Jump to content
IslamiMehfil

محمد حسن عطاری

Members
  • Content Count

    835
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    21

Posts posted by محمد حسن عطاری

  1. ایک غیر ملکی عالم شیخ اسرار رشید جو عیسائیوں سے مناظرہ کرتے ہیں پچھلے دنوں ان کی ایک دیوبندیوں سے ملاقات کی وڈیو  آنکھوں کے سامنے سے گزری 

    سوال یہ ہے کہ ان کا مسلک کیا ہے اور کیا یہ صلح کلیت ہیں 

     

  2. لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ

    (نسائي، کتاب تحريم الدم،رقم : 4103)

    یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا

    یہ بات خارجیوں کے مطلق ارشاد فرمائی 

  3. p1.jpg.47665abb82faaa2be767b47ebd957d84.jpg

    p126.jpg.c06a51cbd4abef1ac8635477e81bd514.jpg

     

    مولانا امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ نے بہار شعریت جلد اول کے صفحہ 123 پر فرمایا کہ عہد عیسی علیہ سلام میں تمام جہان میں دین اسلام ہوگا اور مذہب ایک مذہب اہلسنت 

    گویا کہ بدمذہب تب تک ختم ہوچکے ہوں گے کیونکہ حق غالب آکر ہی رہتا ہے 

    جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت نمبر 81 میں ارشاد فرمایا گیا ہے

     

    دجّال اپنے گدھے پر سُوار ہو کر ساری دنیا کا چکر لگائے گا ، گدھے کا جُثَّہ (جسم) اتنا بڑا ہوگا کہ دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ کے برابر ہوگا اور اس کے گدھے کی رفتار کا یہ عالَم ہوگا کہ ایک قدم اُٹھائے گا تو ایک میل کی مَسافت طے کرے گا اور رُوئے زمین کا کوئی میدانی ، صحرائی اور پہاڑی علاقہ ایسا باقی نہیں بچے گا کہ جہاں وہ نہ جائے ، البتہ مکّۂ مُکرّمہ اور مدینۂ طیّبہ پہ فرشتوں کا پہرہ ہونے کی وجہ سے ان میں داخل نہ ہو سکے گا بلکہ (مدینہ کے باہر) دَلْدَلی زمین میں پڑاؤ کرے گا اور مدینہ پاک میں زلزلے کے تین جھٹکے آئیں گے جس کی وجہ سے ہر کافر اور مُنافق مدینہ سے بھاگ نکلے گا اور دجّال سے جاملے گا۔ اس روز مدینہ پاک ہر منافق اور فاسِق مرد و عورت سے خالِص و پاک ہوجائے گا اسی لئے اس دن کا نام یومُ الخلاَّص بھی ہے اور بعض روایات کے مطابق بیتُ المقدس اور کوہِ طُور پر بھی نہیں جا سکے گا۔

    مسلم ، ص1206 ، حدیث : 7390 ، مستدرک للحاکم ، 5 / 753 ، حدیث : 8675 ، التذکرۃ لقرطبی ، ص614 ، 615 ، 616

     

  4. جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔یا تومنافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔

    شعب الایمان حدیث ۱۶۱۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۲

    یہ بیہقی کے الفاظ زیدبن جبیر نے اپنے والد کے حوالہ سے حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کئے دوسروں کے الفاظ یوں ہیں۔ یا منافق،ولدزنا یا اس کی ماں نے ناپاکی کی حالت میں اس کا حمل لیا

    الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۹۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۶۲۶

    • Like 1
  5.  

    امام ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ کو دیوبندی اپنا اکابر مانتے ہیں لہذا ان کا اس کو بیان کرنا اور اس کی تائید کرنا اس کے درست ہونے اور  وہابیہ اعتراض کو دفن کرتا ہے 

    مزید کسی مستند عالم دین سے راہنمائی لیں میں غیر عالم ہوں میری بات میں غلطی ہو سکتی ہے

    حوالہ دیا گیا ہے اس پر پڑھ سکتے ہیں  

  6. حنفیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں:فَلَا فَرْقَ لَهُمْ فِي الْحَالَيْنِ وَلِذَا قِيْلَ اَوْلِيَاءُ اللَّهِ لَا يَمُوْتُوْنَ وَلٰكِنْ يَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰى دَارٍ یعنی اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دونوں حالتوں  (زندگی اور موت) میں کوئی فرق نہیں، اِسی لیے کہا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے  ولی  (اور نبی)  مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں

         مرقاةُ المفاتیح ،کتاب الصلاة،باب الجمعة،الفصل الثالث ،۳  / ۴۵۹، تحت الحدیث:۱۳۶۶ دار الفکر بیروت

     

    امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ الباری اپنی معرکۃ الآرا تفسیر “تفسیر کبیر“ میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں: “اولیاء اللہ لا یموتون ولکن ینقلون من دارالی دار“ یعنی بے شک اللہ عزوجل کے اولیاء مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔

    التفسیر الکبیر، پ4، آل عمران: 169، ج3، ص427

    • Like 2
  7. جب  دیوبندی حسین احمد نے پاکستان بننے کی مخالفت کی  تو اس وقت علامہ اقبال نے حسین احمد کو کیا جواب دیا تھا ؟

     کفر کے  کسی کام کی تحسین اور ڈاکٹر اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا سفر یورپ 

     

  8. اس دیو کے بندے نے زانی کے دفاع کے لیے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی کے ان سے بھی ایسا ہوا تھا معاذ اللہ اب دیکھتے ہیں کہ دیوبندی کتنے حلالی ہیں اس پر کوئی فتوی جڑتے ہیں یا اپنے مسلک کے نظریات کا دفاع کرتے ہیں

    Fir Pdf format 

     

    WhatsApp-Image-2021-06-22-at-7.11.30-PM.pdf

    • Like 1
  9. ہمارا دعوی درست ثابت ہوا 

    دیوبندی دفاع کے لیے میدان میں اور جیل کی ہوا کھانے کو تیار 

     

    لاہور کے جامعہ منظور لاسلامیہ کے استاد مفتی عزیز الرحمن کی اپنے شاگرد سے بدفعلی کا دفاع کرنے والے مفتی اسماعیل طورو کو بھی مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے ۔۔

     

    Open link for Viewing FIR Copy on Deobandi Ismail Touro

     

     

     

     

  10. دیوبندی دست و گریباں پر کئی سکین صفحات

    *Deobandi Dast Wa Gareban*

    اہل سنت کے فروعی مسائل کو بنیاد بنا دیوبندی وہابیوں نجدیوں نے دست و گریباں نامی کتاب لکھ کر اپنے فقہ و تصوف سے اپنی پیدائشی دشمنی کا ثبوت پیش کیا عبارات کا جوڑ توڑ کر گمراہیت پھیلانے اور عوام اہل سنت کو اہل سنت و جماعت سے دور کرنے کی یہودی شازش کا نمونہ پیش کیا ہے

    دیوبندیوں کے اس مکار چال کا جواب ہم نے کئ انہی کی زبان میں دیا ہے آپ اس کو دیکھیں کہ کس طرح دیوبندی ایک دوسرے کو کافر مشرک بنا رہے ہیں 

    لنک

    👽 *DEOBANDI - DAST O GIREBAN*
    🧾 *All Scan Proof (JPEG)*
    _______________________
    http://fikreraza.in/index.php/User_list_cont/priCatPost/352b602e-aae7-11ea-9394-c0ee673aecf1$p$78c8e348-ab02-11ea-9394-c0ee673aecf1


    اس لنک پر کلیک کریں اور زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
    تاکہ عوام اہل سنت ان کی گمراہیت کو جان سکے اور ان کے ابلیسی شر سے بچ سکے

  11. 1059352569_6_0000.jpg.0043a7ba4560d0a4c879b33e4b7bf7e5.jpg

    3288248_6_0513.jpg.f4df05d1927fc576a04f2d0cb5bc8c27.jpg

    132123811_6_0514.jpg.71722511639ff3378cc0551b016fd92f.jpg

     

    أخبرني عبد الله بن محمد الدورقي، ثنا محمد بن إسحاق الإمام، ثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي، حدثني الوليد بن المغيرة، حدثني عبد الله بن بشر الغنوي، حدثني أبي، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «لتفتحن القسطنطينية، ولنعم الأمير أميرها، ولنعم الجيش ذلك الجيش» قال عبيد الله: «فدعاني مسلمة بن عبد الملك فسألني عن هذا الحديث، فحدثته فغزا القسطنطينية» هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8300 - صحيح

    ترجمہ و مفہوم: حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ ضرور بہ ضرور فتح ہوگا اور اس کا امیر کیا ہی اچھا امیر ہے اور وہ لشکر کیا ہی اچھا لشکر ہے

     حاکم المستدرک مترجم  جلد 06 صفحہ 514 .515 💢 امام حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی تائید کی  

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کی امارات کا شرف حاصل ہوا 

    • Like 1
  12. Ghunyat-ut-Talibeen-ur_0004.jpg.3ba83f62bc0ded1080f12bad3f16c26b.jpg

    Ghunyat-ut-Talibeen-ur_0270.jpg.b7c57979adedf95120a699dcf690df3c.jpg

    Ghunyat-ut-Talibeen-ur_0271.jpg.ff68f284a641a041a138baf8f8c15a28.jpg

     

    پیرانِ پیر  محبوب سبحانی قندیل نورانی  الحسنی والحسینی حضرت غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

    حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صلح کر کے خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی اس طرح آپ کی امامت واجب ہوگئی ۔

    حوالہ درج ذیل ہے

    غنیۃ الطالبین عربی حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ صفحہ نمبر 112 مطبوعہ بیروت ۔

    غنیۃ الطالبین حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ صفحہ نمبر 266 ،267 مترجم اہلسنّت مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور

  13. 37540384_MiraatulAshqeen_0001.jpg.7f11bd612c198c37e6e45e2d031fbd7e.jpg647384200_MiraatulAshqeen_0186.jpg.87cd0aee9d13f7cad8c30f49db4e30b8.jpg

    مہ

    تاجدارہ گولڑہ کے پیرو مرشد خواجہ شمس الدین سیالوی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان نزاع ہوا وہ از روئے خطائے اجتہاد تھا نہ کہ از روئے عناد 

    فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مجتہد کا فعل اگرچہ خطا پر ہو اس کا ثواب مل جاتا ہے 

    مرآت العاشقین صفحہ 186 سیرت فانڈیشن لاہور

  14. 1763341905_2021-07-0818_43_47.png.522155d0acf6d62072e937c6851ba57d.png

    1403915458_2021-07-0818_42_12.png.af429e4c8ee49eaa43d48190a5eae1cd.png

    1643848417_2021-07-0818_42_34.png.85814b93c1dd11fe04bde3eff264307a.png

    1131598256_2021-07-0818_42_55.png.e28d77d34aa16098c6e4049163301686.png

     

    عظمت و شان حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالی عنه از امام احمد بن محمد المالکی الصاوی رحمة الله علیہ  متوفٰی١٢٤١ه‍

    ماتن کا قول : ( أول التشاجر الذي ورد ) مراد یہ ہے کہ ( صحابہ کرام کے متعلق ) تشاجر اور تخاصم ( باہمی مخاصمت و نزاع کے واقعات ) جو روایات میں سند متصل کے ساتھ آئے ہیں ان کی لازما تاویل کی جائے گی یعنی انہیں ان کے ظاہر سے وجوبا پھیرا جائے گا خواہ سند متصل متواتر ہو یا نہ ہو ۔ مشہور ہو یا نہ ہو جب کہ صحیح سند ہو ۔ ورنہ غیر صحیح روایت اصلا مردود ہے کسی تاویل کی محتاج نہیں ۔ مراد یہ ہے کہ صحیح سند والی روایت کو جہاں تک ہو سکے عمدہ محمل کی طرف پھیرا جائے گا ۔ اگر تاویل ممکن نہ تو ہم توقف کریں گے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ موجب فسق باتوں کی نسبت سے ان کا تحفظ کیا جائے کیونکہ وہ مجتہدین ہیں ۔ علمائے کرام کا ارشاد ہے : کہ ان میں سے مصیب کیلئے دو اجر ہیں اور مخطئ کیلئے ایک اجر ہے ۔ الله تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کی عدالت کی گواہی دی ہے ۔ قول ماتن : ( و ان خضت فیه ) : اگر تو اس نزاع میں فضول پڑے اور الجھے یعنی اگر ایسا ہو تو ذہن میں رکھ کہ ان کے باہمی اختلافات کے بارے تفتیش دینی عقائد میں سے نہیں ۔ اور نہ ہی اس میں کچھ دینی فائدہ ہے بلکہ کبھی یقین کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے ۔ پس ان ابحاث میں پڑنا جائز نہیں ۔ سوائے تعلیم کیلئے یا متعصبین کے رد کیلئے ۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان کیلئے ان واقعات  میں الجھنا مطلقا جائز نہیں کیونکہ ان جہالت بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں تاویل کی معرفت نہیں ہوتی ۔ قول ماتن : ( و اجتنب داء الحسد ) : اور  حسد کی بیماری سے اجتناب کرو ۔ یعنی صحابہ کرام کے درمیان وقوع پذیر معاملات میں بے جا خوض سے بچناتم پر لازم ہے یعنی ان پر بحث کرتے ہوئے حسد سے بچنا ۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ  نے فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا پس جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی جس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی عنقریب اس کی گرفت فرمائے گا ۔ ایک روایت میں ہے : میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو اور جس نے میرے اصحاب کو برا بھلا کہا اس پر الله تعالی اس کے فرشتوں اور تمام دنیا کے انسانوں کی لعنت ہو ۔ قیامت کے دن الله تعالی اس کے کسی فرض اور نفل کو قبول نہیں فرمائے گا ۔ اور روایت میں ہے : خبردار خبردار! میرے اصحاب کے بارے الله سے ڈرو پس جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے ساتھ عداوت کی وجہ سے بغض رکھا ۔ اور جس نے ان سے محبت کی تو مجھ سے محبت کی بناء پر کیا الله اس سے محبت فرما جو میرے اصحاب سے محبت کرے اور اس سے عداوت رکھ جو ان سے دشمنی رکھے ۔ اور روایت میں ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک الله تعالی نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لیے میرے صحابہ کو پسند فرمایا اور میرے صحابہ ، اور سسرال والے بنائے اور عنقریب ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو ان میں عیب نکالیں گے اور ان کی توہین کریں گے ۔ نہ ان کے ساتھ بیٹھنا ، نہ پینا ، نہ کھانا اور نہ ہی ان کے ساتھ نکاح کرنا ۔

    حوالہ درج ذیل ہے 
     شرح الصاوي على جوهرة التوحيد ، لامام الشيخ أحمد بن محمد المالكي الصاوي ، تحت " تأويل خلاف الصحابة واجب لعدالتهم ، ص 329 تا 331 ، مطبوعة دار ابن كثير بيروت 

    2103496293_2021-07-0608_36_36.png.25e3019d2c0710fccea26eb5a51c29c6.png

    568173749_2021-07-0608_37_00.png.639bd7604e1468514318230139c5e312.png

     

    عظمت و شان حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله تعالی عنه از امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی رحمة الله علیہ  متوفٰی۵۸۷ھ 

    صحابہ کرام کو فاسق قرار دینے سے باز رہنا اور ان پر طعن و تشنیع سے رکے رہنا اہل سنت و جماعت کی شرائط میں سے ہے ۔ 

    حوالہ درج ذیل ہے 
    بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، لامام علاء الدين ابى بكر بن مسعود الكاساني الحنفي ،  تحت " كتاب الأشربة ، جلد 6 ص 411 ، مطبوعة دار الحديث القاهرة ، طبع ١٤٢٦ه‍/٢٠٠۵ء 


×
×
  • Create New...