Jump to content

محمد حسن عطاری

Members
  • Posts

    855
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    25

محمد حسن عطاری last won the day on April 5

محمد حسن عطاری had the most liked content!

6 Followers

About محمد حسن عطاری

  • Birthday 05/24/2002

Previous Fields

  • Hanafi
  • Maulana Ilyas Attar

Profile Information

  • Male
  • Interests
    دینی کتب کا مطالعہ

Recent Profile Visitors

2,871 profile views

محمد حسن عطاری's Achievements

Veteran

Veteran (13/14)

  • Dedicated Rare
  • First Post
  • Collaborator
  • Posting Machine Rare
  • Conversation Starter

Recent Badges

84

Reputation

  1. شیخِ مُحَقِّق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : لفظ “ ہٰذَا “ کے ساتھ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف جو اشارہ ہے یہ یا تو اس وجہ سے ہے کہ آپ کی رسالت مشہور ہے اور آپ کا تصوُّر ہمارے ذہنوں میں حاضر ہے ، یا پھر قبر میں آپ کی ذاتِ مبارک لائی جائے گی اس طرح کہ آپ کی ایک مثال لائی جائے گی تاکہ آپ کے جمالِ جہاں آرا کے مُشاہدے سے فرشتوں کے سوال کی مشکل حل ہوجائے اور آپ کی ملاقات کے نور سے فِراق و دوری کا اندھیرا دور ہوجائے۔ اس بات میں (سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی) زیارت کی حسرت رکھنے والوں کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ اگر وہ قبر میں آپ کی زیارت کی امید پر (اللہ پاک کی راہ میں) جان دے دیں تواس کی گنجائش ہے
  2. Salaam Sorry ya emails addresses band Hain ap darulifta Ahlesunnat sa pouch lein is email address Ka zariye [email protected]
  3. Salaam Ya lein Mufti Muhammad Akmal Madani Sahab sa Sawal Ka liye do emails deie gae Hain
  4. اِحْتِلام یعنی سوتے سے اٹھا اور بدن یا کپڑے پر تری پائی اور اس تری کے مَنی یا مَذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غُسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو اور اگر یقین ہے کہ یہ نہ مَنی ہے نہ مذی بلکہ پسینہ یا پیشاب یا وَدی یا کچھ اور ہے تو اگرچہ اِحْتِلام یاد ہو اور لذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں اور اگر مَنی نہ ہونے پر یقین کرتا ہے اور مذی کا شک ہے تو اگر خواب میں اِحْتِلام ہونا یاد نہیں تو غُسل نہیں ورنہ ہے ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۴۔۱۵.
  5. Salam Can You Give Some Information about Policies and rules of this service then i contact to mufti sahab
  6. یہ دیوبندی اپنے اکابرین کونبیوں کے برابر سمجھتا ہے جو گستاخیاں اس کے اکابر نے کی ہیں ان کی تاویل نکالتے ہیں اور وہی بات اس کو کہو تو کتوں کی طرح بھونکے آجاتا ہے اگر ہمت ہے تو اس کی تاویل نکالو جیسا علم دیوبندی کو ہے غرض ہر جانور پاگل اور بچے کو ہے اس کی تاویل نکالو
  7. حکیم دیوبند تھانوی کے مرید کا حالت خواب اور پھر بیداری لا اِلٰہ اشرف علی رسول اللہ کہنا اور درود میں اشرف علی کہنا ۔ (رسالہ الامداد صفحہ نمبر 34 ، 35) رضوی خنجر کا وار مسئلہ۱۰۸:ازمیرٹھ دفتر رسالہ خیال دفتر رسالہ خیال بازار بزازہ مرسلہ حافظ سید ناظر حسین چشتی صابری عابدی و سید عزیز احمد چشتی صابری عابدی وشرف الدین احمد صوفی وارثی قادری رزاقی ۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایك معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر ۱۳۳۶ھ میں حسب ذیل الفاظ میں دیا،دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تك درست اور صحیح ہے؟ نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسلك کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے؟ خلاصہ خواب:بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔ [رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵] جوابِ خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے [رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص۳۵]۔ الجواب: سیدی امام بوصیری قدس سرہ صاحب بردہ شریف امام القری میں فرماتے ہیں: ما علیّ مثلہ بعد الخطاء القصیدۃ الہمزیۃ فی المدح النبویۃ مع حاشیۃ الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۳۹ خطا کے بعد اس کی مثل مجھ پر نہیں دیوبندیوں کے کفر کا پانی ان کے سر سے گزر گیا ہے جس کا حال کتاب مستطاب"حسام الحرمین شریف"سے ظاہرہے یہ لوگ اﷲورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو شدید گالیاں دے چکے اور ان پر اب تك قائم ہیں،ان علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان سب کی تکفیر کی اور صاف فرمایا:من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب احکام الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۷۷، حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ۳۱۔ جس نے ان کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہے جوان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان کے کافر ہونے میں شك بھی کرے وہ خود کافر،پھر ایسوں کی کسی بات کی شکایت کیا،ان کے بڑے قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف لکھ دیا کہ"اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا" تحذیر الناس کتب خانہ امدادیہ دیوبند ۲۴ ۔ یہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خاتمیت سے صاف انکار ہے اور آیہ کریمہ" وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّنَ ؕ "[ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰] (اور لیکن آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲکے رسول اور آخری نبی ہیں۔ت)کی صریح تکذیب ہے پھر یہ لوگ اگر صاف صاف ادعائے نبوت ورسالت کریں تو ان سے کیا بعید ہے،مسلمان ہوتا تو ایسی بات سن کر لرزجاتااور اس کفر بکنے والے سے کہتا کہ خبیث منہ بندکر کفر نہ بک،نہ کہ اسے اور تسلی دی اور اس کی رجسٹری کردی، " وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪ "[القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔اب جانا چاہتے ہیں کہ ظالم کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ یہاں مکمل ہوا ۔ اشرف علی تھانوی کے مرید نے عالم بیداری میں باربار کلمہ ’’لاالہ الا اﷲ اشرف علی رسول اﷲ‘‘ پڑھا تو اس پر پیر مرید دونوں کی تکفیر کی گئی ۔
  8. یہ بات بطور خاص ذہن نشین رہنی چاہیے کہ خواب اور اس کی تعبیر میں فرق ہوتا ہے۔ اس لیے خواب میں جو کچھ دیکھا جاتا ہے وہ تعبیر طلب ہوتا ہے۔ اس لیے خواب میں نظر آنے والے منظر یا سنے جانے والے الفاظ کی ہمیشہ تاویل کی جاتی ہے جس کو اصطلاح میں تعبیر کہا جاتا ہے، اس لیے خواب میں جو کلمات ارشاد ہوں یا نظارہ کیا جائے اہل دیانت و امانت اس کی تعبیر کرتے ہیں، ظاہری کلمات اور نظارے کی بناء پر کبھی کسی نے گستاخی و بے ادبی کے فتوے نہیں لگائے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی خواب دیکھتے تو اس کی تعبیر اپنے استاد گرامی امام ابن سیرین رضی اللہ عنہ جو اجل تابعین میں سے ہیں، سے پوچھتے۔ امام عبدالغنی نابلسی رضی اللہ عنہ نے اس موضوع پر ’’تعطیر الانام فی تعبیر المنام‘‘ ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور دیگر بہت سے آئمہ و علماء ہیں جنہوں نے اس فن میں باقاعدہ کتب تصنیف کیں۔ خواب اور تعبیر میں فرق و اختلاف کو سب سے پہلے حدیث پاک سے دیکھتے ہیں۔ مشکوۃ شریف میں ہے : حضرت ام فضل رضی اﷲ عنہا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں، عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، بڑی پریشان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا خواب دیکھا ہے؟ عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کا ایک حصہ جدا ہو کر میری گود میں آ گیا ہے، میں پریشان ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کا ایک حصہ جدا ہو گیا ہے تو یہ خواب سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبارک باد دی اور فرمایا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا جو تیری گود میں کھیلے گا، چنانچہ اس کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ اس مذکورہ حدیث میں خواب میں جسم مبارک کے حصہ کا ظاہراً الگ ہونا دیکھا جو کہ پریشان کُن ہے مگر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ میرا بیٹا پیدا ہو گا، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے : الحسین منی وانا من الحسین (حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں)۔ چنانچہ جب حضرت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا کی گود میں پرورش پائی۔ اس حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ خواب میں صادر ہونے والے ظاہری الفاظ پر فتوی لگانا ظلم و زیادتی اور سراسر لا علمی اور جہالت ہے۔
  9. عقائد اعمال پر مقدم ہیں اور ہم اہل سنت و جماعت حضرت امام ابو منصور ماتریدی اور حضرت امام ابو الحسن اشعری کے بعد جملہ اعتقادی مسائل میں بالعموم اور برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہونے والے کلامی مسائل میں بالخصوص مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات و تشریحات کے پابند ہیں۔ صلح کلیت اور لبرل ازم کا روگ عام ہونے کی بنیاد پر کچھ ناپختہ فکر کارکنان اپنے مسلکی اصولوں سے عدم واقفیت کی بنیاد پر دوسرے مسالک کے نظریاتی اتحادی بننے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ سراسر غلط ہے۔ موجودہ حالات میں کچھ لوگ ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے طالبان کو برادر اسلامی ملک افغانستان پر غلبہ پانے پر مبارکباد دینے یا حمایت کرنے کے لیے بڑی بیقراری سے پر تول رہے ہیں، ایسے لوگوں کو اپنے اکابرین کے معتقدات بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ العزیز کے ”فتاویٰ حسام الحرمین“ کو سامنے رکھنا چاہیے اور ساتھ ساتھ انہی طالبان کے عقائد و نظریات اور ماضی کے کردار اور بالخصوص ابتدائی طور پر ان کو مجاہدین اور پھر دہشت گرد قرار دینے والی امریکی پالیسی کا بھی بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔* ویسے تو چڑھتے سورج کو سلام کرنا اکثر لوگوں کا ایک عام وطیرہ بن چکا ہے ”چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی“ تحسین پسند لوگوں کا دستورِ حیات قرار پایا ہے اور سہولت پسند مزاج طوفانوں کا رخ موڑنے کے ہمیشہ خلاف ہی رہے ہیں مگر یہ عقلمندوں کا کام نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔ اگر کسی ملک پر قابض ہو جانا حق کی دلیل ہے تو دوسرے ہمسایہ ملک ایران کی طرف بھی دیکھ لیں۔ وہاں بھی ایک فرقے کے لوگوں کا قبضہ ہے۔ نہ وہ قبضہ اُن کے برحق ہونے کی دلیل ہے، نہ یہ قبضہ اِن کے برحق ہونے کی دلیل ہے۔ چند دنوں کے بعد جوں ہی گرد بیٹھے گا تو خود بخود پس پردہ عوامل ظاہر ہو جائیں گے۔* *تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کی بنیاد مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کے اَفکار سے حاصل کردہ عشقِ رسول ﷺ پر رکھی گئی۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کی فصل بندہ نے بذاتِ خود اَفکارِ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ العزیز سے پنیری لے کر کاشت کی تھی، ہم کسی کو فکرِ رضا کی کھیتی کا ثمر دشمنانِ رضا کی گود میں ڈالنے نہیں دیں گے۔کچھ نظریاتی نابالغ لوگ اپنے مسلک اور غیروں کے درمیان مشترکات کی تلاش اور تعیّن میں دھوکہ کھا رہے ہیں، ایسے لوگوں کو کم از کم ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی رحمۃ اللہ علیہ، پیر سمیع اللہ چشتی رحمۃ اللہ علیہ، مفتی افتخار احمد حبیبی رحمۃ اللہ علیہ سمیت اَن گنت علماء و مشائخ اہل سنت اور عوام اور سیکورٹی فورسزکے ہزاروں شہداء کے خون سے تو پوچھ لینا چاہیے کہ وہ کس کو مبارکباد دینے لگے ہیں اور کس کی حمایت کا اعلان کرنے والے ہیں۔* *ہاں اگر طالبان کی اعلیٰ قیادت ہمیں اپنے عقائد و نظریات پر آگاہ کرے گی تو حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی، حضرت مجدد الف ثانی، امام فضل حق خیر آبادی، امام احمد رضا بریلوی،سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہم جیسے اکابرین کی تشریحات کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔*
  10. آج پھر انڈیا میں دارالعلوم دیوبند میں پاکستان کا جھنڈا جلانے کی ناپاک حرکت اور پاکستان مردہ باد کے نعرے (پاکستان اور اسلام کے چھپے دشمنوں کو پہچانیں۔) https://www.facebook.com/136993728508330/posts/156104813263888/
  11. محرم کے پہلے دس دنوں میں سیاہ، سبز اور سرخ رنگ کے کپڑے پہننے سے بچنا چاہیے (فتاوی رضویہ،ج24ص496) اس مہینے میں تعزیہ بنانا، ماتم کرنا، گھوڑانکالنا، سینہ پیٹنا، آہ وزاری کرنا حرام ہے. نوحہ سننا اور پڑھنا حرام ہے. حضور علیہ السلام نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے (ابوداود،ح3127) ¤فرامین محبوب علیہ السلام¤ جس نے رخسار پیٹے کپڑے پھاڑے اور جاہلانہ چینخ وپکار کی وہ ہم میں سے نہیں (بخاری حدیث1297) نوحہ کرنے اور سننے والی عورت پر لعنت ہے (ابوداودحدیث3128) کسی میت پر تین دنوں سے ذیادہ سوگ کرنا جائز نہیں سواۓ بیوہ عورت کے وہ شوہر کی وفات پر 4 ماہ 10سوگ کرے (مسلم حدیث3729) ¤اس میں نکاح کرنا جائز ہے ¤یہ عوامی بات کہ عاشورہ کےدن پانی کم استعمال کریں .نہایا نہ جاۓ یہ بات غلط ہے. ¤شیعہ کی مجالس محرم اور ماتم پر بغرض ثواب یاصرف ان کا تماشا دیکھنے کےلیے جانا حرام ہے کیونکہ جوکام ناجائز ہے اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جانا بھی گناہ ہے (فتاوی رضویہ ج24ص499)
  12. پورے سجدے میں اگر پاؤں کی ایک بھی انگلی زمین پر نہیں رکھی ہو تو سجدہ ادا نہ ہونے کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی۔ اگر سجدہ میں ایک تسبیح کی مقدار بھی پاؤں زمین پر رکھ لیا ہو (چاہے ایک انگلی ہی زمین پر رکھ لی ہو) تو پھر اس سجدہ میں پاؤں اٹھ جانے کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ایسا کرنا (یعنی سجدے میں کچھ دیر پاؤں زمین پر رکھنا اور کچھ دیر بلاعذر اٹھالینا) مکروہ ہے۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 447
×
×
  • Create New...