Jump to content
IslamiMehfil

Aquib Rizvi

Members
  • Content Count

    37
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    8

Aquib Rizvi last won the day on May 30

Aquib Rizvi had the most liked content!

Community Reputation

22

1 Follower

About Aquib Rizvi

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Hanafi

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. امام ابوالقاسم طبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدثنا بكر بن سهل، ثنا عبد الله بن يوسف، ثنا الهيثم بن حميد، عن رجل، عن مكحول، عن أبي أمامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «اتقوا البول، فإنه أول ما يحاسب به العبد في القبر» ( كتاب المعجم الكبير للطبراني :- 7605 ) ترجمہ :- نبی علیہ السلام نے فرمایا پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے بچو کیونکہ قبر میں سب سے پہلے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا اس سند میں امام مکحول سے روایت کرنے والا شخص مبھم ہے اور مبہم راوی کو پہچاننے کا طریقہ اصول حدیث کی کتاب تیسیر شرح مصطلح الحدیث میں یہ لکھا ہے بوروده مس
  2. اس روایت کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مولا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرکے بیان کیا مسند الفردوس میں حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ نے امام دیلمی سے اس کی سند بیان کی قال أبو عبد الرحمن السلمي حدثنا محمد بن مالك التميمي بمرو حدثنا أبو منصور الرباطي حدثنا محمد بن نهشل بن حميد حدثنا عبد الله بن رجاء عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارثعن علي رفعه "يأتي على الناس زمان همتهم بطونهم، وشرفهم متاعهم، وقبلتهم نساؤهم، ودينهم دارهم ودنانيرهم، أولئك شر الخلق، لا خلاق لهم عند الله" ( كتاب زهر الفردوس 8/335 ) ترجمہ :- لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ان کا مقصد ان کا پیٹ ہوگا
  3. اس کو امام دیلمی رحمہ اللہ نے مسند الفردوس میں روایت کیا اور امام دیلمی سے اس کو باسند شیخ الاسلام حافظ ابن حجرعسقلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے نقل کیا قال: أنا حمد بن نصر أنا الميداني نا محمد بن يحيى العاصمي نا أحمد بن إبراهيم البعولي نا أبو علي بن الأشعث، نا سريج بن عبد الكريم، نا جعفر بن محمد بن جعفر بن محمد الحسيني أبو الفضل في كتاب "العروس" نا الوليد بن مسلم، نا محمد بن راشد، عن مكحول عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ذكر الأنبياء من العبادة وذكر الصالحين كفارة الذنوب وذكر الموت صدقة، وذكر النار من الجهاد وذكر القبر
  4. اس کو احیاء العلوم میں ابو حامد غزالی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کرکے نقل کیا پوسٹر میں بھی تخریج احیاءالعلوم مرتضی زبیدی کا حوالہ ہے فقد روي عن ابن عباس وأبي هريرة رضي الله عنهما إن من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أو ليلة الجمعة أو يوم الجمعة أعطي نورا من حيث يقرؤها إلى مكة وغفر له إلى يوم الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام وصلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصح وعوفي من الداء والدبيلة وذات الجنب والبرص والجذام وفتنة الدجال ابن عباس اور ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے اسے ایک نور عطا کیا جاتا
  5. یہ ایک موضوع ( منگھڑت ) روایت ہے اس کو امام الحسن الخلال نے فضائل سورہ اخلاص میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان، ثنا عبد الله بن عامر الطائي، حدثني أبي، ثنا علي بن موسى، عن أبيه، موسى، عن أبيه، جعفر، عن أبيه، محمد، عن أبيه، علي، عن أبيه الحسين، عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات» كتاب فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال :- 54 ترجمہ :- علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
  6. یہ ایک موضوع روایت ہے جو کئی کتب احادیث میں موجود ہے درج ذیل سند کے ساتھ ..... يحيى بن زهدم، عن أبيه، حدثني أبي عن أنس بن مالك قال قال رسول الله ...... ( كتاب شعب الإيمان - ط الرشد 11/426 ) ( كتاب الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني 1/369 ) ( كتاب المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي - مخطوط 3/106 ) ( كتاب الموضوعات لابن الجوزي 3/204 ) روایت کا متن اس طرح ہے لا تكرهوا أربعة فإنها لأربعة لا تكرهوا الرمد فإنه يقطع عروق العمى ولا تكرهوا الزكام فإنه يقطع عروق الجذام ولا تكرهوا السعال فإنه يقطع عروق الفالج ولا تكره
  7. یہ ان الفاظ کے ساتھ مشہور ہے إن الزنا دين إذا أقرضته ... كان الوفا من أهل بيتك فاعلم بلاشبہ زنا ایک قرض ہے، اگر تم اس قرض میں مبتلا ہوئے ہو، تو یاد رکھو! اس قرض کی ادائیگی بھی تمہارے گھر ہی سے ہوگی نہ تو یہ حدیث ہے اور نہ ہی کسی بزرگ کا قول بلکہ یہ اصول شریعت کے بھی خلاف ہے کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا قرآن کی نص ہے وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی سورۃ فاطر :- 18 یہ اشعار ناصر الحدیث امام محمد بن ادریس الشافعی رضی ال
  8. حضرت ہندہ بنت عتبہ کا سید الشہداء اسداللہ واسدالرسول حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا کلیجہ چبانا ثابت ہے اسے سند صحیح کے ساتھ امام احمد بن حنبل نے مسند میں روایت کیا جس میں جناب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب کا جگر چبانے کے واضح الفاظ ہے حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ .......... فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ، وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَأَكَلَتْ مِنْه
  9. امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى تَلٍّ وَحَوْلِي بَقَرٌ تُنْحَرُ» فَقُلْتُ لَهَا: لَئِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ لَتَكُونَنَّ حَوْلَكَ مَلْحَمَةٌ، قَالَتْ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ، بِئْسَ مَا قُلْتَ» ، فَقُلْتُ لَهَا: فَلَعَلَّ
  10. امام خطیب البغدادی رحمہ اللہ نے فرمایا : حدثنا أبو العلاء إسحاق بن محمد التمار في سنة ثمان وأربع مائة، قال: حدثنا أبو الحسن هبة الله بن موسى بن الحسن بن محمد المزني المعروف بابن قتيل بالموصل، قال: حدثنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى التميمي، قال: حدثنا شيبان بن فروخ الأبلي، قال: حدثنا سعيد بن سليم الضبي، قال: حدثنا أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كثرت ذنوبك فاسق الماء على الماء تتناثر كما يتناثر الورق من الشجر في الريح العاصف " ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار :- 2199 ) انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
  11. یہ ایک طویل روایت کا حصہ ہے مکمل روایت درج ذیل ہے : عن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "أرحم أمتي بأمتي أبو بكر, وأقواهم في دين الله عمر, وأشدهم حياءً عثمان, وأقضاهم علي بن أبي طالب, ولكل نبي حواري وحواريي طلحة والزبير وحيثما كان سعد بن أبي وقاص كان الحق معه, وسعيد بن زيد من أحباء الرحمن, وعبد الرحمن بن زيد من تجار الرحمن, وأبو عبيدة بن الجراح أمين الله وأمين رسوله, ولكل نبي صاحب سر وصاحب سري معاوية بن أبي سفيان, فمن أحبهم فقد نجا ومن أبغضهم فقد هلك" أخرجه الملاء في سيرته. ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میری
  12. امام الحافظ ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا: حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا يحيى بن نصر الخولاني، ثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زبان بن فائد، عن سهل بن معاذ، عن أبيه، رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من بر والديه طوبى له زاد الله في عمره» هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه " [التعليق - من تلخيص الذهبي]٧٢٥٧ - صحيح ( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية :- 7257 ) ترجمہ :- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اپنے والدین کی عزت کی، اللہ اس کی عمر میں برکت عطا فرمائے"۔ اگرچہ امام حاکم اور امام ذہبی نے اس
  13. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس اظہر من الشمس جھوٹی روایت کو اپنی الموضوعات میں نقل کیا : «حُضُورُ مَجْلِسِ عَالِمٍ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَلْفِ رَكْعَةٍ وَعِيَادَةِ أَلْفِ مَرِيضٍ وَشُهُودِ أَلْفِ جَنَازَةٍ» عالم کی مجلس میں حاضری ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہزار مریضوں کی عیادت سے افضل اور ہزار جنازوں میں شریک ہونے سے افضل ہے كتاب الموضوعات لابن الجوزي1/223 حافظ ابن جوزی نے اسکو نقل کرکے کہا هذا حديث موضوع اسکی سند میں 1 : محمد بن علي بن عمر المذكر متروک كما قال ابن الجوزي 2 : إسحاق
  14. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اوپر پیش کی گئی تحقیق میں میں نے اس روایت کو بیان کرنے کی اجازت دی تھی جو کہ میرا تقریباً ایک سال پرانا سابقہ مؤقف تھا میں اپنے اس مؤقف سے رجوع کرتا ہوں کیونکہ یہ روایت شدید ضعیف ہے اور اس کو بیان کرنے میں سلام بن سلم أبو عبد الله الطویل کا تفرد ہے اور یہ راوی چونکہ متروک الحدیث ہے اسی لیے یہ روایت شدید ضعیف ہے اور شدید ضعیف روایت کو شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی اور دیگر ائمہ کے اصول کے مطابق فضائل میں بھی بیان نہیں کیا جاسکتا ضعیف حدیث فضائل میں قابل قبول ہوگی وگرنہ اسے رد کر دیا جائے گا وہ شرائط ملاحظہ ہوں أَنْ يَكُونَ الضَّعْفُ غَيْرَ شَد
×
×
  • Create New...