجد میں جگہ بنی ہوئی ہو تو پھر باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔* *(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ،* *ســــــــــوال *کیا معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے؟* الجواب *جی ہاں:* *معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے کیونکہ محراب مسجد کا حصہ ہے لہذا مسجد کے حکم میں داخل ہے.* ردالمحتار علی الدرالمختار، ســــوال *کیا تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف کر سکتے ہیں؟* جـواب *تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف نہیں کرسکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے.* *ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، سوال ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو کیا غیرِ مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے؟* جواب ۔ *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو غیر مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے کیونکہ اذان دینے کیلئے مسجد سے نکلنا حاجتِ شرعی میں داخل ہے.* *ردالمحتار علی الدالمالاعتکاف،ختار، کتاب الصوم، باب جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ بحوالہ سوال *کیا اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟* جواب *اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں ہے.* *(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 564 رضا فاؤنڈیشن لاہور)* سوال *کیا معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے ؟* جواب *معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ سب کام مسجد میں ممکن ہیں.* *(،ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 506 *نوٹ :* *مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط کرنا لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔* بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026 *سوال * *اگر کوئی مسجد میں کھانا لانے والا نہ ہو تو کیا معتکف اپنا کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے؟* جواب *اگر معتکف کیلئے مسجد میں کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو وہ کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے۔* *اعتکاف کے مسائل صفحہ 16، 17 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد دوم، *سوال * *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کیلئے گیا اور وہیں بیٹھ کر کھانا کھالیا تو کیا اعتکاف ٹوٹ جائے گا جواب *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کے لئے گیا اور گھر پر ہی بیٹھ کر کھانا کھا لیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.* اعتکاف کے مسائل صفحہ 17 سوال *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟* *جواب * *اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو اس کا اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا سوال * *کیا بیہوش ہونے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟* جواب *اگر اس طرح بے ہوش ہوا کہ بے ہوشی لمبی ہو گئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پایا یا بیہوشی کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا تو پھر اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا اور اگر بیہوشی کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹا یا روزہ نہیں چھوٹا تو پھر اعتکاف نہیں ٹوٹے گا.* *( عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فيز الاعتکاف، جلد اول صفحہ 213 مطبوعہ دارالفکر بیروت، بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026)* واللہ اعلم بالصواب
  7. *92 islamic media* • *" الـــــــــفــــــــــــــــاظ "* "الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے ... ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے ... کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں ... کچھ "غلامی" ... کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں... اور کچھ "وار" ... ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے... جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا ... تو سمجھ آیا .... لفظ صرف معنی نہیں رکھتے ... یہ تو دانت رکھتے ہیں ... جو کاٹ لیتے ہیں ... یہ ہاتھ رکھتے ہیں ... جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں ... یہ پاؤں رکھتے ہیں ... جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں ... اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں ... اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جائیے ... انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیجئے کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے ... یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے...
  8. *92 islamic media* • *" الـــــــــفــــــــــــــــاظ "* "الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے ... ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے ... کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں ... کچھ "غلامی" ... کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں... اور کچھ "وار" ... ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے... جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا ... تو سمجھ آیا .... لفظ صرف معنی نہیں رکھتے ... یہ تو دانت رکھتے ہیں ... جو کاٹ لیتے ہیں ... یہ ہاتھ رکھتے ہیں ... جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں ... یہ پاؤں رکھتے ہیں ... جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں ... اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں ... اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جائیے ... انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیجئے کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے ... یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے...
  9. *92 islamic media* • *" الـــــــــفــــــــــــــــاظ "* "الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے ... ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے ... کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں ... کچھ "غلامی" ... کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں... اور کچھ "وار" ... ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے... جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا ... تو سمجھ آیا .... لفظ صرف معنی نہیں رکھتے ... یہ تو دانت رکھتے ہیں ... جو کاٹ لیتے ہیں ... یہ ہاتھ رکھتے ہیں ... جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں ... یہ پاؤں رکھتے ہیں ... جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں ... اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں ... اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جائیے ... انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیجئے کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے ... یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے... طالب دعا۔ میاں عمیر
×
×
  • Create New...